pic
pic

توحید اور پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله وسلم) کی نبوت کی گواہی اسلام اور مسلمان ہونے کا ملاک و معیار ہے

  • تاریخ 28 November 2020
  • ٹائم 11:42
  • پرنٹ
خبر کا خلاصہ :
ہفتہ وحدت کے حوالہ سے حضرت آیت الله فاضل لنکرانی(مدظله)کے بیانات

بسم الله الرحمن الرحیم

نبی مکرم اسلام خاتم نبیین حضرت محمد بن عبد اللہ (صلی الله علیه و آله وسلم ) کی ولادت باسعادت کے ایام کی مناسبت سے تبریک عرض   کرتا ہوں ، ان شاء اللہ بشریت عالم خاص کر کے مسلمانان عالم ، اس میلاد مبارک سے بہرہ مند ہونگے ۔

امام خمینی کے افکار عالیہ کے بدولت ، انقلا ب اسلامی کے آثار اور بہت بڑی برکات میں سے ایک یہ ہفتہ ہے جوپیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله وسلم ) کی ولادت باسعادت کے ایام کی مناسبت سے ،  ہفتہ وحدت کے نام سے معروف ہے ۔

ایران کے باشکوہ انقلاب اسلامی کے 40 سال گزرے کے بعد ہم آج مسلمانوں کے درمیان وحدت کی ضرورت کو  ہر زمانہ سے زیادہ محسوس کر رہے ہیں ، زمانہ جتنا گزرتا جا رہا ہےامام خمینی (رہ) کے اس بنیادی  حکمت عملی کی حقیقت زیادہ  ہمارے لئے زیادہ نمایاں ہوتا جا رہاہے ، مسلمانوں کے خون اور اموال اور عزت کی حفاظت کے لئے وحدت بہت ہی اہم اور بنیادی  مسئلہ ہے ۔

قرآن کریم ، پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله وسلم ) اور آئمہ معصومین ( علیہم السلام) کی سیرت سے قطع نظر ،وحدت ایک ایسا موضوع ہے جسے عقل واضح طور پر ہمارے لئے بیان کرتا ہے ،جب ہم دیکھتے ہیں کہ الکفر ملۃ واحدۃ " جب ہم دیکھ رہے ہیں کہ کفر نے ہاتھ میں ہاتھ دیکر اسلام کے مقابلہ میں آیا ہے اور اپنی تمام قدرت وطاقت کے ساتھ میدان میں آیا ہے ، تا کہ اسلام کو ختم کر لے اوراسے نابود کر لے ، یہاں پر عقل بتاتا  ہے کہ سب مسلمان شیعہ ہو یا سنی یا جس فرقہ سے بھی ہو اسلام کے پرچم کے نيچے آجائیں، وحدت ایک ضروری اور عقلی حکم ہے ۔

اس مطلب کی طرف اشارہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اسلام کا ملاک کیا ہے اور ہم کس انسان کو مسلمان کہتے ہیں ؟ اگر ہم شیعہ اور سنی علماء کے فقہی کتابوں کی طرف مراجعہ کریں تو یہی نظر آتا ہے کہ اس بارے میں سب کا اتفاق ہے کہ اسلام کا ملاک شہادتین بیان کرنا ہے ، توحید کی گواہی یعنی لا الہ الا اللہ اور پیغمبر اکرم کی رسالت کی گواہی یعنی اشہد ان محمد (صلی الله علیه و آله وسلم ) ہے اسلام اسی شہادتین میں ہے ۔

یہاں پر ایک سوال ہے کہ کیا شہادتین انسان کی اسلام ظاہری پر دلالت کرتا ہے یا ایسانہیں ہے بلکہ شہادتین اسلام ظاہری اور واقعی دونوں کے لئے ہے ، ہم نے کتاب الحج میں اس بارے میں تفصیلی گفتگو کی ہے وہاں پر بیان ہوا ہے کہ ہم یہ نہیں بتا سکتے کہ شہادتین صرف اسلام ظاہری کو بیان کرتا ہے ، ایسا نہیں ہے ! اسلام کی حقیقت اسی شہادتین کے بیان کرنے میں ہے ، کہ زبان سے اقرار کرنا ہے ، اسلام کی حقیقت یہی ہے ۔

اگر کسی نے شہادتین پڑھ لیا مسلمان ہے ظاہری اور واقعی دونوں لحاظ سے ، اگر کسی نے واقعی طور پر شہادتین پڑھ لیا ، اور اپنے دل سے اسے قبول کر لیا یقینا یہ شخص مسلمان ہے ، یعنی اسلام کے تمام احکام اس پر لاگو ہوتا ہے اس کا جان اور مال محترم ہے ، بعض روایات جو پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله وسلم  ) سے نقل ہیں ان کے مطابق سب مسلمان ایک دوسرے کے بھائی ہیں اور ایک کا خون دوسرے کے خون سے رنگین نہیں ہے ، سب کے خون ایک جیسے ہیں، ہم نے فقہی گفتگو میں اس سے بھی بڑھ کر بیان کیا ہے کہ اگر کسی نے شہادتین کو ظاہری طور پر زبان پر جاری کیا لیکن باطنی طور پر اور دل میں توحید اور پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله وسلم )کی رسالت کو قبول نہ کرے ،ایسا  انسان بھی واقعی طور پر مسلمان ہے ، چونکہ حقیقت اسلام اقرار زبان کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے ،یعنی پہلے سے ہی خداوند متعالی نے اسلام اور مسلمان ہونے کی ملاک کو یہی قرار دیا ہے ۔

میں یہاں پر اسلامی تمام فرقوں کے علماء کو عرض کرتا ہوں ، اسلام کے ملاک اور معیار کے لحاظ سے اجتہاد کی گنجائش نہیں ہے ، شیعہ اور سنی دونوں میں متواتر روایات کے مطابق اسلام کا ملاک دو کلمہ ہے ، توحید کا اقرار اور رسالت اور پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله وسلم )کی نبوت کا اقرار، بس صرف یہی ہے ، اگر ہم اسلام کے ملاک اور معیار میں اجتہاد کی گنجائش رکھے ، تو ہرزمانہ میں ایک عالم ایک خاص اجتہاد کریں گے جس کے بعد نتیجہ یہ ہوگا کہ کہنے لگیں گے اگر کوئی پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله وسلم ) کی زیارت کے لئے جائے وہ اسلام سے خارج ہے ۔

دوسرے الفاظ میں شارع متعالی نے جب دین اسلام کو ہمارے لئے بھیجا ہے ، تو خود خداوند تبارک و تعالی کو ہی چاہئے کہ اسلام کے ملاک و معیار کو واضح الفاظ میں ہمارے لئے بیان کرے ، ایسا صحیح نہیں ہے کہ ہر زمانہ میں ہم اپنے اجتہاد سے اسلام اور کفر کے لئے ضابطہ بیان کرے ، ایسا نہیں ہے بلکہ یہ ضابطہ بہت ہی واضح طور پر معلوم ہے ، اگر کسی نے ان شہادتین کو بیان کر لیا اس میں مسلمان ہونے کا عنوان پیدا ہو  جاتا ہے ، اگر کسی نے اقرار نہیں کیا ، یا اقرار کرنے کے بعد انکار کر لیا تو اس میں کفر کا عنوان پیدا ہو جاتا ہے ۔پس اسلام کا ملاک بہت ہی واضح ہے ، اور ہمیں یہ حق نہیں ہے کہ ہم اپنی جیب سے یہ بتائيں اگر کوئی قبور کی زیارت کے لئے جائے تو وہ کافر ہے ، اگر کوئی فلان مطلب کا قائل ہو گیا تو وہ کافر ہے اور اسلام سے خارج ہوا ہے ، ایسا صحیح نہیں ہے ، ہمارے کچھ فروعات ہیں اگر کوئی ضروریات میں سے کسی ایک ضروری کا منکر ہو جائے اور اس کا یہ انکار نبوت کے انکار کا سبب ہو تو وہ کافر ہے یعنی وہ انکار ، نبوت کی انکار کا سبب بن جائے ۔

بہر حال اس وقت تمام علماء اسلام کو وحدت کے بارے میں زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے ، آج اگر ہم وحدت پر توجہ نہ دیں ، تو بہت ہی جلد اسلام کا کچھ باقی نہیں رہے گا ، دشمن اسی طریقہ سے اسلام کی نابودی کے لئے سوچتے ہیں ، پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله وسلم ) کے کلمات میں یہ الفاظ موجود ہے :«هُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ»؛ مسلمانوں کو بھی چاہئے کہ متحد ہو جائے اور کفار کے مقابلہ میں ایک طاقت بن جائے ۔

ان مطالب کے پیش نظر بہت ہی افسوس کی بات ہے کہ ان دنوں بعض کم علم افراد نے یہ بیان کیا کہ تمام شیعہ علماء مسلمانوں کے تمام فرقوں کو باطنی طور پر کافر سمجھتے ہیں ، یہ بات کلی طور پر باطل اور غلط بات ہے ۔

ہمارے فقہاء جیسے سید مرتضی، شیخ طوسی، شیخ مفید، ابن ادریس،اور تمام متقدمین اور متاخرین علماء کے کلمات کی طرف جب ہم مراجعہ کرتے ہیں ، تو ان میں سے اکثر یہی کہتے ہیں ، اسلام کا ملاک ،شہادتین ہے ، اور اسلام ظاہری اور باطنی کے درمیان کوئی بھی  فرق نہیں رکھے ہیں ، متاخرین علماء کے کلمات میں اس کی تفصیل بھی بیان ہوا ے ، لیکن وہ تمام علماء جو فرماتے ہیں اسلام کا ملاک شہادتین ہے ،ان کے عبارات کا  ظاہر یہی ہے کہ اسلام کا ملاک شہادتین کو پڑھنا ہے ظاہری اور باطنی دونوں کے لئے ۔

ہمیں اس بارے  میں توجہ کرنا چاہئے کہ علماء شیعہ پر تمہت لگا کر کوئی مطلب بیان کرے جو دنیا اسلام میں فتنہ کی آگ کو بڑھکا دے ، اسے  ہمارے فقہاء بیان کیا ہے ، کیوں بعض فقہاء کی ان باتوں کو چھوڑ کر ایک دوسری بات کو فقہاء سے منسوب کرتے ہیں؟

بہر حال وحدت قرآن کریم کی آیات اور پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله وسلم ) اور ائمہ معصومین (علیہم السلام) کے سنت کی بنیاد پر وحدت ایک ضرورت ہے ، میں  اہل سنت علماء اور شیعہ کے علاوہ دوسرے  فرقوں کے علماء سے  یہی بتاتا ہوں کہ شیعہ کے اماموں کی سیرت کی  طرف مراجعہ کریں ۔

حضرت  امیرالمؤمنین(علیه السلام) خلافت کو اپنا حقیقی حق سمجھتا ہے ،اس کے باوجود 25سال تک وحدت کی حفاظت کے خاطر صبر کیا ، ہمارے دوسرے آئمہ بھی ایسا ہی تھے ۔

یہ ایام امام حسن عسکری(ع)  کی شہادت کے ایام ہیں ،اس امام ہمام سے ایک  تفصیلی روایت ہے کہ آپ(علیہ السلام) نے شیعوں کو یہ حکم دیا ہے کہ اہل سنت اور تمام مسلمانوں فرقوں سے ارتباط میں رہیں ، ان کی تشییع جناز ہ میں شرکت کریں ، ان کے بیمار لوگوں کی عیادت کرے ، نماز میں ان کے ساتھ رہیں ، کیا ہم یہ بتا سکتے ہیں کہ ہمارے آئمہ ان افراد کے باطنی طور پرکافر ہونا کا قائل تھا ،وہ امام جو ان کے نمازوں میں شرکت کرنے کا حکم دے رہا ہے ؟! ایسا نہیں ہے

البتہ ہم کلی طور پر یہ بتاتے ہیں اور پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله وسلم ) کو بھی سن لیا جو بھی رسول خدا(صلی الله علیه و آله وسلم ) کی مخالفت کرے ، یہ مسلمان کافر ہے ، لیکن وہ شخص جو رسول خدا (صلی الله علیه و آله وسلم ) کو مانتا ہے ، توحید کا اقرار کرتا ہے ، رسالت  کا اقرار کرتا ہے ، رسالت کے اقرار سے مراد یہ ہے ،پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله وسلم ) جو بھی لے آئے ہیں انسان  اس کا اقرار کرے ، ایسے انسان پر مسلم طور پر اسلام صدق آتا ہے  ۔

اس وقت تمام مسلمانان عالم  کی ذمہ داری ہے کہ وحدت  کی حفاظت کرے چونکہ  اس وقت ہر زمانہ  سے زیادہ ہمیں اس کی ضرورت ہے ۔ اور یہ وقت کی اہم ترین ضروریات میں سے ہے ۔

والسلام علیکم و رحمة الله و برکاته