حضرت رقیہ بنت الحسین علیہما السلام کے بارے میں ایک تحقیقی گفتگو اور ایک تحقیقی مقاله

16 April 2024

21:36

۸,۷۹۱

خبر کا خلاصہ :
آخرین رویداد ها


حضرت رقیہ بنت الحسین علیہما السلام کے بارے میں ایک تحقیقی گفتگو اور ایک تحقیقی مقاله

بسمه تعالی

حضرت رقیہ بنت الحسین علیہما السلام کے بارے میں ایک تحقیقی گفتگو

خطیب توانا جناب حجة الاسلام والمسلین نظری منفرد کا حضرت آیت اللہ العظمی فاضل لنکرانی (رضوان الله تعالی علیه) کے گھر میں تقریر

باقی وقت میں میں حضرت رقیہ (س) کے بارے میں کچھ مطالب بیان کروں گا، افسوس ہے کہ اس مدت میں ریڈیو اور ٹی وی سے کچھ مطالب بیان ہوئے جن کے اچھے اثرات نہیں تھے ۔

لوگوں کے ساتھ ملاقات اور ٹلفیون کے ذریعہ جو باتیں ہوئیں او رانہوں نے جو سوالات کیے ان سے واضح ہوا کہ لوگوں کے ذہنوں پر غلط اثرات مترتب ہوئے ہیں ۔

یہ واضح رہے کہ ہمارے اسلاف سے جو مطالب ہم تک پہنچتے ہیں وہ کبھی فقہ کے بارے میں ہے جن میں کسی کام کو انجام دینے یا انجام نہ دینے کے بارے میں کہا گیا ہے ، ان کے بارے میں ہمارے فقہاء عظام نے بہت تکلیفیں برداشت کی ہیں اور ان کے بارے میں موجود روایات ،ان روایات کے سند ، ان کے عام او رخاص اور ان کے تعارض کے موارد کے بارے میں اچھی طرح تحقیق کرتے ہیں ،یہ سب اس لئے کہ یہ حضرات لوگوں کو کسی کام کے انجام دینے کے بارے میں اور کسی کام سے نہی کرنے کے بارے میں حکم کرتے ہیں ، لہذا اس کے لئے بہت ہی بنیادی اور دقیق طریقہ سے کام کرنے کی ضرورت ہے اور ایسا ہی انجام پایا ہے ۔

اس کے علاوہ دوسرے قسم کے امور جو ہمارے اسلاف سے ہم تک پہنچے ہیں وہ اخلاقی مسائل ہیں ، یہ جو اخلاقی روایات جو ہم پڑھتے ہیں کوئی ان کے سند کے بارے میں تحقیق نہیں کرتے چونکہ اخلاقی روایات کے ساتھ یا عقل ہے یا عقلاء اور سیرت عقلائ، مثلا عقل یہ حکم کرتا ہے کہ ظلم کرنا اچھا نہیں ہے اورعدل اچھا ہے ،امانت کو اس کے مالک تک پہنچانا اچھا ہے اوراس میں خیانت کرنا برا ہے ،لہذا اسی لئے اخلاقی روایات کے بارے میں سند کے بارے میں بہت زیادہ کوشش نہیں کرتے ۔

بعض امور اعتقادی مسائل ہیں ، اعتقادی مسائل میں بنیاد روایت نہیں ہے بلکہ اس میں بنیاد عقل ہے ( خدا کا وجود، پیغمبر ، اور معاد … )جی ہاں ! ان کی جزئیات صحیح روایات سے ثابت ہوتا ہے ، اگر اعتقادی مسائل میں کوئی روایت نقل ہوئی ہو تو وہ بھی عقل کے سمجھ آنے والی چیز کی تائید ہے ۔

ایک اور قسم فضائل اور رذائل ہے ، ان کے بارے  میں ہم سند ڈھونڈتے ہیں ،کیوں ؟

چونکہ ان امور میں جعلی ہونے کا احتمال ہے ،مثلاً پیغمبر اکرم (ص) کے اصحاب میں سے فلان شخص ایسے ایسے تھے ، کیا یہ صحیح ہے اور واقعاً ایسا ہی تھا ؟

اس کو معلوم کرنے کے لئے اس روایت کے سند کے بارے میں جستجو کرنا چاہئے ،فضائل اور رذائل میں جعلی ہونے کا احتمال پایا جاتا ہے ، اسی لئے ان کے بارے میں سند کو دیکھا جاتا ہے ، مثلاً اگر پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا ہے :''انا مدینة العلم و علی بابہا '' ہم اس کے سند کے بارے میں تحقیق کرتے ہیں ۔

مرحوم آقای امینی (رضوان اللہ علیہ ) نے اپنی کتاب الغدیر میں اس حدیث کے بارے میں اہل سنت سے بتالیس(٤٢) مصادر کو ذکر کیا ہے ۔

اب باقی رہ جاتا ہے تاریخی مسائل ،اس میں دوقسم کے ہیں اور قسم ایسے مسائل ہیں جن میں جعلی ہونے کا احتمال نہیں دیا جاتا چونکہ اس میں جعل کرنے کا کوئی انگیزہ نہیں ہے ۔

تو خود اسی سے انسان کو اطمینان ہوتا ہے کہ یہ بات صحیح ہے اور یہ واقعہ ہوا ہے لیکن کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی چیز کو کو جعل کرتا ہے تا کہ کسی کو مقام دے یا کسی کی بے عزتی کرے ، اور کبھی ایسی کوئی بات نہیں ہوتی ہے ، واقعہ کربلا میں بہت سارے واقعات ایسے ہیں ، ان کے جعل کرنے کا کوئی مقصد نہیں ہے ،یہ ایک عمومی بات ہے جو اس بحث کو شروع کرنے کے لئے مقدمہ کے طور پر بیان کرنا چاہتا تھا۔

لیکن واقعہ عاشور اور اس کے بعد والے واقعات کے بارے میں ایک اور قابل توجہ بات یہ ہے کہ کربلا کے واقعہ کو صرف ایک نفر نے نقل نہیں کیا ہے ۔

میں یہاں پر اجمالی طور پر کچھ مطالب کو بیان کروں گا ، کربلا کے بعض واقعات عمر بن سعد کے سپاہیوں کے ذریعہ نقل ہو اہے جیسے حمید بن مسلم یا قرہ ابن قیس تمیمی کہ یہ لوگ قتلگاہ کے واقعات کو بیان کرنے والے ہیں ۔

بعض واقعات کو ضحاک بن عبد اللہ نے نقل کیا ہے ، یہ شخص راستہ میں امام حسین علیہ السلام سے ملاقات کی اور ان سے یہ وعدہ کیا تھا کہ جب تک آپ (ع) زند ہ ہے میں آپ کے ساتھ رہوں گا اور آپ(ع) سے دفاع کرتا رہوں گا ،اور اگر یہ یقینی ہو جائے کہ آپ (ع) شہید ہو رہے ہیں تو میں اس وقت چلا جاؤں گا ، یہ شخص کربلا آئے اور عاشور کے دن عصر کے وقت امام حسین (ع) کے خدمت میں شرفیاب ہوا اور کہا : میں جانا چاہ رہا ہوں ، امام نے فرمایا ؛ تم ان لوگوں کے درمیان میں کیسے نکل جاؤ گے ؟ اس نے کہا مجھے جانے کا طریقہ معلوم ہے ۔

اس نے اپنے گھوڑے کو خیمہ کے اندر رکھا ہوا تھا تاکہ اسے نیزہ نہ لگے ، جس وقت امام (ع) کو محاصرہ میں ڈالا تو اس نے اپنے لئے فرار کرنے کا راستہ پایا اس وقت گھوڑے پر سوار ہو کر فرار کیا ،کثیرابن عبد اللہ شعبی کے ساتھ عمر سعد کے فوج میں سے دس نفر اس کا پیچھا کیا ، وہ گھوڑے پر بھاگ رہا تھا یہ لوگ بھی اسے پیچھا کر رہے تھے ، ایک جگہ پر پہنچ کر گھوڑے سے نیچے اترے ، کثیر بن شعبی اس کے پاس پہنچے اور اس سے کہا تم کون ہو ؟ اس نے اپنے چہرہ سے کپڑے کو اٹھایا تو اس نے دیکھا کہ اس کا اپنا دوست ہے لہذا اسے چھوڑ دیا ، بعض واقعات جیسے شب عاشورا کے واقعات اس سے نقل ہوا ہے ۔

بعض واقعات امام سجاد علیہ السلام سے نقل ہوا ہے جیسے شب عاشورا میں حضرت امام حسین علیہ السلام کا خطبہ ، کہ اس کا روایت کرنے والا آپ (ع) ہی ہے ، اور بعض واقعات کو فاطمہ بنت الحسین (س) نے نقل کیا ہے ، اور بعض واقعات کو عقبہ بن سمعان نامی کسی شخص نے نقل کیا ہے ، کہ طبری نے اپنی تاریخ میں بہت جگہوں پر اس شخص سے نقل کیا ہے ، یہ امام حسین (ع) کی زوجہ رباب کا غلام ہے ، جب جنگ ختم ہوئی  تو اسے پکڑ کر عمر بن سعد کے پاس لایا گیا ، چونکہ غلاموں کو قتل نہیں کرتے تھے لہذا اسے چھوڑدیا ، کوفہ میں ہونے والے بعض واقعات کو زید بن ارقم نے نقل کیا ہے ، حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے خطبہ کو بشیر بن حزلم نے نقل کیا ہے ۔

ملاحظہ فرمایا کہ واقعہ کربلا کے واقعات کو مختلف لوگوں نے نقل کیا ہے اور صرف ایک شخص سے نقل نہیں ہے ۔

میں ایک مطلب کو بیان کرتا ہوں اس کے بعد حضرت رقیہ(س) کے بارے میں کچھ مطالب بیان کرتا ہوں ، خدا رحمت کرے علامہ شعرانی کو ، انہوںنے مجمع البیان اور صحیفہ سجادیہ پر اچھا حاشیہ لکھا ہے ،انہوں نے اپنے بعض  مکتبوبات میں لکھا ہے کہ جب ہم تاریخی دو واقعہ کو ایک جگہ رکھتے ہیں تو ان دونوں کے درمیان کچھ اختلافات او رکچھ مشترکات پاتے ہیں،ان دونوں تاریخی واقعہ سے جو نتیجہ حاصل ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ اصل واقعہ صحیح ہے ۔

لیکن جزئیات میں ان دونوں میں اختلاف ہے ، مثلاً ایران اور عراق کے درمیان جو جنگ ہوئی اس میں اتنے سارے امکانات کے ہوتے ہوئے کچھ واقعات کے نقل ہونے میں کچھ اختلافات ہوئے ہیں یہ ایک عام بات ہے ، ممکن ہے ایک راوی نے اس مسألہ کو ایک خاص نظر سے دیکھا ہو اور دوسرے راوی نے دوسرے زاویہ سے اس کی طرف توجہ کیا ہو ، واقعہ کربلا او رامام حسین علیہ السلام کا واقعہ بھی اسی طرح ہے ،چونکہ خداوند متعالی کی مشیت یہ ہے کہ یہ واقعہ ہمیشہ کے لئے زندہ رہے اسی وجہ سے اما م حسین علیہ السلام کے واقعہ میں نظم و انضباط پایا جاتا ہے وہ کہیں اور پایا نہیں جاتا حتی کہ پیغمبر اکرم (ص) کے جنگوں میں بھی ایسا نہیں ہے ۔

مثلاً آپ ملاحظہ فرمائیں کہ امام حسین(ع) کے اصحاب کے تمام شعار تاریخ میں ثبت ہے ، شہداء کے نام ، یا ان کے وہاں پر انجام دینے والے امور مثلاًحنظلہ بن اسعد شامی قاتل قتال الابطال یا دوسرا ایک قاتل قتال المشتاقین ہے ، یہ تمام جزئیات تاریخ میں ثبت ہے ، یہ وہ کچھ مطالب تھے جو میں عاشورا کے بارے میں یہاں بیان کرنا چاہ رہا تھا ۔

لیکن حضرت رقیہ (س) کے بارے میں اگر ہم ان کے بارے میں موجود واقعہ کا انکار کرنا چاہیں تو تمام مقتل کو کنارے لگانا پڑھے گا ، کوئی آکر یہ بتائیں کہ حضرت رقیہ (س) کا واقعہ تاریخ میں مثلاًملاحسین کاشفی کی کتاب روضة الشہداء میں نقل ہے اور اس کتاب کی کوئی سند نہیں ہے ، یہ صحیح ہے لیکن یہ واقعہ صرف اس کتاب میں نہیں بلکہ ایک بڑے فقیہ نے اسے نقل کیا ہے ، عماد الدین طبری، یہ عالم ساتویں صدی ہجری کے علماء میں سے ہے ، کہ ظاہراً ٦٧٥ ہجری میں وفات پائے ہیں ، ایک قابل قدر فقیہ عالم ہے کہ مرحوم شہید اول نے نماز جمعہ کے بحث میں ان کی نظریہ کو بیان کیا ہے ، ان کی کتاب ''کامل'' جو کہ ''کامل بہایی'' سے مشہور ہے ساتویں صدی میں لکھا ہوا ہے ، ا س کتاب کی جلد ٢ صفحہ ١٧٩ میں صریحاً لکھا ہے کہ حضرت رقیہ (س) امام حسین (ع) کی بیٹی ہے ، انہوں نے لکھا ہے : یہ بچی نیند سے اٹھی اور بولی : این ابی ؟ اپنے باپ کو تلاش کیا ، جب یزید نے بچی کی رونے کی آواز کو سنی تو حکم دیا کہ امام حسین (ع) کی سر مقدس کو اس بچی کے سامنے بیجھا جائے ، جب اپنے باپ کے سر مقدس کو دیکھا تو اسی وقت وفات پائی ، انہوں نے لکھا ہے کہ اس بچی کی عمر چار سال تھی ۔

اس کے بعد نقل کیا ہے کہ اس مطلب کو انہوں نے کتاب الحاویہ سے نقل کیا ہے ، یہ کتاب اس وقت ہمارے پاس نہیں ہے جس طرح دوسری بہت سی کتابیں ہمارے ہاتھ میں نہیں ہیں ، کتاب بحار الانوار ایک ارزشمند مطالب کا مجموعہ ہے جسے مرحوم علامہ مجلسی نے جمع کیا ہے ، اور کچھ مطالب پر بھی مشتمل ہے جسے انہوں نے بعض مطالب کے ذیل میں لکھا ہے ، واقعاً بہت قیمتی مطالب ہے ، انہوں نے اس کتاب کے مقدمہ میں لکھا ہے : میں نے دیکھا کہ کچھ کتابیں ختم ہو رہیں ہیں تو یہ سوچا کہ ان کے مطالب کوایک مجموعہ میں جمع کروں تا کہ وہ ہمیشہ کے لئے باقی رہ جائے ۔

بحار الانوار کے بہت سارے مصادر ہمارے پاس نہیں ہے ،لیکن تین سو سال پہلے یہ مرحوم مجلسی کے پاس تھے، یا زبیر بن بکار کی کتاب الموفیقات ابھی ہمارے پاس نہیں ہے لیکن آٹھ سو سال پہلے یہ کتاب ابن ابی الحدید کے پاس موجود تھی اور اس کتاب سے انہوں نے نقل کیا ہے ۔

یاابوبکر جوہری کی کتاب ''السقیفة و الفدک'' آج ہمارے پاس نہیں ہے لیکن یہ چوتھی صدی ہجری کی اصلی کتابوں میں سے تھی او ر ابن ابی الحدید نے اس سے نقل کیا ہے اور اس بارے میں لکھا ہے اہل سنت کے ثقات میں سے ہے ۔

لہذا حضرت رقیہ (س) کا واقعہ کتاب''کامل بھایی'' میں ذکر ہے اور اس میں تصریح ہوا ہے کہ آپ (س) امام حسین (ع) کی بیٹی ہے اور اس واقعہ کو بیان کیا ہے ۔

لہذاکوئی اگر کر یہ بتائیں کہ آپ (س) شہداء میں سے کسی ایک کی بچی ہے ، اس کی کیا دلیل ہے اور اس کا سند کیا ہے ؟ایسے ہی ایسی کوئی بات بتا دی ہے اور کچھ افراد کو حیران و سرگردان کیاہے ، یہ مصلحت نہیں ہے ، کیوں ہم اس طرح کریں ؟

بعض نے لکھا ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی دو بیٹیاں تھیں ایک کا نام فاطمہ تھا اور دوسرے کا نام سکینہ ، اگر ایسا ہے تو رقیہ کس کی بچی ہے ؟اس کے جواب میں یہ کہا جائے گا کہ علی بن عیسی اربلی کتاب کشف الغمہ میں امام حسین (ع) کے چار بچیوں کو ذکر کیا ہے ، لہذا اس لحاظ سے کوئی مشکل نہیں ہے سیف بن عمیرہ کی اشعار میں بھی حضرت رقیہ (س) کا نام ذکر ہوا ہے ۔

شہر ساوہ کے نائب امام جمعہ جناب حجة الاسلام و المسلمین آقای قربانی نے آقای میرزا علی محدث زادہ ( شیخ عباس قمی کے فرزند) میرے لئے ایک اچھا مطلب بیان کیا ہے ، کہ یہ عالم دین تہران میں مجلسیں پڑھتے تھے ، کئی سال پہلے میں نے محرم میں کئی جگہوں پر مجالس پڑھنے کا وعدہ کیا ہوا تھا ، ماہ محرم کے شروع ہونے سے پہلے میرے گلے میں مشکل پید اہوا ، میں ڈاکٹر کے پاس گیا تو مجھے یہ بتایا کہ کوئی بھی تقریر نہیں کرنا ہے اور مجلس پڑھنا میرے لئے زہر ہے ۔

میں نے مجالس پڑھنے کا وعدہ کیا ہو ا تھا اور ان لوگوں نے بھی میرے وعدہ کے مطابق مجلس منعقد کیا تھا ،میں نے اپنے آپ سے یہی بولا کہ خدایا میں کیا کروں ؟کل اول محرم ہے اور میں اس بیماری کے ساتھ منبر پر تو نہیں جاسکتا ، میں خود امام حسین(ع) سے متوسل ہوا۔

میں نے رات کو خواب میں دیکھا کہ میں کسی جگہ کسی مجلس میں ہوں اور وہاں امام حسین (ع) بھی تشریف فرما ہے اور بہت سے دوسرے لوگ بھی تھے ، جن کو میں نہیں پہچانتا تھا ، لیکن امام (ع) کو پہچان لیا ، امام نے کسی ایک آقاکو جسے میں نہیں پہچانتا تھا مجلس پڑھنے کا فرمایا ، اس نے عرض کیا :میں کیا پڑھوں ؟ فرمائے : میری  بیٹی رقیہ (س) کی مجلس پڑھو، اس نے حضرت رقیہ (س) کا مصائب پڑھنا شروع کیا ،اس وقت امام حسین (ع) اور وہاں پر مجلس میں لوگ اور میں بھی خواب میں بہت روئے ،جب میں نیند سے بیدار ہوا تو دیکھا کہ میرے گلے میں کوئی مشکل نہیں ہے ، اسی خواب کے برکت سے میں نے اس سال کے مجالس کو پڑھ لیا ۔

حضرت رقیہ بنت الحسین سلام اللہ علیہا کے بارے میں ایک تحقیق

حجة الاسلام و المسلمین محمد امین پور امینی ؛ مرکز فقہی آئمہ اطہار (علیہم السلام ) کے عقایدی دروس کے استاد

اب تک میں نے حضرت رقیہ بنت الحسین (ع) کے بارے میں عربی اور فارسی میں چندیں مقالے لکھ چکا ہوں اور یہی کوشش رہی ہے کہ نہضت حسینی (ع) کی اس سند مظلومیت کی شخصیت کے بارے میں جو شکوک  او رشبہات ہیں ان کا جواب دے دوں ،کہ بالآخر ان آخری ایام میں  مجھے ایک مہم اور قابل قدر سند نصیب ہوئی ہے کہ اپنے اس بحث کو پورا کرنے کے لئے اسے بھی اضافہ کرنا ضروری ہے ۔

میں پہلے اس بارے میں کتاب''کامل بھائی'' کو قدیمی ترین کتاب کے طور پر بیان کرتا رہا ہوں ۔

کتاب ''کامل بھایی'' شیخ عماد الدین حسن بن علی بن محمد بن علی طبری آملی کی کتاب ہے ، کہ خواجہ نصیرطوسی کے ہم عصر ہے ،اس کتاب کو وزیر شمس الدین جوینی کے بیٹے وزیر بہاء الدین محمد کے حکم پر لکھا ہے جو اس وقت ہلاکوخان  کی حکومت میں اصفہان کا حاکم تھا ،اسی وجہ سے یہ کتاب ''کامل بھایی ''کے نام سے مشہور ہوا ہے ۔

اس کتاب کا دوسرا نام ''کامل السقیفة'' ہے اس کی دو جلدیں ہیں جو بارہ (١٢) سال کی مدت میں لکھی گئی ہے اور کتاب لکھنا ختم ہونے کی تاریخ سال٦٧٥ ہجری قمری ہے ،اس کتاب کے مولف کی دوسری کتابیں بھی ہیں جیسے :مناقب الطاہرین ،معارف الحقائق اور اربعین البھائی۔

ان کے مجموعی کتابوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ایک شیعہ دانشمند اور مورخ اور متعہد انسان تھے ۔

عماد الدین طبری نے بھی اس واقعہ کو کتاب الحاویہ سے نقل کیا ہے کہ افسوس ابھی یہ کتاب ہمارے پاس نہیں ہے ۔

لکھتا ہے : حاویہ میں ہے : خاندان نبوت کے خواتین نے اسیری کے ایام میں کربلا میں شہید ہونے والے اپنے مردوں کی حالت کو اپنے بچوں سے چھپا کر رکھیں تھیں اور ہر بچہ کوکچھ نہ کچھ وعدہ دیتیں تھیں کہ تمہارا باپ فلان سفر پر گیا ہوا ہے ،واپس آئیں گے ،کہ اسی طرح یہ مخدرات یزید کے قصر تک پہنچے ؛ایک چھوٹی سی چار سالہ بچی تھی ،ایک رات نیند سے اٹھ گئی اور کہنے لگی : میرا باپ حسین (ع) کہاں ہے ؟ میں نے ابھی ان کو خواب میں دیکھا تھا میں ابھی بہت پریشان ہوں ،وہاں پر موجود تمام خواتین اور بچے رونے لگے اور رونے کی آواز بلند ہونے لگی ،یزید سویا ہوا تھا ،وہ اٹھ گیا اور آواز کے بارے میں پوچھنے لگا ،کسی نے اسے حالت کی خبر دی ،اس ملعون نے کہا اسی وقت جاکر اس کے باپ کے سر مقدس کو لا کر اس کے پاس رکھ لو ،ملعونوں نے اس مقدس سر کو لائے اور اس چار سالہ بچی کے پاس رکھ دیا ،اس وقت اس بچی نے پوچھا :یہ کیا ہے ؟ ملعونوں نے کہا : یہ تمہارے باپ کا سر ہے ، یہ بچی ڈر گئی اور چیخ ماری اور اسی کے چند دنوں بعد وفات پائی ۔(٢)

طبری کے نقل سے استفادہ ہوتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی چار سال کی ایک بیٹی تھی کہ جو اپنے باپ کے جدائی کو برداشت نہیں کر سکی او رشام میں وفات پائی ؛ لیکن انہوں نے ان کے نام کو ذکر نہیں کیا ہے ، ان کے بعد بھی مورخین نے اس جانگداز واقعہ کومختصر اختلاف کے ساتھ بیان کیا ہے اور بعض جگہوں پر کچھ اضافہ بھی ہوا ہے کہ معلوم ہوتا ہے زبان حال ہے ۔

. ملاحسين کاشفى سبزوارى(م910ق) در کتاب روضة الشهداء3 به نقل از کتاب کنزالغرائب؛
2.
شيخ فخرالدّين طريحى نجفى(م1085ق) در کتاب المنتخب؛4

3 سيد محمدعلى شاه ‏عبدالعظیمى‏‌‌(م1334ق.) در کتاب الايقاد؛5

4. شيخ محمد هاشم بن محمد على خراسانى(م1352ق) در کتاب منتخب ‏التّواريخ؛6

5. شيخ عباس قمى‏‌‌(م1359ق) در کتاب نفس ‏المهموم‏16 و منتهى ‏الآمال؛7

6. شيخ محمد مهدى حائرى مازندرانى در کتاب معالى‏ السبطين؛8

ان میں سے بعض نے ان کے نام ''رقیہ (س) ''کو بھی ذکر کیا ہے ۔

شیخ محمد ہاشم خراسانی اسیر ہونے والے مخدرات کی تعداد کو بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے :التاسعة (نواں): وہ بچی ہے کہ جو شام کے خرابہ میں وفات پائی، ان کا نام شاید رقیہ (س)تھا اور خود امام حسین علیہ السلام کی بیٹیوں میں سے تھی، شام کے خرابہ میں جو مزار ہے وہ اسی مخدرہ سے منسوب ہے اور مزار رقیہ سے ہی مشہور ہے (٩)

سید محمد علی شاہ عبد العظیمی نے کتاب الایقاد میں لکھا ہے : امام حسین (ع) کی ایک چھوٹی بیٹی تھی جس سے آپ (ع) بہت محبت کرتا ہے اور وہ بچی بھی آپ سے بہت مانوس تھی ،کہا گیا ہے اس کا نام رقیہ تھا اور تین سال کی تھی ،یہ بچی بھی اسیروں کے ساتھ شام میں تھی اور دن رات باپ کی جدائی پر روتی رہتی تھی اور اس سے یہ کہا گیا تھا کہ آپ کا والد گرامی سفر میں ہے (١٠) اور ایک رات اس نے اپنے باپ کو خواب میں دیکھا ،جب بیدار ہوئی تو بہت زیادہ روئی اور یہ کہنے لگی : میرے باپ اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک کو مجھے لا کر دو ! اہل بیت (ع) نے جتنے کوشش کی ،وہ چپ نہیں ہوئی ،بلکہ اپنے مسلسل ہی روتی رہی اور ان کی رونے کی وجہ سے تمام اہلبیت کے غم اندوہ تازہ ہوئے اور وہ سب بھی رونے لگے ،اپنے چہروں پر مارے اور سروں پر مٹی ڈالے ۔

ہر طرف سے گریہ و نالہ اور آہ وفغان کی آواز بلند ہوئی ،یزید نے ان کے رونے کی آواز کو سنے تو کہنے لگا :کیا ہوا ہے ؟اسے کہا گیا کہ امام حسین (ع) کی چھوٹی بچی نے اپنے باپ کو خواب میں دیکھا ہے ،او راب نیند سے اٹھ کر ان کا بہانہ کر رہی ہے اور گریہ و زاری کر رہی ہے ،یزید نے کہا :اس کے باپ کے سر کو اس کے لئے لے جاؤ اور اس کے پاس رکھ دو تا کہ اسے آرام ملے !سر مقدس کو ایک طبق میں رکھ کر ڈھانپا ہوا اس کے پاس لایا گیا ۔

انہوں نے جب طبق کو دیکھا (تو یہ سوچا کہ ان کے لئے کوئی کھانا لایا گیا ہے ) بولی: مجھے میرے باپ لا کر دو ،مجھے کھانا نہیں چاہئے !بولے :تمہارا باپ اس میں ہے ،تو ڈھانپے ہوئے کپڑے کو اٹھا لیا ،تو ایک سر کو دیکھا ،تو بولی :یہ کس کا سر ہے ؟بولے :یہ تمہارے باپ کا سر ہے ، اس وقت سر کو اٹھایا اور اپنے سینہ سے لگایا اور بولنے لگی :میرا بابا ! کس نے تمہیں سر کے خون سے خضاب کیا ہے ؟بابا! کس نے آپ کے رگوں کو کاٹا ہے ؟ میرے بابا! کس نے مجھے اس چھوٹی عمر میں یتیم کیا ہے ؟! اس کے بعد اپنے لبوں کو باپ کے لبوں پر رکھ کر رونے لگی کہ اسی حالت میں بیہوش ہو گی ،جب انہیں ہلایا گیا تو معلوم ہوا کہ تسلیم خالق کائنات ہوئی ہے ، اس وقت ہر طرف سے اہلبیت (ع) کی رونے کی آواز بلند ہوئی …(١١)

یہ واقعہ اسی طرح نقل ہے ،سید شاہ عبد العظیمی نے اسے کتاب عوالم سے نقل کیا ہے اور اسی مضمون کو شیخ طریحی اور ان سے نقل کر کے شیخ مہدی مازندرانی نے بھی نقل کیا ہے ،اگر چہ یہ مطلب بحرانی کی کتاب عوالم میں نہیں ہے ،لیکن ممکن ہے عوالم سے مراد کوئی اور کتاب ہو ۔

یہاں پر چند سوالات ہیں ؛

١۔ امام حسین علیہ السلام کی کتنی بیٹیاں تھیں ؟

٢۔کیا امام حسین علیہ السلام کی رقیہ نامی کوئی بیٹی تھی ؟

٣۔کیا امام حسین علیہ السلام نے رقیہ کو اپنے زبان پر لایا ہے ؟

٤۔کربلا میں کتنے رقیہ تھیں ،اور اس میں کتنے احتمالات ہیں ؟

٥۔ روایت او رنقل کے علاوہ اس کے کوئی اور دلیل بھی ہے ؟

یہاں پر اس مقالہ میں ہم ابتداء کے دو سوالوں کا جواب بیان کریں گے اور باقی مطالب کو اپنے مناسب موقع پر بیان کر چکا ہو ں ۔

١۔ حضرت امام حسین علیہ السلام کی کتنی بیٹیاں تھیں ؟

اس بارے میں تین قول موجود ہے ؛

الف:دو بیٹیاں ؛ شیخ مفید نے دو بیٹیوں کوذکر کیا ہے کہ جن کے نام فاطمہ اور سکینہ تھیں (١٢) بعض (١٣) نے شیخ مفید کی تایید کی ہے ؛لیکن ان کے تاریخ نگاری کا طریقہ اہل فن سے پوشیدہ نہیں ۔

ب: تین بیٹیاں: بعض کتابوں میں آپ(ع) کی تین بیٹیاں ذکر ہوئی ہے ۔

طبری امامی لکھتا ہے :''ولہ من البنات زینب و سکینه و فاطمہ (١٤) آپ کی بیٹیاں زینب ،سکینہ اور فاطمہ ہیں ۔

ابن شہر آشوب (١٥)،خصیبی(١٦) ،ابن خشاب(١٧) اور شیخ محمد الصبّان نے بھی انہیں کو ذکر کیا ہے ۔

ج:چار بیٹیاں :شیخ کما ل الدین محمد بن طلحہ شافعی (م٦٥٢ ق) (١٨) نے اپنی کتاب مطالب السؤول فی مناقب آل الرسول میں آپ (ع) کے لئے چار بیٹیاں ہونے کی تصریح کی ہے ،حتی کہ اس بارے شہرت کا ادعا بھی کیا ہے اور لکھا ہے : "کان له ـ أى للحسين(ع) ـ من الاولاد ذکور و اناث عشرة، ستّة ذکور، و أربع اناث، فالذّکور: على ‏الاکبر، علىّ الاوسط و هو سيّدالعابدين...، و على ‏الاصغر، محمد، عبداللّه و جعفر. فامّا علىّ الاکبر فانّه قاتل بين يدىّ أبيه حتّى قتل شهيداً. و امّا علىّ الاصغر جاءه سهم و هو طفل فقتله... و قيل: انّ عبداللّه ايضاً قتل مع ابيه شهيداً. و امّا البنات: فزينب، سکينة و فاطمة. هذا هوالمشهور، و قيل: بل کان له اربع بنين و بنتان، و الاوّل أشهر19؛

آپ (ع) کے دس بچے تھے کہ ان میں سے چھ(٦) بیٹے اور چار(٤) بیٹیاں تھیں ،بیٹوں کے نام یہ ہیں :علی اکبر، علی اوسط(سید العابدین ) علی اصغر ، محمد ،عبد اللہ او رجعفر۔

علی اکبر اپنے باپ کے آنکھوں کے سامنے میدان جنگ میں گئے اور شہید ہوئے ، اور علی اصغر بھی ایک چھوٹا بچہ ہونے کے باوجود ایک تیر لگے اور شہید ہوئے ، اور بتایا گیا ہے کہ عبد اللہ بھی آپ (ع) کے ساتھ شہید ہوئے ۔

اور بیٹیوں کے نام یہ ہیں : زینب ،سکینہ  اور فاطمہ ، اور یہ مشہور قول ہے ، اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آپ (ع) کے چار بیٹے اور دو بیٹیاں تھے ، لیکن پہلا قول زیادہ مشہور ہے ۔

ابن صبّاغ مالکی نے اسی کو نقل کیا ہے اور لکھا ہے :''"قال الشيخ کمال الدين بن طلحة: کان للحسين‏(ع) من الاولاد ذکوراً و اناثاً عشرة، ستّة ذکور و أربع اناث، فالذّکور علىّ الاکبر، علىّ الاوسط و هو زين العابدين، و على ‏الاصغر، محمد، عبدالله و جعفر... و اما البنات فزينب و سکينة و فاطمة، هذا قول مشهور"20

شیخ کمال الدین بن طلحہ لکھتا ہے : حضرت حسین (ع) کے دس فرزند تھے کہ ان میں سے چھ بیٹے اور چار بیٹیاں تھیں ، بیٹے کے نام یہ ہیں : علی اکبر ، علی اوسط( زین العابدین ) علی اصغر ،محمد ، عبد اللہ او رجعفر…، اور بیٹیاں :زینب ،سکینہ اور فاطمہ تھیں اور یہی قول مشہور ہے ، علامہ اربلی نے بھی اسی کو نقل کیا ہے (٢١)

اس قول کے مطابق کہ مشہور ہونے کا دعوا بھی ہے اور عظیم مورخوں جیسے علامہ اربلی نے کشف الغمہ اور ابن صباغ مالکی نے الفصول المہمة میں بھی اسے نقل کیا ہے اور اس کو رد نہیں کیا ہے کہ آپ (ع) کی چار بیٹیاں تھیں کہ ان میں سے تین کے نام کو صریحا بیان کیا ہے اور چوتھی بیٹی کا نام مجہول رہ گیا ہے ۔

٢۔ کیا امام حسین علیہ السلام کی رقیہ نامی کوئی بیٹی تھی ؟

پہلے سوال کے جواب میں عرض کیا کہ آپ (ع) ک بیٹیاں دو نفر پر منحصر نہیں ہے اور جس قول کے مشہور ہونے کا بھی دعوا ہوا ہے اس کے مطابق آپ کے چار بیٹیاں ہیں کہ ان میں سے تین کے نام (زینب ،سکینہ اور فاطمہ ) بھی بیان ہوا ہے ، اس صورت میں یہ احتمال ہے کہ آپ(ع) کی چوتھی بیٹی یہی ہے جسے لوگ ''رقیہ ،، کے نام سے پکارتے ہیں اور مشہور بھی ہے ۔

اس لحاظ سے تاریخی لحاظ سے اس کی انکار کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے ، اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ مسلسل تاریخی واقعات بھی یہ بیان کر رہی ہے کہ اس قبر شریف میں اہل بیت حسینی (ع)میں سے کوئی ایک مدفون ہے ، اور اس قبر میں پانی بھرنا او رقبر میں شکاف پڑ کر اس سے ایک سالم بدن کا نکلنا شام کے تاریخی مشہورات میں سے ہے جو وہاں کے شیعہ او رسنی سب میں معروف و مشہور ہے ، حتی کہ شبلنجی نے اسے نور الابصار میں  اور سید میرزا ہادی خراسانی نے اسے اپنی کتاب کرامات میں نقل کیا ہے ، دشمن کے نور حسینی کے خاموش کرنے کے لئے مسلسل کوشش ہونے کے باوجود اس جگہ کا انہیں کے نام سے مشہور ہونا اس مطلب کے صحیح ہونے کی دلیل ہے ۔

آج بنی امیہ کے ہی ملک میں رقیہ بنت الحسین (ع) کا یہ چراغ روشن ہے اور ستم کاروں جیسے معاویہ اور یزید کا لعن کے ساتھ یاد کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے ۔

ہمارے استاد بزرگوار مرحوم آیت اللہ العظمی حاج میرزا جواد تبیریزی (اعلی اللہ مقامہ الشریف) جن کا دل خاندان عصمت و طہارت کے عشق او رمحبت سے مملو تھا جب آپ بیمار ہوئے تو شام میں حضرت رقیہ (س) کی قبر مطہر کی زیارت کے لئے گئے ، اس وقت وہاں پر عربی میں ایک تقریر کیا جس کا ترجمہ یہ ہے :

احکام شرعی اور فقہی مسائل کو سیکھنا سب سے افضل ترین کاموں میں سے ہے ، آپ کو معلوم ہے کہ خارجی موضوعات کے ثابت ہونے کے کچھ حدود ہیں اور ان سب یا اکثر میں گواہ پیش کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ، لیکن بعض مسائل ایسے ہیں جن میں مشہور ہونا کافی ہے ، ان کی ثبوت میں شہرت کافی ہے اور وہاں کسی گواہ کی ضرورت نہیں ہوتی ،صرف شہر ت کا ہونا کافی ہے ۔

اس کی مثال یوں ہے کہ کسی نے کوئی زمین خریدی ہے ،اس کے بعد اسے کہا جاتا ہے کہ یہ زمین تو وقف کی ہے ، امام علیہ السلام سے اس مسئلہ کے بارے میں پوچھا جاتا ہے ، حضرت فرماتا ہے : اگر لوگوں کے درمیان یہ مشہور ہو کہ یہ زمین وقف ہے تو اس کا خریدنا جائز نہیں ہے ، اسے واپس کرنا چاہئے ، منی اور مشعر کا حدود بھی اسی طرح ہے ( کہ شہرت سے ثابت ہوتا ہے ) اسی طرح قبور بھی ہے ، ممکن ہے کوئی دوسو سال پہلے کسی جگہ دفن ہوا ہو ، لیکن ابھی کوئی ایسا شخص نہ ہو جس نے اس کی قبر کو اس جگہ پر دیکھا ہوا ہو ، لیکن لوگوں کے درمیان میں مشہور ہو کہ وہ فلان جگہ پر دفن ہے ، تو اس کے لئے یہی شہرت کافی ہے ۔

حضرت رقیہ بنت الحسین (ع) کا قبر بھی اسی طرح ہے ،کہ یہ پہلے سے مشہور ہے ،گویا حضرت امام حسین (ع) نے اسے شام میں یادگاری کے طور پر رکھا ہے تا کہ آئندہ کوئی ایسا نہ ہو کہ لوگ خاندان عصمت و طہارت کے اسیرہونے اور دوسرے واقعات کا انکار کرے ، یہ چھوٹی سی بچی ایک بڑی گواہی ہے کہ اسیروں کے درمیان حتی کہ چھوٹی چھوٹی بچیاں بھی تھیں ، حضرت رقیہ بنت الحسین (ع) کے اس جگہ پر دفن ہونا مشہور ہے ، او راسی جگہ پر اپنی خالق خقیقی سے جا ملنا بھی مشہور ہے ۔

ہم اسی لئے ان کی زیارت کے لئے آئے ہیں ، ان کی احترام ضروری ہے ، (یہ نہ بولیں کہ آپ (س) چھوٹی تھیں ) علی اصغر کہ ایک دودھ پینے والا بچہ ہے لیکن ان کی مقام و منزلت کو دیکھیں کہ حضرت سید الشہداء (ع) کے سامنے کربلا میں دفن ہے ، بتاتے ہیں کہ ان کا اس جگہ پر دفن ہونا یہ بتاتا ہے کہ روز محشر حضرت امام حسین (ع) ان کو ہاتھ میں اٹھائیں گے اور سب کو دیکھائیں گے ،اوراس چھوٹی بچی کا شام میں  د فن ہونا خاندان عصمت و طہارت کے اسیری اور ان پر ظلم ہونے کی ایک بہت بڑی دلیل ہے ، وہ ظلم و ستم جس پر آدم سے خاتم تک سب اس پر روئے ،یہاں تک کہ خدا نے امام حسین (ع) کی مصائب کو آدم سے بیان کیا ۔

اس لحاظ سے اس جگہ کا احترام فرض ہے ، غلط باتوں کی طرف توجہ نہ دیں ، جو یہ کہتے ہیں وہ ایک چھوٹی بچی تھی ، ایسی باتوں پر توجہ نہ دیں ، مگر علی اصغر چھوٹا نہیں تھا کہ قیامت کے دن ایک گواہ ہوگا ، او رشیعوں کے گناہیں معاف ہونے کا سبب ہوگا انشاء اللہ ۔

لہذا اس جگہ کا احترام سب پر واجب ہے ، غلط اور بیہودہ باتوں پر توجہ نہ دیں یہ شیاطین گمراہ کرنے کے لئے کرتے ہیں ، ہم امام حسین (ع) کی بیٹی کی زیارت کر کے خدا کی تقرب کے طالب ہوتے ہیں ،وہ بچی جو خود مظلومہ تھی ، اور ان کے تمام خاندان بھی سارے مظلوم تھے ۔

ان تمام کے باوجود اگر کسی کو اس پر اصرار ہو کہ ہمیں تاریخی اور انساب کے کتابوں میں ان کا نام ملنا چاہئے تو سن لیں : علم انساب کے بعض اہم اور معتبر کتابوں میں ان کا نام بھی ذکر ہوا ہے ۔

ابو الحسن علی بن ابی القاسم بن زید بیہقی ،جو کہ ابن فندق سے مشہور ہے سنہ ٤٩٣ ہجری قمری میں متولد ہوئے اور سنہ ٦٥ ٥ ہجری قمری میں وفات پائے ، ان کی علم انساب کے بارے میں ایک قیمتی کتاب ہے جس کا نام ہے ''لباب الانساب و الالقاب و الاعقاب'' کہ مرحوم آیت اللہ العظمی مرعشی (رہ) کی لائیبریری نے اس کتاب کو دوبارہ چھاپا ہے ۔

مولی عبد اللہ افندی نے ابن شہر آشوب کے بڑے اساتید اور ہمارے بزرگان میں سے ہونے کو بتایا ہے (ریاض العلماء :ج٦ ،ص٤٤٨) محدث نور ی نے انہیں مشایخ اجازہ میں سے بتایا ہے اور انہیں عالم متبحر اور فاضل متکلم کے طور پر بیان کیا ہے ( خاتمہ مستدرک الوسائل:ج٣،ص٩٩) مرحوم آیت اللہ سید محسن امین نے انہیں مشایخ شیعہ میں قرار دیا ہے ، اور ابن شہر آشوب کے بڑے اساتید میں سے بتایا ہے ( اعیان الشیعہ :ج٨،ص٢٤٣) مرحوم شیخ آقا بزرگ تہرانی نے انہیں امام بیہقی کے نام سے پکارا ہے ( الذریعہ :ج٢٦،ص٤٣)

مرحوم آیت اللہ مرعشی نجفی کہ خود بھی علم انساب کے اسپیشلسٹ تھے اور اس بارے میں کچھ کتابیں بھی ہیں انہوں نے اس کتاب پر ایک مفصل مقدمہ لکھا ہے جو تقریباً ١٥٠ صفحات پر مشتمل ہے اس میں اس کتاب اور اس  کے مولف کی بہت تعریف کی ہے اور انہیں علامہ ، مدرس، خطیب ، قاضی ، موالی اہل البیت اور امامی کے القاب سے ذکر کیا ہے ۔

ان اوصاف کے ساتھ ابن فندق کی شخصیت ہمارے لئے واضح ہو جاتا ہے اور دوسری طرف سے اس کی بہت پرانی ہونا بھی اہم ہے ، چھٹے صدی کے علماء میں سے ہے ، یہ تمام ایک مقدمہ تھا ، اس بات کے لئے کہ اس عظیم شخصیت نے رقیہ بنت الحسین (ع) کا ذکر کیا ہے انہوں نے کتاب ''لباب الانساب :ج١،ص٣٥٥ پر حسینی سادات کے بارے میں لکھا ہے : «أما الحسینیه فهم من أولاد الحسین بن علی علیهما السلام، ولم یبق من آولاده الا زین العابدین علیه السلام، وفاطمه، وسکینه، ورقیه، فأولاد الحسین علیه السلام من قبل الأب هم من صلب زین العابدین علیه السلام»

سادات حسینی ، حسین بن علی(ع) کے فرزندوں میں سے ہے ان کی فرزندوں میں سے زین العابدین (ع) فاطمہ ، سکینہ اور رقیہ کے علاوہ کوئی اور باقی نہیں رہ گئے تھے ، اس لحاظ سے حسین (ع) کے فرزندان زین العابدین (ع) کے نسل ہے ہیں ۔

اس بیان کے بعد آپ کا مبارک نام تاریخی اور انساب کے کتابوں میں ذکر نہ ہونے کا مسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے ، دوسری طرف سے یہ کتاب علم انساب کے بارے میں اور زمان کے لئے لحاظ سے بھی ''کامل بھائی '' کی کتاب سے پہلے لکھی ہوئی ہے ۔

 :1. کامل بهايى، ج 2، ص 179.

2. روضة الشهداء، ص 484.

3. المنتخب للطّريحى، ج1، ص136، مجلس7، باب 2.

4.الايقاد، ص 179.

5. منتخب التواريخ، ص 299.

6. نفس الهموم، ص 416 از کامل بهايى.

7. منتهى‏الآمال، ص 510.

8. معالى‏السبطين، ج 2، ص 170.

9. منتخب‏التّواريخ، ص 299.

10.  مقصود سفر آخرت بود.

11. الايقاد، ص 179؛ معالى السبطين، ج2، ص170.

12. الارشاد، ج 2، ص135؛ کشف الغمه، ج2، ص249؛ بحارالانوار، ج 45، ص328؛ عوالم(امام حسين)، ص 637.

13. تاج المواليد(چاپ شده در المجموعة النفيسة)، ص 34؛ حافظ عبدالعزيز بن الاخضر(م 611 ق) بحارالانوار، ج 45، ص 331.

14. دلائل الامامة، ص 181.

15.  المناقب آل ابى‏طالب(ع)، ج 4، ص 77.

16. الهداية الکبرى، ص 202.

17. کشف الغمة، ج 2، ص 39.

18. اسعاف الراغبين(چاپ شده به همراه نورالابصار)،‌ص 195؛ احقاق الحق، ج 11، ص 451.

19. وى از بزرگان فقه، حديث، تاريخ، ادبيات و سياست مورد احترام مورخان فريقين است که سخن برخى از ايشان را مى‏‌‌آوريم:ابوشامة(م 665 ق) که از معاصران وى بوده در ذيل الرّوضتين، ص 188 مى‏‌‌نويسد: "... و کان فاضلاً عالما".

اربلى(م692 ق) در کشف الغمّه، ج 1، ص 53 مى‏‌‌نويسد: "و کان شيخاً مشهوراً و فاضلاً مذکوراً... و حاله فى ترفّعه و زهده و ترکه و زاره الشّام و انقطاعه و رفضه الدّنيا حال معلومة قرب العهد بها، و فى انقطاعه عمل هذا الکتاب - مطالب السّؤول - و کتاب الدّائرة، و کان شافعى المذهب من أعيانهم و رؤساهم".

صفدى در الوافى بالوفيات، ج 3، ص 76، مى‏‌‌نگارد: "... و کان صدراً معظّماً محتشماً..."
و در العبر، ج 5، ص213 چنين آمده است: "... و کان رئيساً محتشماً و بارعاً فى ‏الفقيه و الخلاف، ولى الوزارة ثمّ زهد و جمع نفسه...".ابن کثير در البداية و النهاية، ج 13، ص186 چنين آورده است: "... کان عالماً فاضلاً".

ابن قاضى شهبة در طبقات الشّافعية، ج2، ص153 چنين نگاشته است: "تفقّه و شارک فى ‏العلوم و کان فقيهاً بارعاً عارفاً بالمذهب و الاصول و الخلاف... سمع الحديث و حدّث ببلاد کثيرة... قال السّيّد عزّالدين: افنى و صنّف و کان أحد العلماء المشهورين و الرّؤساء المذکورين".
در همان کتاب، ص 503 نيز آمده است: "... کان اماماً بارعاً فى ‏الفقه و الخلاف عالماً بالاصلين رئيساً کبيراً معظّماً...".يافعى در مرآة الجنان در وفيات سال 652 ق، مى‏‌‌نويسد: "... المفتى الشّافعى، و کان رئيساً محتشماً بارعاً فى‏الفقه و الخلاف".ابن الفوطى در تلخيص مجمع الآداب، ج5، ص255 شماره 515 آورده است: "... کان عارفاً بفنون کثيرة من المذهب و الاصول و الفرائض و الخلاف و التفسير و النّحو و اللّغة و التّرسّل و نظم الشّعر..."ابن المعاد در شذر الذّهب، ج 5، ص259 مى‏‌‌نگارد: "... المفتىّ الرّجال... و أحد الصّدور و الرّؤساء المعظمين... و تفقّه فبرع فى ‏الفقه و الاصول و الخلاف..."

20. مناقب السّؤول فى مناقب آل الرّسول، ج 2، ص 69.

21.  الفصول المهمّة، ص 199.





برچسب ها :