قرآن مجید کی تلاوت کے آثار

15 April 2024

14:35

۷,۷۰۲

چکیده :
قرآنی آیا ت ، پروردگا ر عالم کا کلام ہیں اور اس کی ذاتِ اقدس کی طرح ایک مبارک محور و مرکز ہیں ، بلکہ خود برکت ہیں ۔ قرآنی آیات کی تلاوت پر بہت سی برکتیں ہوتی ہیں جن میں سے بعض کی طرف ذیل میں اشارہ کیا جا رہا ہے ۔
نشست های علمی

قرآن مجید کی تلاوت کے آثار

قرآنی آیا ت ، پروردگا ر عالم کا کلام ہیں اور اس کی ذاتِ اقدس کی طرح ایک مبارک محور و مرکز ہیں ، بلکہ خود برکت ہیں ۔ قرآنی آیات کی تلاوت پر بہت سی برکتیں ہوتی ہیں جن میں سے بعض کی طرف ذیل میں اشارہ کیا جا رہا ہے ۔

ایمان میں اضافہ

غور و فکر کے ساتھ قر آن مجید کی صحیح تلاوت کے سلسلے میں قرآن مجید یوں فرماتا ہے ’’الذین آتیناهم الکتاب یتلونه حق تلاوته اولئک یومنون به[1] ‘‘ وہ لوگ جنہیں ہم نے آسمانی کتاب عطا کی اگر وہ اس کی تلاوت کا حق ادا کریں تو یقینا ایمان لائے ہیں ۔ تلاوت کا حق صرف یہ نہیں ہے کہ اس کے اعراب اور حرکتوں ، قواعدِ تجوید ، وقف و سکون اور کلمات کی صحیح ادائیگی کا لحاظ رکھا جائے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اس کے معانی میں غور و فکر اور اس کے اثر کو قبول کرنے کی آمادگی بھی ضروری ہے ۔ قرآن مجید ، اہل ایمان کی اثر پذیری کے بارے میں فرماتا ہے ’’اذا تلیت علیهم آیاته زادتهم ایماناً[2] (جب ان کے سامنے قرآن کی آیتوں کی تلاوت کی جاتی ہے تو ان کے ایمان میں اضافہ ہو جاتا ہے )صحیح تلاوت کی علامت یہ ہے کہ قاری اور سامع ، دونوں پر یکساں طور پر اثر انداز ہوتی ہے اور ان کے ایمان میں اضافے کا باعث بنتی ہے تلاوتِ قرآن کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ اس کا غور سے سننا اور تلاوت کے وقت خاموش رہنا یا تو واجب ہے یا مستحب ، جیسا کہ بعض شیعہ فقہا ء نے اس آیت ’’اذا قری القرآن فاستمعوا له و انصتوا‘‘[3] (اور جب قرآن کی تلاوت کی جائے تو خاموش ہو کر غور سے سنو )کے ذیل میں استماع ( غور سے سننا ) اور انصاف (خاموش رہنا ) کے وجوب کا فتوا دیا ہے اگر چہ ا کثر فقہا ء اور مفسر ین نے اس حکم کو نماز جماعت او رماموم کے استماع (غور سے سننا ) اور انصات (خاموش رہے) سے مخصوص قرار دیا ہے ۔

گھروں کی درخشندگی اور نورانیت

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم قرآن کی اہمیت کو کچھ اس طرح بیان فرماتے ہیں ’’ نوروا بیوتکم بتلاوة القرآن ولا تتخذوها قبوراً‘‘[4]اپنے گھروں کو قرآن کی تلاوت سے منور کرو اور انہیں قبرستان نہ بناؤ ، وہ شخص جو قرآن سے مانوس نہیں وہ مردہ ہے اور اس کا گھر ، اس کی قبر ہے ۔

امام صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا : وہ گھر جس میں قرآن کی تلاوت ہوتی ہے وہ نورانی ہوتا ہے ، ’’یتراء ها اهل السماء کما یتراء ی اهل الارض الکوکب الدری فی السماء‘‘[5]جس طرح اہل زمین ،آسمان کے درخشان ستاروں سے نور حاصل کرتے ہیں اور ان کی روشنی سے فائدہ اٹھاتے ہیں ویسے ہی اہل آسمان، ان گھروں کی روشنی سے مستفید ہوتے ہیں ، جن میں تلاوتِ قرآن ہوتی ہے ۔

قرآن سے انس اور صالح افراد کا مقام

پروردگار عالم نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو براہ راست اپنی ولایت کی آغوش عطا کی ہے ’’ انَّ ولی الله الذی نزل الکتاب وهو یتولی الصالحین‘‘[6]وہی خدا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ولی ہے جس نے قرآن کو نازل کیا ہے ، پروردگار عالم، صالح او رنیک افراد کا والی و وارث ہے ۔یہ جملہ (ان ولی الله الذی نزل الکتاب وهو یتولی الصالحین) حکم (ولایت) کو صفت (صالح ) پر معلق (موقوف ) کرنے کے مانند ہے اور اس صفت (صالح ) کی علیت اور سببیت کی طرف اشارہ کرتا ہے ، یعنی اگر کوئی شخص قرآن پر عمل کرے تو وہ پرہیز گاری اور پارسائی کی صفت سے مزین ہو جاتا ہے، اگر پروردگار عالم کسی کا والی و وارث بننا چاہے تو قرآن کے ذریعہ سے اپنی ولایت کو عملی جامہ پہناتا ہے ۔

پس پروردگار عالم کی ولایت و سرپرستی کے حصول کا واحد راستہ ، پرہیز گاری اور پارسائی ہے اس کے بغیر خداوند متعال کی ولایت کا حصول نا ممکن ہے ، خداوند متعال بد کردار اور برے لوگوں کی ولایت کو قبول نہیں کرتا اور پرہیز گاری اور نیکی کے حصول کا بہترین راستہ ، قرآن سے انس و الفت ہے ۔

۱ ۔ والی و وارث ، خداوند متعال ہے ۔

۲ ۔ ولایت پذیر ، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذات گرامی ہے ۔

۳ ۔ ولی کا منصب اور عہدہ ، تنزیل قرآن ہے ۔

۴ ۔ ولایت کو قبول کرنے والے شخص کے لئے جو صفت ، شرط کے طور پر رکھی گئی ہے وہ اس کا نیک کردار اور پرہیز گار ہونا ہے ۔

۵۔ کلمات کے انفرادی اور آیت کے مجموعی سیاق سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ خداوند متعال معارف اور قرآن کی اعلیٰ و ادنیٰ منازل کے ذریعہ ، اپنے نیک و صالح بندوں کی ولایت و سرپرستی کی ذمہ داری قبول کرتا ہے اور فقہی اور حقوقی احکام ، استدلالی و عرفانی حکمتوں کے ذریعہ ان کی سعادت و خوشبختی کو فراہم کرتا ہے ۔

لہذا ، مذکورہ صفت (صالح ہونا ) اگر چہ واضح طور پر حکم کو صفت پر معلق کرنے جیسی نہیں ہے لیکن حقیقی اجتہاد کے ذریعہ اس استنباط کی نوعیت واضح ہو جاتی ہے ۔ چونکہ آیت کا نتیجہ یہ ہے ۔

وہ خدا جس نے قرآن کو نازل کیا ہے اور اپنے صالح و نیک بندوں کی ولایت اور سر پرستی کو اپنے ذمہ لیا ہے وہ خدا میرا ولی و وارث ہے ، یعنی پروردگار عالم کی دو صفتیں (تنزیل قرآن اور صا لحین کی ولایت)میری اور ہر قرآن محور انسان کی ولایت میں نا قابل ترد ید کردار کی حامل ہیں ۔

اسی وجہ سے قرآن مجید کا ارشاد ہے : ( فاقرؤا ما تیسر من القرآن)[7]جس قدر ممکن ہو قرآن کی تلاوت کرو اور اس کتاب خدا سے مانوس رہو ، یہاں تک کہ اگر بعض آیتوں یا سوروں کے معانی و مفاہیم آپ کے لئے واضح نہ بھی ہوں تو بھی یہ کہہ کر تلاوتِ قرآن سے دامن نہ بچایئے کہ سمجھے بغیر قرآن کی تلاوت کیا فائدہ ہے ۔ چون کہ قرآن کو ئی عام کلام نہیں ہے کہ جس کے معانی کو سمجھے بغیر ، پڑھنے کا کوئی فائدہ نہ ہو ، بلکہ قرآن ، پروردگار عالم کا نور ہے جس کی تلاوت بھی عبادت ہے ۔ اگر چہ اس کا پڑھنے والا اس کے معانی سے نا آشنا ہو البتہ ہمیں خود بھی قرآ ن کی تعلیمات کی روشنی میں تدبر و غور و فکر کی ضرورت کا احساس ہونا چاہیے ۔

قرآن اللہ کی رسی ہے جس سے مانوس ہونے ، اس میں غور و فکر کرنے ، اس پر ایمان لانے اور عمل کرنے سے انسان کی قدر و منزلت میں ا ضافہ ہوتا ہے اور وہ صالحین کے مقام پر فائز ہوتا ہے ، جس کے بعد وہ براہ راست ، ولایت خدا کے حصار میں آ جاتا ہے اور اس کے تمام امور کو خداوند متعال چلاتا ہے ،اس مقام پر پہچنے کے بعد وہ شیطان وسوسوں اور رخنہ اندازیوں سے محفوظ ہو جاتا ہے ، خداوند متعال اسے تمام ظلمتوں اور تاریکیوں سے نجات دیتا ہے اور اس کی ذات کو نورانی بنا دیتا ہے ’’ اللّه ولی الذین آمنوا یخرجهم من الظلمات الی النور‘‘[8]ایسا شخص امت کے درمیان اپنے نور کے سہارے راستہ پرچلتا ہے ، یعنی اس پر ایسی کیفیت طاری ہو جاتی ہے جس کی بنا پر اس کا کردار خود بھی روشن و واضح ہوتا ہے ’’ و جعلنا له نوراً یمشی به فی الناس‘‘[9]اور دوسروں کے لئے بھی مشعل راہ قرار پاتا ہے ۔


[1]سورہ بقرہ ، آیہ ۱۲۱

[2]سورہ انفال ، آیہ ۲

[3]سورہ اعراف ، آیہ ۲۰۴

[4]کافی ، ج ۲ ، ص ۶۱۰

[5]کافی ، ج ۲ ، ص ۶۱۰

[6]سورہ اعراف ، آیہ ۱۹۶

[7]سورہ مزمل ، آیہ ۲۰

[8]سورہ بقرہ ، آیہ ۲۵۷

[9]سورہ انعام ، آیہ
برچسب ها :