pic
pic

طول تاریخ میں شیعوں پر بہت زیادہ ظلم و بربریت ہوا ہے اور حق تلفی ہوتے رہے ہیں

  • تاریخ 16 January 2021
  • ٹائم 01:19
  • پرنٹ
خبر کا خلاصہ :
حضرت آیت اللہ فاضل لنکرانی (دامت برکاتہ) نے آچ اپنے درس خارج میں پاکستان میں شیعوں کے قتل عام کی شدید الفاظ میں مذمت کیا

 رسا  نیوز  رپوٹر کے مطابق مرکز فقہی آئمہ اطہار(ع) کے رئيس حضرت آیت اللہ محمد جواد فاضل لنکرانی (دامت برکاتہ) نے آج اپنے اصول کے درس خارج میں پاکستان کے شیعوں کی قتل عام کی پرزور مذمت کرتے ہوئے اظہار فرمایا : طول تاریخ میں شیعوں پر بہت ظلم و ستم ہوئے ہیں اور ان کے حقوق کو چھینا گیا ہے ۔

انہوں نے اپنے بیان میں فرمایا : اس طرح کے سفاکانہ قتل نے تمام شیعوں، مسلمانوں اور تمام انسانوں کے دلوں کو مجروح کیا ہے ، ہم اس سلسلے میں حکومت پاکستان سے اپنے شدید اعتراضات کا اعلان کرتے ہیں ۔

آيت اللہ فاضل لنکرانی نے مزید فرمایا : پاکستان کے شیعیان اور ان شہداء کے لواحقین ہمیں اپنے غم میں برابر کے شریک سمجھیں ، کسی بے گناہ انسان کے خون بہانے کو اسلام اور عقل کسی بھی صورت میں قبول نہیں کرتا ہے ۔

جامعہ مدرسین  حوزہ علمیہ قم کے رکن نے پاکستان کے حکومت پر شدید انتقاد کرتے ہوئے حکومت کے ذمہ داروں کو اس بارے میں متوجہ کراتے ہوئے فرمایا : کسی مومن انسان کے ناحق  قتل ہونے پر خداوند تبارک و تعالی غضب ناک ہوتا ہے ۔

حوزہ علمیہ کے درس خارج کے استاد نے مزید فرمایا : دنیا کی حکومتوں کو چاہئے کہ  عقل ، انسانیت اور الہی ادیان کے خلاف ہونے والے ایسے کاموں سے روکے ؛ تمام انسان حتی کہ غیر الہی مذاہب بھی اس طرح کے قتل و غارت کی  اجازت نہیں دیتا ۔

مرکز فقہی آئمہ اطہار(ع) کے رئيس کا مزید کہنا تھا : تاریخ  کے اوراق شیعوں پر ہونے والے ظلم و ستم سے پر ہیں ، جی ہاں! طول تاریخ میں شیعوں پر اس طرح کے ظلم و ستم اور  حق تلفی ہوتے رہے ہیں اور آخر تک ایسا ہوتا رہے گا ، اور ہم جانتے ہیں حق کے راستہ میں ہمیشہ اس طرح کی پریشانیاں اور مشکلات تھے اور ہوتے رہیں گے ، لیکن اس میں حکومت پاکستان کی بہت بڑی کوتاہی بھی ہے ، ہم حوزہ علمیہ کے شیعہ طلاب اس کام کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور ہمارا مطالبہ ہے کہ ان قاتلوں کو جلد از جلد بے نقاب کر کے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے ۔