pic
pic

نصحتیں اور قیمتی باتیں

اپنا سوال پوچھیں
امام صادق علیہ السلام کی فضیلت
تاریخ 20 October 2019 و ٹائم 17:37

امام صادق  علیہ السلام کی  فضیلت

امام صادق  علیہ السلام ہمارے مذہب کے رئیس ہیں ، اور ہمیں اس پر فخر ہے کہ اس مذہب کا عنوان ، مذہب جعفری ہے ، حقیقت یہ ہے کہ  ہم اپنے ائمہ اطہار علیہم السلام کے بارے میں جتنا شناخت رکھنی چاہئے اتنی شناخت پیدا نہیں کی ہے ۔

ان بزرگوں کی خدا کے ہاں جو مراتب اور درجات ہیں ان کو ہم نے نہیں پہچانا ہے ، اور کبھی بعض افراد سے کچھ ایسی باتیں سننے میں آتی ہے اور  کچھ نظریات سامنے آتی ہے کہ انسان کو بہت  دکھ  پہنچتا  ہے ، یہ لوگ  ان بزرگوں کو عام انسانوں کی حد تک تنزل کر دیتے ہیں ، آپ ہمارے فقہ میں دیکھیں کہ امام صادق علیہ السلام سے کتنی روایات موجود ہیں ؟اول فقہ ( کتاب طہارت) سے لے کر آخر یعنی کتاب دیات تک امام صادق  علیہ السلام سے روایت موجود ہے ؛ اور وہ بھی نہ صرف ایک دو حدیث بلکہ بہت ساری روایات موجود ہیں ، صرف باب حج میں آپ ملاحظہ فرمائيں ، زرارہ امام صادق علیہ السلام سے عرض کرتا ہے میں چالیس سال سے آپ سے حج کے احکام کے بارے میں سوال کر رہاہوں لیکن ابھی تک ختم نہیں ہوا ہے ؛ خانہ کعبہ کے کچھ محدود اعمال ہیں ، تو اس کے بارے میں اتنے سارے احکام ، اور اس کے لئے کیوں اتنے طویل زمان درکار ہو؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا: تم کیا چاہتے ہو ؟ یہ گھر آدم کی خلقت سے دو ہزار سال پہلے محل طواف تھا ، اور تم چالیس سال میں اس کے احکام کو جاننا او ر سمجھنا چاہتے ہو ؟!یہ فروعی مسائل کے بارے میں ہے ، اعتقادی مسائل میں توحید سے لے کر معاد تک آپ ملاحظہ کریں امام صادق علیہ السلام سے کتنی روایات موجود ہیں ، انسان جب تصور کرتا ہے کہ اتنی ساری معلومات ایک عام آدمی سے ممکن نہیں ہے ، جب تک مبداء وحی سے متصل نہ ہو اور خداوند متعالی کا علم اس کے ساتھ نہ ہو ان تمام موارد میں جواب دینا ممکن نہیں ہے ، اگر ایک مجتہد سے بھی کسی فقہی مسئلہ کے بارے میں سوال کرے جس نے اپنی پوری عمر فقہ میں گزاری ہو ، وہ بھی عام طور پر یہی کہتا ہے کہ میں دوبارہ دیکھ کر بتاتا ہوں اور کتاب کی طرف مراجعہ کرنے کے بعد ہی وہ اظہار نظر کرتا ہے ۔



ماخذ :

۵۹۱ قارئين کی تعداد:

یقین کی نشانياں
تاریخ 20 October 2019 و ٹائم 17:37

یقین  کی  نشانياں

مرحوم کلینی نے کتاب  کافی میں باب "الایمان و الکفر " میں ،باب «فضل الايمان على الاسلام واليقين على الايمان»میں پانچویں حدیث میں ذکر کیا ہے :"على بن ابراهيم،عن  محمد بن عيسى، عن يونس،یہ روایت معتبر ہے ،قال:سألت اباالحسن الرضا (عليه السلام ) عن الايمان والاسلام؟ قال: فقال ابوجعفر (عليه السلام) ، آٹھویں امام  فرماتا ہے ، امام باقر علیہ السلام نے فرمایا:  انما هو الاسلام، و الايمان فوقه بدرجة و التقوى فوق الايمان بدرجة و اليقين فوق التقوى بدرجة"،جس چیز کے بارے میں انسان سب سے پہلے اعتقاد پیدا کرتا ہے وہ اسلام ہے ، اور اسلام سے ایک درجہ اوپر ، ایمان ہے ، اور ایمان سے ایک درجہ اوپر ، تقوی ہے ، اور تقوی سے ایک درجہ اوپر ، یقین کا درجہ ہے ۔

اور اسی روایت میں آگے جا کرفرماتے ہیں :و لم  يقسم بين الناس شى‏ء اقل من اليقين،خداوند متعال نے اپنے بندوں کو جتنی نعمتیں عطا کی ہیں  ان میں سے سب کم جو دیا گیا ہے وہ یقین ہے ،قال: قلت فائ شى‏ء اليقين ؟یقین  کیا ہے ؟فرمایا: یقین کے چار ارکان ہیں : خدا پر توکل ، خدا کے سامنے سر تسلیم خم ہونا، خدا کے قضا وقد رپر راضی ہونا، اور سب کاموں کو اسی پر چھوڑنا ۔

ابو بصیر کی روایت میں ہے ، کہ امام  علیہ السلام فرماتے ہیں : فما اوتى الناس اقل من اليقين وانما تمسکتم  بادنى الاسلام فاياکم ان ينفلت من أيديکم،لوگوں نے اسلام کے کمترین درجہ سے تمسک کیا ہوا ہے ، آگاہ رہیں کہ یہی بھی اس کے ہاتھ سے نکل نہ جائے ۔

فقہ اورتفسیر میں ایک بحث ہے وہ یہ ہے کہ اسلام اور ایمان میں کیا فرق ہے ؟ اس روایت یا بعض دوسری آیات میں جو ایمان ذکر ہے ، کیا وہی اصطلاحی ایمان ہے جس کا امامیہ قائل ہے؟

کہ بولا جائے: ایمان یعنی ولایت پر اعتقاد رکھنا ، اور اسلام یعنی خدا، توحید اور نبوت پر اعتقاد ، ان کے معتقد کو مسلمان کہا جاتا ہے اور اس سے ایک درجہ اوپر اگر ولایت پر بھی ایمان ہو تو  وہ   مومن   ہو   جاتا ہے ؟یہ اصطلاح فقہ میں رائج ہے ، مثلا کہتے ہیں : کسی حلال جانور کو ذبح  کرنے  والے کے شرائط میں سے ایک اس کا مومن ہونا ہے ،یعنی شیعہ ہو ۔

البتہ ممکن ہے یہ بتایا جائے کہ وہ ایمان اور اسلام ایک ہی ہے ، جب خدا نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے فرمایا : "و ان لم تفعل فما بلغت رسالته"اس کا معنی یہ ہے کہ اگر کسی نے امامت کو قبول نہیں کیا ، تو گویا اس نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کا ہی انکار کیا ہے ، اس وقت ، اسلام ہی نہیں ہے ، اور اس میں کوئی شک و شبہہ بھی نہیں ہے ، لیکن  اس معنی  سے  قطع نظر ، خود خدا کی نسبت ایک مرتبہ ہے کہ وہ مرتبہ اسلام ہے ، اور اس کا ظاہر یہی اسلام ہے جو شہادتین پڑھنے سے حاصل ہوتا ہے ، جب کسی انسان نے شہادتین کو پڑھ لیا تو وہ مسلمان ہو گیا ، لیکن ممکن ہے اس کے دل میں خدا پر ایمان نہ ہو ، ایمان  ایک  قلبی  چیز ہے ، یعنی واقعا ًجو چیز زبان سے بولا جاتا ہے وہی چیز انسان  کے  قلب  میں  بھی  ہو ۔

اس ایمان کے درجہ سے اوپر کیا ہے ؟ اسلام ظاہری شہادتین سے شروع ہوتا ہے ، اس کے بعد قلب میں ایمان میں تبدیل ہو جاتا ہے ، اور جب انسان کے اعضاء و جوارح میں ایمان ظاہر ہونے لگتا ہے ،یعنی واجبات کو انجام دیتا ہے اور محرمات کو ترک کرتاہے ،اس وقت  متقی ہوتا ہے ، اور اس سے بالاتر درجہ یقین ہے ۔

میں اس مطلب کے بارے میں کچھ تاکید کرتا ہوں کہ توجہ  فرمائيں: عاقل انسان وہ ہیں جو اس تلاش میں رہے کہ  کمیاب ہیرے کہاں ہوتے ہیں تا کہ اسے پیدا کر لے ، انسان جب تنور والے کے پاس جاتا ہے تا کہ روٹی لے لیں ،اس کی فطرت یہ ہے کہ  کوئی  اچھی  روٹی  لے  لیں ، جب وہ کپڑا خریدنا چاہتا ہے تو یہ کوشش ہوتی ہے کوئی خاص کپڑا خریدے ، اسی طرح ہم معنویات میں بھی بیٹھ کر سوچیں ، الحمد للہ ہم سب روایات کو پڑھ سکتے ہیں ، ہمارے ائمہ طاہرین علیہم السلام نے بہت ہی واضح اور کامل طور پر تمام مراحل کو ہمارے لئے درجہ بندی کرکے بیان فرمائے ہیں ، ایمان ، اسلام سے ایک درجہ اوپر ہے ، تقوا ، ایمان سے ایک درجہ بلند ہے ، اس کے بعد فرماتا ہے یقین ان سب سے بالاتر ہے ، اس کے بعد فرماتا ہے :آگاہ ہو جاؤ! خداوند متعال نے انسان کے لئے جتنی نعمتیں عطا کی ہیں ان سب میں سے کوئی بھی نعمت اتنی کم نہیں دی گئي ہے جتنی یقین کم اور محدود دی ہے ، ہمیں چاہئے اسے حاصل کرے ؛ اور اس یقین کی چار نشانیاں ہیں :

1۔خدا پر توکل؛ انسان اپنے تمام کاموں میں خدا کو اپنا وکیل قرار دے  ، حتی  کہ   ایک علمی گفتگو میں بھی خدا کو اپنا وکیل قرار  دیں ، کہ اسے اس ہدف تک پہنچے میں مدد کرے جس   میں  خدا  کی  رضایت  ہو ۔

دنیوی امور میں تو بہت ہی سزاوار ہے کہ انسان ان کاموں میں خدا کو اپنا وکیل قرار ديں ، انسان کے لئے جو واقعات  پیش  آتے ہیں  ، مال و دولت ہاتھ سے چلا جاتا ہے ، کوئی عزیز وفات پاتا ہے ، ان مصائب اور مشکلات کے اوقات میں انسان کو یہ دیکھنا چاہئے کہ آیا خداوند متعال اس کی قلب کو تسلی دیتا ہے یا نہیں ؟ یہ خدا پر توکل کا مقام ہے ، ایک دن معاشرہ میں   اس کی عزت  ہوتی  ہے اور ایک دن وہ اسی معاشرہ میں ذلیل ہوتا ہے ، "یوم لک و یوم علیک" دونوں حالات میں آیا خدا پر  توکل کرتا ہے یا نہیں ؟ خدا پر توکل کرنا بہت ہی مہم ہے ، انسان کو چاہئے کہ ہر حالت میں خدا کو اپنا وکیل قرار دے دیں ۔

2۔ توکل سے بالاتر مقام ، اس کے سامنے تسلیم ہونا ہے ، توجہ کریں ، وہ اسلام جو ابتداء میں ہے وہ کہاں ہے اور یہ  تسلیم  جو  یقین کا دوسرا درجہ ہے وہ کہاں  ؟ ! خدا کے سامنے  تسلیم ہونا یعنی مشکلات میں شکوہ  و  شکایت نہ کرنا ، تسلیم یہ ہے کہ انسان مشکلات کے وقت شکوہ و شکایت کی زبان  نہ  کھولے ، بلکہ جو بھی پیش آئے اسی کو قبول کرے ۔

3۔ خدا کے قضاء وقدر پر راضی ہونا ۔

4۔ تمام کاموں کو خدا پر چھوڑ دینا



ماخذ : اصول کافی، ج 2، ص 51

۵۶۰ قارئين کی تعداد:

ٍزبان کی حفاظت
تاریخ 20 October 2019 و ٹائم 17:37

زبان کی حفاظت


اسی حدیث کے سلسلے میں جس کا ایک حصہ  پچھلے ہفتہ بیان ہوا کہ امیر المومنین علیہ السلام نے محمد بن حنفيہ سے فرمایا : یا بنی لا تقل ما لا تعلم،اے بیٹا ! جس چیز کے بارے میں  نہیں  جانتا ہو اس کے بارے میں کچھ نہیں بولو " اس کے بعد فرماتا ہے : بل لا تقل کلّ ما تعلم"،بلکہ ہر وہ چیز جس کے بارے میں علم ہے اسے بھی نہ بولو!یہ  ایک بہت ہی اہم حکم ہے کہ انسان کو چاہئے اپنی زندگی میں اس کی رعایت کرے ، انسان  کے پاس یہ قدرت اور طاقت ہونی چاہئے کہ وہ اپنی زبان پر کنٹرول کرے اور اس کی حفاظت کر سکے، اب کبھی  انسان کسی چیز کے بارے میں کچھ جانتا ہے اور وہ اسے اظہار کرنا چاہتا ہے ، کہ کبھی یہ ہم طلاب کے درمیان میں بھی پایا جاتا ہے کہ اظہار فضل کرنا چاہتے ہیں، یہ ایک نا پسند کام ہے ، ہمارے بزرگان بھی اس کا بہت خیال رکھتے تھے کہ حتی الامکان اپنی فضل اور جس چیز کو جانتے ہیں ان کا اظہار نہ کرے،کبھی  ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی جمع میں بیٹھے ہوتے ہیں ، اور اس شخص سے سوال نہیں ہوتا بلکہ کسی اور شخص سے کسی موضوع کے بارے میں سوال ہوتا ہے ، اور دوسرا شخص جس سے سوال ہوا ہے وہ عمر میں بڑے ہوں، لیکن دوسرے افراد جو جوان ہیں وہ اس سوال کے جواب دینے میں جلدی کرتے ہیں ، یہاں پر پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر یہ جو جواب دیتا ہے اگر کامل ہو اور صحیح بھی ہو پھر بھی یہ اس شخص کے ذہن میں نہیں بیٹھتا ہے جس نے سوال کیا ہے ، وہ اس پر کوئی اعتناء نہیں کرے گا ، وہ اپنی جگہ پر مصمم ارادہ کیا ہوا ہے کہ اس کی بات پر کوئی توجہ نہیں دینا ہے ، تو انسان کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ  ایسے مواقع پر اپنے آپ کی تذلیل کرے ، انسان کو چاہئے جب تک خود اس سے کوئی سوال نہ ہو کوئی جواب نہ دے۔

مجھے یاد ہے کہ مرحوم آقای اشتھاردی جو کہ تقریبا 10 سال  مکہ میں ہمارے مرحوم والد بزرگوار کے بعثہ میں مشرف رہتے تھے ، میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تھا ، ان کی ایک بہت ہی اچھی خصوصیت یہ تھی کہ جب تک ان سے سوال نہ کرتے تھے کوئی بات نہیں  کرتے  تھے ، اور اگر صبح سے ظہر تک ان سے سوال کرتے تو مسلسل جواب دیتے ، ایک موبائل عروۃ الوثقی (احکام کی ایک جامع کتاب) تھے، مرحوم اشتھاردی کے ذہن میں شرعی احکام اور فروعات اور مختلف نظریات راسخ تھے ،اور اگر کوئی آکر ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے کسی سے سوال کرتے ، تو آپ اس کا کوئی جواب نہیں دیتے تھے ، جب تک  خود  ان سے  سوال نہیں کرتے کوئی جواب نہیں دیتے تھے ، یہ بہت اچھا طریقہ ہے ، لیکن اس کے لئے نفس پر بہت زیادہ کنٹرول کی ضرورت ہے ، انسان کو کسی مسئلہ کے بارے میں بہت اچھی طرح معلوم ہو اور اس کے حضور میں کسی ایسے شخص سے پوچھے جو اس سوال کے جواب کو غلط بتا رہا ہو ، لیکن یہ انسان اپنے آپ پر کامل طور پر مسلط رہے اور خاموش رہے ،بہت ہی قدرتمند ہونے کی ضرورت ہے ، بہر حال جہاں پر انسان پر کچھ بولنا واجب نہ ہو وہاں ایسا ہی کرنا چاہئے ، لیکن بعض  جگہوں پر انسان پر واجب ہو جاتا ہے تا کہ کسی جاہل کی  اصلاح کرے وہاں پر کوئی بات نہیں ہے ، وہاں پر انسان کچھ بولے لیکن اگر ایسی کسی چیز کی ضرورت نہ ہو تو خاموش رہنا بہتر ہے ،کوئی  جواب  نہ دینا بہتر ہے ،یہ ایک مثال ہے ، اس کے لئے اور بھی بہت سارے مثالیں ہیں ، مثلا کسی جگہ چند لوگوں کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے وہاں پر اس سے کوئی سوال بھی نہیں ہوتا لیکن وہ کچھ بات کر لیتا ہے تا کہ اس کے علمی مراتب کو دیکھا دیں ، ایسے کام کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟ امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں : فإن الله قد فرض علی جوارحک کلّها فرائض یحتجّ بها علیک یوم القیامة،ہم یہ نہ سوچيں  کہ ہمیں کچھ معلوم ہے ، اگر ہم نے وہ بیان کر دیا تو قیامت کے دن خداوند متعالی اس کے بارے میں ہم سے پوچھيں گے ، انسان کے ہر اعضاء و جوارح کے لئے کچھ فرائض قرار دیا ہے خدا ان سے قیامت کے دن پوچھیں گے ، " و يسالك عنها و ذكرها و وعظها و حذرها و ادبها" ان اعضاء اور جوارح کو ادب کی ہے ،ایسے ہی فضول میں نہیں چھوڑا ہے ! ان اعضاء و جوارح کو جسے خداوندمتعالی نے ہمارے اختیار میں قرار دیا ہے " و لم تبركها سدى" فضول میں رہا نہیں کیا ہے ، اس کے بعد اس آیت کریمہ سے تمسک کرتے ہیں :" فقال الله عزوجل : (و لا تقف ما ليس لك به علم ان السمع و البصر و الفواد كل اولئك كان عنه مسولا " اور اس کے بعد اس آیت کریمہ سے بھی استدلال کیا ہے :" اذ تلقونه بالسنتكم و تقولون بافواهكم ما ليس لكم به علم و تحسبونه هينا و هو عندالله عظيم " اس میں خداوند متعالی فرماتا ہے : اس وقت کو یاد کرو کہ  تلقّونه بألسنتکمکہ اس تہمت اور افتراء کو ایک دوسرے کے زبان سے نقل کرتے تھے ، یعنی ایک شخص دوسرے کو بتاتا تھا اور وہ تیسرے شخص کو اور تیسرا  چوتھے  شخص کو "و تقولون بأفواههم ما لیس لکم به علم و تحسبونه هیّنا" اور یہ سوچتے تھے کہ اس میں کوئی  مسئلہ  نہیں ہے ! یہ ایک بہت ہی اہم بات ہے کہ کبھی انسان کسی چیز کے بارے میں بتاتا ہے اور اس کے بارے میں اس کو کچھ معلوم بھی نہیں ہے ، اور جب اس شخص سے پوچھا جائے کہ کیوں ایسی بات کی ہے تم نے ؟ تو وہ یہی کہتا ہے کہ میں نے سنا تھا ، اور اپنے اس کام کو بہت ہی ہلکا سمجھتا ہے ، لیکن خدا فرماتا ہے "و هو عند الله عظیمٌ"،خدا کے نزدیک یہ بہت بڑا ہے ، یہی لا تقل کلّ ما تعلم" کے مصادیق میں سے ایک مصداق ہے  ، اس کا ایک مصداق یہ ہے کہ کبھی انسان اپنے بارے میں کچھ مکاشفہ ( مثلا اپنے بارے میں کچھ مکاشفہ ہوا ہے ) اسے بیان کر دیتا ہے ، اور مخاطب کے لئے اسے قبول کرنا بہت ہی مشکل ہے ، اسی طرح کچھ دوسروں کے بارے میں کچھ مکاشفات کو جانتے ہیں ، اور جا کر منبر سے ان عوام کے لئے  بیان  کرتے ہیں  جو  خود خواب اور بیدار ی کو نہیں جانتے ہیں ، کہتا ہے کہ میں آپ لوگوں کے لئے کچھ  مکاشفات  بیان کرنا چاہتاہوں ، یہ اچھی بات نہیں ہے ، اور اس طرح بیان نہیں ہونا چاہئے ، اور کبھی کتابوں میں بھی اس طرح کے مطالب نظر آتے ہیں ، کہ کچھ عرصہ پہلے ہمارے بڑے اساتید حفظہ اللہ میں سے بعض کی کچھ کتابیں چھپ چکی ہیں ، کہ اس میں اپنے کچھ مکاشفات کو بھی بیان کیا ہے ، اگر یہ ذکر نہ ہوتے تو بہت اچھا تھا ، معاشرہ میں اس طرح کے مکاشفات کو قبول کرنی کی قدرت نہیں ہے ، حتی کہ خود حوزہ علمیہ کے طلاب میں بھی یہ قدرت نہیں پائی جاتی ، اس وجہ سے یہ چیزیں افراط اور تفریط کا شکار ہو جاتا ہے  ، کچھ افراد ممکن ہے غلو کرے لے اور اس شخصیت کو تالی تلو عصمت تک قرار دیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ نعوذ باللہ بعض افراد ان کو تالی تلو کفر قرار دیں ، چونکہ ان چیزوں کو صحیح  طرح  سمجھ  نہیں سکتا ہے، لہذا یہ بھی  "لا تقل کلّ ما تعلم" کے مصادیق میں سے ایک ہے، انسان کے لئے بعض اوقات کچھ مکاشفات یا اپنے لئے کچھ حالات پیدا ہوتے ہیں وہ بھی اسی کے مصادیق میں سے ہے ، اس حدیث کے بارے میں اور بھی غور و فکر کریں شاید اس سے  بھی  بہتر  معنی  کر  سکے ۔




ماخذ : منبع : وسایل الشیعه،‌ ج15، ص 169

۴۲۰ قارئين کی تعداد:

امام صادق علیہ السلام کا علماء اہل سنت سے برتاؤ
تاریخ 20 October 2019 و ٹائم 17:37

امام صادق علیہ السلام کا علماء اہل سنت سے برتاؤ

میں ابتدائی طور پر یہ عرض کروں گا کہ ہمیں چاہئے  امام صادق علیہ السلام ( یہ ایام آپ کی شہادت کے ایام ہیں ) کے بارے میں کچھ زیادہ توجہ دیں ، ہم اپنے گھر ، رشتہ داروں اور اپنے شہر میں امام صادق علیہ السلام کی نسبت ایک خصوصی احترام کا قائل ہو جائے ،مشہور مورخین اور رجال شناس افراد کے قول کے مطابق ، اصول اربعمائمہ امام صادق علیہ السلام کے زمانہ میں موجود تھا ، اور یہ بات کثرت  کے ساتھ بیان ہوئی ہے کہ اسی وقت یا اس کے بعد والے زمانہ میں مسجد کوفہ میں 900 ایسے افراد کو میں نے دیکھا جو سب یہ بتاتے تھے : قال جعفر بن محمد۔

لہذا اس وقت امام صادق علیہ السلام سے جو روایات ہمیں ملی ہیں ، ہماری فقہ کی بنیاد یہی روایات ہیں ، اور یہ سب امام صادق علیہ السلام کے وجود کی برکت سے ہے،اسی طرح ہمارے فقہی اور علمی حیات ، ہمارا حوزہ علمیہ سب کے سب انہی حضرت سے مربوط ہے ، لہذا  اس امام علیہ السلام کی شہادت کے دن خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے ، جہاں تک ہم سے ہو سکے مجالس عزاء برپا کرے اور آپ علیہ السلام کے زندگی کے مختلف پہلوں کے بارے میں شناخت پیدا کرے ، میں ہمیشہ بتاتا رہتا ہوں کہ ایک اہم کام جو ابھی تک نہیں ہوا ہے اور  ہونا چاہئے ،یہ ہے کہ امام صادق  اور امام باقر علیہما السلام کا اہل سنت کے علماء ؛ ابوحنفیہ ، قتادہ، ابن ابی لیلا، ابن مالک اور دوسروں کے ساتھ رویہ کیسا تھا؟ لوگوں کو ان کے ساتھ وحدت کی رعایت ، ان کے مجالس میں شرکت کرنے ، ان کے تشیع جنازہ میں شرکت کرنے ، ان کے ساتھ مدارات سے پیش آنے اور ان کے نمازوں میں شرکت کرنے کی تشویق دلاتے تھے ، ان سب کے باوجود ان کے درجہ اول کے افراد کے لئے علمی لحاظ سے کسی ارزش کا قائل نہیں تھے اور اسے بیان بھی فرماتے تھے ، کبھی ایک ہی جگہ پر ان کے ساتھ جب جمع ہوتے تھے تو امام صادق علیہ السلام ان سے کچھ سوالات بھی  پوچھتے تھے۔

اس پر خاص توجہ دیں کہ روایات میں ہے کہ سوال صرف سمجھنے کے لئے ہوناچاہئے اس کے علاوہ اس سے کوئی اور غرض اور مقصد نہیں ہونا چاہئے ، لیکن چونکہ ان لوگوں نے اپنے آپ کو فتوا دینے کی اس منصب پر قرار دیا ہوا تھا تو حضرت ان کو یہ سمجھانا چاہتے تھے کہ تمہارے اندر فتوا دینے کی صلاحیت نہیں ہے ، اور کچھ موارد کو بھی بیان فرماتے کہ ہماری روایات میں بہت سارے موجود ہیں ، امام باقر علیہ السلام نے قتادہ سے فرمایا تم کس بنیاد پر اجتھا د کرتے ہو اور کیسے فتوا دیتے ہو ؟ اس نے جواب دیا : میں قرآن کے مطابق فتوا دیتا ہوں ، آپ علیہ السلام نے اس سے فرمایا:«مَا وَرَّثَکَ اللَّهُ مِنْ کِتَابِهِ حَرْفا»،تمہیں قرآن کی حقیقت سے ایک حرف  کے بارے میں بھی علم نہیں ہے ، میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ اس سے حضرت علیہ السلام کا مراد یہ نہیں ہے کہ تمہیں قرآن کے ظاہر سے کچھ بھی معلوم نہیں ہے ، کیونکہ قرآن کا ظواہر سب لوگوں کے لئے قابل فہم ہے ، لیکن انسان کو آیات کی حقایق سے کچھ استفادہ کرنا چاہئے اور بہت گہرے مطالب تک پہنچنا چاہئے ، اس بارے میں تمہیں کچھ بھی سمجھ نہیں آتا ہے ، یا بہت سارے مواقع پر حضرت علیہ السلام ابو حنفیہ سے مختلف سوالات کرتے ہیں ، وہ واقعہ جو کتاب مکاسب میں صحیحہ ابو ولاد میں ذکر ہوا ہے ، کہ کسی شخص نے ایک خچر کو ایک خاص جگہ تک جا کر واپس آنے  کے لئے کرایہ پر لیا، لیکن اس جگہ سے واپس نہیں آیا بلکہ کسی اور جگہ چلا گیا ، آدھا دن جاکر واپس آنے کے بجائے ، 15 دن یہ سفر طویل ہوا ، خچر کا مالک سنی تھا ، اور جس نے کرایہ پر لیا تھا وہ شیعہ تھا ،یہ لوگ ابوحنیفہ کے پاس چلے گئے ، ابوحنیفہ نے کہا : جو پیسہ اجارہ کے لئے معین ہوا تھا وہی دینا ہو گا اس کے علاوہ کچھ اور دینا ضروری نہیں ہے ، خود یہ سنی بھی اس ظالمانہ فتوا سے تعجب کرنے لگے ، لیکن چونکہ ابوحنیفہ نے کہا تھا لہذا اس بات کو یہیں پر ختم کر لیا ، لیکن اس  شیعہ شخص  کو حج کے ایام میں امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہونے کا شرف حاصل ہوا اور اس نے امام علیہ السلام کی خدمت میں اس واقعہ کو بیان کیا ، آپ علیہ السلام نے فرمایا : اسی طرح کے فتوا کی وجہ سے ہے کہ آسمان سے بارش نہیں برستی  اور زمین سے سبزہ نہیں نکلتا ۔

ایسے مواقع پر تقیہ کچھ نہیں تھا اور ان سے فرما دیتے تھے کہ تمہارے اندر دین سمجھنے کی کوئی اہلیت نہیں ہے ، فتوا دینے کی اہلیت نہیں رکھتے ہو ، اگر ابو حنیفہ کی ان فتواوں کو جمع کر لیں تو ان میں بہت سے عجیب غریب چیزیں نظر آتی ہیں ، یہ روایت ظاہرا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے ہے کہ فرماتے ہیں : «الولد للفراش» بچہ شوہر کا ہے ، اس کے ذیل میں ایک عجیب فتوا جو میں نے خود اہل سنت کی فقہی کتابوں میں دیکھا ہے یہ ہے کہ اگر دنیا کے اس کونہ میں ایک مرد نے دنیا کے دوسرے  کونہ میں ایک عورت سے شادی کر لی ، تو یہ عقد صحیح ہے اگرچہ ان دونوں میں سے کسی نے بھی دوسرے کو نہیں دیکھا ہو ، اگر دس سال بعد اس عورت کے ہاں کوئی بچہ ہوا تو ابو حنیفہ کہتاہے ، یہ بچہ اس مرد کا ہے جو دنیا کے اس کونہ میں ہے، یہ اس کے فتواوں میں سے ایک ہے ، واقعا ان لوگوں نے اسلام کے ساتھ کیا کھیل کھیلا ہے اور اسلام کو کن مصیبتوں میں ڈال دیا ہے ۔خود ابو حنیفہ نے کہا ہے کہ ہمارے پاس پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے 5 سے زیادہ قطعی احادیث نہیں ہیں ،اس کے علاوہ باقی چیزوں کو ہمیں خود حل کر لینا چاہئے اور اس نے ایسا ہی کر لیا ، قیاس سے تمسک کرتے ہوئے اکثر مسائل کو حل کر لیا ، یہاں پر  مجھے ہمارے مرحوم والد محترم (اعلی اللہ مقامہ الشریف) کی ایک بات یاد آتی ہے ، کہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ اگر مجھ سے پوچھیں کہ آئمہ علیہم السلام کی مظلومیت کس میں ہے ؟ میں یہ بتاوں گا کہ ان کی مظلومیت صرف امامت کے غصب کرنے یا ان کی بے احترامی کرنے میں نہیں ہے ، بلکہ ان کی مظلومیت اس میں ہے کہ ایک وقت ایسا تھا کہ اسی مکہ اور مدینہ میں ہزاروں افراد کی تربیت کر تے تھے  ، سارے مسائل میں ان سے دس ہزار روایات موجود ہیں ، لیکن آج ہم جب مکہ اور مدینہ جاتے ہیں تو ان میں سے ایک روایت کا بھی کوئی اثر وہاں موجود نہیں ہے ۔

فرماتے تھے بقیع کو ان لوگوں نے خراب کر لیا ، یہ ہمارے لئے ایک بہت بڑی پریشانی ہے ، اور یہ کبھی ختم نہ ہونے والی پریشانی ہے ، لیکن ان کی مظلومیت اس میں نہیں ہے کہ ان کے گنبد اور بارگاہ کو خراب کر لیا ، بلکہ ان کی مظلومیت یہ ہے کہ ایک وقت ایسا تھا کہ مکہ و مدینہ کے مالک اور آقا تھے ، وہاں پر سارے روای ان  کے محضر سے استفادہ کرتے تھے ، حتی کہ خود ابوحنیفہ امام صادق علیہ السلام کے شاگردوں میں سے تھا ، اور مالک نے یہاں تک کہا تھا کہ جعفر بن محمد سے زیادہ فقیہ نہ کسی  آنکھ نے دیکھی ہے اور نہ کسی کان نے  سنا ہے ، اور ان علیہ السلام سے زیادہ کسی کے بھی قلب میں علم خطور نہیں کرتا ہے ، لیکن اب یہ نظر آتا ہے کہ وہاں پر ان میں سے کسی چیز کا بھی کوئی اثر موجود نہیں ہے ۔



ماخذ :

۴۱۷ قارئين کی تعداد:

امام صادق علیہ السلام کی نظر میں علماء کی قدر و منزلت
تاریخ 20 October 2019 و ٹائم 17:37

امام صادق علیہ السلام کی نظر میں علماء کی قدر و منزلت

یہ ایام  رئیس مذہب امام صادق  علیہ السلام کی شہادت کے ایام ہیں ، ایک ایسی  مبارک ہستی کہ یہ تمام حوزات علمیہ اور وہ تمام علوم جن پر شیعہ آج فخر و مباہات  کرتے ہیں انہی  امام علیہ السلام کی پر برکت  حیات سے ہے ، آپ دیکھیں کہ ہمارے پاس اس مبارک ہستی سے کتنی روایات موجود ہیں ، کتنے اصحاب ، اشخاص اور بزرگوں نے آپ  علیہ السلام سے تمام فقہی مسائل میں روایات کو ہمارے لئے بیان کيے ہیں ۔

میں یہاں پر دو مطلب کے بارے میں کچھ عرایض پیش کرنا چاہتا ہوں ؛ ایک مطلب یہ ہے کہ حافظان دین کی تکریم اور احترام کے بارے میں امام صادق علیہ السلام کی سیرت کیا تھی، اس بارے میں ہمیں توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔

جو لوگ امام صادق علیہ السلام کی نظر میں دین کے حافظ تھے آپ کے نزدیک ان کی کیا حیثیت تھی ، یہ مطلب ہم طلاب علوم دینی  کے لئے بہت اہم ہے کیونکہ ہم سب کا  دعوا ہے کہ ہم دین کی حفاظت  کے راستہ میں آئے ہیں اور اس راستہ  میں  اپنی زندگی گزار رہے ہیں ،اس بارے میں توجہ کرنے سے خود ہمیں بھی اپنے کام کی قدر و قیمت کا اندازہ ہوتا ہے اور دوسروں کے لئے بھی ان کی ذمہ داری مشخص ہو جاتی ہے ، جب ایک انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ حافظان دین کی امام صادق علیہ السلام کے نزدیک  اتنی  زیادہ اہمیت ہے ، تو اس کے بعد علماء اور مراجع کو بھی ایک عام آدمی نہیں  سمجھیں گے  ، اور ان کی اعتبار اور قدر و منزلت کو دوسرے لوگوں کے برابر قرار نہیں  دیں گے  ، اس بارے میں ،میں چند روایات کو نقل کرتا ہوں ؛

فضل بن عبد الملک کہتا ہے : «سمعت ابا عبدالله عليه السلام يقول أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ أَحْيَاءً وَ أَمْوَاتاً أَرْبَعَةٌ بُرَيْدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْعِجْلِيُّ وَ زُرَارَةُ وَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ وَ الْأَحْوَلُ وَ هُمْ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ أَحْيَاءً وَ أَمْوَات»، میرے نزدیک محبوترین لوگ چاہئے وہ زندہ ہو یا دنیا سے چلے گئے ہوں ، چار نفر ہیں : بُريد، زراره، محمد بن مسلم و احوَل.

جمیل بن دراج کی روایت میں فرماتا ہے : «بَشِّرِ الْمُخْبِتِينَ بِالْجَنَّةِ بُرَيْدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْعِجْلِيُّ وَ أَبُو بَصِيرٍ لَيْثُ بْنُ الْبَخْتَرِيِّ الْمُرَادِيُّ وَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ وَ زُرَارَةُ أَرْبَعَةٌ نُجَبَاءُ أُمَنَاءُ اللَّهِ عَلَى حَلَالِهِ وَ حَرَامِهِ لَوْ لَا هَؤُلَاءِ انْقَطَعَتْ آثَارُالنُّبُوَّةِ وَانْدَرَسَتْ»؛امام صادق علیہ السلام نجبای اربعہ ( چار نجیب افراد) کا نام لیتے ہیں اور فرماتے ہیں ؛ اگر یہ چار نہ ہوتے تو آثار نبوت  ختم ہو جاتے ، یہ چار نفر ،بریدبن معاویہ عجلی ، محمد بن مسلم ، زرارہ  ابا بصیر  اور لیث بن بختری مرادی ہیں ۔

داود بن صرحان امام صادق علیہ السلام سے نقل کرتا ہے : «إنّه قال إنّ أصحاب أبيه كانوا زيناً أحياءاً و اموات»؛ امام صادق علیہ  السلام فرماتا ہے : میرے پدربزرگوار امام باقر علیہ السلام کے اصحاب دین اور لوگوں  کی  زینت ہیں ، زندہ ہوں یا دنیا سے چلے گئے ہوں ، یہ تاکید اس چیز کی طرف اشارہ ہے کہ ان افراد کی اہمیت صرف ان کی حیات پر منحصر نہیں ہے بلکہ جب دنیا سے چلے جائے تب بھی ان کی اہمیت باقی ہے ، اس کے بعد آپ (ع) ان چار افراد کے نام لیتے ہیں :زراره، محمد بن مسلم، ابو بصير و بريد. ، اس کے بعد فرماتا ہے: «هولاء القوامون بالقسط، هولاء القوالون بالصدق»؛ یہ لوگ عدالت برپا کرنے والے ہیں ، یعنی یہ اشارہ ہے اس قائمین قسط کی طرف جو قرآن کریم میں ذکر ہے : هؤلاء السابقون السابقون اولئك المقربون اينها السابقون السابقون "؛ اب کوئی شخص پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں تھا ، لیکن آپ کے راستہ پر صحیح طرح نہیں چلا ہے ، لیکن پھر بھی یہ بتایا جائے کہ چونکہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں تھا تو یہ خود بخود عنوان السابقون السابقون میں داخل ہوتا ہے ؛ ایسا نہیں ہے !السابقون السابقون وہ لوگ ہیں جو دین کی حفاظت کرنے ، دین کو بیان کرنے اور دین کو قوت پہنچانے میں دوسروں سے سبقت لے لیں ، یہاں پر زمان کے لحاظ سے پہلے ہونا مراد نہیں ہے ، کہ یہ بتایا جائے چونکہ ایک شخص زمان کے اعتبار سے دوسرے سے مقدم ہے ، تو یہ اسی اعتبار سے مقدم ہوگا ، ایسا نہیں ہے ۔

ایک اور روایت جو پہلے کی روایات کی نسبت کچھ مفصل ہے ، اس میں جمیل بن دراج کہتا ہے : میں ایک دن امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں شرفیاب ہوا تو ایک شخص وہاں سے نکل کر جا رہا تھا ، حضرت (ع) نے مجھ سے فرمایا : «لقيت الرجل الخارج من عندي» ؛ جو شخص یہاں سے نکل کر جا رہا تھا کیا تم نے اس کو دیکھا ؟ «فقلت بلي» ؛ عرض کیا : جی ہاں ! «هو رجلٌ من اصحابنا من أهل الكوفه» ؛ پہلے جمیل نے کہا یہ شخص ہمارے افراد میں سے ہے اور اہل کوفہ ہے ، امام علیہ السلام نے فرمایا : «لا قدّس الله روحه و لا قدّس مثله» ؛خدا  اس کی روح کی تزکیہ نہ کرے ! یہ یا نفرین ہے ، یا یہ بھی وہ دعا ہے جو ہم عام طور پر کرتے ہیں : قدس الله نفسه، حضرت فرماتا ہے : یہ دعا اس شخص کے لئے نہ ہو ، یہ نفرین سے ایک درجہ کم ہے !یا یہ نفرین ہی ہے کہ ممکن ہے ایسا ہی ہو ، یا یہ بتایا جائے کہ حضرت اس کو نفرین کرنا نہیں چاہتا تھا بلکہ  نفرین سے ایک درجہ کم کو بیان فرمایا ہے ، یعنی یہ دعا جو اولیاء خدا کے لئے ہے ، ایسے افراد کے لئے نہ ہو !«إنّه ذكر اقوام» ؛اس کے بعد حضرت اس شخص کو نفرین کرنے کی علت کو بیان فرماتا ہے ۔

فرماتے ہیں اس کی علت یہ ہے کہ اس شخص نے میرے سامنے ان افراد کو برا بھلا کہنا شروع کیا جو میرے والد بزرگوار کے امین اور مورد اطمینان تھے ، اور میرے والد گرامی ان پر اعتماد کرتے تھے «ذكر اقوام» یعنی ان کی عیب جوئی کی «كان أبي ائتمنهم علي حلال الله وحرامه»  ان افراد کی برائی کی جو میرے والد کے ہاں خدا کے حلال اور حرام پر امین تھے «و كانوا عيبة علمه»  یہ لوگ میرے باپ کے علم کے مخزن تھے «و كذلك اليوم هم مستودع سرّي» آج بھی میں اپنی اسرار کو ان کے پاس امانت رکھتا ہوں ، دین کے تمام اسرار کو میں ان تک منتقل کرتا ہوں «اصحاب أبي حقّاً إذا أراد الله لأهل الأرض سوءاً صرف بهم عنهم السوء»یہ  ایسے لوگ ہیں کہ اگر خداوند متعال روئے زمین کے تمام لوگوں پر عذاب نازل کرنا چاہئے تو انہیں چار نفر کی برکت سے عذاب کو ان سے ٹال دے گا «هم نجوم شيعتي احياءاً و اموات» یہ میرے شیعوں کے ستارے ہیں زندہ ہو  یا اس دنیا سے چلے جائے «يحيون ذكر أبي» یہ لوگ میرے والد اور اجداد کے ذکر کوزندہ رکھنے والے ہیں «بهم يكشف الله كلّ بدعةٍ»لوگوں کے لئے جو بھی بدعت پیش آتی ہے وہ ان لوگوں کے ذریعہ واضح ہوجاتی ہے ، یہ لوگ کاشف بدعت ہیں «ينفون عن هذا الدين إنتحال المبطلين و تعوّل الغالين» یہ لوگ ان لوگوں کو اس دین سے جدا کرتے ہیں جو حقیقتا متدین نہیں ہیں لیکن اپنے آپ کو اس دین سے منسوب کرتے ہیں اور بغیر کسی ملاک اور معیار کے اس دین سے اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں ،ان سب کو یہ لوگ اس  دین سے جدا کرتے ہیں ۔

حدیث  کے باقی  حصوں کو بیان کرنے سے پہلے یہاں پر ایک مطلب کو بیان کروں ؛ اگر واقعا کسی زمانہ  میں  زرارہ ،محمد بن مسلم اور برید وغیرہ میں یہ خصوصیات تھیں جسے امام صادق علیہ السلام بیان فرما رہے ہیں ، اور چونکہ کسی شخص نے ان کی برائی کی تھی تو امام علیہ  السلام اس شخص کو نفرین کرتا ہے ، ہمارے زمانہ میں کون  لوگ حافظان دین ہیں ؟ ہمارے زمانہ میں کونسے مراکز اور کون لوگ دین کی حفاظت کو اپنے ذمہ لیے ہوئے ہیں ؟ علماء ، حوزات علمیہ ، بزرگان اور مراجع عظام، دین کے حافظان ہیں ، اور یہ «لاقدّس الله مثله ولاقدّس الله روحه» وہی نفرین ہے جسے اس زمانہ میں امام صادق علیہ السلام نے کیا ہے ، یہ ہمارے زمانہ میں بھی ان لوگوں کو شامل ہوتا ہے جو مراجع عظام کی نسبت بے اعتنائی کرتے ہیں اور ہمیشہ یہ کوشش کرتے ہیں کہ جو کچھ یہ حضرات بیان کرے ان کے خلاف کچھ بولے، آج خدا کے حلال اور حرام کے امین کون ہیں ؟ ہمارے مراجع حجاب اور پردہ کے بارے میں اتنے  زیادہ  فریاد کرتے ہیں اور اس بارے میں پریشانی کا اظہار کرتے ہیں ، لیکن اس کے بالکل  مقابلہ  میں مختلف قسم کے بیانات ، مجلات اور دوسری چیزیں نشر ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔

امام علیہ السلام اس روایت میں آگے فرماتے ہیں : «ثم بكي»بہت ہی عجیب ہے ،کسی شخص نے جب زرارہ کی برائی کی ، محمد بن مسلم اور برید کی برائی کی تو  امام صادق علیہ السلام  اتنے زیادہ  ناراض ہوتے ہیں اور اس کے مقابلہ میں آتے ہیں اور بعد میں گریہ بھی کرتا ہے کہ کیوں ایسا ہوا ہے ؟

روایت  میں  فرماتا ہے :«عليهم صلوات الله و رحمته أحياءاً و اموات»یہ لوگ زندہ ہو یا اس دنیا سے چلے جائے خدا کی صلوات اور رحمت ان پر ہو ، یہ ہمارے کام کی اہمیت کو ہمارے لئے بیان کرتا ہے ، یہ عظیم دورس جو حوزات علمیہ میں موجود ہیں یہ سب اس لئے ہے کہ ہم چاہتے ہیں حلال اور حرام کو جان جائے !اس سے بڑھ کر کوئی افتخار نہیں ہے کہ انسان کا وجود خدا کے حلال اور حرام کا امین قرار پائے ، خدا کے حلال اور حرام کا حافظ قرار پائے ، اگر کسی جگہ دیکھ لیا ہے حلال ہے تو بیان کرے حلال ہے اور اگر دیکھ لیا حرام ہے تو اس کا مقابلہ کرے! اور اس کو بیان کرنے میں کوئی ڈر اور خوف محسوس نہ کرے ،بنیادی طور پر حلال اور حرام کے امین کی خصوصیات ہی یہی ہے  کہ ان میں کوئی خوف اور ڈر نہیں ہوتا ، اگر کوئی کسی خوف اور ڈر کی وجہ سے کسی چیز کے حرام کو بیان نہ کرے سکے کہ کہیں اس سے مقابلہ نہ کرے ، کہیں اس کی جو عزت و احترام ہے وہ ختم نہ ہو جائے ، تو اس کے بعد یہ امین نہیں ہے ! حلال اور حرام میں خدا کے امین  وہ لوگ ہیں جو اگر کوئی چیز واقعا حلال ہے تو بیان کرے یہ حلال ہے اور اگر کوئی چیز حرام ہے توبیان کرے یہ حرام ہے اور اس کو بیان کرنے میں کسی سے نہ ڈرے۔

اسی منصور دوانیقی کے بارے میں نقل ہے کہ  ایک دن اس نے امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا : «لم لا تغشانا كما يغشانا ساير الناس» ، جس طرح دوسرے سارے لوگ ہمارے پیچھے آتے ہیں ، ہارے پاس آتے ہیں اور ہمارے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں ،کیوں آپ لوگ نہیں آتے ؟آپ نے جواب میں فرمایا :«ليس لنا ما نخافك من اجله» ،بہت اچھا جواب ہے ، فرمایا : ہمارے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کی وجہ سے تم سے ڈر لگے ، یعنی ہمیں کوئی خوف اور ڈر نہیں ہے کہ اس خوف کی وجہ سے تمہارے پاس آجائیں تا کہ محفوظ رہے «و لا عندك من أمر الأخرة ما نرجوك له»  اور آخرت کے لحاظ سے تمہارے پاس کوئي ایسی مہم چیز  نہیں ہے کہ ہم اس کی امید سے تمہارے پاس آجائيں تا کہ یہ بولے کہ تمہارے پاس آنے سے خدا کے پاس ہمارے لئے ثواب ملے گا ، اگر تمہارے پاس آجائے تو خدا سے تقرب حاصل ہو گا ، ہماری آخرت کے لئے فائدہ مند ہو ، کوئي ایسی چیز بھی تمہارے پاس نہیں ہے «و لا أنت في نعمةٍ فنهنّيك عليه» ایسا بھی نہیں ہے کہ تمہارے پاس ایسی نعمت  ہو کہ ہم آکر تمہیں اس کی مبارک بادی پیش کرے ، اور یہ عمومی نعمتیں تو سب کے پاس ہے ، اب اگر لوگو کے اموال کو تم نے لے کر کھایا ہے اور ناحق طور پر ان کو خرچ کیا ہے تو یہ تمہارے لئے عذاب ہے «و لا تراها نقمةٌ فنعزيك»اور تم پرکوئی مصیبت بھی نہیں آئی ہے کہ میں تسلیت کے لئے تمہارے پاس آجاؤں ، ملاحظہ فرمائيں کہ امام علیہ السلام کیسے جواب دے رہا ہے ، یہ ان لوگوں کی خصوصیات میں سے ہے جو خدا وند تبارک و تعالی میں محو ہوتے ہیں ، یہ حضرات یہ نہیں دیکھتے کہ ان کے پاس جانا ان کے لئے دنیوی کوئی فائدہ ہےیا نہیں ہے ؟

بلکہ یہ دیکھتے ہیں کہ کیا ان کے پاس جانا ان کے آخرت کے لئے فائدہ ہے یا نہیں ، ہمارا ملاک اور معیار بھی یہی ہونا چاہئے ،لوگوں کے ساتھ ہمارے ارتباط میں ملاک اور معیار اور بنیاد یہی چیز ہونی چاہئے ،اگر کسی سے ارتباط قائم کرنا چاہئیں تو دیکھیں واقعا علمی لحاظ سے ان کے پاس کچھ معلومات ہیں جن سے ہم استفادہ کر سکيں  یا نہیں ہے ؟ تقوا کے لحاظ سے اس کےساتھ ہونے کا کچھ فائدہ ہے یا نہیں ؟ حوزات علمیہ میں ایک چیز جو پہلے تھی لیکن اب نہ صرف وہ ختم ہو چکا ہے بلکہ ایک بری چیزی اس کے جگہ پر آیا ہے !پہلے حوزات میں یہ دیکھا جاتا تھا کہ کس نے اپنی عمر کو تہذیب  نفس میں گزارا ہے ، اپنی عمر کو خدا کے لئے درس دینے میں گزارا ہے ، خدا کے لئے زحمت اٹھایا ہے ، اس کے تلاش میں رہتے تھے اور اس سے معنوی طور پر بہرہ مند ہوتے تھے ، لیکن اب یہ چیز نہیں ہے !آپ خود بتائيں  اس وقت  حوزہ میں  ہم میں سے کتنے ایسے ہیں جو کسی ایسے شخص کے پيچھے گئے ہوں جو مہذب ہو اور جس نے اپنی عمر کو تہذیب میں گزارا ہو ، یا کسی ایسے شخص کے پاس گئے ہوں  جو ہمیں ایسے افراد کی نشاندہی کرے !لیکن اس کے مقابلہ میں کچھ بے بنیاد خواب ، جعلی کرامات ، اور جعلی چیزوں کے پیچھے چلے جاتے ہیں ، واقعا ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ ہم لوگوں سے جو ارتباط قائم کرتے ہیں یہ ارتباط کس محور پر ہونا چاہئے ؟ کسی ذمہ دار شخصیت سے رابطہ رکھنا چاہتے ہیں ، کیا یہ رابطہ خدا کے لئے ہے ؟ کیا یہ انقلاب کی خدمت کے لئے ہے ؟ یا نہیں اس رابطہ میں بھی ہمارے دنیوی مقاصد ہوتے ہیں ، بلکہ ہم چند دن بعد کسی  عہدہ پر فائز ہونا چاہتے ہیں ، کہیں ہم بھی ایسے مسائل کے پیچھے تو نہیں ہیں ؟!!

یہ امام صادق علیہ السلام کا دین کے حافظوں کی نسبت عملی سیرت ہے  اور ان افراد کے ساتھ بھی  آپ علیہ السلام کی سیرت ہے جو دین کے کام نہیں آتے جیسے منصور دوانیقی، ملاحظہ فرمایا کہ امام علیہ السلام نے کس طرح اس سے برتاؤ کیا ، کیسا جواب دیا ، یہ ایک مطلب ہے ۔

دوسرا مطلب : ایک جامع وصیت ہے کہ امام صادق علیہ السلام نے اپنے فرزند گرامی امام کاظم علیہ السلام کے لئے کیا ہے کہ آپ اس میں فرماتے ہیں : «يا بنيّ إقبل وصيّتي واحفظ مقالتي فإنّك إن حفظتها تعيش سعيدا و تموت حميدا، يا بنيّ من رضي بما قسّم له استغني، من مدّ عينه إلي ما في يد غيره مات فقير۔۔۔۔۔۔۔»  اے میرے بیٹا ! میری وصیت کو سن لیں اور اس پر عمل کریں ، اگر تم نے اسے سن لیا اور عمل کیا تو سعادتمند زندگی گزاروگے اور سب تعریف کرتے ہوئے اس دنیا سے چلے جاو گے ، اے بیٹا!جو شخص اس  رزق و روزی پر راضی ہوا جو اسے نصیب ہوئی ہے وہ بے نیاز ہوا ، لیکن جس نے اپنی آنکھ کو دوسروں کی ہاتھوں کی طرف کر لیا وہ فقیر مر ے گا ۔۔۔۔۔۔

۶۱۸ قارئين کی تعداد: