pic
pic

حضرت زہرا کے فضائل

  • تاریخ 15 January 2021
  • ٹائم 23:48
  • پرنٹ
خبر کا خلاصہ :
خداوند متعالی نے حضرت فاطمہ زہرا (س) کو اپنی نور عظمت سے خلق کیا ، پیغمبر اکرم (ص) اور امیر المومین(ع) کے وجود مبارک کے بارے میں بھی ہے کہ ایسے ہی بیان فرمایا ہے کہ ان کی خلقت بھی خداوندم تبارک و تعالی کے نور سے ہے، اس تعبیر سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حضرت زہرا (س) کی خلقت ابتداء سے ہی عام انسان کی خلقت سے مختلف تھا

 بسمہ تعالی


یہ ایام ، ایام فاطمیہ اور مصیبت عظمای اسلام ، حضرت فاطمہ زہرا ، صدیقہ کبری (سلام اللہ علیہا) کے ایام ہیں، الحمد للہ ہمارے ملک میں عوام اور علماء اور طلاب کے درمیان ، چند سال سے ان ایام میں عزاداری پر خاص توجہ ہوئی ہے ، اگرچہ فاطمیہ قدیم الایام سے ہمارے بزرگوں کے درمیان رائج تھا اور ان ایام میں عزاداری کرتے تھے ، خود ہمارے گھر پر 60 سال سے زیادہ عرصہ ہوا ہے کہ ان ایام میں مجلس عزا برگزار ہوتی ہے ، اور ہمارے بزرگان ، مراجع جیسے مرحوم آیت اللہ العظمی بروجردی ، مرحوم امام ، مرحوم علامہ طباطبائي اور باقی تمام مراجع اس بات کے پابند تھے کہ حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا ) کے مجالس میں شرک کریں ۔

ایک اہم مطلب جس پر توجہ دینا چاہئے ، وہ یہ ہے کہ اگر ایک مسلمان ، فرق نہیں شیعہ ہو یا سنی ، وہ اس مطلب کی طرف توجہ دیں ، تو بہت سارے شبہات اس کے لئے حل ہو جاتا ہے ، اور بہت سارے سوالوں کا جواب اسے مل جاتا ہے، وہ مطلب یہ ہے کہ فاطمہ کون ہے ؟ اور کیا حقیقت ہے ؟ اگر ہم اس عظیم ہستی کو صرف پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی بیٹی ہونے میں محدود کرے ، تو اس کا ایک نتیجہ ہے ، لیکن اگر اس بارے میں کچھ غور وفکر کرے ، اور یہ دیکھيں کہ خدا وندمتعالی کے نزدیک ان کا کتنا مقام اور کتنی عزت تھی ، اور پیغمبر اکرم (ص) کے ہاں ان کی کیا عظمت تھی ، تو اس کے حقیقت کے سایہ میں بہت سارے اعتقادی اور تاریخی مسائل حل ہو جائے گا ۔

احادیث کی کتابوں میں جابر سے ایک روایت نقل ہے ، انہوں نے اس روایت کو امام صادق (علیہ السلام) سے نقل کی ہے  ؛ «قال: قلت لم سمّيت فاطمة الزهراء زهراء؟»  امام صادق سے عرض ہوا  ؛ کیوں فاطمہ زہرا (س) کو زہرا نام رکھا گیا ہے ؟ پہلی بات تو یہ ہے کہ دوسری   روایات میں دوسری روایات میں بھی یہ معنی ذکر ہوا ہے کہ خداوند متعالی کے ہاں حضرت فاطمہ(س) کے 9 نام ہیں ، البتہ یہ بھی ایک اہم مطلب ہے ، لیکن سوال یہ ہے کہ کیوں آپ کے ناموں میں سے ایک "زہرا" ہے ؟

امام صادق(علیہ السلام ) نے جواب میں فرمایا : «لأن الله عزوجل خلقها من نور عظمته»   خداوند متعالی نے حضرت فاطمہ زہرا (س) کو اپنی نور عظمت سے خلق کیا ، پیغمبر اکرم (ص) اور امیر المومین(ع) کے  وجود مبارک کے بارے میں بھی ہے کہ ایسے ہی بیان فرمایا ہے کہ ان کی خلقت بھی خداوندم تبارک و تعالی کے نور سے ہے، اس تعبیر سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حضرت زہرا (س) کی خلقت ابتداء سے ہی عام انسان کی خلقت سے مختلف تھا ، تمام انسان مخلوق خدا ہیں ، لیکن خدا کے نور سے خلق نہیں ہوا ہے ، چونکہ اگر انسان خدا کے نور سے خلق ہوتے ، تو کوئی بھی انسان گناہ اور معصیت نہیں کرتے ، فاطمہ زہرا(س) خدا کے نور سے خلق ہوا ہے ،  اور وہ بھی خدا کے نور عظمت سے خلق ہوا ہے ، یعنی یہ عظمت خداوند تبارک و تعالی کا پہلو بہت مہم ہے ، جس کا معنی یہ ہے کہ یہ مخلوق ، ایک عظيم اور بڑا مخلوق ہے ، چونکہ خدا کے نور عظمت سے خلق ہوا ہے ؛«فلمّا أشرقت أضاء السماوات و الارض بنورها»آسمان اور زمین فاطمہ زہرا(سلام اللہ علیہا) کی نور سے روشن ہوا ہے ، روایت میں آگے بڑھ کر خداوند ملائکہ سے فرماتا ہے : «هذا نورٌ من نوري و أسکنته في سمائي خلقته من عظمتي» (عن جابر عن ابی عبدالله علیه السلام قال:قلت له لم سمیت فاطمه؟ فقال لان الله خلقها من نور عظمته فلما اشرقت اضائت السماوات و الارض بنورها و غشیت ابصار الملایکه و خرت الملایکه لله ساجدبن و قالو الهنا و سیدنا ما هذا النور؟ فاوحی الله الیهم هذا نور من نوری اسکنته فی سمائی و خلقته من عظمتی اخرجه من صلب نبی من انبیایی افضله علی جمیع الانبیا و اخرج من ذلک النور ائمه یقومون بامری و یهدون الی حقی و اجعلهم خلفایی فی ارضی بعد انقضاء وحیی. 

 اس مطلب کا ایک واضح نتیجہ ہے کہ  جناب زہرا ، باقی تمام انسانوں سے مکمل طور پر مختلف ہیں ، پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی بیویوں میں سے کوئی ایک بھی خدا کے نور عظمت سے خلق نہیں ہوئی ہیں ، فاطمہ زہرا (س) کے علاوہ کسی کے بارے میں نہیں ہے کہ وہ خدا کی عظمت کے نور سے خلق ہوا ہو ، دنیا میں خواتین میں کچھ خاص خواتین ہیں ، جیسے مریم بنت عمران ، آسیہ ، لیکن  اگرچہ دنیا کے خواتین میں یہ افراد کامل تھیں ، لیکن ان میں یہ خصوصیت نہیں پائی جاتی ہیں کہ خدا کے نور کی عظمت سے خلق ہوئے ہوں۔

 پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) حضرت صدیقہ کبری کا جو احترام اور اکرام کرتے تھے اس بارے میں سفینۃ البحار میں ایک روایت نقل ہے ( اسے ابوبکر نے نقل کیا ہے ) روایت یہ ہے : « إنّ فاطمة سلام الله عليها يوماً دخلت علي أبيها»  ایک دن حضرت زهرا ( س) کی خدمت میں شرفیاف ہوئی «فاستقبلها» پیغمبر اکرم (ص) اٹھ گئے اور ان کا استقبال کیا «و قبِّلَ يديها»  فاطمہ (س) کے دونوں ہاتھوں کو بوسہ دیا ، «ثم لمّا ودّعت و مشت» جب تشریف لے جارہی تھی تو «شيّعها النبي»  نبی مکرم (ص) ان کے ساتھ چند قدم خداحافظی کرنے چلے ، «و قبّل يديها»  پھر دوبارہ ان کے ہاتھوں کو چوما ، ابوبکر پیغمبر اکرم(ص) پر اعتراض کرتے ہوئے کہتا ہے ، «فقلت يا رسول الله ما رأيت مثل هذا في أحد من النساء»   یہ کام جو آپ یہاں کر رہے ہیں میں نے آپ کے گھر میں موجود خواتین میں سے کسی کے ساتھ ایسا کرتے ہوئے آپ کونہیں دیکھا ہے ، اور اعتراض کیا کہ کیوں آپ فاطمہ(س) کے ساتھ اس طرح کر رہے ہیں ؟ یا اس کا مراد یہ ہو کہ کوئی بھی اپنی بیٹی کے ساتھ ایسا نہیں کرتے ہیں! «و لا يناسب لمثلک!»  وہ اپنے غلط فکر کے مطابق پیغمبر اکرم (ص) کو نصیحت کرنا چاہتا تھا ؛ لہذا کہا : آپ کی شخصیت کے لئے ایسا مناسب نہیں ہے ، ایک بہت ہی مہم جملہ یہ ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا : «فقال ما فعلته إلا بأمر ربّي»میں نے جو کچھ انجام دیا ہے وہ خدا کے حکم سے ہی انجام دیا ہے خدا کے حکم کے علاوہ میں نے کوئی کام انجام نہیں دیا ہے ، پیغمبر اکرم (ص) نے حضرت فاطمہ (س) کی جو عزت و احترام اور تکریم کی تھی وہ صرف عاطفی لحاظ سے نہیں تھا ، باپ اور بیٹی ہونے کے لحاظ سے نہیں تھا ، اس لحاظ سے بھی نہیں تھا کہ حضرت فاطمہ (س) ایک مطہرہ اور طاہرہ مسلمان خاتون ہے ، بلکہ ان سب سے بڑھ کر کچھ اور وجہ تھی ، اور وہ خدا کے حکم سے ہی تھا ، پیغمبر جو کہ اشرف مخلوقات ہے ، اس شخصیت کے مقابلہ میں جو خدا کی نور عظمت سے خلق ہوئی ہے ، ایسا ہی رفتار کرنا چاہئے ، اور ان کی ایسی ہی عزت اور تکریم کرنی چاہئے ، اس کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اس بارے میں کچھ زیادہ غور وفکر کریں ، کہ فاطمہ زہرا(س) کیسی شخصیت تھیں ، ہمیں چاہئے کہ فاطمہ شناسی کے بارے میں زیادہ مطالعہ کریں ، حضرت زہرا کے بارے میں بہت ساری روایات نقل ہوئی ہیں ، اور ہر ایک روایت پر کتاب لکھی جا سکتی ہے ، ان ایام میں منابر سے  زیادہ سے زیادہ ان کی عظمت اور خداوند متعالی کے جو عنایت فرمایا ہے انہیں لوگوں کے لئے بیان کی جائے .

غصب فدک

 اس بارے میں دو مطلب ہے ، ایک مطلب یہ ہے کہ فدک غصب کرنے کا یہ تاریخی مسئلہ پیغمبر اکرم(ص) کی رحلت کے بعد ہے ، وہ فدک جو پیغمبر اکرم(ص) کے زمانہ میں 3 سال تک حضرت زہرا (س) کے ہاتھ میں تھا ، آپ(س) نے کچھ لوگوں کو وہاں پر کام کرنے کے لئے رکھا ہوا تھا ، اور آپ (س) کے ہاتھ میں تھا ، ایک حدیث کے ذریعہ جو جعل ہوا اور اس وقت تک پیغمبر اکرم (ص) کے کسی صحابی نے نہیں سنا تھا کہ «نحنُ معاشر الانبياء...»،  ہم پیغمبران اپنے بعد کسی چیز کو ارث کے طور پر نہیں چھوڑتے ہیں  اور «ما ترکناه صدقة»،   تاریخی اور حدیثی لحاظ سے اس حدیث پر بہت سارے اشکالات وارد ہے ، یہ حدیث ان احادیث میں سے ہے کہ جو قرآن کریم کے ساتھ بالکل مخالف ہے ، قرآن کی آیت کا صراحت کے ساتھ مخالف ہے ؛ میں ابھی اس بارے میں گفتگو کرنا نہیں چاہتا ہوں ، میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ پیغمبر اکرم (ص) کی یہ بیٹی جو  آپ(ص) کا مورد اکرام و احترام تھا ، خود ابوبکر نے اسے دیکھا ہوا تھا ، اور وہ خود اس حدیث کا راوی بھی ہے ، کہ پیغمبر اکرم (ص) نے ان (س) کے آتے وقت  ان کا استقبال کیا  اور ان کے ہاتھوں کو چوما اور جب تشریف لے جارہی تھی تو دوبارہ یہی عزت و احترا م کیا ، اور یہ فرمایا کہ میں اس کام کو خدا کے حکم سے انجام دے رہا ہوں ، ہمارا سوال یہ ہے کہ جب حضرت فاطمہ (س) نے فرمایا : فدک میرا ہے اور پیغمبر اکرم (ص) سے مجھے ملا ہے ، کیوں ابوبکر نے انہیں گواہ لانے کا بتایا ؟ یہاں پر بہت سارے سوالات ہیں ، فاطمہ (س) جو کہ نور عظمت خدا سے خلق ہوئی ہے ، جو پیغمبر اکرم (ص) کا مورد احترام تھا ، اور صدیقین میں سے تھیں ، اور خواتین میں سچائي میں آپ کا کوئي مثل نہیں ہے ، کیوں ان کی بات کو قبول نہیں کیا گیا ؟ کیوں انہیں گواہ لانے کا بتایا گیا ؟ کیوں پیغمبر اکرم (ص) کے ازواج جو آخر عمر تک حجروں میں بیٹھی رہیں اور بولے کہ یہ ہمارے ہیں ، کیوں ان پر اعتراض نہیں کیا گیا ، اور کیوں انہیں نکل جانے کا نہیں بتایا گیا ، کیونکہ پیغمبر اکرم (ص) نے کوئی ارث نہیں چھوڑا ہے ؟؟

اس مطلب کو بھی بیان کرو ں کہ شیعہ اور سنی فقہ کے مطابق ، مالی مسائل میں اگر ایک گواہ کے ساتھ قسم کھایا جائے ، تو دعوا ثابت ہوتا ہے، دعوا کرنے والا شخص خود کہتا ہے کہ یہ مال میرا ہے اور قسم کھاتا ہے اور ایک گواہ بھی لے آتا ہے ، امیر المومنین (ع) نے گواہی دی ، حسنین (ع) نے گواہی دئيے ، لیکن قبول نہیں کیے ، وہ امیر المومنین (ع) جن کے بارے میں  پیغمبر اکرم (ص) کے اصحاب نے سنا ہوا تھا «اقضاکم عليّ»   قضاوت میں امیر المومنین سے بہتر کوئی نہیں ہے ، امیر المومنین (ع) نے ابوبکر سے فرمایا : اگر کوئی مال مسلمانوں کے ہاتھوں میں ہو اور میں یہ دعوا کروں کہ یہ مال میرا ہے ، تو اس وقت تم مجھ سے دلیل طلب کرو گے یا اس شخص سے جس کے ہاتھ میں یہ مال ہے ؟ عرض کیا : میں آپ سے دلیل طلب کروں گا ، فرمایا : فدک فاطمہ کے ہاتھ میں ہے ، اور 3 سال سے ان کے اختیار میں ہے ، اور کچھ افراد حضرت زہرا (س) کی طرف سے وہاں پر کام پر لگائے ہوئے تھے ، جو شخص یہ کہتا ہے کہ یہ ان (س) کا نہیں ہے  منکر ہے ، اسے دلیل لانا چاہئے ، ابو بکر کوئی جواب نہیں دے سکا ! البتہ آخر میں ثابت ہو گیا کہ یہ حضرت زہرا (س) کا ہے اور لکھ بھی لیا ، لیکن دوسرے نے آکر اسے چھین کر پھاڑ دیا ۔

شهادت حضرت فاطمه(سلام الله علیها)

 ہمیں چاہئے کہ حضرت فاطمہ (سلام اللہ علیہا) کو پہچان لیں ، پیغمبر (ص) کے زمانہ میں آپ (ص) کے اصحاب نے فاطمہ (س) کو نہیں پہنچانا ، جس کی وجہ سے یہ ساری مصیبتیں اور پریشانیاں وجود میں آئي ، ان سب کی اصلی وجہ یہ تھی کہ حضرت زہرا(س) کو نہیں پہچانا تھا ، اگر انہیں پہچان چکے ہوتے تو اس طرح نہیں کرتے ۔

آپ(س) کی شہادت بھی ایک تاریخی مسلم بات ہے جس کے بارے میں کوئي شک و شبہہ نہیں ہے ، اگر اہل سنت مورخین کی کتابوں کا مطالعہ کریں ، تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی کتابوں میں متعدد بار حضرت زہرا (سلام اللہ علیہا) کی شہادت کے بارے میں نقل ہوا ہے ، مگر وہ لوگ جو دشمنی کرنا چاہتے ہیں اور انصاف کو چھوڑ دیتے ہیں یہ افراد اس مسلم تاریخی بات کا انکار کر سکتا ہے ، آئمہ معصومین(علیہم السلام) سے بھی روایات نقل ہے کہ " ان فاطمۃ صدیقۃ شہيدۃ" آئمہ (ع) کلمہ "صدیقہ" کے بارے میں بھی تاکید فرماتے تھے اور کلمہ " شہيدۃ" کے بارے میں بھی ، عایشہ سے نقل ہے : إنّ فاطمة کانت إذا دخلت علي رسول الله(ص) قام لها من مجلسه" عایشہ جو کہ پیغمبر اکرم (ص) کی بیوی ہے وہ کہتی ہے :میں دیکھتی تھی  کہ جب بھی فاطمہ آتی تھی یپغمبر آپ کے استقبال کے لئے کھڑے ہوتے تھے ،  «و قبّل رأسها و أجلسها مجلسه» او ر  ان کے سر کو چومتے تھے اور  انہیں اپنے جگہ پر بٹھاتے تھے ، یہ لوگ دیکھ چکے تھے کہ پیغمبر اکرم (ص) کتنا عزت و احترام کرتے ہیں ۔

 بعض روایات میں ہے کہ «خرج النبي(ص) و هو آخذٌ بيد فاطمة»   آنحضرت (ص) نے  فاطمہ (س) کے ہاتھ کو تھامے ہوئے تھے ، اور گھر سے باہر تشریف لائے ، « و قال: من عرف هذه، فقد عرفها و من لم يعرفها فهي فاطمة بنت محمد»  اور فرمایا جو بھی انہیں جانتے ہیں ، وہ جانتے ہی ہیں ؛ لیکن جو انہیں نہیں جانتے ، وہ جان لیں یہ میری بیٹی فاطمہ ہے « و هي بضعة منّي» میرے بدن کا ٹکڑا ہے ، « و هي قلبي و روحي التي بين جنبي»   میرا دل ہے ، میری روح ہے « فمن آذاها فقد آذاني و من آذاني فقد آذي الله»جس نے اسے اذیت کیا، اس نے مجھے اذیت کی ہے ، اور جس نے مجھے ا ذیت کی ، اس نے خدا کو اذیت کیا ہے ، کیوں پیغمبر اکرم (ص) اس مطلب کو بیان کرنے پر مصر تھے ؟

 پیغمبر اکرم (ص) پہلے فرما چکے تھے ، بعض نقل کے مطابق ہے کہ بعض مواقع پر جب آپ (ص) فاطمہ (س) کو دیکھتے ، تو آپ کی آنسو جاری ہوتے تھے ، بعض نے عرض کیے: یا رسول اللہ جب آپ فاطمہ کو دیکھتے ہیں تو کیوں آپ کی آنسو جاری ہوتی ہے ؟ آنحضرت (ص) فرماتے تھے : اس ظلم پر روتا ہوں جو میرے بعد اس بیٹی پر کی جائے گی ؛ اس حق کی وجہ سے روتا ہوں جو میرے بعد ان سے غصب کر کے لے جائے گا ، اس ہجوم کی وجہ سے روتا ہوں جو ان کے گھر کے دروازہ پر لے آئيں گے ، ان سب کو پیغمبر اکرم (ص) نے پہلے فرمایا ہوا تھا ؛ اسی وجہ سے بار بار فرماتے تھے :" من آذاها فمن آذاني". کیسے لوگوں نے ان مطالب کو فراموش کر دیا اور کہاں تک پہنچ گئے ؟ جب ہم اہل سنت کی کتابوں کی طرف مراجعہ کرتے ہیں ، تو یہ مطلب ملتا ہے ، کتاب الامامۃ والسیاسۃ میں لکھا ہے : «أرسل أبابکر، عمراً و قنفذاً و جماعةً إلي دار علي و فاطمة»  ابوبکر نے حکم دیا کہ عمر ، قنفذ اور کچھ دوسرے لوگ حضرت علی (ع) کی گھر کی طرف چلا جائے ، اس گھر کی طرف جس کے اہل خانہ کو ہر روز پیغمبر اکرم(ص) سلام کرتے تھے ، یپغمبر کا سلام ، خدا کا سلام ہے ، اس اہل خانہ پر حملہ کیا جس کے لئے خدا سلام کرتے تھے ، خود وہ افراد جنہوں نے پیغمبر کے منصب کو غصب کیا تھا سنا ہوا تھا کہ پیغمبر اکرم (ص) نے بار بار فرمایا ہوا تھا : جو بھی فاطمہ پر درود بھیجے ، خداوند اسے بہشت میں میرے ساتھ قرار دے گا ، یہ لوگ پیغمبر اکرم (ص) کے زحمتوں کا اجر دینا چاہتے تھے ، لہذا فاطمہ کے گھر کے دروازہ پر گئے ، تاریخ کے اس حصہ کو پڑھتے ہوئے انسان کو گھنٹوں رونا چاہئے ، پیغمبر اکرم (ص) کا گھر ، فاطمہ (س) کا گھر ، اہل بیت کا گھر ، لوگوں کو اس گھر کے بارے میں کیا چیزیں یاد نہیں ہے ؟ لیکن ابوبکر نے عمر ، قنفذ اور بعض دوسرے افراد کو اس گھر پر ہجوم لے جانے کے لئے بیھجا « و جمع عمر الحطب علي دار فاطمة»  عمر نے حضرت فاطمہ (س) کے گھر کے اطراف میں لکڑیاں جمع کر لی « و أحرق بابها» اور گھر کے دروازہ کو جلا دیا ، « و لمّا جاءت فاطمة خلف الباب»  جب فاطمہ (سلام اللہ علیہا) نے دیکھا کہ گھر کے دروازہ کو جلایا جا رہا ہے ، تو دروازہ کے پیچھے آئی «تعدّ عمر و أصحابه و أثر عمر فاطمة خلف الباب»  عمر کو پتہ چل گیا کہ حضرت زہرا(س) دروازہ کے پیچھے ہے ، اس نے دروازہ کو زور دیا «حتّي أسقطت جنينها و نقط مثمار الباب في صدرها و سقطت مريضةً حتي ماتت». پیغمبر اکرم (ص) کے وفات کے مختصر ایام کے بعد ہی یہ واقعہ پیش آیا اور یہی آپ(سلام اللہ علیہا) کی شہادت کا سبب بنا  «و سيعلم الذين ظلموا أيّ منقلب ينقلبون».