pic
pic

آیةاللہ فاضل لنکرا نی (رہ) کی برسی کے موقع پرآیةاللہ محمد جواد فاضل لنکرانی سے بات چیت کرتے ہوے

  • تاریخ 16 December 2019
  • ٹائم 15:00
  • پرنٹ
خبر کا خلاصہ :
آیة اللہ فاضل لنکرانی نے حوزہ میں داخل ہوتے ہی تحصیل علم کے ساتھ ساتھ تدریس کا کامبھی شروع کر دیااور تحصیل علم کی طرف خاص توجہ دیتے تھے ۔ ابھی وہ 16 سال کے نہیں ہوئے تھےکے بڑے شوق سے اساتید سے علم حاصل کرتے تھے ساتھ ساتھ شاگردوں کی تربیت بھی کرتے تھے

  وہ دین کو صحیح سمجھنے والے تھے

آیة اللہ فاضل لنکرانی نے حوزہ میں داخل ہوتے ہی تحصیل علم کے ساتھ ساتھ تدریس کا کامبھی شروع کر دیااور تحصیل علم کی طرف خاص توجہ دیتے تھے ۔ ابھی وہ 16 سال کے نہیں ہوئے تھےکے بڑے شوق سے اساتید سے علم حاصل کرتے تھے ساتھ ساتھ شاگردوں کی تربیت بھی کرتے تھے

اور تعلیم اور تعلیم کو ایک ہی وقت میں جاری رکھا ۔

کئیں سال ادبیات ،منطق اور اصول پڑھانے کے بعد انکے کئیں شاگرد و ں کا حوزہ کے ناموراساتید میں شمار ہونے لگااور انھوں رسائل اور مکاسب کو پڑھانا شروع کر دیا۔حوزہ کے اس بزرگ استاد نے مکاسب کی تدریس کے بعد کفایةالاصول کو پڑھانا شروع کیااور حوزہ علمیہ کے بہت سارے فضلاءانکی طرف رجوع کرتے تھے اور خاص طور سےان کے کفایةالاصول کے درس میں بہت زیادہ تعداد میں طلبا ءشرکت کرتے تھے اور انکی تعداد 700 سے بھی زیادہ تھی اوراخر میں انکی تعداد 1340 سے بھی گزر چکی تھی ۔

آیةاللہ العظمیٰ فاضل لنکرانی نے طلاب کی بار بار خواہشات پر فقہ اور اصول کے درس خارجکو شروع کیااور زندگی کے آخری لمحہ تک اسی کام میں مصروف رہے۔ یعنی ۰۳ سال تک درسخارج دیتے رہے اور ان کے بہت سارے شاگردہیں جو آج درجہ اجتھاد پر فائز ہوے ہیں ۔

جو باتیں ذیل میں ذکر ہو رہی ہیں ان میں محمد جواد فاضل لنکرانی نے ان کے علم اور آخلاق پرمختصرروشنی ڈالی ہے ۔ علمائے دین کو دو نگاہوں سے دیکھا جا ساسکتا ہے ایک تعبدی اور دوسرے تعقلی نگاہ سے

تعقلی نگاہ سے مراد یہ ہے یعنی ان کے پاس کتنا علم تھا ۔اور انھوں نے فقہ میں کتنی کتابیں لکھی ہیں ؟

وہ اپنی فقہی کتابوں میں فتوے کے استنباط میں سب سے زیادہ ترجیح فقہ الحدیث کو دیتے تھےجب ہم انکی کتاب تفصیل الشریعہ کہ جو ۰۳جلدوں پر مشتمل ہے کی طرف رجوع کرتے ہیں یا انکے دروس کی کو دیکھتے ہیں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ نقد میں حتّی الامکان یہ کوشش کرتے تھے کہ فقہی مسائل کوآیات اور روایات سے حل کریں یعنی وہ اصلی منابع کی طرفرجوع کرنےکو اہمیت دیتے تھے ۔

ان کا ایک خاص امتیا زیہ تھا کہ روایت کے اس طرح معنی کرتے تھے کہ جو ذوق عرفی اور عقلی کےمطابق ہو۔

اور اکے ساتھااس بات کی طرف توجہ رکھتے تھے کہ یہ حدیث کس زمانے میں اور کس موقع پر کہی گئی ہے ۔ ا س کے علاوہ ا س روش استنباط کا نتیجہ یہ تھا کہ فقیہ جلدی سے ہی قواعد اصولی سے استفادی نہیں کرتا تھا اور اگر ہم روایت کی تفسیر اس طرح سے کریں اور ایک واضح نتیجہ حاصل کریں تو جلدیسے اصولی قواعد کو جاری نہیں کریں گے اور یہ ایک بہت بڑا ہنر ہے جسکو فقیہ اپناتا ہے اور وہ بھیبالکل اسی طرح عمل کرتے تھے ۔

دوسرا نکتہ کہ جس وقت دو روایتوں میں اختلاف نظر آتا تھاتو اس میں ترجیح فتوے کی شہرتسے مطابقت میں سمجھتے تھے یہ روش مشہور کے فتوے پر باقی رہنے پر کافی موثر ثابت ہوتی تھی ۔اور اسکا نتیجہ یہ تھا کہ فقہ مشہور کے فتوے کے مطابق رہے ۔اور وہ اس بات کے بات معتقد تھےفقہی فتوے زمانے کے تقاضوں کی بناءپر بدلتے ہیں ۔وہ زمان اور مکان کو اجتہاد میں کافی موثر سمجھتے تھے اگر ہم پندرہ سالوں میں ان کے فتوے اور

استفتائات کی طرف رجوع کریں تو یہ مطلب ہمیں وہاں پر نظر آجائے گا۔مثال کے طورپر پہلے وہ شخص کہ جنہوں نے فتوی دیا کہ پہلی کا چاند دور بین کے ذریعہ ثابت ہو جاتا ہے یہی تھے۔

س: ابواب فقہی میں موجود ہے کہ فقہا زمان غیبت میں حدود الھی کو جاری کرسکتے ہیں اور اس بات کیطرف توجہ کرتے ہوے ہمارے ملک میںاسلامی نظام حاکم ہے تو کیا فقیہ جامع الشرائط ان حدود کو جاری کر سکتاہے یا یہ اس بارے میں فتوی دے دینا ہی کافی ہے ؟

ج: وہ اس بات کے معتقد تھے کے جس زمانے میں بھی فقیہ کوموقع ملے یعنی جب وہ حدود کو جاریکر سکتا ہو تو ا س کو جاری کرنا چاہیےاور اس کو ترک اور چھوڑنا جائز نہیں ہے اور وہ اس بات کے معتقد تھے کہ حدود الہٰی کو فقیہ جامع الشرائط کے سامنے جاری ہونا چاہیے اور یہ کہ ہم اس کام کوامام معصوم کےزمانے سے مخصوص سمجھیں کہ بعض نے اس کا احتمال بھی دیا ہے اس بات کے موافق نہیں تھے ۔

انھوں نے انقلاب کے اوائل میں قضای اسلامی حدود اور دیات کے بارے بہت عمیق باتیںپیش کی ہیں ۔س: حدود الہٰی میں سے ایک سنگسار کرنا ہے البتہ کچھ ہی پہلے کسی ایک شہر میں اس کام کو انجام دیا گیا ہے اب حقوق انسانی کے بارے میںآج کل جو باتیں کی جارہی ہیں انکی طرف توجہ کرتے ہوے اور اس مسئلہ کی حساسیت پر توجہ کرتے ہوے ا س طرح کے احکامات کے جاری کرنے کے بارےمیں مرحوم آیةاللہ فاضل کا کیا نظریہ تھا؟

ج: اس قاعدہ کلی کو قبول رکھتے تھے کہ اگر کسی واجب کو ادا کرنے میں کوئی رکاوٹ پیش آجائے اور کسیاہم کام کے انجام نہ پانے کا موجب بنے تو اس بارے میں فرماتے تھے اسی قاعدہ کو مدنطر رکھتے ہوے

کہ الاھم فاالاہم )ہم کو اہم کی رعایت کرنا چاہیے ۔

اور یہ بات طبیعی ہے کہ وہ حدود الہٰی کے اجراءکرنے میں اس بات کے معتقد تھے کہ حدود الہی کوجاری ہونا چاہیے۔اور اگر اس طرح عمل کریں کہ دوسر ے لوگ دین سے غلط برداشت نہ کریں تو حدودکو جاری ہونا چاہیے لیکن اگر کسی شرائط کی بناءپران حدود کے بعض مصادیق کو جاری کرنے میں

کوئی اہم رکاوٹ بن جائے تو رکاوٹ کے وقت اس اہم کام کی رعایت کرنا ضروری ہے ۔

لیکن مہم نکتہ یہ ہے بعض ایسے اصول ہیں کہ جو شریعت میں ایسے حکم کا انکار کرتے ہیں کہ خود آقا اسبات کے قائل نہیں تھے ۔

س: اقا فاضل (رہ) ولایت فقیہ کوکیسے بیان کرتے تھے ؟

ج: مرحوم آیةاللہ فاضل کا ولایت فقیہ کے بارے میں جو مبنا اما م خمینی رہ کاتھااسی کو قبول کرتے تھے۔یعنی فقیہ جامع الشرائط ولایت شرعی رکھتا ہے ۔ زمان غیبت میں بہت سارے کام اس معنی میں کہکہ بہت سارے فقہاءکی موجودگی میں ایک ایسا فقیہ جس کے اختیارات دوسرے فقہاءکی با نسبت

زیادہ ہوں اور وہ معاشرے میں حاکم کی حیثیت سے ہوتو وہ اس بات میں کوئی منافات نہیںسمجھتے تھے ۔یعنی ایسا نہیں ہے ولی فقیہ کی موجودگی میں دوسرے فقہاءولایت نہیں رکھتے ہیںبلکہ امام رہ کی طرح فرماتے تھے کہ حکومت اسلامی ہو یا نہ ہو ایک فقیہ دوسرے فقیہ کیلئے رکاوٹ نہیں

بن سکتا ہے ۔س:یعنی مثلاًاگر ایک فقیہ نے کسی ایک حد کے جاری کرنے کی اجازت دی ہواور اس زمانے میںمصلحت کی بناءپر وہ حکم جاری نہ ہوا ہوتو کیا دوسرا فقیہ پہلے فقیہ کے نظریہ کی مخالفت کر سکتا ہے ؟

ج: اختلاف کے یہ معنی ہیں کہ اگر ایک فقیہ کسی دوسر ے فقیہ کیلئے مقام عمل میں رکاوٹ ایجاد کرےلیکن مقام بیان میں ایک فقیہ کا نظریہ دوسرے فقیہ کے مخالف ہو سکتا ہے مثلاً ان شرائط میں اسخصوصیت کے ساتھ میری نظر میں اس حکم کا جاری ہونا صحیح ہے یا صحیح نہیں ہے لیکن مراد یہ ہے کہ

مقام عمل میں اختلاف نہیں ہونا چاہیے۔

اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوے کہ مرحو م آیةللہ فاضل فقہ الحدیث اور آیات قرآنی کی طرفکافی توجہ رکھتے اور اپ نے اس بات کی طرف اشارہ بھی کیا اس وجہ سے میرے ذہن میں ایکسوال پیداہوا ہے وہ یہ بنیادی طور پر انکی نگاہ (آیہ الرجال قوّامون علی النسائ)پر کیا تھی؟ یعنی وہ چیز جوظاہر آیت سے معلوم ہوتی ہے یعنی مرد عورتوں پر تسلط اور قبضہ رکھتے ہیں یا یہ کہ اس کی کوئی دوسری تفسیر ہے ؟بہر حال اس آیت کے مطابق عورتوں کی کیا ذمہ داری ہے ؟

جس طرح سے ہم اس آیت کو پڑہتے ہیں اگر اسی طرح اس کے ظاہری معنی پر نظر کریں تو عورت کیاہمیت مرد سے کم نظر آتی ہے ۔

وہ آیت کے معنی اس طرح نہیں کرتے تھے اس آیت سے پہلے والا جملہ بعدوالے جملہ کو مقید کردیتا ہے اور یہ کہ مرد زندگی کے تمام امو ر میں عورت پر حاکم ہے وہ اس بات کے قائل نہیںتھے اور مرد کی ذمہ داری یہ ہے کہ گھر سے مربوط مسائل کو حل کرے۔

س: اگر ممکن ہوسکے تو عورتوں کے حقوق کے بارے میں انکے فقہی نظریات کو بیان کریں؟

ج: معنوی اعتبار سے عورتوں اور مردوں میں کوئی فرق نہیں جس طرح مرد معنوی تکامل حاصل کرسکتاہے عورت بھی تکال معنوی حاصل کر سکتی ہے ۔وہ اس با ت کے قائل تھے کہ سیاسی میدانوں میںماضی میں ایک اہم رول رہا ہے ۔لیکن کچھ مسائل کی با نسبت حساس تھے ،پہلی بات یہ ہے کہ عورتوں کے حقوق کے بارے میں فرماتے تھے اس مسئلہ میں افراط اور تفریط

نہیں ہونا چاہیے اور جو قوانین اسلام نے عورتوں کیلئے بنائے ہیںانکی طرف دقت کرناچاہیے ۔اور اس بات کو بھی بیان کرتے تھے اور ہمیں اس بات کی طرف توجہ رکھنا چاہیے کیا حکم اس بارے میںصحصیح ہے یا نہیںاگر کہیں کہ صحیح ہے تواس حکم کو بہ تنہائی نگاہ میں نہیں رکھنا چاہیے۔

مثال کے طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا ہے چونکہ ارث میں مرد کا حق عورت سے زیادہ ہے لھذٰاس مسئلہکو ہر جگہ پہ لاگو کیا جائے ایسا درست نہیں ہے ۔بلکہ وہ اس بات کے معتقد تھے کہ سب کے سب قوانیندونوں کی سنخ کو مد نظر رکھتے ہوئے بنائے گئے ہیں یعنی اقتصادی اور اور مالی مسائل میں دوسرے احکامکے ساتھ سب کو مد نظر رکھنا چاہیے اور اس کے بعد فیصلہ کرنا چاہیے اور کیا عادلانہ ہے کہ نہیں ؟

اس بناءپر وہ اس طرح کا نظریہ رکھتے تھے ہم کو شرعی مسائل میں پورے احکامات کو کتاب طہارت کے پہلے باب سے لیکر دیات کی بحث تک مد نظر رکھیں ا س کے بعد فیصلہ کریں ۔

مثال کے طور پر اسلام نے جہاد کو عورتوں کیلئے واجب قرار نہیں دیا ہے اور دوسری طرف سےنان نفقہ مرد کیلئے واجب قرار دیا ہے یہ عورت کے احترام کیلئے کافی ہے اس معنی میں مرد اور عورت زندگی میں ایک دوسرے کے شریک ہیں اور جیسے مرد گھر سے باہر ر ہ کر کسب معاش کرتا ہے عورت

بھی اس کام کوگھر میں رہ کر انجام دیتی ہے اور وہ اس بات کے معتقد تھے کہ اسلام اس بات سے سازگاری نہیں رکھتا ہے کہ عورت اور مرد میں کوئی اختلاف پایا جاتا ہے ۔اور اسلام میں عورت کیلئے ایک خاص مقام ہے اور اس کے اخراجات کو مرد کیلئے وجب قرار دیا ہے ۔

اور اسی دیت کے مسائل میں بھی توجہ رکھنا چاہیے کہ دیت کی مقدار سے مرد یا عورت کی ذاتی ارزش معلوم نہیں ہوتی ہے بلکہ یہ ایک صرف جرمانے کے طور پر ہے اور جرمانے کا اپنا ایک خاص معیار ہے اور یہاں پر ارزش گزاری کی بحث مطرح نہیں ہے ۔

س:مرحوم آیةاللہ فاضل کا بینک کے سلسلہ میں کیا نظریہ تھاخاص طور بینک کے سود کے سلسلہ میں اور اسی طرح قرض کے سلسلہ میں اور جو مزدوری کے عنوان سے لوگوں سے جو کچھ لیا جاتا ہے ؟

ان کے واضح فقہی نکات میں سے ایک اقتصادکا مسئلہ ہے انھوں نے اپنے کسی ایک درس میں فرمایایہ جو مضاربہ بینکوں میںپایا جاتا ہے ایل اعتبار سے صحیح ہے ۔وہ اس بات کے قائل تھے اگر پیسے کو اس کا مالک بینک یا کسی دوسرے شخص کو قرض کے عنوان سے نہ دے بلکہ مضاربہ کے عنوان سے دے مضاربہ میں پیسہ لینے والا مالک نہیں ہو جاتا ہے اور مالک وہی

پیسہ دینے والا ہے اب اگر اس نے پیسہ دیا اور قرار داد بھی ہوگئی تو سود کو بصورت کسرمشاع10 percent یا 20 percent کہ جو مشہور کسر مشاع کو قبول رکھتے ہیں ادا کرے۔

لیکن آقافاضل مشہور کےخلاف عمل کرتے تھے یعنی اگر کسر مشاع کے علاوہ ہویعنی معیّن مبلغ کی کی صورت میں بھی ہو یعنی مثال کے طور پر اگر کہے میں میں ایک میلیون تومان مضاربہ کے طور تمہیں دیتا ہوںلیکن تم ماہانہ ۰۵ ہزار تومان مجھے دیتے رہو لیکن دو شرطوں کے ساتھ ایک یہ کہ

مضاربہ کا قصد رکھتاہو دوسرایہ کہ بازارمیں اتناسود اس آدمی کو ملتا بھی ہو تو اس بارے میں فرماتےتھے کہ یہ صحیح ہے اور اس بناءپر کہتے تھے یہ مضاربہ جو اسلامی بینکوں میں پایا جاتا ہے قابل تصحیح ہے ۔

لیکن مشہور کے نظریہ کہ مطابق صحیح نہیں ہے اور اکثر بینکوں سے یہ کہتے تھے وہ پیسہ جو آپ لوگوںسے دیرکرنے کے عنوان سے لیتے ہیں یہ رباہے اور حرام ہے ۔اور ا س بارے میں کوئی فقہی عذر نہیں پایا

جاتاہے اور اسی طرح قرض کے بیچنے یا خریدنے کے بارے میں فرماتے تھے کہ اس کام میںکوئی اشکال نہیں ہے اور قرض رکھنے والااس امتیاز کو دوسرے کو بیچ سکتا ہے ۔

البتہ اس بارے میں بہت سارے سوالات پا ئے جاتے ہیں اب اگر آپ اجازت دیں

تو ان کے اخلاقی پہلو پر ایک نظر ڈالوں ۔ہم نزدیک سے دیکھتے تھے کہ وہ لوگوں کے حترم اور انکی خدمت سے غافل نہیں تھے اور جو مشکلات لوگوں میں پائی جاتیں تھیں اس سے بہت ہی دکھی تھے ۔انھوں نے اقا خاتمی کو جب وہ صدر تھے ایک خط لکھا کہ اس خط کا اصلی موضوع لوگوں کی مشکلات پر

توجہ دینا تھا کہ جس کا مضمون یہ تھا کہ صدر صاحب ایک معمولی کار گار اتنے کم پیسے سے کس طرح اپنے روز مرہ کے اخراجات کو پورا کرے اور اس زمانے میں آقا خاتمی نے اس خط کو پارلیمنٹ میں پڑھا تھااورآقای فاضل کے اس دکھ درد کو اپنے وزیروں تک منتقل کیا تھا اور کہا تھا

مراجع عظام کے اس دکھ درد کی طرف توجہ کرتے ہوے لوگوں کی معیشت پر زیادہ توجہ دیں ،اسی طرح صدر احمدی نژاد جب انکی خدمت میں ملاقات کرنے آئے تھے تو اسی نکتہ کی یاد دہیانیکی تھی ۔اور وہ چیز جو انکے لئے خاص اہمیت کی حامل تھی وہ لوگوں کی خدمت کرنا تھا اور انھوں نے اپنے

اپ کو لوگوں کی خدمت کیلئے وقف کر رکھا تھا ۔

دنیا کے بارے میں ان کا کیا نظریہ تھا؟

ہم نے انکی باتوں ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی جو انکے دنیا کی طرف مائل پر اشارہ کرے ایک ایسیشخصیت جو علم کے اس عظیم مرتبہ پر فائز ہو اور ساتھ ہی ساتھ مرجعیت کی اوج پر ہو یعنی جب انکا انتقال ہو اتو وہ دنیا کے پہلے درجہ کے مرجع تھے کیونکہ ایران میںسب سے زیادی مقلدین انھیں کے تھے اور دوسرے ممالک میں بھی اسی طرح ان کے سب سے زیادہ مقلدین تھے ، ان کے پاس دنیا کی کوئی چیز نہ تھی حتی ٰکہ اپنا شخصی گھر بھی نہیں تھا ۔

س: آپ سے آخری سوال یہ ہے کہ آپ یہ بتائیں مرحوم آیةاللہ فاضل رہ کے پاس بیٹھنے سےانسانوں کو کیا درس حاصل ہوتا ہے؟

ج :میں ان کوایک واقعی خداشناس اور صحیح دینی باور رکھنے والا سمجھتا ہوں جب کوئی ان کے پاسبیٹھتا تھا خدا شناسی کو ان کے وجو میں مشاہدہ کرتا تھا ۔وہ اپنی علمی بحثوں میںاس بات کےپیچھے نہیں تھے کہ مخاطب انکی باتوں سے خوش ہو تا ہے یا نہیں ،وہ یہ کہتے تھے انسان اپنے ذمہ داریکو انجام دے اور جو خدا وند نے حکم دیا ہے وہ مہم ہے ۔

لہذا انکے پاس بیٹھنے سے انسانو ں کو یہ درس حاصل ہوتا ہے کہ انسان کے اوپر جو ذمہ داریخداوند متعال نے عائد کی ہے اس کو انجام دینا چاہیے نہ کسی دوسری چیز کو ۔

۲,۷۱۴ قارئين کی تعداد: