pic
pic

امامت سے دور ہونا ، عقل اور عقلانیت سے دور ہونا ہے

  • تاریخ 16 January 2021
  • ٹائم 00:58
  • پرنٹ
خبر کا خلاصہ :
«و العصر» ثمر کیمپ کے اختتامی پروگرام سے حضرت آیت اللہ فاضل لنکرانی (دامت برکاتہ) کا خطاب ، یہ ثمر کیمپ یورپ، آمریکا ، ایشاء اور آسٹریلیا کے اسٹوڈینس کے لئے قم میں یاوران حضرت مہدی کمپلیسک میں منعقد ہوا تھا ۔

امامت سے دور ہونا ، عقل اور عقلانیت سے دور ہونا ہے ، امامت کے ذریعہ ان سب اہداف تک پہنچ سکتے ہیں جس کی بشریت کو ضرورت ہے


بسم الله الرحمن الرحيم الحمدلله رب العالمين

آپ تمام بہن ، بھائيوں ، اساتید اور شیعہ و اسلام کے معنوی دارالحکومت میں ثمر کیمپ کے برگزار کرنے والوں   کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔

 جناب آقای سبزواری کی ہمت سے 20 سال سے یہ ثمر کیمپ یورپ مغربی ممالک میں زندگی کرنے والے مردوں اور خواتین کے لئے برگزار ہو رہا ہے ، ان افراد کو ایران اسلامی میں لے آتے ہیں ، علماء کرام اور مشہد مقدس اور قم المقدسہ کے حوزات سے بھی آشنا کراتے ہیں، اور آپس میں ایک رابطہ قائم کرتے ہیں ۔

 ہمیں امید ہے کہ اس ثمر کیمپ کے ختم ہونے کے بعد اپنے اپنے ملکوں کو واپس جائيں گے اور آیہ شریفہ «فَلَوْ لا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طائِفَةٌ  لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَ لِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُون»  کا مصداق بنیں گے ، اور خداوند متعالی کے اس حکم پر عمل کرنے والوں میں سے ہو جائيں گے، اس مختصر مدت میں دین ، مکتب تشیع اور امامت کے بارے میں جو اصلی اور بنیادی مطالب ہیں انہیں سیکھ لیے ہیں ، انشاء اللہ جب اپنے ملک واپس جائيں گے تو ان مطالب کو دوسروں تک بھی پہنچا دیں گے ۔

 اس مختصر وقت میں ، میں سورہ تغابن کی آیت 7 اور 8 کی طرف مختصر اشارہ کروں گا  ؛ أعوذ بالله من الشيطان الرجيم «زَعَمَ الَّذينَ كَفَرُوا أَنْ لَنْ يُبْعَثُوا قُلْ بَلى‏ وَ رَبِّي لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِما عَمِلْتُمْ وَ ذلِكَ عَلَى اللهِ يَسير»  کافروں کا کفر پر اصرار کرنے کی اصلی علت اور  بنیادی  طور پر ان کا فکر کیا ہے؟

 

خداوند تبارک و تعالی فرماتا ہے ، کافروں کی اصلی  اور بنیادی مشکل یہ ہے کہ ان آخرت پر اعتقاد نہیں ہے ، اور یہ کہتے ہیں کہ اس دنیا کے بعد ، کوئی اور دنیا موجود نہیں ہے ، اور ہم دوبارہ حساب  اور کتاب کےنہیں اٹھائے نہیں جائيں گے ، اور خداوند متعالی اس آیت کریمہ میں پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) سے فرماتا ہے ، ان لوگوں سے بتادو کہ تمہارے لئے قیامت ہے ، وہاں دوبارہ اٹھائے جائے گا ، اور جو کچھ اس دنیا میں انجام دیا ہے ان سب کو قیامت میں دیکھے گا ۔

 اس کے بعد والی آيت میں فرماتا ہے : «فَآمِنُوا بِاللهِ وَ رَسُولِهِ وَ النُّورِ الَّذي أَنْزَلْنا وَ اللهُ بِما تَعْمَلُونَ خَبير»؛ خدا  ،رسول خدا اور اس نور پر جسے ہم نے نازل کیا ہے ایمان لے آو ، وہ نور جسے خدانے نازل کیا ہے اس کا ایک ظاہر ہے اوروہ یہی قرآن ہے جو ہمارے ہاتھوں میں ہے ، اور اس کا ایک باطن ہے جو ہمارے آئمہ معصومین (علیہم السلام ) کے پاس ہے ۔

اس کا بیان یوں ہے کہ اس عالم میں ایک قانون حاکم ہے ، اور وہ یہ ہے کہ ہر چيز کا ایک ظاہر اور ایک باطن ہے ، انسان کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن ۔خود اسی عالم دنیا کا ایک ظاہر ہے اور  ایک باطن ، جو اعمال ہم انجام دیتے ہیں اس کا بھی ایک ظاہر ہے اور ایک باطن، روایات میں بھی ذکر ہوا ہے کہ ہر ظاہر کا ایک باطن ہے ، قرآن کا باطن کیا ہے ؟ قرآن کا ظاہر یہی لکھے ہوئے  الفاظ ہیں ، کہ جسے انسان دیکھ لیتا ہے ، لیکن اس کا باطن کیا ہے ؟ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) فرماتے ہیں ، قرآن کریم کا باطن آئمہ معصومین ( علیہم السلام ہیں ) ہیں ۔

 ہم شیعوں کا یہی دعوا ہے کہ قرآن کے ساتھ انسان کے لئے ایک چراغ بھی ہے اور وہ امامت کا نور ہے ، لہذا ہم جتنا زیادہ اپنے آپ کو امامت کی حقیقت تک نزدیک کریں گے ، فرق نہیں کہ طلبہ ہو یا غیر طلبہ ، مرد ہو یا عورت ، امامت کی حقیقت ہے جو تنہا  راہ نجات اور انسان کے سعادت اور خوشبختی کا ضامن ہے ، اگر ہم اپنے لئے ایک اچھی دنیا اور آخرت کا خواہان ہو، اس کا راستہ صرف اور صرف یہ ہے کہ جان لیں امیر المومنین ( علیہ السلام) اور ان کے فرزند طاہرین نے ہمارے زندگی کے مختلف پہلووں کے لئے کیا کیا دستور دیئے ہیں ۔

قرآن کریم  میں خداوند متعالی پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم ) سے فرماتا ہے : اے ہمارے رسول  ، «يا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ ما أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَ إِنْ  لَمْ تَفْعَلْ فَما بَلَّغْتَ رِسالَتَهُ وَ اللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللهَ لا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكافِرين»؛ اگر  اميرالمؤمنين   کی امامت کو لوگوں تک نہیں پہنچایا ، تو گویا کوئی بھی کام انجام نہیں دیا ہے اور رسالت خدا کو گویا نہیں پہنچایا ہے ، ہماری ان باتوں کے لئے یہ بہترین دلیل ہے ، اہل سنت ہم سے پوچھتے ہیں کیوں نماز ، حج اور روزہ بغیر ولایت کے قبول نہیں ہے ؟

یہ سوال عام طور پر اہل سنت ہم شیعوں سے کرتے ہیں ، چونکہ ہمارا یہ اعتقاد ہے کہ  ان لوگوں کے نماز ، روزہ ، حج ، جہاد اور عبادات  قبول نہیں ہے جو آئمہ کے ولایت کو قبول نہیں کرتے ،  ہماری اس بات پر دلیل روایات کے علاوہ یہی آیت کریمہ بھی ہے ، «يا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ ما أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَ إِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَما بَلَّغْتَ رِسالَتَهُ»  پیغمبر اکرم (ص) سے فرماتا ہے اگر امامت کو بیان نہیں کیا تو گویا نماز کو بھی بیان نہیں کیا ہے ، روزہ کو بھی بیان نہیں کیا ہے ، حج کو بھی بیان نہیں کیا ہے ، کچھ بھی بیان نہیں ہوا ہے ، پس یہ معلوم ہوتا ہے کہ امامت دین کی بنیاد اور اسلام کی بنیاد ہے ۔

اسی طرح یہ روایت بھی ہے : «مَنْ مَاتَ وَ لَمْ يَعْرِفْ إِمَامَ زَمَانِهِ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّة»، سؤال  کریں کہ کیوں اگر کوئی نماز پڑھ لیں ، روزہ رکھ لیں ، حج چلے جائے ، جہاد بھی کر لیں ، غریبوں کی مدد کر لے ، لیکن اپنے زمانہ کے امام ، خدا اور مخلوقات کے درمیان موجود اس حجت کی معرفت پیدا نہ کرے ، اگر یہ شخص مر گیا تو جاہلیت کی موت مرا ہے ، جاہلیت کی موت یعنی اسلام سے پہلے کا موت ، یعنی غیر مسلمان موت ، کیوں ایسا ہے ؟ یہ واضح ہوتا ہے کہ اس دین کی بنیاد ، اور اس دین کے سب کچھ کو امامت کے گرد قرارد دینا چاہئے ۔

استعمار گروں نے اہل سنت کے درمیان  ، اہل سنت کے دائرہ سے خارج  وہابیت کے نام سے ایک گروہ کو تشکیل دی ہے ، اور اہل سنت کے نام سے اسے دنیا میں پھیلا رہا ہے ، اور اسی سے طالبان ، اس کے بعد القاعدہ اور اس کے بعد داعش کے نام سے وجود میں لائے ، اور اس داعش نے اسلام اور امت پیغمبر کے نام سے کیا کیا جنایتیں انجام نہیں دئيے! کیا ہم نے کبھی یہ سوال کیا ہے کہ کیوں ان لوگوں نے ایسا کر لیا ؟

 یہ سب اس وجہ سے کیے کہ یہ لوگ امامت کی حقیقت سے دور تھے ، اگر ہمارے زمانہ میں بشریت ، امامت کے  گرد ہوتے ، تو کبھی بھی اپنے آپ کو یہ اجازت نہیں دیتے کہ  کسی پر حتی کہ غیر مسلمان پر بھی کوئی ظلم کرے،  اگر ہم امامت کے معتقد ہوں ، امام زمان اور آئمہ طاہرین(علیہم السلام) کے پیروکار ہوں، ان حضرات کا مکتب ، عقل اور منطق والی مکتب ہے ، لہذا امامت سے دور ہونا عقل اور عقلانیت سے دور ہونا ہے ، ایسی عقلانیت کہ عصر حاضر کے لوگ اس کے بہت ہی سخت محتاجمند ہیں ۔

بشریت کے تمام ضروریات کو ہم امامت کے ذریعہ حل کر سکتے ہیں ، اگر ہم اپنے اس اعتقاد کو مضبوط کرے ، ہمارے لئے تمام مسائل منجملہ اقتصادی ، اخلاقی ، اجتماعی ، گھریلو، سیاسی ، نظامی ۔۔۔۔۔ سب میں آئمہ اطہار(علیہم السلام) کی طرف سے دستور العمل ہے ، امام زمان (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) نے جو کچھ فرمایا ہے اور امیر المومنین (علیہ السلام) نے جو کچھ فرمایا ہے ان دونوں کے درمیان آپ مختصر سا اختلاف نہیں پائيں گے ، اہلبیت (علیہم السلام) سے 50 ہزارسے زیادہ روایات نقل ہوئے ہیں ، ان روایات کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے ، امیر المومنین (ع) نے جو فرمایا ہے اور امام صادق(ع)نے جو فرمایا ہے ان دونوں کے درمیان میں کوئي اختلاف نہیں ہے ، سب کے سب ایک ہی نور ہیں ، ہمیں چاہئے ان کی نسبت اپنی معرفت کو زیادہ کرے ۔ امامت کے بارے میں زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے ، احادیث میں نقل ہے کہ آخر الزمان کے لوگ اس دعا کو زیادہ پڑھے ، خصوصا نمازوں کے بعد سجدہ میں جا کر اس دعا کو پڑھیں :

«اللَّهُمَّ عَرِّفْنِي نَفْسَكَ فَإِنَّكَ إِنْ لَمْ تُعَرِّفْنِي نَفْسَكَ لَمْ أَعْرِفْ نَبِيَّكَ

اللَّهُمَّ عَرِّفْنِي رَسُولَكَ فَإِنَّكَ إِنْ لَمْ تُعَرِّفْنِي رَسُولَكَ لَمْ أَعْرِفْ حُجَّتتَكَ

اللَّهُمَّ عَرِّفْنِي حُجَّتَكَ فَإِنَّكَ إِنْ لَمْ تُعَرِّفْنِي حُجَّتَكَ ضَلَلْتُ عَنْ دِينِي».

 آخری  جملہ ہمارے لئے بہت مہم ہے ؛«اللَّهُمَّ عَرِّفْنِي حُجَّتَكَ فَإِنَّكَ إِنْ لَمْ تُعَرِّفْنِي حُجَّتَكَ ضَلَلْتُ عَنْ دِينِي»، اگر   ہم اپنے حجت کی معرفت پیدا نہ کرے ، تو غلط راستہ پر جائیں گے ، اگر ہمارے زمانہ میں کوئی امام زمان (علیہ السلام) کی نسبت توجہ پیدا نہ کرے تو یقینا غلط راستہ پر جائے گا ۔

 آخر میں آپ تمام کا ایک بار پھر شکریہ ادا کرتا ہوں ، امید ہے کہ اس طرح کے سفر آپ کے لئے بار بار مہیا ہو جائے ، اور سلامتی کے ساتھ معنوی فوائد کے ساتھ اپنے اپنے وطن واپس جائے ۔

والسلام عليكم و رحمة الله و بركاته