pic
pic

ہمارے دین میں انسان کے لئےاسوہ صرف پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آئمہ معصومین علیہم السلام ہیں

  • تاریخ 20 March 2019
  • ٹائم 04:54
  • پرنٹ
خبر کا خلاصہ :
مبارک آباد میں مسجد امیر المومنین(ع) کے افتتاحی تقریب میں حضرت آيت اللہ فاضل لنکرانی (دامت برکاتہ) کے بیانات

بسم الله الرحمن الرحیم




حضرت رسول اكرم(صلی الله علیه و آله) اورامام صادق(علیه السلام)  کے میلاد مسعود پر تبریک پیش کرتا ہوں ۔

خداوند متعالی نے قرآن کریم میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بارے میں اتنا زیادہ فرمایا ہے کہ خداوند متعالی کے اسی کثرت کلام سے انسان ، پیغمبر اکرم (ص) کی عظمت کو سمجھ سکتا ہے ۔

قرآن خود جو کہ مسلمانوں کی کتاب ہے اس کی عظمت اپنی جگہ ، کوئی بھی آسمانی کتاب اس کے ساتھ قابل مقایسہ ہی نہیں ہے ، انسانوں کی لکھی ہوئی کتابیں اور ان کے قوانین کی تو کوئی بات ہی نہیں ہے کہ وہ قرآن کے ساتھ مقابلہ اور اس کے ساتھ مقایسہ ہو سکے ، اگر تورات ، انجیل ، زبور اور دوسری تمام آسمانی کتابوں کو ترازو کے ایک پلڑے میں رکھے اور قرآن کو دوسرے پلڑے میں ، تو ان دونوں کا مقابلہ قابل قیاس نہیں ہے ، اور یہ ہم مسلمانوں کے لئے بہت ہی زیادہ عظمت کا سبب ہے ، ہمارے لئے یہ توفیق عطا ہوئی ہے کہ خداوندمتعالی نے ہم سب پر منت رکھا ہے اور قرآن کریم جو کہ خدا کا تجلی اعظم ہے ، جسے اپنے پیغمبر اکرم (ص) پر نازل فرمایا اور ہمیں ان کی پیروی کرے کا اعزاز حاصل ہوا، کیا یہ سزاوار نہیں ہے کہ ہم آخر عمر تک اس کا شکرگزار رہے ؟ یہود و نصاری سے پوچھیں تمہارے تورات اور انجیل کہاں ہے ؟ میں تو ان کی حقیقی تورات اور انجیل کی بات کر رہاہوں جوابھی ان کے ہاتھوں میں نہیں ہے ، اس وقت یہود اور نصاری اپنے کس چیز پر خوش ہیں ؟ ایک تحریف تورات اور انجیل پر جو تناقضات  اور اشکالات سے بھرے پڑے ہیں ۔

خداوند متعالی قرآن کریم کے بارے میں فرماتا ہے : اگر تمام فلاسفر اور عقلاء جمع ہو جائے ، کبھی بھی  وہ لوگ قرآن کی دو آیتوں کے درمیان تضاد اور تناقض کو ثابت نہیں کر سکيں گے، یقینا اگر یہ غیر خدا کی طرف سے ہوتے تو آیات کے درمیان اختلاف بہت زیادہ ہوتے «لَوْ كانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللّهِ لَوَجَدُوا فيهِ اخْتِلافًا كَثيرًا».خدا کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ یہ قرآن، ہماری ہدایت کی کتاب ہے ، خدا کے نزدیک ہماری عزت و وقار اس میں ہے کہ ہم قرآن کا پیرو اور تابع رہے ، آج ہمارے معاشرہ کو ہر زمانہ سے زیادہ قرآن سے تمسک پیدا کرنےکی ضرورت ہے ، ہمارے بہت سارے ثقافتی مشکلات قرآن کریم سے دور ہونے کی وجہ سے ہے۔

کسی سفر میں کسی سٹور میں ایک خاتون کو دیکھا جو پردہ نہیں کر رہی تھی، میں نے اس خاتون سے عرض کیا کہ اگر میں یہ بتاوں کہ پردہ کی بات کلام خدا ہے اور اس بارے میں قرآن میں فرمایا ہے تب بھی پردہ کا پابند نہیں ہو گی ؟ کہا ، ایسا ہرگز نہیں ہے، قرآن میں پردہ کے بارے میں کہاں بیان ہوا ہے ؟ میں نے دیکھا کہ وہ خاتون اپنی جگہ ڈھگمگا گئی ہے ، میں نے پردہ کے بارے میں موجود آیات کو بہت ہی مختصر طور پر اس کے لئے تلاوت کر لیا ، قرآن ایسا ہے ، ہمیں خدا کا شکر کرنا چاہئے کہ یہ نعمت عطا کی ہے ، ہمیں جان لینا چاہئے کہ اگر ہم پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نزدیک ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں قرآن سے اپنے رابطہ کو زیادہ کرنا چاہئے ، قرآن کی ایک خاص گروہ سے مخصوص نہیں ہے ، ایک ایسی کتاب ہے جو تمام بشریت کی ہدایت کے لئے نازل ہوئی ہے ، تمام انسانوں کو چاہئے کہ قرآن سے متمسک رہے اور اس کے برکات سے فائدہ مند ہو جائے ۔

ہمارا ایک ایسا پیغمبر ہے جس کا سب سے بڑا معجزہ قرآن کریم ہے ، خداوند متعالی فرماتا ہے : «لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ»،اس آیت کریمہ کو ہم نے بہت زیادہ سنا ہے ، لیکن آج کی رات دیکھیں کہ کیا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بابرکت میلاد  کی وجہ سے اس آیت کے کوئی نئی مطالب ہمارے نصیب ہوتے ہیں یا نہیں ؟

اس آیت کریمہ میں خداوند متعالی فرماتا ہے : میں نے تمہارے لئے رسول اللہ کو اسوہ حسنہ  قرار دیا ہے ۔

پہلا سوال: اس بات کو کون بتا رہا ہے ؟ کس نے آپ(ص) کو ہمارے لئے اسوہ قرار دیا ہے ؟ وہ جو تمام آسمانوں اور زمین کا خالق ہے اور عقل کل ہے ، وہ جو عقل مطلق ہے ، وہ جو علم اور قدرت مطلق ہے ، آپ ملاحظہ فرمائیں کہ اگر مجھ جیسا ایک ادنی سا طلبہ بھی ، دو آیات جانتا ہو ، کسی ایسے شخص کی طرف دیکھنا جو اسے نہیں جانتے ہیں گوارا نہیں ہے ،ہم کتنے کمزور لوگ ہیں ؟!اس جہاں کے وجود مطلق ، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو میرے لئے او ر آپ کے لئے اسوہ قرار دے رہا ہے ۔

ایک اور مثال یہ ہے  کہ جب کسی کو اپنا داماد بنانا چاہئے یا کسی لڑکی کو اپنے بیٹے کے لئے انتخاب کرنا چاہئے ، تو عام عادت یہ ہے کہ سب سے پہلے اس بارے میں تحقیق کرتے ہیں ، اب اگر کسی اچھے انسان سے ملے اور وہ بولے یہ اچھا انسان ہے ، تو اسے سکون ہوتا ہے ، یہاں پر بھی خداوند متعالی جو اس ہستی کا خالق ہے ، اور بشر کے تمام اسرار اور پہنان سے باخبر ہے وہ ہمیں کوئی اسوہ دیکھا رہا ہے ۔

دوسرا سوال: کیا اسوہ دیکھانے کے لئے خدا کسی خاص منطق اور طریقہ کے مطابق ہے یا نہیں ؟ چونکہ اس کا پیغمبر ہے ، اسے چاہتا ہے ، اس وجہ سے کہتا ہے کہ انہیں اپنے لئے اسوہ قرار دے دو ؟ نہیں ! بلکہ خداوند متعالی ایک محکم منطق کے مطابق یہ فرما رہا ہے ، یہ کہنا چاہ رہا ہے کہ یہ اسوہ خود مجھ سے اور موجودات عالم میں سے مجھ سے نزدیک ہستی ہے ، یہ اسوہ میرا تربیت یافتہ ہے ، ایک انسان کےاندر جو کچھ موجود ہونا ممکن ہو میں نے ان میں قرار دیا ہے ، لہذا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بشریت کے لئے ایک کامل اسوہ ہو سکتا ہے ۔

تیسرا سوال: کیا خداوند متعالی یہ فرمانا چاہتا ہے کہ انسانوں کے لئے  پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اسوہ قرار دینا مستحب اور اچھا ہے یا فقہاء کے بقول واجب ہے ؟ اور اس کا واجب ہونا بھی آیت کریمہ سے استفادہ  ہوتا ہے ، اور امیر المومنین علیہ السلام کے روایت سے کہ آپ نفس پیغمبر ہے ، آپ علیہ السلام فرماتا ہے : پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تاسی کرنا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اسوہ قرار دینا تمام حکام ، ذمہ داران اور اہل طاعت خدا ، یعنی ہم سب پر واجب ہے ۔

میرے بھائیو اور بہنو! ہم نے اپنی زندگی میں کس حد تک پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اسوہ قرار دیا ہوا ہے ؟ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شخصیت کی عظمت کےلئے یہی کافی ہے کہ وہ دعا جسے آخر الزمان میں پڑھنا چاہئے اس میں ذکر ہے :« اَللّهُمَّ عَرِّفْنى نَفْسَكَ فَاِنَّكَ اِنْ لَمْ تُعَرِّفْنى نَفْسَكَ لَمْ اَعْرِف نَبِيَّكَ» ،البتہ آخر الزمان کے بارے میں بھی  متوجہ ہونا چاہئے کہ افسوس کی بات ہے کہ کچھ کم علم افراد کہتے ہیں قیامت اور ظہور نزدیک ہے ، اور بس ایک دو دن میں ہی حضرت ظہور کریں گے اور دنیا اپنی آخر کو پہنچ جائے گا ، خود پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے انگلی کی ایک بہت ہی کم حصہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا جب سے اسلام ظہور کیا ہے آخر الزمان کے لئے اتنا حصہ باقی رہ گیا ہے ، یعنی اس وقت سے آخر الزمان شروع ہوا ہے ، اب ممکن ہے 50 سال بعد یا ایک ہزار سال بعد یا ہزاروں سال بعد ہو ، امام زمان علیہ السلام کے ظہور کا مسئلہ بھی ایسا ہی ہے ، بہر حال پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مہم ترین خصوصیات میں سے ایک خدا کی معرفت ہے ، اور وہ بھی  شناخت کی آخری درجہ ،اگر ہم پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اپنا اسوہ قرار دیں تو یہ دیکھنا ہو گا کہ پیغمبر  اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) خدا کا کتنا معرفت رکھتا تھا تا کہ اس معرفت میں سے کچھ ہمیں بھی نصیب ہو ۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خصوصیات میں سے ایک مشکلات اور سختیوں کے وقت صبر اور استقامت تھا کہ امیر المومنین علیہ السلام کے کلمات میں واضح ہے ، یہ وہ چیز ہے جو اس وقت ہم سب مسلمانوں کی ابتدائي ضروریا ت میں سے ہے ، یہ صحیح نہیں ہے کہ جیسے ہی کوئی مشکل پیش آئے یا کوئی واقعہ رونما ہو جائے ہم خدا اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بارے میں نعوذباللہ شک و تردید کرنا شروع کرے۔

مومن کو چاہئے کہ صبر کرے، دین ایسی کوئی چیز نہیں ہے کہ کسی انسان  یا گروہ کے رفتار یا اس میں کوئی اشکال کو دیکھے تو کمرنگ ہو جائے ، دنیا میں مشکلات بہت زیادہ ہے ، اقتصاد میں کمی و بیشی ہوتی رہتی ہے ، اندرونی اور بیرونی سختیاں کبھی کم کبھی زیادہ ہوتے رہتے ہیں ، اچھے اور برے لوگ ہوتے ہیں ، ہم ان سب کو کیوں دین کے ساتھ ربط دیتے ہیں ؟ کیوں یہ چیزیں ہماری نمازوں میں اثر انداز ہوتے ہیں ؟ اگر ہم پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پیروکار ہیں تو یہ بات ذہن میں رکھنا چاہئے کہ مدینہ میں قیام کے دوران 70 سے زیادہ جنگیں لڑي ، لیکن کبھی اس پر پریشان نہیں ہوئے ، مسلمان جب جنگ میں شدت آتی تھی اور ہر طرف سے نا امید ہوتے تھے تو اس وقت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پناہ میں جاتے تھے ، صبر پیغمبر اکرم کے  اخلاقی صفات میں سے ایک تھا ، اگرچہ انسان کی شخصیت کی اہانت یا مال و دولت  میں نقصان آنے یا کسی عزیز کے چلے جانے سے انسان کو بہت دھچکہ پہنچتا ہے ، وہاں پر صبر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ، لیکن دین میں صبر کہ انسان اپنے دین کو ہر حال میں محفوظ رکھے یہ بہت ہی اہم ہے ۔

کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے عرض کیا کہ  دعا کریں کہ خدا میرے لئے بہت زیادہ ثروت اور مال و متاع عنایت کرے ، آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا : اگر خدا تمہیں کچھ مقدار میں مال عطا کرے اور اسی کے ساتھ تم خدا کا شکر ادا کر سکتا ہو تو یہ بہتر ہے اس  بہت زیادہ ثروت و مال و متاع سے جس کے بعد خدا کا شکر ادا نہ کرسکے ؟!اس کے بعد فرمایا میں اگر چاہوں تو یہ تمام پہاڑ سونا او رچاندی ہو جائے ، اور یہ ایک آنکھیں جھپکنے میں یہ سب انجام پائے گا لیکن میں کبھی بھی ایسا نہیں کروں گا ، بلکہ دنیا کے بہت ہی کم مقدار پر قناعت کروں گا ، اسی وجہ سے زمین پر بیٹھ جاتے تھے ، البتہ ابھی ہر چیز کو اس زمانہ سے قیاس نہیں کرنا چاہئے ، یہ بولیں کہ اس زمانہ میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم زمین پر بیٹھتے تھے ، تو ابھی بھی زمین پر بیٹھنا چاہئے ، یہ دین میں کج فہمی ہے ، اس زمانہ میں عام لوگوں کے لئے یہ کرسی اور صوفہ وغیرہ میسر نہیں تھے ، اور زیادہ تر لوگ زمین پر بیٹھتے تھے ، دین  کو صحیح سمجھنا چاہئے ، آئمہ اطہار  علیہم السلام  کے سیرت کو سمجھنا چاہئے ، اور ہر زمانہ میں اپنے زمانہ کے  اقتضا ء کے مطابق عمل کرے ، اس زمانہ میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اگر زمین پر بیٹھتے تھے چونکہ تقریبا سارے لوگ زمین پر بیٹھتے تھے ، یا اس زمانہ میں عام لوگ جو کھانا کھاتے تھے یپغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اسی پر اکتفاء کرتے تھے ۔

امام صادق علیہ السلام سے عرض کیا کہ فلان مسلمان تقوااور خدا کی خوف سے بیوی بچوں کو چھوڑ کر صحراء کی طرف نکل گیا ہے اور ابھی وہ کھانا بھی نہیں کھاتا ، اور خدا کی خوف سے سر اوپر اٹھاتا ہی نہیں ، آپ(علیہ السلام) نے فرمایا : اس شخص نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پیروی نہیں کی ہے ، وہ پیغمبر جو خدا کے عشق میں اعلی درجہ پر فائز تھے ، جو خدا کے خوف میں سب سے آگے تھے ، انہوں نے شادی کی ، زندگی گزارے، گوشت کھاتے تھے اور لوگوں کے ساتھ رفت و آمد کرتے تھے ، اس کے بعد فرمایا : خشوع انسان کے دل میں ہوتا ہے ، اگر کوئی اپنے ظاہر کو ایسا بنائے کہ لوگوں کو پتہ چل جائے کہ میں خدا سے بہت ڈرتا ہوں اور اپنے سر کو اوپر اٹھاتا بھی نہیں ہوں تو اس نے بہت غلط کیا ہے ۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو پہچاننا چاہئے ، ہم مسلمانوں کی ایک افسوسناک کام یہ ہے کہ ہم نے ابھی تک اپنے پیغمبر  کو صحیح طرح پہنچانا نہیں ہے ، امیر المومنین علیہ السلام ان تمام عظمتوں کے باوجود فرماتے ہیں :«أنا عبد من عبید محمّد»، وہ امیر المومنین علیہ السلام  کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ان سے فرماتے ہیں یا علی میں تمہارے تمام فضائل کو لوگوں کو بیان نہیں کر سکتاہوں، اگر میں بتا دوں تو یہ لوگ خدا کے بدلے تمہاری پرستش کرنے لگیں گے، وہ شخصیت بتاتا ہے کہ میں پیغمبر کے غلاموں میں سے ایک غلام ہوں ۔

 ہمارے دین میں انسان کا اسوہ صرف پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آئمہ معصومین (علیہم السلام) ہیں ، ان حضرات کے علاوہ کسی اور میں اسوہ ہونے کی قابلیت ہی نہیں ہے ، کيوں؟ یہ آیت شریفہ یہ نہیں فرماتا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم صرف تم مسلمانوں کے لئے یا اہل حجاز کے لئے اسوہ ہے ، بلکہ یہ فرماتا ہے کہ تمام بشریت کے لئے قیامت تک آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اسوہ ہے ، اگر کبھی یہ بتایا جاتا ہے کہ فلان بزرگ ہستی اسوہ ہے ، تو یہ اس اصلی اور واقعی اسوہ جو کہ پیغمبر اکرم اور آئمہ اطہار علیہم السلام  ہیں کا ایک کرن ہے ، قرآن کریم ایک شخص کو بشریت کے لئے اسوہ قرار دیتا ہے جس سے پوری زندگی میں ایک غلطی یا اشتباہ یا کوئی گناہ سرزد  نہیں ہوا ہے ، وہ جو لوگوں کے ساتھ سب سے زیادہ رحم دل ہے جن کا عقل تمام بشر سے زیادہ ہے ، خود یہی آیت کریمہ دلیل ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا عقل تما م بشر سے زیادہ اور بالاتر ہے کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو انہیں اسوہ قرار نہیں دیتا ۔

کیوں خدا کے حکم سے امیر المومنین علیہ السلام اور ان کے فرزندوں کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا جانشین قرار دیا گیا ہے؟ ایسا نہیں ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے اختیار سے اپنے داماد اور چچا زاد بھائی کو اپنا جانشین قرار دیا ہو ، اما باقر اور امام صادق علیہما السلام کے زمانہ تک دین کی حقیقت بیان  کرنا ممکن نہیں تھا ، آپ اس وقت  کسی مرجع تقلید کا  توضیح المسائل دیکھتے ہیں ، یہ توضیح المسائل 60 ہزار سے زیادہ احادیث کا خلاصہ ہے کہ اس 60 ہزار روایات میں سے ، 47 ہزار روایات امام باقر اور امام صادق علیہما السلام سےنقل ہیں ، ہماری روایات میں امیر المومنین ، امام حسن ، امام حسین اور امام سجاد (علیہم السلام) سے بہت کم ہی روایات ہے۔

توضیح المسائل قرآن اور روایات کا نچوڑ ہے ، اور وہ بھی صرف احکام شرعیہ میں ، اب اگر ہم اہل سنت سے یہ سوال کریں کہ ابوحنفیہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بارے میں کیا کہتا ہے ؟ تو وہ سر نیچے کرنے پر مجبور ہونگے ، چونکہ وہ اہل بیت میں سے نہیں تھا لہذا وہ آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا ، اہل سنت کے چاروں مذاہب کے بڑے اسی طرح ہیں ، حتی خلیفہ اول اور دوم  بھی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بارے میں بہت کم معلومات رکھتے ہیں ، لیکن اگر امیر المومنین علیہ السلام کے نہج البلاغہ کو ہم کھول ليں ، وہاں تو بات کچھ اور ہے ، پیغمبر اکرم (ص) کے بارے میں بے حساب باتیں نقل ہیں، اسی طرح ہمارے تمام امام یپغمبر اکرم کے بارے میں بہت ساری فرمایشات ہیں ، کہ  اتنے زیادہ ہیں کہ ابھی بہت ساری کتابیں چھپی ہیں جن کا عنوان ہے پیغمبر اکرم امیر المومنین کے نظر میں ، پیغمبر اکرم امام حسن مجتبی کی نظر میں ، امام حسین  کی نظر میں ۔۔۔۔

جس طرح پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم معرفت خداوندی کے اعلی درجہ پر فائز تھے ، ہمارے ائمہ اطہار علیہم السلام بھی پیغمبر اکرم کے اعلی درجہ کا معرفت رکھتے تھے ، یہ ایک حقیقت ہے ، البتہ کسی کے ذہن میں یہ خطور نہ کرے کہ یہ باتیں ہفتہ وحدت سے متصادم ہے ، نہیں ! امام خمینی ، مقام معظم رہبری اور ہمارے والد مرحوم ( رضوان اللہ علیہ ) سب کا وحدت  کے بارے میں تاکید کرتے تھے اور کرتے ہیں ، لیکن وحدت کا یہ معنی ہے کہ  مسلمان دشمن کے مقابلہ میں ایک طاقت بن جائے اور ایک دوسرے کے مقدسات کی توہین بھی نہ کرے ، لیکن وحدت کا یہ معنی نہیں ہے کہ شیعہ اعتقادات کے واقعیات کو بھی چھپا لیں ، اور یہ بتانے لگیں کہ امام صادق علیہ السلام اور ابوحنفیہ ایک ہیں ، افسوس ہو ایسے شخص پر جو اس طرح کی بات کرے ؟! کیا یہ ممکن ہے کہ امام صادق علیہ السلام اور ابوحنیفہ ایک جیسے ہوں ، اگر تمام بشریت کو جمع کر لیں تو ہمارے آئمہ علیہم السلام کے ایک چھوٹے ناخن کے برابر بھی نہیں ہو سکتے ۔

میں یہ باتیں نہ تعصب اور دینی اعتقاد میں شدت کے لحاظ سے بتا رہا ہوں ، بلکہ آئيں علمی مسائل اور ان کے باتوں کو آپس میں مقایسہ کریں تا کہ ان کے درمیان جو زمین سے آسمان کا جو فرق ہے وہ پتہ چل جائے ۔

میں نے مصر  کے الازہر یونیورسٹی کے ایک عالم دین جو قم میں مجھ سے ملنے آیا تھا ، میں نے مرکز فقہی آئمہ اطہار (علیہم السلام) کی ایک کتاب جس کا نام «تمسک ائمه اطهار(ع) به آیات قرآن»، تھا انہیں دیکھایا ، اس کتاب میں ہمارے آئمہ (علیہم السلام) کے ان احادیث کو جمع آوری کیا گیا ہے جن میں کتاب خدا سے استدلال ہوا  ہے ، میں نے اس الازہر کے عالم سے بتایا کہ ان چند جلد کتابوں میں ہمارے آئمہ نے اعتقادی مسائل اور احکام میں قرآن سے استدلال کیا گيا ہے ان کو جمع کیا ہے ، ہمارے آئمہ (علیہم السلام) اس طرح تھے ۔

یہ بلند آواز میں یہ عرض کر رہا ہوں کہ اگر اہل سنت کے تمام بزرگ علماء کے قرآن سے استدلال کیے ہوئے باتوں کو ایک طرف قرار دیں ، تو ہمارے آئمہ کے استدلال کے ایک ہزاواں کے برابر بھی نہیں ہو سکتا ، چونکہ ہمارے آئمہ عالم بہ کتاب خدا ہیں ، امیر المومنین علیہ السلام ایسی شخصیت ہے کہ قرآن فرماتا ہے :«كَفى‏ بِاللّهِ شَهیدًا بَینی وَ بَینَكُمْ وَ مَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْكِتابِ»؛اے پیغمبر کافروں کو بتا دو کہ میرے اور تمہارے درمیان گواہ خدا ہے ، اور امیر المومنین علیہ السلام ہے جن کے اختیار میں علم قرآن ہے، اس سے بھی بالاتر نہ صرف علم بہ قرآن بلکہ علم قرآن ہمارے آئمہ (علیہم السلام) کے اختیار میں ہے ، ان کے علاوہ کسی کے پاس بھی نہیں ہے ۔

وحدت ، ہمارے نظام جمہوری اسلامی کے برکات میں سے ایک ہے ، اگر یہ وحدت نہ ہو تو دشمن سنی اور شیعہ دونوں کو ختم کرنے کےلئے اختلاف ایجاد کرکے فائدہ اٹھائے گا ، اس وقت دین سے آشنا کوئی شخص وحدت کو قبول نہ کرے ایسا نہیں ہوسکتا ، سب سے پہلا شخص جس نے وحدت کو قبول کیا خود امیر المومنین علیہ السلام ہے ، کیوں 25 سال گھر میں بیٹھے رہے ؟ اس لئے کہ یہود اسلام کو ختم کرنے کے درپے تھے ، لیکن امیر المومنین علیہ السلام نے اپنے مسلم حق سے درگزر فرمایا تا کہ اسلام کا بنیاد باقی رہے ، اس وقت ہم سب کی بھی یہی ذمہ داری ہے ۔ وحدت ہونا چاہئے ، اس میں کسی کو شک و شبہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ، لیکن وحدت کام معنی جیسا کہ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے بارہا فرمایا ہے اس معنی میں نہیں ہے کہ شیعہ سنی ہو جائے یا شیعہ اپنے عقائد سے چشم پوشی کرے ، ایسا ہرگز نہیں ہے ، مگر ہمارے عقايد کسی سیاست سے ملا ہوا ہے ، کہ ایک دن اسے کم اور ایک دن اسے زیادہ کرے !ہمارے عقايد میں کم اور زیادہ نہیں ہو سکتا لیکن اس کے ساتھ وحدت بھی ہونا چاہئے ۔

ہمارے آئمہ (علیہم السلام) پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بارے میں سب سے زیادہ معرفت رکھتے تھے ، امیرالمومنین علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سب سے قریبی ترین انسان تھے، آپ علیہ السلام خود فرماتے تھے  بعثت سے پہلے جب پیغمبر اکرم غار حرا جاتے تھے ، اس وقت میں ایک چھوٹا سا بچہ تھا لیکن اس کے باوجود آپ(ص) کے ساتھ جایا کرتا تھا ، اور ان آوازوں کو جسے یپغمبر اکرم سنتے تھے میں بھی سنتا تھا ۔

اپنے شیعہ ہونے کی قدر کریں ، امیر المومنین علیہ السلام کی قدر و منزلت کو پہچان لیں، قدر شناس ہونا صرف لفظ سے نہیں ہے بلکہ یہ دیکھنا ہو گا کہ  امیر المومنین علیہ السلام مجھ سے کیا چاہتے ہیں ؟اس وقت امام زمان مجھ سے کیا چاہتے ہیں ؟ امیر المومنین علیہ السلام نے پیغمبر اکرم کے پاس تربیت پائے ہیں ، فرماتے تھے : میں پیغمبر اکرم کے گود میں بڑا ہوا ہوں ،  آیت کریمہ «لَقَدْ كانَ لَكُمْ فی رَسُولِ اللّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ»کے ذیل میں  روایت فرماتے ہیں:«إن الله تبارك و تعالی ادّب نبیه»،خداوند متعالی نے پیغمبر اکرم کی تربیت کی ، ایک اور روایت میں ہے کہ جب ان کی تربیت کامل ہو گئی تو اس کے بعد انہیں اسوہ قرار دیا ، پیغمبر اکرم کامل طور پر خدا کا تربیت یافتہ ہے ، لہذا امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں : پیغمبر کی تربیت خدا نے کی ، اور مجھے پیغمبر اکرم نے تربیت دی، امیر المومنین ہر وقت پیغمبر اکرم کے ساتھ ہوتے تھے ، جب بھی کوئی آیت نازل ہوتی تھی پیغمبر اکرم گھر تشریف لے جاتے ، اور دروازہ کو بند کرتے اور امیر المومنین علیہ السلام کو اس آيت کو اور اس کی تمام خصوصیات اور توضیحات کو بیان فرماتے تھے تا کہ آپ (علیہ السلام ) اسے لکھ لیں ۔

البتہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد لوگوں نے جو کچھ امیر المومنین نے لکھا تھا اسے بشر کے ہاتھوں میں آنے نہیں دیا ، وہ کتاب وہی مصحف علی ہے کہ جو اس وقت امام زمان علیہ السلام کے پاس ہے ، مصحف یعنی قرآن ، جاہل لوگ کہتے ہیں شیعوں کے پاس ایک الگ قرآن بھی ہے ، لیکن ان کی یہ بات جہالت اور حماقت کی وجہ سے ہے ، شیعوں کے پاس ایک الگ قرآن نہیں ہے ، بلکہ یہی قرآن ہے جو موجود ہے ، لیکن امیر المومنین علیہ السلام نے اپنے مصحف میں جسے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حکم سے لکھا تھا ، کہ کونسی آیت کس کے بارے میں اور کس چیز کے ساتھ نازل ہوا ہے ؟ اور خدا کا اس سے مقصود و مطلوب کیا ہے ؟

حتی کہ روایات میں ہے کہ کبھی امام باقر علیہ السلام کے خدمت میں کوئي شخص آکر سوال کرتا تھا ، آپ اس شخص کے جواب کو دے دیتے تھے لیکن سوال کرنے والا صحیح طرح سے قانع نہیں ہوتا تھا ، امام اپنے خادم سے فرماتے تھے جاو میرے جد علی  کا مصحف لے آو ، جس کے بعد اس شخص سے فرماتے تھے یہ علی بن ابی طالب کی لکھائی ہے ، روایات میں اس طرح کے نمونے بہت زیادہ ہیں ۔

مسجد بنانے والوں کے بارے میں !

اس مسجد کے تعمیرات میں جن محترم شخصیات نے کمر ہمت کس لی ہے ان سے عرض کرتا ہوں :

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا مدینہ میں سب سے پہلا کام  یہ تھا کہ ایک مسجد بنا لی، جس نے بھی مسجد بنائے اس نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اپنا اسوہ قرار دیا ہے ، یہ نہ سوچیں  کہ یہ ایک معمولی سا کام ہے ۔

روایات میں ہے کہ انسان جب قبر میں ہوتا ہے تو وہ دنیا کے مسجد سے مستقیم طور پر رابطہ رکھتا ہے ، اور یہ بہت ہی عجیب بات ہے ، روایت میں ہے کہ اگر کوئي اپنے قبر کو روشن کرنا چاہتا ہے تو مسجد کے چراغ کو روشن رکھو ، یا کوئی اپنے قبر کی کشادگی چاہتا ہے اور فشار قبر سے بچنا چاہتا ہے تو وہ مسجد کو صاف کرو مسجد کی جاڑو کرو ، امیر یا غریب ہر کوئی اپنے وسعت کے مطابق مسجد کی مدد کرو، اور اسے اپنے توفیقات میں سے جان لیں ، اور خدا کا گھر نامکمل رہنے نہ دیں ، خدا نے ہمارے رزق و روزی میں کوئی کمی نہیں کی ہے ، ہم بھی خانہ خدا کو جو کہ مسلمانوں کی عزت و آبرو میں کوئی کمی و بیشی نہ رکھیں ، اگر ایک غیر مسلمان یہاں سے گزرے تو وہ یہ نہ بولے یہ کیوں مسلمانوں نے اسے ادھورا چھوڑا ہے ۔

آپ تہران یا کہیں پر بھی کسی کلیسا کو ادھورا چھوڑا ہوا نہیں دیکھیں گے ، چونکہ وہ لوگ اپنے عبادت کرنے کی جگہ کو  مکمل طور پر بنائے رکھنے  پر کاربند ہیں ، میں یہاں مسجد اور کلیسا کے درمیان مقایسہ نہیں کرنا چاہتا ، ہمارے مسجد کے ایک کونہ کی مٹی ہزاروں کلیسا سے قابل مقایسہ نہیں ہے !مسجد انسان کے متحول ہونے کا جگہ ہے ، خصوصا اگر مسجد کے ہمسایوں کو اگر کوئي مشکلا ت ہیں تو آئيں خدا کے گھر میں آئیں ، تا کہ دیکھ لیں کہ مسجد میں انسان کو کتنا سکون ملتا ہے ، مسجد میں سونا اور دنیاوی کاموں کے بارے میں بات چیت کرنا مکروہ ہے مسجد دنیا کی معاملات کا جگہ نہیں ہے ، مسجد محل معراج انسان اور انسان کا خدا سے ارتباط قائم کرنے کا جگہ ہے ۔

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ

 

۲۰۷ قارئين کی تعداد: