pic
pic

سوال و جواب

اپنا سوال پوچھیں
ماہ صفر کا نحس ہونا
تاریخ 24 October 2019 & ٹائم 08:06

کیا صفر کا مہینہ نحس مہینہ ہے؟


بسمہ تعالی
سال کے تمام ایام خدا کے ایام ہیں انسان اپنے کامیابی کے لئے سال کے پورے ایام میں تلاش و کوشش کر سکتا ہے اور خدا سے قرب حاصل کرنے اوراس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے سعی کر سکتا ہے اور خدا کی عبادت صدقات اور لوگوں کی خدمت کر سکتا ہے ۔
ماہ صفر بھی اسی طرح ہے اگر انسان خدا کی رضایت کاطالب ہواوراس راہ میں سعی وکوشش کرتا ہو تو اسے توفیقات الہی حاصل ہو گا اور خدا کی رحمت،نعمت اورسرافرازی کے دوارزے اس پر کھل جاتا ہے،لیکن اگرانسان خداکے یادسے غافل ہو جائے اورنفسانی ہوا وہوس کے درپے ہوتو وہ شیطان کی پیروی کرتا ہے کہ طبیعی طورپروہ خداکی توفیقات سے دورہوگااوربدبختی، عذاب اور قحطی کے دروازے اس کے لئے کھل جائے گااس طرح وہ اپنے لئے قیامت کے دن عذاب الہی کو اپنے لئے فراہم کرتا ہے۔
ان سب باتوں کے باوجودکتابوں میں یہ ذکرہے کہ ماہ صفر نحس مہینہ کے نام سے مشہور ہے ۔
جلیل القدر محدث حضرت آیت اللہ شیخ عباس قمی (رہ) نے مفاتیح الجنان می
ں بھی ماہ صفر کے اعمال میں اور اپنی دوسری کتاب ''وقایع الایام''میں بھی اس موضوع کی طرف اشارہ کیا ہے ۔
ہم یہاں پر ان کے کتاب وقایع الایام کی عبارت کو بیان کرتے ہیں :
جان لو!یہ ماہ (ماہ صفر) نحس سے مشہور ہے اور اس کی وجہ شاید اس مہنیہ میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات واقع ہونا ہو،جس طرح پیر کادن منحوس ہونا اسی وجہ سے ہے،یا اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مہینہ تین حرام مہینوں(ذی قعدہ، ذی الحجۃ، اور محرم) کے بعدواقع ہوا ہے ان تینوں مہینوں میں جنگ اولڑائی کرناحرام تھااوراس مہینہ میں جنگ شروع ہو جاتا ہے اورگھر اس کے مالکوں سے خالی ہوتے تھے،یہ بھی اس مہینہ کو صفر نام رکھنے کی ایک وجہ ہے۔
بہرحال نحوست کو ختم کرنے کے لئے صدقات،دعااورخدا سے پناہ مانگنے سے بہترکوئی چیز نہیں ہے،اگر کوئی اس مہینہ کے بلاؤں سے محفوظ رہنا چاہتا ہے تو ہر روز ١٠مرتبہ اس دعا کو پڑھا کریں کہ ''محدث فیض'' روح اللہ روحہ،نے کتاب''خلاصۃ الاذکار''میں ذکرفرمایا ہے :یاشدید القوى،ویاشدید المحال،یاعزیز، یا عزیز، ذلّت بعظمتک جمیع خلقک، فاکفنى شَرّ خلقک، یا محسن، یا مجمل، یا منعم،یامفضل،یالااِله الّا اءنت، سبحانک إ نّى کنتُ مِن الظّالمین، فاستجبناله و نجّیناهُ
من الغمّ،وکذلک ننجىِ المؤمنین،وصلّى اللّه على محمّدوآله الطّیبین الطّاهرین.

۱,۵۱۰ قارئين کی تعداد: