pic
pic

داعش پر کامیابی رہبر معظم انقلاب اسلامی کے دوران رہبری اور نظام اسلامی اور ولایت فقیہ کے افتخارات میں سے ہے

  • تاریخ 14 December 2018
  • ٹائم 12:17
  • پرنٹ
خبر کا خلاصہ :
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ خداوند متعال کے نزدیک ان شہداء کا اجر و ثواب بہت زیادہ ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ بہت سارے انسانوں کے لئے اس کی خطر کو سمجھ لینا ممکن نہیں تھا لیکن ان شہدا مدافعین حرم نے اس خطر کو سمجھا اور اپنے شرعی وظیفہ پر عمل بھی کر لیا ۔

بسم الله الرحمن الرحیم

میں آج درس شروع کرنے سے پہلے ہمارے عزیز طلبہ جناب حجت الاسلام آقای میرزا محمود تقی نژاد جو سالوں سے ہمارے اصول اور فقہ کے دورس میں شرکت کرتے تھے ان کی شہادت کی مناسبت  سے کچھ مطالب بیان کروں گا، آپ ایک مخلص اور بہت اچھے عالم دین تھے ان چند سالوں میں چنديں بارے شام گئے تھے اور تکفیروں سے جنگ لڑے اور بالاخر  اس راستہ میں اپنے ہدف تک جو خدا کی راہ میں شہادت تھا نائل ہوئے ۔

جیسا کہ ان کی تسلیت کے پیغام میں ، میں نے لکھا تھا ، ایک ایسی حالات میں کہ جہان اسلام کو داعش جیسے بہت ہی خطرناک حالات سے روبرو ہونا پڑا ، اسلام اور انقلاب اسلامی کو ختم کرنے کے لئے امریکا اور اسرائیل کی پوری امید داعش سے وابستہ تھے ، اور وہ لوگ یہ چاہتے تھے اور ابھی بھی اسی کے درپے ہیں کہ اسلام کو ختم کر دیں ، اس مشکل گھڑی میں حوزہ علمیہ اور علماء نے بہت اچھی طرح اپنی ذمہ کو نبھایا ہے ۔

مدافعین حرم شہداء کے درمیان ، طلبہ شہداء کی کمی نہیں ہے ، حوزہ علمیہ قم اور مشہد اور دوسری تمام جگہوں سے طلاب اور فضلاء نے داعش سے جنگ میں برابر کے شریک ہوئے ہیں ، ان تمام شہداء کو چاہئے وہ طلبہ ہو یا غیر طلبہ خراج عقیدت پیش کرتا ہوں ۔

میرا یہ اعتقاد ہے کہ ان شہداء کا اجر و ثواب ایران اور عراق جنگ کے شہداء سے زیادہ ہے ، ان عزیزوں کا اسلام سے دفاع میں جہاد کی قدر و قیمت بغیر کسی شک و شبہ کے ایران عرا ق جنگ کے شہداء سے زیادہ ہے ، کیونکہ بہت ہی زیادہ بصیرت اور ضرورت کو درک کرتے ہوئے اس میدان کارزار میں نکل پڑے ہیں ۔

اس جنگ کے ابتدائی ايام میں کچھ لوگوں نے یہ شک اور شبہ پیدا کیا تھا اور کہتے تھے کہ کیوں ہمارے بچے یہاں سے جا کر دوسروں کے باڈر پر شہید ہوتے ہیں ؟ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں نے استکبار جہانی کے خطر اور دشمنی کو اچھی طرح درک نہیں کر سکے تھے، جیسا کہ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا اگر ہم شام اور عراق کے باڈر پر داعش سے جنگ نہ لڑے تو تہران اور ہمدان ۔۔۔ میں ان کے ساتھ لڑنا پڑے گا ، بہر حال اس میں کوئی شک و شبہہ نہیں ہے کہ خدا کے ہاں  ان شہیدوں کا اجر و ثواب بہت زیادہ ہے کیونکہ اس خطر کو درک کرنا بہت ساروں کے لئے آسان نہیں تھا لیکن ان  عزیزوں نے اچھی طرح درک کر لیا اور اپنے شرعی وظیفہ پر عمل بھی کیا اور انسانیت کے اس بلند ترین مرتبہ جو کہ خدا کی راہ میں شہید ہونا ہے اس پر فائز ہوئے ۔

یہ طلبہ جو شہید ہوا بہت ہی اچھے انسان تھے ، فقہ اور اصول دونوں میں بہت ہی محنت سے پڑھائی پر توجہ دیتے تھے ، اور اپنے دوستوں کے ساتھ ہفتہ میں ایک دن دفتر میں آتے تھے اور جو سوالات ہوتے تھے و ہ پوچھ لیتے تھے ، جنگ میں جاتے رہتے تھے اس کے باوجود درس پر بھی بہت ہی زیادہ توجہ دیتے تھے ، درس اور دشمن کے ساتھ جنگ دونوں کو خدا کی راہ میں جہاد سمجھتے تھے ، میدا ن علم اور جہاد میں ایسے سپہ سالاروں کی یاد  ہمارے درمیان ہمیشہ زندہ و تابندہ ہونا چاہئے ۔

 میں اس واقعہ کو کبھی نہیں بولوں گا کہ دفاع مقدس کے دوران ، ہمارے مرحوم والد گرامی حوزہ علمیہ کا بھی ذمہ دار تھے اور علماء کی  رضاکار فورس کا بھی ذمہ دار تھے ، اس وقت علماء کی رضاکار فورس ابھی نئی نئی وجود میں آئے تھے ، اور اس کا  ذمہ دار ہمارے والد مرحوم صاحب تھے ، آپ چند دفعہ جنگ میں بھی گئے ، اس وقت ایسی شخصیتوں کا جنگ میں جانا بہت زیادہ مہم سمجھے جاتے تھے ۔

انھوں نے فرمایا ایک دن میں نے طلاب علوم دینی شہدا کی تعداد کو امام خمینی (رہ) کی خدمت میں پیش کیا ، وہ امام جو کسی پہاڑ کی طرح مستحکم تھے ظاہری طور پر کوئی بھی چیز ان کو متاثر نہیں کرتے تھے، میں نے دیکھا کہ ان کے آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔

اصل بات یہ ہے کہ حقیقی اور واقعی طلبہ وہ ہے جس کی عمر ہر حال میں جہاد میں ہو، یا فکر اور علم کے میدان میں ، اور ثقافتی یلغار کے مقابلہ میں ، اس نظر سے وہ درس پڑھے تا کہ احکام الہی کے حدود کی حفاظت اور دفاع کرے اور دین کا محافظ بن جائے ، یا میدان کارزار مین فوجیوں کے ساتھ اپنے تبلیغ کو انجام دیں ،اور شہادت کے مقام پر فائز ہو جائے ، حقیقی طلبہ ہمیشہ جہادمیں مشغول ہوتے ہیں ، امام خمینی سب سے زیادہ اس بارے میں متوجہ تھے ، یہ حضرات اپنے تحصیل اور تدریس کے دوران ہو یا شہادت کے بعد ہو اسلام اور اس نظام اور انقلاب کا عظیم سرمایہ ہیں ، ہمیں چاہئے کہ ان کی یاد کو ہمیشہ زندہ رکھیں اور جس عظیم ہدف کو انہوں نے انتخاب کيے ہیں اس کے پاسداری کریں ۔

ہمارے انقلاب میں حتی کہ ان آٹھ سالہ جنگ سے پہلے بھی شہادت کے لئے پہلی صف میں تیار تھے، اور ان سب سے آگے امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ موجود تھے ، اور امام خمینی کے شاگردان بھی بہت سارے شہید ہوئے ، حوزہ کے انقلابی ہونے کی وجوہات میں سے ایک یہی خدا کے راہ میں ہمیشہ شہادت کے لئے آمادہ ہونا ہے ، وہ ثقافتی اور علمی میدان میں ہو ، یا میدان کارزار میں دشمنان اسلام کے مقابلہ میں ۔

یہ فکر اور سوچ ہمیشہ سے حوزات علمیہ میں زندہ اور تابندہ ہونا چاہئے تا کہ اسی کے ذریعہ انقلاب اور اس نظام اسلامی کو انشاء اللہ باقی و ساری رکھیں ، الحمد للہ  علماء کے درمیان سے مدافعین حرم شہداء نے یہ ثابت کيے ہیں کہ یہ فکر و سوچ پہلے سے بھی اچھے اور مستحکم  انداز میں حوزات علمیہ میں موجود ہے ،ہم یہاں ایک بار پھر تمام مدافعین حرم اور ان افراد کا شکریہ ادا کرتے ہیں جو اس پورت  مدت میں اہل بیت علیہم السلام سے دفاع کے لئے جو درحقیقت اسلام سے دفاع ہے میدان میں داعش کے ساتھ لڑتے رہے اور اس راہ میں یا شہید ہوئے یا زخمی ہوئے ہیں یا ابھی بھی جنگ لڑ رہے ہیں ۔

ہمارا یہ اعتقاد ہے کہ  تاریخ کے اس دور میں تمام مسلمانوں شیعہ اور سنی کے گردن پر ان افراد کا بہت زیادہ حق ہے ، داعش پر کامیابی  اسلام کے درخشان کامیابیوں میں سے ایک ہے ، کہ تاریخ کے اس دور میں آمریکا اور اسرائيل اور ان کے نمک خواروں کے دشمنی کے مقابلہ میں سب میدان میں نکل آئے اور اسلام کو کامیاب کرائے۔

جس وقت داعش وجود میں آئے تھے میں نے اسی وقت یہ بات عرض کرچکا تھا کہ توجہ کریں کہ دشمن کیسے منظم طور پر اقدام کر چکا ہے ، موصل کو اپنے قبضہ میں لینے کے بعد دوسرے دن سے ہی بچوں کو اپنی کتابوں کی تعلیم شروع کر دی تھی ، یہ کتابیں کہاں اور کس وقت لکھی گئی تھیں ؟ کس نے یہ سب پروگرام بنایا تھا کہ اگر ہم نے عراق اور شام کو لے لیا اور ایک اسلامی حکومت ( البتہ اپنے غلط فکر کے مطابق) تشکیل دی تو ہمارے پاس اسکول کے بچوں کے لئے کتابیں بھی ہونی چاہئے ؟ اس کام کے لئے کم از کم دس سال کا وقت درکار ہے ، کہ کفر اور جاسوسی کے مراکز میں ان کتابوں کو لکھ کر چھاپ کر تیار کریں ۔

داعش ایک عام دہشتگرد تنظیم نہیں تھا کہ یہ بتایا جائے کہ یہ لوگ آئے اور کچھ افراد کو قتل کيے اور کچھ جگہوں کو خراب کیا اور ختم ہوا ! ایسا بالکل نہیں ہے ، داعش کی فکری بنیاد اگرچہ وہابیت ہے لیکن وہابیت اور بہائیت اور اسی طرح کے دوسرے تمام فرقوں سے جن کو استکبار جہانی نے اسلام سے مقابلہ کے لئے وجود میں لائے ہیں ان سب سے بہت ہی زیادہ خطرناک ہے ، ایک ایسے خطرناک چیز کے ذریعہ  اسلام اور مسلمانوں حملہ ور ہوئے ہیں   ، انہوں نے مغل اور چنگيز اور تاریخ کے تمام جنایتکاروں کو اسلام کے نام پر پيچھے چھوڑ دیا ، سینکڑوں فلم بننے کی ضرورت ہے اور سینکڑوں کتابیں لکھنے کی ضرورت ہے تا کہ لوگ اس جنایت کے گہرائی تک پہنچ جائے اور مدافعین حرم کے فداکاری کو سمجھ سکے ، ہمیں ابھی تک یہ درک ہی نہیں ہوا ہے کہ یہ جنایت کیسی جنایت تھی؟

ابتدائی ایام میں جب شام اور عراق کے بہت سارے آثار قدیمہ کو ان لوگوں نے منہدم کر دیا تو میں اس سوچ میں پڑ گیا تھا کہ کیوں ان آثار قدیمہ کو ختم کر رہے ہیں ؟ دنیا کےتمام عقلاء اس کام کی مذمت کرتے ہیں ؟وہیں پر یہ بات بتا دیا تھا کہ یہ مقدمہ ہے اس کے لئے کہ اگر کسی دن نجف بھی ان کے ہاتھ میں آئے تو ضریح اور قبر اور گنبد اور بارگاہ اور صحن کو ملیا مٹ کر دے گا ، یہ بوليں گے ہم نے وہاں پر یہ کام کیا ہے اور یہاں پر ایسا ہی کریں گے ، وہ کام مقدمہ تھا اس طرح کے کام کے لئے ، اور بتا بھی دیا تھا کہ حتی کہ مکہ اور مدینہ کو ختم کرنے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے قبر اور کعبہ کے آثار کو بھی ختم کرنا چاہتے تھے ، یہ لوگ اس حد تک  خام خیالی کر رہے تھے ، لہذا ان سب چیزوں کو فلموں اور کتابوں  کے ذریعہ بیان ہونا چاہئے ، جب تک یہ چیزیں بیان نہ ہوجائے مدافع حرم شہداء کے حق اداء نہیں ہونگے کہ کتنے بڑے کام کر گئے ہیں اور وہ بھی کس اہم وقت میں ؟ اس میدان میں حاضر ہونے والے تمام رضاکاروں کا شکریہ ادا کرنا چاہئے اور ان کے ہاتھوں کو چومتا ہوں ، ہم سب اس عظیم سپہرسالار کے ہاتھوں کو چومتے ہیں جنہوں نے اس عظیم نبرد میں بہت ہی اخلاص کے ساتھ کمانڈ کیا ، اور ہم اپنے اس کام پر فخر محسوس کرتے ہیں۔

امام خمینی رہ ایران عراق جنگ کے دوران فرماتے تھے: میں اس جنگ میں موجود تمام عزیزوں کے ہاتھوں کو چومتا ہوں ، اب تو اس وقت سے بھی بہت زیادہ حساس وقت ہے ، ہم خدا کا شکر کرتے ہیں کہ اسلام اور اس نظام اسلامی کے لئے یہ کامیابی نصیب ہوئی ، ان سب کے اوپر رہبر معظم انقلاب اسلامی کا وہ حکیمانہ رہبری ہے اور یہ  نظام اسلامی اور ایران اور تمام مسلمانوں کے لئے افتخارات میں سے ہے ۔

اس جنگ کے ابتدائی ایام میں بہت سارے لوگ یہ اعتراض کرتے تھے کہ کیوں ایران ، شام اور عراق میں داخل ہوا ہے ، لیکن رہبر معظم انقلاب اسی ابتدائی ایام سے ہی بہت ہی حکیمانہ طریقہ سے اس مسئلہ کو مدنظر رکھا اسی وجہ سے کامیاب بھی ہوئے ، یہ بھی خداوند متعالی کی طرف سے خود ان کی ذات اور ملت ایران کے لئے عنایات خاصہ میں سے ہے ، اس وقت اس کی ضرورت کی تشخیص کوئی چھوٹا مسئلہ نہیں تھا کہ ہم داعش سے شام کے باڈر میں جنگ لڑيں گے ، کوئی آسان کام نہیں تھا ، ایک عام فوجی کام بھی نہیں تھا ، اگر دفاعی پوزیشن کے لحاظ سے اس کے بارے میں تحقیق کی جائے تو یہ بتانا چاہئے جب ایران کے باڈر پر پہنچ جائے اس وقت کچھ سوچا جائے گا ، لیکن ایسی قدرت و طاقت سے تصمیم لینا ، تدبیر اور خدا پر توکل کرنے سے ہی انسان کو حاصل ہوتا ہے اور اس کی بنیاد وہ مستحکم اعتماد ہے جو خدا کی فتح اور نصرت پر آپ رکھتے تھے ، اور اس وعدہ پر آپ کے پورا اعتماد ہونے کی نشانی ہے جو خدا کی دین کو مدد کرنے والوں کے لئے خدا وعدہ کیا ہوا ہے،اِن تَنصُرُوا اللهَ یَنصُرکُم وَ یُثَبِّت اَقدامَکُم.

، داعش  پر کامیابی رہبر معظم انقلاب اسلامی کے دوران رہبری کے افتخارات میں سے ہے اور یہ نظام اسلامی ، ولایت فقیہ کے افتخارات اور ولایت فقیہ کے آثار و برکات میں سے ہے ۔

داعش پر کامیابی کے بارے میں حوزات علمیہ کو چاہئے سب کے لئے واضح کر لیں کہ یہ ولایت فقیہ کے برکات میں سے ایک ہے ، میں واقعا خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ ہم آج اس ولایت فقیہ اور اس عظیم شخصیت کی نعمت سے بہرمند ہیں جنہیں خداوند متعال نے حوزات علمیہ اور مسلمانوں اور نظام اسلامی کے لئے عطا کیا ہے ، ان شاء اللہ خداوند متعال ان کو اسلام کے لئے اپنی حفاظت میں رکھیں گے ، اور حوزات علمیہ اسی راستہ پر گامزن رہے جو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  اور آئمہ طاہرین علیہم السلام خصوصا حضرت بقیت اللہ الاعظم امام زمان کے مد نظر ہے ، ان شاء اللہ ہمارا یہ نظام اسلامی اور ہمارے حوزات علمیہ ہمیشہ اسی راستہ پر گامزن رہیں گے ۔

اہم مطالب

1۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ خداوند متعال کے نزدیک ان شہداء کا اجر و ثواب بہت زیادہ ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ بہت سارے انسانوں کے لئے اس کی خطر کو سمجھ لینا ممکن نہیں تھا لیکن ان شہدا مدافعین حرم نے اس خطر کو سمجھا اور اپنے شرعی وظیفہ پر عمل بھی کر لیا ۔

2۔حوزات علمیہ کے انقلابی باقی رہنے کی وجوہات میں سے ایک حوزہ کا خدا کے راہ میں ہر جگہ پر اسی شہادت کے لئے ہمہ وقت تیار رہنا ہے ، وہ ثقافت اور علمی میدان جنگ ہو ، یا  اسلام اور ملک کے دشمنوں کے ساتھ جنگ  کے لئے خط مقدم پر ہو ۔

3۔ علماء کے درمیان سے جو مدافعین حرم  شہداء ہیں انہوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ انقلابی فکر و سوچ  اب بھی پہلے سے بھی بہت زیادہ  حوزات علمیہ میں موجود ہے ۔

4۔سینکڑوں فلمیں بنانے اورسینکڑوں  کتابیں لکھنے کی ضرورت ہے تا کہ لوگ اس ظلم وبربریت کے گہرائی تک پہنچ جائے اور مدافعین حرم کے فداکاری کو سمجھ جائے ، ہمیں ابھی تک معلوم نہیں ہے کہ  یہ جنایت کتنی خطرناک تھی۔

5۔ ہم سب اس جنگ کے اس مخلص سپہر سالار کے ہاتھو کو چومتے ہیں جنہوں نے بہت ہی بہتر طریقہ سے اس جنگ کا کمانڈ کیا اور ہم اپنے اس کام پر فخر بھی کرتے ہیں ۔

6۔ داعش پر کامیابی رہبر معظم انقلاب اسلامی کے دوران رہبری ،نظام اسلامی اور ولایت فقیہ  کے افتخارات میں سے ہے، اور ولایت فقیہ کے آثار و برکات میں سے ہے ۔

7۔ خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ ولایت فقیہ اور اس عظیم شخصیت  جیسے اس نعمت سے متنعم ہیں ، جسے خداوند متعال نے حوزات علمیہ ، مسلمانوں اور نظام اسلامی کے لئے قرار دیا ہے ۔

۴۰۰ قارئين کی تعداد: