pic
pic

مبلغان دینی کی ذمہ داریاں

  • تاریخ 23 October 2017
  • ٹائم 07:51
  • پرنٹ
خبر کا خلاصہ :
روزنامہ جمہوری اسلامی نے حضرت آیت اللہ فاضل لنکرانی (دامت برکاتہ) سے دینی مبلغین کی ذمہ داری اور ان کی خصوصیات اور خطباء اور اہل منبر کے جو احتمالی انحرافات ہے اس بارے میں ایک انٹرویو کیا تھا جس کا تفصیل ذیل میں ملاحظہ فرمائيں ۔

مبلغان دینی کی ذمہ داریاں

اشاره

محرم الحرام کی آمدآمد ہے اور قدیم زمانہ سے لے کے اب تک  اسنیک عادت کے مطابق حوزہ علمیہ کے ہزاروں طلاب اور علماء  تبلیغ کے لئے مختلف جگہوں  کی طرف جاتے ہیں ، خود تبلیغ دین مبین اسلام کیاپنی ایک خاص اہمیت ہے ، لیکن آخری چند سالوں میں اس میں کچھ انحرافات واقع ہوئےہیں اور اس سال حوزہ والوں کے درمیان بھی نقد و انتقاد کی ایک مناسب حالت پیدا ہوگئی ہیں کہ روزنامہ جمہوری اسلامی نے اس بارے میں خصوصی توجہ دی ہے ۔

اس بارے میں حوزہعلمیہ قم کے نامور اور مشہور استاد حضرت آیت اللہ فاضل لنکرانی سے ایک انٹرویو لیاگیا ہے جس میں خطباء اور اہل منبر کے احتمالی انحرافات کے بارے میں گفتگو ہوئی ہےجس کی باقی مطالب آیندہ نشر ہو گا ۔

آپ کا شکریہ اداکرتا ہو ں کہ آپ نے اپنے وقت میں سے کچھ وقت روزنامہ جمہوری اسلامی کے لئے عنایتفرمایا ، ابھی محرم الحرام کی آمد آمد ہے ، اور طلاب دینی اور علماء کرام تبلیغیسفر کے لئے تیار ہو رہے ہیں ، آپ کی نظر میں تبلیغ دین کے حوالہ سے علماء کی کیاذمہ داری ہے ؟

بسم‌اللهالرحمن الرحيم. ،میںسب سے پہلے جناب عالی اور روزنامہ جمہوری اسلامی کے دوستان خصوصا حوزہ سے مختصصفحہ کے مسولین کا شکریہ ادا کرتا ہوں، ہمارے تمام اخبارات میں سے کسی بھی اخبارمیں حوزہ علمیہ سے مخصوص کوئی صفحہ نہیں ہے لیکن اخبار جمہوری اسلامی نے اس بارےمیں ایک صفحہ کو ہی مخصوص کیا ہے لہذا اس کا میں خصوصی شکریہ ادا کرتا ہوں۔

اس بارے میں باتیںبہت زیادہ ہیں ، اور حقیقی معنوں میں اس بارے میں قرآن اور روایات سے مدد لیناچاہئے ، میں تمام مبلغین ، اور ہر وہ شخص سے جو دین کے بیان کرنے کا عہدہ دار ہےانہیں اس بارے میں دعوت دیتا ہوں کہ زیادہ سے زیادہ قرآن ، روایات اور دینی اصلیکتابوں کی طرف مراجعہ کریں ،دین کو صحیح اور درست سمجھ لیں ، اور جو کچھ دین کےبارے می‎ سمجھا ہے اسے لوگوں کے لئے بیان کرے، اس کے علاوہ ایک مبلغ واقعی کےشرائط کو بھی دینی نقطہ نظر سے حاصل کریں ۔

ان دونوں پہلووں کیبہت زیادہ اہمیت ہے ، جو شخص علمی لحاظ سے بہت زیادہ کمزور ہو اور قرآنی اور رواییمطالب کے بارے میں زیادہ آگاہ نہ ہو ، اسے یہ حق نہیں پہنچنا کہ وہ منبر پر جائےاوراپنے آپ کو دین کے بیان کرنے کے مقام پر قرار دیں ،میں کبھی کبھار درس میں آنےوالے طلاب سے عرض کرتا ہوں کہ یہ روایت جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلمسے نقل ہے :«العلماءورثة الانبياء»اس میںوراثت کے تین پہلو ہیں ، ایک علم میں ، دوسرا ایمان میں اور تیسرا تبلیغ میں ہے ، یعنیجو شخص کسی حد تک انبیاء کے جگہ پر قرار پانا چاہتا ہے ، اور وارث انبیاءکے افرادمیں سے ایک فرد ہونا چاہتا ہے ، اس کے لئے سب سے پہلے درجہ پر عالم ہونا چاہئے ،کیا ہمارے پیغمبروں میں سے کوئی ایک پیغمبر ایسا ہے جو جاہل ہو ؟ کیا ہمارےپیغمبروں میں سے کوئی ایک ایسا ہے جس سے کوئی سوال کیا ہو اور اس نے غلط جواب دیاہو ؟ تمام پیغمبروں میں سے کوئی بھی پیغمبر چاہئے اولو العزم ہو یا غیر اولو العزمایسا نہیں ہے جس نے جواب دینے میں غلطی کی ہو ، ہمارے تمام پیغمبران علمی لحاظ سےاعلی درجہ پر فائز تھے ، لہذا میں یہ ادعا نہیں کرسکتا ہوں کہ چونکہ میں نے 3، 4سال حوزہ علمیہ میں درس پڑھا ہے لہذا میرے پاس وہ علم ہے جس کے ذریعہ میں دین کوبیان کر سکتا ہوں ۔

ہمارے والد مرحوم کےزمانہ میں ایک ایم این اے خاتون دینی کسی مسئلہ کے بارے میں اظہار نظر کیا تھا ،اور  خود کو ایک دینی  ماہر کے عنوان سے  اظہار نظر کیا تھا ، ہمارے والد مرحوم نے درسمیں فرمائے کہ میں 50 سال سے زیادہ ہوا ہے درس دیتا ہوں ، لیکن اس کے باوجود یہجرائت نہیں کرتا ہوں کہ خود کو دینی مسائل کا ماہر بتاوں ، لیکن جب اسلام کے بارےمیں تمہارے پاس کوئی معلومات نہیں ہے صرف آگے پیچھے جاتے ہوئے کچھ چیزیں پڑ ھ لیہیں یا کچھ سن لیا ہے ، کیسے خود کو ایک دینی ماہر کے عنوان سے  پیش کرتے ہو؟ میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہمبلغ میں ایک  اہم چیز اس کا علم ہے کہ وہعلم میں کسی حد تک پہنچا ہوا ہونا چاہئے ۔

دوسری چیز اس کاایمان اور یقین ہے ، ایک مبلغ اور عالم اور خطیب کو چاہئے کہ جو کچھ وہ بیان کرتاہے اس پر خود اس کو یقین ہو اور اس پر ایمان رکھتا ہو ، اگر لوگوں کو خدا کی طرفدعوت دیتا ہے تو خود اس کا اس بارے میں یقین محکم ہو ، اگر قیامت کے بارے میںلوگوں کو بتا تا ہے ، تو وہ خود اس بارے میں یقین محکم رکھتا ہو ، اگر وہ لوگوں کونیکی اور اچھی صفات کی طرف دعوت دیتا ہے تو وہ خود اس پر عمل کرنے والا ہو ۔

ہمارے پاس کتنی ایسیاحادیث ہیں جن میں بغیر عمل والے علم سے اور بغیر علم والے عمل سے نہیں کیا گیا ہے، جیسے یہ روایت :«من عمل علي غير علمٍ کان ما يفسد اکثر ممّا يصلح»  بغیرعلم کے عمل کا مفسدہ اس کے اچھائی سے زیادہ ہے ، دوسری طرف سے روایات میں اس عالمکی بھی بہت زیادہ مذمت ہوئی ہے جس عمل نہیں کرتا ہو ، اسی طرح ایمان بھی ہے ۔

مبلغ جن چیزوں کیطرف لوگوں کی دعوت دیتا ہے ، خود کو کامل طور پر اس کام معتقد ہونا چاہئے ، عالموہ ہے جو واقعا خلوت میں خدا سے اس کا خوف لوگوں کے حضور سے زیادہ ہو، اگر واقعاجب وہ تنھا ہو اور خود اور خدا کے درمیان میں زیادہ خوف رکھتا ہو ، یہ اس چیز کیدلیل ہے کہ واقعا اس کا ایمان کسی اچھے مرحلہ تک پہنچ چکا ہے ۔

وراثت کی تیسری شرط،تبلیغ ہے ، یعنی دین کو  لوگوں کے لئے بیانکرے ، اگر کوئی مومن ہے اور اس کے پاس علم بھی ہے ، لیکن وہ اپنے گھر میں بیٹھجائے ، وہ ورثۃ الانبیاء کا عنوان اپنے لئے پیدا نہیں کر سکتا ہے ، وراثت انبیاءیہ ہے کہ جیسے بھی ہو دین کو لوگوں تک پہنچائے ۔

آپ کی نظر میں اسمحرم میں مبلغین کی کیا ذمہ داری ہے ؟

جی ہاں ! ابھی محرمالحرام سال 1439 کی آمد ہے اور حسب معمول طلاب اور علماء کرام شہروں اور دیہاتوںمیں تبلیغ کے لئے جاتے ہیں ، اس مہینہ کے حوالہ سے خود علماء کو چاہئے ایک اہممطلب کی طرف متوجہ رہے ، اور ایک مہم مطلب ہے جس کی طرف لوگوں کو متوجہ رہنا چاہئے۔علماء کو چاہئے کہ علمی لحاظ سے خود کو کسی اعلی مرحلہ تک پہنچائے اور صرف جذباتیتقریر کرنے سے گریز کرے ، آج ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ بعض منابر پر جذبات ، معلوماتاور واقعیات پر غالب ہے ، خطیب اور صاحب منبر کو چاہئے کہ یہ جان لیں آپ جب جذباتکے پیچھے چلے گئے تو خود بخود واقعیات سے دور ہو جائيں گے ، ہماری یہ ذمہ داری ہےکہ جو دین کی واقع ہے اور حقیقت ہے اسے لوگوں کے لئے بیان کرے ، جذبات کے وادی میںگر جانا بعض اوقات انسان کے کسی بدعت کی بنیاد رکھنے کا سبب بنتا ہے ،کہ جس کے بعدبہت جلد اسے ختم کرنا ممکن نہیں ہوتا ۔

ایک عالم دین کوچاہئے کہ وہ واقعہ عاشورا کو صحیح طرح جانتا ہو ، عاشورا کے بارے میں اس کا مطالعہکامل ہونا چاہئے ، اگر ایک عالم دین دو روایت کو دیکھیں اور دو مقاتل کی کتابوں کا مطالعہ کرے پھر وہ منبر پر جاکر  امام حسین  علیہ السلام کے بارے میں تقریر کرنا چاہئے تویہ دین اور امام حسین علیہ السلام کے حق میں ظلم ہے ، ہمارا یہ زمانہ ایسا زمانہنہیں ہے کہ انسان صرف ایک تاریخی مطلب اور ایک حدیث پر اکتفاء کرے اور اسی پر وہتقریر کو ختم کردے ۔

ہمارا زمانہ ایسازمانہ ہے کہ اگر ایک عالم دین منبر پر جاتا ہے تو وہ اسی ایک تقریر کے ذریعہمعاشرہ میں بہت بڑی تبدیلی لا سکتا ہے ، فرق نہیں اچھی تبدیلی یا انحرافائیتبدیلی، لہذا اسے چاہئے کہ بہت زیادہ مطالعہ کرے ، الحمد اللہ امام حسین علیہالسلام کے بارے میں بہت ساری کتابیں لکھی گئی ہیں ، بہت سارے دائرۃ المعارف اورانساکیلیوپیڈیا لکھی گئی ہیں ، ان سب کا مطالعہ کریں اور جیسا ہونا چاہئے ایسا ہی بیانکرے ۔

دوسرا مطلب یہ ہے کہایک عالم دین کا پورا وجود دین کی حمایت اور شیطان کی دشمنی میں ہونا چاہئے ، ایکعالم دین کا وجود ایسا ہونا چاہئے کہ وہ خدا کے متدین اور اچھے بندوں کے ساتھرابطہ بہت اچھا ہو ، لیکن دیورا کو توڑ دیا اور  اس پر عمل نہیں ہوا اور اس کے برعکس عمل ہوا ،تو وہ صحیح نہیں ہے ، جس طرح اس میں کوئی مشکل نہیں ہے کہ انسان کا ایک چادر پہنےوالی محجبہ متدین خاتون کے ساتھ کوئی تصویر ہو ، اسی طرح ہم  کسی ایسے انسان کے ساتھ کوئی تصویر  کھینچ لیں جو کسی بد حجاب عورت کے ساتھ تصویرکھینچتا ہے وہ عورت اپنے اس بد حجابی کی وجہ سے قرآن اور خداوند تبارک و تعالی کامذاق اڑاتی ہے یا کم از کم نافرمانی کر رہی ہے ، اس کے ساتھ کھڑے ہو کر تصویرکھینچ لیں اور سوشل میڈیا پر وائرل کر لیں ، پھر بولیں یہ ایک عالم دین ہے ۔

عالم دین کو چاہئےکہ وہ دین خدا کا حامی ہو، اپنے قول ، فعل ، اپنی زندگی اور رفتار و کردار کےذریعہ خدا کے احکام کا حامی ہو، لیکن اگر میرے لئے فرق نہ ہو کہ متقی ، نیک ،دیندار اور اہل نماز  افراد کے ساتھ اٹھنابیٹھنا ہو ، یا ایسے افراد کے ساتھ  میرااٹھنا بیٹھنا ہو جو ظاہری لحاظ سے (واقع اور اندر سے یہ کیسا ہے اس سے ہمارا تعلقنہیں ہے )فسق و فجور اور حدود الہی کے برخلاف اور محرمات الہی کو انجام دیتا ہو،یہ کوئی اچھا کام نہیں ہے ۔

اشارہ: آپ نے فرمایاکہ ایک مبلغ کے لئے دینی مسائل میں گہرائی میں جانا چاہئے ، اور بعض مبلغین کے اسبارے میں کمی و کاستی کی وجہ سے  معاشرہمیں سطحی اور حتی کہ بعض انحرافات کے وجود میں آنے کا سبب بنا ہے کہ ان چیزوں کولوگوں کے اذہان سے صاف کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے ، مہربانی فرما کر  اس بارے میں کچھ وضاحت فرمائيں :

جی ہاں ! افسوس کیبات ہے کہ ایسا ہی ہے ، اور ان آخری سالوں میں کم علم ذاکرین ایسی چيزوں کو بیان کرتے ہیں کہ جن کی کوئي بنیاد نہیں ہے ،مثال کے طور پر ہم ابھی اربعین کے ایام میں واقع ہیں ، چند سال ہیں کہ اربعین میںشیعوں کی ایک خصوصی نمایش وجود میں آيا ہے ، نجف سے کربلا تک پیدل جانا واقعا ایکعظیم حرکت ہے ، جو شیعوں کی اعتقادی عظمت کو بیان کرتا  ہے ۔

یہ چیزیں ہونی چاہئے، ہم جس طرح اصل زیارت امام حسین علیہ السلام کے بارے میں ترغیب کرتے ہیں ، اسپیدل چلنے کے بارے میں بھی ترغیب کرنی چاہئے ، لیکن  ایک طلبہ ہونے کے لحاظ سے  مجھے یہ حق نہیں ہے کہ اربعین کا یہ پیدل مارچظہور امام زمان (عج) کی نشانیوں میں سے ایک ہے ، میں نے سوشل میڈیا میں بعض علماءاور طلاب دینی سے یہ دیکھ چکا ہوں کہ انہوں سے اسے امام زمان (عج) کے ظہور کینشانیوں میں سے ایک قرار دیا ہے ، میرا سوال یہ ہے کہ ہماری کونسی کتاب میں  یہ مطلب درج ہے ؟

بہت ساری نشانیاں جوہماری کتابوں میں ہے ، خود ان کے بارے میں بھی اختلاف ہے ، کچھ نشانیاں یقینی ہیںاور کچھ غیر یقینی ہیں ، اور بعض نشانیوں میں بداء بھی حاصل ہوتی ہے ، لیکن اگر ہممہدویت کے بارے میں موجود تمام کتابوں کا چھان بین کر لیں تو ایک جگہ پر بھی یہنہیں ہے کہ آخر الزمان میں نجف سے کربلا تک شیعوں کا پیدل جانا امام زمان (عج) کےظہور کی نشانیوں میں سے ایک ہے ، لیکن سوشل میڈیا پر یہ مطلب بہت زیادہ وائرل ہوئیہے ۔

حقیقت میں یہ ایکبہت بڑی آفت اور ایک بڑا انحراف ہے جو ان آخری چند سالوں میں ہمارے ملک میں واقعہوئے ہیں ، ہر مہینہ میں کہتے تھے یہ ظہور کا مہینہ ہے ، ان لوگوں نے انتظار کو ہیخراب کر دیا ہے ، جس انتظار کو آئمہ علیہم السلام چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ انسان ہروقت ظہور کے واقع ہونے کا منتظر رہے ، لیکن ہم نے اسے جوانوں کے لئے ایسا بیان کیاہے کہ گویا آج یا کل ہی واقع ہونے والا ہے ، یہ انحرافات وجود میں آئے اور مہدویتاور انتظار کو خراب کر دیا ہے ۔

جیساکہ ہمارے بعضوعاظ اور ذاکرین جوانوں کو جذب کرنے کے لئے خدا وند متعال کے صرف رحمت کو بیانکرتے ہیں اور عذاب کو کلی طور پر بھلا دیتے ہیں در حالیکہ قرآن کریم میں فرماتا ہے: «نَبِّئْعِبادِي اَنِّي اَنَا اَلْغَفُورُ اَلرَّحِيمُ وَ اَنَّ عَذابِي هُوَ الْعَذابُالْاَلِيمُ»؛ (حجر/49، 50)،"میرے بندوں کو خبر کردو کہ میں بہت بخشنے والا اور مہربان ہوں ، اور میرا عذاب بھی بڑا دردناک عذاب ہے"اورامام صادق علیہ السلام بھی امیر المومنین علیہ السلام سے نقل کرتا ہے :«ألا أخبرکم بالفقيه حق الفقيه، من لميقنط الناس من رحمة الله‏؛»فقیہانسان وہ ہے جو لوگوں کو خدا کی رحمت سے مایوس نہ کرے ، «و لم يؤمنهم من عذاب‌الله»؛ اور لوگوں کو خدا کے عذاب سے اماننہ دے "۔

اگر کوئي واعظ منبرپر گیا اور یہ بولا کہ اے جوانو! جو گناہ بھی انجام دینا چاہتے ہو انجام دے دو اورجان لو کہ امام حسین علیہ السلام پر ایک قطرہ آنسو بہانے سے وہ سب گناہیں پاک ہوجاتی ہیں ، اس واعظ کی یہ بات ہمارے دین کے برخلاف ہے ۔

جی ہاں! ہمارے پاسروایات ہیں کہ جس طرح خوف خدا میں ایک قطرہ آنسو بہانا سبب ہوتا ہے اس آگ کو خاموشکرے جس کا انسان مستحق ہے ، اسی طرح امام حسین علیہ السلام پر رونے میں بھی یہقابلیت ہے ، لیکن اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ جوانوں سے یہ بتایا جائے کہ جاو جو بھیگناہ کرنا ہے انجام دو ، اس کے بعد رات کو مجلس میں آکر ایک قطرہ آنسو بہائے ،کبھی بھی ایسا نہیں ہے ۔

خدا کے خوف سے رونابھی ایسا ہی ہے ، اگر انسان گناہ کوانجام دینے کے بعد روتا ہے لیکن یہ بولے ایکگھنٹہ کے بعد دوبارہ اسی گناہ کو انجام دینا ہے ، تو اس رونے میں کوئی فائدہ نہیںہے ، امام حسین علیہ السلام کی یاد میں بہانے والی وہ آنسو گناہوں کو صاف کرتا ہےجو انسان کو پاکی اور طہارت پر قرار دے ، یہ روایت بہت ہی اچھی روایت ہے کہ فرماتاہے :«لميؤمنهم من عذاب‌الله»،لوگوںکو خدا کے عذاب سے امان نہ دے دیں ۔

لوگوں سے یہ بتاناچاہئے کہ ممکن ہے ایک گناہ صغیرہ انجام دے اور اسی گناہ صغیرہ میں خدا کا غضب ہو ،اس بارے میں بہت ہی باریک بینی سے کام لینے کی ضرورت ہے ، قرآن میں فرماتا ہے :«يغْفِرُ لِمَنْ يشاءُ وَ يعَذِّبُمَنْ يشاءُ»،مغفرتاور عذاب کو ایک ساتھ بیان کیا ہے ، «ولم يرخص لهم في معاصي‌الله»،جوانوں کے لئے خدا کی معصیت کے راستہکو نہ کھولا جائے ، یہ وہ روایت ہے جسے امام صادق نے امیر المومنین علیہما السلامسے نقل فرمایا ہے ۔

یہ نہ سوچا جائے کہاگر ہمیں کوئی موقعیت نصیب ہوئی ، یا کوئي اخبار ہمارے ہاتھ میں آیا ، یا ایک جگہتقریر کرنے کا موقع ملا تو جو جی میں آئے بولنا شروع کر دے ، نہیں ؛ ایسا نہیں ہے!یہ روایت ہمیشہ ہمارے مدنظر ہونا چاہئے ،«مَن اَصغي الي ناطِقٍ فَقَدعَبَدَهُ، ‌فَاِن کانَ النّاطِقُ يوَدّي عَنِ‌الله عزّوجلّ فَقَد عَبَدَالله، ‌وَان کانَ النّاطِقُ يوَدّي عَنِ الشَّيطانِ فَقَد عَبَدَ الشَّيطانَ» ؛اگر لوگوں کو خدا کی طرف دعوت کرے ،تو اس نے خدا کی عبادت کی ہے ؛ اور اگر لوگوں کو شیطان کی طرف دعوت دے ، تو اس نےشیطان کی عبادت کی ہے ، یعنی ممکن ہے ایک ذاکر منبر پر جا کر یا ایک بولنے والا ،یا ایک مولف یا کوئی بھی جس مقام و منصب پر ہو وہ خدا کی طرف بلانے والا ہو یاممکن ہے وہ شیطان کی طرف بلانے والا ہو ، لہذا ہمیں اپنے تقریر وں میں زیادہ توجہدینا چاہئے ۔

ایک اور مطلب جو بہتزیادہ مہم ہے اور ہماری روایات میں اس بارےمیں مطالب بھی ہے ، وہ یہ ہے کہ جس چیزکو لوگ نہیں کسی بھی صورت میں قبول نہیں کرتے ہیں اسے لوگوں کے لئے بیان نہ کیاجائے ، مثلا فلان شخص کو جس طرح  سامنے سےنظر آتا ہے پیچھے سے بھی نظر آتا ہے ! عاقل انسان اسے قبول نہیں کرتا ، عاقل لوگکہتے ہیں کہ اگر کوئی پیغمبر ہو ، تو یہ وحی اور آسمان سے رابطہ میں ہے ، لہذاایسا ممکن ہے کہ ملائکہ یا خدا کی طرف سے اس تک کچھ چیزیں پہنچ جاتی ہو ، لیکنمعمولی انسانوں کے بارے میں ایسی باتیں نہ کی جائے ۔

ایک دفعہ ہمارے والدمحترم آيت اللہ العظمی فاضل ( رضوان اللہ علیہ ) کسی شخصیت سے فرمایا: آپ نے اپنیکتاب میں لکھا ہے کہ فلان شخص جب ماں کی پیٹ میں تھا ، تو اس کے والد نے ایکحرام  کھانا لے آیا ، جب اس بچہ کی ماں نےاس کھانے کو کھایا تو بچہ نے ماں کے پیٹ میں لاد مارا جس کی وجہ سے ماں کو الٹی ہوگئی اور جو کچھ کھایا تھا سب کو باہر نکال دیا " ہمارے والد نے فرمایا : واضحہے کہ یہ جھوٹ ہے ، کوئی عاقل انسان اس طرح کی بات نہیں کر سکتا ، جی ہاں! حضرتزہرا سلام الله علیها  کے بارے میں ہمارےپاس دلیل ہے ، آپ کی مقام عصمت تھی ، لیکن کیوں ہم اس طرح کی باتوں کو دوسروں کےبارے میں بتائے ۔

افسوس کی بات ہے کہآجکل کچھ شخصیات کے بارے میں فرق نہیں وہ حوزوی ہو یا غیر حوزوی ایسے غلو سے بھریباتیں کرتے نظر آتے ہیں کہ جن کی کوئی بنیاد نہیں ہے ، افسوس کی بات یہ ہے کہ اسبارے میں بہت ساری کتابیں بھی لکھی گئی ہیں ، لیکن یہ کتابیں جھوٹ سے بھری پڑی ہیں،ایسی چیزوں کو بیان نہیں کرنا چاہئے ، مثلا یہ بولے کہ فلان شخص سمندر کے پانی پرچلنے کی قدرت رکھتے تھے ! ہم اس کے امکان کے منکر نہیں ہیں ،لیکن یہ چیزیں صرفخواص کے لئے ہے اور یہ اسرار ہوتے ہیں، حتی کہ اگر طی الارض بھی کسی اولیا ء کےپاس ہو تو یہ بھی اسرار میں سے ہے اور یہ صرف خواص کے لئے ہے ۔

اب اگر کوئی منبر پرجاکر عوام کے لئے طی الارض کو بیان کرے ، یہ لوگ تو اسے سمجھ نہیں پاتے ، جی ہاںآئمہ علیہم السلام کی بات الگ ہے ، اور اسے بیان بھی کرنا چاہئے ، لیکن دوسرےلوگوں کے لئے نہیں ۔

روایت کا متن یہ ہے:«حدّثالناس بما يعرفون» ؛یعنی ایک ایسی چیز کو لوگوں کے لئے بیان کریں جسے ان کے فکر قبول کرے «و دعوا ما ينکرون» ؛اور جن چيزوں کو عام لوگ اپنے ذہنسالم اور عقل سلیم سے انکار کرتے ہیں انہیں چھوڑ دیں ۔

اب اگر کوئی یہبولے: امام زمان (عج) نے فرمایا ہے کہ فلان شخص کو ملک کا صدر ہونا چاہئے ، واضحہے کہ یہ جھوٹ ہے ،ہم نے چند سال یہ تجربہ کر چکے ہیں ، اب دوبارہ یہی بولیں کہامام زمان (عج) نے فرمایا ہے کہ فلان شخص کو صدر ہونا چاہئے ، یہ باتیں جھوٹ ہیں، دیندار لوگجانتے ہیں کہ امام زمان علیہ السلام ملک کے صدر کون بننا چاہئے اس بارےمیں کوئیدخالت نہیں کرتے۔

«دعوا ما ينکرون أتحبّون أن يسبّ‌ اللهو رسوله»؛کیا تمہیں یہ پسند ہے کہ خدا اور رسول کی سب و شتم ہو جائے۔

اگر ہم یہ بتائےکہ امام زمان علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ فلان شخص ملک کا صدر ہونا چاہئے ، اوریہ صدر بن بھی گیا لیکن وہ کسی کام کا نہیں نکلا، اس نے غلط کام انجام دیا ، اس سےغلطی ہو گئی ،اس وقت پھر امام زمان علیہ السلام کا سب و شتم کرتے ہیں ۔

ان انحرافات کےمقابلہ میں لوگوں کی کیا ذمہ داری ہے؟

لوگوں کی ذمہداری یہ ہے کہ اگر ایک عالم دین دنیا طلب ہے ، ایک عالم ہے جس کی یہ خواہش ہے کہاس کے تقریر سننے والے بہت زیادہ ہوں ، ایک عالم یا انہیں بہت کم پڑھے ہوئے طلبہمیں سے ایک ہے جو ابھی مشہور بھی ہو رہاہے ، مجھے خبر ملی ہے کہ وہ دس دن تقریرکرنا چاہتا ہےاور تیس(30) میلیون تومان لینا چاہتا ہے ، اس روایت کے مطابق اس شخصکو متہم کرکے اس سے دور ہونا چاہئے ۔

امام صادق علیہالسلام فرماتے ہیں : «اذارايتم العالم محبا لدنياه فاتهموه على دينکم‏»، اگر ایک عالمدین ہر دن الگ کپڑے بدل دیتا ہے ، ایک دن عبا و قبا پہن لیتا ہے ، ایک دن تھری پیسپہن لیتا ہے اور تیسرے دن کوئی اور عجیب لباس پہن لیتا ہے ، مختلف قسم کے سفروںمیں جاتا رہتا ہے ، واضح ہے ایسا شخص دنیا طلب ہے ، اس نے اپنے آپ کو لوگوں کے لئےوقف نہیں کیا ہے ۔

«اذا رأيتم العالم محبا لدنياه فاتهموهعلى دينکم فان کلّ محب لشي‏ء يحوط ما أحب‏؛»،جو شخص جس چیزکا محب ہو ، جس چیز کو وہ پسند کرتا ہے وہ اسی کے گرد گھومتا ہے ، وہ اپنے دنیا کےپیچھے ہوتا ہے ۔

اگر کوئی عالملوگوں کو اپنی طرف بلائے ، دنیا طلب ہو ، کیا آپ نے کبھی دیکھا ہے کہ امام خمینیرہ لوگوں کو اپنی طرف دعوت دے ، کیا ایک دفعہ بھی خود کو نماياں کرتے ہوئے دیکھاہے ؟ مجھے تو یاد نہیں ہے ایسا کیا ہو ، امام نے لوگوں کو صرف اسلام کی طرف دعوتدی ہے ۔

اس کے بعد امامصادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:«أوحى‌الله إلى داود(ع) لاتجعل بينيوبينک عالماً مفتوناً بالدنيا»؛خداوند متعال نے حضرت داود علیہ السلام کی طرف وحی کی :وہعالم جو دنیا میں پھسا ہوا ہو اسے میرے اور اپنے درمیان قرار نہ دے ،«فيصدک عن طريق محبتي فان اولئک قطاعطريق عبادي»؛لوگوں کو جان لینا چاہئے کہ وہ عالم جو اسلام کے احکامضروری کا انکار کرتا ہے ،روایات کے مطابق وہ قطاع الطریق (ڈاکو اور راہزن) ہیں ،ورنہ کون عالم دین اسلام کے احکام ضروری کا انکار کر سکتا ہے ، وہ عالم جو جوانوںکو لھو ولعب چیزوں کی طرف دعوت دیتا ہے اور ان چیزوں کی برائی اور قباحت کو ختمکرد یتا ہے «فاناولئک قطاع طريق عبادي».

مجھے امید ہے کہلوگ میری  ان باتوں کی طرف توجہ کریں گے ،ہر شخص کے تقریر سننے نہ جائے ، جو بھی طلبہ ہو اسے دعوت نہ دیں ،بلکہ اس طلبہ کیعلمیت کو دیکھ لیں ، اگر ایک طلبہ منبر پر جا کر ان کے لئے نوحہ پڑھیں تو سمجھ لیںوہ کسی کا م کا نہیں ہے ، بلکہ ایک ایسے عالم کے پیچھے جائیں جو ان کی دین کوتقویت بخشے ، دوسری طرف سے اگر خود لوگ یہ بتائے ہم ایسی عزاداری برگزار کرناچاہتے ہیں جس میں بہت زیادہ لوگ آئے ، اگر اس سوچ میں ہو کہ سو نفر  کو کھانا کھلانے کے بدلے ہزار نفر کو کھاناکھلائے ، معلوم ہوتا ہے کہ یہ امام حسین علیہ السلام کے لئے نہیں ہے ، جی ہاں !مجلس امام حسین علیہ السلام کی سامعین کی تعداد جتنی زیادہ ہو اور جتنا زیادہکھانا کھلائے وہ بہتر ہے ، لیکن اگر یہی ہدف اور مقصد ہو تویہ صحیح نہیں ہے ۔

اس وقت جو دیکھادیکھی کا جو بازار گرم ہے کہ بعض اوقات ہم دیکھتے ہیں کہ ماتمی انجمنیں ایک دوسرےسے سبقت لینے کے سوچ میں ہیں، ایسا کام کر لیتے ہیں کہ ان کے مجلس میں زیادہ لوگآئے اور دوسری مجلس میں لوگ کم ہو جائے ، یہ صحیح نہیں ہے ۔

ہمیں چاہئے کہہمارے ان ماتمی انجمنوں میں وہ حسینی حقیقت باقی رہے ، امام حسین علیہ السلام نےبہت ہی مختصر لوگوں کے ساتھ قیامت تک کے لئے ایک عظمت قائم کر لیا ، ہمیں بھی اسعلم کے سایہ میں  کام اور خدمت کرنا چاہئے، جو ہم سے ہو سکتے ہیں اتنے ہی اندازہ میں دین خدا کے لئے سعی و کوشش کرے ۔

حضرت عالی کینظر میں اس بارے میں علماء کی کیا ذمہ داری ہیں؟

جی علماء کی بھیکچھ ذمہ داریاں ہیں ، عام طور پر محرم کے نزدیک حوزہ علمیہ کے اساتید طلاب محتر مکےلئے کچھ نصحتیں کرتے ہیں ، البتہ اس سال چھٹیاں تھیں ، لہذا یہ مسائل بھی بیاننہیں ہوئے ، وہ علماء جو واقعا اپنے اندر صلاحیت دیکھتے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ انمنابر پر آکر خطاب کرے اور جن میں صلاحیت نہیں ہیں ان کو آگے آنے نہ دیں ۔

اہم مطالب

*جو شخص علمیلحاظ سے بہت کمزور ہو ، اور قرآن اورروایات کے بارے میں زیادہ آگاہی نہیںرکھتا  ہو اسے جائز نہیں ہے کہ وہ منبر پرجائے اور دین  کو بیان کرنے کے مقام پرقرار پائے ۔

*ایک مبلغ ، عالماور خطیب کو چاہئے جو بول رہا ہے اس پر ایمان اور یقین ہو ۔

*ہمارے کچھ وعاظجوانوں کو جذب کرنے کے لئے صرف خداوند متعال کی رحمت کو بیان کرتا ہے ، اور عذابکو اصلا بیان نہیں کرتا ، ان کا یہ کام قرآن اور روایات کے خلاف ہے ۔

*

*افسوس کی بات ہےکہ آجکل کچھ شخصیتوں کے بارے میں غلو سے کام لیتے ہیں فرق نہیں  وہ حوزوی ہو یا غیر حوزوی ، کہ جن کی کوئيبنیاد نہیں ہے ۔

*وہ عالم جوجوانوں کو لھو و لعب کے مصادیق چیزوں کی طرف دعوت دیتا ہے ، اور ان کی قباحت کوختم کر دیتا ہے وہ قطاع الطریق (راہ زن) ہیں ۔