pic
pic

اگر کسی نے بغیر کسی وجہ سے اپنی اور کسی دوسرے کی جان کو خطرہ میں ڈال دیا تو وہ گناہکار اور ضامن ہے ۔

  • تاریخ 01 December 2020
  • ٹائم 06:37
  • پرنٹ
خبر کا خلاصہ :
علمی محفل " کرونا کے ایام میں عزاداری فقہی اعتبارسے "حضرت آیت الله فاضل لنکرانی(دامت برکاته)کے بیانات

بسم الله الرحمن الرحیم

الحمدلله رب العالمين و صلي الله علي سيدنا محمد و آله الطاهرين

کروناوائرس کے ہوتے ہوئے امام حسین (علیہ السلام) کی عزاداری کیسے کی جائے ؟

آل اللہ (علیہم السلام ) کے عزاء اور مصیبت و حزن کے ایام کی مناسبت سے امام زمان(عج) کے محضر مقدس اور تمام مراجع عظام خصوصا رہبر معظم انقلاب اسلام ، تمام مسلمانوں اور شیعیان اور آپ حضرات کی خدمت میں تسلیت عرض کرتا ہوں ، امید ہے کہ ہم سب کے لئے اس ماہ محرم کے درک اور عزاداری اور امام عالی مقام (علیہ السلام) کی خدمت میں اظہار ادب کرنا مقدر ہو ا ہو ۔

میں اپنی بات کو شروع کرنے سے پہلے دینی سوالات کے جواب دینے کے سینٹر کے ارکان محترم  جنہوں نے مرکز فقہی آئمہ اطہار (علیہم السلام) اور ہيئت اندیشہ ورزدین  اور سلامت مشہد مقدس کے  ساتھ مل کر اس محفل کو منقعد کرنے پر شکریہ ادا کرتا ہوں ۔

میں سب سے پہلے کچھ مطالب کو بیان کر تا ہوں جس کے بعد ان سوالوں کا جواب دے دوں گا ۔

کرونا ایک نا معلوم وائرس ہے کہ ان چند مہینوں میں پوری دنیا کو اپنی سمیٹ میں لیا ہوا ہے ، نہ صرف ہلتھ  کے نظام کو بلکہ اقتصاد ، سیاست ، اجتماعات ، روابط  دوسرے الفاظ میں بشر کے تمام کاموں کو اپنے تحت تاثیر قرار دیا ہے اب دنیا میں  اس کے تاثیر کے حساب و کتاب ممکن نہیں ہے ۔

اس وقت ہمارے لئے سب سے اہم یہ ہے کہ اس وائرس کے پھیلانے سے بچاو کے خاطر ، ماہ مبارک رمضان میں لوگ بہت سارے مذہبی پروگراموں اور مجالس  کو برگزار نہیں کر سکے ، اب جب محرم نزدیک ہے تو بھی یہی مسئلہ درپیش ہے کہ اس کرونا کے ہوتے ہوئے ہم عزاداری اور سالار شہیدان کی خدمت میں کیسے عرض ادب کرے ۔

الحمد للہ اس کرونا وائرس سے دنیا کو اچھی طرح واضح ہو گیا کہ دین اور علم کے درمیان کوئی تعارض نہیں ہے ، اورعلمی حقايق کو ہمارے دینی بزرگان قبول کرتے ہیں ، اور انہیں علمی حقايق کے اقتضاء کے مطابق دینی پروگراموں اور لوگوں کے ان مذہبی اجتماعات میں حاضر ہونے کے شیڈول کو منظم کرتے ہیں یہ جو بتایا جاتا ہے کہ کرونا جھوٹ ہے یا اپنی حد سے زیادہ اس نے روپ جمایا ہے ایک غلط بات ہے

کرونا کے حقیقت کو سب اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ، یہ جو کہتے ہیں کہ کرونا ایک خاص ایریا میں تاثیر پذیر ہے ، یہ مساجد اور حرم میں نہیں آسکتا ،  کرونا کی  کیا حیثیت کہ وہ  امام حسین (علیہ السلام) کی مجلس میں اپنی وجود کا اظہار کرے، بہت ہی غلط بات ہے اور قابل اعتناء بھی نہیں ہے ، لیکن افسوس کی بات ہے کہ سوشل میڈیا پر بیان ہوتا ہے اور کبھی ایسی باتیں حوزہ اور روحانیت کے نام پر بھی سامنے آتی ہے ۔

معتبر نقل  کے مطابق  حضرت رسول اکرم (صلی الله علیه و آله وسلم )وجود نازنین میں زہر نے اثر کیا تھا ، اسی طرح امیر المومنین (علیہ السلام) اور باقی آئمہ اطہار (علیہم السلام) میں بھی اثر  ہوئے اور شہید ہوئے ، ہمارے لئے نبی اکرم (صلی الله علیه و آله وسلم ) سے بڑا کوئی انسان نہیں ہے ، ان (ص)کے بعد امیرالمومنین (علیہ السلام) اور آئمہ (علیہم السلام) کوئی نہیں ہیں کہ فرمات ہیں : «ما منّا إلّا مسمومٌ أو مقتول»،پھر یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ یہ واريرس حرم اور اہل بیت (علیہم السلام) کے مجالس میں اثر انداز نہیں ہوتے ! خدا نہ کرے کوئی  اس مرض میں مبتلاء شخص ان مجالس میں حاضر ہو جائے تو یہ وايرس سرایت نہیں کرے گا ۔

افسوس ہے کہ اس طرح کی غلط باتیں کی گئی ہے ، اور بعض کتابوں میں بھی ذکر کیا ہوا ہے ، مگر ہم نے عراق کے انقلاب میں نہیں دیکھا کہ کیسے صدام اور اس کے منحوس فوجی امیر المومنین (علیہ السلام) اور امام حسین(علیہ السلام) کے حرم میں داخل ہوئے اور حرم میں بمباران کیے اور ابھی تک  بمباری کے آثار دیواروں پر موجود ہے ، پھر کیسے بتاتے ہیں کہ آئمہ (علیہ السلام) کے حرم میں بم اثر نہیں کرتا ہے ؟

بہرحال کرونا وايرس ایک حقیقت ہے ، بات یہ ہے کہ اس وایرس کے ہوتے ہوتے اور اس کے پھیلانے کے خطر ہ کےساتھ ہمارے انقلاب کی بنیاد اور شیعہ کی شناخت یعنی عزاداری ابا عبد اللہ الحسین (علیہ السلام ) کے لئے کیا کیا جائے ؟ کیا صرف یہ بات کافی ہے کہ  لوگ گھروں میں بیٹھ جائے اور صرف ریڈیو اور ٹی وی پر عزاداری کرے یہی کافی ہے ؟

 اس مسئلہ کے بارے میں ہلتھ کے لحاظ سے ، فقہی لحاظ سے اور عملی جامہ پہنانے کے لحاظ سے بحث و گفتگو کرنے ضرورت ہے ، تا کہ  اس کے بارے میں ایک تحقیقانہ راستہ نکل آئے کہ ابا عبد اللہ الحسین (علیہ السلام) کے عزادار بھی عزادری سے محروم نہ رہے  اور مناسب طریقہ سے اپنا اظہار عقیدت کر سکے اور دوسری طر ف سے اس وایرس کے پھیلانے سے بھی بچا بھی سکے ۔

قیام امام حسین (علیہ السلام) کو فقہ سے جدا کرنا حادثہ عاشورا میں سب سے بڑی تحریف ہے

ایک اہم مطلب یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر کبھی یہ بات آجاتی ہے کہ فقہ اور امام حسین (علیہ السلام) کی عزاداری میں کیا ربط ہے ؟ کہتے ہیں کہ عزاداری اور واقعہ عاشورا فقہ اور عقل سے بہت بالاتر ہے ، یعنی پہلے ہی یہ بتا دیتے ہیں کہ فقہ اس میں کچھ دخالت نہ کرے ، میری نظر میں یہ بات بالکل غلط ہے ،  میرا عقیدہ یہ ہے کہ عاشورا کے بارے میں ایک بڑا تحریف اسے فقہ سے جدا کرنا ہے ۔

اگر ہم عزاداری ، کربلا اور عاشورا کو فقہ سے جدا کر لیں، اور فقہ سے الگ رکھے اور اس کی تجزیہ وتحلیل کرے ، یہ بہت بڑی تحریف ہے واقعہ عاشورا میں ۔

امام حسین(علیه‌‌السلام)  نے  جب مروان نے يزید کے لئے بیعت لینے کے لئے دربار میں بلایا تھا ، اس وقت فرمایا تھا:«عَلَى الْإِسْلَامِ السَّلَامُ إِذْ قَدْ بُلِيَتِ الْأُمَّةُ بِرَاعٍ مِثْلِ يَزِيد»، اسی ابتداء سے ہی مسلمانوں پر صحیح حکومت کے مسئلہ کو بیان فرمایا تھا ۔

اسی طرح اگر ہم امام حسین (علیہ السلام) کے مدینہ سے کربلا تک کے  دوسری کلمات کو ملاحظہ  کریں ، تو سب جگہوں پر فقہ ہی فقہ نظر آتا ہے : جہاں پر پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله وسلم ) کے فرمان کو پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں : «مَنْ رَأَى سُلْطَاناً جَائِراً مُسْتَحِلًّا لِحُرُمِ اللهِ نَاكِثاً لِعَهْدِ اللهِ مُخَالِفاً لِسُنَّةِ رَسُولِ اللهِ يَعْمَلُ فِي عِبَادِ اللهِ بِالْإِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ ثُمَّ لَمْ يُغَيِّرْ بِقَوْلٍ وَ لَا فِعْلٍ كَانَ حَقِيقاً عَلَى اللهِ أَنْ يُدْخِلَهُ مَدْخَلَه»، یہ فرمان کامل طور پر ایک  فقہی کلام ہے ۔

بنیادی طور پر امام حسین (علیہ السلام) کے قیام کے بارے میں ایک اہم تحلیل جہاد ذبی یعنی اسلام کے حدود سے دفاع کا مسئلہ ہے ، اگر آپ (ع) کے قیام کو جہاد ذبی کے پیش نظر بیان نہ ہو جائے تو واقعہ کربلا کے بارے میں بہت سارے سوالات بغیر جواب کے رہ جائے گے ، جہاد ذبی  ایک بہت ہی گہرا فقہی بحث ہے ، یہ نہ بتایا جائے کہ امام حسین(علیہ السلام) کے قیام کا فقہ سے کوئی ربط نہیں ہے ، اس کے بعد پھر عزاداری کو بھی فقہ سے جدا کریں گے ، ہمارے موجودہ اور گذشتہ فقہاء اور مراجع عظام سب نے عزاداری کے فقہی  مطالب کو بیان کیے ہیں ۔

خود ہمارے زمانہ میں مراجع عظام اور رہبر معظم انقلاب اسلامی ، نے اپنے فقہی نظریات کو بیان کی ہیں ، بعض لوگ اس کے درپے ہیں کہ اس واقعہ سے غلط فائدہ اٹھائے اور عزادروں سے یہ کہتے ہیں کہ تمہیں فقہ کی طرف توجہ دینے کی ضرورت نہیں ہے ،  تم لوگ امام حسین (علیہ السلام ) کے عاشق ہو ، امام حسین (علیہ السلام) کے عاشق کی فقہ کی کیا ضرورت ہے ؟!

سوشل میڈیا پر افسوس کی بات ہے کہ ایک شخص جو کہ ظاہری طور پر علماء کے لباس میں بھی ہے کہتا ہے امام حسین (علیہ السلام) کے اوپر کسی کو بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے ، اور اپنے اس غلط بات کے ذریعہ لوگوں کو علماء کے خلاف اکساتے ہیں ، کس نے کہا ہے کہ امام حسین(علیہ السلام) سے اوپر ان کے بارے میں بات کرتا ہے ؟لعنت ہو ایسے زبانوں پر جو یہ کہتا ہو کہ امام حسین (علیہ السلام) یا دوسرے آئمہ (علیہم السلام) کے لئے بھی کوئی آقا ہے ،یہ کیا غلط باتیں ہیں جو یہ لوگ کرتے ہیں ؟

یہ بزرگان اور مراجع عظام اپنے آپ کو امام حسین (علیہ السلام) کا ادنی سا خادم بتاتے ہیں ، اس کے باوجود کیوں لوگ کے سامنے ایسی باتیں کی جاتی ہے ، ایک فقیہ یا ایک مرجع تقلید اپنے فقہی نظریہ کو بیان کرتا ہے کہ یہ اس کی ذمہ داری ہے ، اور دین دار لوگ اسے قبول بھی کر لیتے ہیں ، کیا اس کا یہ معنی ہےکہ وہ یہ بتاتا ہے کہ میں  ان کا آقا ہوں ؟ ہمارے پاس کوئی ایسا مرجع تقلیدہے ہی  نہیں ہے جس کی وجود میں عزاداری امام حسین(علیہ السلام) گوشت اور خون کا حصہ نہ ہو ، سب  مراجع عظام اسی امام بارگاہوں اور اسی خیموں کے نیچے عزاداری کرتے رہے  ہیں اور اسی میں درس بھی دیتے  رہے ہیں ، خود امام حسین (علیہ السلام) سے جو کچھ ہم تک پہنچا ہے اسے پڑھ کر ہم تک پہنچا دیتے ہیں ، لہذا ہمارے عوام ، اہل فکر و نظر ، طلاب اور فضلاء کو اس سازش کے بارے میں توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ کہیں اس باتوں کی وجہ سے ہمارے ان عزیزوں کا ذہن خراب نہ ہو جائے ،ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ دین کیا کہتا ہے ۔

امام حسین (علیہ السلام) کا فریاد یہ تھا کہ «النَّاسَ عَبِيدُ الدُّنْيَا وَ الدِّينُ لَعْقٌ عَلَى أَلْسِنَتِهِم» امام حسین(علیه‌‌السلام) کا اپنے زمانہ کے سماج سے مشکل یہ تھا کہ لوگوں نے دین کو الگ رکھا تھا ،کیا ہم یہ بتا سکتے ہیں کہ عزاداری میں لوگ دین اور فقہ کو الگ رکھے چونکہ ہم امام حسین (علیہ السلام) کے عاشق ہیں ؟ امام حسین (علیہ السلام) عشق اپنی جگہ توفیق اور خدا وند متعالی کی طرف سے ایک بڑا افتخار ہے ، لیکن ہمیں تمام جہات کو خیال رکھنا چاہئے ۔

کرونا وايرس کے دنوں میں عزاداری کے بارے میں سوال اور جواب

کرونا کے دنوں میں مجالس برپا کرنے کے بارے میں  فقہی حکم

سوال:ان ایام میں عاشورا کے مجالس برگزار کرنے کے بارے میں مختلف قسم کی سوالات اور شبہات لوگوں کے درمیان پیدا ہوئے ہیں ، سب سے پہلے یہ فرمائیں کہ فقہی لحاظ سے اہل بیت (علیہم السلام) خاص کر کے حضرت ابا عبد اللہ الحسین (علیہ السلام) کی عزاداری خود اپنی عام حالات میں کیا حکم رکھتا ہے ؟ کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ مستحب ہے لیکن بعض افراد پر یہ واجب ہو جاتی ہے ، یا نہیں ہر زمان اور ہر حالت میں اور جیسے بھی ہو یہ واجب ہے ؟

جواب: حضرت سید الشہداء ( علیہ السلام) کے بارے میں دو بات ہے ؛ ایک آپ کی زیارت کے بارے میں ہے اور دوسرا آپ کے عزاداری کرنے اور اس کی کیفیت کے بارے میں ہے ، مرحوم صاحب وسائل الشیعہ نے اپنی اس کتاب کے جلد 14 میں کتاب حج کے مزار کے ابواب میں امام حسین (علیہ السلام) کی زیارت کے بارے میں متعدد روایات نقل کی ہے ۔

ایک باب کا عنوان " تأکد استحباب زیارة الحسین بن علی(علیه‌‌السلام) و وجوبها کفایةً (باب 37) ہے اور باب 44 کا عنوان "وجوب زیارة الحسین و الائمه(علیهم السلام) علی شیعتهم کفایةً " ہے ، جو بھی فقہی ان روایات کی طرف مراجعہ کرے  ، ان روایات سے مستحب موکد ہونا کامل طور پر سمجھ آتا ہے ۔

ان روایات میں سے ایک روایت یہ ہے :«مَنْ زَارَهُ عَارِفاً بِحَقِّهِ شَيَّعُوهُ حَتَّى يُبْلِغُوهُ مَأْمَنَهُ وَ إِنْ مَرِضَ عَادُوهُ غُدْوَةً وَ عَشِيَّةً وَ إِنْ مَاتَ شَهِدُوا جِنَازَتَهُ وَ اسْتَغْفَرُوا لَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»؛جو شخص شناخت اور ان کی حقیقی معرفت کے ساتھ زیارت کرے ،فرشتے گھر تک اس کے ہمراہ آتے ہیں ، اگر مریض ہو جائے تو فرشتے صبح اور شام اس کی عیادت کے لئے آتے ہیں ، اگر وہ مر جائے تو اس کی تشییع جنازہ میں شرکت کرتے ہیں ۔

«غَفَرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَ مَا تَأَخَّرَ»  اس کی گذشتہ اور آيندہ کے گناہوں کو خدا معاف کر دیتا ہے ۔

ایک اور روایت یہ ہے :«مَنْ زَارَ قَبْرَ أَبِي عَبْدِ اللهِ(ع) بِشَطِّ الْفُرَاتِ كَمَنْ زَارَ اللهَ فَوْقَ عَرْشِهِ»

جو شخص نہر فرات کے کنارے میرے والد بزرگوار زیارت کرے ایسا ہی ہے جس نے عرش پر خدا کی زیار ت کی ہو ۔

یہ  ایسے الفاظ ہیں کہ ہر فقیہ ان سے مستحب موکد ہونے کو سمجھتے ہیں ۔

کتاب وسائل الشیعہ کے مولف علیہ الرحمہ نے امام حسین (علیہ السلام) کی زیارت کے  مستحب موکد کے علاوہ ، وجوب کفائی ہونے کو بھی قبول کیا ہے ، کہ فی الحال اس کے فقہی مفصل گفتگو کو بیان نہیں کروں گا کہ ان روایات سے واجب کفائی استفادہ ہوتا ہے یانہیں ؟ وہ روایت جس سے وسائل الشیعہ کے مولف نے واجب کفائی ہونے کو سمجھا ہے وہ روایت یہ ہے کہ امام باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں :ہمارے شیعوں کو امام حسین (علیہ السلام) کی زیارت پر آنے کا حکم کرو " ، فَإِنَّ إِتْيَانَهُ مُفْتَرَضٌ عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ يُقِرُّ لِلْحُسَيْنِ(ع) بِالْإِمَامَةِ مِنَ اللهِ عَزَّ وَ جَل‏" مرحوم حر عاملی کے ساتھ ہمارے بعض فقہاء اور علماء نے بھی ان روایات سے امام حسین (علیہ السلام) کے وجوب کفائی ہونے کا بتائے ہیں ۔

لیکن ابھی سوال عزاداری کے بارے میں ہے ؛ کیا زیارت کے بارے میں یہی عناوین جو ذکر ہوئے ہیں ، ان سے عزاداری کو بھی ملا سکتے یں کہ ہم عزاداری کو زیارت کے حکم میں ساتھ شامل کرے ، او ریہ بتائيں کہ امام حسین (علیہ السلام) کی عزاداری نہ صرف مستحب بلکہ مستحب موکد ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر واجب کفائی ہے ؟

میں نے جب  ان دلائل میں تحقیق کی تو  رواریات میں سات عناوین سامنے آئے جن سے عزاداری کے مستحب موکد ہونا بہترین طریقہ سے سمجھ آتا ہے ۔

اول : بکاء والی روایات ہیں «من بکی أو ابکی أو تباکا»، رونا اور رولانا عزاداری ہے ، اگر کوئی گھر میں بیٹھ جائے اور اپنے بیوی بچوں کو جمع کرلے اور یہ بتائيں کہ ہم سب امام حسین (علیہ السلام) پر رونا چاہئے ہیں ، تو وہ اس روایت میں شامل ہے ، میرا آپ تمام سے یہی سفارش ہے کہ ان کرونا کے ایام میں اس طرح کی عزاداری زیادہ سے زیادہ برگزار ہو ، یہ بھی کرونا وايرس کی برکات میں سے ہے کہ  جس کی وجہ سے عزاداری ہمارے گھروں تک آپہنچا ہے ، جس طرح ابھی بہت سارے گھروں میں نماز جماعت برگزار ہو رہی ہے ،اسی طرح عزاداری بھی ہونا چاہئے ۔

دوم:شعائر کی تعظیم ؛ عزاداری شعائر اللہ کے مصادیق میں سے ہے «وَ مَنْ يُعَظِّمْ شَعائِرَ اللهِ فَإِنَّها مِنْ تَقْوَى الْقُلُوب».
سوم:احیاء امر اہل بیت (ع)ہے(امر اہل بیت کو زندہ کرنا ) «رحم الله من أحیا أمرنا» اورعزاداری  امر ائمه کی احیاء اور مستحب ہے ۔

چهارم:اہل بیت کی حزن میں ہمدردی اور شریک ہونا ہے ، «یفرحون لفرحنا و یحزنون لحزننا».

پنجم: اہل بیت سے اظہار مودت کرنا ہے کہ پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله وسلم ) نے خداوند متعالی کے حکم سے فرمایا تھا «قُل لا أَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبى‏» پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله وسلم ) اجرت نہیں چاہتا ہے ، قرآن کریم میں چار مختلف تعابیر کے ساتھ ذکر ہوا ہے اسے اپنی کتاب " گفتارھای حسینی" میں مفصل طور پر بیان کر چکا ہوں ،ایک آیت میں خداوند متعالی فرماتا ہے :«قُلْ ما سَأَلْتُكُمْ مِنْ أَجْرٍ فَهُوَ لَكُم» (سبأ/ 47)، ایک اور آیت میں فرماتا ہے «قُلْ ما أَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَ ما أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِين» (صاد/ 86)،سوره فرقان میں ‌فرماتا ہے :«قُلْ ما أَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِلَّا مَنْ شاءَ أَنْ يَتَّخِذَ إِلى‏ رَبِّهِ سَبِيلا»(فرقان/ 57)، اور سب سے اہم سورہ شوری آیت 23 میں فرماتا ہے:«لا أَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبى».

پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله وسلم ) سے پوچھا گیا آپ کے قربا کون ہے ؟ فرمایا :فاطمه، علی اور ان کے فرزندان ؛ اس آیت کریمہ سے واضح ہوتا ہے کہ مودت اہل بیت واجب ہے ، ان ہستیوں سےمودت کی اظہار کےلئے  جس طرح ان کے ولادت کے ایام میں عید مناتے ہیں ، مصیبت کے ایام میں مجالس اور  عزاداری برگزار کرنا چاہئے ۔

ششم: عہد کو پورا کرنا کا مسئلہ ہے ؛ یہ ایک اہم بات ہے کہ ہر شیعہ کو جان لینا چاہئے کہ اس کے ذمہ ہر امام کا ایک عہد ہے ، روایت کی عبارت کچھ اس طرح ہے :«إن لکل امامٍ عهداً علی عنق المؤمنین»، عزاداری  اس عہد کے وفاء کرنے کے مصادیق میں سے ہے ۔

هفتم: حب امام حسین (علیہ السلام) کا خاص مصداق ہے جو اس  معروف روایت میں شامل ہوتے  ہیں «أحب الله من أحب حسیناً»

یہ عزاداری کے مستحب ہونے اور مستحب موکد ہونے کی 7 دلیل ہے ۔

فقہ میں عزاداری کا عنوان اولی مستحب موکد ہونا ہے ، اس عنوان کے تحت جو شخص عزاداری نہ کرے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس نے کسی واجب کو ترک کر دیا ہے ، لیکن حکم ثانوی کے عنوان  کے تحت  بعض خاص حالات میں یہ عزاداری وجوب کے عنوان میں شامل ہوتا ہے ، حال حاضر میں شیعہ کی شناخت ، بقاء اور قائم رہنا اسی عزاداری سے ہے ، اس لحاظ سے یہ واجب کفائی ہے ، اگر کچھ لوگ ضرورت کو پورا کرنے تک اسے انجام دے دیں تو اس کے بعد دوسروں سے ساقط ہو جائے گا ، اس لحاظ سے عزاداری کا حکم عنوان اولی کے لحاظ سے مستحب اور عناون ثانوی کے لحاظ سے واجب کفايي ہے ۔

کرونا کے ایام میں عزاداری برگزار کرنے کی کیفیت

سوال : سوشل میڈیا پر کچھ افراد جو عوام کے احساسات سے کھیلتے ہیں کہتے ہیں کرونا وایرس کو بہانہ بنا کر امام حسین (علیه اسلام ) کی عزاداری کے چراغ کو خاموش کرنا چاہتے ہیں ، لہذا تمہارے اوپر واجب ہے کہ حسب سابق چھتوں کے نیچے جتنا ہو سکے لوگوں کو جمع کر کے عزاداری کرے ، کیا موجودہ حالات کے پیش نظر ایسے مجالس برگزار کرنا واجب ہے ؟ عزاداری برگزار کرنے کی کیفیفت کو بیان فرمائيں ۔

جواب : فقہاء کے کلمات اور دلائل سے جو بات واضح ہوتی ہے یہ ہے کہ شیعیوں کو چاہئے عزاداری برگزار کرے لیکن اس کی کیفیت زمان ، مکان اور لوگوں کے عرف کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں ، فقہاء نے صرف ایک شرط رکھا ہے کہ عزاداری کسی حرام کام کے ساتھ نہ ہو ، مثلا خدانخواستہ  حرام موسیقی مجلس یا امام حسین (علیه اسلام ) کے جلوس عزاداری میں نہ ہو کہ ایسا جائز نہیں ہے ، دوسری طرف سے جو شخص بیماری کی سرایت کرنے سے بچنے کے خاطر عزاداری میں شرکت نہیں کرتے ہیں ، ہم اسے یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس کے پاس شور حسینی نہیں ہے ! یعنی دین یہ نہیں کہتا ہے کہ شور حسینی یہ ہے کہ تمام قواعد و ضوابط کو چھوڑ دیں ، اور گذشتہ کی طرح عمل کرے ، اس بارے میں تفصیل کچھ دیر میں بیان کرتا ہوں ۔

لیکن عزاداری کی کیفیت کے لحاظ سے

عزاداری خلوص نیت کے ساتھ ہونا چاہئے ،  اور انسان جتنا زیادہ ہو سکے اظہار ادب کرے ، جتنا زیادہ ہو سکے خود روئے دوسروں کو رلائے ، لیکن  عزاداری کا کوئی خاص طریقہ بیان نہیں ہوا ہے ، میں ایک دفعہ عزاداری میں موجود عناوین کا ملاحظہ کر رہا تھا کہ 12 سے زیادہ عناوین جیسے بکاء ، صرخہ ، نوحہ ، لطمہ ۔۔۔۔۔۔۔ وغیرہ نظر میں آيا جن کے  بارے میں روایات میں ترغیب دی گئی ہے ، لیکن ایسان نہیں ہے کہ اگر کوئی چیخ نہ مارے بولے یہ عزاداری نہیں ہے ، یا اگر کسی مشکل کی وجہ سے جیسے کہ ابھی ہمارے لئے جو مشکل درپیش ہے لوگ جمع نہیں ہو سکے ، تو بتائے شور حسینی نہیں رکھتے ہیں ! ایسا نہیں ہے بلکہ شور حسینی دوسرے طور و طریقے سے بھی  واقع ہو سکتا ہے ۔

سوال: موجودہ حالات کے پیش نظر  اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ عقلی اور شرعی دونوں لحاظ سے ہر انسان پر اپنی اور دوسرے کی جان بچانا واجب ہے ، اگر کوئی شخص بغیر کسی وجہ کے اپنی  یا دوسرے کی جان  کو خطرہ میں ڈال دیں  تو گناہکار اور ضامن ہے ،اس وقت ہلتھ  کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے  تمام صاحب نظران کا تقریبا اس بات پر اتفاق نظر ہے کہ کھچا کھچ لوگوں کا چھت والی جگہ پر ایس او پیز  کے بغیر جمع ہونا لوگوں کے جان کو خطرہ میں ڈالنے کا سبب بن سکتا ہے اور اس طرح اس وائرس کےپھیلنے کا سبب سب سکتا ہے اور مشکلات سے دوچار ہو سکتا ہے ۔

دوسری طرف سے پہلے جو مجالس برگزار کرتے تھے وہ سب چھت کے نیچے لوگوں سے کھچا کھچ ہوتے تھے ۔ کیا اس وقت ان صاحب نظران کی بات پر توجہ دیئے بغیر صرف یہ کہتے ہوئے کہ ہم امام حسین (علیہ السلام) کی عزاداری کرنا چاہتے ہیں اور اس طریقہ سے شعائر حسینی کی رعایت کرے ، کیا اس کے لئے اپنے اور دوسروں کی جان کو خطرہ میں ڈال سکتے ہیں ؟اگر ہم یہ قبول کر لے کہ  سابقہ کیفیت میں عزاداری کرنا واجب یا مستحب ہے ، لیکن اب جب جان کی حفاظت کرنے اور شعائر حسینی کے اجاگر کرنے میں سے ایک کو انتخاب کرنا پڑا ہے تو کس کو مقدم کرنا چاہئے ؟

جواب ؛یہ بہت ہی اہم سوال ہے ، انشاء اللہ کوشش کروں گا صحیح اور مناسب جواب دے دوں ، اور آپ سے بھی تقاضا کرتا ہوں کہ  بہت زیادہ توجہ دیں ، چونکہ ان چیزوں میں کچھ غلط فہمی اور اشتباہات واقع ہوئے ہیں، ایک تو خود عزاداری امام حسین(علیہ السلام) ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ رجحان رکھتا ہے ، اب وہ یا مستحب موکد ہے یا بعض بزرگوں جیسیے آیت اللہ العظمی گلپايگانی کے نظریہ کے مطابق واجب کفائی ہے ، البتہ یہ اوپر بیان ہوا کہ عنوان ثانوی کے اعتبار سے تو یقینا واجب کفایی ہے ۔

دوسری طرف سے آجکل نفس انسانی کی حفاظت ایک ایسا عنوان ہے کہ عقلی اور شرعی دونوں طریقے سے یہ واجب ہے ، ہمارا دین  ایک ایسا دین ہے کہ جو کامل طور پر عقلی قواعد و ضوابط اور ملاک و معیار کے مطابق عمل کرتا ہے ، اور ایک مورد بھی ایسا نہیں ہے کہ  عقل کے ملاک کے برخلاف ہو ، نفس انسانی کی حفاظت واجب ہے مگر کچھ خاص موارد میں جیسے جہاد ، دین یا جان یا عزت و آبرو کی دفاع ، کہ اسلام نے بتایا ہے ان مواقع پر اپنی جان کو بھی دے دیں اور شہید بھی حساب ہو گا ۔

بعض افراد نے یہاں پر " لا ضرر" کے قانون کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں اس قانون کے مطابق اگر آپ کو یقین ہو یا احتمال دیتا ہو کہ اس مجلس میں جانے کی وجہ سے نقصان پہنچے گا تو ایسی مجلس میں جانا جائز نہیں ہے ۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ" لاضرر" کا قانون میری نظر میں اگرچہ  یقینا ایک فقہی قانون ہے ، لیکن اس لحاظ سے کہ انسان خود نقصان کا متحمل ہوتا ہے لہذا ہمارے اس موضوع سے کوئی ارتباط نہیں رکھتا ہے ، قانون" لا ضرر " کے بارے میں 5 نظریات ہیں اور مشہور نظریہ یہ ہے کہ اگر خداوند متعالی کے احکام میں سے کوئی حکم ضرر اور نقصان کا سبب بنے تو اس قانون کے مطابق وہ حکم اٹھ جائے گا ، فرق نہیں وہ واجب ہو یا حرام ، اور مستحبات کے بارے میں اختلاف ہے کہ کیا یہ " لا ضرر" مستحبات کو بھی شامل ہوتا ہے یا نہیں ؟ لیکن جیسا بھی ہو ہمارے مورد بحث موضوع سے مربوط نہیں ہے ، " لا ضرر" کے بارے میں بھی بعض اسے وہی " لا ضرر " ہی معنی کرتے ہیں اور بعض اسے " اضرار" (نقصان پہنچانا) یعنی کسی دوسرے کو نقصان نہیں پہنچا سکتا معنی کرتے ہیں ، اگر یہ دوسرا معنی کر لے تو اس صورت میں ہمارے مورد گفتگو سے مربوط ہوتا ہے یعنی اگر خدانخواستہ کوئی شخص کسی چھوت کی بیماری میں مبتلاء ہو اور وہ خود بھی  اس کے بارے میں علم رکھتا ہو اگر وہ شخص کسی مجلس میں شرکت کرے  تو دوسرے افراد بھی اس بیماری میں مبتلاء ہو جائيں  گے تو یہ کام حرام ہے ، اگر ایسا شخص ایسی  کسی مجلس میں چلا جائے اور دوسروں کو مبتلاء کرے تو یہ شخص ضامن ہے ۔

" لاضرر " کے قاعدہ کے بارے میں بہت زیادہ بحث و گفتگو ہے ،  مناسب نہیں میں ان سب کو یہاں پر بیان کروں ، جیسے یہ بحث کہ کیا نقصان کے واقع ہونے کے بارے میں علم ہونا ضروری ہے ؟ یا معتبر ظن( گمان ) ضروری ہے ، یا صرف گمان ہی کافی ہے ؟ بعض بزرگان جیسے جواہر الکلام کے مصنف کا نظریہ یہ ہے کہ نقصان کا ڈر ہونا کافی ہے وہاں پر یہ قانون لاگو ہو گا اگرچہ علم یا معتبر گمان بھی نہ ہو ، ان کی یہ بات صحیح ہے ، لیکن مرحوم علامہ اور ان  سے پہلے اور بعد کے زیادہ تر فقہاء نے علم اور معتبر گمان رکھنے کی بات کی ہے ۔

مرحوم شیخ انصاری ایک جگہ پر اسے قبول کر لیتے ہیں لیکن دوسری جگہ پر اسے احتیاط کے خلاف بتاتے ہیں ، لیکن میں  یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ نقصان کا ڈر ہونا خود اپنی جگہ ایک مستقل عنوان ہے ، اگر آپ یہ احتمال دیں کہ آپ کے کھانے میں زہر ہے ، عقل اور شرع دونوں حکم کرتا ہے کہ اس کھانے سے اجتناب کرے ، نقصان  کے بارے میں علم ہی ہونا ضروری نہیں ہے ، حتی کہ نقصان کا گمان ہونا بھی ضروری نہیں ہے ، اور یہ بتائے کہ اگر زہر ہونے کا 70 فیصد احتمال ہو میں اسے نہیں کھاوں گا ! عقلاء یہی کہتے ہیں کہ اگر 10 فیصد بھی نقصان کا احتمال دیتے ہو تو اس کھانے کو نہیں کھانا چاہئے ، اگر اس کے باوجود کسی نے کھا لیا تو سب مذمت کرتے ہیں اور کہتے ہیں خود اپنی ہاتھوں سے ہلاکت کا سبب بنا ہے ۔

صاحبان تحقیق کو اس بارے میں  متوجہ رہنے کی ضرورت ہے کہ ان عناوین کو آپس میں کیسے خلط ملط کرتے ہیں ، اگر ابھی مراجع عظام سے پوچھا جائے کہ ایک ایسی جگہ جانا جہاں پر ابھی کرونا وائرس کے ہونے کا احتمال ہو  جائز ہے ؟فرماتے ہیں : جائز نہیں ہے ، فقہ بھی یہی کہتا ہے اور عقل بھی یہی کہتی ہے ، لیکن اگر ایس او پیز کے کامل طور پر رعایت کرتے ہوئے جیسے ماسک لگا کر ، ہینڈ سینیٹائزر استعمال کرے تو یہ احتمال خود بخود ختم ہو جاتی ہے ، اور ضرر کا یہ احتمال اتنا کم ہو جاتا ہے کہ عقلی لحاظ سے پھر یہ قابل اعتناء نہیں رہتا ، مراجع عظام جو یہ فرماتے ہیں کہ ان ایس او پیز کی رعایت کرنا واجب ہے ،  وہ اسی بنیاد پر ہے ، اسلام کہتا ہے کہ اگر کسی جگہ جانی ، بدنی اور مالی لحاظ سے نقصان پہنچے  کا عقلائی ڈر ہو یہ صرف ایک عقلی احتمال ہے لیکن اس سے اجتناب کرنا چاہئے ، مگر وہاں پر کوئی اہم مقصد کا حصول درکار ہو ۔

یہاں پر بعض حضرات نے تزاحم کے بحث کو بیان کیا ہے اور کہتے ہیں  ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ ان دونوں میں سے کونسا اہم اور کونسا مہم ہے ؟ عزاداری مستحب ہے اور مستحب کسی واجب کے ساتھ  تزاحم نہیں ہو سکتا ، لیکن اگر ایسی حالت ہوتی کہ عنوان ثانیوی کے لحاظ سے عزاداری واجب ہوتا ، تو اس وقت ایک واجب کا دوسرے واجب سے تزاحم کی بات آتی ہے ، اس وقت ہم یہ کہتے کہ عزاداری واجب کفایی اور نفس کو بچانا واجب عینی ہے ، پس اگر اتنے تعداد میں لوگ موجود ہوں جو عزاداری کرے تو باقی لوگوں پر نفس کی حفاظت کرنا مقدم ہوتا ہے لیکن عزاداری کرنے والے  موجود نہ ہو تو اس وقت عزاداری واجب عینی ہو جائےگا اور ہر انسان پر عزاداری کرنا واجب ہو جائے گا ، اس وقت حفظ جان اور عزاداری ایک دوسرے کے مقابلہ میں کھڑا ہو گا ۔

اب یہاں پر ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ کیا تزاحم وجود میں آتے ہیں کہ بتایا جائے کونسا اہم اور کونسا مہم ہے ؟ میری نظر میں تو یہاں پر کوئی تزاحم ہے ہی نہیں ہے ، کہ ہم باب تزاحم کے مرجحات کے پيچھے جائیں ، چونکہ تزاحم وہاں پر ہے جب دو چیزوں کا جمع کرنا ممکن نہ ہو ، لیکن یہاں پر دونوں کا جمع کرنا ممکن ہے ، ہم ایس او پیز کی رعایت کرتے ہوئے عزاداری بھی کر سکتے ہیں اور جان کی بھی حفاظت کر سکتے ہیں ۔

بعض  نے یہاں پر تعارض کی  بحث کو بیان کیا ہے ، بعض  ایسی کتابیں جو فقہی  قوانین کے لحاظ سے بہت ہی کمزور ہے ، لکھے ہیں : کیا امام رضا (علیہ السلام) کی زیارت خوف نفس  نہ ہونے سے مقید ہوسکتا ہے یا نہیں ؟ یہاں پر کوئی تعارض اورقید لگانے کی بات ہی نہیں ہے ، تعارض کسی حکم کے جعل اور تشریع کے مرحلہ میں دو چیزوں کے درمیان تنافی پائے جانے کی صورت میں ہے ، لیکن زیارت امام رضا (علیہ السلام) اور نفس کی حفاظت واجب ہونا یا عزاداری اور نفس کی حفاظت واجب ہونا جعل کے مرحلہ میں ان دونوں کے درمیان کوئی تعارض نہیں پائےجاتے ہیں تا کہ ایک حکم دوسرے حکم کو ختم کر دے اور ایک کے نہ ہونے سے مقید کرے ، یہ جو کہتے ہیں کہ" الجمع مہما امکن " یہ باب تعارض سے مربوط ہے تزاحم سے کوئی ربط نہیں ہے اس کا ، لہذا یہاں پر نہ تزاحم ہے چونکہ دونوں کو جمع کر لینا ممکن ہے ، اور نہ تعارض ہے چونکہ جعل کے مرحلہ میں ان دونوں کے درمیان کوئی تنافی نہیں پایا جاتا ۔

ایک سوال جو آجکل بہت زیادہ بیان کرتے ہیں کہ اس شخص کے بارے میں کیا حکم ہے جو عقلی لحاظ سے یہ احتمال دیتا ہو کہ اگر کسی مجلس میں شرکت کرے تو وہ خود کرونا وائرس میں مبتلا ہو گا یا خود اس شخص سے کسی دوسرے کو لگے گا ؟ اگر اس شخص سے کسی اور کو وائرس لگنے کا احتمال ہو تو اس شخص کا مجلس میں جانا قطعی طور پر حرام ہے اور بغیر کسی شک و شبہہ کے اگر کسی کو اس سے یہ بیماری لگ گئی تو یہ شخص ضامن  بھی ہو گا  ۔

ایک اور سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص امام حسین (علیہ السلام) کی مجلس میں چلا جائے اور کرونا وائرس میں مبتلاء ہونے کا احتمال بھی دے ، اور خدانخواستہ اس بیماری میں مبتلاء بھی ہو جائے ، یا ایسے شخص کو عزاداری کا ثواب ملے گا یا  ایسا ہے کہ وہ گویا عزاداری میں گیا ہی نہیں ہے ؟ ہم نے علم اصول میں جو پڑھا ہے اس  کے مطابق یہ  امر اور نہی کے  ایک مورد پر جمع ہونے کے موارد میں سے ہے ، اس شخص کی عزاداری اپنی جگہ پر ہے اور اس کا ثواب بھی اسے دیا جائے گا  لیکن یہ حرام کا مرتکب ہوا ہے اور"  لاتلقوا بایدیکم الی التهلکه" کا نہی بھی اپنی جگہ صحیح ہے ، اگر کوئی شخص جو نماز پڑ ھ رہا ہے نعوذباللہ وہ نماز کے دوران کسی نامحرم کو دیکھے ، اس شخص کی نماز صحیح ہے اور  اس نماز اسے ملے گا ، لیکن نامحرم کی طرف دیکھنا حرام ہونا اپنی جگہ باقی ہے اور اسے عذاب دی جائے گی ، مگر یہ کہ وہ توبہ کریں ، لہذا اس مسئلہ میں نہ تزاحم کی بات ہے اور نہ تعارض کی بلکہ یہاں امر اور نہی  ایک ہی مورد جمع ہوا ہے ۔

جو حضرات اصول کے بارے میں بے اعتناء  ہیں ، آپ ملاحظہ فرمائيں کہ علم اصول کیسے ایک فقیہ کی مدد کرتا ہے اور اسے سیدھے راستہ کی طرف لے جاتا ہے ،اگر باب تزاحم کی بات ہو تو وہاں دیکھنا ہو گا کہ جان کی حفاظت مقدم ہے یا عزاداری ؟ اگر عزاداری ایسے حالات میں ہو کہ دین کا زندہ رہنا اس سے وابستہ ہو، جیسے دشمن دین کو نابود کرنے اور امام حسین (علیہ السلام) کی چراغ کو خاموش کرنے کے درپے ہو ، تو وہاں یقینی بات ہے عزاداری ، جان کی حفاظت سے مقدم ہے ،  لیکن ابھی ایس او پیز کے ساتھ دونوں حکم کو بجا لا سکتے ہیں ، تو یہاں پھر تزاحم کی کوئی بات ہے ہی نہیں ہے ۔

اگر تعارض کی بات ہو ، تو یہ جعل حکم کے مرحلہ  میں جب دو حکم آپس میں تنافی ہو وہاں پر جاری ہوتا ہے ، اور معلوم ہے کہ جعل حکم کے مرحلہ میں کوئی تنافی نہیں پائی جاتی ، علم اصول ہمیں یہ سیکھاتا ہے کہ یہاں امر اور نہی کے اجتماع کا مورد ہے ، ایک امر اولی استحبابی ہے یا امر ثانوی وجوب کفایی عزاداری ہے ، ایک نہی بھی ہے کہ اپنی جان کو خطرہ میں مت ڈالیں ، خود کو مریض نہ کراو، ایس او پیز بھی بیماری میں مبتلاء میں ہونے کی عقلی احتمال کو ختم کر دیتا ہے ،  اب اگر کسی نے  صحت کی اصولوں کی رعایت نہیں کی، اور  وہ یہ جانتا بھی تا کہ اس بیماری میں مبتلاء ہو سکتے ہیں یا صرف احتمال دیتا تھا ، یہاں اس شخص نے اپنے آپ کو بیماری میں مبتلاء ہونے کے لئے قرار دیے کر  گناہ اور معصیت کی ہے ، لیکن اس کے عزاداری کا ثواب اپنی جگہ محفوظ  ہے ۔

کیا لوگوں اور بیماروں کے شفا خانہ اہل بیت ( علیہم السلام) میں داخل ہونے  کا مانع بن سکتے ہیں ؟

سوال : سوالوں میں سے ایک کہ جسے ہم شبہہ بھی کہہ سکتے ہیں یہ ہے کہ کرونا وائرس کے دوران ہسپتالوں کو بہت ہی اپ گریڈ کیا ہے اور اس میں لوگوں کے لئے  تمام قسم کی اوزار اور آلات کو مہیاکیا ہے ، کیونکہ یہ شفاخانہ ہیں لوگ اس بیماری سے بچنے کے لئے ان جگہوں پر آتے ہیں، یا اپنی بیماری کے علاج کے لئے آتے ہیں ، دوسری طرف سے ہمارے شیعہ کلچر میں اور بعض روایات کے مطابق آئمہ اطہار (علیہم السلام) کے زیارت گاہیں اور اہل بیت کے مجالس  شفاخانہ ہیں، جس طرح ان شفاخانوں کو بند نہیں کر سکتے اسی طرح ان شفاخانوں کو بھی بند نہیں کرنا چاہئے ، بلکہ ہمیں چاہئے کہ لوگوں کو حتی کہ کرونا کے مریضوں کو بھی شفا پانے کے لئے حرم اور مجالس میں شرکت کرنے دیں اور جو لوگ اس بیماری سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں وہ بھی ان مجالس عزاداری میں شرکت کرے  اور اپنے آپ کو ان شفا خانوں میں قرار دیں ۔

 اب سوال یہ ہے کہ کیا واقعا آئمہ اطہار(علیہم السلام) کے حرم اور مجالس عزاداری اور ان کے جشن جسمی امراض کے شفاخانہ ہیں ، یا ان مجالس اور ان جگہوں کی شفا ایک خاص نوعیت کی ہے ؟ کیا اس وائرس میں مبتلاء شخص کو یہ اجازت ہے کہ وہ حرم میں چلا جائے اور وہ جانتا بھی ہے کہ اس کے جانے سے حرم کی فضا میں یہ چراثیم پھیل جائےگا اور کچھ لوگ بھی اس میں مبتلاء ہونگے ، کیا ہم اس وائرس میں مبتلاء شخص کو یہ کہہ سکتا ہے کہ ہسپتال کے بدلے حرم میں چلے جاو اور وہاں پر شفا طلب کرو ؟   عام الفاظ میں موضوع اور حکم دونوں لحاظ سے  حرم اور ہسپتال کو ایک دوسرے سے مقایسہ کرنا صحیح ہے یا نہیں ؟

جواب : جی ہاں ! آئمہ معصومین(علیہم السلام) کے  بہت سارے مقام و منزلت ہیں ، ہمارا یہ اعتقاد ہے کہ یہ حضرات  گذشتہ ، حال اور آیندہ کے بارے میں علم رکھتے ہیں ۔

امیرالمؤمنین(علیه‌‌السلام) ‌فرماتے تھے :«سلونی قبل أن تفقدونی»، میں آسمانوں کے بارے میں زمین سے زیادہ جانتا ہوں ، ان کو جو مقام و منزلت عطا ہوئی ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ خداوند متعالی کے اذن سے بیمار کو شفا عطا کرتے ہیں ، جس طرح حضرت عیسی (علی نبینا و آله و علیه السلام) نے نابینا کو شفا عطا کی اور وہ بینا ہو گیا ، لیکن بات یہ ہے کہ یہ شفا عطا کرنا اہل بیت ( علیہم السلام) کی زندگی کا ایک روز مرہ کام نہیں تھا ، بلکہ کبھی کبھار کرامت او ر معجزہ کے عنوان سے انجام پاتے تھے ،ہمارے آئمہ اطہار (علیہم السلام)اپنی زندگی  کے تمام امور کو اس علم لدنی کے مطابق جسے خدا نے انہیں عطا فرمایا ہے نہیں چلاتے تھے ،بلکہ تمام کام اسی عام بشری علم کے مطابق چلاتے تھے ، اسی وجہ سے ہے کہ کبھی گھر کے اندر جو افراد آنکھوں سے اوجھل تھے ان کے بارے میں دوسروں سے پوچھتے تھے کہ فلان شخص کہاں چلا گیا ہے ؟ لیکن اگر علم لدنی سے استفادہ کرتے تو پوچھنے اور سوال کرنے  کی ضرورت ہی نہیں رہتی تھی بلکہ جان سکتے تھے کہ وہ شخص کہاں ہے ۔

علم لدنی لوگوں کی سوالات کا جواب دینے اور احکام شرعی کے لئے تھا ، لیکن   عادی اور طبیعی زندگی میں دوسرے انسانوں کی طرح تھے ، مریض ہوتے تھے ،تو خداوند متعالی کے اذن سے مرض کے بدن میں داخل ہونے سے روک سکتے تھے لیکن اس قدرت و طاقت کو استعمال نہیں کرتے تھے بلکہ تو طبیب کے پاس جاتے تھے ، علاج اور شفاء کو طریقہ کو خود بھی جانتے تھے لیکن اس کے باوجود طبیعی راستہ کو طے کرتے تھے ۔

        وہ حضرات جو کہتے ہیں حرم شفا ہے میں ان سے یہ سوال کرتا ہوں ، کہ کیا آئمہ (علیہم السلام) اپنی حیات میں اپنے آپ کوجسمانی طبیب کے طور پر پیش کرتے تھے ؟ کیا آئمہ (ع) کےاصحاب جب بیمار ہوتے تھے تو پہلے آئمہ کی خدمت میں آتے  تھے اس کے بعد ڈاکٹر کے پاس جاتے تھے ؟ یا آئمہ (ع) نے ان کو یہ سیکھایا تھا کہ «ابی الله ان یجری الامور إلا باسبابها» خدا چاہتا ہے کہ دنیا کے تمام کام تکوینی اور اس کے طبیعی اسباب کے ذریعہ واقع ہو جائے ۔

البتہ کبھی اپنی مقام کو ثابت کرنے کے لئے کرامت اور معجزہ بھی  لوگوں کو دیکھاتے تھے ، آئمہ (علیہم السلام) کے شناخت کو اس طرح بیان کرنا کہ جب کسی کو وائرس لگے یا کوئی مریض ہو جائے تو ان کے حرم  میں چلا جائے ، یہ آئمہ ( ع) کی تحقیر اور لوگوں کی اعتقادات کو کمزور کرنے کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے ، ہمارے آئمہ (ع) خود معدن علم تھے ، لیکن اس کے باوجود اپنے اصحاب سے فرماتے تھے : جاو استاد کے پاس اور علم حاصل کرو ، کیا کسی آئمہ نے یہ کہا ہے کہ صرف میرے پاس آجاو تا کہ میں تمہیں درس دے دوں ؟ ان کے اصحاب حتی کہ دوسرے مذاہب کے مشايخ کے پاس جا کرعلم حاصل کرتے تھے ۔

ہمیں چاہئے کہ امام معصوم کو اپنے اور خدا کے درمیان توحید ، عبادت اور خدا کی معرفت اور قرب حاصل ہونے میں واسطہ قرار دیں ، یہ حضرات طبیب کی طرح ہماری جسمانی امراض کو شفاء دینے کے لئے نہیں آئے ہیں ، بیماروں کو شفاء دینا ایک بہت ہی چھوٹی چیز ہے ، لیکن چونکہ عام طور پر لوگوں کے عقل ضعیف ہے ، تو کبھی کبھار آئمہ اسی راستہ سے اپنے مقام و منزلت کو دیکھاتے تھے ، امیر المومنین (علیہ السلام)نے  کسی جنگ میں ایک فوجی جس کی انگلی کٹ گئی تھی فرمایا : کیوں پریشان ہو ؟ اس نے عرض کیا میری انگلی کٹ گئی ہے ، فرمایا : آگے آجاو ، اس کے بعد کٹی ہوئي انگلی کو اپنی جگہ پر رکھ لیا اور کچھ فرمایا ، جس کے بعد اس فوجی جوان نے دیکھا کہ انگلی پہلے کی طرح اپنی جگہ پر ہے ، عرض کیا آقا آپ نے کیا کیا ہے ؟ فرمایا میں نے سورہ حمد پڑھ لیا تھا ، سورہ حمد قرآن کریم میں شفاء ہے ، اس فوجی جوان نے کہا : کیا سورہ حمد میں اتنی طاقت ہے ؟ جب اس نے شک و تردید کیا تو انگلی اسی وقت دوبارہ ہاتھ سے الگ ہو گئی ۔

جی ہاں! یہ حقیقت ہے لیکن جب خود امیر المومنین(علیہ السلام) کے سر مقدس پر زخم لگتی ہے تو اس مسیحی طبیب کو علاج کرانے کے لئے لے آتے ہیں ، یہ جو خداوند متعالی پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله وسلم  ) سے فرماتا ہے  کہ لوگوں کو یہ بتا دو « انما انا بشر مثلکم» میں بھی تم جیسا ایک انسان ہوں ، اس سے کیا مراد ہے ؟ یعنی جس طرح تمہیں بھوک لگتی ہے مجھے بھی بھوک لگتی ہے ، جس طرح تمہیں پانی پینے کی ضرورت ہے مجھے بھی ضرورت ہے ، تم لوگ مریض ہوتے ہو اور اس کے علاج کرنے کے طریقے ہیں ، اسی طرح میں بھی ہوں ، یہ کیسی بات ہے کہ ہم آئمہ (علیہم السلام) کے تمام مقامات کو چھوڑ کر  یہ بتانے لگے کہ ان حضرات (ع) کے حرم دار الشفاء ہے ، یہ بات دین  اور آئمہ کے مقام و منزلت دونوں کو نقصان پہنچاتا ہے ، اس کے علاوہ ہمارے ادلہ اور نظریہ سے بھی سازگار نہیں ہے ۔

اس وقت جو  شخص کرونا وائرس میں مبتلاء ہو جائے تو ڈاکٹر اسے کہتا ہے کہ آسولیشن میں بیٹھو ، کسی سے بھی میل جھول مت کرو ، اس بات پر عمل کرنا اس شخص پر واجب ہے ، ہمارے فقہاء بھی فرماتے ہیں اگر ان چیزوں میں کسی آگاہ شخص کی بات سے یہ احتمال دے کہ آپ کی بیماری دوسرے کو لگ جائے گی ، تو آپ کو یہ حق نہیں ہے کہ لوگوں کے درمیان نکل آئے ، اب اس حالت میں حرم چلا  جائے اور وہاں پر ضریح کو ہاتھ لگائے تو ممکن ہے یہ کسی اور کو بھی لگ جائے ، تو یہ حرام کام ہے ، اور اگر کسی کو لگ گئي تو آپ اس کا ضامن ہے ، اور خدانخواستہ وہ شخص اسی مرض کی وجہ سے مر جائے تو آپ پر دیہ واجب ہو جائے گا ، جی ہاں ! اگر معلوم نہ ہو تو اس پر حرام کا حکم لاگو نہیں ہو گا لیکن اگر معلوم ہو کہ دوسرے شخص کا مر جانا اس کی وجہ  سے ہے تو اس شخص کو مرنے والے کا دیہ دینا ہو گا ۔

پس ہمارے فقہ واضح الفاظ میں بتاتا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی ایسے مرض میں مبتلاء ہو جو دوسروں کو لگ جاتی ہو ، اسے یہ جائز نہیں ہے کہ اپنے آپ کو حضرت امام رضا (علیہ السلام) کے پنجرہ فولاد سے باندھ لیں ، اور دوسروں کو بھی اس مرض میں مبتلاء کرے ، ہماری اعتقادات کے مطابق ہمارے آئمہ ہر جگہ حاضر ہیں ، اور جہاں بھی ہو وہاں سے آئمہ سے متوسل ہو سکتے ہیں ، اسی توسل کے ذریعہ رابطہ برقرار ہو گا اور ان شاء اللہ بیمار کو شفا عنایت ہو گی۔

سوال: کیا ہم یہ بتاسکتے ہیں کہ اس موضوع کو تشخیص کرنا خود انسان کے ذمہ ہے ؟

جواب : یہاں پر تزاحم کی بات نہیں ہے ، کہ ہم اہم اور مہم کی بات کرے ، اسی طرح تعارض اور قاعدہ لا ضرر بھی نہیں ہے ، یہاں پر بات صرف یہ ہے کہ اگر  کسی بھی طریقہ سے آپ  یہ عقلائي احتمال دے دیں اگرچہ وہ 10 فیصد ہی کیوں نہ ہو ، کہ اس گلاس میں زہر ہے ، تو آپ کو حق نہیں ہے کہ اس پانی کو پی لے ۔

ہمارے فقہ میں اسے خوف ضرر سے تعبیر کیا جاتا ہے ، کہ بہت سارے افراد خوف ضرر اور مسئلہ لا ضرر کے درمیان اشتباہ کرتے ہیں ، یہ مسئلہ لا ضرر سے کوئی ربط نہیںرکھتا ہے ، خوف ضرر سے مراد یہ ہے کہ جس طریقہ سے بھی ہو انسان  ضرر کا احتمال  دے ، حتی کہ اگر ایک بچہ  یا ایک فاسق انسان کی بات سے ہی کیوں نہ ہو، اسی احتمال کے مطابق عمل کرنا چاہئے ، اس لحاظ سے اس وقت کرونا وائرس سے متعلق شعبہ کے ذمہ داران جو کہ رہبر معظم اور حکومت کے اعلی عہدداران کے مورد تائید بھی ہیں اور اس میں دیندار اور تجربہ کار افراد شامل ہیں کہہ رہے ہیں بغیر ایس او  پیز کے امام حسین (علیہ السلام) کےمجالس میں شرکت مت کریں ، اس حکم کو ماننا پڑے گا اور اس کی مخالفت کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے ، اور یہ ایک واضح چیز ہے ۔

البتہ یہ جو بتاتے ہیں کہ اس کو تشخیض دینا خود انسان کی ذمہ داری ہے ، جی ہاں ایسا ہے ، لیکن کونسا عاقل انسان ہے جو تمام شہروں میں اتنے زیادہ تعداد میں فوتگی کے ہوتے ہوئے یہ بتائے کہ میں اس مرض میں مبتلاء ہونے کا احتمال نہیں دیتا ہوں، اس وقت مبتلاء ہونا ایک عقلائی احتمال ہے جو سب کے لئے ثابت ہے ۔

عوام اور عزادارن حسینی کے لئے قابل توجہ بات

سوال : مجالس عزاداری کے زیادہ سے زیادہ باشکوہ طریقے سے برگزار ہونے کے بارے میں ذاکروں ، مقررین ، عوام اور ہلتھ کے ذمہ داروں کے لئے کوئی خاص پیغام ہے تو فرمائيں ۔

جواب : عزاداری امام حسین ( علیہ السلام) کی برگزاری کی توفیق پیدا کرنا ایک  بڑا افتخار ہے ۔

سب سے پہلے عزاداروں سے یہ عرض کروں گا کہ کوشش کریں اس سال مجالس عزاداری زیادہ سے زیادہ باشکوہ طریقے سے برگزار ہو جائے ، لیکن باشکوہ کا معنی یہ  ہرگز نہیں ہے کہ ایس او پیز کے قوانین کے برخلاف کرے ، کرونا کے اس حالت میں اس سال ہر گھر امام بارگاہ بننا چاہئے ، پانچ چھ نفر بھی ہوں ابا عبداللہ (علیہ السلام) کی یاد تازہ کرے ، کوئی مرثیہ پڑھے اور اس پر روئے  ، اپنے گھروں میں کالے کپڑے لگائے ، اس سال ہم مجالس کے بڑے بڑے اجتماعات تو برگزار نہیں کر سکتے لیکن اس کا ہرگز یہ معنی نہیں ہے کہ ہم عزاداری کو باشکوہ طریقہ سے برگزار نہ کرے ۔

دوسری بات یہ ہے کہ ایس او پیز کا ہر حال میں رعایت کرے ، اور اس بارے میں کوئی چھوٹی سی غلطی جائز نہیں ہے ، کوئی یہ نہ بتائے کہ آجاو امام حسین (علیہ السلام) کے عشق میں ماسک کو پھینک دیں ، یہ جاہلانہ بات ہے ، کہ کسی جگہ پر امام بارگاہ کے دروازہ پر لکھا ہوا ہے کہ امام حسین (علیہ السلام) کے احترام میں ماسک نہ لگائے ! یہ بہت ہی جاہلانہ بات ہے کہ عزاداری کے نام پر عزاداروں کے جانوں کو خطرہ میں ڈال دیں ۔

عزاداری کے لئے ماسک لگائے ، مجالس میں اسپرے کرے ، اپنے گھروں میں امام حسین (علیہ السلام) کی شہادت کے سلسلے میں مجالس برگزارکرے اور نوحہ پڑھے روئے اور رلائے ، سینہ زنی کرے ، اگر ایس او پیز کی رعایت نہ کی گئی تو جیسا کہ رہبر معظم نے فرمایا تھا ممکن ہے صحت کے حوالہ سے ملکی حالات بہت زیادہ خراب ہو جائے ، کوئی ایسا کام نہ کرے کہ کل وہ سب مشکلات دین اور امام حسین( علیہ السلام) کے نام پر ختم کرے ، دنیا والے کل یہ نہ بتائے کہ ایرانیوں نے عزاداری کر کے کرونا کے پھیلنے کی وجہ سے بہت زیادہ انسانی جانوں کا ضیاع ہوا ، انشاء اللہ ایسا نہیں ہو گا ، لیکن ہمیں چاہئے کہ ہلتھ کے بیان کردہ اصولوں کی رعایت کرے ،  اور عزاداری کو بھی باشکوہ اور اخلاص اور قصد قربت کے ساتھ برگزار کرے ۔

امام حسین (علیہ السلام) کی وجودمبارک سے مدد مانگتے ہیں کہ ان عزاداروں کی اخلاص کے خاطر دعا کرے کہ جلد از جلد یہ بلاء تمام بشریت خاص کر کے شیعیوں کے سروں سے  رفع و دفع ہو جائے  ان شاء اللہ ۔