pic
pic

امام صادق علیہ السلام کی نظر میں علماء کی قدر و منزلت

  • تاریخ 18 December 2017
  • ٹائم 22:05
  • پرنٹ
خبر کا خلاصہ :
یہ ایسے لوگ ہیں کہ اگر خداوند متعال روئے زمین کے تمام لوگوں پر عذاب نازل کرنا چاہئے تو انہیں چار نفر کی برکت سے عذاب کو ان سے ٹال دے گا۔

امامصادق علیہ السلام کی نظر میں علماء کی قدر و منزلت

یہ ایام  رئیس مذہب امام صادق  علیہ السلام کی شہادت کے ایام ہیں ، ایک ایسیمبارک ہستی کہ یہ تمام حوزات علمیہ اور وہ تمام علوم جن پر شیعہ آج فخر و مباہاتکرتے ہیں انہی  امام علیہ السلام کی پربرکت  حیات سے ہے ، آپ دیکھیں کہ ہمارے پاساس مبارک ہستی سے کتنی روایات موجود ہیں ، کتنے اصحاب ، اشخاص اور بزرگوں نے آپعلیہ السلام سے تمام فقہی مسائل میں روایات کو ہمارے لئے بیان کيے ہیں ۔

میں یہاں پر دو مطلب کے بارے میں کچھعرایض پیش کرنا چاہتا ہوں ؛ ایک مطلب یہ ہے کہ حافظان دین کی تکریم اور احترام کےبارے میں امام صادق علیہ السلام کی سیرت کیا تھی، اس بارے میں ہمیں توجہ دینے کیضرورت ہے ۔

جو لوگ امام صادق علیہ السلام کی نظرمیں دین کے حافظ تھے آپ کے نزدیک ان کی کیا حیثیت تھی ، یہ مطلب ہم طلاب علومدینی  کے لئے بہت اہم ہے کیونکہ ہم سبکا  دعوا ہے کہ ہم دین کی حفاظت  کے راستہ میں آئے ہیں اور اس راستہ میں اپنیزندگی گزار رہے ہیں ،اس بارے میں توجہ کرنے سے خود ہمیں بھی اپنے کام کی قدر وقیمت کا اندازہ ہوتا ہے اور دوسروں کے لئے بھی ان کی ذمہ داری مشخص ہو جاتی ہے ،جب ایک انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ حافظان دین کی امام صادق علیہ السلام کے نزدیکاتنی زیادہ اہمیت ہے ، تو اس کے بعد علماء اور مراجع کو بھی ایک عام آدمی نہیں  سمجھیں گے  ، اور ان کی اعتبار اور قدر و منزلت کو دوسرےلوگوں کے برابر قرار نہیں  دیں گے  ، اس بارے میں ،میں چند روایات کو نقل کرتا ہوں؛

فضل بن عبد الملک کہتا ہے : «سمعت ابا عبداللهعليه السلام يقول أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ أَحْيَاءً وَ أَمْوَاتاً أَرْبَعَةٌبُرَيْدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْعِجْلِيُّ وَ زُرَارَةُ وَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍوَ الْأَحْوَلُ وَ هُمْ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ أَحْيَاءً وَ أَمْوَات»، میرے نزدیکمحبوب ترین لوگ چاہئے وہ زندہ ہو یا دنیا سے چلے گئے ہوں ، چار نفر ہیں : بُريد،زراره، محمد بن مسلم و احوَل.

جمیل بن دراج کی روایت میں فرماتا ہے: «بَشِّرِ الْمُخْبِتِينَ بِالْجَنَّةِ بُرَيْدُ بْنُمُعَاوِيَةَ الْعِجْلِيُّ وَ أَبُو بَصِيرٍ لَيْثُ بْنُ الْبَخْتَرِيِّالْمُرَادِيُّ وَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ وَ زُرَارَةُ أَرْبَعَةٌ نُجَبَاءُأُمَنَاءُ اللَّهِ عَلَى حَلَالِهِ وَ حَرَامِهِ لَوْ لَا هَؤُلَاءِ انْقَطَعَتْآثَارُالنُّبُوَّةِ وَانْدَرَسَتْ»؛امام صادق علیہ السلام نجبای اربعہ ( چارنجیب افراد) کا نام لیتے ہیں اور فرماتے ہیں ؛ اگر یہ چار نہ ہوتے تو آثار نبوت  ختم ہو جاتے ، یہ چار نفر ،بریدبن معاویہ عجلی ،محمد بن مسلم ، زرارہ  ابا بصیر  اور لیث بن بختری مرادی ہیں ۔

داود بن صرحان امام صادق علیہ السلامسے نقل کرتا ہے : «إنّه قال إنّ أصحاب أبيه كانوا زيناً أحياءاً و اموات»؛ امام صادق علیہالسلام فرماتا ہے : میرے پدربزرگوار امام باقر علیہ السلام کے اصحاب دین اور لوگوںکی زینت ہیں ، زندہ ہوں یا دنیا سے چلے گئے ہوں ، یہ تاکید اس چیز کی طرف اشارہ ہےکہ ان افراد کی اہمیت صرف ان کی حیات پر منحصر نہیں ہے بلکہ جب دنیا سے چلے جائےتب بھی ان کی اہمیت باقی ہے ، اس کے بعد آپ (ع) ان چار افراد کے نام لیتے ہیں :زراره، محمد بن مسلم، ابو بصير و بريد. ، اس کے بعد فرماتا ہے: «هولاء القوامونبالقسط، هولاء القوالون بالصدق»؛ یہ لوگ عدالت برپا کرنے والے ہیں ، یعنی یہاشارہ ہے اس قائمین قسط کی طرف جو قرآن کریم میں ذکر ہے : هؤلاء السابقون السابقون اولئك المقربوناينها السابقون السابقون"؛ اب کوئی شخص پیغمبر اکرم صلی اللہعلیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں تھا ، لیکن آپ کے راستہ پر صحیح طرح نہیں چلا ہے ،لیکن پھر بھی یہ بتایا جائے کہ چونکہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےزمانہ میں تھا تو یہ خود بخود عنوان السابقون السابقون میں داخل ہوتا ہے ؛ ایسا نہیں ہے !السابقونالسابقون وہ لوگ ہیں جو دین کی حفاظت کرنے ،دین کو بیان کرنے اور دین کو قوت پہنچانے میں دوسروں سے سبقت لے لیں ، یہاں پرزمان کے لحاظ سے پہلے ہونا مراد نہیں ہے ، کہ یہ بتایا جائے چونکہ ایک شخص زمان کےاعتبار سے دوسرے سے مقدم ہے ، تو یہ اسی اعتبار سے مقدم ہوگا ، ایسا نہیں ہے ۔

ایک اور روایت جو پہلے کی روایات کینسبت کچھ مفصل ہے ، اس میں جمیل بن دراج کہتا ہے : میں ایک دن امام صادق علیہالسلام کی خدمت میں شرفیاب ہوا تو ایک شخص وہاں سے نکل کر جا رہا تھا ، حضرت (ع)نے مجھ سے فرمایا :«لقيت الرجل الخارج من عندي» ؛جو شخص یہاں سے نکل کر جا رہا تھا کیا تم نے اس کو دیکھا ؟«فقلت بلي»؛ عرض کیا : جی ہاں! «هو رجلٌ من اصحابنا من أهل الكوفه»؛ پہلے جمیل نے کہایہ شخص ہمارے افراد میں سے ہے اور اہل کوفہ ہے ، امام علیہ السلام نے فرمایا : «لاقدّس الله روحه و لا قدّس مثله»؛خدا  اس کی روح کی تزکیہ نہ کرے ! یہ یا نفرین ہے ،یا یہ بھی وہ دعا ہے جو ہم عام طور پر کرتے ہیں : قدسالله نفسه، حضرت فرماتا ہے : یہ دعا اس شخص کےلئے نہ ہو ، یہ نفرین سے ایک درجہ کم ہے !یا یہ نفرین ہی ہے کہ ممکن ہے ایسا ہی ہو، یا یہ بتایا جائے کہ حضرت اس کو نفرین کرنا نہیں چاہتا تھا بلکہ  نفرین سے ایک درجہ کم کو بیان فرمایا ہے ، یعنییہ دعا جو اولیاء خدا کے لئے ہے ، ایسے افراد کے لئے نہ ہو !«إنّه ذكر اقوام»؛اس کے بعد حضرت اسشخص کو نفرین کرنے کی علت کو بیان فرماتا ہے ۔

فرماتے ہیں اس کی علت یہ ہے کہ اس شخصنے میرے سامنے ان افراد کو برا بھلا کہنا شروع کیا جو میرے والد بزرگوار کے امیناور مورد اطمینان تھے ، اور میرے والد گرامی ان پر اعتماد کرتے تھے «ذكر اقوام» یعنیان کی عیب جوئی کی «كان أبي ائتمنهم علي حلال الله وحرامه»  ان افراد کی برائی کی جو میرے والد کے ہاں خداکے حلال اور حرام پر امین تھے«و كانوا عيبة علمه»  یہ لوگ میرے باپ کے علم کے مخزن تھے «و كذلك اليوم هم مستودع سرّي»آج بھی میں اپنیاسرار کو ان کے پاس امانت رکھتا ہوں ، دین کے تمام اسرار کو میں ان تک منتقل کرتا ہوں«اصحاب أبي حقّاً إذا أراد الله لأهل الأرض سوءاً صرف بهم عنهمالسوء»یہ ایسے لوگ ہیں کہ اگر خداوند متعال روئے زمین کے تمام لوگوں پر عذاب نازلکرنا چاہئے تو انہیں چار نفر کی برکت سے عذاب کو ان سے ٹال دے گا «هم نجوم شيعتياحياءاً و اموات» یہ میرے شیعوں کے ستارے ہیں زندہ ہو  یا اس دنیا سے چلے جائے«يحيون ذكر أبي»یہ لوگ میرے والداور اجداد کے ذکر کوزندہ رکھنے والے ہیں «بهم يكشف الله كلّ بدعةٍ»لوگوں کے لئے جو بھی بدعت پیش آتی ہے وہان لوگوں کے ذریعہ واضح ہوجاتی ہے ، یہ لوگ کاشف بدعت ہیں«ينفون عن هذا الدين إنتحال المبطلين وتعوّل الغالين» یہ لوگ ان لوگوں کو اس دین سے جدا کرتےہیں جو حقیقتا متدین نہیں ہیں لیکن اپنے آپ کو اس دین سے منسوب کرتے ہیں اور بغیرکسی ملاک اور معیار کے اس دین سے اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں ،ان سب کو یہ لوگ اسدین سے جدا کرتے ہیں ۔

حدیث کے باقیحصوں کو بیان کرنے سے پہلے یہاں پر ایک مطلب کو بیان کروں ؛ اگر واقعا کسی زمانہمیں زرارہ ،محمد بن مسلم اور برید وغیرہ میں یہ خصوصیات تھیں جسے امام صادق علیہالسلام بیان فرما رہے ہیں ، اور چونکہ کسی شخص نے ان کی برائی کی تھی تو امام علیہالسلام اس شخص کو نفرین کرتا ہے ، ہمارے زمانہ میں کون  لوگ حافظان دین ہیں ؟ ہمارے زمانہ میں کونسےمراکز اور کون لوگ دین کی حفاظت کو اپنے ذمہ لیے ہوئے ہیں ؟ علماء ، حوزات علمیہ ،بزرگان اور مراجع عظام، دین کے حافظان ہیں ، اور یہ «لاقدّس الله مثله ولاقدّس الله روحه»وہی نفرین ہےجسے اس زمانہ میں امام صادق علیہ السلام نے کیا ہے ، یہ ہمارے زمانہ میں بھی انلوگوں کو شامل ہوتا ہے جو مراجع عظام کی نسبت بے اعتنائی کرتے ہیں اور ہمیشہ یہکوشش کرتے ہیں کہ جو کچھ یہ حضرات بیان کرے ان کے خلاف کچھ بولے، آج خدا کے حلالاور حرام کے امین کون ہیں ؟ ہمارے مراجع حجاب اور پردہ کے بارے میں اتنے زیادہفریاد کرتے ہیں اور اس بارے میں پریشانی کا اظہار کرتے ہیں ، لیکن اس کے بالکلمقابلہ میں مختلف قسم کے بیانات ، مجلات اور دوسری چیزیں نشر ہوتے ہوئے نظر آتےہیں ۔

امام علیہالسلام اس روایت میں آگے فرماتے ہیں :«ثم بكي»بہت ہی عجیب ہے ،کسی شخص نے جب زرارہ کیبرائی کی ، محمد بن مسلم اور برید کی برائی کی تو امام صادق علیہ السلام  اتنےزیادہ  ناراض ہوتے ہیں اور اس کے مقابلہمیں آتے ہیں اور بعد میں گریہ بھی کرتا ہے کہ کیوں ایسا ہوا ہے ؟

روایت میں فرماتاہے :«عليهم صلوات الله و رحمته أحياءاً و اموات»یہ لوگ زندہ ہو یا اس دنیا سے چلے جائے خدا کی صلوات اوررحمت ان پر ہو ، یہ ہمارے کام کی اہمیت کو ہمارے لئے بیان کرتا ہے ، یہ عظیم دورسجو حوزات علمیہ میں موجود ہیں یہ سب اس لئے ہے کہ ہم چاہتے ہیں حلال اور حرام کوجان جائے !اس سے بڑھ کر کوئی افتخار نہیں ہے کہ انسان کا وجود خدا کے حلال اورحرام کا امین قرار پائے ، خدا کے حلال اور حرام کا حافظ قرار پائے ، اگر کسی جگہدیکھ لیا ہے حلال ہے تو بیان کرے حلال ہے اور اگر دیکھ لیا حرام ہے تو اس کامقابلہ کرے! اور اس کو بیان کرنے میں کوئی ڈر اور خوف محسوس نہ کرے ،بنیادی طور پرحلال اور حرام کے امین کی خصوصیات ہی یہی ہے کہ ان میں کوئی خوف اور ڈر نہیں ہوتا ، اگر کوئی کسی خوف اور ڈر کی وجہ سےکسی چیز کے حرام کو بیان نہ کرے سکے کہ کہیں اس سے مقابلہ نہ کرے ، کہیں اس کی جوعزت و احترام ہے وہ ختم نہ ہو جائے ، تو اس کے بعد یہ امین نہیں ہے ! حلال اورحرام میں خدا کے امین  وہ لوگ ہیں جو اگرکوئی چیز واقعا حلال ہے تو بیان کرے یہ حلال ہے اور اگر کوئی چیز حرام ہے توبیانکرے یہ حرام ہے اور اس کو بیان کرنے میں کسی سے نہ ڈرے۔

اسی منصور دوانیقیکے بارے میں نقل ہے کہ  ایک دن اس نے امامصادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا : «لملا تغشانا كما يغشانا ساير الناس»،جس طرح دوسرے سارے لوگ ہمارے پیچھے آتے ہیں ، ہارے پاس آتے ہیں اور ہمارے ساتھبیٹھ جاتے ہیں ،کیوں آپ لوگ نہیں آتے ؟آپ نے جواب میں فرمایا :«ليس لنا ما نخافك مناجله» ،بہت اچھا جوابہے ، فرمایا : ہمارے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کی وجہ سے تم سے ڈر لگے ، یعنیہمیں کوئی خوف اور ڈر نہیں ہے کہ اس خوف کی وجہ سے تمہارے پاس آجائیں تا کہ محفوظرہے «و لا عندك من أمر الأخرة ما نرجوك له» اور آخرت کے لحاظ سے تمہارے پاس کوئي ایسی مہمچیز  نہیں ہے کہ ہم اس کی امید سے تمہارےپاس آجائيں تا کہ یہ بولے کہ تمہارے پاس آنے سے خدا کے پاس ہمارے لئے ثواب ملے گا، اگر تمہارے پاس آجائے تو خدا سے تقرب حاصل ہو گا ، ہماری آخرت کے لئے فائدہ مندہو ، کوئي ایسی چیز بھی تمہارے پاس نہیں ہے«و لا أنت في نعمةٍ فنهنّيك عليه» ایسا بھی نہیں ہے کہ تمہارے پاس ایسی نعمت  ہو کہ ہم آکر تمہیں اس کی مبارک بادی پیش کرے ،اور یہ عمومی نعمتیں تو سب کے پاس ہے ، اب اگر لوگو کے اموال کو تم نے لے کر کھایاہے اور ناحق طور پر ان کو خرچ کیا ہے تو یہ تمہارے لئے عذاب ہے «و لا تراها نقمةٌفنعزيك»اور تم پرکوئی مصیبت بھی نہیں آئی ہے کہ میںتسلیت کے لئے تمہارے پاس آجاؤں ، ملاحظہ فرمائيں کہ امام علیہ السلام کیسے جواب دےرہا ہے ، یہ ان لوگوں کی خصوصیات میں سے ہے جو خدا وند تبارک و تعالی میں محو ہوتےہیں ، یہ حضرات یہ نہیں دیکھتے کہ ان کے پاس جانا ان کے لئے دنیوی کوئی فائدہ ہےیانہیں ہے ؟

بلکہ یہ دیکھتےہیں کہ کیا ان کے پاس جانا ان کے آخرت کے لئے فائدہ ہے یا نہیں ، ہمارا ملاک اورمعیار بھی یہی ہونا چاہئے ،لوگوں کے ساتھ ہمارے ارتباط میں ملاک اور معیار اوربنیاد یہی چیز ہونی چاہئے ،اگر کسی سے ارتباط قائم کرنا چاہئیں تو دیکھیں واقعاعلمی لحاظ سے ان کے پاس کچھ معلومات ہیں جن سے ہم استفادہ کر سکيں  یا نہیں ہے ؟ تقوا کے لحاظ سے اس کےساتھ ہونےکا کچھ فائدہ ہے یا نہیں ؟ حوزات علمیہ میں ایک چیز جو پہلے تھی لیکن اب نہ صرف وہختم ہو چکا ہے بلکہ ایک بری چیزی اس کے جگہ پر آیا ہے !پہلے حوزات میں یہ دیکھاجاتا تھا کہ کس نے اپنی عمر کو تہذیب  نفس میںگزارا ہے ، اپنی عمر کو خدا کے لئے درس دینے میں گزارا ہے ، خدا کے لئے زحمتاٹھایا ہے ، اس کے تلاش میں رہتے تھے اور اس سے معنوی طور پر بہرہ مند ہوتے تھے ،لیکن اب یہ چیز نہیں ہے !آپ خود بتائيں  اسوقت  حوزہ میں  ہم میں سے کتنے ایسے ہیں جو کسی ایسے شخص کے پيچھےگئے ہوں جو مہذب ہو اور جس نے اپنی عمر کو تہذیب میں گزارا ہو ، یا کسی ایسے شخصکے پاس گئے ہوں  جو ہمیں ایسے افراد کینشاندہی کرے !لیکن اس کے مقابلہ میں کچھ بے بنیاد خواب ، جعلی کرامات ، اور جعلیچیزوں کے پیچھے چلے جاتے ہیں ، واقعا ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ ہم لوگوں سے جوارتباط قائم کرتے ہیں یہ ارتباط کس محور پر ہونا چاہئے ؟ کسی ذمہ دار شخصیت سےرابطہ رکھنا چاہتے ہیں ، کیا یہ رابطہ خدا کے لئے ہے ؟ کیا یہ انقلاب کی خدمت کےلئے ہے ؟ یا نہیں اس رابطہ میں بھی ہمارے دنیوی مقاصد ہوتے ہیں ، بلکہ ہم چند دنبعد کسی  عہدہ پر فائز ہونا چاہتے ہیں ،کہیں ہم بھی ایسے مسائل کے پیچھے تو نہیں ہیں ؟!!

یہ امام صادقعلیہ السلام کا دین کے حافظوں کی نسبت عملی سیرت ہے  اور ان افراد کے ساتھ بھی  آپ علیہ السلام کی سیرت ہے جو دین کے کام نہیںآتے جیسے منصور دوانیقی، ملاحظہ فرمایا کہ امام علیہ السلام نے کس طرح اس سے برتاؤ کیا ، کیسا جواب دیا ، یہ ایک مطلب ہے ۔

دوسرا مطلب :ایک جامع وصیت ہے کہ امام صادق علیہ السلام نے اپنے فرزند گرامی امام کاظم علیہالسلام کے لئے کیا ہے کہ آپ اس میں فرماتے ہیں : «يابنيّ إقبل وصيّتي واحفظ مقالتي فإنّك إن حفظتها تعيش سعيدا و تموت حميدا، يا بنيّمن رضي بما قسّم له استغني، من مدّ عينه إلي ما في يد غيره مات فقير۔۔۔۔۔۔۔» اے میرے بیٹا ! میری وصیت کو سن لیں اور اس پرعمل کریں ، اگر تم نے اسے سن لیا اور عمل کیا تو سعادتمند زندگی گزاروگے اور سبتعریف کرتے ہوئے اس دنیا سے چلے جاو گے ، اے بیٹا!جو شخص اس  رزق و روزی پر راضی ہوا جو اسے نصیب ہوئی ہے وہبے نیاز ہوا ، لیکن جس نے اپنی آنکھ کو دوسروں کی ہاتھوں کی طرف کر لیا وہ فقیر مرے گا ۔۔۔۔۔۔

۱۶۶ قارئين کی تعداد: