pic
pic

جو لوگ عزاداری کو بے بنیاد سمجھتے ہیں ان پر خدا کی عذاب ہے

  • تاریخ 19 November 2017
  • ٹائم 15:55
  • پرنٹ
خبر کا خلاصہ :
اہلبیت علیہم السلام کے لئے عزاداری کا فلسفہ اور امام حسین علیہ السلام کے کلام میں دینداری کا درس ؛ شفقنا نیوز کا حضرت آیت اللہ فاضل لنکرانی دامت برکاتہ سے انٹرویو

جو لوگ عزاداری کو بے بنیاد سمجھتے ہیں ان پر خدا کی عذاب ہے

آجکل سوشل میڈیا پر عزاداری سے متعلق کچھ شبہات اور اعتراضاتکو بیان کرتے ہیں ، ایک اشکال جو قدیم زمانہ سے تھا اور ابھی تک ہے وہ یہ ہےکہ1400  سال پہلے کچھ افراد شہادت کے درجہ پرفائز ہوئے ، تو ابھی ان کے لئے عزاداری کرنے کی کیا ضرورت ہے !؟ یا بعض افرادبتاتے ہیں کہ اگر ہمارے لوگ امیر المومنین علیہ السلام کے لئے عزاداری کرتے ہیں ،تو کیوں دوسرے خلفاء کے لئے کیوں عزاداری نہیں کرتے ہیں جو مارے گئے ہیں ، امامحسین علیہ السلام کے لئے عزاداری کرنے کا کیا مطلب ہے کہ سالوں سال سے ان کے لئےعزاداری کر رہے ہیں ؟

 میں اس جملہ کے بارے میں تاکید کرتا ہوں کہکربلا میں ایک انسان کامل جو فيض الہی کا واسطہ تھے وہ اپنے اصحاب کے ساتھ شہیدہوئے ، ایسا نہیں ہے کہ ایک عام انسان نے کسی زمانہ میں جھاد کیا ہے اور ہم ابھیان کے لئے عزاداری کر رہے ہیں، ایک ایسی شخصیت شہید ہوئے ہیں جو ہمارے عقیدہ کےمطابق خداوند تبارک وتعالی کے فیض کا واسطہ تھے ، اور لوگوں پر خدا کی حجت تھے،اگر کوئی صرف اسی جملہ پر توجہ دیں کہ کسی زمانہ میں ہمارے جیسے ایک انسان نے ایکایسا قیام کر لیا ، صرف اسی جملہ پر غور و فکر کرے، اور عزاداری کے بارے میں جوروایات ہیں ان کو دیکھے ہی نہیں ،پھر بھی وہ اس انسان کے بلند درجات کو جان جائيںگے ، اور سالوں سال تک اس پر گریہ و زاری کریں گے ۔

ہمارا یہ اعتقاد ہے کہ انسان کامل صرفاپنی زندگی میں واسطہ فیض نہیں ہیں ، بلکہ وہ اس دنیا سے جانے کے بعد بھی واسطہفیض ہیں ، زیارات کے بارے میں گفتگو میں جن ادلہ کو ہم نے ذکر کیا ہے وہ اسی بنیادپر قائم ہے، کہ ایک دنیا طلب ، مقام پرست اور ہر لحاظ سے دنیوی زرق و برق کے فرفتہافراد  ایسی ہولناک جنایت  کو انجام دئیے ہیں ، یہ مطلب کیا انسان کو نہیںبتاتا ہے کہ یہ ایک ایسی خیانت ہے جو قیامت تک کے بشریت کے ساتھ واقع ہوا ہے ؟ !کیا یہ بیان نہیں کر رہا ہے کہ یہ ایک ایسی جنایت ہے جو اس وقت کے لوگوں کے ساتھہوا اور تمام زمانوں کے لوگوں کے ساتھ ہواہے ، یعنی یزید نے صرف اپنے زمانہ کےلوگوں پر ظلم و ستم  نہیں کیا ہے ، بلکہابھی بھی اس ظلم و ستم کے آثار باقی ہے ، لہذا عزاداری  اس معنی میں ہے ، کبھی یہاں پر عرب اور عجم کیبات کرتے ہیں ، لیکن ہمارے جوان بہن اور بھائيوں جو تحقیق کرنا چاہتے ہیں ، وہ اسمطلب کی طرف توجہ دیں کہ ہماری عزاداری کا محور یہ ہے ۔

وہ شخص جو کہتا ہے علی ابن ابی طالب علیہالسلام رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا خلیفہ تھا ، اگر ان کی شہادت پر ہمعزاداری کرتے ہیں ، پس کیوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دوسرے دوخلیفہ جو مارے گئے ہیں ان  کے لئے عزادارینہیں کرتے ہیں ،انسان ایسی بات سن کر تعجب کرتے ہیں ، امیرالمومنین علیہ السلام کامقام اور دوسرے انسانوں کا مقام! امیر المومنین علیہ السلام حجت خدا تھے، رسولاللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا وصی ، انسان کامل اور برکات خدا کے نازل ہونےکا واسطہ تھے ، کیسے اس انسان نے ایسا قیاس کیا ہے ؟ مخصوصا وہ شخص جو کسی زمانہمیں نہج البلاغہ کے شرح اور تفسیر بولنے کا دعویدار تھا ۔

ہم اپنے اعتقادات کی بنیاد پر بتاتے ہیںکہ ہمارے آئمہ علیہم السلام واسطہ فیض خداوند تبارک و تعالی ہیں ،اگر اس سے ایکمرحلہ نیچے آئيں تو  یہ بات مسلم ہے کہ طولتاریخ میں نہ خود ان سے پہلے اور نہ ان کے بعد ان جیسا کوئی نہیں تھے ، رسول اللہصلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے علاوہ پوری انسانیت میں ایک شخص ایسا دیکھا دیں جوامیر المومنین علیہ السلام سے سو درجہ نیچے والا کوئی ہو ، یا آئمہ علیہ السلام کےعلاوہ ان کے بعد کوئي ایک شخصیت ایسی دیکھا دیں ، ہمارے آئمہ علیہم السلام  ایسی ہستیاں ہیں جن کا کوئي نظیر نہیں ہیں ،مسئلہ امامت کےعلاوہ ، ایسی شخصیت ہیں کہ سچائی ، امانت داری، لوگوں سے میل جولمیں بشری تمام اچھی صفات ان میں متجلی تھے ، بشریت اگر قیامت تک ان کے عزاء میںروئے تو بھی کم ہے، ان سب کے علاوہ اعتقادات کا مسئلہ بھی ہے ، یہ بتا یا جائے کہواسطہ فيض خدا ہیں  ، ایک امام کو شہیدکرنا ایک عام انسان کو مارنے کی طرح نہیں ہے ، لہذا خدا ثار اللہ اور ان کے خون کامنتقم ہوتا ہے ۔

اگر عرب و عجم، گذشتہ اور حال میں غور وفکر کریں تو اس نتیجہ تک پہنچتا ہے کہ ہر سال ہماری عزاداری زیادہ ہونا چاہئے ،کیونکہ بہت بڑا مسئلہ ہے اور ایک ایسی جنایت کا مرتکب ہوا ہے جس کی کوئی مثالتاریخ میں نہیں ہے ، روایات میں بھی ہے کہ یہ واقعہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کے برابرکوئي بھی واقعہ نہیں ہے ، اس مصیبت جیسا آسمان اور زمین میں کوئي مصیبت نہیں تھیاور نہ آيندہ ہو سکتا ہے ۔

فلسفہ عزاداری کو ان چند جملات میں خلاصہکر سکتے ہیں :

1۔ عزاداری صرف آنسو اور رونا نہیں ہے ،عزاداری انسان کے تکامل کا سبب ہے ۔

یہ ایک مطلب ہے جس کے بارے میں ہم میں سےاکثر غافل ہیں ، انسان مجلس عزا میں جا کر اپنی روح کو کمال کے درجہ پر لے جاتا ہے، ایک ایسی تکامل جو خود بخود وجود میں آتی ہے اگرچہ وہ خود اس بارے میں متوجہ بھینہ ہو ، روایات میں ہے کہ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:: «ياابْنَ شَبِيبٍ إِنْ سَرَّکَ أَنْ تَکُونَ مَعَنَا فِي الدَّرَجَاتِ الْعُلَي مِنَالْجِنَانِ فَاحْزَنْ لِحُزْنِنَا وَ افْرَحْ لِفَرَحِنَا»،اگرانسان بہشت میں بلند درجات پر آئمہ علیہم السلام کے ساتھ واقع ہونا چاہتے ہیں تواسے چاہئے کہ ان کے غم میں غمگین ہو جائے اور ان کے خوشی میں خوش  ، یہ انسان کے تکامل کا راستہ ہے ، اور بہشتایک ظاہری اثر ہے جو ہمیں بتایا جاتا ہے ۔

2۔ عزاداری آئمہ علیہم السلام  کے امر کو زندہ کرنا ہے ، اس بارے میں بہت ساریروایات ہیں ، مثال کے طور پر ایک روایت میں امام صادق علیہ السلام فضیل سے فرماتاہے : «رَحِمَاللّهُ مَن اَحْيا أمْرَنا»،عزاداری احیاء امر آئمہ ہے ۔

3۔عزاداری بڑے گناہوں کے بخشش کا سبب ہے۔

4۔ عزاداری انسان کے لئے باطن میں ایکسکون پیدا کرتا ہے، ظاہر میں آنسو ہے ، لیکن باطن میں چونکہ کچھ حقایق سے متصل ہےتو یہ اسے سکون پیدا کرتا ہے ۔

5۔ یہ مطلب شاید مقررین سے ہم نے کم سنےہیں ، روایات میں ہے کہ جس شخص کا ایک آنسو گرتا ہے ، امام حسین علیہ السلام اس کیطرف نظر کرتاہے ، اور اس کےلئے خدا سے استغفار طلب کرتا ہے ، نہ صرف خود امام حسینعلیہ السلام استغفار کرتا ہے بلکہ اپنے بزرگ آباء سے بھی چاہتا ہے کہ جو شخص ان کےلئے روئے ان کے لئے خدا سے رحمت اور مغفرت طلب کرے ۔

جو لوگ ان عزاداریوں کی مخالفت کرتے ہیں،جو لوگ ان مجالس کو بے اہمیت کرنے کے درپے ہیں ، جو لوگ ان مجالس کو بے بنیاد  سمجھتے ہیں ، اور یہ بولتے ہیں کہ یہ چیزیںپتھر کے زمانہ کی چیزیں ہیں ،جو لوگ ان مجالس کے بارے میں ایسے مطالب بیان کرتےہیں ، ایک روایت میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نقل ہے کہ یہ لوگخدا کے غضب قرار پاتے ہیں، ہم میں سے کوئی بھی یہ نہ سوچے کہ اگر کوئی شخص باہرملک میں بیٹھ کر ہماری ان مجالس کے بارے میں اگر کوئی ایسی بات کرتے ہیں اور یہسوچے کہ اپنے ان باتوں کی وجہ سے شیعوں امام حسین علیہ السلام سے عشق و محبت کم ہوجائے گا ، ہرگز ایسا نہیں ہے ، ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہر سال پوری دنیا میں امام حسینعلیہ السلام کے ساتھ یہ محبت بڑھ رہی ہے ، اور ان افراد کو جان لینا چاہئے کہ وہلوگ خدا کے عذاب کا مستحق قرار پائے  ہیں ،ہم سے جو ہو سکتا ہے اس بارے میں ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ ہمارے زمانہ کے لوگ بھیاور قیامت تک بھی ہر آنے والا انسان عزاداری کو زیادہ سے زیادہ کرے ۔

امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں : إِنَّيوْمَ الْحُسَينِ أَقْرَحَ جُفُونَنَا وَ أَسْبَلَ دُمُوعَنَا؛ہمارے سینوں کو زخم کیا ہے ، ہماریآنسوں کو جاری کیا ہے وَ أَذَلَّعَزِيزَنَا بِأَرْضِ کَرْبٍ وَ بَلَاءٍ وَ أَوْرَثَتْنَا الْکَرْبَ وَ الْبَلَاءَإِلَى يوْمِ الاِنقِضَاءِ،امام ہشتم حقیقت میں یہ فرمایا رہا ہےکہ ہم قیامت تک عزادار ہیں ، اور قیامت تک ہمارے جد بزرگوار امام حسین علیہ السلامکے لئے آنسو بہائے، جب امام رضا علیہ السلام کہ امام ہے اور ایک انسان کامل ہےایسے فرمایا رہا ہے ، تو ہم جیسے عام انسان کی کیا بات ہے ! لہذا ہمیں چاہئے کہ ہرسال اپنے عزاداری کو زیادہ کرے ، اگر ہم نے عزاداری نہیں بھی کیا تو آسمان اورزمین ہمیشہ امام حسین علیہ السلام کا عزادار ہیں ؛ انہی عزاداری کے ذریعہ ہم اپنےآپ کو اس انسان کامل کے نزدیک کر سکتے ہیں۔

آجکل کچھ ایسی باتیں بھی سننے میں آتی ہےکہ بعض کہتے ہیں امام حسین علیہ السلام پر رونا ضروری نہیں ہے بلند آواز کے ساتھہو ، اور دوسرے طرف سے بعض کہتے ہیں کہ حضرت پر رونا بلند آواز سے ہونا چاہئےکیونکہ مصیبت بہت بڑی ہے ، اور کبھی یہ سوال بھی ہوتا ہے کہ عزاداری کے وقت انفریاد کا کیا مطلب ہے ؟

سب سے پہلا دلیل وہی مطلب ہے کہ بیان ہوا؛ عاشورا میں جو جنایت ہوئی ، وہ ایسی جنایت ہے کہ نہ اس سے قبل ایسا ہوا اور نہ اس کے بعد ایسا ہوا ہے ، دوسری دلیل یہ ہےکہ روایات میں کچھ عناوین ذکر ہے جو افراد ان پر توجہ کرنا چاہتے ہیں وہ ان روایاتکی طرف مراجعہ فرمائيں ، روایات میں ہے کہ امام حسین علیہ السلام کے لئے نوحہ ،جزع اور فزع کریں ، عربی میں بہت زیادہ رونے کو صرخہ کہتے ہیں ، جزع اور صیحہ بلندآواز کے معنی میں ہے ، یعنی امام حسین علیہ السلام کے لئے انسان اتنا زیادہ زور سےروئے کہ سارے لوگ مرد ، عورت ، بڑے چھوٹے ، مسلمان غیر مسلمان سب بولیں کہ کیا خبرہوئی ہے ۔ ہماری روایات میں ہے کہ جب قیامت ہو گی ، حضرت زہرا سلام اللہعلیہا  سے عرض ہوتا ہے کہ بہشت میں داخل ہوجائيں ، اس وقت آپ فرمائی گی: جب تک میرا حسین علیہ السلام نہیں آئے گا میں بہشتمیں داخل نہیں ہوں گی ۔

روایات میں مختلف تعابیر ہے ، بعض روایاتمیں ہے کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا  اپنےبیٹے کو بغیر کے سر کے دیکھے گی  فَتَنْظُرُ اِلَيالْحُسَينِ(ع) قائِماً لَيسَ عَلَيهِ رَأْس،اپنے بیٹے کی طرف دیکھ رہی ہے اور ان کے بدن پر سر نہیں ہے،  فَتَصْرخُ صَرْخَهً ، اس وقت آپ سلام اللہ علیہا  قیامتاور محشر میں ایسی فریاد بلند کرے گی کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمفرماتے ہیں : میں اور ملائکہ بھی ان کے ساتھ بلند آواز سے روئيں گے ؛فَيغْضَبُاللهُ عَزّ وَ جَلَّ لَها عِنْدَ ذلِکَ.
لہذا ان روایاتمیں بھی امام حسین علیہ السلام کے لئے بہت بلند آواز سے رونے اور بہت زیادہ رونےکی طرف اشارہ ہوا ہے ، پس یہ نہ کہا جائے کہ انجمن والے اور عزاداران کیوں بلند بلند روتے ہیں اور آہستہ رونا چاہئے، مگر ہمارے مقاتل کی کتابوں میں نہیں ہے کہ جب اہلبیت کے مخدرات نے امام حسینعلیہ السلام کے گھوڑے کو دیکھا تو؛ فَلَمَّا رَأَينَالنِّسَاءُ جَوَادَکَ مَخْزِياً وَ أَبْصَرْنَ سَرْجَکَ مَلْوِياً بَرَزْنَ مِنَالْخُدُورِ لِلشُّعُورِ نَاشِرَاتٍ وَ لِلْخُدُودِ لَاطِمَاتٍ وَ لِلْوُجُوهِ سَافِرَاتٍوَ بِالْعَوِيلِ دَاعِيات؛بلند بلند آوازسے رونے لگے اور اپنے چہروں پر مار رہے تھے ، میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہتعابیر عزاداری کی کیفیت میں ہے ، البتہ کوئی اس سے یہ نتیجہ نہ لے کہ ہم عزاداریکو انہیں چیزوں پر اکتفاء کرتے ہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ یہ چیزیں بھی عزاداری میںہونا چاہئے اور اس کے ساتھ اچھے اشعار اور امام حسین علیہ السلام کے جو بنیادیپیغامات تھے وہ بھی موجود ہوں، یہ نہ بولا جائے کہ صرف  عاشورا کے بارے میں تقریر کرے اور رونے اورگریہ کی ضرورت نہیں ہے ، ایسا کرنا صحیح نہیں ہے ۔

امام حسین علیہ السلام نے فرمایا : یقینالوگ دنیا کے بندے ہیں اور دین ان کا لققہ زبان ہے جب تک دین سے ان  کی زندگی میں فائدہ پہنچ رہا ہو وہ لوگ دیندارہیں اور جب امتحان کا وقت آتا ہے تو دیندار بہت کم ہوتے ہیں " امام علیہالسلام کے اس فرمان کا کیا معنی ہے ، اور یہ آج کی دنیا کے لئے کیسے قابل تفسیر ہے؟

واقعہ کربلا اور عاشورا کے بارے میں ایککام جو انجام پانا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ اجتہادی نظر سے اسے دیکھنا چاہئے کہ افسوسکی بات ہے یہ کام ابھی تک نہیں ہوا ہے ۔

اجتھادی نظر سے مراد کیا نظر ہے ؟

اجتہادی نظر سے میرا مراد یہ ہے کہ یہدیکھا جائے کہ امام علیہ السلام نے اس کلام کو کہاں پر اور کس وقت بیان فرمایا ہےاور کن کس قسم کے لوگوں کے سامنے بیان فرمایا ہے ،اگر ہم اس نظر سے دیکھیں ، توامام حسین علیہ السلام کے کلمات کو تحلیل کرتے وقت ہمارے لئے ایک الگ معانی پیداہوتا ہے ، اما م علیہ السلام کا یہ کلام النّاسَعَبيدُ الدُّنْيا؛ کس وقت میںتھا ؟ امام علیہ السلام 2 محرم سنہ 61 ہجری بروزجمعرات کو سرزمین کربلا پہنچے ،عبید اللہ بن زیاد کی طرف سے پیغام لے کر کوئی شخص آیا اور کہا : حسین ( علیہالسلام ) کو محاصرہ میں لے لو ، حر نے ان پیغام پر عمل کرتے ہوئے حضرت علیہ السلامکو کہیں جانے نہیں دیا ، وہی حر جو ایک دن پہلے تک تو خود اس کا لشکر امام علیہالسلام کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے ، وہ حر جو جانتا تھا امام حسین علیہ السلام کونہے ، لیکن ان سب کے باوجود وہ اپنے حاکم وقت کا تابعدار ہوا ، اس وقت امام علیہالسلام نے اس سے فرمایا : ہمیں چھوڑ دو ، اس نے کہا مجھے حاکم کی طرف سے حکم ہے کہآپ کو کہیں جانے نہ دیا جائے ، اس وقت امام علیہ السلام نے فرمایا :“النّاسَ عَبيدُ الدُّنْيا” ؛یہ جو عرض ہوا کہ اجتہادی نظر سے واقعہ عاشورا کی طرفدیکھنا چاہئے، یعنی یہ معلوم کرے کہ امام علیہ السلام نے اس کلام کو کس وقت بیانفرمایا ہے ، اگر ہم اس نظر سے نہ دیکھیں تو اس کی صحیح تحلیل نہیں کر سکتے ۔

امام حسین علیہ السلام فرماتے ہیں: اِنَّ النّاسَ عَبيدُ الدُّنْيا؛ لوگ دنیا کے بندے ہیں وَ الدِّينُ لَعْقٌ عَلى اَلْسِنَتِهِمْ  ؛ دین  ان کا لققہلسانی ہے ، يحوطونَهُ ما دَرَّتْ مَعائِشُهُمْ فَاِذا مُحِّصوابِالْبَلاءِ قَلَّ الدَّيانونَ ؛ امام علیہالسلام نے اس فرمان میں چند مہم مطالب کو بیان فرمایا ہے ، ان میں سے ایک یہ ہے کہدین بعض دیندار انسانوں کا لققہ لسانی ہے ، کون لوگ دین کو اپنا لققہ لسانی قراردیتے ہیں ؟ اس موضوع میں مختلف ادیان اور اقوام میں فرق ہیں یا اس میں سب شامل ہیں ؟

بہت اچھا سوال ہے ؛ یہ جملہ تماممسلمانوں سے خطاب ہے ، وہ لوگ جو اسلام کا دعویدار ہیں اور ظاہری لحاظ سے کہتے ہیںہم مسلمان ہیں ، نماز پڑھتے ہیں ، روزہ رکھتے ہیں ، حج پر جاتے ہیں ، اور دین کےظواہر کی حفاظت کرتے ہیں لیکن امام علیہ السلام فرماتے ہیں اگر کسی نے دین کی ظاہرکی حفاظت کر لی لیکن دین کی باطن جو کہ ولایت اور حجت خدا کی اتباع اور پیروی کرناہے اسے چھوڑ دے ، تو دین اس کا لققہ لسانی ہے ، اگر انسان یہ دیکھ لیں کہ دین خطرہمیں ہے ، لیکن اس کی زندگی میں کوئی تغير اور تبدیلی نہ آئے ، اگر انسان یہ دیکھلیں کہ آج اسرائيل نے داعش کے نام پر ایک گروہ کو وجود میں لایا ہے ، جو دنیا میںاسلام ستیزی پھیلا رہا  ہے ، اور یہ لوگدین کو ختم کرنے کے درپے ہیں ، شام پر قبضہ کر لیا اور یہ لوگ حضرت زینب سلام اللہعلیہا  کے حرم کو لینا چاہتے تھے اور اس کےبعد کربلا کو بھی اپنے تصرف میں لانا چاہتے تھے ، اگر انسان یہ بولے کہ اس سے میراکیا ربط ہے ، ابھی تک تو ایران پر حملہ نہیں ہوا ہے ، یہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نےظاہر دین کو لے لیا ہے لیکن باطن دین کو چھوڑ ا ہے ۔

یہ جو عرض ہوا کہ اجتہادی نظر سے دیکھناچاہئے ، اس وجہ سے ہے کہ اجتہاد کی خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ مجتہد سب سے پہلےیہ دیکھے کہ یہ کلام کہاں بیان ہوا ہے ، اس کلام میں  اور امام حسین علیہ السلام کے دوسرے کلمات کےدرمیان کیا رابطہ ہے ؟

امام علیہ السلام مدینہ سے نکلتے ہوئے یاجب مکہ میں تھا اس وقت شیعہ اکابرین کے نام پر جو خط لکھا تھا، اس میں فرماتا ہے :پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نےفرمایا :مَنْ رَاى سُلْطاناً جايراً مُسْتَحِلاًّ لِحُرُمِ اللهِ،ناکِثاً لِعَهْدِ اللهِ؛اگر کسی نے ایک ظالم حاکم کو دیکھا جو حرام کو حلال کر رہاہے ، خدا کے عہد کوتوڑ رہا ہے اوررسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سنت کی مخالفت کر رہاہے  ثمّ لم يغير بقول ولا فعل؛ ان سب کے باوجود اس انسان میں کوئيتغیر اور تبدیلی نہ آئے ،کَانَ حَقِيقاً عَلَى اللَّهِ أَنْ يدْخِلَهُ مَدْخَلَهُ؛خدا وند متعالی اس شخص کو اسی جگہ پرپھیک دے گا جس جگہ پر اس حاکم کو پھینکا ہے ،امام علیہ السلام کا یہ فرمان ایکقانون ، دستور اور ایک بہت ہی بنیادی بات ہے ، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اور امام حسین علیہ السلام بھی اسے بیان فرما رہے ہیں ۔

میں چاہوں گا یہ نتیجہ لے لوں کہ اگر حتیکہ ولایت کا مسئلہ بھی نہیں ہوتا ، متدین کے پہلا شاخصہ اپنے دین کی حفاظت ہے ، آپ کے پاس جب گھر بار ہے اور بیویبچے ہیں ، تو آپ اس  زندگی اور اپنے گھربار سے محبت کرتے ہیں ، لیکن اپنی پوری وجود کے ساتھ اس کی حفاظت نہیں کرتے ہو ،اگر انسان کو یہ معلوم ہو جائے کہ یہ دین اس کی دنیا اور آخرت کو تغییر دیتا ہے ،اگر وہ یہ جان لیں کہ یہ دین اس کی نسل میں تبدیلی لاتا ہے ، تو وہ آرام سے نہیںبیٹھ سکتا ، دنیا کے ایک کونہ میں میانمار کے مسلمانوں کو قتل کرتے ہیں ، کم سے کماپنے اندر ہی غمگین ہونا چاہئے ، اور یہ بولے کہ خدایا مجھ سے کیا ہو سکتا ہے ، جومجھ سے ہو سکتا ہے اسے میرے ذہن میں لے آو ، پس دین کا  لققہ لسانی ہونے سے مراد یہ ہے کہ انسان دین کواپنے کام کے لئے ظاہری کے طور پر استعمال کرے اس کا مطلب یہ ہے کہ دین کا ہدف اسکے اندر رسوخ نہیں کیا ہے اور دین اس میں نفوذ نہیں ہوا ہے ۔

شہید حججی کا واقعہ بہت ہی عجیب ہے ، جوشخص اپنے ماں باپ کو مشہد لے جائے ، اور امام رضا علیہ السلام سے متوسل ہو جائے ،اور ان تمام مراحل کو طی کرے تا کہ اس مرتبہ پر پہنچ جائے ، معلوم ہوتا ہے کہ اسکے لئے سب سے اصلی چیز دین تھا نہ کہ دنیاوی زندگی ؛ دنیا طلب لوگ اگرچہ ظاہریلحاظ سے ، نماز پڑھتا ہے ، روزہ رکھتا ہے ، لیکن ان کا اصلی ہدف دین نہیں ہے ،ہمارے لئے اصلی ہدف دین ہونا چاہئے ، امام حسین علیہ السلام اس جملہ میں فرماتےہیں : یہ لوگ دین کو وہاں تک قبول کرتے ہیں جہاں تک ان کی زندگی چلتا رہے ، لیکنجب امتحان کا وقت آپہنچتا ہے ،فَاِذامُحِّصوا بِالْبَلاءِ قَلَّ الدَّيانونَ؛ دیندار بہت کم ہوتے ہیں ، اور ایک ہاتھ کے انگلیوں کےبرابر یا اس سے بھی کم ہوتے ہیں۔\

اس وقت دنیا میں وہ لوگ جو اپنے آپ کودیندار بتاتے ہیں ان کی ذات میں کیا تبدیلی واقع ہوتے ہیں کہ دین ان کا لققہ لسانیہوتا ہے ؟

میں شفقنا کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ بہتاچھے سوالات بیان کيے میں بھی اپنی بضاعت کے مطابق جواب دوں گا ۔

جب انسان پر امتحان ہوتا ہے اس وقتوہ  اپنے آپ کو پہچنواتا ہے ، جب کہا جائےکہ خدا نے فرمایا ہے پردہ کرنا چاہئے ، کہتے ہیں : مجھے سب کچھ قبول ہے لیکن پردہواجب ہونا قبول نہیں ہے ، اس صورت میں وہ اس آیت کریمہ کا مصداق ہے : نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَکْفُرُبِبَعْضٍ ؛ ایک اور تعبیرکے مطابق لقلقہ لسانی کے معیار اور ملاک میں سے ایک یہ ہے کہ دین کے بعض چیزیںمجھے پسند ہو اور اسے قبول کر لے ، دین یا خدا کا حکم ہے کہ جھوٹ مت بولو ، چوریمت کرو ، بولے یہ ٹھیک ہے ، لیکن جہاں پر میرے سلیقہ کے برخلا ف ہو ، اسے قبول نہکرے ، حقیقی دیندار وہ جو یہ بولے ؛ جو کچھ قرآن اور سنت میں آئے ہیں اور پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جو کچھ لے آیا ہے ان سب پر ایمان ہے ، یہ مطلبایک بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہم مسلمان اس بات کی طرف بہت کم توجہ کرتے ہیں ، حتیکہ مسیحیت اور یہودیت بھی اس کی طرف متوجہ نہیں ہیں ، ہمارے اعتقادات کےمطابق ،مومن وہ ہے جو ان سب چیزوں پر ایمان لے آئے جنہیں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہو سلم لے آئے ہیں ، اور ان سب پر بھی ایمان ہو جنہیں گذشتہ انبياء لے آئے ہیں ،یعنی میں اس وقت ایک حقیقی مومن ہوں جب جو کچھ عیسی میں حقیقی تورات کے ذریعہ لےآئے ہیں اور موسی نے اصلی انجیل میں لے آئے ہیں ان سب پر ایمان ہو ، یہ بات  قرآن کریم کی متعدد آیات میں ذکر ہے ، یعنی ہمیہودی اور مسیحی سے کہتے ہیں کہ ہم اس وقت مسلمان ہیں جب ان سب پر اعتقاد ہو اورانہیں قبول کرتے ہوں جنہیں تمہارے پیغمبر لے آئے ہیں ، لیکن نہ ان چیزوں پر جنہیںتحریف کیا ہے ، پس یہ بھی ایک اچھا ملا ک اور معیار ہے ، اگر کسی کو یہ دیکھنا ہوکہ کون لقلقہ زبانی کرتا ہے تو اسے یہ دیکھ لینا چاہئے کہ اس کے باطنی کیفیت کیسیہے ، جو شخص یہ بتاتا ہے کہ مجھے تمام اسلام قبول ہے لیکن خمس ، جہاد اور فلان حکمقبول نہیں ہے یہ الدِّينُلَعْقٌ عَلى اَلْسِنَتِهِمْ ہے ۔

جن لوگوں کا دین ان کا لقلقہ زبان ہو ،وہ معاشرہ کے ریاکار افراد ہیں ، یعنی اگر ریاکار افراد کو دیکھنا چاہئے تو انافراد کی طرف دیکھنا چاہئے ، جن کے پاس دین نہیں ہے ، وہ کہتے ہیں کہ ہمارا کوئیدین نہیں ہے ، ہمارا ظاہر اور باطن سب کچھ یہی ہے جو نظر دیکھ رہے ہو، لیکن وہانسان جس کا  دین لقلقہ زبان ہو وہ لوگوںکے سامنے کچھ کام انجام دیتا ہے اور جب خلوت میں ہو تو کچھ اور انجام دیتا ہے ، لوگوںکے سامنے اپنے آپ کو بہت زیادہ متقی اور پرہیزگار دیکھتا ہے ، لیکن جب تنہا ہو تواربوں میں کرپشن کر جاتا ہے ، لوگوں کے سامنے اَللّهُمَّ عَجِّل لِوَليکَ الفَرَج ،پڑھتا ہے ، لیکن باطن میں امام زمانعلیہ السلام نے جو کچھ فرمایا ہے اسے قبول نہیں کرتے ، امام زمان (عج) نے فرمایاہےکہ عصر غیبت میں مراجع اور فقہاء کی طرف رجوع کریں وہ ہمارے نائب ہیں ، لیکن اسطرح کے لوگ کہتے ہیں ہمیں مراجع اور فقہاء قبول نہیں ہے۔ یہ سب ریاکاری ہے ۔

عصر غیبت میں آگاہ ولی فقیہ کے پیچھےہونا چاہئے کہ الحمد للہ آج ہمارے اس نظام میں انقلاب کی برکت سے ہم اس نعمت سےمستفیض ہیں ہمیں خود احساس نہیں ہے کہ یہ کتنی عظیم نعمت ہے اور ہم اس کی قدر وقیمت کو نہیں جانتے ۔

اگر یہ بتایا جائے کہ امام زمان (عج) نےفرمایا ہے کہ زمان غیبت میں فقہاء اور ولی فقیہ کی طرف مراجعہ کریں ، تو ہم بھیکہتے ہیں کہ دل و جان سے ہمیں یہ قبول ہے ، یہ دین واقعی ہے ،ہمارے معاشرے میںانقلاب سے پہلے اور بعد میں اور ابھی بھی کچھ ایسے لوگ ہیں جو مرجعیت اور فقہاء سے دشمنی کرتے ہیں ، ممکن ہے کہ اتنےزیادہ احادیث اور آیات قرآن کریم پڑھ لیں اور امام زمان علیہ السلام کے بارے میںبہت ہی خوبصورت تقریر کریں کہ انسان جذبہ میں آجائے ، لیکن اس کا کیا فائدہ جب ہمان سب کو بتائيں لیکن اسی  ایک بات کو قبولنہ کرے تو کچھ فائدہ نہیں ہے ، یہی ریاکاری ہے ، آج ہمارے معاشرہ میں کیوں جھوٹبولنا عام ہے ؟ اس وجہ سے کہ دین لقلقہ زبانی ہے ، کیوں ایک افسر اپنے آپ کو یہ حقدیتا ہے کہ لوگوں کے حقوق کو پایمال کرے ، اس وجہ سے کہ دین لقلقہ زبانی ہے ، جبدین لقلقہ زبانی ہو جائے ، اس وقت دین کی تمام ارزش و قیمت ختم ہو جاتی ہے ، فرقنہیں ہے کہ وہ افسر یا بڑا عہددار شخص عالم ہو یا غیر عالم ، یہ کسی ایک خاص طبقہسے مخصوص نہیں ہے ۔

دین کا لقلقہ زبانی ہونے کے آثار میں سےایک ، بدعت وجود میں لانا ہے  ، یعنی اگرکسی شخص کے وجود میں حقیقی اور واقعی دین رسوخ نہ کر چکا ہو ، ممکن ہے وہ بدعتایجاد کرے ، میں پہلے بھی بیان کر چکا ہو اور ابھی یہاں پر بھی عرض کرتا ہوں کہاگر ہم نے یہ بولا کہ  اسلام صرف ایک رحمتوالا دین ہے ، اگر ہمارے جوانوں نے گناہ انجام دیا تو  خداوند متعال بھی بہت زیادہ رحمت کرنے والاہے ،اس طرح سے جوانوں کے  سامنے تقریر کرے کہخداوند متعال کے پاس جہنم اور عذاب نامی کوئی چیز ہے ہی نہیں ہے ، یہ بھی ایک قسمکی بدعت ہے ، او ر اس کی وجہ یہ ہے کہ دین اس کا لقلقہ زبانی ہے ، قرآن کریم میںفرماتا ہے : يعَذِّبُ مَنْ يشَاءُ وَيغْفِرُلِمَنْ يشَاءُمیری رحمت بہتوسیع اور میرا عذاب بہت زیادہ دردناک ہے ، ان کو ایک ساتھ بیان کریں ؛ لہذاریاکاری سبب ہوتا ہے کہ انسانی اور دینی اقدار پائمال ہو جائے ، میں ایک طلبہ ہوتےہوئے دین میرا لقلقہ زبان ہو ، تو میں اپنے تقاریر اور اپنے رفتار اور کردار میںآہستہ آہستہ دینی اور انسانی اقدار کو نقصان پہنچاوں گا ۔

کہتے ہیں کہ کیوں آجکل مسلمان معاشرہ میںبہت زیادہ خرابی ہے ، اس کی علت یہ ہے کہ دین لقلقہ زبانی ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہہمارے میڈیا نے دین کے تمام پہلووں کو بیان نہیں کیا ہے ، اور بدعت کو روکتے نہیںہیں ، جن لوگوں کے ہاتھوں میں ابھی سوشل میڈیا ہے یا جو حکومتی میڈیا پر حاکم ہیںان کو چاہئے کہ جب معاشرہ میں بدعت ایجاد ہو رہے ہیں ان کو روک لیں ، لیکن افسوسکی بات ہے کہ ان بدعتوں کو روکتے نہیں ہیں ،ہمارے ملک میں  ان آخری چند سالوں میں مہدویت کے دعویدار کتنےپیدا ہوئے ؟ کتنے جعلی ادیان وجود میں آئے ، جعلی اور جھوٹے معرفت اور معنویت وجودمیں آئے ہیں ، البتہ قومی میڈیا سے یہ چیزین بیان ہوئی ہیں ، لیکن اس بارے میں بہتزیادہ کمی بھی محسوس کرتے ہیں ، ان کمی کو دور کرنے کی ضرورت ہے ۔

میری نظرمیں امام حسین علیہ السلام کے اسفرمان کو ہر دیندار اپنے زندگی میں عملی بنائے ، اور محرم و صفر میں مقرر حضراتلوگوں کو بتا دیں کہ ان جملات کو اپنے عملی زندگی میں لے جائے ، جیسے یہ جملہ: اِنَّ النّاسَ عَبيدُ الدُّنْيا؛لوگ دنیا کے غلام ہیں ، حر ایک دن پہلےتو امام علیہ السلام کے پیچھے نماز پڑھ رہا تھا ، لیکن آج چونکہ اس کا حاکم کہہرہا ہے  کہ امام علیہ السلام کو روک لو ،تو اس کے بعد یہ نہیں دیکھتا ہے کہ خدا راضی ہے یا نہیں ہے ، دنیا کا بندہ ہو جاتاہے اور دین اس کا لقلقہ زبانی ہوتا ہے ، دین انسان کو آزاد کرتا ہے ، دین انسان کوصرف خدا کا بندہ بنا دیتا ہے ، لیکن اگر یہ دین صرف ظاہری ہو صرف شکل و صورت باقیرہ جائے اور دین کی باطن کو جو کہ ولایت ہے اسے دین سے جدا کرے ، اس کے بعد دینلقلقہ زبانی ہوتا ہے ، اس کے بعد امام علیہ السلام فرماتے ہیں کہ امتحان کے وقتلوگ بہت ہی کم رہ جاتے ہیں ۔

ایران اور عراق کے درمیان جنگ کے وقتہمارے لوگوں نے  امتحان میں بہت اچھاکامیاب ہوئے ، لیکن میری نظر میں مدافع حرم کے شہداء ، دفاع مقدس کے شہداء سےزیادہ کامیاب ہیں ، اب جب امتحان کا وقت آپہنچتا ہے تو دیکھ لینا چاہئے کہ میدانمیں کیسے اترتے ہیں ۔

دین کا لقلقہ زبانی ہونے سے  اس کا معاشرہ میں کیا اثرات ہوتے ہیں ، اور اسسے نکل جانے کا راستہ کیا ہے ؟

دین لقلقہ زبانی ہونے کا اثر یہ ہے کہمعاشرہ میں ریا، فساد اور بدعت وجود میں آتے ہیں ، جس کے بعد تمام اقدار ختم ہوجاتی ہیں ، اگر دین لقلقہ زبانی ہو جائے ، اسی ظاہری دین کے پردہ میں شیطان جو کچھچاہتا ہے اسے انجام دیتا ہے ، اگر جس کے پاس دین نہ ہو اور وہ اپنے غلط فکر کےذریعہ کچھ کام کرنا چاہئے لیکن اگر کوئی دین کے پردہ میں غلط کام کرنا چاہئے تو وہبہت زیادہ دھوکہ دے سکتا ہے اور وہ زیادہ بشریت اور معاشرہ کے لئے نقصان پہنچاسکتا ہے ، لہذا روایات میں ہے کہ اگر کوئی عالم فاسد ہو جائے  ، وہ ایک دنیا کو فاسد  کرا دیتا ہے ، بدعتوں کو ایجاد کرتا ہے اوراچھے کاموں کے جگہ پر برے کام لے لیتا ہے ۔

دین لقلقہ زبان نہ ہونے اور دین  کو اپنے فائدہ کے لئے وسیلہ کے طور پر استعمالنہ ہونے دینے کےلئے علماء کی کیا ذمہ داری ہے ؟

آیا آپ کی نظر میں کوئی خاص افراد یاادارہ اس کام کو انجام دے رہے کہ دین لقلقہ زبانی ہو جائے ، یا نہیں بلکہ کچھافراد اپنے شخصی فائدہ کےلئے دین کو استعمال کرتے ہیں اور اسے لقلقہ  زبانی کے طور پر اپناتے ہیں ؟

ایک مطلب یہ ہے کہ ہمیں چاہئے کہ کبھیبھی دین کو اپنے فائدہ کے لئے وسیلہ کے طور پر استعمال نہ کریں ، ہمارے زمانہ میںافسوس کی بات ہے کہ مختلف مناسبتوں میں ، دین کو وسیلہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں، امام خمینی (رہ) نے ہم ایران کے لوگوں کے لئے دین کو ایک وظیفہ شناس بنانے کےعنوان سے قرار دیا ہے ، یعنی اگر لوگ آکر طاغوت اور ظالم حکومت کے سامنے کھڑے ہوجائے ، اس وقت لوگوں سے پوچھیں کہ کیوں قیام کرتے ہو؟ تو کہتے ہیں کہ ہمارے دین نےہمیں یہ حکم دیا ہے ، حقیقت میں امام خمینی (رہ) نے لوگوں کو ذمہ دار بنایا ہے ، انکے اندر ذمہ دار ہونے کا احساس دلایا ہے ، جس کی وجہ سے انقلاب کامیاب ہوا ، لیکنآج ایک ذمہ دار شخص دین کو اپنی دنیا کے لئے وسیلہ قرار دیں ، کوئی ملک کا صدربننا چاہتا ہے اور وہ اپنے کام کےلئے دین اور ظواہر دین سے استفادہ کرے ، اس صورتمیں دین لقلقہ زبانی ہے ، یعنی جب دین لقلقہ زبانی ہو جائے ، یہ دین کو فقط ایکوسیلہ کے طور پر استعمال کرتا ہے ، وہ دین اب ایک وظیفہ ساز دین نہیں ہے ، وہ دینانسان کو رشد و نمو کرنے والا دین نہیں ہے ،ایک ایسا دین ہے  باقی اسباب قدرت کی طرح ایک قدرت ہے اور انسان اسے اپنی قدرت اور منصب کی حفاظتکے لئے استفادہ کرتے ہیں ، ہمارے ذمہ داران ، علماء ، حوزات علمیہ ، دانشمندان اوردانشوران کو چاہئے کہ ہمیشہ دین کی حقیقت کو معاشرہ میں پہنچائے ، اگر ہم نےمعاشرہ میں دین کی حقیقت کو پہنچا دیا اس کے بعد سیاست اور اقتصاد میں کوئی مشکلپیش نہیں آئے گا ، وہ حکومتی ذمہ دار شخص جو اربوں پیسہ کرپشن کرتے ہیں اور ملک سےباہر فرار کر جاتا ہے ، اس کے وجود میں ہی دین نہیں تھا ، لیکن دین کی ظاہر کودوسرے بہت ساروں سے بہتر رکھتا تھا ۔

میں چند دن پہلے طلاب اور فضلاء کے لئےتقریر کر رہاتھا وہاں میں نے بتا دیا کہ علماء کرام ، لوگوں کو جان لینا چاہئے کہہماری زبان ، زبان دین ہے ، اگر لوگوں کو یہ احساس ہوا کہ میں کسی ایک پارٹی کے حقمیں یا اس کو کمزور کرنے کے لئے بات کرتا ہوں ، اس کے بعد لوگ پھر میری زبان کودین کا زبان نہیں سمجھيں گے ، کیا دین یہ بتاتا ہے کہ اگر کسی کے پاس سیاست نہیںہے تو اس کے پاس دین نہیں ہے ، کہیں پر بھی ہمارا دین ایسی بات نہیں کرتا ۔

میں بہت تاکید کے ساتھ یہ بات بتا رہاہوں کہ جو شخص سیاسی کاموں میں نہیں آیا ہے ، اس نے دین کامل کو درک ہی نہیں کیاہے ، وہ جامع دین جس کے لئے امام حسین علیہ السلام شہيد ہوئے اسے درک نہیں کیا ہے، میں اس بات کو قبول کرتا ہوں ، لیکن ایسا شخص بھی ہے جس میں سیاسی مسائل کیگنجائش نہیں ہوتے ہیں ، یہ شخص نماز پڑھ لیتا ہے ، روزہ رکھ لیتا ہے ، اور جہاں تکاس کا عقل قبول کرے ولایت کو بھی قبول کر لیتا ہے ، لیکن سیاسی مسائل کو وہ نہیںسمجھ سکتا ، تو میں کیا اسے بے دین بولوں؟ یہ بہت ہی غلط بات ہے ، بلکہ یہ بتاسکتے ہیں کہ اس کادین کامل نہیں ہے ، دین کامل سیاست کے ساتھ ہوتا ہے ۔

مجھے تعجب ہوتا ہے ان افراد پر جو اس طرحکی باتیں کرتے ہیں ، اور وہ خود اپنے آپ کو  مخاطبین کو جاننے والا بھیسمجھتا ہے ، لوگوں کو بتا دینا چاہئے کہ وہ سیاست جو ہمارے دین کے ساتھ ہے ، وہ یہسیاست ہے جو دینی بنیاد پر قائم ہو ،نہ سیاست جسے ہم  آج اقتضای زمان  سے سمجھتے ہیں ؛ لوگ سیاست سے قدرت طلب ہونے ،اور جنگ و جدال کو سمجھتے ہیں ، اس  کلمہکے بارے میں لوگوں کے ذہنوں کو آشنا کرنا چاہئے ، لہذا آج علماء کی ذمہ داری ہے کہدین کو جس طرح وہ خود سمجھ لیا ہے ایک کلمہ کے کم یا زیادہ کے لوگوں تک پہنچا دیں، خداوند متعال نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے فرمایا : اگر میرےدین سے ایک کلمہ کم یا زیادہ ہوا تو میں تمہارے گردن پر ماروں گا ، لہذا ہمارے لئےیہ جائز نہیں ہے کہ دین سے کچھ کم یا زیادہ کرے ، بلکہ دین جو کچھ ہے اسے دلیل کےساتھ لوگوں کے بیان کرنا چاہئے ۔

اربعین کے ایام نزدیک آرہے ہیں ، چندسالوں سے نجف سے کربلا تک بہت ہی عظیم پیدل چلنے کا سلسلے شروع ہوا ہے ، اور یہدنیا میں شیعہ کی عظمت اور اقتدار کا سبب بنا ہے جس کی کوئی مثال نہیں ہے ، دنیامیں کہاں  دو کڑوڑ افراد جمع ہوتے ہیں ، سبکے سب خلوص کے ساتھ، انگیزہ اور محبت کے ساتھ ، میرا یہ عقیدہ ہے کہ جو بھی پیدلکربلا چلا جاتا ہے وہ امام حسین علیہ السلام کو دیکھ لیتا ہے ، اسی طرح یہ اعتقادبھی ہے کہ امام حسین علیہ السلام بھی اسے دیکھتا ہے ۔

اس کے لئے کتنے اجر  و ثواب اور دنیا میں اس کے آثار ہیں ، لیکن یہجو کہا جاتا ہےکہ یہ ظہور کے نشانیوں میں سے ایک ہے ، یہ بات کہاں سے آئی ہے ؟!کیوںاس چیز کو اضافہ کرتے ہیں ، اور جس کے بارےمیں ہمیں کچھ علم بھی نہیں ہے ، ظہور کےبارے میں لا يعْلَمُ إِلَّا اللَّهُ حتی خود امام زمان بھی ظہور کے وقت کونہیں جانتے ہیں ، روایات میں اسے قیامت سے تشبیہ دی گئی ہے ، کچھ علوم ایسے ہیںجنہیں خدا کے علاوہ کوئی بھی نہیں جانتا ہے ؛ قیامت کب ہو گی ، خدا کے علاوہ کوئیبھی اسے نہیں جانتا حتی پیغمبران الہی اور آل پیغمبر بھی نہیں جانتے ہیں ، ظہور کبہو گا خدا کے علاوہ کوئی بھی اسے نہیں جانتا ہے ، یہ مطالب ہماری کتابوں میں موجودہیں اور ہمارے مسلم مسائل میں سے ہیں ۔

علماء ، طلاب ،دانشمندوں اور اساتید کوچاہئے کہ جو چیز ہماری دینی کتابوں میں موجود ہیں انہیں بیان کرے ، کسی کو اس میںکم یا زیادہ کرنے کا حق حاصل نہیں ہے ، اگر میں دین کو بیان کرنے میں کم یا زیادہکرے تو دین لوگوں کا لقلقہ زبانی ہو گا ، یعنی قیامت کے دن لوگ ہمارے سامنے کھڑےہونگے اور یہ کہیں گے کہ تم نے ہمیں دین اسطرح سیکھا تھا ، تم نے کہا تھا دو دنبعد یا ایک سال بعد امام زمان ظہور کرے گا ، اور ظہور نہیں ہوا تو ہم دین سے بیزارہوئے ، اس بارے میں ہمیں بہت زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے اور یہ تمام علماء اوردانشوران کی ذمہ داری ہے ۔

واقعہ کربلا میں بہت سارے جگہوں پر آزادیاور اختیار کی بات آتی ہے ، ایک جگہ پر آپ علیہ السلام فرماتے ہیں :"میں نےتم سب کے گردنوں سے بیعت کو واپس لے لیا، جو بھی جس راستہ سے آئے ہیں اسی سے واپسچلے جاو" حضرت امام حسین علیہ السلام کی نظر میں انسان کی آزادی اور اختیارکی کیا حیثت تھی ، کیوں امام حسین علیہ السلام نے انسان کی انسانیت اور ان کی حقاختیار کو اتنے زیادہ اہمیت دی ہیں؟

واقعہ عاشورا کے بہت ہی دلچسپ حالات میںسے ایک یہ چند مطالب ہیں جسے امام حسین علیہ السلام نے فرمایا ہے ، یہاں بھی اسیبنیاد سے دیکھنا چاہئے جو بیان ہوا کہ اجتھادی نظر سے واقعہ عاشورا کی طرف دیکھناچاہئے ، یہ دیکھا جانا چاہئے کہ امام حسین علیہ السلام نے ان کلمات کو کس وقتفرمایا ہے ، آپ علیہ السلام نے مدینہ ، مکہ اور ان خطوط میں جسے آپ علیہ السلام نےکوفہ کے لوگوں کو لکھا تھا ، اس میں فرماتے ہیں : مَنْرَأی سُلْطاناً جايراً مُسْتَحِلاًّ لِحُرُمِ اللهِ، ناکِثاً لِعَهْدِ اللهِ؛ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے فرمایا ، اور امام حسین علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نقل فرمارہے ہیں کہ اگر کسی نے ایسے ظالم حاکم کو دیکھا اور اس سے مقابلہ نہ کرے ، تو  قیامت میں یہ شخص اسی جگہ پر ہو گا جس جگہ پروہ حاکم ہو گا ، یا جب امام علیہ السلام نے کچھ لوگوں سے نصرت طلب کر لی کہ میرےمدد کو آئے ، اور انہوں نے معذرت کر لی اور کچھ بہانہ بنا کر نہ آئے ، اس وقت آپ علیہالسلام نے فرمایا :پس تم لوگ اتنے دور چلے جاو کہ میری آواز تمہاری کانوں تک نہپہنچے ، اگر کسی نے بھی میری آواز کو سن لیا اور میری مدد کو نہ آئے ، تو خدا وندمتعال اس کے ساتھ کیا کرے گا ، لیکن کیسے امام علیہ السلام نے اپنے اصحاب سے یہفرمایا کہ یہ لوگ میرے خون کے درپے ہیں ، اگر یہ مجھے قتل کر لے تو اس کے بعد تمسے کوئی کام نہیں ہے ، ابھی رات کا وقت ہے ، ہر کوئی اپنے دوست کے ہاتھ کو تھام لواور یہاں سے نکل جاو، اور اس رات کی تاریکی سے فائدہ اٹھاو۔

جب ہم کہتے کہ اجتھادی بینش اور نظر سےدیکھنا چاہئے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ سب سے پہلے یہ معلوم کرے کہ امام علیہ السلامنے ان جملات کو کس وقت بیان فرمایا ہے ،یہاں پر امام علیہ السلام اپنے اصحاب کوچلے جانے کی بات ان جملات کے بعد فرمایا ہے :انيلَا أَعْلَمُ أَصْحَابًا أَوْفَي وَلَا خَيرًا مِنْ أَصْحَابِي، وَلَاأَهْلَ بَيتٍأَبَرَّ وَلَا أَوْصَلَ مِنْ أَهْلِ بَيتِي؛یعنی درحقیتامام حسین علیہ السلام اپنے اصحاب اور اہل بیت علیہم السلام کی ایک تعریف اور کاملتائيد فرماتا ہے ، اور فرماتا ہے کہ تم نے اپنا امتحان دے دیا ہے  جَزَاکمُ اللَهُ عَنِّي خَيرَ اس کے بعد فرماتا ہے : أَلَاوَإنِّي قَدْ أَذِنْتُ لَکمْ، فَانْطَلِقُوا جَمِيعًا فِي حِلٍّ؛ لَيسَ عَلَيکمْمِنِّي ذِمَامٌ. هَذَا اللَيلُ قَدْ غَشِيکمْ فَاتَّخِذُوهُ جَمَلًا؛ اس بارے میں نقل مختلف ہیں ۔