pic
pic

سوال و جواب

اپنا سوال پوچھیں
نماز کیوں پڑھے؟
تاریخ 20 October 2019 & ٹائم 18:13

ہم کيوں نماز پڑھیں ؟ کیا خدا ہمارے عبادت کے نیازمند ہے ؟

یہ مسئلہ کہ ہم کیوں نماز پڑھیں؟ ، یہ کیا خود ہماری ضرورت ہے ، اور خداوند متعالی کو ہماری اس نماز کی کوئی ضرورت نہیں ہے ، لیکن ہمیں  نماز پڑھنے اور خداوند متعالی کی عبادت کرنے ضرورت  اس وجہ سے ہےتا کہ ہم  کمال کے درجہ پر پہنچ جائے ۔

لہذا خلاصہ کے طور پر ہم یہ بتا سکتے ہیں کہ : ہماری نماز پڑھنے کی چند دلائل ہیں :

الف: نماز پڑھنے کے بارے میں خدا کا حکم ہے ، اس نے حکم دیا ہے اوربندہ پر واجب ہے کہ بغیر کسی اشکال اور اعتراض کے خداوند متعالی کی حکم کا اطاعت کرے ۔

ب: ہر انسان اپنی زندگی میں کسی ایسی ہستی کا محتاج مند ہے جو مشکلات  کے وقت  اس کا پناہ گا ہو ، اور بشر کے لئے سب سے بہترین پناہ گاہ خداوند متعال پر اعتقاد اور اس پر ایمان رکھنا ہے ، لہذا مومن انسان خدا کے ساتھ اپنی زندگی میں ایک خاص قسم کی آرامش کا احساس کرتے ہیں جس سے غیر مومن انسان محروم ہیں ، وہی مہربان خدا جس نے  ہماری پوری زندگی میں بچپنے سے لے کر حتی کہ ماں کے پیٹ سے لے کر ، زندگی کے آخرین لحظات تک بے کراں نعمتوں  سے نوازا ہے ، اس نے ہمیں یہ اجازت دی ہے کہ خود سے بات کرے ، اور یہ بات کرنا اور مناجات ، ہماری ضروریات میں سے ہے ، ورنہ خود وہ تو ہر چیز اور ہر شخص سے بے نیاز ہے ، اور یہ خالق ہستی سے بات کرنا نماز کے وقت ہے ، کہ ہم اس کی ستايش کرتے ہیں اور اس سے یہ درخواست کرتے ہیں کہ ہماری مدد کرے اور صحیح راستہ کی طرف ہماری راہنمائی فرمائے ، اور اس کام کو عقل ہمارے اوپر واجب قرار دیتا ہے کیونکہ  عقل کہتا ہے نعمت دینے والے کا شکر ادا کرنا واجب اور لازم ہے، اسی وجہ سے ہم یہ کام انجام دیتے ہیں ، بہر حال نماز ، انسان کا خدا سے ارتباط کا رمز اور انسان کے کمال تک پہنچنے کا وسیلہ ہے ، اور یہ انسان پر واجب قرار دیا گیا ہے تا کہ اس طریقہ سے انسان زیادہ سے زیادہ کمال  کے درجہ تک  پہنچ جائے ۔

ج: نماز؛ خداوند متعال کا شکر یہ ادا کرنا ہے ، ان مختلف نعمتوں کے مقابلہ میں جو ہمیں عطا ہوئی ہے ، عقلی اور شرعی لحاظ سے ولی نعمت کا شکریہ ادا کرنا واجب ہے ۔

د: خلقت انسان کا ہدف ، آفرینش کے کمال تک پہنچنا ہے ، اور کمال تک پہنچنا اور مقام قرب خداوندی پر فائز ہونا اور عالم آخرت میں خداوند متعالی کے نعمتوں سے مستفید ہونے کا راستہ خدا سے ارتباط کرنا اور خداوند متعالی کی عبادت ہے ، اسی وجہ سے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ «و ما خلقتُ الجنّ و الإنس إلا ليعبدون»؛ اور میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے ۔

خدا سے ارتباط کا سب سے اہم وسیلہ اور سب سے اہم عبادت خداوندی، نماز ہے ، کہ نماز میں انسان مستقیم طور پر خدا سے بات کرتا ہے اور خدا سے گفتگو کرتا ہے ۔

ہ: پانچ وقت کی نماز يں ، گناہوں کا کفارہ ہے جو دو نمازوں کے درمیان انسان سے انجام پاتا ہے ، اگر کوئی قبولی اور صحت کے شرائط کو رعایت کرتے ہوئے پانچ وقت کی نماز ادا کرے اور لوگوں کے حقوق بھی ادا کرے ، خداوند متعال بھی نماز کی وجہ سے اس کے گناہوں کو بخش دیتا ہے ۔

امیر المومنین علیہ السلام  سے نقل ہوا ہے: «قَالَ(ع) سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ(ص) يَقُولُ إِنَّمَا مَنْزِلَةُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ لِأُمَّتِي كَنَهْرٍ جَارٍ عَلَى بَابِ أَحَدِكُمْ فَمَا ظَنُّ أَحَدِكُمْ لَوْ كَانَ فِي جَسَدِهِ دَرَنٌ ثُمَّ اغْتَسَلَ فِي ذَلِكَ النَّهْرِ خَمْسَ مَرَّاتٍ فِي الْيَوْمِ أَ كَانَ يَبْقَى فِي جَسَدِهِ دَرَنٌ فَكَذَلِكَ وَ اللَّهِ الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ...»؛

آپ ( ع) نے فرمایا میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا کہ آپ فرما رہے تھے : میری امت کے لئے پانچ وقت کی نمازیں  پانی کی جاری ایک نہر کی طرح ہے ، جو آپ میں سے کسی ایک کے دروازہ کے پاس ہو ، کیا یہ گمان ہو سکتا ہے کہ اگر بدن  گندھا ہو اور دن میں پانچ مرتبہ اس نہر سے نہا لیں ، کیا اس کے بعد بھی اس کے بدن پر کوئی گندگی رہ جائے گی ؟! (یقینا کچھ گندگی نہیں رہے گی ) اسی طرح ہے خدا کی قسم پانچ وقت کی نمازيں میری امت کے لئے ۔

یعنی پانچ وقت کی نمازیں میری امت کے گناہوں کو ختم کر لیتی ہے ۔

ایک اور روایت میں آیت کریمہ کی تفسیر میں امام صادق علیہ السلام سے نقل ہے کہ آپ (ع )نے فرمایا : «صَلَاةُ الْمُؤْمِنِ بِاللَّيْلِ تَذْهَبُ بِمَا عَمِلَ مِنْ ذَنْبٍ بِالنَّهَارِ»؛ رات کی نمازیں مومن کی دن کی  گناہوں کو ختم کر دیتی ہے ۔

نتیجہ یہ ہےکہ توبہ کے علاوہ ، صحیح وضو کے ساتھ پانچ وقت کی نمازیں بھی ، ان گناہوں کو جو حق الناس سے مربوط نہ ہو ختم کر دیتی ہیں ۔

ان دلائل کی بناء پر ہر انسان پر واجب ہےکہ خداوند متعال نے جو حکم دیا ہے اسی کے مطابق نماز پڑھے ، تا کہ کثافتوں سے نجات ملے اور قرب خداوند کا مقام اور کمال آفرینش الہی کے نزدیک ہو جائے ۔

 

 

۱,۳۹۰ قارئين کی تعداد:

نماز میں حضور قلب
تاریخ 20 October 2019 & ٹائم 18:13

سوال: کیا کریں کہ نماز میں حضور قلب پیدا کریں؟

جواب:حضور قلب کے چند درجات ہیں ،جس کا خلاصہ یہ ہے کہ نماز میں آپ متوجہ رہیں کہ آپ کس سے مخاطب ہے اور کس سے بات کر رہا ہے ،اور کس کے سامنے مناجات کے لئے کھڑا ہے ، ایک طرف خدا کی عظمت اور بزرگی کو اور دوسری طرف اپنے چھوٹے ہونے اور  کامل طور پر نیازمند ہونے اور کمزور ہونے کو درک کریں ، اگر اس حالت کے ساتھ نماز پڑھیں تو ضرور حالت خضوع و خشوع پیدا ہو گا۔

نماز میں خضوع و خشوع نہ ہونا انسان کی غفلت اور اہمیت نماز اور خدا کی عظمت سے بے توجہ ہونے کی وجہ سے ہے ۔

اس حالت کو ختم کرنے کے لئے ان چند چیزوں کی رعایت ضروری ہے :

1۔ خدا وند متعالی کی عظمت پر توجہ دین اور کبھی بھی جلدی جلدی میں نماز نہ پڑھیں اور حالت نماز میں خدا کی یاد میں رہے اور اس بارے میں سوچیں کہ کس کے مقابل میں کھڑا ہے ، اور کس سے بات کر رہا ہے اور خود کو خداوند عالم کے بزرگی اور عظمت کے مقابلہ میں بہت ہی چھوٹا تصور کریں۔

2۔جان لو کہ نماز دین کا ستون ہے اگر یہ قبول ہو جائے تو دوسرے تمام اعمال قبول ہے اور اگریہ قبول نہ ہو جائے تو دوسرے اعمال بھی قبول نہیں ہے ۔

3۔ گناہ سے پرہیز کریں۔

4۔ حرام لقمہ سے اجتناب کریں۔

5۔قرآن اور معتبر دعاوں کو زیادہ سے زیادہ پڑھیں۔

6۔جہاں تک ہو سکے نمازوں کو اول وقت میں مسجد میں جماعت کے ساتھ پڑھیں ،نماز کی مستحبات جیسے صفائی ، عطر لگانا، دھلے ہوئے کپڑے پہننا ،جانماز پچھا کر نماز پڑھنا اور ہر وہ چیز جس نماز کو اہمیت دینے کی نشانی میں سے ہے انہیں انجام دیں ، انشاء اللہ خداوند آپ کو توفیق عنایت فرمائے گا کہ نماز میں حضور قلب پیدا کرے۔

۳,۴۳۹ قارئين کی تعداد:

ذکر رکوع و سجدہ
تاریخ 20 October 2019 & ٹائم 18:13

سمہ تعالی

سوال: ہم نے آپ کے رسالہ عملیہ میں بھی پڑھا ہے اور علما سے بھی سنا ہے کہ رکوع وسجود میں سبحان ربی العظیم وبحمدہ،سبحان ربی الاعلی و بحمدہ کا ذکر پڑھنا چاہیے۔

لیکن جو شخص رکوع وسجود میں سبحان رب العظیم وبحمدہ ، سبحان رب الاعلی وبحمد کا ذکر پڑھے تو کیا اس طرح بھی ربی کی جگہ رب پڑھا جاسکتا ہے یا نہیں؟اگر امام جماعت ربی کی جگہ رب پڑھ رہا ہو تو کیا اُس کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں۔یا نہیں؟

والسلام

بسمه تعالی

سلام علیکم

اگر کوئي شخص رکوع میں سبحان رب العظیم و بحمده پڑھے یا سجدہ میں سبحان رب الاعلی و بحمده پڑھے یا کوئي اور ذکر جس کی مقدار تین مرتبہ سبحان اللہ کے برابر ہو تو اس کی نماز صحیح ہے اوروہ امام جماعت جو رکوع میں سبحان رب العظیم پڑھتا ہے اگر اس میں امام جماعت کے دوسرے تمام شرائط پایا جاتا ہو جیسے اس کی نماز کی قرائت صحیح ہو اور عادل بھی ہو تو اس کی اقتداء کرنے میں کوئي اشکال نہیں ہے ، لیکن مستحب ہے رکوع میں «سبحان ربی العظیم و بحمده» پڑھے اور سجدہ میں «سبحان ربی الاعلی و بحمده»پڑھا جائے اور کسی کو بتائے بغیر امام جماعت کو بھی اگر یہ بتايا جائے تو بہتر ہے کہ رکوع میں «سبحان ربی العظیم و بحمده» پڑھے


۳,۴۴۵ قارئين کی تعداد:

عدالت اور قرائت امام جماعت
تاریخ 20 October 2019 & ٹائم 18:13

ایک شخص کو عام طور پر لوگ عادل نہیں سمجھتے. اور اس کی قرات بھی درست نہیں. اور وہ نماز کو ضرورت سے زیادہ لمبا بھی کرتا ہے. کیا ایسے شخص کی اقتدا کی جا سکتی ہے ؟

بسمه تعالی
سلام علیکم
اگر امام جماعت عادل نہ ہو یا اس کی عدالت میں شک ہو اورکسی طریقہ سے بھی اس کی عدالت کے بارے میں اطمینان حاصل نہ ہو جائے ، یا اس کی قرائت صحیح نہ ہو تو ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا صحیح نہیں ہے ، وہ ثواب کی امید سے جماعت میں اقتداء کر سکتے ہیں لیکن بعد میں نماز کو فرادی دوبارہ پڑھنی چاہئے۔

۱,۱۵۲ قارئين کی تعداد:

مسجد کے پیسہ کو دوسروں کاموں میں خرچ کرنے کا حکم
تاریخ 20 October 2019 & ٹائم 18:13

کیا مسجد بنانے کے لئے لوگوں سے جو پیسہ جمع کیا جاتا ہے اسے شہداء کے میموریل پر خرچ کر سکتے ہیں؟

جو پیسہ لوگوں سے مسجد بنانے کے لئے جمع کیا جاتا ہے ، اس پیسہ کو شہداء کے میموریل پرخرچ نہیں کر سکتا، اگر لوگوں کے اس پیسہ کو مسجد بنانے کے علاوہ کہیں اور خرچ کرے تو وہ ضامن ہے اود اس پر فرض ہے اسی کے برابر پیسہ مسجد بنانے میں خرچ کریں ۔

۱,۲۵۷ قارئين کی تعداد: