pic
pic

حضرت امام حسن مجتبی ( علیہ السلام) کی شہادت کے بارے میں حضرت آیت اللہ جواد فاضل لنکرانی (دام عزہ) کا بیان

  • تاریخ 23 October 2020
  • ٹائم 14:11
  • پرنٹ
خبر کا خلاصہ :
امام مجتبی (ع) واقعا زمان حیات میں بھی بہت ہی مظلوم تھے اور شہادت میں بھی مظلوم ہے

بسم الله الرّحمن الرّحيم


الحمدلله رب العالمين و صلى الله على سيدنا محمد و آله الطاهرين

 

مشہور مورخین ، محدثین اور فقہاء  قائل ہیں کہ امام مجتبی (علیہ السلام) کی شہادت کا دن 7 صفر ہے ۔

جب ہم کتابوں میں تحقیق کرتے ہیں ، تو امام مجتبی (ع) کی شہادت کے بارے میں ایک نظریہ مرحوم کلینی کا ملتا ہے کہ فرمایا ہے آپ (ع) کی شہادت آخر صفر کو ہے نہ کہ 28 صفر کو ، انہوں نے کتاب اصول کافی کی جلد 13 صفحہ 328 پر لکھا ہے : «ومضی فی صفر فی آخره»  اس عبارت سے واضح ہوتا ہے کہ صفر کا آخر ہے ؛ مگر ہم  ایسا توجیہ کریں کہ اس عبارت سے مراد ماہ صفر کے آخری ایام ہے نہ روز آخر کو ۔

  بعض فقہاء اور بزرگان نے آپ(ع) کی شہادت کو ماہ صفر بتائے ہیں ، اور یہ معین نہیں کیے ہیں کہ اس مہینہ کی کس تاریخ کو شہید ہوئے ؛ جیسا کہ شیخ مفید نے کتاب ارشاد میں فرمایا ہے : «و مضی لسبیله فی شهر صفر؛   صفر کے مہینہ میں خدا کی راہ میں شہید ہوئے ».

حتی کہ امام مجتبی (ع) کی شہادت کے سال کے بارے میں بھی اختلاف ہے بعض کے مطابق 49 ہجری ہے اور بعض نے 50 ہجری بتائے ہیں ۔

مرحوم شيخ طوسی نے کتاب تہذیب کی صفحہ 39 پر شہادت کو مطلق طور پر بیان کیا ہے ، یہ دوسرا نظریہ ۔

تیسرا نظریہ : آپ کی شہادت 28 صفر کو ہے ، اس نظریہ کا قائل مرحوم شیخ مفید ہے البتہ نہ کتاب ارشاد میں بلکہ کتاب مسار الشیعہ میں ؛ مرحوم طبرسی نے تاج الموالی ، ابن شہر آشوب مازندرانی نے مناقب میں ، یہ تینوں شخصیت آخر صفر کہ 28 صفر ہوتا ہے امام مجتبی (ع) کی شہادت کا وقت بتائے ہیں ۔

 سید قاسم بن ابراہیم رسی یا البرسی جو کہ متوفای 246 ہے ان کی ایک کتاب ہے تثبیت الامامۃ کے نام سے ، اس کتاب میں امام کاظم (علیہ السلام) سے کچھ روایات نقل کی ہے ، اس کتاب میں لکھا ہے کہ : توفی السابع من شہر صفر؛ امام مجتبی (ع) 7 صفر کو شہید ہوئے ۔

اب یہ کیسے ہوا کہ یہ کتاب مرحوم کلینی اور مرحوم شیخ مفید کے ہاتھوں نہیں پہنچی ،یہ ایک حقیقت ہے کہ وہ تمام کتابیں جسے عصر آئمہ میں لکھی گئی تھی وہ کلینی اور دوسروں کے ہاتھوں میں نہیں پہنچی ہے ،پس پہلا شخص جس نے اس مطلب کو لکھا ہے وہ ابراہیم رسی ہے ۔

 شہید اول نے کتاب دروس میں لکھا ہے : «و قبض بها مسموماً یوم الخمیس سابع صفر» جمعرات کے دن سات صفر سنہ 49 یا 50 ہجری کو آپ شہید ہوئے ۔

مرحوم کفعمی نے  مصباح میں لکھا ہے : 7 صفر ہے ، شیخ بہائی کے والد کا بھی اس بارے میں ایک کتاب ہے کہ اس میں لکھا ہے روز شہادت 7 صفر ہے ، خود شیخ بہائی نے اپنی چند کتابوں   کہ ان میں سے ایک جامع عباسی ہے کہ توضیح المسائل اور فقہ فارسی ہے خود انہیں کے قلم سے ، اس میں ایسا ہی لکھا ہے ۔

مرحوم مجلسی نے بحار میں ، مرحوم صاحب جواہر نے جلد 20 میں اسی بات کو بتایا ہے کہ شہید کی الفاظ جیسے بیان کیے ہیں ۔

 

مرحوم کاشف الغطاء  بھی 7 صفر کو روز شہادت بتاتے ہیں ، اکثر مورخین ، فقہاء اور محدثین نے امام مجتبی (ع) کی شہادت کو 7 صفر بیان کیا ہے ، انہیں بزرگان کی پیروی کرتے ہوئے نجف کے بزرگان  حوزہ نجف کے وقت ، 7 صفر کو درس چھٹی کرتے تھے اور اس دن کو شہادت کے دن کے طور پر مناتے تھے ۔

بعد میں جب حوزہ قم تاسیس ہوئے ، حوزہ کے موسس آیت اللہ حائری (رہ) کی عادت بھی جیسا کہ ہمارے لئے نقل ہوا ہے ، یہی تھا کہ 7 صفر کو حوزہ میں چھٹی کرتے تھے ، ان کے بعد مرحوم آیت اللہ العظمی بروجردی (قدس) بھی ایسا ہی کرتے تھے ، ان کے بعد بھی جتنے مراجع آئے وہ بھی اس طرح کرتے آئے ہیں ۔

قم کے مارکیٹ بھی 7 صفر کو بند ہوتے تھے

ایک روایت یہ بھی ہے کہ امام کاظم (علیہ السلام) کی ولادت 7 صفر کو ہے ؛ لیکن امام کاظم (ع) کی ولادت کے بارے میں بھی اختلاف ہے ، بعض کہتے ہیں ذی الحجہ میں ہے اور بعض نے 17 صفر بتایا ہے ۔

لیکن ایک اہم بات یہ ہے کہ امام مجتبی (ع) واقعا زمان حیات میں بھی بہت ہی زیادہ مظلوم تھے اور شہادت میں بھی مظلوم ہے ، اور ان کی شہادت ، آپ کے تدفین کے وقت جو مسائل پیش آئے ، اور قبر مطہر کے جگہ  کے بارے میں جب سوچتے ہیں تو اس بارے میں کچھ زیادہ احساس ذمہ داری کرنے کی ضرورت ہے ۔

 ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے انہیں کے توسط سے ہے ، ظاہرا روایات میں " بکاء" دو اماموں کے لئے ہے ، ایک امام حسین (ع) کے لئے ہے جس کے بارے میں روایات تواتر سے بھی زیادہ ہے ؛ اور ایک امام حسن مجتبی (ع) کے بارے میں ہے ؛ اور وہ بھی خود پیغمبر اکرم(ص) سے ہے کہ فرماتے ہیں : «فَمَنْ بَكَاهُ لَمْ تَعْمَ عَیْنُهُ یَوْمَ تَعْمَى الْعُیُونُ وَ مَنْ حَزِنَ عَلَیْهِ لَمْ یَحْزَنْ قَلْبُهُ یَوْمَ تَحْزَنُ الْقُلُوبُ وَ مَنْ زَارَهُ فِی بَقِیعِهِ ثَبَتَتْ قَدَمُهُ عَلَى الصِّرَاطِ یَوْمَ تَزِلُّ فِیهِ الْأَقْدَامُ»؛

 

 جو شخص امام حسن (ع) پر روئے ، جس دن ساری آنکھیں کو نابینا ہونا ہے  ، یہ آنکھیں بینا ہونگے، جو شخص امام حسن (ع) کی مصائب پر محزون اور غمگین ہو قیامت کے دن جب انسانوں کے قلوب محزون و مغموم ہونگے ، اس شخص کا دل محزون اور مغموم نہیں ہو گا ، جو شخص امام حسن مجتبی (ع) کی قبر مطہر کا بقیع میں زیارت کرے ، قیامت کے دن جب سا انسانوں کے پاوں صراط کے پل پر لزر رہے ہوں گے ، اس شخص کا پاوں صراط پر ثابت قدم ہو گا ۔

اگر ہم اس دن چھٹی کرتے ہیں ، اگر ہم اس دن مجلس عزا منعقد کرتے ہیں ؛ تو یہ سب اس لئے ہے کہ امام مجتبی (ع) کی شہادت کے بارے میں اپنے حزن اور غم و اندوہ کا اظہار کرنا چاہتے ہیں ، لہذا یہ سب کے لئے واضح ہونا چاہئے

 

و صلّی الله علی سیّدنا محمّد و آله الطاهرین

 نوٹ: ان بیانات کو آپ نے  سال 1387 ہجری شمسی کو بیان فرمایا تھا