pic
pic

حضرت زہراسلام الله علیها کی شخصیت کے بارے میں آیت اللہ حاج شیخ محمدجواد فاضل لنکرانی دام عزہ کےجمہوری اسلامی ایران کے ٹی وی چینل نمبر٣ پربیانات

  • تاریخ 16 December 2019
  • ٹائم 01:48
  • پرنٹ
خبر کا خلاصہ :
عتبر روایات کے مجموعہ سے استفادہ ہوتا ہے کہ جس حقیقت کو خداوند متعالی نے آپ کو عنایت فرمایا تھا اور آپ کی وجود شریف میں تمثل پیدا کیا تھا وہ ایسی حقیقت تھی جو بشر کی خلقت سے پہلے بلکہ عالم کی خلقت سے پہلے آپ خداوند متعالی کا مورد توجہ تھا ،ایک روایت میں امام صادق علیه السلام فرماتا ہے : «سمّيت فاطمة فاطمة لأن الخلق فطموا عن كنه معرفتها» فاطمہ کو فاطمہ کہا گیا ہے چونکہ انسان آپ کی معرفت کے تہ تک پہچنے سے عاجز ہیں ! اس روایت اور اس جیسی دوسری روایات سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں حضرت فاطمہ سلام الله علیها کی حقیقت کو ایک مضاف حقیقت کے عنوان سے تصور نہیں کرنا چاہیئے

بسم الله الرحمن الرحيم
عالم خلقت اورجہان ہستی کی بزرگ بانو حضرت فاطمہ زہراسلام الله علیها کی شہادت کے سلسلے میں تمام شیعیان اور آپ کی محبین بالخصوص حضرت بقیة اللہ الاعظم امام زمان (عج) کے خدمت میں تسلیت عرض کرتا ہوں ۔
جہان ہستی کے اس دریگانہ  کے بارے میں گفتگو بہت ہی مشکل ہے بلکہ غیر ممکن ہے ،معتبر روایات کے مجموعہ سے استفادہ ہوتا ہے کہ جس حقیقت کو خداوند متعالی نے آپ کو عنایت فرمایا تھا اور آپ کی وجود شریف میں تمثل پیدا کیا تھا وہ ایسی حقیقت تھی جو بشر کی خلقت سے پہلے بلکہ عالم کی خلقت سے پہلے آپ خداوند متعالی کا مورد توجہ تھا ،ایک روایت میں امام صادق علیه السلام فرماتا ہے : «سمّيت فاطمة فاطمة لأن الخلق فطموا عن كنه معرفتها» فاطمہ کو فاطمہ کہا گیا ہے چونکہ انسان آپ کی معرفت کے تہ تک پہچنے سے عاجز ہیں ! اس روایت اور اس جیسی دوسری روایات سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں حضرت فاطمہ سلام الله علیها کی حقیقت کو ایک مضاف حقیقت کے عنوان سے تصور نہیں کرنا چاہیئے یعنی آپ کو پیغمبر اکرم صلی الله عیه وآله کی بیٹی ہونے ، یا امیر المومنین علیه السلام کی زوجہ ہونے یا ام الحسن و الحسین علیهما السلام یا ام الائمہ میں محدود نہ کریں ، یہ خیال نہ کریں کہ حضرت فاطمہ سلام الله علیها پیغمبر اکرم کی بیٹی ہونے کے لحاظ سے ہمارے لیے محترم ہے، کہیں یہ تصور نہ ہو کہ ان کی اکرام اور احترام کی وجہ امیر المومنین کی زوجہ ہونا ہے، بلکہ آپ کی وجود شریف میں ایک ایسی حقیقت تھی کہ ان عناوین کے علاوہ ان کے لائق کوئی اور عنوان موجود نہیں تھا ، حضرت فاطمہ سلام الله علیها کی حقیقت کیا ہے ؟ اس سوال کے جواب کے لئے ہمیں آپس میں مل بیٹھ کر بہت زیادہ گفتگو کرنے کی ضرورت ہے اور بزرگان اورآپ کے بارے میں موجود آئمہ طاہرین علهیم السلام کی روایات میں بحث کرنے کی ضرورت ہے ، ایک روایت میں امام صادق علیه السلام حضرت زہراسلام الله علیها  کے بارے میں فرماتا ہے : «هي صديقة الكبري و علي معرفتها دارت القرون الاولي»آپ سلام الله علیها صدیقہ ہے ، صدیقین کے مقام پر فائز ہے اورصدیقین کے بزرگترین مقام پرفائز ہے ۔
اس میں اہم مطلب یہ ہے«و علي معرفتها دارت القرون الاولي» اس جملہ سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام زمانوں ،اولین و آخرین ، تمام انسان ، تمام انبیاء آپ سلام الله علیها کی معرفت کے بارے میں اقرار کرتے تھے ، اور سب اس حقیقت کی معرفت کے محورپر زندگی کرتے تھے ، بعض روایات میں ہیں کہ ''ما من نبی '' کوئی بھی نبی ایسا نہیں جس نےحضرت زہراسلام الله علیها  کی معرفت کی اقرار نہ کی ہو یا ان کی معرفت کے اقرار کا مکلف نہ ہوں واقعاً آپ کی حقیقت کی معرفتی پہلو سے ہم عاجز ہیں، آئمہ طاہرین علیهم السلام نے جو تعابیر بیان کیے ہیں ان میں صرف  کچھ اشارہ ہوا ہے ،امام حسن عسکری علیهم السلام سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: «نحن حجة الله علي الخلق وفاطمة حجةٌ علينا» ہم خدا کی طرف سے لوگوں پرحجت ہیں اورحضرت فاطمہ سلام الله علیها ہم پر حجت ہے ، اگر ہم طلبہ ہونے کے لحاظ سے اور استدلالی طریقہ سے اس عبارت کے بارے میں کچھ سوچیں تو اس سے یہ استفادہ ہوتا ہے کہ فاطمہ الزہراءسلام الله علیها کو ایک مقام حاصل ہے حتی وہ مقام آئمہ طاہرین علیهم السلام سے بھی بلند مقام ہے، اگرچہ آپ سلام الله علیها امام نہیں تھی ،لیکن آپ سلام الله علیها کی گفتار و کردار سب کے لئے حجت ہے ، صاحبان فکر اس روایت کے بارے میں زیادہ سے زیادہ غوروفکرکریں کہ آئمہ معصومین علیهم السلام پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله کے اوصیاء تھے اور اس بارے میں خداوند متعالی نے تصریح فرمایا ہے ، لیکن یہ حضرات خود اقرار کرتے ہیں کہ فاطمہ سلام الله علیها ہم سب پرحجت ہے،ممکن ہے بعض یہ تصور کرے کہ چونکہ حضرت فاطمہ زہراءسلام الله علیها کا ایک مصحف تھا جس کی آئمہ طاہرین کے نزدیک نگہداری ہوتی تھی ، اس لحاظ سے یہ بتایا گیا ہو گا کہ فاطمہ سلام الله علیها  ہم سب پر حجت ہے ، چونکہ وہ مصحف ائمہ طاہرین کی حقانیت کی علامتوں میں سے ایک تھی ، لیکن  یہ بات صحیح نہیں ہے چونکہ آئمہ طاہرین  کے پا س امیر المومنین علیه السلام کا مصحف بھی تھا لیکن ( جہاں تک میرا مطالعہ ہے ) کسی آئمہ نے یہ نہیں فرمایا ہے کہ علی بن ابی طالب ہم پرحجت تھا ۔
اگرچہ حضرت زہراء سلام الله علیها کا مصحف،خود ایک بہت ہی اہم مسئلہ ہے اوربنیادی طور پر آپ سلام الله علیها کی معرفت کا ایک پہلو ہے ،معتبر روایات کے مطابق جو کتاب کافی میں نقل ہیں ، پیغمبر اکرم کی وفات کے بعد جبرئیل نازل ہوتا تھا اور حضرت زہرا سلام الله علیها سے گفتگو کرتا تھا لیکن یہ گفتگو وحی نہیں تھا چونکہ پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله کی رحلت کے بعد وحی آنا بند ہوا اور قیامت تک بشر وحی سے محروم ہوئے ،اگرچہ وحی کی حقیقت  جوقرآن کریم  کی شکل میں ہے ہمیشہ کے لیے معجزہ کے طور پر باقی ہے ، بعض روایات میں مصحف کے بارے میں یوں فرمایا  ہے ليس فيه شيءٌ من القرآن يا شايد ليس فيه شيءٌ من الحلال و الحرام.
پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله کی مصیبت اس بانوی بزرگ پر اتنا سخت گزرا کہ آپ سلام الله علیها کے لئے ناقابل برداشت تھا اوراکثر اوقات رونے میں گزراتی تھیں ،اگرچہ غم و اندوہ کی وجہ وہ ظلم و ستم اور آزارواذیت اورانسانیت اورعقلانیت سے دور وہ مظالم بھی تھیں لیکن پیغمبر اکرم(ص) سے جدا ہونا وہ بھی اشرف پیغمبران اور اشرف مخلوقات بھی کوئی کم غم نہ تھا ،جبرئیل نازل ہو کر آیندہ کے بارے میں خبر دیتا تھا اور پیغمبر اکرم(ص) کی زحمتوں کے اچھے نتائج کی خبر بھی دیتا تھا اس طرح آپ کو تسلی دیتا تھا اور حضرت زہراء(س) ان باتوں کو امیر المومنین(ع) کے لئے نقل کرتی تھی اور آپ(ع) انہیں لکھ لیتے تھے ۔
حضرت زہراء(س) کا مصحف کوئی عام چیز نہیں ہے اگرچہ وحی ،قرآن اور معجزہ نہیں ہے لیکن اس میں گذشتہ اورآیندہ کی خبریں ہیں ، لیکن یہ بھی بہت ہی اہم مسئلہ ہے ، اس جیسا نہ پہلے موجود تھا اور نہ آیندہ وجود میں آئے گا ، ہماری نظر کے مطابق اس عبارت''فاطمة حجة علینا'' میں مصحف سے کہیں بلند مطلب موجود ہے اہل حقیقت واہل بصیرت اس کے بارے میں زیادہ غوروفکر کریں تا کہ اس مطلب کی گہرائی تک پہنچ جائے ، روایات میں ہے کہ جب قیامت  ہوگی خدا وند متعالی اس بانو بزرگ کی کتنی احترام اوراکرام کرتا ہے ! سفیة البحار میں ایک روایت ہے کہ سلمان آنحضرت (ص)کے خدمت میں شرفیاب ہوا اور سب کے سامنے پیغمبر اکرم(ص) کے قدموں میں گر کر آپ (ص)کے پاؤں کو چوما،آنحضرت(ص) ناراض ہوئے اور سلمان سے فرمایا : کیوں عجمی اور ایرانی لوگ اپنے بادشاہوں سے کرنے والے سلوک کو میرے ساتھ کررهے ہو ؟ میں خدا کے بندوں میں سے ایک بندہ ہوں دوسرے لوگوں کی طرح زندگی کرتا ہوں ،سلمان سوچ میں پڑ گیا کہ کیسے  پیغمبر اکرم(ص) کوراضی کرے ، روایات میں ہے جب اصحاب پیغمبر اکرم (ص)کو پریشان دیکھتے اور انہیں راضی کرنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا تو کسی نہ کسی بہانہ سے حضرت زہراء(س) کے مبارک نام کو زبان پرلاتے  تھے ، سلمان نے جب پیغمبر اکرم (ص) کو ناراض دیکھا تو آپ (ص) سے عرض کیا یا رسول اللہ(ص) : قیامت کے دن حضرت زہراء (س) کے درجات کے بارے میں کچھ بیان فرمائے ، روایت میں ہے کہ سلمان نے جیسے ہی یہ فرمایا :''فاقبل النبی علیہ ضاحکاً مستبشراً'' حضرت زہراء(س)  کے نام کو سن کر پیغمبر اکرم(ص) خوشحال ہوئے اور فرمایا:قیامت کے دن صرف حضرت زہراء(س)  ہے جو اونٹ پرسوار ہونگی اور جبرئیل ان کے دائیں طرف ،میکائیل بائیں طرف حضرت علی (ع)آپ کے آگے آگے ، امام حسن اور امام حسین (ع)ان کے پیچھے پیچھے ہونگے ۔
آپ سوچیں کہ خدا کے ہاں کتنی احترام اورمقام ہے صحرای محشر میں جب سب پریشان اوربے قرارہوں گے اس وقت خداوند متعالی کی طرف سے حکم آئے گا سب اپنی آنکھوں کو بند کریں اور اپنی سروں کو نیچے کریں «هذه فاطمة بنت محمد نبيكم و زوجة علي إمامكم و ام الحسن و الحسين»حضرت فاطمہ (س) پل صراط سے گذرکربہشت میں داخل ہو رہی ہے ،جب آپ بہشت میں داخل ہو رہی ہو اس وقت اس آیت کی تلاوت فرما گی «بسم الله الرحمن الرحيم الْحَمْدُ للَّهِِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ»خدا کا شکر ہے کہ آج مشکلات اور پریشانیاں ختم ہو گئی ، میں اس روایت میں اس مطلب کی طرف اشارہ کرنا چاہتا ہوں کہ خداوند متعالی حضرت فاطمہ(س) سے فرماتا ہے «يا فاطمة سليني اعطك» فاطمہ آپ مجھ سے جو کچھ طلب کرنا ہے طلب کریں میں عطا کروں گا ،دیکھیں یہ کیا حقیقت ہے کہ خداوند متعالی اس طرح حضرت زہراء(س) سے مخاطب ہے ، آپ کی عظمت اس جواب سے معلوم ہوتا ہے جسے آپ نے خدا سے فرمایا، معاشرہ میں ہر انسان کی قیمت اس میں ہے کہ وہ اپنے آپ سے پہلے لوگوں کے فکر میں ہو، اپنی نجات سے پہلے معاشرہ کی نجات کے فکر میں رہے،معاشرہ کی تربیت کے فکر میں ہو،ہمارے معاشرے میں اس شخص کی قدروقیمت ہے جومعاشرہ کے فکری پرورش کے بارے میں سوچتا ہو ،حضرت زہراء(س) نے خدا کے جواب میں فرمایا:'«إلهي أنت المُني و فوق المُني أسئلك أن لا تعذب محبّي و محبّ عترتي بالنار» خدا سے یہ طلب کرتی ہے کہ میرے اور میرے اولاد کے چاہنے والوں کو جہنم میں داخل نہ کرے ،خداوند متعالی بھی اسے قبول فرماتا ہے بلکہ ان کو عذاب نہ دینے کے بارے میں قسم کھاتا ہے «أن لا اعذّب محبّيك و محبّي عترتك بالنار» یه ہے حضرت زہراء(س) کی عظمت اورشأن و مقام .اسی لیے آپ کی معرفت بہت ہی دشوار ہے.
آخر میں یہ بھی عرض کروں کہ ہر زمانہ سے زیادہ آج ہم ، ہمارے خواتین ، ہمارے جوان آپ(س) کی شناخت کے زیادہ محتاج مند ہے ،یہ سمجھنا ہو گا کہ وہ کیا خصوصیات آپ میں پائی جاتی تھیں جس کی وجہ سے قیامت کے دن اتنا بڑا رتبہ پیدا کیا ہے ،فاطمہ (س)کون ہے جس کی معرفت سے لوگ عاجز ہیں ؟ کیا صرف ایک انسان ہے کہ خداوند متعال نے انہیں خلق فرمایا اور روز اول سے ہی ایسی تھی کہ لوگ انہیں نہ پہچانیں ؟ یا ایسا نہیں بلکہ یہ مقام و منزلت ان خصوصیات کی وجہ سے ہے جو آپ میںپائی جاتیں تھیں،انسان جب آپ (س)کی عبادت اورخدا سے خوف کا مطالعہ کرتا ہے تو حیران و سرگرداں رہ جاتا ہے ،بحار الانوار اور کتاب عوالم میں ا س بارے میں بہت اہم روایات نقل ہیں ۔
«وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ أَجْمَعِينَ لَهَا سَبْعَةُ أَبْوَابٍ لِكُلِّ بَابٍ مِنْهُمْ جُزْءٌ مَقْسُومٌ»[1]" ان سب کی وعدہ گاہ جہنم ہے ، جس کے سات دروازے ہیں ہر دروازے کے لئے ان کا ایک حصہ مخصوص کر دیا گیا ہے"جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو پیغمبر اکر(ص) بہت روے «بكي بكي شديداً» اور آپ (ص)کے ساتھ جتنے اصحاب آپ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے روئے ،وہاں ایک عزا کی کیفت طاری ہوئی کسی میں یہ جرأت نہ تھی کہ کوئی بات کرے ۔
حضرت سلمان یا کوئی صحابی حضرت زہراء(س) کی خدمت میں آئے ، دیکھا آپ(س) گھر میں آٹا پیس رہی ہے اور ساتھ میں اس آیت کریمہ کی تلاوت فرما رہی ہے «وَمَا عِنْدَ اللَّهِ خَيرٌ وَأَبْقَى»[2]" اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ اس سے زیادہ بہتر اور پائیدار ہے " سلمان نے سلام کرنے کے بعد اس واقعہ کو بیان کیا ، اس روایت میں ہے کہ آپ(س) ایک چادرپہنی جس پربہت سارے وصلہ لگے ہوئے تھے اورپیغمبر اکرم(ص) کی خدمت میں تشریف لائی ( سلمان نے جب یہ دیکھا تو کہا قیصروکسری اوربادشاہوں کی لڑکیاں کیسی عیش و نوش میں ہوتی ہیں اور یہ ختم المرسلین رسول اعظم(ص) کی بیٹی کی کیا حالت ہے ؟) اوررسول اکرم(ص) سے عرض کیا«قالت فديتُك ما الذي أبكاك» میں آپ پرفدا ہو جاؤں کیوں آپ (ص)گریہ کر رہے ہیں ؟ آپ (ص)کے گریہ کرنے کی وجہ کیا ہے؟ پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا: میری بیٹی !ابھی جبرئیل نازل ہوا اور ان دونوں آیات کو نازل فرمایا ،جیسے ہی آپ (ص)نے ان دونوں آیات کو تلاوت فرمایا«فسقطت فاطمة علي وجهها»'حضرت زہراء(س) زمین پر گر گئی ، ہم نے ان آیات کو ابھی تک کتنی مرتبہ پڑھا ہو گا ،اورلفظ جہنم کو کتنی دفعہ ہم سن چکے ہیں لیکن ہمارے اندر کوئی اثرنہیں ہوا ہے ، میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ فاطمہ(س) کا مقام ،پیغمبر اکرم(ص) کے مقام کے نزدیک نزدیک ہونا چاہیئے جنہم کی عظمت اورخدا کی عذاب کو اس طرح درک کرتی ہے کہ زمین پرگر پڑتی ہے «و هي تقول الويل ثم الويل لمن دخل النار» وای ہو اس پر جو جہنم میں داخل ہوتا ہے ، یعنی لوگ جہنم کو چھوٹا نہ سمجھیں ، خدا کا عذاب اس کے رحمت واسعہ کے ساتھ ہے ، یہ نہ سوچیں کہ خدا کا عذاب ایک معمولی عذاب ہے لیکن دنیا کے عذاب سے کچھ حد تک شدید ہے؟،ایسا نہیں ! بلکہ یہ بہت ہی شدید ہے ۔
ان روایات کی طرف اشارہ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ پیغمبر اکرم (ص)اتنے سعہ وجود ہونے کے باوجود انہیں منقلب کیا ہے ، دنیا میں پیغمبر اکرم (ص)کے برابر کوئی بھی وسعت قلبی نہیں رکھتا ،اور وہی کیفیت حضرت زہراء(س) کی بھی ہوئی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ (س)کی کیا مقام و منزلت ہے ۔
ہمیں چاہیئے کہ حضرت فاطمہ(س) سے خداسے خوف کھانے کو سکھیں ، کیوں خدا کی عبادت کرنے سے تھکتی نہیں ہے؟ اس قدر عبادت کرتی ہوئی کھڑی رہتی کہ پاؤں  سوجھ جاتا ہے، کیا آپ یہ سوچتے ہیں کہ خدا نے ان کو جو مقام و منزلت عطا کی ہے وہ صرف ایک تفضلی اور تشریفاتی ہے ؟ نہیں ! بلکہ عبادت میں آپ کی یہ کیفیت تھی، خدا کے کلام کے مقابل میں سر تسلیم خم تھی کہ جب خدا نے فرمایا: «وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ أَجْمَعِينَ لَهَا سَبْعَةُ أَبْوَابٍ» تو منہ کے بل زمین پر گر پڑی، خدا کی عبادت اور خوف خدا میں اس قدر محو تھی کہ خدا وند متعالی ملائکہ سے مباہات کرتا تھا،ہمیں پھر سے فاطمہ(س) کو پہچاننے کی ضرورت ہے اور ان کی معرفت پیدا کرنے کی ضرورت ہے ، جب فرماتا ہے : «علي معرفتها دارت القرون الاولي» یعنی فاطمہ(س) کی معرفت کے بغیر انسان دنیا میں گم ہے ، ان کی معرفت کے بغیر انسان بی پناہ ہے،حضرت فاطمہ (س)کی معرفت کے بغیر انسان خدا تک نہیں پہنچ سکتا ، ہمیں حضرت زہراء(س) کو پیغمبر اکرم(ص) کی بیٹی ہونے اور حضرت علی(ع) کی زوجہ ہونے کے علاوه خود ان کی صفات کو جاننے کی ضرورت ہے ، امیدہے خدا وند متعالی محشر میں اس شفیعہ کی شفاعت ہم سب اور آپ(س) کے تمام محبین کو نصیب فرمائے انشاء اللہ
والسلام علیکم ورحمة اللہ و برکاتہ


[1]. سوره حجر: آيات 43 و 44.
[2]. سوره قصص: آيه 60.  

۲,۶۵۶ قارئين کی تعداد: