pic
pic

اسلام کی آبياری اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کے لئے میدان ہموار کرنے میں حضرت ابوطالب کا بہت بڑا کردار ہے۔

  • تاریخ 16 January 2021
  • ٹائم 00:47
  • پرنٹ
خبر کا خلاصہ :

حضرت ابوطالب (ع) کے نام پر برگزار ہونے والے بین الاقوامی سیمنار کے ذمہ داروں سے حضرت آيت اللہ فاضل لنکرانی (دامت برکاتہ) کا خطاب

بسم الله الرّحمن الرّحيم
الحمدلله رب العالمين و صلي الله علي سيدنا محمد و آله الطاهرين


حضرت زهرا(سلام الله علیها)  کی شہادت کے ایام کی مناسبت سے حضرت امام زمان(عج)  اور آپ بزرگواروں کی  خدمت میں تسلیت عرض  کرتا ہوں ۔

مجمع جہانی اہل بیت (ع) نے  اسلامی دنیا  اور جہان بشریت کے لئے حضرت ابوطالب(ع) کو پہچنوانے   کے لئے جو قدم اٹھایا ہے مناسب اور بہتر  اقدام ہے ،اس اقدام کے چندپہلو ہیں ، سب سے اہم پہلو وہ ارتباط ہے جو خود پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے ساتھ پیدا کرتاہے ، ہم دیکھتے ہیں کہ بعض تحریروں اور تحقیقات میں حتی کہ خود اہل سنت کے مورخین کے اعتراف کے مطابق ابوطالب کے ایمان کا انکار کرتے ہیں تا کہ  امیر المومنین(علیہ السلام) کی کرامت ، شرافت اور درجات کو کم کیا جائے ، ان کا یہ کام درحقیقت خود پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اہانت ہے ۔

حضرت ابوطالب وہ شخصیت ہے جن کے گھر اور دامن میں ہی  پیغمبر اکرم (ص)  بڑے ہوئے اور انہوں نے ہی آپ(ص) کی تربیت کی ، ابوطالب کے وفات کے موقع پر آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )  نے جو فرمایا فیا حزناه» یہ آپ (ص) کے  بہت زیادہ اظہار افسوس  کو بیان کرتا ہے ، جس سے  حضرت ابوطالب کا ایمان بھی واضح ہوتا ہے ، چونکہ ممکن نہیں ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) کسی مشرک انسان کے فوت ہونے پر اس طرح افسوس  کرے ، اسی طرح آپ (ص) کے وہ جملات کہ " جب میں چھوٹا تھا اس نے مجھے بڑا کیا ، اور میری تربیت کی ، اور جب میں بڑا ہوا تو انہوں نے ہی میری بات سن لی ، پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے ان جملات کو خود اہل سنت نے نقل کیا ہے  کہ فرمایا : «یَا مَن رَبَّیتَنی صَغیراً و أجَبتَنِی کَبیراً» جب میں بڑا ہوا تو انہوں نے میری دعوت کو قبول کیا ۔

 اس گفتگو میں ہمارا اصلی محور یہ ہونا چاہئے کہ مسلمانوں کو چاہئے  پیغمبر اکرم (ص) کے تاریخ سے ہر لحاظ سے واضح ، دقیق اور شفاف طریقہ سے آگاہ رہیں ، کہ آپ (ص) کا ماں  باپ  کون تھے ، کس گھر میں آپ (ص) بڑے ہوئے اور آپ (ص) کی تربیت میں کونسی شخصیات  موثر تھے ؟۔

 حضرت ابوطالب (ع) کے بارے میں دوسرا مطلب یہ ہے کہ جب ہم اہل بیت (‏ع) کی سیرت کا مطالعہ  کرتے ہیں ، تو یہ واضح ہوتا ہے کہ اہل بیت (‏ع) نہ صرف اعتقادات ، احکام اور اخلاق میں لوگوں کے مرجع ہیں   بلکہ اسلام کی صحیح تاریخ  کی حفاظت کے لئے بھی انہی حضرات کی طرف مراجعہ کرنا چاہئے ۔

 جب تاریخ اسلام کے کسی مطالب کے بارے میں ان سے سوال کرتے تو بہت ہی دقیق اور سب سے زیادہ صحیح تاريخ کو بیان کرتے تھے ، امام سجاد (علیہ السلام) سے عرض کیا جاتا ہے  ؛ اہل سنت کے کچھ لوگ کہتے ہیں ابوطالب کافر دنیا سے چلا گیا ہے ، آپ(علیہ السلام) فرماتے ہیں : ان لوگوں نے کیا قرآن کریم کی ان آیات کو نہیں دیکھا ہے ؟ قرآن فرماتا ہے : اگر ایک عورت مسلمان ہو جائے اور اس کا شوہر  اپنے کفر پر باقی رہے ،تو  ان دونوں کے درمیان میاں بیوی کا رشتہ ٹوٹ جاتا ہے اور یہ عورت اپنے اس شوہر کےساتھ نہیں رہ سکتی ، امیر المومنین (علیہ السلام) کی والدہ ماجدہ کے بارے میں سب کا اتفاق ہےکہ مسلمان تھیں ، کیسے ہو سکتا ہے کہ یہ خاتون آخر عمر تک ابوطالب کی زوجہ کے عنوان سے ان کے ساتھ زندگی گزارے ؟ لہذا یہ لوگ جو بات کرتے ہیں وہ قرآن کریم کی آیات کے برخلاف ہے ۔

اہل بیت (ع) کے بارے میں جن موضوعات پر گفتگو کرنی کی ضرورت ہے ان میں سے ایک موضوع " اہل بیت (ع) کی نظر میں  تاریخ اسلام کا صحیح مطالعہ " ہے ، اور مجمع جہانی اہلبیت اس کام کو کرنے کا سزاوار ہے ، خود اسی سیمنار میں اگر اس پہلو سے بات کی جائے کہ اہل بیت (ع) تاریخ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں ، اور تاريخ کے بارے میں کیا مطالب بیان کر چکے ہیں ، میری نظر میں  تاريخ میں ایک بہت بڑا علمی دروازہ کھل جائے گا ۔

بہر حال پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ابوطالب کے بارے میں خاص توجہ رکھتے تھے، اسی طرح امیر المومنین (علیہ السلام) بھی خاص عنایت رکھتے تھے ، باپ ہونا اپنی جگہ لیکن پیغمبر اکرم (ص) سے دفاع اور اسلام کے رشد میں  حضرت ابو طالب کا موثر ہونا ، امیر المومنین اور اہل بیت (علیہم السلام) کے انظار میں بہت اہم تھے ، وہ تمام افراد جو واقعی طور پر تحقیق کرنے کے لئے اس میدان میں اتر تے ہیں  ان کے لئے حضرت ابوطالب کا ایمان ایک مسلم اور قطعی بات ہے ، اگر حضرت ابوطالب کے  بارے میں تحقیق ہی کرنا ہے تو ان کے  مکارم اخلاق اور دوسری صفات حسنہ کے بارے میں تحقیق کرنا چاہئے ۔

حضرت  ابوطالب  کے ایمان کے منکرین سے ہم یہ سوال کرتے ہیں کہ  کس چیز نے ان کے اندر یہ انگیزہ پیدا کیا تھا کہ ہمیشہ پیغمبر اکرم (ص) کی حمایت کرے؟ اس طرح حمایت کی ، کہ جب ان کی رحلت ہوئی تو پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا کہ جب تک ابوطالب زندہ تھے قریش مجھے آزار و اذیت نہیں دےسکے ، حتی کہ جب شعب ابی طالب کا وہ واقعہ پیش آیا ، کہ عام عوام شاید اس واقعہ کے بارے میں کچھ نہیں جانتے ہوں ،  امیر المومنین (ع) کی فداکاری  کو شاید صرف لیلۃ المبیت میں پیغمبر اکرم(ص) کے بستر پر سونا جانتے ہوں ، درحالیکہ تاریخ میں ثبت ہے کہ شعب ابی طالب میں ، حضرت ابو طالب ہر رات پیغمبر اکرم(ص) کے جگہ کو بدلتے تھے اور امیر المومنین (ع) کو آنحضرت (ص) کے جگہ پر سلاتے تھے ، تا کہ قریش کو معلوم نہ ہو جائے کہ پیغمبر اکرم (ص) کہاں استراحت فرماتے ہیں کہ کہیں ان پر حملہ نہ کرے ۔

 اس حد تک ان کی حفاظت کرنا صرف عبد المطلب کی وصیت پر عمل کرنے کے لئے تھا ؟ یا خداوند متعالی کی طرف سے خاص عنایت اور الہام حضرت ابو طالب پر ہوا تھا کہ وہ تاریخ کے اس عظیم شخصیت کو درک کر سکے اور اپنی  تمام وجود سے پیغمبر اکرم (ص) کی حفاظت کرے ۔

بہرحال ایمان ابو طالب  ایک مسلم بات ہے جس کے بارے میں بحث و گفتگو کی ضرورت نہیں ہے ،  اسلام کی آبیاری اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم ) کی رسالت کے لئے میدان ہموار کرنے میں حضرت ابو طالب کا  بہت بڑا کردار ہے ، او رابھی تک بہت ساری کتابیں لکھنے   اور تحقیقات کے باوجود مختلف پہلو ابھی تک  پوشیدہ  ہیں ، خود شعب ابی طالب کا واقعہ کہ پیغمبر اکرم (ص) کی زندگی  کے اہم موڑ میں سے ایک ہے ، یہ آج ہمارے لئے بھی درس ہے ، حضرت ابو طالب کا اسلام اور خود پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی ذات سے جو دفاع کیا گیا ہے وہ واضح ہونا چاہئے اور وہ ہم سب کے لئے ایک آئیڈل قرار پائے انشاء اللہ ۔

میں  بھی آپ کے اس عظیم کام پر شکریہ ادا کرتا ہوں کہ مجمع جہانی اہل بیت (‏ع) ہمت کر کےاسلامی دنیا  کے بزرگوں سے حضرت ابو طالب کی شخصیت کے مختلف پہلووں کے بیان کرنے میں مدد لے لیں ، اور آپ کا یہ کام قابل تقدیر و تشکر ہے کیونکہ ابوطالب کی شخصیت اسلام کے ابتدائی بنیاد سے مربوط ہے ، دنیا اسلام چاہئے شیعہ ہو یا سنی اور دوسرے تمام مذاہب کو اس بارے میں میدان میں آنا چاہئے اور تاریخ کے اس حصہ کو بہت ہی واضح طور پر تحقیق کر کے جامعہ بشری کے حوالہ کرے ۔

خداوند متعالی سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اپنی رحمت کے  دروازوں کو آپ کے لئے کھول دے تا کہ آپ ایک پروقار سمینار برگزار کر سکے اور اسلامی دنیا کے لئے جدید ، تحقیقی مطالب پیش کر سکے ۔

والسلام علیکم و رحمة‌الله و برکاته