pic
pic

پردہ کے بارے میں حضرت آیت اللہ فاضل لنکرانی ( دامت برکاتہ ) سے برہان سائٹ کا انٹرویو

  • تاریخ 08 April 2020
  • ٹائم 19:29
  • پرنٹ
خبر کا خلاصہ :
پردہ کے بارےمیں اقدام اٹھانا حکومت کی شرعی ذمہ داری ہے ۔۔۔۔ملکی میڈیا کو چاہئے کہ وہ پردہ کے بارے میں ہمیشہ خاص توجہ کرے صرف بعض اوقات اس بارے میں گفتگو کافی نہیں ہے ۔۔۔۔ بعض لوگ جو کہتے ہیں کہ پردہ صرف اخلاقی لحاظ سے واجب ہے دینی لحاظ سے واجب نہیں ہے بہت ہی غلط بات ہے ۔۔۔۔ جب آیت کریمہ میں «نساء المؤمنین» ذکر ہے ، یعنی یہ بیان کرنا چاہتا ہے کہ ایمان کا شرط ؛ پردہ ہے ۔

پردہ کے فقہی مسائل کے بارے میں بہت ہی دقت نظر سے آیات اور روایات کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے ، روشنفکروں کی طرف سے پردہ کے واجب نہ ہونے کے بارے میں  جو شبہات ایجاد کيے  جاتے ہیں  ، اس بارے میں مرجع بزرگ شیعہ مرحوم آیت اللہ العظمی فاضل لنکرانی (قدس سرہ) کے فرزند گرامی حضرت آیت اللہ محمد جواد فاضل لنکرانی ( دامت برکاتہ)  مرکز فقہی آئمہ اطہار(ع) کے ريئس کی خدمت میں آئے تا کہ ان شبہات کے بارے میں فقہی مدلل جواب حاصل کر سکے۔

<<برھان<<           فقہ سےوابستہ کچھ افراد فقہی مبانی سے استناد کرتے ہوئے پردہ کے بارے میں کچھ جدید نظریات بیان کیے ہیں، بعض حضرات پردہ کو پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے زمانہ کے حکومتی احکام میں سے بتاتے ہیں لہذا اس کے واجب ہونے کے بارے میں شک و تردید کرتے ہیں ، اور بعض اسے صرف اخلاقی حکم بتاتے ہیں ، لہذا ا سے واجب نہیں سمجھتے ہیں دینی واجبات میں سے نہیں جانتے ، حجاب اسلامی کے بارے میں تمام علماء کا مورد اجماع حدود کیا ہے اور اس کے برخلاف جو نظریہ رکھتے ہیں وہ یہ کہاں سے بتاتے ہیں ؟

<<آیت اللہ  فاضل <<          یہ جو بات کرتے ہیں کہ پردہ اور حجاب پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے زمانہ میں احکام حکومتی کے عنوان سے بیان ہوتے تھے  یا یہ صرف اخلاقی لحاظ سے واجب ہے ، یہ بات نہ آیات اور روایات کے دلائل کے مطابق ہے اور نہ ہی صدر اسلام سے لے کر ابھی تک کسی شیعہ یا اہل سنت فقہیہ کا ایسا نظریہ رہا ہے ، ایسی باتیں ان اواخر میں بعض روشنفکر اشخاص بیان کرتے ہیں جو دین کو کلی طور پر ختم کرنا چاہتے ہیں ، یہ لوگ در حقیقت آہستہ آہستہ دین کو سماج اور لوگوں کے درمیان سے ختم کرنا چاہتے ہیں اسی لئے اس طرح کی خیالی تحلیل اور مطالب کو بیان کرتے ہیں ۔

خداوند متعالی نے دو سوروں ، سورہ مبارکہ " احزاب" اور " نور" میں حجاب کے بارے میں فرمایا ہے اور کچھ آیات نازل کیا ہے ، اگرچہ ترتیبی لحاظ سے سورہ نور قرآن کریم میں سورہ احزاب سے پہلے ہے ، لیکن آیات حجاب کی نزول کے تاریخ کے مطابق سورہ احزاب کی آیات سورہ نورہ کی آیات حجاب سے پہلے نازل ہوئيں ہیں، سورہ احزاب میں 3 آیات ہیں کہ فقہ اور تفسیر میں اس بارے میں تفصیلی گفتگو ہوئی ہے ، ان میں سے ایک آیت سورہ مبارکہ احزاب کی آیت 53 ہے کہ اس میں خداوند متعالی فرماتا ہے: «وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِن وَرَاء حِجَابٍ»
 
جاہلیت کے رسم و رواج کے مطابق جب مرد  کسی کے گھر میں داخل ہوتے تھے تو اجازت نہیں لیتے تھے ، اسی وجہ خداوند متعالی اس آیت کریمہ کو نازل کیا اور فرمایا: اگر کسی نے پیغمبر اکرم (ص ) کے زوجات میں سے کسی سے کوئی چیز لینا ہے تو پردہ کے پيچھے سے طلب کرو اور بغیر اجازت کے کمروں میں داخل نہ ہو جاو۔

شاید یہ سب سے پہلی آیت ہے جو حجاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے: «وَمَا کَانَ لَکُمْ أَن تُؤْذُوا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا أَن تَنکِحُوا أَزْوَاجَهُ مِن بَعْدِهِ أَبَدًا إِنَّ ذَلِکُمْ کَانَ عِندَ اللَّهِ عَظِيمًا» یعنی  کبھی بھی پیغمبر اکرم (ص) کو اذیت مت کریں اور ان کے وفات کے بعد ان کے ازواج سے نکاح بھی مت کریں کہ یہ کام  اللہ کے نزدیک بہت بڑا   گناہ ہے ۔

یہاں پر فقہاء اور مفسرین ایک مطلب بیان کرتے ہیں کہ کیا اس آيت کریمہ سے پردہ کا حکم سمجھ آتا ہے یا نہیں؟ ہم یہاں پر اس بارے میں کچھ بیان نہیں کرنا چاہتا ، فقہی گفتگو میں ہم نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اس آیت کریمہ میں " حجاب " اس اصطلاحی حجاب سے مربوط نہیں ہے ۔

اسی سورہ کی آیت 59 میں خداوند متعالی فرماتا  ہے : «ياَيهَا النَّبىُّ قُل لاَزْوَجِک وَبَنَاتِک وَنِساءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيهِنَّ مِن جَلَبِيبِهِنَّ؛  اے پیغمبر آپ اپنی بیویوں , بیٹیوں , اور مومنین کی عورتوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی چادر کو اپنے اوپر لٹکائے رہا کریں کہ یہ طریقہ ان کی شناخت یا شرافت سے قریب تر ہے اور اس طرح ان کو اذیت نہ دی جائے گی اور خدا بہت بخشنے والا اور مہربان ہے۔

میرا  خیال ہے کہ میڈیا کو اس آیت کریمہ کے بارے میں زیادہ کام کرے ، اور اسے آج کے نسل نو اور اہل فکر کو سمجھائے ، کیونکہ اس آیت کریمہ سے حجاب واضح طور پر سمجھ آتا ہے ، اسی طرح یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ حجاب قیامت تک کے لئے ایک شرعی حکم ہے ، صرف ایک حکم حکومتی نہیں ہے کہ جسے پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا ہو ، اس آیت کریمہ سے یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ حجاب ایک کامل اوڑھ ہونا چاہئے کہ جس کا آشکارا مصداق چادر ہے ۔

«نِساءِ الْمُؤْمِنِينَ» سے مراد  قیامت تک کے تمام مومنین انسانوں کے بیویاں ہیں ، ہر عورت جو خدا پر ايمان رکھتی ہے اسے چاہئے کہ اپنے آپ کو جلباب سے  ڈھانپے، جلابيب جمع ہے جلباب کا ، اگر کوئی منصف انسان اور محقق لغت نامہ ، اشعار اور تاریخی کتابوں کی طرف مراجعہ کرے ، تو چند مطالب واضح ہوتا ہے ؛ایک مطلب یہ ہے کہ جلباب اور مقنعہ اور خمار میں فرق ہے ، خمار مقنعہ سے کچھ بلند اور جلباب ان دونوں سے بلند ہے ، اگر تمام روایات سے استفادہ کرے ، تو واضح ہو گا کہ جلباب وہ چادر ہے جو عورت کے سر سے لے کر پاوں کے اوپر تک کو ڈھانپتا ہے ۔

علم لغت کے بعض اصل اور بنیادی کتابوں جیسے صحاح اللغۃ جوہری ، میں جلباب کو ملحفہ معنی کیا ہے ، ملحفہ اس چيز کو کہتے ہیں کہ انسان کو سوتے وقت سر سے لے کر پاوں تک ڈھانپ لیا ہے ، ہم یہ بتا سکتے ہیں کہ علم لغت کے اکثر علماء نے جلباب کو خمار اور مقنعہ کے مقابلہ میں قرار دیے ہیں ، اور کہتے ہیں جلباب ان دونوں سے بڑا ہے ، اور بعض نے بتایا ہے کہ جلباب یہ ہے انسان کے پورے بدن کو ڈھانپ لے ۔

حضرت زہرا ( سلام الله علیها ) کے مسجد میں جا کر اس تاریخی خطبہ کو پڑھنے کے بارے میں ذکر ہوا ہے کہ «لاثت خمارها واشتملت بجلبابها» آپ  سلام الله علیها  نے پہلے خمار کو سر پر مضبوطی سے باندھ لیا اور اس کے بعد جلباب کو اوڑھ لیا ، اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جلباب ، خمار سے الگ ہے ، ان مطالب کے پیش نظر ، جلباب وہی چادر ہے ، فرہنگ لغات مقامات حريری جو کہ ایک اہم ادبی کتاب ہے اس میں لکھا گیا ہے کہ جلباب چادر ہے ، ایک اوپر اوڑھنی والی چیز ہے جس کا آستین نہیں ہوتا ، بہت کشادہ ہوتا ہے اور پورے بدن کو ڈھانپ لیتا ہے ، اور عرب اسے ملحفہ کہتے ہیں ، لہذا تاريخی کتابوں ، احاديث اور عربی و فارسی لغت ناموں میں جلباب کو چادر معنی کیا ہے ، تفسیر نسفی ، ابوالفتوح رازی اور شریف لاہیجی سب نے جلباب کو چادر ہی معنی کيے ہیں ۔

یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ ادبی لحاظ سے اس آیت کریمہ میں کلمہ " من" سے استفادہ ہوا ہے جو کہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جلباب میں اوپر سے نیچے لٹکانے کا مفہوم پایا جاتا ہے ، لیکن  خمار میں یہ حرف استعمال نہیں ہوا ہے ، یہ بہت ہی اہم مطلب ہے کہ ادباء اس سے استفادہ کر سکتے ہیں ، اس لحاظ سے جلباب سے مراد چادر ہے ، جب خداوند متعالی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے فرما رہا ہے : اپنی بیویوں , بیٹیوں , اور مومنین کی عورتوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی چادر کو اپنے اوپر لٹکائے رہا کریں،یعنی  قیامت تک کے لئے یہ حکم دائمی الہی ہے ،اگر یہ حکم حکومتی تھا تو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ کے خواتین کی طرف اشارہ کرتا ، لیکن آیت کریمہ میں قیامت تک کے تمام مومنین کی بیویوں کے بارے میں بیان فرمایا ہے یعنی یہ حکم پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے ازواج سے بھی مخصوص نہیں ہے ، بلکہ قیامت تک کے تمام مومنین کے ازواج کو بیان کیا ہے ۔

سورہ احزاب کی آیت 59 میں ذکر ہوا ہے :«ذَلِکَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلا يُؤْذَيْنَ» اس جمله کا اہل تفسیر اور فقہاء نے مختلف معنی کیا ہے،  ایک اہم بات یہ ہے کہ خداوند متعالی فرماتا ہے جلباب کو سروں پر رکھیں تا کہ یہ معلوم ہو جائے کہ یہ خواتین اہل عفاف و حجاب ہیں ،در حقیقت خداوند متعالی آيت کے آخر میں اس حکم کی علت اور حکمت کو بیان کرتا ہے فرماتا ہے : عورت معاشرہ میں اپنے آپ کو اہل عفاف  اور پاک دامن بتانے کے لئے اس کام کو انجام دیں ، لہذا اس لحاظ سے کہ خداوند متعال نے حکمت کو بیان فرمایا ہے ، یہ حکم پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے زمانہ سے محدود نہیں ہو سکتا ،جیسا کہ فقہاء فرماتے ہیں  جہاں بھی حکمت پايا جائے وہاں پر حکم جاری ہونا چاہئے ،اس آيت کے نازل ہونے کے وقت کچھ جوان خواتین کو تنگ کرتے تھے ، اور جب جوان یہ دیکھے کہ عورت پورے پردہ میں باہر نکل رہی ہے تو وہاں آزار و آذیت کرنے کا کوئی بہانہ نہیں رہتا ۔

بعض لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ پردہ صرف اخلاقی لحاظ  سے واجب ہے دینی اعتبار سے واجب نہیں ہے یہ بہت ہی غلط بات ہے ، علم اصول کے اس قانون کے مطابق:«تعليق الحکم على الوصف مشعر بالعلية» یہ حکم قیامت تک برقرار ہے ،جب اس آيت کریمہ میں کلمہ :«نساء المؤمنین» ذکر ہوا ہے ، یعنی یہ بتانا چاہتا ہے کہ ايمان کا شرط حجا ب ہے ، اگر کوئی چیز ایمان کے شرائط کے جزء کے طور پر بیان ہو جائے ، اس کے بعد یہ نہیں بتا سکتا کہ یہ اخلاقی مسئلہ ہے ،اخلاقی مسئلہ وہاں پر ہے کہ اگر وہ ترک ہو جائے تو ايمان کے لئے کوئی نقصان نہ ہو، درحالیکہ یہ حکم ایک واجب شرعی ہے اور قیامت تک باقی رہے گا ۔

<< برہان <<             پردہ کے کلچر اور بد حجابی سے مقابلہ کے سلسلے میں فقہی اور حقوقی مبانی کے مطابق حکومت اسلامی کی ذمہ داریاں اور اختیارات کیا ہے ؟

<< آیت اللہ <<        سب سے پہلے اس بارے میں متوجہ رہنا چاہئے کہ احکام اسلام اجراء کے لئے  نازل ہوئے ہیں ،صرف ایک قانون کے عنوان سے ذکر ہونے کے لئے بیان نہیں ہوا ہے ، امر بہ معروف اور نہی از منکر بھی احکام اسلام میں سے ایک ہے کہ حتی کہ اگر ہماری حکومت اسلامی بھی نہ ہوتے ، تو معاشرہ کے تمام صاحب قدرت افراد پر واجب تھا کہ امر بہ معروف اور نہی از منکر کریں،خداوند متعالی سورہ حج کی آیت 41 میں فرماتا ہے :«الذين إن مکناهم فی الأرض أقاموا الصلاه وآتوا الزکاه وأمروا بالمعروف ونهوا عن المنکر ولله عاقبه الأمور»" یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ہم نے زمین میں اختیار دیا تو انہوں نے نماز قائم کی اور زکات ادا کی اور نیکیوں کا حکم دیا اور برائیوں سے روکا اور یہ طے ہے کہ جملہ امور کا انجام خدا کے اختیار میں ہے"۔

لہذا یہ 4 کام ہیں کہ مومنین کو چاہئے ان کو انجام دیں ، ضمنا واجبات سے بڑھ کر کوئی  معروف اور محرمات سے  مہم کوئی منکر نہیں  ہیں ،اور حجاب وپردہ ایک مہم واجبات میں سے  ہے ، حکومت اسلامی اگر اس کی ترویج میں بی اعتنائی برتے ، قرآن کے برخلاف عمل کرتے ہیں، لہذا حجاب کی ترویج حکومت اسلامی کی ذمہ داری ہے اور چونکہ بی حجابی حرام ہے اور جس نے بدحجابی کیا اس نے حرام کام انجام دیا ہے اور حکومت کی ذمہ داری ہے ،نہی از منکر کے لحاظ سے اسے اس کام سے نہی کرنا چاہئے اور لازم ہو تو حکومت اسلامی نہی از منکر کے لحاظ سے کچھ پروگرام پیش کرے اور بدحجابی کے لئے موانع پیدا کر سکتا ہو تو ایسا بھی کرے ۔

ہمیشہ یہ اشکال موجود ہے کہ ہم تمام مسائل کو آپس میں مخلوط کرتے ہیں ،مثلا کہتے ہیں دین اجباری نہیں ہے اور آيہ کریمہ«لا اکراه فی الدين»  کو بیان کرتے ہیں ،اگرچہ دین ایک امر قلبی ہے اور اجباری نہیں ہے ، لیکن معاشرہ کو فساد سے محفوظ رکھنا ایک ایسی چیز ہے کہ ہم سب اس بارے میں ذمہ دار ہیں، اگر کچھ افراد معاشرہ میں بی حجابی کو رواج دینا چاہتا ہے ، تو ہر ایک مسلمان اور ان سب سے پہلے حکومت اسلامی اس بارے میں ذمہ دار ہیں اور نہی از منکر کے مراحل کے مطابق عمل کرے ۔

لہذا یہ بہت ہی غلط بات ہے کہ بعض کہتے ہیں ان مسائل کا حکومت سے کوئی ربط نہیں ہے ، جو لوگ یہ کہتے ہیں وہ سورہ حج کی اس آیت کا کیا جواب دیتے ہیں ؟ اس آیت میں فرماتا ہے ؛ جو لوگ حکومت اسلامی کے مناصب پر فائز ہیں ان کو چاہئے کہ وسیع پیمانہ پر امر بہ معروف اور نہی از منکر کریں ، ان کی ذمہ داری ، عام انسانوں کی ذمہ داری سے مختلف ہے اور ان سے بہت زیادہ مہم ہے ۔

حکومت اسلامی کا اس بارے میں خاص ذمہ داری ہونے کی ایک اور دلیل سورہ شوری کی آیت 13 ہے: «شَرَعَ لَکُمْ مِنَ الدِّينِ ما وَصَّى بِهِ نُوحاً وَ الَّذی أَوْحَيْنا إِلَيْکَ وَما وَصَّيْنا بِهِ إِبْراهيمَ وَ مُوسى‏ وَ عيسى‏ أَنْ أَقيمُواالدِّينَ». انبیاء( علیہ السلام ) صرف دین کو پہنچانے کے لئے نہیں آئے ہیں بلکہ اس کو پہنچانے کے ساتھ ساتھ معاشرہ میں اسے صحیح طریقہ سے اجراء اور اقامہ کرنے کے لئے بھی آئے ہیں ، حاکم اسلامی کی ذمہ داری ہے کہ دین  کو معاشرہ میں زندہ کرے ، آیت شریفہ کے مطابق نظام اسلامی کے ذمہ دار افراد اگر معاشرہ میں پردہ اور حجاب بے رونق ہو رہا ہو تو اس بارے میں غور وفکر کرنا چاہئے جہاں پر تبلیغ اور تشویق کی ضرورت ہو وہاں تبلیغ اور تشویق کے ذریعہ سے اور جہاں پر مقابلہ کرنے کی ضرورت ہو وہاں مقابلہ کے ذریعہ دین کا پرچار کرے ، بہر حال اس بارے میں بی تفاوت رہنا، حق خداوند متعال کو پايمال کرنا ہے ۔

احتراما بد حجابی کے مقابلہ میں نظام کے فقہی مشکلات کو بیان فرمائيں ۔

فقہی لحاظ سے  کوئی بھی مشکل نہیں ہے ، یعنی  فقہاء کے فتاوا  فقہی لحاظ سے کامل طور پر واضح ہے ، فقہاء سے مراد وہ افراد ہیں جنہیں حوزات علمیہ واقعی طور پر فقیہ اور مجتہد کے عنوان سے قبول کرتے ہیں اور خود بھی صاحب نظر ہیں ، آجکل بعض لوگ اجتہاد کا ادعا کرتے ہیں ، لیکن اسلام کے کچھ ضروری احکام کے بھی منکر ہوتے ہیں ، ان دونوں کا ایک ساتھ جمع ہونا ممکن نہیں ہے ۔

اگر کوئی فقہی اور اجتہادی مبانی میں واقعی طور پر گفتگو کرنا چاہتے ہیں ، فقہی لحاظ سے حجاب کے بارے میں کوئی کمی نہیں ہے ، البتہ اس تیس (30) سال کے دوران ميڈیا نے بہت غلط پھیلائے ہیں جس کے اثرات بھی رونما ہوئے ہیں ، در حقیقت استکبار جہانی دین کو ختم کرنے کے درپے ہیں اور دین کی حقايق کو ایک ایک کر کے لوگوں کے درمیان سے ختم کرنا چاہتا ہے، اسی وجہ سے ایک دن حجاب پر حملہ ور ہوتا ہے ، ایک دن مرد اور عورت کے احکام کے برابر ہونے کی بات کرتا ہے اور ایک دن ارث اور دیہ کے قوانین پر شبہات کرتا ہے ، یہ سیاست استکبار صدیوں سال سے کرتے آرہے ہیں ۔

میری نظر میں قومی الیکٹرک میڈیا  کو چاہئے کہ حجاب اور پردہ کے بارے میں منطقی اور گہرے انداز میں کام کرے ، اگرچہ قومی ٹیلی ویژن اس بارے میں کچھ پروگرام نشر کرتے ہیں ، لیکن یہ بہت ہی کم ہیں ،دوسری طرف سے اس کے مقابلہ میں پروگرامز اور انٹرویوز  ہوتے ہیں بہت زیادہ ہیں ، ہمارے میڈیا کو چاہئے حجاب کے بارے میں ہمیشہ مختلف پروگرامز منتشر کرے ، صرف کھبی کھبار کچھ پروگرامز منتشر کرنے پر اکتفاء نہ کرے ، ہمارے بچیوں ، بہنوں اور خواتین کا حجاب کے بارے میں مختلف سوالات ہیں ، ان تمام سوالوں کا منطقی اور شفاف جواب ملنا چاہئے ۔

کبھی ہمارے دفتر میں خط لکھتے ہیں اور سوال کرتے ہیں کہ قرآن میں کہاں پر پردہ کے بارے میں فرمایا ہے ، ان مسائل سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے جوان اور بہنیں حجاب کے بارے میں شک و تردید رکھتے ہیں ، البتہ جب آیت قرآن کو ان کےلئے بیان کرتے ہیں ، تو بہت اچھی طرح قبول کرتے ہیں، درحقیقت ہمارے معاشرہ میں روح ایمانی موجود ہے ، تو  پردہ کے بارےمیں  علمی ، فقہی ، قرآنی اور روایی مطالب کو بیان ہونا چاہئے ، حکومت نے اس بارےمیں کوئی اقدام نہیں اٹھایا ہے ، حتی کہ بعض افراد نے بی اطلاعی کے طور پر حجاب  کے بارے میں نقصان بھی پہنچایا ہے ، افسوس کی بات ہے کہ یہ مشکل آج ہمارے نظام اسلامی میں موجود ہے ، در حقیقت بدحجابی پھیلنے کی وجہ کچھ حد تک ہمارے حکومتی افراد کے افکار اور اعمال کا نتیجہ ہے۔

 

۱۵۲ قارئين کی تعداد: