pic
pic

زیارت اور عزاداری امام حسین علیہ السلام کی حقیقت کو سمجھنا

  • تاریخ 06 December 2019
  • ٹائم 00:30
  • پرنٹ
خبر کا خلاصہ :
حضرت آیت الله حاج شیخ محمدجواد فاضل (لنکرانی دامت برکاته) کا زيارت اور عزاداري امام حسين عليه السلام کی حقیقت کو سمجھنے کے بارے میں بیانات

 


 

بسم الله الرحمن الرحیم


ماه محرم  جو کہ قمری سال کا شروع ہے تاریخ بشریت کا مہم ترین واقعہ اور عالم بشریت کے سب سے بڑی مصیبت اس مہینہ میں وقوع پذیر ہوا ، معلوم ہوتا ہے کہ جب  ہر ماہ محرم کے شروع ہونے کے ساتھ انسان اس واقعہ کی حقیقت سے ارتباط کے اثر ، واقعہ پر گہرا توجہ ، اس کے مختلف پہلووں اور آثار اور اس سے حاصل ہونے والے سبق سے ، انسان کی زندگی میں ایک نئی روح پیدا ہوتی  ہے ، جس طرح ماہ مبارک رمضان مہمترین مہینوں میں سے ایک ہے کہ انسان عبادت اور خدا سے تقرب حاصل کرنے کی وجہ سے اس کے اندر ایک تبدیلی آتی ہے ، ماہ محرم میں بھی اس واقعہ سے ارتباط کی وجہ سے انسان کے اندر ایک گہری تبدیلی آجاتی ہے۔

یہاں پر اس بات کا بتانا ضروری ہے  حقیقت میں  ابھی تک واقعہ عاشورا  کے تمام حقایق بشریت کے لئے واضح نہیں ہوا ہے ، ہم یہ نہیں  بتا سکتے  کہ ہم واقعہ عاشورا کے بارے میں ایک کامل اور گہرا درک رکھتے ہیں ،شاید بہ بتاسکے کہ جس طرح ہماری عبادات کی ایک ظاہر اور ایک باطن ہے ، ہمارے نماز، روزہ اور حج کی ایک ظاہر ہے جو کہ یہی ظاہری حرکات جیسے طہارت اور افعال جسے ہم انجام دیتے ہیں اور وہ اقوال جسے ہم نماز میں پڑھتے ہیں ، لیکن اس نماز اور اس روزہ اور حج کے کیا باطن اور اسرار ہیں ؟ ہمیں چاہئے کہ عبادات کی اس باطن اور حقیقت کی طرف توجہ پیدا کرے ۔

واقعہ عاشورا کی بھی ایک ظاہر ہے کہ ایک خاص زمان میں واقع ہوا ،لیکن اس کے باطن اور اسرار زمانہ کے گزرنے کے ساتھ ساتھ آشکار ہو گا ، لہذا جو لوگ امام حسین (علیہ السلام ) کے عزادار ہیں ، عزاداری اس واقعہ کا ظاہری پہلو ہے ، رونا ، سینہ زنی کرنا اور دوسرے انواع و اقسام کے عزاداری جو آجکل موجود ہے ، سب کے سب اس واقعہ کا ظاہر ہے کہ عزادارن امام  حسین (علیہ السلام)کو چاہئے کہ اس ظاہر کے سایہ میں اس کے باطن اور حقیقت تک پہنچے ، اس کا باطن یہ ہے کہ انسان خود کو حسین بن علی (علیہما السلام) کے قريب کر لے ، کیا ہم میں سے ہر ایک یہ احساس کرلیتے ہیں کہ ہمارے اور امام حسین علیہ السلام کے درمیان فاصلہ کم ہوا ہے ؟ ! کیا یہ احساس کرتے ہیں کہ امامت کے بارے میں کچھ حقایق ہمارے قلب کے اندر زیادہ ہوا ہے ؟ کیا یہ احساس کرتے ہیں کہ جو ہدف اور نظریہ امام حسین علیہ السلام رکھتے تھے اس تک پہنچنے کے لئے گزشتہ سوالوں سے زیادہ تیار ہوئے ہیں ؟ اگر ہم امام حسین ( علیہ السلام ) کے واقعہ میں صرف اور صرف ظاہری عزاداری پر اکتفاء کرے تو اس جیسا ہے کہ عبادات میں صرف اور صرف ظاہر عبادات پر توجہ کرتے ہیں اور یہ ہمارے لئے نقصاندہ ہے، چونکہ یہ ظاہر اس باطن تک پہنچنے کے لئے ہے ۔

ہر محرم میں جب ہماری آنکھوں سے آنسو جاری ہوتی ہے ، جب ہمارے دل جریحہ دار ہوتے ہیں ، جب ہم اپنے سر اور سینہ پیٹتے ہیں ، اور عزاداری میں مشغول ہوتے ہیں اسی وقت ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ ہم حقیقت عاشورا اور حقیقت کربلا کے باطن سے کتنا نزدیک ہوئے ہیں ، عاشورا کا باطن دین کو سمجھنا ، امامت سے نزدیک ہونا اور خدا سے تقرب پیدا کرنا ہے ، اس کا باطن خداوند تبارک و تعالی کی طرف اوج کرتا ہے ، اور وہ بھی واقعی اور حقیقی  بلندی ہے ،حقیقی بلندی یہ ہے کہ انسان جانبازی اور پائداری کے درس کو عاشوار سے سیکھے ، عاشورا کی باطن اور حقیقت یہ ہے کہ انسان خداوند تبارک و تعالی کی دین کی حفاظت کے لئے اپنے آپ  اور اپنے بیوی بچوں ، جان و مال اور سب چیزوں کو قربان کرے ، یہ عاشورا کی باطن اور حقیقت ہے ، اگر ہم عاشورا کی حقیقت کو صرف اور صرف ظالم سے مبارزہ کرنا تفسیر کرے ، تو  ہم نے کوتاہی اور غلطی کی ہے ، ایسا نہیں تھا کہ بولیں امام حسین ( علیہ السلام) صرف يزید سے مقابلہ اور مخالفت کرنے اور اس کی بیعت نہ کرنے کے لئے اس حرکت کو شروع کیا ہو ، يزید سے مقابلہ کرنے اور اس کی مخالفت کرنے کے اور بھی بہت سارے راستے تھے ، ہمیں واقعہ عاشورا کو صرف ظلم ستیزی اور ظلم سے مقابلہ میں خلاصہ نہیں کرنا چاہئے ، عاشورا کی حقیقت اور کربلا کی حقیقت دین کی دفاع ہے ، عاشورا کی حقیقت یہ ہے کہ اس عالم میں دین سے زیادہ قیمتی کوئی بھی چیز نہیں ہے ، خدا کا دین یعنی خدا کے دستورات ، یعنی خدا  کا ارادہ ، خدا وند متعالی بشر سے کیا چاہتا ہے ؟ جو کچھ خدا چاہتا ہے وہ دین خدا کے عنوان سے ہے ، اعتقادات ، احکام ، اخلاق ، سیاست ، یہ سب دین کا مجموعہ ہے ، عاشورا دین خدا کے مجموعہ کا تجلی گاہ ہے ، کیوں امام حسین ( علیہ السلام) کے قیام کو اتنی زیادہ اہمیت حاصل ہے ، اور ہر سال اس کی شکوہ اور عظمت میں اضافہ ہوتا ہے ؟ اگر ہم اس قیام کو صرف ظلم ستیزی میں محصور اور محدود کرے ، یہ عاشورا کی حقیقت سے جفا ہے ، اگر ہم امام حسین ( علیہ السلام ) کے قیام کو صرف ایک شخصی حکم کے عنوان سے بیان کرے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ واقعہ عاشورا کا صرف ظاہری تفسیر ہے ۔

جب ہم امام حسین ( علیہ السلام) کے فرمایشات کو ملاحظہ کرتے ہیں تو یہی نظر آتا ہے کہ آپ(ع)  پیغمبر اکرم (صلی اللہ عليہ و آلہ وسلم ) کے فرمان کو نقل کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم( ص) نے فرمایا:«من‏ رأى‏ سلطانا جائرا مستحلّا لحرم اللّه؛ ناكثا لعهد اللّه؛ مخالفا لسنّة رسول اللّه؛ يعمل في عباد اللّه بالإثم و العدوان فلم يغيّر عليه بفعل و لا قول، كان حقّا على اللّه أن يدخله مدخله» اگر کسی نے ظالم  بادشاہ کو دیکھا جو خدا کے حلال کو حرام اور خدا کے حرام کو حلال کرتا ہے پھر اس سے مقابلہ نہ کرے یعنی خدا کی دین سے دفاع نہ کرے ، خداوند متعالی اس شخص کو  جہنم میں اس جگہ میں داخل کرے گا جو اس ستمگر حاکم کی ہے ، امام حسین (علیہ السلام) کی قیام کا بنیاد دین خدا سے دفاع تھا فرمایا : میرے نانا کی سنت ختم ہو چکی ہے ، اسلام ختم ہوا ہے ، جو چیز ابھی حاکم ہے وہ بدعتیں اور خرافات ہے ، دوسرے الفاظ میں نبوت انبیاء اور رسولوں کا سارا فلسفہ  لوگوں پر دین کی حاکمیت تھا، امام حسین علیہ السلام کے قیام نے طول تاریخ میں  تمام گذشتہ انبیاء کی زحمتوں کو حیات اور زندگی بخشی ، امام حسین علیہ السلام نے صرف دین اسلام کو نجات نہیں دیا ، دین کو اپنے جامع اور عام معنی میں ، یعنی خدا کے ارادہ کو بشریت پر تسلط  پیدا کرنے کو حاکمیت بخشا، اور بشر کو یہ سمجھایا جو چیز تم پر حکومت کرنے کا سزاوار ہے وہ احکام الہی ہے نہ وہ قوانین جو بشر جعل کرتے ہیں۔

عاشورا کی حقیقت تما م انبیاء الہی خصوصا پیغمبر اکرم ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم )  کی خدمات اور زحمات جاویدان رکھنا ہے ۔

امام حسین ( علیہ السلام) کے عزاداروں کو  دس دن یا دو مہینے عزاداری کرنے کے بعد یہ دیکھنا ہو گا کہ دین کو سمجھنے کے لئے کتنا تیار ہوا ہے ؟ مختلف مجالس اور خطاب کو سن کر دین سمجھنے اور دین پر عمل کرنے کے لئے کتنا تیار ہوا ہے ؟

عاشوار کے بعد انسان خدا کے راہ میں جہاد کے لئے کس حد تک تیار ہوتا ہے ؟ خدا کے دین کو باقی رکھنے کے لئے کس حد تک اپنے جان و مال اور اہل و عیال کو قربان کرنے پر تیار ہے ؟ یہ بہت ہی اہم مطلب ہے کہ ہم سب عزاداروں کو اس بارے میں توجہ دینا چاہئے ۔

شیعوں کے ہاں دو بہت ہی مہم چيز موجود ہے (1): زیارت ، (2) : عزاداری، یہ دو چيز کسی بھی مذہب میں موجود نہیں ہے ، یہ دونوں شیعہ کا بہت ہی مہم سرمایہ ہے ، ہماری اعتقادات کی بناء پر  آئمہ معصومین ( علیہم السلام) کی زیارت اور خاص کر کے ابا عبد اللہ الحسین ( علیہ السلام) کی زیارت کے بارے میں بہت زیادہ تاکید ہوئی ہے اور ان زیارت کے لئے کتنے زیادہ آثار بیان  ہوئے ہیں ، جیسے امام صادق ( علیہ السلام کی یہ روایت کہ فرماتا ہے : «لو تعلمون ما فی ز‌يارته من الخير ويعلم ذلك الناس لا قتتلوا علي زيارته بالسيوف».

امام حسین علیہ السلا م کے قیام کا اصلی ہدف اور مقصد خداوند تبارک وتعالی کی دین سے دفاع تھا ، فقہ میں کتاب جہاد میں ہمارے فقہاء عظام عام طور پر جہاد کو دو قسموں میں تقسیم کرتے ہیں ، جہاد ابتدائی اور جہاد دفاعی، قرآن کریم میں بہت ساری آیات ان دو قسم کے جہاد پر دلالت کرتی ہیں ، جہاد دفاعی میں اصلی گفتگو جان ، مال ، اہل و عیال اور اپنے سرزمین سے دفاع کی بات ہوتی ہے ، اگر مسلمانوں پر حملہ ہو جائے تو اپنے دفاع کے لئے جہاد کرنا چاہئے، لیکن روایات اور فقہاء کی کلمات میں غور و فکر کرنے سے جہاد کی تیسری قسم بھی جہاد ذبّی کے نام سے سامنے آتی ہے ، ذبّ  یعنی دفاع ، لیکن یہ جہاد ذبی ایک خاص قسم کی دفاع ہے ، اصل اسلام سے دفاع ہے یعنی اگر کوئی مسلمان اپنے زمانہ میں یہ احساس کرے کہ اصل اسلام کو خطرہ ہے یعنی احکام اور فروع اور اخلاقیات کی بات نہیں ہے ، بلکہ دشمن اصل اسلام اور اسلام کی بنیاد کو ختم کرنے کے درپے ہوتا ہے ، وہ چاہتا ہے کہ خود اسلام ختم ہو جائے ، اس وقت دشمن سے مقابلہ کرنا اور اسلام کی دفاع کرنا واجب ہے ، ہم نے جہاد ذبی کے بارے میں تفصیل سے ایک مقالہ میں گفتگو کی ہے ، اور امام حسین علیہ السلام کی قیام کو اسی بنیاد پر تجزیہ و تحلیل کیا ہے ۔

امام حسین علیہ السلام کے قیام میں ہم دیکھتے ہیں کہ آپ نے اپنے 6 ماہ کے بیٹے کو بھی اسلام پر قربان کیا ، کیا 6 مہینہ کے بچہ پر کوئی چیز واجب ہے ؟ کیا امام ( علیہ السلام) کو یہ معلوم نہیں تھا کہ اگر اس 6 مہینہ کے بچے کو میدان میں لے آئے تو خوانخوار دشمن اس پر بھی رحم نہیں کرے گا اور اسے بچہ کو شہید کرے گا؟ یہ سب واضح تھا اور اس بارے میں آگاہ ہونے کے لئے علم امامت کی بھی ضرورت نہیں تھی، یہ مسئلہ میدان جنگ میں ایک بہت ہی واضح چیز ہے ، کیا امام (علیہ السلام) کو یہ معلوم نہیں تھا کہ آپ ( علیہ السلام) کی شہادت کے بعد آپ کے اہل بیت  ، بیوی بچے اسیر کر کے لے جائيں گے ؟ یہ سب معلوم ہوتے ہوئے کیوں اپنے ساتھ لے آئے ؟ یہ سب جہاد ذبی کے عنوان سے تفسیر اور تجزیہ اور تحلیل کی ضرورت ہے ، ہم نے امام خمینی (رضوان اللہ تعالی علیہ) کے انقلاب کی بنیاد کو بھی یہی قرار دیا ہے ، یعنی جس زمانہ میں امام خمینی نے ایران میں قیام کیا اس وقت ظاہری طور پر کامیابی اور فتح کی کوئي بات سامنے نہیں تھی ، لیکن آپ نے یہ فرمایا کہ میں اگر اکیلا ہی  ہو تب بھی طاغوت کے مقابلہ میں کھڑا ہو جاوں گا ، اسلام ختم ہو رہا ہے میں وہاں خاموش نہیں رہ سکتا ۔

امام حسین ( علیہ السلام) کے عزاداروں کو جاننا چاہئے امام حسین( علیہ السلام) کے قیام کی تمام حقیقت اسی مسئلہ میں ہے ، ہم ایسی بات کر کے کہ آپ (علیہ السلام) شہید ہوئے تا کہ امت کے گناہکاروں کو نجات کرے اس عظیم واقعہ کو کم اہمیت نہیں کرنا چاہئے ، اگرچہ عزاداری کی برکت سے بہت ساری گناہیں بخشے جائيں گے اور ہماری روایات میں یہ بالکل واضح ہے ، لیکن اس عظیم قیام جس کے بارے میں خداوند متعالی اور ملائکہ الہی سے لے کے تمام تکوینی اور غیر تکوینی موجودات تک سب کے سب نے امام حسین علیہ السلام کے بارے میں کچھ نہ کچھ بیان کیا ہے ،اور سب عزادار بھی ہیں ، تمام انبیاء الہی نے امام حسین ( علیہ السلام) پر آنسو بہائے ہیں ، آسمانوں نے اس مصیبت پر آہ و فغان کیا ہے ، «ضجّت السماوات و الارض و ما فیهما» آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب نے آہ و فغان کی ہیں ، یہ ایک عام واقعہ نہیں ہے ، لہذا یہ جملہ «لا یوم کیومک یا ابا عبدالله» که  جسے  امام حسن (علیه السلام)  نے  آپ ( ع) سے فرمایا ،یہ بیان کرتا ہے کہ نہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد امام حسین علیہ السلام کے دن کی طرح کوئی ایسا دن  تاریخ میں نہیں ہے ، چونکہ اس کی حققیت دین سے دفاع تھا نہ اپنے آپ سے اور نہ اپنے اہل و عیال سے اور نہ اپنے خاندان سے ۔۔۔۔۔۔

امام حسین علیہ السلام کے عزاداروں جن کو  ابا عبد اللہ علیہ السلام کی عزاداری اور نوکری کا شرف حاصل ہے انہیں چاہئے کہ اس عظیم سرمایہ سے خداوند متعالی کے نزدیک پہنچنے کے لئے بلند درجات حاصل کرے ، اس عظیم سرمایہ سے بہت ہی مختصر پر اکتفاء نہ کرے ۔

یہ شیعوں کی افتخار کا سبب ہے کہ اس کے ہاں ایسے گرانبہا چيز ہے ،دو مہینے عزاداری کرنے کے بعد یہ دیکھنا ہو گا کہ خدا کے دین کے بارے میں ہمارا عشق کم ہوا ہے یا زیادہ ہوا ہے ؟ یا پہلے سے کوئی فرق نہیں پڑا ہے ؟ ہر محرم کے بعد دین خدا پر عمل کرنے کے لئے ہمارے جذبہ زیادہ ہونا چاہئے ،خدا ہم سے کیا چاہتا ہے ؟ سچائی ، امانتداری ، وفا بہ عہد ، خدا کے واجبات کو انجام دینا، محرمات الہی کو ترک کرنا، ظالم کے مقابلہ میں قیام، مقاومت، دین اسلام کے بہت بڑے معیاروں میں سے ایک مقاومت ہے (إِنَّ الَّذينَ قالُوا رَبُّنَا اللّهُ ثُمَّ اسْتَقامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلائِكَةُ)، جوشخص اپنے دین کے لئے مقاومت نہ کرے وہ مومن نہیں ہے ، انسان کو چاہئے ہمیشہ ایسے ظالموں کے مقابلہ میں کھڑا ہو جائے جو سماج سے دین کو ختم کرنے کے درپے ہوتے ہیں ، آج ہمارے انقلاب کے اصلی دشمنوں کا مقصد صرف اس نظام اور انقلاب کو ختم کرنا نہیں ہے ، بلکہ ان کا اصلی ہدف دین اسلام اور مکتب اہل بیت (ع) کو کلی طور پر محو اور ختم کرنا ہے ، کہتے ہیں اسلام کے نام سے کوئی چیز نہیں ہونا چاہئے اور اس کے لئے مختلف قسم کے پروگرام بناتے ہیں ، ان کا ایک پروگرام یہ ہے کہ اس عزاداری کو ہم سے چھین لیں ، اس میں انحرافات کو داخل کر کے اس کے عقلائی شکل کو خراب کرتے ہیں ، اس بارے میں بہت زیادہ متوجہ رہنے کی ضرورت ہے اور جس طرح امام خمینی (رضوان اللہ تعالی علیہ) ، مراجع عظام اور رہبر معظم نے فرمائے ہیں اسی انداز میں یہ عزاداری برگزار ہونی چاہئے ، تا کہ ہم عزاداری کی حقیقت تک پہنچ جائے ، اس مطلب کے بارے میں ہم سب کو متوجہ رہنا چاہئے ۔

اگر ہم ان مجالس کو اس کی حقیقت کے مطابق روز بہ روز تقویت کرے ، تو اسلام کا بنیاد قوی ہو گا ، اسلام کے بقاء کا ضامن ہے اور اسلام کی بنیاد کو محکم کرنے کے لئے عزاداری کی حقیقت سے نزدیک ہونا چاہئے ۔

اہل بیت ( علیہم السلام) کی برکت سے شیعوں کے ہاں یہ دو اہم چیزیں زیارت اور عزاداری موجودہے اور ہمیں چاہئے کہ ان دو عنوان کے بارے میں اچھی طرح سے متوجہ رہیں، امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے بارے میں اتنی ساری روایات موجود ہیں کہ جو تواتر کی حد سے بھی زیادہ ہے اور اکثر عزادار ، زائرین اور شیعیان ان روایات کے مضامین سے آگاہ ہیں ۔

امام صادق ( علیہ السلام نے فرمایا:«لو تعلمون ما فی زیارته من الخیر و یعلم ذلک الناس لاقتتلوا علی زیارته بالسیوف» امام حسین علیہ السلام کی زیارت میں اس قدر خیر و برکت پوشیدہ  ہے کہ اگر لوگوں کو اس بارے میں آگاہی ہوتو لوگ آپ (ع) کی زیارت کے لئے جانے کے لئے آپس میں جنگ لڑیں گے، یعنی ایک دوسرے سے سبقت لے جائیں گے ، اپنے تمام اموال کو بھیج دینے پر راضی ہو جائیں گے تا کہ امام  حسین (علیہ السلام) کی زیارت کے لئے شرفیاب ہو جائے ، اس کے بعد فرماتے ہیں : «ولا تزهدوا فی اتیانه فان الخير في اتيانه اکثر من أن يحصي» امام حسین ( علیہ السلام ) کی زیارت میں کنجوسی نہیں دیکھانی چاہئے کہ بتایا جائے ایک دفعہ گیا ہوں یہی کافی ہے ، امام حسین (علیہ السلام) کی زیارت میں اس قدر آثار موجود ہے کہ جو گنتی میں نہیں آسکتے ۔

یہاں پر زیارت اور عزاداری کرے درمیان ایک مقایسہ اور ان دونوں کے فرق کو بیان کرنا مناسب سمجھتا ہوں ، ممکن ہے کہ یہ سوال کرے کہ زیارت مہم ہے یا عزاداری؟ البتہ دونوں کی توفیق پیدا کرنا بہت اچھا ہے ، لیکن ان کے درمیان فرق میں چند مطالب بیان کرنا مناسب ہے

اگرچہ عزاداری اور زیارت دونوں ، انسان کو دنیا اور آخرت میں امام معصوم( علیہ السلام) کے ساتھ قرار دیتا ہے، جو اس آیت کریمہ سے واضح ہے :(يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّهَ وَ كُونُوا مَعَ الصّادِقينَ) امام  کے ساتھ ہونا تمام مومنین کی ذمہ داری ہے ، عزاداری بھی انسان کو امام معصوم کے ساتھ قرار دیتا ہے اور زیارت بھی، امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں :«مَنْ تَذَكَّرَ مُصَابَنَا وَ بَكَى لِمَا ارْتُكِبَ مِنَّا كَانَ مَعَنَا فِي دَرَجَتِنَا يَوْمَ الْقِيَامَة»،جو شخص ہماری مصائب کو یاد کرتا ہے اور اس پر آنسو بہاتا ہے ، قیامت کے دن ہمارے ساتھ ہمارے درجات میں ہو گا ، بہت ہی اہم مطلب ہے ! عزاداری سبب بنتا ہے کہ انسان آئمہ معصومین (ع) کے ساتھ اور وہ بھی قیامت کے دن ان کے درجات میں ہو جائے ۔

لیکن امام معصوم کی ساتھ ہونے کے مختلف درجات ہیں ، سب سے پہلی بات یہ ہے کہ زیارت حضور ی طور پر ساتھ ہونا ہے ، انسان امام کے محضر میں قرار پاتا ہے لیکن عزاداری عملی طور پر امام کے ساتھ ہونا ہے ، یعنی انسان عملی طور پر خود کو امام کے غم میں ، امام کی مصیبت میں ، ان مصائب میں جو کہ امام پر وارد ہوا ہے شریک قرار دیتا ہے لہذا یہ وجہ ہے کہ عزاداری، زیارت سے زیادہ مرتبہ والا ہے ، عزاداری عملی طور پر ساتھ ہونا ہے لیکن زیارت حضوری طور پر ساتھ ہونا ہے ۔

دوسری بات یہ ہے کہ زیارت  اعتقاد کو بیان کرنا ہے یعنی امام (علیہ السلام) کی زیارت کے وقت  ہم یہ گواہی دیتے ہیں کہ ہم آپ کے سر تسلیم ہے ، آپ ہمارے اعمال پر ناظر ہیں ، آپ ہمارے شفیع ہیں ، یہ سب اعتقاد ات کا بیان ہے ، کہتے ہیں «سلمٌ لمن سالکم حرب لمن حاربکم»، آپ کے دوستوں کا دوست ، اور آپ کے دشمنوں کا دشمن ہوں ،یہ سب اعتقاد کا بیان ہے ، لیکن عزاداری اعتقاد پر عمل کرنا اور اعتقاد کا عملی تجلیگاہ ہے ، عزاداری میں انسان اپنے اعتقاد کو مرحلہ عمل میں متجلی کرتا ہے ، لہذا ان دو وجہ کی بناء پر ہم عزاداری کو زیارت سے بالاتر بتا سکتے ہیں ، زیارت کے اپنے آثار ہے لیکن عزاداری ان دو وجوہات کی بناء پر زیارت سے زیادہ قوی ہے ۔

امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کے بارے میں یہ ہے کہ کبھی انسان مجلس عزا برپا کرنے کے لئے ایک شعر بولتا ہے ، اسی اندازہ میں عزاداری ہو جاتی ہے ، امام صادق علیہ السلام ابی عمارہ سے فرماتا ہے: « يَا أَبَا عَمَّارٍ أَنْشِدْنِي فِي الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ع قَالَ فَأَنْشَدْتُهُ فَبَكَى ثُمَّ أَنْشَدْتُهُ فَبَكَى قَالَ فَوَ اللَّهِ مَا زِلْتُ أُنْشِدُهُ وَ يَبْكِي حَتَّى سَمِعْتُ الْبُكَاءَ مِنَ الدَّارِ قَالَ فَقَالَ لِي يَا أَبَا عَمَّارٍ مَنْ أَنْشَدَ فِي الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ع فَأَبْكَى خَمْسِينَ فَلَهُ الْجَنَّةُ وَ مَنْ أَنْشَدَ فِي الْحُسَيْنِ شِعْراً فَأَبْكَى ثَلَاثِينَ فَلَهُ الْجَنَّةُ وَ مَنْ أَنْشَدَ فِي الْحُسَيْنِ فَأَبْكَى عِشْرِينَ فَلَهُ الْجَنَّةُ وَ مَنْ أَنْشَدَ فِي الْحُسَيْنِ فَأَبْكَى عَشَرَةً فَلَهُ الْجَنَّةُ وَ مَنْ أَنْشَدَ فِي الْحُسَيْنِ فَأَبْكَى وَاحِداً فَلَهُ‏ الْجَنَّةُ وَ مَنْ أَنْشَدَ فِي الْحُسَيْنِ فَبَكَى فَلَهُ الْجَنَّةُ وَ مَنْ أَنْشَدَ فِي الْحُسَيْنِ فَتَبَاكَى فَلَهُ الْجَنَّة» میرے جد حسین بن علی ( علیہما السلام) کے بارے میں ایک شعر پڑھ لیں؛ ابا عمارہ ایک شعر پڑھ لیتا ہے ، آپ (ع) گریہ کرتا ہے ، اس کے بعد ابا عمارہ کہتا ہے کہ میں شعر پڑھتا گیا آپ گریہ کرتے گئے یہاں تک کہ آپ(ع) کی رونے کی آواز گھر کے اندر خواتین تک جا پہنچی ، معلوم ہوتا ہے کہ آپ بلند آواز سے گریہ کر تے تھے ، اس وقت گھر کے اندر سے خواتین بھی رونے لگی ، اس وقت آپ( ع) نے فرمایا : اگر کسی نے حسین بن علی (ع) کے لئے ایک بیت شعر پڑھے اور 50 افراد کو رلائے ، خداوند اس پر بہشت واجب کرتا ہے ، اس کے بعد فرمایا : اگر 30 افراد کو رلائے ، وہ بھی اسی طرح ہے ، اس کے بعد پھر فرمایا اگر 20 نفر کو رلائے ، اگر 10 نفر کو رلائے یہاں تک کہ اگر ایک نفر کو رلائے خدا بہشت کو اس کے لئے واجب کرتا ہے ، اس کے بعد فرمایا : نہیں ! اگر شعر بولے اور وہ خود روئے ، خدا بہشت کو اس کے لئے واجب کرتا ہے ۔