pic
pic

بندگی کی حقیقت

  • تاریخ 05 December 2020
  • ٹائم 02:54
  • پرنٹ
خبر کا خلاصہ :
ہمارا اصلی مسئلہ " عبادت اور بندگی" خدا ہے ، کوئی بھی چیز خدا کی بندگی سے مہم اور بالاتر نہیں ہے ، انسان کبھی یہ سوچتا ہے کہ 40 سال ، 50 سال ، 60 سال اس کی عمر میں سے گزر گیا ہے لیکن بندگی کےبارے میں کچھ بھی نہیں سمجھا ہے ۔

 بسم الله الرحمن الرحیم الحمدلله رب العالمین

و صلی الله علی سیدنا و نبینا ابی القاسم محمد و علی آله الطیبین الطاهرین المعصومین
و لعنة الله علی اعدائهم اجمعین

 آج ماہ مبارک رمضان کی 18 ہے اور ایک احتمال کے مطابق انیسویں کی رات لیلۃ القدر ہے ۔

امید ہے کہ خداوند تبارک وتعالی ہمیں لیلۃ القدر کو درک کرنے کی توفیق عنایت فرمائے اور وہ مقدارت جسے اپنے بہترین اولیاء اور بندوں کے لئے مقدر فرمایا ہے ہمیں بھی مقدر فرمائے ، لہذا ان ایام اور راتوں کے بارےمیں خاص توجہ رکھنے کی ضرورت ہے ۔

ہمارا اصلی مسئلہ " عبادت اور بندگی" خدا ہے ، کوئی بھی چیز خدا کی بندگی سے مہم اور بالاتر نہیں ہے ، انسان کبھی یہ سوچتا ہے کہ 40 سال ، 50 سال ، 60 سال اس کی عمر میں سے گزر گیا ہے لیکن بندگی کےبارے میں کچھ بھی نہیں سمجھا ہے ۔

انسان اگر غور کرے تو معلوم ہو گا کہ وہ عام عبادت جیسے نماز روزہ حتی کہ یہ درس او ربحث کہ مہم عبادات میں سے ہے ،لیکن اصل بات یہ ہے کہ ہم نے کس حد تک خدا کی بندگی کی ہے ؟ ہمیں چاہئے اپنے آپ سے یہ سوال کریں ،خاص کر کے وہ افراد جن کی عمر 50 ، 60 ہو چکی ہے وہ اپنے آپ سے پوچھیں کہ میں نے خدا کی کنتی بندگی  کی ہے ، میرا مقصد نماز اور روزہ کا زیادہ پڑھنا نہیں ہے ، بلکہ مراد یہ ہے کہ ہم نے اپنے آپ کو عبودیت اور بندگی کے  کس مرحلہ میں قرار دیا ہے  کیا زندگی کی تمام حالات میں خدا کے بندہ ہونے کو معیار قرار دیتے ہیں یا نہیں ؟ کیا جب اپنایت ہو ، ہوا وہوس ہو ، دنیا اور اس کی تعلقات کی بات ہو اور جب محبت دنیا کی بات ہو تو کیا عبودیت اور بندگی خدا کو کنارے پر لگا دیتے ہیں اور اسے بھولا دیتے ہیں یا نہیں ؟

لہذا شب قدر میں مہمترین دعا یہ ہے کہ خداوندتبارک و تعالی سے یہ درخواست کریں کہ ہماری ہاتھ کو تھام لیں اور اپنی بندگی کے مرحلہ میں قرار دیں اور ہم خدا کا واقعی بندہ ہو جائے ، البتہ یہ واضح ہے کہ عبودیت کا پہنچنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ جو چیز خدا نے فرمایا ہے جیسے نماز ، روزہ ، حج ، مالی اور غیر مالی واجبات اور محرمات کو ترک کرنے میں سنجیدگی سے عمل کرے ، یہ سب خدا کی بندگی کا راستہ ہے ۔

اگر کوئي یہ سمجھتا ہے کہ نماز کے بغیر خدا کی بندگی کر سکتا ہے جیسا کہ بعض لوگ ابھی اس طرح کی باتیں کرنے لگے ہیں ، کہ اب ہمیں ظاہر دین کی ضرورت نہیں ہے بلکہ حقیقت دین کی طرف جانا چاہئے ، اور افسوس کی بات ہے فقہ کو خراب کرنے کے لئے کہتے ہیں فقہ ؛ ظاہر دین ہے اور عرفان ؛ حقیقت دین ہے ،درحالیکہ حقیقت حال یہ ہے کہ جب تک فقہ معلوم نہ جب تک فقاہت تک نہیں پہنچا ہو غیر ممکن ہے عارف بن جائے ، مگر وہ شخص جو عرفان کا دعوایدار ہے یا خیالی عرفان کا مالک ہو ، جب تک انسان کو پتہ نہ چلے کہ کیا چيز واجب ہے ؟ کیسے واجب ہے اس کی شرائط کیا ہے ؟ محرمات کو صحیح طرح نہیں جانتا ہو ، فردی ، اجتماعی ، سیاسی اور اقتصادی احکام اور باقی وہ تمام چیزیں جنہیں فقہ بتایا جاتا ہے انہیں نہیں جانتا ہو کیا وہ خدا کو جان سکتا ہے ؟؟

آکر فقہ کو ایک غلط تشبیہ  دے کر کسی ظاہری چیز جیسا بتاتا ہے ، بعد میں کہتے ہیں اگر اس ظاہر تک ہم پہنچ گئے اور ظاہر سے بھی عبور کر گئے اور باطن تک پہنچ گئے اس وقت پھر اس ظاہر کو ساتھ رکھنے کی ضرورت نہیں ہے اسے چھوڑ دیا جاتا ہے ، کچھ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ نماز پڑھنے کی کوئي ضرورت نہیں ہے ،اس بارے میں متوجہ رہنا ہو گا کہ یہ بات قرآن سے انکاری ہے ، تمام انبیاء کی انکاری ہے ، آپ قرآن میں دیکھ لیں معلوم ہوتا ہے کہ کوئي بھی ایسا پغمبر نہیں ہے جس کی دعوت کے ابتداء میں خدا کی عبادت کی طرف بلایا نہ گیا ہو ؛ «قل إنما أمرت أن أعبد الله»  اس آيت کریمہ میں خداوند متعالی پیغمبر اکرم ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کو یہ حکم دیتا ہے کہ اے پیغمبر بتا دو مجھے حکم ہے کہ خدا کی عبادت کروں ۔

     پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کی سیرت میں ہے کہ آپ کی ظاہری عبادات بھی دوسروں کی نسبت زیادہ تھی ، حتی کہ  بعض عبادات عام لوگوں کے لئے واجب نہیں تھی لیکن پیغمبر اکرم (ص) پر وہ عبادت واجب تھا ، ہمارے آئمہ اطہار(علیہم السلام) رمضان المبارک کی ان ایام اور راتوں میں کتنے نماز پڑھتے تھے ؟ امیر المومنین اور امام سجاد (علیہما السلام) کی سیرت میں ذکر ہے کہ بعض راتوں میں ہزار رکعات نماز پڑھتے تھے ۔

اس کی حقیقت یہ ہے کہ اگر انسان ایک لحظہ کے لئے اس ظاہر سے جدا ہو جائے تو باطن کے ساتھ اس کا رابطہ ختم ہو جاتا ہے ، ایسا نہیں ہے کہ بتایا جائے ہم اس ظاہر سے گزر جاتے ہیں اور باطن تک پہنچ جاتے ہیں ، اور جب باطن تک پہنچ جائے اس کے بعد ظاہر کی کوئي ضرورت نہیں ہوتی ، اس ظاہر اور باطن کے درمیان اتنا زیادہ آپس میں رابطہ ہے کہ اگر انسان ایک لحظہ کے لئے حتی کی عمر کے آخر میں بھی یہ خیال کرے کہ اب اس کے بعد نماز کی ضرورت نہیں ہے تو اس کا باطن بھی کلی طور پر ہاتھ سے چلا جاتا ہے ظاہر عبادت کی طرف توجہ تمام انبياء کی دعوتوں میں ہے ۔

سورہ ہود کی اس آیت پر توجہ فرمائیں :«وَ قُلْ لِلَّذينَ لا يُؤْمِنُونَ اعْمَلُوا عَلى‏ مَکانَتِکُمْ إِنَّا عَامِلُونَ وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ» خداوندمتعالی پیغمبر اکرم (ص) سے فرماتا ہے : اور آپ ان بے ایمانوں سے کہہ دیں کہ تم اپنی جگہ پر کام کرو اور ہم اپنی جگہ پر اپنا کام کررہے ہیں  اور پھر انتظار کرو کہ ہم بھی انتظار کرنے والے ہیں(ہود ، 120 ،121)

 اس کے بعد فرماتا ہے :«وَ لِلهِ غَيْبُ السَّماواتِ وَ الْأَرْضِ وَ إِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ کُلُّهُ»، اور اللہ ہی کے لئے آسمان اور زمین کا کل غیب ہے اور اسی کی طرف تمام امور کی بازگشت ہے"۔اگرچہ ہم نے آسمان اور زمین کی ظاہر کو بشر کے لئے مسختر کی ہے لیکن بشر اس کی باطن تک نہیں پہنچ سکتا ، وہ صرف خدا کی اختیار میں ہے ۔

ممکن ہے یہ بتایا جائے آسمان اور  زمین کا باطن یعنی آخرت خدا کے ہاتھ میں ہے ، دنیا میں تم جوکچھ کرنا چاہئے کر لو لیکن آخرت میں کچھ نہیں کر سکو گے یہ ایک احتمال ہے ، ممکن ہے اس سے مراد یہ ہو کہ اسی عالم ملکوت اور غیب میں آسمانیں اور زمین خدا کے ہاتھ میں ہے ، ہرچیز کی حقیقت اور باطن اس کا غیب ہے ، اس احتمال میں آخرت اور غیر آخرت دونوں شامل ہے اس کے بعد فرماتا ہے : «و إلیه یرجع الامر کلّه»  تمام امور کی بازگشت اسی کی طرف ہے ۔

یہاں پر ایک مطلب کو بیان کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ، بہت سے مفسرین نے «إلیه یرجع الامر کلّه»  کو توحید افعالی پر حمل کیے ہیں ، ہر فعل خداوندتبارک و تعالی کی طرف پلٹی ہے ، یہ بہت ہی عجیب ہے ، اگر کوئی اسی آیت کو مدنظر رکھے تو اس کے بعد اس کی عبادت کی شکل و صورت کچھ اور ہو جاتی ہے ، ہم نے عبادت کو صرف واجب ہونے سے منحصر کیا ہے ، لیکن اس آیت کریمہ میں فرماتا ہے : اب جب آسمان اور زمین کی غیب خدا کے اختیار میں ہے ، اور تمام کی بازگشت اسی کی طرف ہے «فاعبده» اب خدا عبادت کرو ، اس نظر سے انسان کی عبادت  میں کنتی روح پیدا ہوتی ہے ؟ اس کے بعد انسان خدا کی بندگی کے لئے کتنا طمع پیدا کرتا ہے ؟ انسان یہ سمجھ جائے کہ کس کی بندگی کر رہا ہے ؟ البتہ اگر اس میں سے کچھ حصہ نصیب ہو؟

اگر بندگی سے کچھ نصیب ہو ، اور کس کی بندگی کر رہا ہے ، تمام آسمانوں اور زمین کی باطن اور حقیقت اس کے اختیار میں ہے ، اور تما امور کی برگشت اسی کی طرف ہے ، تمام چیزیں اسی کے اختیار میں ہے ، ہم تو کسی کام کا نہیں ہے ، نہ اس معنی مین کہ ہم مسلوب الاختیار ہیں ، نہیں ہم اپنے اختیار سے انجام دیتے ہیں لیکن اراداہ، خدا کا ارداہ ہے ، حقیقت کچھ اور ہے . «فاعبده و توکل علیه و ما ربک بغافل عما تعملون» خدا کی عبادت بھی کر لو اور تمام امور کو اسی پر چھوڑ دو اور خدا پر توکل کرو " اس آیت میں غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے ۔

اگر ماہ مبارک رمضان میں ہمیں یہی نصیب ہو جائے کہ اسی آیت کریمہ کو سمجھ جائے اور کچھ حد تک اس پر عمل بھی کر سکے ، معلوم ہو جائےگا کہ خدا کی بندگی سے عشق پیدا کرے گا ، بندگی کی لذت کو اپنے اندر اپنے گھر والوں میں اور سماج ایجاد کرنا چاہئے اور بندگی سے لذت اٹھائے اور یہ بہت ہی بلند مقام ہے تمام عبادات بندگی کے مرحلہ تک پہنچنے کے لئے ہے ، عبادت یعنی بندگی ، انسان کا اس ظاہر سے رابطہ جتنا زیادہ قوی ، محکم اور ابتدائی وقت میں ہو ، عبادت کی حقیقت اور باطن کے ساتھ اس کا ارتباط محکم ہو گا ، جو شخص خدا کی بندگی کرنا چاہتا ہے وہ کبھی بھی نماز کو اول وقت سے دیر ہونے نہیں دے گا ، مگر یہ کہ وہ بیہوش ہو یا بیمار ہو یا کوئی اور قابل قبول عذر ہو ، وہ ہمیشہ یہی کوشش کرے گا کہ خدا کی بندگی بہترین طریقہ سے انجام پائے ، ہم نماز پڑھتے ہیں لیکن ابتداء سے لے کر آخر تک ہمارا فکر اور ذہن کہیں اور ہوتا ہے ، جب اللہ اکبر پڑھتا ہے اسی وقت سے تمام عالم میں گردش شروع ہو جاتی ہے ، خدا کے لئے حضور قلب پیدا کرنے کے علاوہ باقی سب چیزیں ياد آنا شروع ہوتا ہے ، اس کی علت یہ ہے کہ ہم نے بندگی کی حقیقت کو کسب نہیں کیا ہے ، خداوند متعالی کے حضور میں اس کے علاوہ کسی بھی چیز کے بارے میں نہیں سوچنا چاہئے ۔

کیا ابھی تک ایسا ہوا ہے کہ جب اللہ اکبر بولے تو اللہ کے الف سے لے کر اکبر کی راء تک صرف اور صرف خدا پر توجہ رہا ہو ؟ اکثر کو ایسا نصیب نہیں ہے لیکن بعض کو یہ توفیق نصیب ہوتی ہے ، آیا کبھی سورہ حمد کو توجہ سے پڑھنا نصیب ہوا ہے ؟ ہمارے رکوع ، سجدے بھی توجہ سے ہوا ہے ؟

ہمیں اپنی بندگی میں اصلاح کرنے کی ضرورت ہے ۔

ماہ مبارک رمضان ختم ہونے میں کچھ باقی نہیں رہا ہے ، ان باقی ایام میں خداوند تبارک و تعالی سے درخواست کرے کہ ہمیں اپنے بندگی کی اعلی مراحل پر قرار دیں انشاء اللہ ۔

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

 

۲۴۱ قارئين کی تعداد: