pic
pic

سوال و جواب

اپنا سوال پوچھیں
رزق میں برکت کے اسباب
تاریخ 17 December 2017 & ٹائم 02:00

وہ کونسے اعمال ہیں جن کی وجہ سے انسان کی رزق و روزی کم ہو جاتی ہے؟

بسمہ تعالی

رزق وروزی کمکرنے کے اسباب درج ذیل ہیں :

١لف:طبیعی اسباب:

١۔سستی اوربیکاری،اگر کوئی شخص سست ہواورکسی کسب وکارکے پیچھے نہیں جاتا ہوتو ممکن ہے اس کی زندگی بہت سخت  ہوجائے ۔

٢۔اسراف:اگرکوئیخداوند متعالی کی نعمتوں کو اسراف کر کے ضایع کر دے توممکن ہے وہ فقیر ہو جائے ۔

٣۔زندگی میں نظم نہ ہونا:زندگی کے تمام کاموں میں نظم و انضباط ضروری ہے ،اسلحاظ سے خرچ و مخارج بھی منظم ہونا ضروری ہے اگر کوئی اپنے آمدی سے زیادہ خرچ کرےتو وہ تنگدستی میں مبتلاء ہو سکتا ہے ۔

٤۔لوگوںسے اچھی تعلقات اوربااخلاق ہونا: اچھے اخلاق کا معنوی اثر کے علاوہ ؛طبیعی  لحاظ سے بھی رزق و روزی کے زیادہہونے میں اثر انداز ہے کیونکہ جس انسان کا اخلاق اچھا ہو اور متواضع ہو تو سب اسےپسند کرتے ہیں اورا س کے ساتھ کام کرنا چاہتا ہے اس طرح اس شخص کے لئے کام کرنے کےمواقع فراہم ہوتے ہیں ،اس کے علاوہ اچھا اخلاق معنوی لحاظ سے بھی رزق میں برکت کاسبب ہے ۔

ب) معنوی اسباب

رزق و روزی کمہونے کے کچھ معنوی اسباب بھی ہیں جو درج ذیل ہیں :

١۔غیرخدا پر توکل :

یقیناً تماممخلوقات کی رزق وروزی خالق رازق کے ہاتھ میں ہے،اگرچہ طبیعی عوامل بھی اس میں موثرہیں لیکن اصل خداوندمتعال ہے اور طبیعی اسباب بھی اسی کے حکم کے مطابق ہے ، اسلحاظ سے جو افراد اپنے رزق و روزی کو رزق کے مبداء اور سر چشمہ سے طلب کرے اسے یہحاصل ہو جاتی ہے ،لیکن جو شخص اسے مخلوقات کے ہاتھوں میں تلاش کرے تو اسے وہ حاصلہونا ممکن نہیں ہے وہ کبھی بھی اس رزق تک نہیں پہنچ سکتا جسے وہ طلب کر رہا ہو،اسی لحاظ سے خدا پر توکل کرنا رزق و روزی میں اضافہ کا سبب ہے اورمخلوق خدا پرتوکل روزی کے کم ہونے کا سبب ہے ۔

اس سلسلے میں حضرتعلی علیہ السلام پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کرتا ہے :

خداوند متعالیفرماتا ہے : جو شخص بھی میرے مخلوق پر بھروسہ کرے اور مجھ سے طلب نہ کرے میں آسماناور زمین کے اسباب کو اس کے لئے قطع کر دیتا ہوں ،اس کے بعد اگر مجھ سے کوئی چیزطلب کرے تو میں اسے نہیں دیتا ہوں اور اگر مجھے پکارے تو میں اسے جواب نہیں دوں گا،لیکن اگر کوئیمیرے بندہ پر نہیں بلکہ خود مجھ پر بھروسہ کرے ،تو میں آسمان اور زمین کو اس کیرزق و روزی کا سہارا قرار دوں گا،اوروہ اگرمجھے پکارے تومیں اس کا جواب دوں گا اوراگرمجھ سے کوئی چیز طلب کرے تو میں اسے عطا کروں گا اوراگرمجھ سے طلب بخشش کرے تو میں اسے عفو کروں گا[1]اس لحاظ سےاگر کوئی اپنے کاموں میں خدا پر توکل کرے ، تو اس کے کاموں کے اسباب و علل فراہمہوتا ہے ، لیکن اگر کوئی اسباب کے خالق کے بدلے مستقل طور پر خود اسباب سے لپٹجائے تو وہ ان اسباب اورعوامل کو کام میں لانے سے بھی محروم رہ جاتا ہے۔

البتہ اس کا معنییہ نہیں ہے کہ انسان خدا پر کامل طورپرتوکل کر کے گھرپربیٹھا رہے اورکوئی کام کاجنہ کرے یہ توتوکل کے برخلاف ہے بلکہ خداپرتوکل کرنے کی حقیقت یہ ہے کہ طبیعیراستوں سے تلاش اورکوشش کو خدا کے تابعداراسباب قراردیں اورخداپرکامل توکل کر کےطبیعی راستوں سے تلاش اورکوشش بھی کرے ، لیکن انہیں اسباب پراعتماد کر کے نہبیٹھیں ۔

٢۔دعانہ کرنا

دعا یا دوسرےالفاظ میں خدا سے درخواست کرنا رحمت الہی کے خزانوں کی کنجی ہے،کہ دعا کے ذریعہخداوند عالم کی نعمتوں کے خزانہ کو اپنے لیے کھول سکتا ہے ، اور اس کے مقابلہ میںخدا کے بدلے لوگوں سے مانگنا اور ان سے درخواست کرنا ہے کہ یہ خدا کے نعمتوں کےخزانوں کے کنجی کو اپنے لئے بند کرنے اور اس کی نعمتوں سے محروم ہونے کا سبب ہے ،جو شخص دعا کے ذریعہ رحمت کے دروازہ کو اپنے لئے نہ کھولیں ،تنگدستی اور زندگی کیمشکلات اسے مخلوق کے دروازوں پر دستک دینے ہر ایک سے مانگنے پر مجبور کرتا ہے ،یہپیغمبر اکرم(ص) کا فرمان ہے کہ فرماتا ہے: «من فتح علي نفسه بابامن المسئله، فتح الله عليه باباً من الفقر»[2]جو شخص اپنے لئےلوگوں سے مانگنے کا دروزاہ کھول لیتا ہے ،خداوند متعالی فقر کا ایک دروازہ اس کےلئے کھول لیتا ہے ۔

امام صادق(ع) اسبارے فرماتے ہیں :[2]جو شخص اپنے لئےلوگوں سے مانگنے کا دروزاہ کھول لیتا ہے ،خداوند متعالی فقر کا ایک دروازہ اس کےلئے کھول لیتا ہے ۔

٣۔قطع رحم :رزق وروزی کم ہونے اورفقروفاقہ میں مبتلاء ہونے کے عواملواسباب میں سے ایک رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنا ہے ، جس طرح انسان کے جلدی مرجانےمیں قطع رحم مؤثر ہے اسی طرح فقر وفاقہ میں بھی مؤثر ہے اور صلہ رحم رزق وروزی میںاضافہ اورآباد ہونے کا سبب ہے ۔ امام محمد باقرعلیہ السلام سے نقل ہے :صُلَةُالاْرْحامِ تُزَکِّى الاْعْمالَ وَ تُنْمِى الاْمْوالَ؛صلہ رحم انسان کےاعمال کو پاکیزہ اوراس کے مال ودولت میں برکت پیدا کرتا ہے،اوراس کے مقابلہ میں رشتہداروں سے قطع تعلق زندگی کو تاریک اور روزی میں کمی کا سبب ہے ۔

٤۔ صدقہ نہ دینا: صدقہ دینا بھیرزق وروزی میں اضافہ کا سبب ہے ؛ امام علیہ السلام فرماتا ہے : اسْتَنْزِلُواالرِّزْقَ بِالصَّدَقَةِ»[4] صدقہ کے ذریعہ روزی کو اپنے اوپر نازل کراؤ۔

امام صادق (ع) سےنقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا: أَماعَلِمْتَ أنَّ لِکُلِّ شَیء مِفْتاحاً وَمِفْتاحُ الرِّزْقِ الصَّدَقَةُ»کیا آپ کومعلومنہیں کہ ہر چیز کی ایک چابی ہے اور رزق وروزی کی چابی صدقہ دینا ہے ۔

٥۔توبہ و استغفار نہ کرنا:توبہ اورااستغفار کرنا وسعت رزق و روزی کا سببہے جیسا کہ قرآن میں حضرت نوح علیہ السلام اپنی قوم سے فرما رہا ہے : «فقُلْتُاسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إنهُ كَانَ غَفَّاراً* يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْمِدْرَاراً* وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّاتٍوَيَجْعَلْ لَكُمْ أَنْهاراً»[5]. اور کہا :اپنےپروردگار سے معافی مانگو ،وہ یقینا بڑا معاف کرنے والا ہے، وہ تم پر آسمان سےبارشیں برسائے گا ،وہ اموال اور اولاد کے ذریعے تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے لیےباغات بنائے گا اور تمہارے لیے نہریں بنائے گا''

اور توبہ واستغفار نہ کرنا روزی میں کمی کا سبب ہے ؛امیر المومنین علیہ السلام سے نقل ہے کہآپ نے فرمایا: إذا أبْطَئَتِ الاْرْزاقُ عَلَیکَ فَاسْتَغْفِرِ اللهَیوَسِّعْ عَلَیکَ فیها" جب تم پر سختی ہو جائے تو اپنے گناہوں سے توبہ کرو،خداوند متعالی تمہاری روزی میں برکت دے گا ۔

٦۔زناکرنا:زنا(نعوذ باللہ )کے بہت سارے برے اثرات ہیں ؛عمرمیں کمی ،مشکلاتاورپریشانیاں آنا،رزق وروزی کم ہونا زنا کے اثرات میں سے ہے ،اوراگرپورے معاشرےمیں زنا عام ہو جائے تو وہاں پھر قحطی ،خشک سالی اور زلزلہ وغیرہ اس کے اثرات میںسے ہے اوراس طرح زلزلہ سے آبادیاں اجھڑ جائے گی اورمال و دولت سب ختم ہو جاتی ہےاور رزق و روزی میں کمی آتی ہے ۔

٧۔نماز صبح کے بعد سورج کے نکلنے تک سونا:روزی کے کم کرنے کے اسباب میں سےایک طلوع صبح سے لے کر طلوع سورج تک سونا ہے ،اس کے مقابلہ میں اگراس وقت میں عبادتمیں مصروف ہو جائے یا کام کاج کر کے رزق و روزی کے پیچھے جائے تو اس کی اپنی خاصبرکات ہے ۔

رسول خدا صلیاللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: سحرخیزی مبارک ہے ،یہ تمام نعمتوں خصوصاً روزیمیں اضافہ کا سبب ہے ۔

اسی طرح یہ بھیفرماتا ہے :صبح سویرے اپنے کاموں پر نکل جاؤ ؛کیونکہ اس وقت یہ بہت آسان طریقہ سےانجام پاتا ہے ۔

امیرالمومنینعلیہ السلام فرماتے ہیں: صبح سویرے رزق و روزی کے لئے نکلنا روزی میں اضافہ کا سببہے ۔

اسی طرح یہ بھیفرماتا ہے :جو بھی ہمیشہ جاوید رہنا چاہتا ہے (اگرچہ جاودانگی نہیں ہے ) تو اسےسحرخیز ہونا چاہئے ؛اوریہ بھی فرماتا ہے : خدا کے راہ میں کسی بھی سحر خیزکی اتنیاہمیت نہیں ہے جتنی اس سحر خیز کی ہے جو اپنے اہل وعیال کے معاش کے لئے سحرخیزیکرتا ہے ۔

امام صادق (ع)فرماتا ہے : ہمیشہ تلاش اور کوشش کیا کرو !جب بھی نماز صبح سے فارغ ہو کر واپسآجائے تو اسی وقت صبح سویرے روزی اور حلال کمائی کے لئے نکل جاؤ، تا کہ خدا تمہیںرزق و روزی دے دیں اور تمہاری مدد کرے.

اسی طرح آپ(ع) یہبھی فرماتا ہے : امام سجاد (ع) صبح کے وقت رزق وروزی کے لئے باہر جاتے تھے ،تو انسے پوچھا گیا : اے فرزند رسول(ص) ! اس وقت آپ کہاں تشریف لے جا رہے ہیں ؟

فرمایا: اپنے اہلوعیال کے لئے صدقہ لینے جا رہا ہوں ؛ عرض ہوا :کیا آپ اپنے اہل و عیال کے لئے صدقہقبول کرتے ہیں ؟

فرمایا: جو بھیحلال کمائی کرے اورخدا سے اپنے اہل وعیال کی رزق وروزی کو طلب کرے ان کو مل جاتا هے ۔



[1] - اعلام الدین فی صفاتالمومنین ؛ص٢١٣

[2] - بحارالانوار، ج 103، ص 20

[3] - بحارالانوار، ج76، ص 316

[4] - مصادر نهج البلاغه،ج 4،ص 121

[5] -نوح/١٠ الی١٣

۱,۸۰۵ قارئين کی تعداد:

مطلوبہ الفاظ: