pic
pic

اسلام یورپ اور مغربی ممالک میں پھیل جائے گا الہی یہ قانون ہوکر رہے گا

  • تاریخ 28 November 2020
  • ٹائم 11:24
  • پرنٹ
خبر کا خلاصہ :
فرانس کے صدر کی پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله وسلم ) کی اہانت کرنے کے خلاف حضرت آيت الله فاضل لنکراني(دامت برکاته)کے بیانات ( درس خارج میں )

بسم الله الرحمن الرحيم

فرانس کے صدر  نے پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله وسلم ) کے اہانت کرنے والوں کی حمایت کرنا اسلام کے ساتھ اس کی کھلی دشمنی کی نشانی ہے ۔

وہ دلخراش واقعہ جو ان ایام میں  تمام مسلمانوں کے قلوب کو جریحہ دار کیا ہوا ہے ،وہ فرانس کے صدر کا  پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله وسلم )کی توہین کرنے والوں  کی حمایت کرنا ہے ۔

گذشتہ ایام میں بھی اس  طرح کی اہانت کچھ افراد ایا کالم نگاروں کی طرف سے آزادی کے نام سے  ہوتے رہے ہیں ، البتہ اسی وقت  ہی گہرے سوچ رکھنے والے انسان یہ سمجھ چکے تھے کہ یہ کسی انسان کا ذاتی کام نہیں ہے ، بلکہ  اس کے پيچھے ضرور مختلف تنظيم اور حکومت ہو سکتی ہے ، لیکن وہ لوگ  اسلام اور مقدسات اسلام کی اس اہانت کو ذاتی طور پر پیش کر رہے تھے، ایک ایسی شخصیت کی گستاخی کر رہے تھے جن کا دنیا کے اولین اور آخرین میں کوئی مثال نہیں ہے ۔

 اس وقت حکومتیں یہی بتاتے رہے کہ کچھ افراد یہ کام کر رہے ہیں ہم کچھ نہیں کر سکتے ۔

لیکن آج کھلم کھلا  خود حکومتیں اس ڈور میں شامل ہو گئے ہیں ، اور فرانس کے صدر نے بالکل واضح طور پر ان گستاخی کرنے والوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے ، یہ ایک ایسے وقت میں  شروع کیا ہے کہ ہم ہفتہ وحدت  منا رہے ہیں، پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله وسلم ) کے ولادت باسعادت کے ایام ہیں ، یہ سب پروگرام کے تحت ہو رہا ہے ، کافر اور استکبار کے انٹیلی جنس اداروں میں   باقاعدہ طور پر  پروگرام بنایا جاتا ہے ، ان کاموں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تمام یورپین ممالک ،صیہونیزم کے انٹیلی جنس کے اداروں سے رابطہ میں ہیں ۔

آج ان ممالک کے بعض ذمہ دار افراد ، فرانس کے خود خبیث صدر رسمی طور پر پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله وسلم ) کی گستاخی کرنے والوں کی حمایت کر رہا ہے، اور وہ بھی "آزادی بیان" کے پرچم تلے یہ کام کر رہا ہے ۔

کسی کی بھی توہین کرنا ، خاص کر کے مقدسات کی توہین ، عقلاء عالم کی نظر میں ایک برا کام ہے ، اہانت کرنا ایک ایسی چیز ہے جس کا عقل  اور دین اور سب مذمت کرتے ہیں ۔

ہمارے ملک کے ذمہ دار افراد نے اس شخص کے بارے میں جو بیان کیا ہے کہ اس کا یہ کام ، اس کی احمق ہونے اور کم عقل ہونے کی دلیل ہے ، یہ بہت ہی اچھا بیان ہے۔

جب ایک صدر احمق ہوتا ہے تو وہ اس طرح کی باتیں کرتا ہے ، البتہ صرف احمق نہیں بلکہ اس کے ساتھ برا اور اسلام دشمنی بھی اس کے اندر ٹوٹ ٹوٹ کر بھرا ہوا ہے ، یعنی کامل طور پر واضح ہوتا ہے کہ یہ لوگ اسلام ، پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله وسلم ) اور مسلمانوں کے دشمن ہیں ۔

آج دنیا میں تمام مسلمان کو اس مسئلہ کے بارے میں سوچنا ہو گا کہ اسرائیل اور اسرائیل کے چیلہ خوار ( یہ یورپین ممالک اسرائیل کے چیلہ خوار ہیں ) اسلام اور مسلمانوں کے دشمن ہیں ، یہ لوگ اسلام اور مسلمانوں سے جنگ چاہتے ہیں، البتہ یہ لوگ پریشان ہیں اور مضطرب ہیں کیونکہ اسلام روز بروز ترقی کر رہاہے ۔

 انہوں نے خود یہ اعلان کیا ہے کہ 2050 میں اسی فرانسہ میں ایک تہائي لوگ مسلمان ہوں گے، وہ لوگ یہ سوچتے ہیں کہ اس طرح کے احمقانہ کاموں کے ذریعہ اسلام کی ترقی کو روک سکیں گے ، اور حقیقت کی راستہ کو روک سکتے ہیں، لیکن ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ تمہارے یہ کام سبب بنے گا 2050 سے پہلے اسلام پوری یورپ  اور مغربی ممالک میں پھیل جائے ، ہمیں یہی امید ہے ، اور جان لیں ! ایسا ہی ہو گا ، جان لو یہ الہی قانون  محقق ہو کر رہے گا ، کہ آہستہ آہستہ اسلام پوری دنیا میں پھیل جائے گا ۔

«يريدُونَ لِيطفِئوا نُورَ اللهِ بافواهِهِمْ وَاللهُ مُتِمَّ نُورهِ» خداوند متعالی نے یہ وعدہ دیا ہے کہ اپنی نور کو اور اسلام عزیز کی نور کو پوری جہان میں پھیلائے گا ۔

بہر حال ہم سب سے پہلے ان تمام غیور مسلمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جو باہر مختلف جگہوں ، روڈ پر نکل کر اس واقعہ کی مذمت کی ۔

اور اس کام کی مذمت کرتے ہیں اور ہماری حکومت سے مطالبہ ہے کہ رسمی طور پر ان کو بتا دیں کہ اس طرح  کی باتیں اعلانیہ طور پر ہم سے دشمنی  اعلان ہے ، ایسا نہیں ہے کہ چونکہ ایک گستاخی ہوا ہے لہذا اس کی مذمت کی جائے ، بلکہ اس گستاخی کو دشمنی سمجھنا چاہئے ، دشمنی کے علاوہ کوئي اور عنوان  نہیں ہو سکتا ہے ۔

جمہوی اسلامی ایران کے ذمہ داروں ،خاص کر کے وزیر امو رخارجہ سے ہمارا یہی تقاضا ہے کہ اس بارے میں بہت ہی قاطعانہ کام کیا جائے ۔

ایسے کاموں میں ایران کو سب سے آگے ہونا چاہئے ، ایران ، نظام جمہوری اسلامی کی برکت سے پوری دنیا میں اسلام سے دفاع کرنے میں اگلے صفوں میں ہونا چاہئے ۔

حوزات علمیہ ، علماء سب کے دل اس گستاخی اور اہانت پر جریحہ دار ہوئے ہیں ، اور یہ جلدی آرام نہیں ہو گا ، ہمیں امید ہے کہ یہ چیزیں سبب بنی گی غیر مسلمان اسلام کے بارے میں زیادہ توجہ کرے ، دنیا میں مسلمانوں کی تعداد جتنی زیادہ ہو ، دشمنان اسلام کی شکست آشکارہو گا انشاء اللہ

والسلام عليکم و رحمة الله و برکاته