pic
pic

سوال و جواب

اپنا سوال پوچھیں
رزق میں برکت کے اسباب
تاریخ 16 June 2019 & ٹائم 02:12

وہ کونسے اعمال ہیں جن کی وجہ سے انسان کی رزق و روزی کم ہو جاتی ہے؟

بسمہ تعالی

رزق وروزی کم کرنے کے اسباب درج ذیل ہیں :

١لف: طبیعی اسباب:

١۔ سستی اوربیکاری،اگر کوئی شخص سست ہواورکسی کسب وکارکے پیچھے نہیں جاتا ہو تو ممکن ہے اس کی زندگی بہت سخت  ہوجائے ۔

٢۔اسراف:اگرکوئی خداوند متعالی کی نعمتوں کو اسراف کر کے ضایع کر دے توممکن ہے وہ فقیر ہو جائے ۔

٣۔ زندگی میں نظم نہ ہونا:زندگی کے تمام کاموں میں نظم و انضباط ضروری ہے ،اس لحاظ سے خرچ و مخارج بھی منظم ہونا ضروری ہے اگر کوئی اپنے آمدی سے زیادہ خرچ کرے تو وہ تنگدستی میں مبتلاء ہو سکتا ہے ۔

٤۔لوگوں سے اچھی تعلقات اوربااخلاق ہونا: اچھے اخلاق کا معنوی اثر کے علاوہ ؛ طبیعی  لحاظ سے بھی رزق و روزی کے زیادہ ہونے میں اثر انداز ہے کیونکہ جس انسان کا اخلاق اچھا ہو اور متواضع ہو تو سب اسے پسند کرتے ہیں اورا س کے ساتھ کام کرنا چاہتا ہے اس طرح اس شخص کے لئے کام کرنے کے مواقع فراہم ہوتے ہیں ،اس کے علاوہ اچھا اخلاق معنوی لحاظ سے بھی رزق میں برکت کا سبب ہے ۔

ب) معنوی اسباب

رزق و روزی کم ہونے کے کچھ معنوی اسباب بھی ہیں جو درج ذیل ہیں :

١۔ غیرخدا پر توکل :

یقیناً تمام مخلوقات کی رزق وروزی خالق رازق کے ہاتھ میں ہے،اگرچہ طبیعی عوامل بھی اس میں موثر ہیں لیکن اصل خداوندمتعال ہے اور طبیعی اسباب بھی اسی کے حکم کے مطابق ہے ، اس لحاظ سے جو افراد اپنے رزق و روزی کو رزق کے مبداء اور سر چشمہ سے طلب کرے اسے یہ حاصل ہو جاتی ہے ،لیکن جو شخص اسے مخلوقات کے ہاتھوں میں تلاش کرے تو اسے وہ حاصل ہونا ممکن نہیں ہے وہ کبھی بھی اس رزق تک نہیں پہنچ سکتا جسے وہ طلب کر رہا ہو ،اسی لحاظ سے خدا پر توکل کرنا رزق و روزی میں اضافہ کا سبب ہے اورمخلوق خدا پر توکل روزی کے کم ہونے کا سبب ہے ۔

اس سلسلے میں حضرت علی علیہ السلام پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کرتا ہے :

خداوند متعالی فرماتا ہے : جو شخص بھی میرے مخلوق پر بھروسہ کرے اور مجھ سے طلب نہ کرے میں آسمان اور زمین کے اسباب کو اس کے لئے قطع کر دیتا ہوں ،اس کے بعد اگر مجھ سے کوئی چیز طلب کرے تو میں اسے نہیں دیتا ہوں اور اگر مجھے پکارے تو میں اسے جواب نہیں دوں گا،لیکن اگر کوئی میرے بندہ پر نہیں بلکہ خود مجھ پر بھروسہ کرے ،تو میں آسمان اور زمین کو اس کی رزق و روزی کا سہارا قرار دوں گا،اوروہ اگرمجھے پکارے تو میں اس کا جواب دوں گا اوراگرمجھ سے کوئی چیز طلب کرے تو میں اسے عطا کروں گا اوراگر مجھ سے طلب بخشش کرے تو میں اسے عفو کروں گا[1]اس لحاظ سے اگر کوئی اپنے کاموں میں خدا پر توکل کرے ، تو اس کے کاموں کے اسباب و علل فراہم ہوتا ہے ، لیکن اگر کوئی اسباب کے خالق کے بدلے مستقل طور پر خود اسباب سے لپٹ جائے تو وہ ان اسباب اورعوامل کو کام میں لانے سے بھی محروم رہ جاتا ہے۔

البتہ اس کا معنی یہ نہیں ہے کہ انسان خدا پر کامل طورپرتوکل کر کے گھرپربیٹھا رہے اورکوئی کام کاج نہ کرے یہ توتوکل کے برخلاف ہے بلکہ خداپرتوکل کرنے کی حقیقت یہ ہے کہ طبیعی راستوں سے تلاش اورکوشش کو خدا کے تابعداراسباب قراردیں اورخداپرکامل توکل کر کے طبیعی راستوں سے تلاش اورکوشش بھی کرے ، لیکن انہیں اسباب پراعتماد کر کے نہ بیٹھیں ۔

٢۔دعا نہ کرنا

دعا یا دوسرے الفاظ میں خدا سے درخواست کرنا رحمت الہی کے خزانوں کی کنجی ہے،کہ دعا کے ذریعہ خداوند عالم کی نعمتوں کے خزانہ کو اپنے لیے کھول سکتا ہے ، اور اس کے مقابلہ میں خدا کے بدلے لوگوں سے مانگنا اور ان سے درخواست کرنا ہے کہ یہ خدا کے نعمتوں کے خزانوں کے کنجی کو اپنے لئے بند کرنے اور اس کی نعمتوں سے محروم ہونے کا سبب ہے ، جو شخص دعا کے ذریعہ رحمت کے دروازہ کو اپنے لئے نہ کھولیں ،تنگدستی اور زندگی کی مشکلات اسے مخلوق کے دروازوں پر دستک دینے ہر ایک سے مانگنے پر مجبور کرتا ہے ،یہ پیغمبر اکرم(ص) کا فرمان ہے کہ فرماتا ہے: «من فتح علي نفسه بابا من المسئله، فتح الله عليه باباً من الفقر»[2]جو شخص اپنے لئے لوگوں سے مانگنے کا دروزاہ کھول لیتا ہے ،خداوند متعالی فقر کا ایک دروازہ اس کے لئے کھول لیتا ہے ۔

امام صادق(ع) اس بارے فرماتے ہیں :[2]جو شخص اپنے لئے لوگوں سے مانگنے کا دروزاہ کھول لیتا ہے ،خداوند متعالی فقر کا ایک دروازہ اس کے لئے کھول لیتا ہے ۔

٣۔ قطع رحم :رزق وروزی کم ہونے اورفقروفاقہ میں مبتلاء ہونے کے عوامل واسباب میں سے ایک رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنا ہے ، جس طرح انسان کے جلدی مرجانے میں قطع رحم مؤثر ہے اسی طرح فقر وفاقہ میں بھی مؤثر ہے اور صلہ رحم رزق وروزی میں اضافہ اورآباد ہونے کا سبب ہے ۔ امام محمد باقر علیہ السلام سے نقل ہے :صُلَةُ الاْرْحامِ تُزَکِّى الاْعْمالَ وَ تُنْمِى الاْمْوالَ؛صلہ رحم انسان کے اعمال کو پاکیزہ اوراس کے مال ودولت میں برکت پیدا کرتا ہے،اوراس کے مقابلہ میں رشتہ داروں سے قطع تعلق زندگی کو تاریک اور روزی میں کمی کا سبب ہے ۔

٤۔ صدقہ نہ دینا: صدقہ دینا بھی رزق وروزی میں اضافہ کا سبب ہے ؛ امام علیہ السلام فرماتا ہے : اسْتَنْزِلُوا الرِّزْقَ بِالصَّدَقَةِ»[4] صدقہ کے ذریعہ روزی کو اپنے اوپر نازل کراؤ۔

امام صادق (ع) سے نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا: أَما عَلِمْتَ أنَّ لِکُلِّ شَیء مِفْتاحاً وَمِفْتاحُ الرِّزْقِ الصَّدَقَةُ»کیا آپ کومعلوم نہیں کہ ہر چیز کی ایک چابی ہے اور رزق وروزی کی چابی صدقہ دینا ہے ۔

٥۔ توبہ و استغفار نہ کرنا:توبہ اورااستغفار کرنا وسعت رزق و روزی کا سبب ہے جیسا کہ قرآن میں حضرت نوح علیہ السلام اپنی قوم سے فرما رہا ہے : «فقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إنهُ كَانَ غَفَّاراً* يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَاراً* وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّاتٍ وَيَجْعَلْ لَكُمْ أَنْهاراً»[5]. اور کہا :اپنے پروردگار سے معافی مانگو ،وہ یقینا بڑا معاف کرنے والا ہے، وہ تم پر آسمان سے بارشیں برسائے گا ،وہ اموال اور اولاد کے ذریعے تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے لیے باغات بنائے گا اور تمہارے لیے نہریں بنائے گا''

اور توبہ و استغفار نہ کرنا روزی میں کمی کا سبب ہے ؛امیر المومنین علیہ السلام سے نقل ہے کہ آپ نے فرمایا: إذا أبْطَئَتِ الاْرْزاقُ عَلَیکَ فَاسْتَغْفِرِ اللهَ یوَسِّعْ عَلَیکَ فیها" جب تم پر سختی ہو جائے تو اپنے گناہوں سے توبہ کرو ،خداوند متعالی تمہاری روزی میں برکت دے گا ۔

٦۔زنا کرنا:زنا(نعوذ باللہ )کے بہت سارے برے اثرات ہیں ؛عمرمیں کمی ،مشکلات اورپریشانیاں آنا،رزق وروزی کم ہونا زنا کے اثرات میں سے ہے ،اوراگرپورے معاشرے میں زنا عام ہو جائے تو وہاں پھر قحطی ،خشک سالی اور زلزلہ وغیرہ اس کے اثرات میں سے ہے اوراس طرح زلزلہ سے آبادیاں اجھڑ جائے گی اورمال و دولت سب ختم ہو جاتی ہے اور رزق و روزی میں کمی آتی ہے ۔

٧۔ نماز صبح کے بعد سورج کے نکلنے تک سونا:روزی کے کم کرنے کے اسباب میں سے ایک طلوع صبح سے لے کر طلوع سورج تک سونا ہے ،اس کے مقابلہ میں اگراس وقت میں عبادت میں مصروف ہو جائے یا کام کاج کر کے رزق و روزی کے پیچھے جائے تو اس کی اپنی خاص برکات ہے ۔

رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: سحرخیزی مبارک ہے ،یہ تمام نعمتوں خصوصاً روزی میں اضافہ کا سبب ہے ۔

اسی طرح یہ بھی فرماتا ہے :صبح سویرے اپنے کاموں پر نکل جاؤ ؛کیونکہ اس وقت یہ بہت آسان طریقہ سے انجام پاتا ہے ۔

امیرالمومنین علیہ السلام فرماتے ہیں: صبح سویرے رزق و روزی کے لئے نکلنا روزی میں اضافہ کا سبب ہے ۔

اسی طرح یہ بھی فرماتا ہے :جو بھی ہمیشہ جاوید رہنا چاہتا ہے (اگرچہ جاودانگی نہیں ہے ) تو اسے سحرخیز ہونا چاہئے ؛اوریہ بھی فرماتا ہے : خدا کے راہ میں کسی بھی سحر خیزکی اتنی اہمیت نہیں ہے جتنی اس سحر خیز کی ہے جو اپنے اہل وعیال کے معاش کے لئے سحرخیزی کرتا ہے ۔

امام صادق (ع) فرماتا ہے : ہمیشہ تلاش اور کوشش کیا کرو !جب بھی نماز صبح سے فارغ ہو کر واپس آجائے تو اسی وقت صبح سویرے روزی اور حلال کمائی کے لئے نکل جاؤ، تا کہ خدا تمہیں رزق و روزی دے دیں اور تمہاری مدد کرے.

اسی طرح آپ(ع) یہ بھی فرماتا ہے : امام سجاد (ع) صبح کے وقت رزق وروزی کے لئے باہر جاتے تھے ،تو ان سے پوچھا گیا : اے فرزند رسول(ص) ! اس وقت آپ کہاں تشریف لے جا رہے ہیں ؟

فرمایا: اپنے اہل وعیال کے لئے صدقہ لینے جا رہا ہوں ؛ عرض ہوا :کیا آپ اپنے اہل و عیال کے لئے صدقہ قبول کرتے ہیں ؟

فرمایا: جو بھی حلال کمائی کرے اورخدا سے اپنے اہل وعیال کی رزق وروزی کو طلب کرے ان کو مل جاتا هے ۔



[1] - اعلام الدین فی صفات المومنین ؛ص٢١٣

[2] - بحارالانوار، ج 103، ص 20

[3] - بحارالانوار، ج76، ص 316

[4] - مصادر نهج البلاغه،ج 4، ص 121

[5] - نوح/١٠ الی١٣

۳,۴۰۹ قارئين کی تعداد:

سیدہ عورت کا غیر سید مرد سے شادی
تاریخ 16 June 2019 & ٹائم 02:12

کسی سیدہ خاتون کا غیر سید مرد سے شادی کا کیا حکم ہے ؟


شیعہ غیرسیدمردکاشیعہ سیدہ لڑکی سے شادی کرنے میں شرعی لحاظ سے کوئی اشکال نہیں ہے اور اسلام کی نظر میں ایسی کوئی بات نہیں ہے کہ سیدہ لڑکی کا غیر سید سے شادی جائز نہ ہو ۔

اس مسئلہ کی دلیل خود قرآن ہے ۔

اوراس کاواضح نمونہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کی پھوپھی زینب کا زید بن حارثہ سے شادی کرنا ہے کہ قرآن کریم میں یہ صریحاً ذکر ہوا ہے ۔

جیسا کہ سور احزاب میں فرماتا ہے :''« وَ ما كانَ لِمُؤْمِنٍ وَ لا مُؤْمِنَةٍ إِذا قَضَى اللَّهُ وَ رَسُولُهُ أَمْراً أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ وَ مَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَ رَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلالًا مُبِيناً *  وَ إِذْ تَقُولُ للَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَ اتَّقِ اللَّهَ وَ تُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَ تَخْشَى النَّاسَ وَ اللَّهُ أَحَقُّ أَنْ تَخْشاهُ فَلَمَّا قَضىزَيْدٌ مِنْها وَطَراً زَوَّجْناكَها لِكَيْ لا يَكُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَرَجٌ فِي أَزْواجِ أَدْعِيائِهِمْ إِذا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَراً وَ كانَ أَمْرُ اللَّهِ مَفْعُولًا»)سوره احزاب آیت 36 تا 37)

اور کسی مومن مرد اور مومنہ عورت کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ جب ا للہ اور اس کا رسول کسی معاملے میں فیصلہ کردیں تو انہیں اپنے معاملے کا اختیار حاصل رہے اور جس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی وہ صریح گمراہی میں مبتلا ہوگیا ۔اور (اے رسول یاد کریں وہ وقت ) جب آپ اس شخص سے جس پر اللہ نے اور آپ نے احسان کیا تھا ، کہہ رہے تھے :اپنی زوجہ کو نہ چھوڑو اور اللہ سے ڈرو اور وہ بات آپ نے اپنے دل میں چھپائے ہوئے تھے جسے اللہ ظاہر کرنا چاہتا ہے اور آپ لوگوں سے ڈر رہے تھے حالانکہ اللہ زیادہ حقدار ہے کہ آپ اس سے ڈریں ، پھر جب زید نے اس (خاتون) سے اپنی حاجت پور ی کر لی تو ہم نے اس خاتون کا نکاح آپ سے کر دیا تا کہ مومنوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں (سے شادی کرنے ) کے بارے میں کوئی حرج نہ رہے جب کہ وہ ان سے اپنی حاجت پوری کر چکے ہوں اور اللہ کا حکم نافذ ہو کر ہی رہے گا ''۔

واقعہ یہ ہے کہ :بعثت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے جب حضرت خدیجہ نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ سے شادی کی ، اس وقت خدیجہ نے ''زید '' نامی کسی غلام کو خریدا اور بعد میں اسے پیغمبر اکرم (ص) کو ہدیہ کے طور پر دیا ،اور پیغمبر اکرم(ص) نے اسے آزاد فرمایا، اورجب اس کے قبیلہ والوں نے اس سے بائیکاٹ کیا تو آپ (ص) نے  اسے اپنا بیٹا بنایا کہ اصطلاح میں اسے تبنی کہا جاتا ہے ۔

اسلام کے ظہور ہونے کے بعد ''زید '' ایک مخلص مسلمان ہوا ، اور اسلام میں اپنا مقام پیدا کیا ،اور جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ جنگ ''موتہ'' میں لشکر اسلام کے کمانڈر بن گئے اور اسی جنگ میں شہید ہوئے ۔

جب پیغمبر اکرم(ص) کی شادی کرنے کا ارادہ کیا تو اس وقت زینب بنت جحش کی منگنی کی ،زینب بنت جحش رسول خدا (ص) کی پھوپھی کی بیٹی تھی اور سیدہ تھی اور زید ایک آزاد ہونے والا غلام تھ کہ حضرت خدیجہ نے پیغمبر اکرم(ص) کو ہدیہ دیاتھا اور وہ سید نہیں تھا ، پیغمبر اکرم (ص)نے جب زینب کی منگنی کی تو وہ یہ سوچ کر خوشحال ہوئی تھی کہ آپ(ص)اپنے لیے منگنی کررہے ہیں اس لیے خوشحال ہو کر راضی ہوئی ،لیکن جب بعد میں یہ پتہ چلا کہ زیدکے لئے منگنی کی ہے تو سخت پریشان ہوئی اور منع کرنے لگی ، اور اس کا بھائی ''عبدا للہ '' بھی اس کے لئے راضی نہیں تھا اور سختی سے مخالفت کررہا تھا، اس وقت جن آیات کو ہم نے اوپر بیان کیا ہے ان میں سے ایک نازل ہوئی اور زینب اورعبداللہ کو یہ خبر دار کیا کہ جب خدا اور اس کا رسول کی کام کو ضروری سمجھتے ہیں تو کوئی اس کی مخالفت نہیں کر سکتا ،انہوں نے جب یہ بات سنی تو وہ بھی خدا کے حکم سے سامنے سر تسلیم خم ہوئے ( البتہ جیسا کہ معلوم ہے یہ شادی کوئی معمولی شادی نہیں تھا بلکہ یہ زمان جاہلی کی ایک غلط رواج کو باطل قرار دینے کے لئے ایک مقدمہ تھا ، کیونکہ زمانہ جاہلیت میں کوئی با شخصیت عورت کسی غلام سے شادی کرنے پر رضامند نہیں ہوتی تھی،اگرچہ اس کا انسانی لحاظ سے بہت ہی قدر و قیمت والا ہی کیوں نہ ہو ۔

اگر سیدہ لڑکی کا کسی غیر سید سے شادی کرنے میں کوئی مختصر بھی مشکل ہوتا تو خدا اور اس کا رسول ا س کی تائید نہیں کرتے ، لیکن یہاں پر زینب نے جب اس سے منع کیا تو خداوند متعالی نے اسے خبردار کیا ۔

کہ یہ کسی بھی صورت میں یہ شادی واقع ہونا چاہئے تا کہ یہ غلط اور باطل رواج اور نسلی امتیاز بندی ختم ہو جائے ۔

البتہ بعد میں زید اور زینب کے درمیان اختلافات ہوئے اورزینب کو طلاق ہوئی اس کے بعد زینب کی حوصلہ افزائی اورتبنی کے غلط رواج کو توڑنے کے لئے پیغمبر اکرم(ص) زینب سے شادی کر لی کہ دوسری آیت اس مطلب کی طرف اشارہ کر رہی ہے ۔

بہر حال یہ آیت کریمہ سید ہ کا غیر سید سے شادی کے جائز ہونے کا بہترین دلیل ہے ۔

اس کا ایک اور نمونہ ، عبد المطلب کی پوتی ضباعہ کا مقداد سے شادی کرنا ہے کہ روایات میں نقل ہوا ہے مخصوصاً اس روایت کے ذیل میں تصریح ہوا ہے کہ پیغمبر اکرم(ص) نے فرمایا:''میں نے یہ شادی کرایا ہے تا کہ لوگوں کے درمیان شادی وسیع پیمانہ پر واقع ہو جائے اور تمام قسم کے قید اور بند ختم ہو جائے ''۔

ہمارے زمانہ کے بہت سارے مراجع جیسے آیت اللہ خوئی اور آیت اللہ گلپائیگانی کہ خود سادات بنی زہرا میں سے ہیں ، لیکن انہوں نے اپنی بیٹیوں کو غیر سادات کو دیئے ہیں ۔

لہذا سید ہ اور غیر سید میں شادی جائز نہ ہونے کا جو عقیدہ ہے دین میں بدعت ہے شاید دشمنان اہل بیت نے اس کو رواج دیا ہو گا تا کہ اس طرح سادات اور غیر سادات میں کوئی گهرا تعلقات پیدا نہ ہو جائے ۔

۳,۲۰۰ قارئين کی تعداد:

بے نماز انسان کے کفن اور دفن کا حکم
تاریخ 16 June 2019 & ٹائم 02:12

کیا بے نمازی کے ساتھ کھانا کھانا اور اسے غسل و کفن دے کر مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا حرام ہے ؟ اور اگر ایسا کرنا حرام نہیں ہے تو درج ذیل حدیثوں کا کیا مطلب ہے ؟

قال صلی الله علیہ وآلہ وسلم :من آکل مع من لایصلی کانّمازنیٰ بسبعین محصنة من ) بناتہ وامہاتہ وعماتہ وخالاتہ فی بیتہ الحرام ۔( ٢ نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں :جوشخص بے نمازی کے ساتھ کھاناکھائے ایساہے جیسے اس نے بیت الحرام میں اپنی ٧٠ /پاکدامن لڑکیوں اورماو ںٔ اورپھوپھی،خالہ اورچچی کے ساتھ زناکیاہو۔

قال رسول الله صلی الله علیہ وآلہ:من ترک الصلاة ثلاثة ایام فاذامات لایغسّل ولایکفّن ) ولایُدفنُ فی قبورالمسلمین ۔( ٣
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:جوشخص تین دن تک عمداً نمازترک کرتاہے اسے غسل وکفن نہ دیاجائے اوراسے مسلمانوں کے قبرستان میں بھی دفن نہ کیاجائے ۔
٣)جامع الاخبار/ص ١٨٧ ) . ٢)لئالی الاخبار/ج ۴/ص ۵١ )

بسمه تعالی
سلام علیکم
اگرچہ نماز کو ترک کرنا حرام ہے اوربڑا گناہ ہے لیکن جو شخص مسلمان ہے لیکن نماز نہیں پڑھتا ہے اس کے ساتھ کھانا کھانے میں کوئی اشکال نہیں ہے اور یہ حرام بھی نہیں ہے۔
اسی طرح اگر کوئی مسلمان جو نماز نہیں پڑھتا ہے وہ مر جائےتو اسے غسل اور کفن دینا واجب ہے اور اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے، اور کسی مسلمان کو اگرچہ وہ نماز نہیں پڑھتا ہو کفار کے قبرستان میں دفن کرنا حرام ہے۔
یہ دونوں حدیث کسی بھی معتبر کتاب میں موجود نہیں ہے ، اور دوسری حدیث جامع الاخبار میں مرسل طور پر نقل ہوا ہے ، اور ان دو روایات کےمقابلہ میں مسلمان کےغسل اور کفن واجب ہونے کے بارے میں صحیح روایات موجود ہیں ، اس روایت کو نماز کی اہمیت کو بیان کرنےپر حمل کیا جا سکتا ہے ،لیکن اس حدیث پر عمل نہیں ہوا ہے اور بی نماز انسان کے ساتھ کھانا کھانے کے بارے میں جو روایت ہے وہ کراہت پر حمل ہوتا ہے۔

۲,۷۲۰ قارئين کی تعداد:

نماز میں حضور قلب
تاریخ 16 June 2019 & ٹائم 02:12

سوال: کیا کریں کہ نماز میں حضور قلب پیدا کریں؟

جواب:حضور قلب کے چند درجات ہیں ،جس کا خلاصہ یہ ہے کہ نماز میں آپ متوجہ رہیں کہ آپ کس سے مخاطب ہے اور کس سے بات کر رہا ہے ،اور کس کے سامنے مناجات کے لئے کھڑا ہے ، ایک طرف خدا کی عظمت اور بزرگی کو اور دوسری طرف اپنے چھوٹے ہونے اور  کامل طور پر نیازمند ہونے اور کمزور ہونے کو درک کریں ، اگر اس حالت کے ساتھ نماز پڑھیں تو ضرور حالت خضوع و خشوع پیدا ہو گا۔

نماز میں خضوع و خشوع نہ ہونا انسان کی غفلت اور اہمیت نماز اور خدا کی عظمت سے بے توجہ ہونے کی وجہ سے ہے ۔

اس حالت کو ختم کرنے کے لئے ان چند چیزوں کی رعایت ضروری ہے :

1۔ خدا وند متعالی کی عظمت پر توجہ دین اور کبھی بھی جلدی جلدی میں نماز نہ پڑھیں اور حالت نماز میں خدا کی یاد میں رہے اور اس بارے میں سوچیں کہ کس کے مقابل میں کھڑا ہے ، اور کس سے بات کر رہا ہے اور خود کو خداوند عالم کے بزرگی اور عظمت کے مقابلہ میں بہت ہی چھوٹا تصور کریں۔

2۔جان لو کہ نماز دین کا ستون ہے اگر یہ قبول ہو جائے تو دوسرے تمام اعمال قبول ہے اور اگریہ قبول نہ ہو جائے تو دوسرے اعمال بھی قبول نہیں ہے ۔

3۔ گناہ سے پرہیز کریں۔

4۔ حرام لقمہ سے اجتناب کریں۔

5۔قرآن اور معتبر دعاوں کو زیادہ سے زیادہ پڑھیں۔

6۔جہاں تک ہو سکے نمازوں کو اول وقت میں مسجد میں جماعت کے ساتھ پڑھیں ،نماز کی مستحبات جیسے صفائی ، عطر لگانا، دھلے ہوئے کپڑے پہننا ،جانماز پچھا کر نماز پڑھنا اور ہر وہ چیز جس نماز کو اہمیت دینے کی نشانی میں سے ہے انہیں انجام دیں ، انشاء اللہ خداوند آپ کو توفیق عنایت فرمائے گا کہ نماز میں حضور قلب پیدا کرے۔

۲,۶۸۰ قارئين کی تعداد:

ذکر رکوع و سجدہ
تاریخ 16 June 2019 & ٹائم 02:12

سمہ تعالی

سوال: ہم نے آپ کے رسالہ عملیہ میں بھی پڑھا ہے اور علما سے بھی سنا ہے کہ رکوع وسجود میں سبحان ربی العظیم وبحمدہ،سبحان ربی الاعلی و بحمدہ کا ذکر پڑھنا چاہیے۔

لیکن جو شخص رکوع وسجود میں سبحان رب العظیم وبحمدہ ، سبحان رب الاعلی وبحمد کا ذکر پڑھے تو کیا اس طرح بھی ربی کی جگہ رب پڑھا جاسکتا ہے یا نہیں؟اگر امام جماعت ربی کی جگہ رب پڑھ رہا ہو تو کیا اُس کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں۔یا نہیں؟

والسلام

بسمه تعالی

سلام علیکم

اگر کوئي شخص رکوع میں سبحان رب العظیم و بحمده پڑھے یا سجدہ میں سبحان رب الاعلی و بحمده پڑھے یا کوئي اور ذکر جس کی مقدار تین مرتبہ سبحان اللہ کے برابر ہو تو اس کی نماز صحیح ہے اوروہ امام جماعت جو رکوع میں سبحان رب العظیم پڑھتا ہے اگر اس میں امام جماعت کے دوسرے تمام شرائط پایا جاتا ہو جیسے اس کی نماز کی قرائت صحیح ہو اور عادل بھی ہو تو اس کی اقتداء کرنے میں کوئي اشکال نہیں ہے ، لیکن مستحب ہے رکوع میں «سبحان ربی العظیم و بحمده» پڑھے اور سجدہ میں «سبحان ربی الاعلی و بحمده»پڑھا جائے اور کسی کو بتائے بغیر امام جماعت کو بھی اگر یہ بتايا جائے تو بہتر ہے کہ رکوع میں «سبحان ربی العظیم و بحمده» پڑھے


۲,۶۳۱ قارئين کی تعداد: