pic
pic

قرآن حضرت فاطمہ (سلام الله عليها) کا معرف

  • تاریخ 18 January 2022
  • ٹائم 17:56
  • پرنٹ
خبر کا خلاصہ :

محفل مسالمہ فاطمی ( محبوبہ خدا) میں حضرت آیت اللہ فاضل لنکرانی(دام ظلہ) کے بیانات

بسم الله الرحمن الرحیم

«اللهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكَاةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ يُوقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ زَيْتُونَةٍ لَا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ نُورٌ عَلَى نُورٍ يَهْدِي اللَّهُ لِنُورِهِ مَنْ يَشَاءُ وَيَضْرِبُ اللهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ وَاللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ»


اگر ہم  کچھ حضرت فاطمہ (سلام الله عليها  ) کو پہچاننا چاہئے ، وہ فاطمہ جس کا نام فاطمہ رکھا گیا ، چونکہ تمام مخلوقات ان کے معرفت کی تہہ تک پہنچنے سے عاجز ہیں «لان الخلق فطموا عن کنه معرفتها» لہذا ہمیں قرآن سے رابطہ کرکے یہ دیکھا جائے کہ خداوند متعالی کہ جو اس کا خالق ہے اس نے فاطمہ (سلام الله علیها ) کے بارے میں کیا بتایا ہے ، اورقرآن کریم کی آیات اور سوروں میں کیا اشارہ کیا ہے ؟اس کے بعد ہمارے   مقابلہ میں جو افراد ہیں ان سے بتایا جائے ؛ آپ ان خواتین کے شان میں ایک آیت لے آئيں جو حضرت فاطمہ زہرا (سلام الله علیها ) کے زمانے میں ہوتے تھے ؟ کہ قرآن کریم میں ان خواتین  کی تعریف اور ان کے مقام  ومنزلت کے بارے میں اشارہ کرنے والی بھی کوئی آيت نہیں ملیں گے ۔

یہ بہت ہی عجیب ہے ؛ قرآن کریم کا لیلۃ القدر ؛ فاطمہ ہے ، وہ لیلۃ القدر کہ خداوند متعالی اپنے پیغمبر سے بھی فرماتاہے : «وَ ما أَدْراكَ ما لَيْلَةُ الْقَدْرِ»، قرآن کریم کا لیلہ مبارکہ ؛ فاطمہ (سلام الله علیها ) ہے ، اور آت ذی القربی حقہ ؛ فاطمہ ہے ، اور بعض روایات کے مطابق ، فاسئلو اہل الذکر ؛  کے مصادیق میں سے ایک فاطمہ ہے ، سورہ دہر اور سورہ کوثر ، حضرت فاطمہ (س) سے مربوط ہے ، ان میں سے ہر ایک عناوین پر اگر ہم گفتگو کرنا چاہئے تو گھنٹوں وقت درکار ہے اور بہت ساری کتابیں لکھی جاسکتی ہے ۔

اس مختصر وقت میں میں سورہ مبارکہ نور کی آیت شریفہ کی طرف اشارہ کرتاہوں ، اگر اس پر توجہ دیں اور اس آیہ کریمہ کو اپنے  اذہان  میں جگہ دے دیں   تو اپنےاندر ایک نورانیت کا احساس کریں گے اور حضرت فاطمہ (س) کے مقام و منزلت کے بارے میں تقرب پیدا کریں گے ، اس مجلس کا ہدف یہی ہے.«اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ» خدا آسمانوں اور زمین کا نور ہے ، اس نور کو ہم درک نہیں کر سکتے ،  نہ ظاہری آنکھوں سے اور نہ اس قلب اور ذہن اور محدود فکر سے ۔

 یہ جوفرماتا ہے خدا   آسمانوں اور زمین  کا نور ہے ، نور خدا کیا ہے ؟ ہم ان ظاہری نور کو سمجھ سکتے ہیں ، لیکن نور خدا کیا چیز ہے ؟ خداوند متعالی قرآن کریم میں اپنے نور کے لئے ایک مثال  بیان کرنا چاہتا ہے ، فرماتا ہے : «مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكَاةٍ» خدا  کے نور کی مثال ، ایک مشکات اور چراغدان کی ہے ،«فِيهَا مِصْبَاحٌ» اس چراغدان میں ایک چراغ اور شعلہ روشن ہونے کا ایک جگہ ہے «الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ» یہ چراغ ایک شیشہ کے اندر ہے ، جو بھی اسے دیکھتا ہے وہ یہ سمجھ سکتا ہے کہ جب چراغ کے گرد میں ایک شیشہ ہے جو اس نور کی محافظت کرتا ہے یہ اس نور کی باقی رہنے اور خاموش نہ ہونے کا سبب ہے «الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ يُوقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ زَيْتُونَةٍ لَا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ» اس چراغ کا منبع اور طاقت ایک مبارک درخت زیتون ہے جس کے بہت سی خصوصیات ہیں ، «يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيءُ» یہ چراغ خود بہ خود روشن اور نور پھیلاتا ہے وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ»، حتی کہ اگر آپ اس کے نزدیک کسی آگ کو بھی نہ لائے ، یہ خود بہ خود روشن ہوتا ہے ۔

خداوند متعالی فرماتاہے کہ اگر اس دنیا میں میرے نور کو دیکھنا چاہتے ہو ، تو میرے نور کی مثال یہ چراغدان ہے جس کی یہ خصوصیات ہے ، اس کے بعد ، دوسری آیت میں فرماتا ہے :«في بُيُوتٍ أَذِنَ اللّهُ أَنْ تُرْفَعَ وَ يُذْكَرَ فيهَا اسْمُهُ».

بعض روایات میں مشکات کو پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله وسلم  کا وجود مبارک اور مصباح کو امیر المومنین علیہ السلام یا پیغمبر اکرم کا علم قرار دیا ہے ، اور زجاجۃ کو امیر المومنین قرار  ديئے ہیں ، اور بعض دوسری روایات میں مشکات کو فاطمہ (سلام الله علیها  ) بتائے ہیں ، کہ میں اسی مطلب کو بیان کرنا چاہتا ہوں، حتی کہ اگر ہمارے پاس کوئی روایت بھی نہ ہوتی ، تب بھی اسی آیت کے آخر میں فرماتا ہے:«في بُيُوتٍ أَذِنَ اللهُ أَنْ تُرْفَعَ وَ يُذْكَرَ فيهَا اسْمُهُ» یہ مشکات ( چراغدان ) کہ خدا وند متعالی  اپنے نور کو اس سے تشبیہ کرتا ہے ، کون ہے ؟انسان اگر  زمین پر  خدا کے نور کو دیکھنا  چاہتا ہے تو کہتا ہے کہ ان گھروں کی طرف دیکھ لیں ۔

پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله وسلم  سے سوال کیا گیا کہ یہ گھر کونسے ہیں کہ خداوند متعال نے اس کی بلندی ، جس کےنام  اس آیت میں ذکر کیا ہے ؟ یہ گھر تمام انسانوں کے گھروں سے اور تمام محلوں سے فرق رکھتا ہے ، یہ نورانی ذوات مقدسہ بشر کے درمیان چمکتے ہیں ، خداوند متعالی نے ان گھروں کو یہ اجازت دی ہے کہ وہ باطنی اور معنوی طور پر بلند و بالا ہو ۔

ان گھروں میں «يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ» خدا کے نام کو لیا جاتا ہے ، صبح اور شام ان گھروں میں خداوند متعالی کی تسبیح ہوتی ہے ،  بعد والی آیت میں اس گھر کی شخصیات کو بیان کرتا ہے «رِجَالٌ لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ» ایسے لوگ ہیں جو ہمیشہ خدا کے یاد میں ہوتے ہیں ، ہمیشہ نماز قائم کرتے ہوئے اور زکات دیتے ہوئے ہوتے ہیں ،«يَخَافُونَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيهِ الْقُلُوبُ وَالْأَبْصَارُ» یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں خدا کی قدرت اور مقام و منزلت کے بارے میں خوف ہے اور قیامت کے دن سے ڈرتے ہیں ۔

 میرے بھائيو اور بہنو ! ان آیات کو آپ  ذہن نشین کر لیں ، خداوند متعالی یہ فرمانا چاہتا ہے کہ اے انسان اگر تم میرے نور کا ایک جہلک دیکھنا چاہتے ہو تو فاطمہ کو دیکھ لیں ، علی کو  دیکھ لیں ، آئمہ معصومین  کو دیکھ لیں ، یہ سب زمین پر خدا کے نور ہیں ، امام ہادی علیه السلام  زیارت جامعہ کبیرہ میں فرماتے ہیں : «خلقکم الله أنواراً فجعلکم بعرشه محدقين حتّي منّ علينا»یہ سب  زمین پر خدا کے نور ہیں اور خدا کے نور کا مثال ہے ، ، فاطمہ نور خدا ہے ، جس طرح پیغمبر اکرم اور حضرت علی خدا کا نور ہیں ۔

 ان آیات سے اہلبیت (علیہ السلام) کی مقام  و منزلت خود بخود واضح ہوتا ہے ، اس کے  لئے ہمیں روایت کی ضرورت نہیں ہے ، خدا فرماتا ہے ، میرے نور کی مثال یہ مشکات (چراغدادن) ہے جس کی یہ خصوصیات ہے ، اور ان خصوصیات کے ساتھ اس مشکات کا مصداق یہ بیوت( گھریں ) ہیں ، کونسے گھر؟ وہ گھر جن میں «أَذِنَ اللّهُ أَنْ تُرْفَعَ وَ يُذْكَرَ فيهَا اسْمُهُ يُسَبِّحُ لَهُ فيها بِالْغُدُوِّ وَ اْلآصالِ‌‍»ہو ، قرآن کريم اپنے بلند ترین اور رسا ترین آواز میں یہ بتاتا ہے کہ اے انسان تمہاری نظر ان انوار الہی کی طرف ہونا چاہئے ، تمہاری نظر فاطمہ کی طرف ہونا چاہئے ، تم اگر میرے نور کے درپے ہو اور خدا کے نور سے مستفید ہونا چاہتے ہو تو تم میرے نور کو تو نہیں سمجھ سکو گے ! لیکن میں نے زمین پر اپنے لئے ایک مثل قرار دیا ہے «هم فاطمة و ابوها و بعلها و بنوها» وہ مَثَل ،فاطمه ان کا پدر بزرگوار ، ان  کا شوہر امیر المومنین اور ان کے اولاد ہیں ۔

میں ایک وقت اس سوچ میں تھا کہ یہ روایت جسے آئمہ (ع) نے فرمائے ہیں : «نحن حجج الله علی عباده و فاطمة حجةٌ علینا» فاطمہ آئمہ پر حجت ہے اس کا کیا معنی ہے ؟ اس آیت کریمہ کے مطابق حضرت فاطمہ (سلام الله علیها  ) ہمارے تمام آئمہ کے  محافظ ہے ، فاطمہ ، علی کا مشکات ہے ، اور علی مصباح ہے ، حسن ، مصباح ہے ، اسی طرح امام زمان (عج) تک ، یہ سب چراغ ہیں اور جو اس چراغ کی نورانیت کو قدرت وطاقت کے ساتھ حفاظت کرتا ہے اور جسے خاص جلا بخشتا ہے وہ فاطمہ ہے ۔

ایک روایت میں امام صادق (علیہ السلام) فرماتا ہے :«أنا فرعٌ من فروع الزیتونة من شجرة مبارکةٍ زیتونة و قندیل من قنادیل بیت النبوة» میں شجر مبارکہ زیتون کے شاخوں میں سے ایک شاخ ہوں۔

یہ فاطمہ جو کہ نور خدا ، پیغمبر اور آئمہ اطہار(علیہم السلام) کا مشکات ہے اور خداوند متعالی نے زمین پر انہیں اپنے نور کا مثل قرار دیا ہے ، لہذا ہمیں چاہئے کہ ان کی شناخت پیدا کرے ، غور کریں کہ کیسی عظیم ہستی تھی ؟

ہمارے اس مجلس کا ہدف بھی یہ ہے کہ ہم ہمارے شعراء کے ذہن اور ذوق سے زیادہ سے زیادہ اس عظیم ہستی کے بارے میں معرفت پیدا کرے ، کہ واضح  ہے  حضرت فاطمہ (سلام الله علیها ) کا نور ان کے   قلب اور ذہن میں جلا بخشا چکے کہ جس کی وجہ سے ان کے بارے میں یہ اچھے اچھے اشعار پڑھ سکتے ہیں ۔

خدا کا شکر ہے کہ 20 ، 30 سال ہے کہ ہمارے اس ملک سے حضرت فاطمہ (س) کی آواز پوری دنیا تک پہنچ   رہی ہے اور خدا کا لطف و نظر ایران کے عوام اور شیعوں بلکہ تمام مسلمانوں اور تمام انسانوں کو حاصل ہوا ہے ، تا کہ کچھ حد تک فاطمہ کو پہنچان لیں ، فاطمہ کون ہے ؟ شعراء حضرات! مجھے معلوم نہیں ہے کہ قرآن کریم میں حضرت فاطمہ (سلام الله علیها )کے بارے میں جو عناوین ہیں وہ شعر کی صورت میں بیان ہوئے ہیں یا نہیں ؟ جناب شاعر آقای شریعتی جو شعر پڑھا اس میں ان عناوین میں سے بعض بیان ہوا تھا ،اس پہلو پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے یعنی قرآن کے لحاظ سے حضرت فاطمہ کی معرفت پیدا کرنا ۔

 

 میرا سوال یہ ہے کہ وہ فاطمہ جو مشکات ہے ، وہ فاطمہ جو نور خدا کا مثل ہے ، وہ فاطمہ جو ان گھروں کا محور و مرکز ہے جن کے ذکر کا اذن خدا نے دیا ہے ، کیا یہی سزاوار تھا کہ ان سے کہا جائے کہ اپنی بات کے لئے گواہ لے آئیں ؟ کیا یہی سزاوار تھا کہ انہیں مسجد تک لے جائے ؟ کیا سزوار تھا کہ انہیں دیوار اور دروازہ کے درمیان زخمی کیا جائے ؟ کیا سزوار تھا کہ گلیوں میں ان پر طماچہ مارا جائے ؟ انسانوں نے اس نور خدا کے ساتھ کیا کیا ہے ؟

اس زمانہ میں ظلم ہوا اور بدترین مظالم  ہوئے ، اب بھی کہتے ہیں کہ فاطمہ کے بارے میں کوئی بات نہ کرے ! حضرت فاطمہ کے عظمت اور مقام کے بارےمیں کوئي بات نہ کرے ،حضرت فاطمہ کی مظلومیت کےبارے میں کوئی بات نہ کرے !ٹھیک ہے ہم اس بارے میں کوئي بات نہیں کرتے ہیں لیکن  قرآن  کے بارے میں کیا بتائيں گے ؟ کیا قرآن نے حضرت فاطمہ کی مقام و منزلت کو بیان نہیں کیا ہے ؟ کیا تم قرآن سےسورہ کوثر کو ختم کر سکتے ہو؟ کیا چاہتے ہو؟ خواب غفلت سے بیدار ہو جاو اور ان انوار الہی سے مستفید ہو جائيں ۔

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ