pic
pic

ماہ مبارک رمضان امام سجاد علیہ السلام کے بیان میں

  • تاریخ 31 May 2020
  • ٹائم 12:08
  • پرنٹ
خبر کا خلاصہ :
ان راستوں میں سے ایک جس پر خدا نے ہمیں قرار دیا ہے وہ ماہ مبارک رمضان ہے ، کہ روزہ کا مہینہ اور اسلام کا مہینہ ہے ، اس اسلام کا ہم یا دین اسلام معنی کرتے ہیں کہ مسلمانی کی نشانیوں میں سے ایک روزہ رکھنا ہے ، تمام فرقے والے روزہ رکھتے ہیں ، یا اس اسلام کا تسلیم معنی کرے ، ان تینوں عناوین «و شهر الطهور و شهر التمحيص و شهر القيام» کے بارے میں کچھ زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔

بسم الله الرحمن الرحیم الحمدلله رب العالمین
و صلی الله علی سیدنا و نبینا ابی القاسم محمد و آله الطیبین الطاهرین المعصومین و لعنة الله علی اعدائهم اجمعین من الآن إلی قیام یوم الدین
 
صحیفہ سجادیہ کی دعا 44 کا ایک حصہ
درس شروع کرنے سے پہلے مناسب سمجھتا ہوں کہ امام سجاد(علیہ السلام ) کی دعا کا ایک حصہ ماہ مبارک رمضان کے حوالہ سے بیان کروں تا کہ ہم اس سے استفادہ کر سکے ، صحیفہ سجادیہ میں دعا ی 44 کے پہلے حصہ میں خداوند متعالی سے عرض کرتے ہیں :
«الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَانَا لِحَمْدِهِ، وَ جَعَلَنَا مِنْ أَهْلِهِ لِنَكُونَ لِإِحْسَانِهِ مِنَ الشَّاكِرِينَ، وَ لِيَجْزِيَنَا عَلَى ذَلِكَ جَزَاءَ الْمُحْسِنِينَ»؛ حمد کرتا ہوں خداوندمتعالی کی کہ ہمیں اپنے حمد کی طرف راہنمائی فرمایا ، یہ ایک بہت بڑی نعمت ہے کہ ہمیں خداوند متعالی کی حمد کا راستہ پتہ چلا  ہے ، اگر انسان اس حمد کی طرف توجہ پیدا کرے ، بہت سارے معرفتی اور تربیتی اور اعتقادی امور اس کے لئے حل ہو جاتا ہے ، جب ہم یہ بتاتے ہیں کہ حمد صرف خداوند متعالی سے مخصوص ہے یعنی کوئی بھی موجود حمد کا قابل اور سزوار نہیں ہے حتی کہ خود انسان بھی ، جو بھی حمد اور ستایش  اور اچھائی ہے خدا کے لئے ہے ۔
امام خمینی(رضوان الله تعالی علیه) سورہ حمد کی تفسیر میں اس بارے میں بہت مہم مطالب بیان فرمایا ہے ، امام سجاد ( علیہ السلام ) اس دعا میں فرماتے ہیں : حمد اس خدا وندمتعالی کا کہ ہمیں اپنے حمد و ستایش کی طرف راہنمائی فرمایا ، بہت ہی اہم مطلب ہے اگر خداوند اس نماز کو ہمیں نہ سیکھائے ہوتے،تو ہم کیسے «الحمدلله رب العالمین» بول سکتے تھے؟اسے خداوند متعالی سے ہمیں سیکھا ہے اور یہ خدا تک پہنچنے کا ایک راستہ ہے ۔
 «وَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي حَبَانَابِدِينِهِ،وَاخْتَصَّنَا بِمِلَّتِهِ،وَسَبَّلَنَافِي سُبُلِ إِحْسَانِهِ لِنَسْلُكَهَابِمَنِّهِ إِلَى رِضْوَانِهِ، حَمْداً يَتَقَبَّلُهُ مِنَّا، وَ يَرْضَى بِهِ عَنَّا»؛ خدا کی حمد کرتے ہیں ، کہ اپنے دین کو ہمارے لئے عطا فرمایا اور ہمیں ملت اسلام میں سے قرار دیا ، اس پر بھی حمد بجا لانا چاہئے ، احسان کرنے کے طریقوں کو ہمارے لئے دیکھا یا کہ حق راستہ کونسا ہے ؟ خیر اور خوبی کا راستہ کونسا ہے ؟ یہاں پر احسان سے مراد یہ سب ہے ، حق کے راستہ کو دیکھایا ، خدایا ہم تیری حمد بجا لاتے ہیں کہ ہم سے قبول کرے اور ہم سے خوشنود ہو ۔
«وَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ مِنْ تِلْكَ السُّبُلِ شَهْرَهُ شَهْرَ رَمَضَانَ، شَهْرَ الصِّيَامِ، وَ شَهْرَ الْإِسْلَامِ، وَ شَهْرَ الطَّهُورِ، وَ شَهْرَ التَّمْحِيصِ، وَ شَهْرَ الْقِيَامِ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ، هُدىً لِلنّاسِ، وَ بَيِّناتٍ مِنَ الْهُدى وَ الْفُرْقانِ»؛ ان راستوں میں سے ایک جس پر خدا نے ہمیں قرار دیا ہے وہ ماہ مبارک رمضان ہے ، کہ روزہ کا مہینہ اور اسلام کا مہینہ ہے ، اس اسلام کا ہم یا دین اسلام معنی کرتے ہیں کہ مسلمانی کی نشانیوں میں سے ایک روزہ رکھنا ہے ،  تمام فرقے والے روزہ رکھتے ہیں ، یا اس اسلام کا تسلیم معنی کرے ، ان تینوں عناوین «و شهر الطهور و شهر التمحيص و شهر القيام»  کے بارے میں کچھ زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔
روزہ کا مہینہ اور اسلام کا مہینہ یہ دونوں تو واضح ہے لیکن یہ بات کہ طہور کا مہینہ ہے ؛ یعنی خود مہینہ،  ماہ طہارت ہے ؛جو لوگ طہارت باطنی پیدا کرنا چاہتے ہیں ، اور اپنے اندر کے تمام گندگیوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں اسے چاہئے کہ اس مہینہ میں داخل ہو جائے ، کہ رمضان طہارت کا مہینہ ہے ، خود مہینہ طہور اور تمحیص کا مہینہ ہے ، بعض نے طہور کو گندگی سے پاک اور تمحیص کو گناہ سے پاک معنی کیا  ہے ، تمحیص یعنی گناہ سے پاک ہونا ، خداوند متعالی اس مہینہ کی برکت سے گناہوں کو بخش دیتا ہے ، خداوند متعالی کی مہمانی اور ضیافت کا مہینہ ہے ، خدا بخش دیتا ہے ، بعض نے تمحیص کو امتحان اور آزمایش معنی کیا ہے کہ یہ بھی احتمالات میں سے ایک ہے ۔
«و شهر القیام»،رمضان ، نماز کا مہینہ ہے ، قیام کنایہ ہے نماز کے لئے ، کوشش کریں اس مہینہ میں ہماری نماز دوسرے مہینوں سے کچھ الگ ہو ، میں کبھی یہ سوچتا تھا کہ نماز خداوندمتعالی کے وجوہ میں سے کیا وجہ ہو سکتی ہے ؟ روزہ کی الگ صورت ہے ؟ معلوم ہوتا ہے کہ ہر عبادت خداوند متعالی کی ایک شکل ہے کہ انسان اس عبادت کے ذریعہ خداوند تبارک و تعالی کے اسماء میں سے ایک اسم سے متصف پیدا کرتا ہے ۔
کبھی ہم نادانی کرتے ہیں اور کہتے ہیں اتنی ساری عبادت ؟؟!! ہر عبادت خاص شرايط اور خصوصیات کے ساتھ ، نماز ، روزہ ، حج ، خمس ، زکات اور ۔۔۔۔۔۔ خدا ایک عبادت کو معین کر لیتے کافی تھا ، کیوں اتنی ساری عبادات ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہمیں معلوم نہیں ہے ہم غافل ہیں ، ہر عبادت خداوند تبارک و تعالی کے اسماء میں سے ایک اسم ہے ، انسان ہر عبادت کے ذریعہ خدا کی صفات میں سے کسی ایک اسم سے متصف ہوتا ہے ، یہ عبادات اس لئے ہے کہ ہم بھی خدائی ہو جائے لیکن خود خدا ہونا تو ناممکنات میں سے ہے ، لیکن خدا کے اخلاق  کو اپنے اندر پیدا کرسکتے ہیں ، اور خداوندمتعالی کے اسماء میں سے کسی ایک اسم سے متصف ہو سکتے ہیں ۔
اس بیان کے مطابق نماز اور روزہ کے درمیان بہت فرق ہے ، کہ اس بارے میں مناسب جگہ پر گفتگو کرنے کی ضرورت ہے ، لیکن یہ نماز اگر اس مہینہ میں انجام پائے تو اس کے  آثار بہت زیادہ ہو جاتا ہے ۔
اربعین کی اس  روایت میں جس میں مومن کی پانچ نشانیاں ذکر ہوا ہے ( کہ ان میں سے ایک زیارت اربعین ہے انشاء اللہ اس منحوس وائرس (رہبر معظم انقلا ب کے فرمان کے مطابق) کے ختم ہونے کے بعد عاشقان امام حسین ( علیہ السلام) یہ راستہ دوبارہ کھل جائے ) دن رات کی نوافل نمازوں پر بھی بہت زیادہ تاکید ہوا ہے ۔
مومن کی نشانی یہ ہے کہ واجب نمازوں کے علاوہ مستحب نمازوں کو بھی پڑھ لیں ، ہم کیوں اس بارے میں توجہ نہیں کرتے ہیں ، کم از کم ماہ مبارک رمضان میں کوشش کریں کہ مستحب نمازوں کو ضرور پڑھ لین ، ان ہاتھ سے جانے نہ دیں ۔
بہرحال یہ مہینہ ، قیام کا مہینہ ہے ، جو شخص بہت ہی خلوص کے ساتھ خاص نماز پڑھنا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ ماہ رمضان میں اسے انجام دیں ، کیوں ماہ رمضان میں ایک ہزار رکعت نماز پڑھنے  کی سفارش ہوئی ہے ؟ بعض راتوں میں 20 رکعات اور بعض راتوں میں 30 رکعات کہ اس طرح کر کے ایک ہزار رکعات پوری ہو جائے ، معلوم ہوتا ہے کہ ماہ مبارک رمضان میں نماز کی ایک خاص اہمیت ہے ۔
«اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ أَلْهِمْنَا مَعْرِفَةَ فَضْلِهِ وَ إِجْلَالَ حُرْمَتِهِ، وَ التَّحَفُّظَ مِمَّا حَظَرْتَ فِيهِ، وَ أَعِنَّا عَلَى صِيَامِهِ بِكَفِّ الْجَوَارِحِ عَنْ مَعَاصِيكَ، وَ اسْتِعْمَالِهَا فِيهِ بِمَا يُرْضِيكَ حَتَّى لَا نُصْغِيَ بِأَسْمَاعِنَا إِلَى لَغْوٍ، وَ لَا نُسْرِعَ بِأَبْصَارِنَا إِلَى لَهْوٍ»؛ بہت ہی اہم مطلب ہے : اے میرے خدا اس مہینہ کی فضليت کو ہمیں الہام فرمائے ؛ اس سے کیا مراد ہے ؟
جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ پیغمبر اکرم ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شعبان معظم کے آخری جمعہ کو  ماہ مبارک رمضان کے بارے میں ایک مفصل خطبہ ارشاد فرمایا ، یا قرآن کریم میں اس بارے میں ہے کہ «شهر رمضان الذی انزل فیه القرآن»،  یعنی انسان کو چاہئے کہ ماہ مبارک رمضان میں زیادہ سے زیادہ  خداوند متعالی سے متوسل ہو جائے تا کہ اس مہینہ کی فضیلت زیادہ سے زیادہ اسے حاصل ہو جائے ، اس مہینہ کے اتنی زیادہ فضیلت اور آثار اور حقایق ہے کہ اگر انسان آخر عمر تک اس بارے میں تدبر اور غور و فکر کرے تو اس کی تہہ تک نہیں پہنچ پاتا ، اس مہینہ کی فضیلت کو خدا ہی اگر ہمیں کچھ عطا کیا تو ممکن کچھ چیزیں نصیب ہو ۔
«وَ إِجْلَالَ حُرْمَتِهِ، وَ التَّحَفُّظَ مِمَّا حَظَرْتَ فِيهِ»؛  خدایا تم خود میری مدد کرو تا کہ  جن چیزوں سے اس مہینہ میں منع کیا ہم اس سے  محفوظ رہ سکیں ؛«وَ أَعِنَّا عَلَى صِيَامِهِ بِكَفِّ الْجَوَارِحِ عَنْ مَعَاصِيكَ»؛  خدایا میری مدد کریں تا کہ ہم اپنے بدن کے اعضاء و جوارح کو تمہاری نافرمانی سے بچا کر رکھیں اور انہیں تمہاری خوشنودی میں استعمال کریں ، اپنی آنکھوں سے ان چیزوں کی طرف دیکھ لوں  جنہیں تو پسند کرتا ہے ، جہاں پر تو راضی ہے وہاں میں قدم رکھوں ، «حتی لا نصغی بأسماعنا إلی لغوٍ»؛ ہم اپنی  کانوں سے لغو چیزوں کو نہ سنوں، «و لا نسرع بأبصارنا إلی لهو»؛اور اپنی آنکھوں سے لہو کی طرف نہ لپکوں ۔
ممکن ہے بعض چیزیں مباح ہو اور یہ بتایا جائے کہ بہت ساری لغو اور لہو چیزیں مباح میں سے ہے ، لیکن ماہ مبارک رمضان میں اپی اعضاء و جوارح کے لئے ایک اور امانتداری کرنے کی ضرورت ہے، جن چیزوں میں لغو کا شبہہ ہے انہیں بھی نہ سنیں ، جن کاموں میں لہو کا شبہہ ہے ان کاموں کو بھی انجام نہ دیں ، دنیا کے بارے میں آپ نے سنا اور پڑھا ہو گا کہ خداوند متعالی دنیا کو لہو  و لغو بتاتا ہے ، دنیا کی تمام چیزیں یہی ہے ، انسان جب اسی الحمد للہ رب العالمین کے بارے میں کچھ زیادہ غور و فکر کرتا ہے ، اور یہ جان لیتا ہے کہ تمام اچھائیاں خدا کے لئے ہے ، تو اس کا لازمہ یہ ہے کہ خدا کے علاوہ  دنیا اور باقی سب چیزیں لہو لعب ہے ۔ اس دنیا کی تمام چیزیں لہو ہے، مقام و منصب ،طاقت و قدرت ، مال و دولت ، شہوات سب ایسا ہی ہے، ہم بطور خلاصہ یہ بتا سکتے ہیں کہ خدا کے علاوہ جو کچھ بھی ہے سب لہو و لعب ہے ، مگر وہ چیز جو خدا کے راہ میں استعمال ہو جائے ، تو اس وقت اس میں خدائی رنگ آئی گی ، جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ساری حقیقتیں خدا ہے ، ساری تعریفیں خدا کے لئے ہے ، حمد خدا کے لئے ہے ، صرف وہ اس کا لائق ہے ، تو اس کا نتیجہ یہ ہے دنیا سب کے سب باطل ہے ، جب باطل ہو تو لہو و لعب ہو جاتا ہے جو باطل کے مصادیق میں سے ہے ۔
بہر حال اپنے اعضاء و جوارح کے بارے میں بہت زیادہ متوجہ رہنے کی ضرورت ہے ، ہماری نظریں ، ہمارے کان، ہاتھ، سب کے بارے میں متوجہ رہنا چا ہئے ، اس دعا کو بہت ہی توجہ کے ساتھ آخر تک پڑھ لیں ، امام سجاد علیہ السلام نے اس دعا میں بہت اہم مطالب کو بیان فرمایا ہے ۔
آپ  خداوند متعالی سے یہ بھی عرض کرتا ہے :«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِحَقِّ هَذَا الشَّهْرِ، وَ بِحَقِّ مَنْ تَعَبَّدَ لَكَ فِيهِ مِنِ ابْتِدَائِهِ إِلَى وَقْتِ فَنَائِهِ: مِنْ مَلَكٍ قَرَّبْتَهُ، أَوْ نَبِيٍّ أَرْسَلْتَهُ، أَوْ عَبْدٍ صَالِحٍ اخْتَصَصْتَهُ، أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ أَهِّلْنَا فِيهِ لِمَا وَعَدْتَ أَوْلِيَاءَكَ مِنْ كَرَامَتِكَ، وَ أَوْجِبْ لَنَا فِيهِ مَا أَوْجَبْتَ لِأَهْلِ الْمُبَالَغَةِ فِي طَاعَتِكَ، وَ اجْعَلْنَا فِي نَظْمِ مَنِ اسْتَحَقَّ الرَّفِيعَ الْأَعْلَى بِرَحْمَتِكَ».
خود اس مہینہ کی ایک حقیقت ہے کہ ہم خدا کو اسی حقیقت کا قسم دیتے ہیں ، موجودات اور انسانوں اور جنہوں نے اس مہینہ کی ابتداء سے آخر تک تمہاری عبادت انجام دیتے ہیں ، «من ملکٍ قرَّبته»، اس جملہ سے معلوم ہوتا کہ اس مہینہ میں فرشتوں کی مقام  ومنزلت میں اضافہ ہو تا ہے ، اگرچہ  علم فلسفہ  اور تفسیر  میں کہتے ہیں کہ فرشتوں میں کوئی تکامل نہیں ہے ، لیکن امام (علیہ السلام) کی اس جملہ کے مطابق فرشتے ماہ مبارک رمضان میں خدا سے زیادہ تقرب پیدا کرتے ہیں «أو نبیٍّ أرسلته أو عبدٍ صالحٍ اختصصته أن تصلی علی محمد و آله».
اس کےبعدخدا وند متعالی سے عرض کرتا ہے :«و أهِّلنا فيه لما وعدتَ اوليائک من کرامتک»؛  ہمیں اس مہینہ میں اس کرامت کا قابل بنا دیں جسے اپنے اولیاء سے اس مہینہ میں وعدہ دیا ہے ، معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی کرامت کے بہت سارے مراتب ہے ، ایک کرامت تمام بنی نوع انسان کے لئے ہے ، ایک کرامت مومنین کے لئے ہے ، ایک کرامت اولیاء کے لئے ہے ، امام سجاد (علیہ السلام) فرماتا ہے : خدایا وہ کرامت جس کا اپنے اولیاء سے وعدہ دیا ہے وہ عنایت فرمائے ، وہ کیسی کرامت ہے ؟ کیسا مقام ہے ؟ انسان ماہ مبارک رمضان میں ایسے بلند مرتبہ تک پہنچ سکتا ہے کہ ملک مقرب سے بھی اوپر چلا جائے ۔
«و اوجب لنا فیه ما اوجبت لاهل المبالغه فی طاعتک»؛  جو کچھ تو نے بہت زیادہ اطاعت کرنے والوں کو عطا کی ہے ، یعنی  دن رات ہمیشہ جو تیری عبادت اور اطاعت میں مشغول رہتے ہیں ان کے لئے جو چیز تو نے قرار دی ہے وہ ہمارے لئے بھی مقدر فرما۔
خداوند متعال کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس سال پھر ماہ مبارک رمضان نصیب ہوئی اور وہ بھی ایسی حالت میں کہ چند مہینوں سے  یہ وائرس پوری دنیا میں پھيلی ہوئی ہے اور ساری پریشانیاں اس بابت ہے کہ اس بیماری کے ختم ہونے کے بعد انسان خدا کی طرف جتنا ابھی آیا ہے پھر دوبارہ پشت نہ کرے ۔
اس طرح کی بیماری وغیرہ میں مبتلاء ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ خدا کے بارے میں ہمارا یقین زیادہ ہو جائے ، قیامت کے بارے میں ہمارا یقین زیادہ ہو جائے ، تمام قدرت اور طاقت کے باوجود اپنی کمزوری کی طرف متوجہ ہو جائے ، یہ وائرس جس کے بارے میں کہا جاتا ہے ایک گرم سے کڑووں کی تعداد میں کم ہے ، کیسے اس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے ، اور دنیا کی تمام لین دین اور کام کاج سب تعطیل ہو چکی ہے ، عرصہ سے حوزہ میں چھٹی ہے ، عبادت گاہیں بند ہیں ، آئمہ اطہار (ع) کے حرم بھی بند ہیں ، کوئی بھی اجتماع نہیں ہو رہا ہے ۔
امید ہے کہ ان  شاء اللہ اس ماہ مبارک رمضان اور شب قدر کو احسن طریقہ سے درک کر سکیں ، خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس درس کو طبی اصولوں کی رعایت کرتے ہوئے انجام پا رہا ہے ، خداوند متعالی سے دعا ہے کہ اجر عظیم اور اچھا اخلاص عنایت فرمائے ۔
آیت اللہ امینی (قدس سرہ) کی ایک یاد
میں  ضروری سمجھتا ہوں کہ مرحوم آيت اللہ امینی ( رضوان اللہ تعالی علیہ) کی ایک یاد کروں کہ کل رات کو وفات پا چکے ہیں
آپ بہت ہی انقلابی شخصیات میں سے ایک تھے کہ انقلاب کی بہت زیادہ خدمت انجام دیئے اور انقلاب  کے اہم موڑ پر پیش پیش رہے ۔
ہمارے والد مرحوم ( رضوان اللہ تعالی علیہ)  سیاسی اور اجتماعی مسائل میں ان کے ہوشیاری اور فہم و فراست کا بتاتے رہتے تھے ، اس کے علاوہ علمی اور زہد و تقوا اور سادہ گی کے بارے میں بتاتے تھے ۔
انسان حقیقی معنوں میں اس کے ساتھ بیٹھنے اور گغدہ میں بیٹھ کا لذت اٹھاتے تھے جب ان کے ساتھ بات کرنے کے لئے بیٹھ جاتے تو وہ اپنے آپ کو ایک عام طلبہ کی طرح پیش کرتے تھے ، ان کے اندر اپنے لئے خاص مقام ومنزلت کا قائل نہیں دیکھا ۔
خداوند متعالی ان کو اس رحمت والے مہینہ میں اعلی علیین میں جگہ عنایت فرمائے اور اپنی رحمت واسعہ کو شامل حال فرمائے ۔
والسلام علیکم و رحمة الله و برکاته