pic
pic

روزنامہ''جوان''سے گفتگو کر تے ہوئے''ملک میں خاندانی منصوبہ بندی ''کے نظریہ پرآیت اللہ فاضل لنکرانی ( دامت برکاتہ) کاانتقاد

  • تاریخ 16 December 2019
  • ٹائم 15:00
  • پرنٹ
خبر کا خلاصہ :

یه انٹرویو،اُس رائے اور فیصلہ پراعتراض وانتقاد ہے جو سنہ ١٣٧٢میں ''خاندانی منصوبندی کے قانون'' کے عنوان سے قومی اسمبلی میں پا س ہوا اور آج بیس سال ، کے بعد اپنے آثار کو سب کےلئے واضح و نمایاں کرچکا ہے ، یہاں تک کہ رہبر معظم انقلاب نے اس موضوع کے بارے میں پھر سے سوچنے اورتأمل کو ضروری فرمایا ہے اور دیگر بہت سے علماء نے اس نظریہ کی کوئی فقہی بنیاد نہ ہونے کو یقینی قرار دیا ہے ۔

اس انٹرویو میں؛فقیہ گرانمایہ حضرت آیت اللہ حاج شیخ محمد جواد فاضل لنکرانی ( دامت برکاتہ ) اس موضو ع ومقولہ کا تحلیل و تجزیہ کریں گے ۔ہم اُن کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے قیمتی وقت میں سے اس گفتگو کے لیے وقت نکالا اور اس حکم کا نئے سرے سے جائزہ لیا ۔

اس گفتگو میں شرکت پرهم آپ کا  شکرگذارهیں،جیسا کہ آپ جانتے ہیں انقلاب اسلامی کے دوسرے دس سالوں میں ' اس وقت کےاقتدارمیں موجود ذمہ دارافراد  کی رائے اور سیاست کے تناسب سے ، آبادی پر کنڑول کرنے کے مسئلہ کے بارے میں بہت زیادہ تبلیغ اورتشویق ہوے ۔ البتہ اسی دور میں بھی بعض علما ئے اعلام اس سلسلہ میں اپنے نظریات کا اظہار کرتے تھے، اس مسئلہ کی بنیاد اوراسی طرح وقتی طورپراس کی ضرورت کے بارے میں شک و تشکیک کرتے تھے،حال میں اس بارے میں دیئے جانے والے بہت سے خبرروں اورآخرمیں رہبرمعظم انقلاب کے آخری بیانات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ مسئلہ جدیت کےساتھ مورد تشکیک اور یہاں تک کہ خدشہ دارواقع ہوا ہے۔جنابعالی ابتدا میں اس بارے میں اپنا نظریہ اوردلائل بیان فرمائیں تاکہ ہم آگے جا کردوسرے مسائل کا جائزہ لیں سکیں ۔


بسم اللہ الرحمن الرحیم

میں سب سے پہلے آ پ کا اور روزنامہ ''جوان '' کے مسؤلین کا شکریہ ادا کرتاہوں ' اس لیے کہ اس اہم موضوع کوجو صرف ایک فقہی بحث نہیں بلکہ بہت سے اجتماعی و معاشرتی آثار بھی رکھتا ہے اور سنجیدگی و پختگی کے ساتھ اسے اٹھانا کی ضرورت هے،کی طرف توجہ دیا اور مجھے امید ہے کہ اس بحث کے تمام زاویے آپ کے لیے واضح وروشن ہو جائیں گے، خاص کر ہمارے ذمہ دار افراد کے لیے، سب سے اہم مخصوصاًقوہ مقننہ جن کے کاندھوں پر قانون سازی کی ذمہ داری ہے ،اس مقولہ وموضوع کے مختلف زاویوں پرزیادہ توجہ دیں اورجس قانون کو قومی اسمبلی میں پاس کررہے ہیں ضرور مستقبل میں اس کے آثار کا جائزہ لیں اوریہ دیکھیں کہ ملک اورحتی دین و شریعت کے لیے اس کےکیا آثارہیں ۔ آ ج ہم دیکھتے ہیں کہ جو قانون سنہ ١٣٧٢میں آبادی کی تنظیم و کنٹرول کے عنوان سے پاس کیا ،اب بیس سال گزرنے کے بعد،امت اسلامی اور ہمارے ملک کے لیے  کیسے نقصان دہ ثابت هواہے ہمیں امید ہے کہ اس سلسلہ مقام معظم رہبری جو یاد دہانی کی هے از سر نو اس کاجائزہ لینا جائے ،انشاء اللہ قومی اسمبلی کے محترم اراکین اور ذمہ دار شخصیات سنجیدگی کے ساتھ اس موضوع کا جان پڑتال کریں گے ۔

اس بحث کے مقدمہ کے طورپرعرض کرتا ہوں کہ ہمارے فقہا ئے کرام کے درمیان کوئی فقیہ ایسا نہیں جو اسلام کے اولی اور بنیادی حکم کے عنوان سے ، تکثیر اولاد (زیادہ اولاد)کے مسئلہ کو مستحب نہیں جانتا ہو، یعنی اہم اورممتاز فقہاءان آیات کریمہ اورروایات جلیلہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے ،یہ فتوی دیتے ہیں کہ تکثیر اولاد کے بارے میں آیات اور روایات میں ،ترغیب دی گئی ہے اورمستحب ہے ،یہاں تک کہ حقیر کی نظر میں ،روایات سے حکم اولی کے عنوان سے استحباب موکد بھی استنباط ہو تا ہے ۔

جب ہم اس باب میں وارد روایات کودیکھتے ہیں ،ان روایات میں مختلف عناوین ہیں جو خود بہت حد تک اس حکم اولی کے زاویوں کو ہمارے لیے روشن کرتے ہیں ۔ مثلا روایات میں ہیں کہ حضرت پیغمبر (ص) نے فرمایا : قیامت کے دن ، میری امت کی کثرت میرے فخر و مباہات کا سبب ہے ،یعنی یہی بات کہ پیغمبرخاتم (ص)کی امت 'امت کثیر ہواور اس حوالے سے دیگر تمام امتوں پر برتری وامتیاز رکھتی ہو ، اس کے پُر برکت آثار قیامت کے روز ظاہر ہوں گے ۔ یہ روایت معروف ہے کہ حضرت (ص) نے فرمایا : ''تزوجوافانی مکاثربکم غداً فی یو م القیامہ''۔ '' ازدواج کرو کہ بتحقیق میں روز قیامت دیگر امتوں پر اپنی امت کی کثرت پر فخر ومباہات کروں گا''؟ یا بعض وہ تعابیر جو روایات میں ہیں۔ من جملہ یہ کہ ازدواج رزق کی زیادی اوراضافہ ہونے کاسبب ہے۔ اس دورہ میں جن لوگوں کومعاشی پریشانی ہوتی تھی ،جب حضرت رسول (ص)اورائمہ ا طہار( ع) کی خدمت میں پہنچتے تھے اور ان سے عرض کرتے تھے ہمارے بارے میں کچه سوچیں ،آپ فرماتے تھے ''جاکرازدواج کریں''

دوسری طرف سے اللہ تبارک وتعالی کی سنتوں میں سے ایک اولاد کازیادہ ہونا رزق کی فراوانی اورزیاده  کا سبب بھی ہے اس طرح اگر اولاد زیادہ ہو ،رزق بھی زیادہ ہوجاتاہے اور یہ ایک بڑا اہم نکتہ ہے کہ جس کی طرف توجہ کرنا چاہیے ۔ تیسری تعبیر جو روایات سے استنباط کیا جاسکتاہے ، یہ ہے کہ جب بھی کوئی مسلمان اس دنیا میں قدم رکھتا اورجب تک اس حدتک بڑاہوجاتاہے کہ شہادتین پڑھ سکتاہے ،زمین پر بوجھ ہوتاہے اور زمین پر سنگینی کرتاہے ، دوسری عبارت میں مسلمان اور کافر انسان میں فرق ہے۔
زمین پر ایک کافر انسان کے حوالے سے کوئی ذمہ داری نہیں اور ا س کا وجود زمین کے لیے نہ ہونے کے برابر ہے ،لیکن زمین کاایک انسان مؤمن سے ربط و تعلق ہے اور یہاں تک کہ اس کا وجود زمین کے لیے باعث خوشی و مسرت ہوتی ہے ۔یہ تعابیر روایات میں وارد ہوئیں ہیں ۔سب سے پہلا نکتہ جو ان تعابیر سے سامنے آتاہے یہ ہے کہ یہ اولی و بنیادی حکم ' الی یوم القیامہ تک ایک حقیقی و دائمی مسئلہ کے عنوان سے وجود رکھتا ہے ،یعنی قیامت تک اگر پو چھیں کہ اسلام کا تکثیر اولاد کے بارے میں کیا نظریہ ہے؟ تمام فقہاء کی رائے ونظریه کی بناپر،پہلا اور حکم اولی یہ ہے کہ مستحب ہے اور ہمارے نظروعقیدہ میں یہ استحباب تأکید بھی رکھتا ہے اور دیگر تمام استحبا ب  کے ہم سطح و هم رتبہ نہیں ہے ،یہ ایک حقیقی مسئلہ کے عنوان سے ہے اور ایک خارجی اور وقتی امر نہیں ۔

 میرا اس جملہ سے مراد یہ ہے کہ ممکن هےکچھ لوگ یہ احتمال دیں کہ زیادہ اولاد پیدا کرنے کی ترغیب و تشویق اس زمانے تک محدود تھا جب مسلمانوں کی تعداد و آبادی کم تھی اور ظہور اسلام کے ابتدائی دور سے مربوط ہے جہاں مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ان کی قوت و طاقت اور شان وشو کت میں اضافے کی موجب ہوتی تھی اور نتیجۃً بعد میں جب مسلمان خود ا قتداراورشوکت پر پہنچ گئے اس حکم کا موضوع ہی منتفی ہوتاہے ۔ خارجی اور واقعی امر کے طور پر دیکھا جائے ،تو یہ حکم قیامت تک باقی نہیں ہے ،بلکہ خاص زمانہ کی شرائط سے مر بو ط ہے ۔

ہماری نظر میں یہ بات صحیح نہیں ہے ۔ جو تعابیر ان روایات میں وارد ہوئیں ہیں ان سے بخوبی ہم استفادہ کرتے ہیں کہ یہ حکم ایک حقیقی امر کے عنوان سے پیش شدہ ہے ۔ جب پیغمبر اسلام (ص) مسئلہ کو روز قیامت پر چھوڑتے ہیں ،جب بعض روایات میں فر ماتے ہیں : ''انی اباھی بکم الامم یو م القیامۃ و لو بالسقط '' ہم یہ نتیجہ لے سکتے ہیں ۔ یہ بات واضح ہے کہ سقط شدہ بچہ ، مسلمانوں کی شوکت میں کوئی دخل وکردار نہیں رکھتا۔جب روایات میں لا الہ الا اللہ پڑھنے کی بات کی جاتی ہے ، تو ایک صاحب قدر و حیثیت مخلوق کی بات ہوتی ہے ۔

روایات میں جو کلمہ ''تثَّقل ''آیا ہے وزن اور سنگینی کے معنی میں نہیں ہے،بلکہ انسا ن مسلمان زمین کے لیے ایک بحیثیت مخلو ق کے طورپر تعارف ہو ا ہے اور یہ امر روز قیامت تک برقرارہے اور ہم اسے ایک خارجی امر و مسئلہ کے عنوان سے تعارف نہیں کرسکتے ۔

جوان اخبار:جیسا کہ آ پ جانتے ہیں ،گذشتہ بیس سالوں میں حوز ہ کے کچھ اہل علم نے ،چند مجلات اورمکتوبات میں آ پ کے نظر یہ کے برخلاف ،یعنی آبادی کے کنٹرول اور کم کرنے کو فقہی رنگ دینے کی کو شش کی ہے ۔یہاں مناسب رہے گا کہ آپ ان کے ادلہ کا ایک سطحی انتقادی جائزہ لے لیں ؟


جی ہاں!بعض بزرگ علماء نے پچھلے دس بیس سالوں میں اس بارے میں بہت سے رسالے لکھے هیں اور ان کا عقید ہ یہ تھا کہ جن روایات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ، ایک خارجی امر کے عنوان سے واردہوئیں ہیں ۔میں نے جب ان  روایات میں غورو فکر کیا ،تو مجموعی طور پر پانچ ادعا ودعویٰ ان کے کلام میں پایا،میں چاہتاہوں کہ بطور خلاصہ ان دعواؤں کو پیش کرنے کے بعد جو اعتراضات اس بارے میں ذہن میں آتاہے ،اسے
بیان کروں ۔

سب سے پہلے دعویٰ میں انھوں نےاس نکتہ کی طرف  اشارہ کیا ہے کہ یہ بات صحیح ہے کہ ہمارے پاس ایسی آیات و روایات ہیں جو زیادہ اولاد ہونے کے رجحان پر دلالت کرتیں ہیں ،لیکن یہ آیات اور روایات یہ خارجی امر اور اس دور سے مربوط ہے کہ جب کثرت ِاولاد' قدرت اور شان وشوکت کا سبب ہو اور گروہ ،قبایل اور اقوام اس دور میں کثرت ِاموال اور اولاد کو فخر و مباہات کا سبب سمجھتے تھے ۔انھوں نے یہ دعویٰ کیا ہے اور کئی شاہد بھی ان کے کلام میں اس دعویٰ پر ملتاہے ۔مثلاً بعض آیات میں ہے کہ کفار انبیاء کے سامنے کہتے تھے : '' نحن اکثر اموالا واولاداً'' کیوں کہ ہمارے مال اوراولاد زیادہ ہیں، اللہ ہمیں عذاب نہیں دےسکتا !یا اللہ تعالی سورہ توبہ میں منافقین کی دہمکیوں کے خلاف فرماتاہے : «كَالذِينَ مِن قَبْلِكُمْ كَانُواْ أَشَد مِنكُمْ قُوةً وَ أَكْثَرَ أَمْوَالًا وَ أَوْلاَدًا»[1]''۔ انھوں نے کہا کہ یہ آیت واضح کہتی ہے کہ اگر کثرت اموال اور اولاد ،نہ صرف قوت اور شوکت کے موجب نہ ہو،بلکہ ضعف وکمزوری اور فقر،جہالت اورمرض کا باعث بنے ،پھرتو ہمیں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ کثرت اولاد مستحب ہے ۔

انھوں نے کہا ہے کہ اس دور میں(یعنی جس زمانہ میں رسالہ ومضمون لکھا تھا)کوئی ایسا انسان نہیں ہے کہ آ ئے اور فخر کے ساتھ دوسروں سے کہے میری اولاد تم سے زیادہ ہے ! اور کثرت ِاولاد کی بناپر دوسرے پر مباہات اور فخر کرے لہٰذا اب یہ مستحب نہیں ہے ۔ انکے اس ادعا پر ہم یہاں چار اعتراض کرتے ہیں     

پہلااعتراض یہ ہے کہ اگر کفار اور منافقین کثرت ِاولاد کو اپنے لیۓ فخر کا سبب سمجھتے تھے ،تو یہ دلیل نہیں بنتی کہ ہم کہیں کہ وہ آیات و روایات جو اولادپر رجحان ومیلان رکھتیں ہیں وہ بھی شوکت وقدرت کے مسئلہ سے مربوط ہے ،یہ قابل قبول نہیں ہے کیوں کہ منافقین اورکفار کثرت ِاولاد پر تفاخر کرتے تھے ،لہٰذا ہمیں علمی اورمنطقی حوالے سے ،آیات اور روایات کے لیے ، کوئی شرط و قید یا قرینہ لگانا چاهئے اوریه کہیں کہ یہ آیات اور روایات خارجی مسئلہ سے مربوط ہیں ۔

بہت واضح اصطلاح اور عام الفاظ میں ،کسی قسم کا کوئی قرینت وقرینہ نہیں رکھتا ،یعنی جب ہم چاہتے ہیں کہ کسی چیز کو قرینہ قرار دیں ،اس کی قرینیت و قرینہ عرف، لوگ اور مخاطبین کے سامنے روشن و واضح ہو ۔
منافقین کثرت اولاد کو ایک دوسرے پر فخر اور شان وشوکت کا موجب قرار دیتے تھے ،لہٰذا ہمیں بھی یہ کہنا چاہیے کہ اگر اسلام نے ترغیب دیا ہے اسی وجہ سے ہے ؟!یہ بدیہی بات ہے کہ ایسا نہیں ہے اور ''لا الہ الا اللہ ''کے عنوان سے ' مسئلہ کی شوکت و قدرت سے کیا ربط رکھتا ہے ؟ یہ مسئلہ کہ میں تمہارے سقط شدہ بچہ ''مثال کے طور پر ،مباہات کروں گا،یہ مسلمانوں کی قوت و شوکت سے ربط رکھتا ہے ؟ جو تعابیر روایات میں وارد ہوئیں ہیں ،نہ صرف اس معنی پر حمل کرنے کی قابلیت نهیں رکھتا ،بلکہ اس حمل کا مخالف بهی ہے ۔

دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اگر ہم بالفرض اس مطلب کو ایک قرینہ کے عنوان سے قبول کرتے ہیں اور یہ بولتے هیں کہ اسلام تکثیر اولاد کی ترغیب کرتا ہے ،تاکہ مسلمانوں کوقوت اور شوکت حاصل هوجائیں ۔سوال یہ ہے کہ یہ تفسیران آیات اور روایات کو ایک خارجی کے عنوان سے درج و ضبط کرنے کے لیے کونسی دلیل بنتی ہے ؟حتی یہ تفسیر بھی ہمیں اس نتیجہ پر  نهیں پہنچاسکتی ہے کہ ضرور یہ مسئلہ ایک خارجی امر ہے ،ان دونوں کے درمیان کوئی ملازمہ نہیں ہے ۔کیوں کہ ہم کہتے ہیں کہ اسلام نے کثرت اولاد کی ترغیب و تشویق کی ہے اور کثرت الی یوم القیامۃ آپس میں فخر کرنے کی موجب ہے ۔ خارجی امر یا مسئلہ ہمیشہ وہاں ہوتا ہے جہاں خاص شرائط میں کوئی حکم اجرا اور تمام ہو تا ہو۔ مثلاً روایات میں آیا ہے کہ پیغمبر (ص) نے خاص شرائط میں کچھ درخت خاص مقام پر جلائیں اور ہم کہتے ہیں کہ وہ ان شرائط سے مربوط تھا اور اب پھر کبھی تکرار نہ ہوگا ،اگر ہم یہ کہیں کہ ہم ان آیات و روایات کو قوت اور شوکت پر حمل کرتے ہیں ،پھر بھی اپنے حقیقی امر ہونے کو نہیں کھوتا ہے اور خارجی مسئلہ ہونے کا عنوان نہیں آتا۔

تیسرا اعتراض یہ ہے کہ یہ دعویٰ کرنے والے نے بنیادی طورپرتمام تفاخر (آپس میں فخر کرنا)کوایک قبیلہ ،گھرانہ یاکوئی گروہ دوسرے گروہ کی نسبت' مربوط کیا ہے اور بعد میں تصریح کی ہے کہ ہمارے دور میں اگر کوئی گھرانہ دوسرے گھرانہ کی نسبت زیادہ اولاد رکھتا ہو اس کے تفاخر کی موجب نہیں بن سکتی ،جب کہ اگر ان روایات میں دقت کیا جائے ،یہاں تفاخر کی بحث اسلام کی کلی و بنیادی قدرت وطاقت سے مربوط ہے ،یعنی ہمیں اپنی نگاہوں کو ایک یا دس خاص گھرانے اور حتی ایک شہر یا ایک خاص ملک پر نہیں ڈالنی چاہیے ،بلکہ اپنی نگاہوں کو وسیع اور تمام امت اسلامی پر رکھنی چاہیے ۔

ہمارے زمانے میں ، مسلمانوں کی تعدا د وآبادی دنیاکے دیگر معروف ادیان کی نسبت ، کم ہے او ر یہ ایک واضح و روشن مسئلہ بھی ہے ،لہٰذا اگر ہم قوت اور شوکت کے مسئلہ کو بھی معیار قرار دیں ،پھر بھی اسے مجموعاً امت اسلامی کو مدنظر رکھنا چاہیے ۔

یہ صحیح روایت امام صادق (ع) سے کہ حضرت یوسف( ع) نے اپنے بھائی سے عرض کیا کہ میرے والد نے مجھے حکم کیا کہ ازدواج کرو اور ہدف یہ تھا کہ کوئی ایک ذریہ تمہار ا ہو جو ''تثقل الارض بالتسبیح ،فافعل''۔یہ تمام امت ِ اسلامی اور موحدین سے مربوط ہے ۔ اس مؤلف نے تصریح کی ہے کہ موجودہ شرائط میں [2]زیادہ آبادی اور کثرت نفوس ' ضعف ، سستی وکمزوری ، جہل اورتباہی وبربادی کا سبب ہے ۔ہمارا سوال یہ ہے کہ اگر آ ج مسلمان مصائب و مشکلات میں ہیں اوراگر کوئی گھرانہ زیادہ بچے ہونے کی وجہ سے اپنی اولاد کی صحت و سلامتی او ر اقتصادی و معاشی طور پر دیکھ بال نہ کرسکے ،کیا حقیقتاً کثرت ِاولاد ونفوس اس امر کی موجب بنی ہے یا تدبیر وپروگرام یا صحیح مدیریت (مینجمینٹ)نہ ہونا ہے ؟ کیا ماں باپ اور گھرانے کاسر پر ست صحیح مدیریت نہیں کر سکا ہے ؟سرکار صحیح تدبیر نہیں کر پایاہے ؟امکانا ت اور وسائل و سامان سے استفادہ نہیں کیا گیا تھا ؟ہم اس فکر و سو چ میں نہیں ہوتے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو صحیح طور پر نکالیں اور خرچ کریں ۔ ہمارے ملک میں ،پہلوی دور سے کہتے تھے کہ چند سال تک ہمارا تیل ختم ہو جائے گا !اب الحمد اللہ جس قدر وقت گزرتاجاتاہے تیل کے نئے ذخائر کشف ہوتے ہیں ۔تیل کے وسیع وعریض میدانوں تک پہنچتے ہیں ۔ کثرت آبادی و نفوس یہ مسائل پیدا کرتے ہیں ا س دعویٰ کی حقیقت یہ ہے کہ ان مسائل کی اصل و بنیاد راحت طلبی ،آرام طلبی ہے ۔ یعنی لوگ اپنی فکر وہمت اور کوشش کو کام میں لینے کے لیے آرام طلب ہوگئے ہیں ۔

ہمیں چاہیے کہ احکام اسلام کو دیگر تمام احکام کے ساتھ نظر میں رکھیں ۔ اگر اسلام نے مسلمین کے کثرت نفوس و آبادی پر تاکید کی ہے ،تو اس کے ساتھ کسب ِحلال اور کام و کا ج کے مسئلہ کو ایک راجح وپسندید ہ حتی جہاد کی حد تک قرار دیا ہے اور بے کاررہنا او ر سستی و آ رام طلبی کی شدت سے مذمت کرتاہے اور جو لوگ دوسروں پر بوجھ ہیں ان کو ملعون ومذموم جانتا ہے۔ لہٰذا انسان کو چاہیے کہ جس روز سے جسمانی طاقت و قدرت اس میں پیدا ہوتی ہے کام کرے اور اس کے کام کاج دوسروں پر بوجھ اور زبر دستی لگاؤ نہ ہوں۔ اگر ہم ان جہات پر غورو فکر اور ملاحظہ کریں ،ایسی باتیں نہیں کریں گے ۔

اس دعویٰ پر اور بھی اشکالات و اعتراضات وارد ہیں کہ ہم یہاں اتنی مقدار پر اکتفا کرتے ہیں ۔

اور دوسرا دعویٰ یہ ہے کہ گذشتہ زمانہ میں کمیت(تعداد) کا مسئلہ بنیادی و اساسی کردار رکھتا تھا اور مثلاً جنگ کے میدان میں جس کا لشکر بڑا ہوتا تھا وہ کم لشکر پر غلبہ پا تا تھا۔زراعت اور تعمیرات وغیره میں بھی اسی طرح ،لیکن اس دور میں ،علم اور ٹیکنا لوجی کی ترقی کی وجہ سے کمیت و تعدادنے اپنی حیثیت کھوچکی ہے اور تخصص ( اعلی وزبردست مہارت)، تجربہ ، علم ،وسائل وذرائع کی پیشرفت اور ٹیکنالوجی نے اس کی جگہ لیا ہے ۔ ممکن ہے دس آدمی ایک بم کو بنانے میں کامیاب ہو تے دسیوں لشکر پر غلبہ پاسکتے ہیں ۔ اس بات کو انھوں نے اپنی رائے و نظریہ کی تاکید میں لیا ہے اور چنانچہ موجود ہ دور میں ہمیں کیفیت ( حالت وحقیقت ) کے پیچھے جانا چاہیے اور کمیت ( مقدار و تعداد ) سے سرو کار نہیں ہونا چاہیے ۔اس دعویٰ کے لیے ہمارے پاس دو اہم جواب ہے :

پہلاجوا ب یہ ہے کہ ہم اس با ت کو مانتے ہیں کہ زمان معاصر میں انتہائی پیشرفت والے اہم وسائل ہیں ،لیکن جب انسان متخصصین ( زبردست و اعلی ماہرین)کی طرف رجوع کرتاہے تو دیکھتا ہے کہ یہ افرادی قوت کو نظر انداز نہیں کرسکتے ،یعنی ابھی بھی ایک لشکر کا زیادہ ہونا اور قوم نے اپنی اہمیت نہیں کھوئی ہے .....اس ضمن میں یہ یاد رکھنی چاہیے کہ ان وسائل و آلات میں سے بہت سے دانش ور اورماہر سائنس دانوں کی آمد کے بعد ہی ترقی وپیشرفت اور پھیلتے ہیں.

جی ہاں ،یعنی جن افراد کی پیدائش میں ہم مانع اور رکاوٹ بنتے ہیں ،ممکن ہے ایسے نوابغ(بہت ٹیلینٹ) ہوں جودشمنوں کے موجودہ  وسائل کے ہزاروں برابربنا سکتے ہوں اور اگر ہم ان کی پیدائش کو روکیں،تو طبیعی طور پر ہم اس نتیجہ پر نہیں پہنچیں گے ۔

دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اس قسم کا نتیجہ لینا اجتہاد کی اصول وضوابط سے سازگار نہیں ۔یعنی جب آیات و روایات میں ہمارے پاس موجود ہے کہ اپنی تعداد کو بڑھاؤ،علم اصول کے حوالے سے ، یہ اطلاق رکھتا ہے ، یعنی چاہے کیفیت بڑھے ،چاہے نہ بڑھے ،تم لوگ اپنے بچوں کو بڑھاؤ۔اس اطلاق کو ہم کیا کریں ؟اب اگر صاحبِ دعویٰ ہذا کے خیال میں موجودہ دورمیں کیفیت ہی کی بات معاشرے میں چلتی ہے ،کس طرح ہم آیات و روایات کے اطلاق سے ہاتھ اُٹھائیں ؟یہ وہ مطلب ہے جو ہم اجتہادی حوالے سے قبول نہیں کرسکتے ۔

اس نکتہ کی طرف اشارہ کروں کہ یہ دعویٰ کرنے والا کہ حرف ِآخر تخصص ( اسپیشلیسٹ) کی ہے، نه اپنی بات کی دلیل میں یہ شاہد لیا ہے کہ آج اسرائیل' فلسطین پر غلبہ پاچکا ہے ،جبکہ اس کے امکانات بھی اورآبادی بھی کم تھی۔اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ لوگ علم اور صنعت اورعسکری آ لات کے حوالے سے بہت ترقی کر چکے تھے ،لہٰذا حکم کے موضو ع میں انقلا ب آچکا ہے اور اس صورت میں خود حکم میں بھی انقلاب آ ئے گا ۔

جواب واضح ہے ۔ حضرت امام (قدہ) کے بقول ۔ اگر اسی وقت مسلمان جتنی ان کی آبادی ،حقیقی طور پر اسرائیل کے ساتھ مقابلہ کریں ۔ اسرائیل کے لیے کوئی چارہ وراستہ نہیں رہے گا ،اسر ائیل بھی اپنی پیشرفتہ وسائل وآلات کی بناپر کا میاب نہیں ہوا ہے ،اسلامی ممالک کے سر براہان کی خیانت اور بعض وہ افراد جورہتے فلسطین میں تھے ،لیکن اندر سے ان کا ہاتھ سرائیل کے ہاتھ میں تھا ،یہی چیز سبب بنی ہے کہ اسرائیل اب تک باقی رہے اور ہمیں امید ہے کہ بہت جلد صفحہ ئ ہستی سے مٹ جائے.

اس کے ضمن میں اسرائیل والے جو دنیا کے جدیدترین اور پیشرفتہ ترین جنگی و عسکری آلات و وسائل کے مالک ہیں انھوں نے کبھی بھی ان جنگی ساز و سامان پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ دنیا کے جس کونے میں بھی ان کو یہودی نظر آئے ان کو اکھٹا کیا اور یہاں بسایا.

اسی طرح اس دعویٰ کے اندر بھی تناقض ہے ۔اسرائیل والوں نے نہ صرف پوری دنیا سے یہاں آبادی بسایا بلکہ ان کو نسل بڑھانے اوراپنی تعداد و اولاد زیادہ کرنے کی تر غیب اپنے ملک کی عوام کو اولاد اور نسل بڑھانے کی تشویق بهی کی تاکہ ان کی آبادی زیادہ ہو ۔ اسلام کے اس حکم سے قطع نظر ،بنیادی طور کثرت اولاد ایک فطری امر ہے اور بشر کی فطرت اس طرف رجحان رکھتی ہے ۔ یہاں تک حیوانات کے درمیان بھی اس رجحان و میلان کودیکھ سکتے کہ وہ کثرت کی سمت و جہت کی طرف جاتے ہیں ،ایسا نہیں ہے کہ کہیں اسلام نے ایک جدید مسئلہ لایا ہو ،بلکہ اسلام نے ایک فطری امرکا سہارا لیا ہے تاکہ اس سے اسلام کے حق میں بیشمار استفادہ ہو ۔

پہلے دعویٰ سے متعلق ، ایک چهوٹا اعتراض یہ ہے کہ اسلام میں اولاد کی کثرت ،ذاتاً رجحان رکھتا ہے ۔اگر ہم قوت اور شوکت کے مسئلہ کو بھی پیش کریں ،ہماری اصولی اصطلاح کے تحت ، یہ حیثیت ایک تقیدی ( قید کرنا ) حیثیت نہیں ہے کہ موضوع کو بدلنا چاہے ۔ ہم علم اصو ل میں کہتے ہیں کہ بعض قیود ( خاص شرائط) تقیدی حیثیت رکھتے ہیں کہ ان کے ختم ہوجانے سے ، وہ موضوع بھی بد ل جاتا ہے اور جب موضو ع بدل جائے ،تو اس کے ساتھ حکم بھی بد ل جاتا ہے اور ختم ہو جاتا ہے ،لیکن بعض قیود( شرائط)تعلیلی حیثیت کا عنوان رکھتے ہیں ،یعنی اگر ہم نے کہا کہ اسلام کہتا ہے طاقت ور ہونے کے لیے ،اپنی آبادی اور نسل کو بڑھا ؤ ، یہاں طاقت ور ہونا تعلیلی حیثیت رکھتا ہے اور پھر بھی یہ استحبابی حکم اپنی جگہ پوری طاقت کے ساتھ باقی ہے ۔

تیسرا ادعا جو انھوں نے بیان کیا ہے یہ ہے کہ قرآن کی آیات سے استفادہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے خزانے اللہ ہی کے پاس ہیں ، اور اللہ سبحانہ تعالی نے فرمایا ہے ہم ایک معلوم مقدار و اندازہ کے تحت اسے نازل کرتے ہیں ۔ کہا ہے کیوں کہ خشکی اور دریا میں طبیعی امکانات ایک محدود اور معین حد و مقدار میں ہیں اور یہاں تک کہا ہے کہ دقیق اور گہرے حسابات کے تحت ، ان کو شمار بھی کرسکتے ، لہٰذا ہمیں عقلا ً تدبیر کرنی چاہیے اور اس کی تدبیر بھی یہ ہے کہ آبادی و نفوس کنٹرول اور حد وحدود میں ہوں اور نفوس و نسل کو بے حساب و کتاب بڑھنے نہیں دیناچاہیے ۔ان کی یہ تعبیربھی ہے کہ : اگر آ پ چاہتے ہیں کہ لوگوں کی زندگی کے لیے کوئی عسر و حرج ،سختی و دشواری پیدا نہ ہو اور لوگ دوسروں کی نسبت آسائش و سکون میں زندگی گزاریں ،تو ہم آبادی کو محدود اور کنٹرول کرنے کی طرف جانا چاہیے ۔ پھر اس کے آگے بولا ہے کہ اللہ نے انسان کو عقل اور درایت(سو چ وسمجھ) اور تدبیر دیا ہے اورعقل ، درایت اور تدبیر رکھنے کا لازمہ یہ ہے کہ جب کوئی انسا ن یہ دیکھے کہ اگر اس کا ایک بچہ ہو ، اسے تربیت دے سکتا ہے ،لیکن دو کو نہیں دے سکتا،تو اسی پر اکتفا کرنا چاہیے ۔

اس دعویٰ کے بارے میں اہم نکتہ یہ ہے کہ جہاں اللہ فرماتاہے ہم ہر چیز کو معلوم اور خاص اندازے کے برابر نازل کرتے ہیں ،یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معلوم ہے اور عوام کو معلوم نہیں ہے ۔ معلوم ہونے کے معنی یہ ہے کہ اس کا اندازو مقدار اللہ کے پاس معلوم ہے اور اللہ تعالیٰ ہرمورد میں اپنی حکمت کے حساب سے نازل کرتا ہے ۔ اس بات کا ہمارے موضوع کے ساتھ کیا ربط ہے تاکہ ہم تکثیر اولاد کے مسئلہ میں تدبیر کریں ؟ اللہ تبارک وتعالیٰ خود رازق اور حکمت والا رازق ہے ۔ جو بھی مخلوق کو چاہے ایجاد کرتا ہے اور جب تک اللہ تعالیٰ کا ارادہ نہ ہو ،کوئی مخلوق پیدا ہی نہیں ہوتا ،اس بناپر کہ ہم یہ کہیں اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو بنایا ہے اور اس کے امور کی تدبیر  ہمارے سپرد کیا ہے ،لہٰذا ہم زراعت ، اولاد کی پیدائش ......کو محدود کریں ،صحیح نہیں ہے ، بلکہ کہنا چاہیے «وَ أَن ليْسَ لِلْإِنسَانِ إِلا مَا سَعَى»[3] یہ '' ماسعی''کی کوئی حد نہیں ہے ۔ انسان جس قدر اس سلسلہ میں کام کرے ، پھر بھی دوسرے کاموں کے گنجائش ہے ۔

لہٰذا یہ بات ایک فقہی بات نہیں ہے اور نہ اس پر زیادہ تو جہ کرنا چاہیے ۔ ان میں سے بعض افراد نے اپنے بعض کلمات و جملوں میں ،اس بات پر کہ مؤمن کے پاس معیشت کی تدبیرو تقدیر ہونی چاہیے ، سے تمسک کیا ہے یہ بھی اس بحث سے کوئی ربط نہیں رکھتا ۔معیشت کی تقدیر وتدبیر کا اس سے کیا ربط و تعلق ہے کہ مؤمن آبادی کو کنٹرول کرے اور اولاد کی پیدا ئش کو روک دے ؟جو مؤمن تدبیر و حکمت سے جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اسے دیا ہے اسے ایک اولاد کے لیےاستفادہ کرسکتا ہے ،اسی تدبیر سے زیادہ تعداد کے لیے بھی استفادہ کر سکتا ،معیشت میں تدبیر سے کام لینے کا معنی اولاد کم کرنا نہیں ہے ، بلکہ اس کے معنی صحیح سوچنا ،صحیح استعمال اور خرچ کرنا اور صحیح طریقے سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو حاصل کرنا ہے ۔

ان لوگوں کا چوتھا دعویٰ یہ ہے کہ فقہ اور فقہاء کی شأ ن احکام کو استنباط کرنا ہے ،لیکن کچھ مسائل وہ ہیں جو عرف و عوام سے مربوط ہیں یا اس کے لیے اس شعبہ سے مربوط اعلیٰ و زبردست ماہرین کی ضرورت ہے ، فقہاء سے اس کا کوئی ربط نہیں ہے !

 اس کا جواب یہ ہے کہ یہ مطلب جو کچھ انھوں نے ابتدا میں بیان کیا ہے ، اس سے فرق رکھتا ۔ اگر کسی نے مسئلہ کا حقیقیہ یا خارجیہ ہونے کو پیش کیاہے ، تووہ صرف فقیہ ہے جو اس طرف متوجہ ہوتا ہے کہ کیا یه مسئلہ حقیقیه ہے یا خارجیہ ؟اگر مسئلہ عرف سے مربوط ہے ،تو پھر انھوں نے ابتدا میں کیوں مسئلہ کے خارجیہ و حقیقیہ ہونے کو پیش کیا ؟

البتہ یہ با ت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ اس بحث کے دو زاویے تھے؛اس کا ایک زاویہ،فقہی زاویہ ہے کہ فقیہ کہتا ہے اولا د کی تکثیر ، مستحب ہے ، لیکن ایک اور زاویہ بھی رکھتا ہے وہ یہ کہ اگر کوئی مرد اپنی بیوی سے چاہتا ہے کہ زیادہ اولاد پیدا کرے اور یہ عورت کے لیے موجب نقصان و ضررہواور اللہ نہ کرے اس کی جان کو ختم کرے یا  اولاد تک بیماری پھیلنے کا سبب بن جائے ،واضح ہے یہاں پھر مستحب نہیں ۔ یا مثلاً کوئی مردبیمار ہے اوراطباء کہتے یہ بیماری اس کی اولاد تک بھی پھیلے گی ۔اس قسم کے موارد ہیں جہاں ماہرین و اطباء کو اس بارے میں اظہارنظر کرنا چاہیے ، لیکن اس کا اصل فقہی پہلو اپنی جگہ محفوظ ہے اور نہ اس سے غفلت ہونی چاہیے۔ ہمیں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ اسلام نے ایک حقیقت خارجی  کے عنوان سے دیکھا ہے اور پھر ختم ہوا ہے ۔

اختتامیہ کلمات میں ' چاہتاہوں کہ سورہ ہود کی آیت ِشریفہ کا ذکر کروں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فر ماتاہے : ''وما من دابۃ فی الارض الا علی اللہ رزقہا ویعلم مستقر ہا و مستودعہا کل فی کتا ب مبین ''[4] کوئی جاندار زمین میں نہیں ہے جس کے رزق کی ذمہ دار ی اللہ تعالی پر نہ ہو ۔

ایسا نہیں ہے کہ بشر رازق ہو ۔ رازق اور رازق ، اللہ تبار ک و تعالی ہے ۔ اللہ تعالی جانتا ہے کہ اس دابہ کی جگہ کہاں ہے ، وجود میں آنے سے پهلےکس باپ اور کس ماں کی پیٹھ میں تھا ،اللہ تعالیٰ ان سب کو جانتا ہے اور ہمیں اس بارے میں دخل اندازی نہیں کرنا چاہیے ۔

میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ اولی حکم ایک حقیقی ، یقینی ، مسلم ، دائمی اور ابدی مسئلہ کے عنوان سے قیامت تک ہے اور اسے ایک  قضیہ خارجی کے عنوان سے نہیں سمجھنا چاہیے ۔ جن موارد میں اس  حکم اولی اور بعض دیگر جہات کے مابین ،تزاحم ( مقابلہ ) پیدا ہو اور تکثیر اولاد سے اہم تر کوئی مسئلہ سامنے ہو ،کچھ حالات و شرائط میں فقیہ چاہے تو وقتی طور پر کثرت ِ اولاد کی ترغیب نہ دے یا محدود کرے ، لیکن پھر بھی اولین و اساسی حکم کو چھپا نہیں سکتا بلکہ بیان کرنا چاہیے ۔

بلا تاخیر حکومت ِ اسلامی کو چاہیے کہ اولی و بنیادی احکام کو واضح اور صراحت کے ساتھ لوگوں کے لیے تبلیغ و بیان کرے اور اس سے چشم پوشی وغفلت نہیں ہوسکتا ، لیکن جن موارد میں تزاحم ( مقابلہ ) پید ا هوتا ہے ، جیسے مرض یا ضرر اور تمام مسلمین کے لیے مشکلات و مصائب ہونے کی وجہ سے حکومت وقتی طورپرحکم اولی کو روک سکتا ہے ۔ لیکن اس ٢٠سال کے عرصہ میں جمہوری اسلامی میں ،افسوس کے ساتھ خلاف ِشرع کا یہ کام حفظان صحت کے ادارہ میں اور حفظان صحت کے مراکز میں ہوا اور ابھی بھی ہوتا ہے جہاں لوگ جاتے ہیں اور خود کو عقیم(بانجھ) کرتے ہیں چنانچہ یہ بانجھ پن دائمی ہو ،تو یہ خلاف شرع اور حرام ہے ۔اگر لوگ خود چاہیں کہ یہ کام کریں ،اسلامی حکومت کو یہ کام نہیں کرناچاہیے کہ یه حرام میں تعاون اور مدد کرنا ہوگا ،لہٰذا یہ زاویے لوگوں کے لیے بیان کرنی چاہیے اور مسئلہ کا تمام جہات کو بہت سنجیدگی،دقت اور باریک بینی کے ساتھ نظروں میں رکھنا چاہیے ۔ اگر یہ چاہتے ہیں کہ مقام معظم رہبری کے فرمودات کے مطابق کوئی تجدید نظر کریں ،تو انھیں چاہیے کہ صحیح قانون اور شرع اور فقہ کے مطابق قانون پاس کرائیں ۔

جیسا کہ آ پ کو معلوم ہے انقلاب ِاسلامی دوسرے دس سال کے آ غاز سے اور حضرت امام کی رحلت کے بعد سے ،سازندگی وتعمیراتی حکومت کے دور میں ، کیوں کہ امور حکومت کی باگ دوڑہاتھ میں رکھنے والوں نے تصور کیا کہ ملک کے امکانات و وسائل محدود ہیں اور بڑھتی ہوئی آبادی کے جواب گو نہیں ہیں ،نسل اور گھرانے کو محدود کرنے کی بات کو پیش کیا ،ان کا کہنا تھا کہ ملک کے امکانات ووسائل ،موجودہ نسل اوراسی طرح جو نسلیں تیزی کے ساتھ بڑھ رہی هے ،توازن نہیں ہے ۔اوراصولی طور پر سب جانتے ہیں کہ امکانات اور امکانات کے زیادہ ہونے کی بنیاداور سرچشمہ سنجیدہ وسمجھ دار ،تربیت شدہ اورمدیریت (منیجمینٹ) شدہ نسل ہے ، لہٰذا یہ استد لال صحیح نہیں ہوسکتی ، لیکن اس کے باوجود آ پ نے اشارہ کیا کہ ثانوی حکم کے عنوان سے بعض موارد میں یہ تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ جہاں بنیادی واساسی مشکلات کے ساتھ تزاحم ہو ،یہ حکم وقتی طورپر روک دیا جائے ۔ لہٰذا جناب والا جو کچھ اس عرصہ میں مصلحت کے عنوان کے تحت پیش آیا صحیح و درست قرار دیتے ہیں ؟

نہیں،بلا تردید میری نظر میں جو اعتراض پیش آتا ہے یہ ہے کہ اس وقت کے ذمہ دار افراد نے اس مسئلہ کے بارے میں جلد بازی کی ۔ البتہ ان سیا ستوں سے جو ہمارے دشمن سازشی بنیاد پر رکھتے ہیں اور کسی بھی طریقے سے ہمارے ملک کے پر گرواموں میں داخل کرتے ہیں ہمیں ان سے غافل نہیں ہونا چاہیے ۔ میں یہ نہیں کہه سکتاہوں کہ جو کچھ پاس ہوا ، ہمارے دشمنوں کی سیا ست سے کوئی ربط نہیں رکھتاتھا اور ان سے کوئی تعلق نہیں تھا ۔ انھوں نے اس مسئلہ کو کسی بھی صورت میں اسلامی ممالک میں فروغ دیا جس کی موجوں نے ہمارے ملک کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا ،لیکن مسئلہ کی دوسری طرف سے بھی ،ہمارے ذمہ دار افراد اس نتیجہ پر پہنچ چکے تھے کہ امکانات اور نئی نسل کے درمیان توازن نہیں ہے اور اسے کنڑول کرنا چاہیے ،لیکن کیا وہ صحیح نتیجہ پر پہنچ چکے تھے ؟نہیں ،اس وقت بھی یہ باورو یقین صحیح نہیں تھا ۔ اگرنسل کو کنٹرول نہ کیا گیا ہوتا ،آج ہمار ے ملک کی آبادی کئی فیصد زیادہ ہوتی ؟کتنے لاکھ آبادی بڑھ گئی ہوتی ؟اگر ہماراملک جس کی آبادی آج ساڑے سات کڑور ہے ،دس کڑور ہوتی ،کیا موجود ہ امکانات جواب گو نہیں تھے ؟یعنی کیا واقعاً ہم ان کے لیے کچھ نہیں کرسکتے تھے ؟خود مسؤل و ذمہ دار افراد جو امکانات و وسائل سے مطلع و باخبر ہیں ،کہتے ہیں کہ ملک کے امکانات موجودہ آبادی کے دوگنا زیادہ کو بھی جوابگو او ر کور کرسکتے ۔ یہ امکانات اس دورمیں بھی تھے ، لیکن دقیق اور گہرا حساب و کتاب نہیں ہوا.

یعنی موضوع شناسی صحیح نہیں ہوا تھا.

جی،موضو ع کی صحیح ودقیق شناخت نہیں ہوئی تھی ۔اس وقت اس بارے میں جلد بازی کی گئی ۔ ہمیں شک نہیں ہے کہ ہمارے مسؤلین و اعلی ذمہ دار افراد اس دورمیں نیک وخیرنیت رکھتے تھے ،لیکن ہماری نظر میں بہت بڑی غلطی کے مرتکب ہوئے ہیں کہ آج ہم اس کے نتایج کی طرف متوجہ ہوئے ہیں ۔آج ہمارا سامنا عمررسیدہ آبادی کے ساتھ ہورہا ہے ،یعنی ہمارے ملک کا فعال و متحرک انسانی طاقت و توانائی مطلوبہ و ضروری کار کردگی نہیں رکھتی او راس کا وجود نہ ہونے کے برابرنظر آرہاہے ۔ ایک ملک کی تمام قدر وقیمت اس کی فعال ،سرگرم،متفکر ، چست اورجوان انسان ہے ۔ جب آبادی عمررسیدہ اور بوڑھی ہو جائے ،وہ ملک نہ کوئی اقتداررکھتی ہے ، نہ کوئی قدروقیت اور نہ کوئی ایجاد وتخلیق ۔

اس زمانہ میں اس موضوع کو قبول کرنا بھی غلط تھا اور دقیق و صحیح موضوع شناسی نہیں ہوئی تھی ۔ جیسا کہ بعض رسالے جو اس سلسلہ میں لکھے گئے ہیں افسوس کے ساتھ اس دور کی حالات و فضا سے متأثر تھے اور ہم ان کو اجتہادی او ر محکم و پختہ رسالے قرار نہیں دے سکتے ۔ اس نظریہ ورائے اور تالیف نے اپنے آثار چھوڑ چکا تھا کہ بعض مولفین اور اہل قلم نے بھی اس بار ے میں قلم اٹھا یا ۔ اس وقت غلطی ہوئی ،آج بھی مسؤلین اور ذمہ دار افراد کو پوری شجاعت و شہامت کے ساتھ لوگوں کو بتانا چاہیے کہ ہم نے غلطی کیا۔'' بچے کم زندگی بہتر ، بچے کم ، زندگی آسان ''کی ثقافت ایک غیر دینی اور غیر انسانی ثقافت ہے ۔ اس فرہنگ وثقافت کو ہمارے ملک میں راسخ اور فروغ دیا گیا ہے ۔ اس سلسلہ میں وہ ذ مہ دار ہیں اور اسے حل کرنا چاہیے جو البتہ ایک انٹرویواور چند مقالے ومضمون سے نہیں ہوگا ۔ میڈیا کو اس زمینہ میں نشستیں بر گزار کرنی چاہیے ، تاکہ اعلی ماہرین اپنی باتیں واضح طور بیان کر سکیں ،اسی طرح فقہائے کرام بھی ۔

اسلامی قومی اسمبلی کو سنجیدگی ، حقیقت بینانہ اور مضبوط نظرسے  اس مقولہ کا جائزہ لینے کے لیےقدم بڑھاناچاہیے ۔

مجھے یہاں قومی اسمبلی کے تحقیقی مرکز کا شکریہ اداکرنا چاہیے کہ انھوں نے ایک دو مہینہ پہلے ہمارے فقہی مرکز کے لیے ایک خط لکھا اور ہم سے درخواست کیا کہ اس سلسلہ میں هم اپنی تحقیق پیش کریں ان کی اس درخواست پر ہم نے مرکز فقهی اهلبیت(ع) میں ایک نشست رکھی ۔ جو مضامین ہم نے تیار کیا تھا اورجو صاحب نظر افراد کی رائے تهی وه ان کے لیے ارسال کیا،البتہ یہ سب مقام معظم رہبری کے آخری فرمایشات و بیانات سے قبل تھے۔ جب اس فرمایش و بیان کو ہم نے سنا ،بہت خو ش ہوئے کہ رہبرمعظم کی رائے شریف بھی یہی ہے ۔آج عالم اسلام کو اس مشکل ومصیبت کا سما نا ہے کہ اگر یہ یوں ہی بڑھتا جائے ، تو نہ صرف ایران میں بلکہ اسلامی ممالک میں ،آبادی کی کمی مسئلہ ساز اور پریشان کن ہوگا ۔ہمیں امید ہے کہ اس مسئلہ کو سنجیدگی وپختگی اور صحیح معنوں میں آگے بڑھایا جائے اورایک صحیح اور گہرے نقطہ پر پہنچیں ۔

آپ کی توجہ او ر عنا یت کا بہت شکریہ

 



[1] - قرآن كريم، سوره توبه، آيه ۶۹.

[2] - مراد وہ زمانہ ہے جس میں یہ رسالہ لکھا گیا ہے جو شاید ١٠ ،١٥ سال پہلے سے مربوط ہو۔

[3] - قرآن کریم ،سورہ نجم ،آیت ٣٩۔

[4] - قرآن کریم ، سورہ ہود ، آیت ٦۔

۲,۸۴۸ قارئين کی تعداد: