عصر حاضر میں انسان کی بنیادی مشکل دین پر توجہ نہ دینا ہے

16 April 2024

21:22

۱۴۲

خبر کا خلاصہ :
تم اپنی تمام تر توجہ کو دین قرار دے دو اور توجہ کو اسی پر مرکوز رکھو ، کیوں ؟کیونکہ یہ دین ، دین حنیف ہے لہذا تمام توجہ اسی کی طرف ہونا چاہئے ۔
آخرین رویداد ها

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحيمْ
الْحَمْدُ للّه رَبِّ الْعَالَمِينْ وَصَلَى الله عَلَىٰ سَيِّدَنَا مُحَمَّدٍ وَآلِهِ الطَّاهِرِينْ


میں اپنی گفتگو کو سورہ مبارکہ روم کی آیت 30 سے شروع کرتا ہوں کہ خداوند متعالی  اس میں فرماتا ہے : «فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ».

اس آیت کریمہ میں دین کی بنیادی چیزوں کو بیان فرمایا ہے ، خداوند متعالی نے  پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله وسلم ) پر ایک بہت  بڑی ذمہ داری عايد کی ہے اور وہ یہ ہے کہ «أقم وجهک للدین» اپنے چہرہ کو  دین کی طرف کر لو، یعنی آپ کی پوری توجہ دین پر ہونا چاہئے ، ایک دفعہ یوں بتایا جاتا ہے :«انظر إلی الدین» یعنی دین کی طرف دیکھ لو یا کہا جاتا ہے :«واعطف وجهک إلی الدین»،اپنے چہرہ کو دین کی طرف کر لو ، لیکن یہاں پر اس آیت کریمہ میں خداوند متعالی فرما رہا ہے : «أقم وجهک للدین»، قائم کرنے کا حکم ہے اور وہ بھی کامل اور احسن طریقے سے ، چونکہ ہر چیز کا قائم ہونا ، اس کے تمام جزئیات ،خصوصیات اور تمام پہلووں کے ساتھ ہی ہے ، دین کی طرف چہرہ کا قائم کرنا یعنی دین کی تمام جوانب اور پہلووں کی جانب اپنی توجہ کو مرکوزرکھو ، سورہ شوری میں دین کے قائم کرنے اور اس آيت میں دین کی طرف چہرہ کو قائم رکھنا بیان کیا ہے ۔

آیت کریمہ کا عام فہم معنی یہی ہے کہ تم اپنی تمام تر توجہ کو دین قرار دے دو اور اسی پر مرکوز رکھو ، کیوں ؟ آیت کریمہ کی بعد والی جملات اس کی  علت کو بیان کر رہا ہے ، چونکہ یہ دین ، دین حنیف ہے لہذا تمام توجہ اسی کی طرف ہونا چاہئے ۔

یہ ذمہ داری پیغمبر (ص) کا بھی ہے اور ہم سب کا بھی ، یہ صرف پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله وسلم ) کے خصوصی ذمہ داریوں میں سے نہیں ہے ، یہ دین حنیف ہے ، حنیف یعنی اس میں تمام چیزیں حق ہے ، اس دین میں حق کے علاوہ کچھ اور دیکھا ہی نہیں سکتا ، سب کے سب حق ہے اور اس میں باطل کے لئے کوئی راستہ نہیں ہے ، اس دین میں کوئی تاریکی نہیں ہے ، سب نور ہی نور ہے ، یعنی اس کے اعتقادات، احکام، اخلاق ، سیاست سب کے سب حق ہے اور نور ہے ۔

حنیف کے عنوان سے ہم دین کی جامعیت کو استفادہ کر سکتے ہیں ، یعنی آپ کوئی ایسی مورد کو پیدا نہیں کر سکتا جس کے بارے میں دین سے خاموشی اختیار کیا ہو ، اگر کسی چیز کے بارے میں دین نے  کچھ نہیں کہا ہو تو وہ نہ حق ہوگا اور نہ ہی باطل، لیکن جب ہم کہتے ہیں دین حق ہے ، یعنی دین ہر چیز کے بارے میں بیان کرتا ہےاور ہر جگہ راستہ دیکھاتا ہے ۔

عصر حاضر میں انسانیت کی بنیادی مشکل ، دین پر توجہ نہ دینا ہے ، اس وقت وہ لوگ جو دنیا اور تمام انسانوں کو دھوکہ پر لگے ہوئے ہیں ان کے پلید اہداف یہ ہے کہ دین کو معاشرہ سے ختم کر دے ۔

اس عظیم انقلاب اسلامی کی بنیادی بات یہی ہے کہ دین کو قائم کرنا چاہتا ہے ، ہم چاہتے ہیں کہ اس نظام کے سایہ میں دین معاشرہ میں قائم ہو، ہم چاہتے ہیں کہ عوام کو دین کے بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی حاصل ہو ، ہم چاہتے ہیں کہ لوگ دین کے سایہ میں کمال تک پہنچ جائے ، انسان کا عقل دین کے بغیر کمال اور تکامل تک نہیں پہنچ سکتا ، البتہ وہ دین جو حنیف ہو ، وہ دین جو قرآن کریم کے تعبیر کے مطابق سارا کا سارا حق ہو ، وہ دین جو ہمیں زندگی کرنا سیکھاتا ہو ، کھانے ، پینے ، پہننے ، راستہ چلنے ، سونے ، دیکھنے ، اجتماعی زندگی میں معاشرت کرنے ، خاندان اور حکومت میں زندگی کرنے کے طور و طرز کو بیان کرے ، ان سب جگہوں کے بارے میں دین کا اپنا نظریہ ہے اور وہ حق بھی ہے ، بہت ہی باریک بین مطالب کو بیان کرتا ہے ، حقیقت یہ ہے کہ عقل کہتا ہے ایسے چراغ کے بغیر انسان تکامل تک نہیں پہنچ سکتا ، روایات کی تعبیر کے مطابق صراط ہے جو بشریت کو راستہ دیکھاتا ہے ، اور اس کے بغیر بشریت زندگی میں صحیح راستہ کو پیدا نہیں کر سکتا ، اس مطلب کو ہمیں خود بھی زیادہ سے زیادہ سمجھنے کی ضرورت ہے اور ہمارے معاشرہ کو بھی اس کی اشد ضرورت ہے ، انسان کے تمام کاموں میں حاکم دین کو ہونا چاہئے ۔

اسی آیت میں خداوند متعالی فرماتا ہے : «أقم وجهک للدین حنیفاً‌» اس کے بعد فرماتا ہے کہ یہ دین حنیف کہ وہی دین اسلام ہے تمہاری فطرت کے مطابق ہے ، کہ «‌کل مولودٍ یولد علی الفطرة‌»، یعنی جو فطرت میرا اور آپ کا ہے اس کی شکوفايي اور ترقی کا راستہ دین ہے ، انسان صرف فطرت اور عقل کے ذریعہ کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتا ، البتہ بعض لوگ یہ ادعا کرتے ہیں کہ خداوند متعالی نے ہمیں فطرت اور عقل دیا ہے لہذا ہم خود اچھائی اور برائی کی تشخیص کر سکتے ہیں اور اپنے راستہ کو پیدا کر سکتے ہیں ، یہ لوگ اس چیز سے غافل ہیں بشر کی فطرت اور عقل دین کے محتاجمند ہے  «‌لا تبدیل لخلق الله»، انسان کی فطرت تبدیل نہیں ہو سکتا ، ہر انسان کمال کے پیچھے ہے ۔

ان چیزوں کو بیان کرنے کے بعد فرماتا ہے  «‌ذلک الدین القیّم» یہی دین قیم ہے ۔

بعض تفاسیر اور تراجم میں قیم کو استوار اور پایدار معنی کیا ہے ، یعنی ماندگار دین ، لیکن قیم کا معنی متولی اور سرپرست ہے ، یعنی خداوند فرماتا ہے وہ دین جو انسان کی سرپرستی کر سکتا ہے یہی دین ہے ، ایسا دین جو کہ حنیف ہے جو کچھ کہتا ہے حق ہے، اگر کسی چیز کے حلال ہونے کے بارے میں بتايا ہے تو حق ہے ، اور اگر کہا ہے فلان چیز حرام ہے تو وہ بھی حق ہے ، یہ واجب وہ مستحب اور وہ مباح ہے ، یہ سب کے سب حق ہے ، وہ دین جو کہ حنیف ہو اور انسان کے فطرت کے مطابق ہو اسے ہی انسانوں پر حکومت کرنے کا حق ہے اور وہی سرپرستی کرے گا ۔

یہ آیت کریمہ دین اور حکومت کی امتزاج کے دلائل میں سے ایک دلیل ہے ، اس دلیل میں قیاس کی ضرورت نہیں کیونکہ دلیل کے ساتھ ہی ہے ، جب ایک دین پورا کا پورا حق ہو ، تو یقینا اس کے احکام جاری ہونا چاہئے ، جس طرح ایک ڈاکٹر جب وہ مریض کے مرض کو صحیح طرح جان لیتا ہے اور وہ جو بھی دوائي دیتا ہے شفا بخش ہوتا ہے تو سب یہی کہتے ہیں کہ اس  ڈاکٹر کے پاس جانا چاہئے ، سب اس ڈاکٹر کو اپنی سلامتی کا ضامن سمجھتا ہے ، اسی طرح وہ دین جو پورا کا پورا حق ہو اسی کو انسان کا قیم ہونا چاہئے ، وہی انسان کو بتائے گا کہ کیسے عبادت کرنا ہے ، کیا اعتقاد رکھنا ہے ، کیا چیز حلال ہے اور کیا چیز حرام ہے ، نکاح، لین دین ، طلاق اور اجارہ ۔۔۔۔۔ کیسے ہونا چاہئے ۔

ہمارا فقہ اسی دین حق کا دیا ہوا ہے ، یہ فقہ جس پر ہم اتنا زیادہ تاکید کرتے ہیں اور یہ مقدس نظام اسی کی بنیاد پر وجود میں آیا ہے ، اسی دین حنیف کا پیدا کردہ ہے ، اس دین کو حکومت کرنا چاہئے ، انقلاب اسلامی کی برکت سے حوزات علمیہ میں  دین کا یہ مہمہ اور بنیادی گفتگو  معاشرہ میں ہونے لگے ہیں ۔

اس وقت یہ سوال کہ کیا دین میں حکومت ہے  یا نہیں ، بہت ہی فضول سوال ہے ، کیونکہ یہ ان چیزوں میں سے ہے جس کا جواب بہت ہی واضح ہے، دین کو ہی حکومت کرنا چاہئے ، امام خمینی (رضوان اللہ تعالی عليہ) کا ادعا ہی قرآن کریم کی متعدد آیات کی بنیاد پر یہ تھا کہ دین کی بنیاد ہی حکومت ہے ، دین کی بنیاد ولایت ہے ، اور تمام چیزیں ولایت کے زیر سایہ اور ولایت  کے مجموعہ کا اجزاء ہے ، میری نظر میں اگر کوئی طالب علم یا ایک مسلمان انسان اس مطلب کی طرف توجہ نہ کرے یا اسے قبول نہ کرے ، تو وہ یقینا دین کی حقیقت سے  کوسوں دور ہے ۔

تعلیمی سال کی ابتداء میں بندہ کا عرض یہ ہے کہ حوزات علمیہ اس لئے تشکیل پایا ہے کہ دین کو سمجھے اور سمجھائے ،دین تک پہنچ جائے اور لوگوں کو دین بیان کرے ، اس کےلئے ہماری اور کوئی ذمہ داری ہے ہی نہیں ، یہی بشریت کی بہت بڑی  خدمت ہے ، حوزات علمیہ کی خدمت یہ ہے کہ صحیح دین کو بشریت کے لئے پیش کرتا ہے ، جب ہم صحیح دین کو محکم اجتہاد کے ذریعہ اور اجتہادی فہم کے ذریعہ (کہ بہت دفعہ بتا چکا ہوں ایک حدیث یا ایک آیہ کے مطالعہ سے کوئی دین شناس نہیں ہوتا )سمجھ جائے ، جب  ہمارے پاس اجتہادی فہم ہو اس وقت دین کو صحیح طریقہ سے اس کے منابع سے نکال لیتے ہیں ، اور اسے بشریت  کے سامنے رکھ سکتے ہیں ، حوزات علمیہ کا اصلی اور بنیادی ہدف  دین اور لوگوں کی خدمت کرنا ہے ، ہمیں چاہئے کہ لوگوں کے لئے دین کو بیان کرے ، کہیں ایسا نہ ہو کہ کچھ ایسے لوگ سامنے آجائے جو دین کو اس کے صحیح راستہ سے جدا کر لے ، افسوس کی بات ہےآجکل  لوگوں کو دین سے جدا کرنے کے اسباب بہت زیادہ ہوا ہے ، یہ جتنا بھی زیادہ ہوتا جائے ہماری ذمہ داری بڑھ جاتی ہے ، ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ زیادہ سے زیادہ درس پڑھے کبھی سوشل میڈیا پر کوئی طلبہ غلط بات کر لیتا ہے کہ کوئی بھی سمجھدار عالم ایسا نہیں بتا سکتا ،  بعد میں یہی غلط بات لوگوں اور جوانوں کے ذہن میں بہت سارے شکوک و شبہات پیدا کر لیتا ہے ۔

دین کے واضح واجبات میں سے ایک  خمس ہے ،اب اگر کوئي طلبہ منبر سے یہ بتائيں کہ لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ ہماری احتیاجات کو پورا کریں ، پہلی بات تو یہ ہے کہ کیا خمس صرف حوزات علمیہ کے لئے ہے ؟ خمس ان جگہوں پر خرچ ہونا چاہئے جہاں پر امام زمان (علیہ السلام) کی رضایت ہو اور حوزات زیادہ سزاوار ہے ، یہ بات ایسی ہی ہے کہ بیٹا جو اپنے باپ کا واجب النفقہ ہے باپ کو بتا دیں کہ تم پر واجب ہے میری ضروریات کو دے دیں ، اس طرح کا بیان بہت ہی غلط بیان ہے ، ٹھیک ہے اس پر دینا واجب ہے لیکن تمہیں اس کے مطالبہ کرنے کا حق نہیں ہے ، احکام کو اس طرح بیان کرنے کا نقصان بہت زیادہ ہے ۔

بہت ہی نازک زمانہ ہے ، ہمیں چاہئے کہ بات کرتے ہوئے احتیاط کریں ، سب سے پہلے تو یہ دیکھا جائے کہ جو بات ہم کرتےہیں وہ دین کے مطابق ہے یا نہیں ؟ اگر دین کے ساتھ مطابقت رکھنے میں شک ہو تو اسے بیان ہی نہ کرے ، اگر واضح دلیل ہے تو اسے دلیل  کے ساتھ بیان کرے ، دین کو لوگوں کی نظروں میں حقیر مت کرے ، دین کو عظمت کو نیچے نہ لائے ۔

مشکل بات یہ ہے کہ کچھ لوگ روشن فکری کے نام پر دین کو بہت نيچے لے آتے ہیں اور اسے ایک بی اہمیت چیز بنا دیتے ہیں ، بس صرف انسان کی شخصی تربیت کے لئے بہت ہی مختصر خاصیت رکھتا ہے ، دوسری طرف سے ایک گروہ دین کو بہت ہی سخت چیز بنا کر پیش کرتے ہیں ان کے مقابلہ میں کچھ لوگ عرفانی مسلک ہو جاتے ہیں اور خداوند متعالی کی رحمت کا بہت زیادہ چرچا کرتے ہیں کہ خدا کی عذاب ہی انسان کی ذہن سے نکل جائے ، یہ سب کے سب تحریف ہے اور دین کو نقصان پہنچاتا ہے ۔

ہمیں چاہئے کہ دین کو صحیح طرح سمجھیں ، اور اسے صحیح بیان کریں نہ اس میں کوئی چیز کم کرے اور نہ ہی زیادہ، دین پورا کا پورا منطق اور دلیل کی بنیاد پر ہے ، فرماتاہے : «فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا» دین اسلام کی معرف صرف مکتب اہل بیت (علیہم السلام) ہے ، اس کے تمام احکامات انسان کی فطرت کے مطابق ہے، حتی کہ حجاب اور پردہ کرنا ، کیا چيز کھانا حلال  ہے اور کیا چیز حرام ہے ، یہ بھی انسان کی فطرت کے مطابق ہے ، جو لوگ اسلام اور مکتب اہل بیت سے مقابلہ کرتے ہیں درحقیقت یہ لوگ  بشریت کو اس کی فطرت سے دور کرنا چاہتے ہیں ۔

تمام چیزوں کو جیسا کہ خدا نے بیان کیا ہے ایسا کہ سمجھيں اور ایسا ہی بیان کریں ، «تلک حدود الله»،

خداوند متعالی فرماتا ہے میرے پاس  رحمت بھی ہے اور غضب بھی ، لیکن میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے ، ہمیں یہ حق نہیں ہے کہ ایک طرف کو لے لیں اور دوسری طرف کو چھوڑ دیں !، جس طرح بعض لوگ دین کو اتنا زیادہ سیاسی کرتا ہے کہ گويا دین میں اخلاق ہے ہی نہیں ،دین سے صرف قدرت و طاقت ، خشونت اور آجکل کی سیاست ہی دیکھاتے ہیں ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ دین اسلام  ایک جامع دین ہے ، اس میں سب چیزیں ہے، آئيں ہم دین کو صحیح طرح سمجھیں اور صحیح بیان کریں ، یہی دین کی سب سے بڑی خدمت ہے ، ہمارے زمانہ میں سب سے  بڑی عبادت دین شناسی اور صحیح دین کو بشریت کو بیان کرنا ہے کہ واقعا عوام دین فہمی کے پیاسے ہیں ۔

والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته

برچسب ها :