pic
pic

نصحتیں اور قیمتی باتیں

اپنا سوال پوچھیں
یقین کی نشانياں
تاریخ 17 December 2017 و ٹائم 02:03

یقین  کی نشانياں

مرحوم کلینی نے کتاب  کافی میں باب"الایمان و الکفر " میں ،باب «فضل الايمان على الاسلام واليقين على الايمان»میں پانچویں حدیث میں ذکر کیا ہے :"على بن ابراهيم،عن محمد بن عيسى، عن يونس،یہروایت معتبر ہے ،قال:سألت اباالحسن الرضا (عليه السلام ) عن الايمان والاسلام؟ قال: فقال ابوجعفر (عليه السلام) ، آٹھویں امام فرماتا ہے ، امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: انما هو الاسلام، و الايمان فوقه بدرجة و التقوى فوق الايمان بدرجةو اليقين فوق التقوى بدرجة"،جس چیز کے بارے میں انسان سب سے پہلے اعتقاد پیدا کرتا ہے وہاسلام ہے ، اور اسلام سے ایک درجہ اوپر ، ایمان ہے ، اور ایمان سے ایک درجہ اوپر ،تقوی ہے ، اور تقوی سے ایک درجہ اوپر ، یقین کا درجہ ہے ۔

اور اسی روایت میں آگے جا کرفرماتےہیں :و لم يقسم بين الناس شى‏ء اقل من اليقين،خداوندمتعال نے اپنے بندوں کو جتنی نعمتیں عطا کی ہیں  ان میں سے سب کم جو دیا گیا ہے وہ یقین ہے ،قال: قلت فائ شى‏ء اليقين ؟یقین کیا ہے ؟فرمایا: یقین کے چار ارکان ہیں : خدا پر توکل ، خدا کے سامنے سر تسلیم خمہونا، خدا کے قضا وقد رپر راضی ہونا، اور سب کاموں کو اسی پر چھوڑنا ۔

ابو بصیر کی روایت میں ہے ، کہ امام علیہ السلام فرماتے ہیں :فما اوتى الناس اقل من اليقين وانما تمسکتم بادنى الاسلام فاياکم ان ينفلت من أيديکم،لوگوں نے اسلام کے کمترین درجہ سے تمسک کیا ہوا ہے ، آگاہرہیں کہ یہی بھی اس کے ہاتھ سے نکل نہ جائے ۔

فقہ اورتفسیر میں ایک بحث ہے وہ یہ ہےکہ اسلام اور ایمان میں کیا فرق ہے ؟ اس روایت یا بعض دوسری آیات میں جو ایمان ذکرہے ، کیا وہی اصطلاحی ایمان ہے جس کا امامیہ قائل ہے؟

کہ بولا جائے: ایمان یعنی ولایت پراعتقاد رکھنا ، اور اسلام یعنی خدا، توحید اور نبوت پر اعتقاد ، ان کے معتقد کومسلمان کہا جاتا ہے اور اس سے ایک درجہ اوپر اگر ولایت پر بھی ایمان ہو تو  وہ   مومن  ہو   جاتا ہے ؟یہ اصطلاح فقہ میں رائج ہے ، مثلا کہتے ہیں : کسی حلال جانور کو ذبح کرنے  والے کے شرائط میں سے ایک اس کا مومن ہونا ہے ،یعنی شیعہ ہو ۔

البتہ ممکن ہے یہ بتایا جائے کہ وہایمان اور اسلام ایک ہی ہے ، جب خدا نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سےفرمایا : "وان لم تفعل فما بلغت رسالته"اس کا معنی یہ ہے کہ اگر کسی نے امامت کو قبول نہیں کیا ، توگویا اس نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کا ہی انکار کیا ہے ، اسوقت ، اسلام ہی نہیں ہے ، اور اس میں کوئی شک و شبہہ بھی نہیں ہے ، لیکن  اس معنی سے  قطع نظر ، خود خدا کی نسبت ایک مرتبہ ہے کہ وہ مرتبہ اسلام ہے ، اور اس کا ظاہریہی اسلام ہے جو شہادتین پڑھنے سے حاصل ہوتا ہے ، جب کسی انسان نے شہادتین کو پڑھلیا تو وہ مسلمان ہو گیا ، لیکن ممکن ہے اس کے دل میں خدا پر ایمان نہ ہو ، ایمان ایک  قلبی  چیز ہے ، یعنی واقعا ًجو چیز زبان سے بولا جاتا ہے وہی چیز انسان  کے  قلب میں  بھی  ہو ۔

اس ایمان کے درجہ سے اوپر کیا ہے ؟اسلام ظاہری شہادتین سے شروع ہوتا ہے ، اس کے بعد قلب میں ایمان میں تبدیل ہو جاتاہے ، اور جب انسان کے اعضاء و جوارح میں ایمان ظاہر ہونے لگتا ہے ،یعنی واجبات کوانجام دیتا ہے اور محرمات کو ترک کرتاہے ،اس وقت متقی ہوتا ہے ، اور اس سے بالاتر درجہ یقین ہے ۔

میں اس مطلب کے بارے میں کچھ تاکیدکرتا ہوں کہ توجہ  فرمائيں: عاقل انسان وہ ہیں جو اس تلاش میں رہے کہ  کمیاب ہیرے کہاں ہوتے ہیں تا کہ اسے پیدا کر لے، انسان جب تنور والے کے پاس جاتا ہے تا کہ روٹی لے لیں ،اس کی فطرت یہ ہے کہ  کوئی اچھی  روٹی  لے  لیں ، جب وہ کپڑا خریدنا چاہتا ہے تو یہ کوشش ہوتی ہے کوئی خاص کپڑاخریدے ، اسی طرح ہم معنویات میں بھی بیٹھ کر سوچیں ، الحمد للہ ہم سب روایات کوپڑھ سکتے ہیں ، ہمارے ائمہ طاہرین علیہم السلام نے بہت ہی واضح اور کامل طور پرتمام مراحل کو ہمارے لئے درجہ بندی کرکے بیان فرمائے ہیں ، ایمان ، اسلام سے ایکدرجہ اوپر ہے ، تقوا ، ایمان سے ایک درجہ بلند ہے ، اس کے بعد فرماتا ہے یقین انسب سے بالاتر ہے ، اس کے بعد فرماتا ہے :آگاہ ہو جاؤ! خداوند متعال نے انسان کےلئے جتنی نعمتیں عطا کی ہیں ان سب میں سے کوئی بھی نعمت اتنی کم نہیں دی گئي ہے جتنی یقین کم اور محدود دی ہے ، ہمیں چاہئےاسے حاصل کرے ؛ اور اس یقین کی چار نشانیاں ہیں :

1۔خدا پر توکل؛ انسان اپنے تمام کاموںمیں خدا کو اپنا وکیل قرار دے  ، حتی  کہ  ایک علمی گفتگو میں بھی خدا کو اپنا وکیل قرار  دیں ، کہ اسے اس ہدف تک پہنچے میں مدد کرے جس  میں  خدا  کی  رضایت  ہو ۔

دنیوی امور میں تو بہت ہی سزاوار ہےکہ انسان ان کاموں میں خدا کو اپنا وکیل قرار ديں ، انسان کے لئے جو واقعات  پیش آتے ہیں  ، مال و دولت ہاتھ سے چلا جاتا ہے، کوئی عزیز وفات پاتا ہے ، ان مصائب اور مشکلات کے اوقات میں انسان کو یہ دیکھناچاہئے کہ آیا خداوند متعال اس کی قلب کو تسلی دیتا ہے یا نہیں ؟ یہ خدا پر توکل کامقام ہے ، ایک دن معاشرہ میں   اس کی عزت ہوتی  ہے اور ایک دن وہ اسی معاشرہ میں ذلیل ہوتا ہے ، "یوم لک و یوم علیک"دونوں حالات میں آیا خدا پر  توکل کرتا ہےیا نہیں ؟ خدا پر توکل کرنا بہت ہی مہم ہے ، انسان کو چاہئے کہ ہر حالت میں خدا کواپنا وکیل قرار دے دیں ۔

2۔ توکل سے بالاتر مقام ، اس کے سامنےتسلیم ہونا ہے ، توجہ کریں ، وہ اسلام جو ابتداء میں ہے وہ کہاں ہے اور یہ  تسلیم جو  یقین کا دوسرا درجہ ہے وہ کہاں  ؟ ! خداکے سامنے  تسلیم ہونا یعنی مشکلات میں شکوہ  و  شکایت نہ کرنا ، تسلیم یہ ہے کہ انسان مشکلات کے وقت شکوہ و شکایت کی زبان  نہ کھولے ، بلکہ جو بھی پیش آئے اسی کو قبول کرے ۔

3۔ خدا کے قضاء وقدر پر راضی ہونا ۔

4۔ تمام کاموں کو خدا پر چھوڑ دینا



ماخذ : اصول کافی، ج 2، ص 51

۹۰ قارئين کی تعداد:

انسان کو یقین حاصل ہونے کے اسباب
تاریخ 17 December 2017 و ٹائم 02:03

انسان کو  یقین حاصل ہونے کے اسباب

قرآن کریم کی آیات اور آئمہ معصومین علیہم  السلام کی روایات میں جن مطالب کے بارے میں بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے ان میں سے ایک انسان کو یقین حاصل ہونا اور اس کا یقین کے مقام تک پہنچنا ہے ، اوربعض روایات سے استفادہ ہوتا ہے کہ جس طرح ایمان کا درجہ اسلام سے پہلے ہے اور تقوی کا  درجہ ایمان سے پہلے ہے ، اسی طرح یقین  کا  درجہ تقوی سے پہلے ہے ، جب  تک  کوئی شخص مومن نہ ہو وہ متقی نہیں ہو سکتا اور جب تک کوئي شخص متقی نہ  ہو وہ یقین کے درجہ پر نہیں پہنچ سکتا ، یقینایک بہت ہی مہم مسئلہ ہے ، کہ بعض روایات میں نقل ہے   خدا کی نعمتوں میں سے ایک چیز جو لوگوں کے درمیان بہت کم تقسیم ہوا ہے وہ یقین ہے ،«لميقسم بين الناس شيءٌ اقل من اليقين»، یعنی بہت ہی کم افراد اس مرحلہ تک پہنچتے ہیں ۔

ابھی ہم جن حالات سے گزر  رہے  ہیں علمی  لحاظ سے ہمیں یہ کوشش کرنی چاہئے کہ ہمارے تمام کام یقین حاصل کرنے کے لئے ہو ، خداوند متعال کی نسبت وہ یقین جو انسان میں ہونا چاہئے ، کہ بعض روایات میں یقین کے آثار کو توکل بیان کیا ہے ، یعنی جس انسان کو یقین ہو واقعا وہ خدا پر توکل کرتا ہے ، وہ خدا کے سامنے سر تسلیم خم ہےاور خدا کے قضا ء وقدر پر راضی ہے ، اسی طرح اپنے کاموں کو خدا پر چھوڑ دیتا ہے ،یہ چار خصوصیات ان خصوصیات میں سے ہے کہ اگر کسی کے اندر وہ یقین ہو جو خدا کامنظور نظر ہے ، تو اس میں یہ آثار پایا جاتے ہیں ۔

یقین کے بارے میں روایات بہت زیادہ ہیں ، میں صرف یادآوری کے طور پر یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہمیں ایسا ہونا چاہئےکہ واقعا ہر روز ہمارے یقین میں پہلے دن کی نسبت اضافہ ہو ، ایسا نہیں ہے کہ یقین کی ایک مقدار ہے ، اس مقدار تک جب پہنچ جائے تو اس کے بعد وہ ختم ہو جاتا ہو ،ایسا نہیں ہے بلکہ یقین کے مختلف مراتب اور درجات ہیں ۔

بحار الانوار میں ذکر ہوا ہے کہ  پیغمبر  اکرم   صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سےعرض ہوا کہ ہمارے لئے نقل ہوا ہے کہ حضرت عیسی یا حضرت موسی (علیہما السلام) پانیپر چلتے تھے «يمشي علي  الماء » ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : ان کے اندر جو  یقین تھا، خدا  نے انہیں ایسی قدرت عطا کی تھی،اگر ان کے یقین میں اور اضافہ ہوتا تو «مشي علي الهواء»، ہوا پر بھی چلنے کی قدرت پیدا کر لیتے ، اس کے بعد فرمایا :انبیاءمیں فرق اور ان کے فضیلت میں اختلاف ان کی اسی یقین کی وجہ سے ہے ، یعنی ہمارےپیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یقین تمام انسانوں ، اولیاء ، آئمہ معصومین  اور سارے انبیاء سے  زیادہ تھے ، انبیاء میں بھی اس یقین کے مختلف درجات ہیں ۔

یقین ایسی کوئی چیز نہیں ہے کہ یہ بتایا جائے : میں ابھی یہ احساس کرتا ہوں کہ میں یقین کے مرحلہ پر پہنچا ہوں ،کہ اس کے بعد کوئی اور چیز نہیں ہے ،«ليس فوقه شيء»،کبھی میں خود کو یہ نصیحت کرتا ہوں یا بعض دوستوں کو یہ یاددھانی کرتا ہوں کہ ، ہمیں ان مسائل کے بارے میں واقعا سوچنا چاہئے ، یعنی اس بارےمیں فکرمند رہنا چاہئے ، اگر ایک دن گزر گیا اور اس بارے میں ہم ایک قدم آگے  نہیں بڑھ سکے ، تو اپنے آپ سے یہ بتانا چاہئے کہ دنیا ہمارے سروں پر امنڈ آئے تو  زیادہ نہیں ہے ۔

انسان کے  تمام کاموں میں اور دنیوی  مشاغل میں علم سے بہتر کوئی چیز پیدا نہیں کرسکتا ، اور وہ بھی کلی علم ، اور تمام علوم کے درمیان  بھی وہ علم جو وحی اور مبداء و معاد سے مربوط ہو اس  سے بہتر کوئی علم پیدا نہیں کر سکتا، خداوند متعال نے بھی ہمیں یہ توفیق عنایت فرمایا ہے اور ہمیں اس راہ میں قراردیا ہے کہ ہمارے علوم مبداء اور معاد سے مربوط ہے ، مثلا ہم ایک قرآن کے "لاتفعل " کا معنی کرنا چاہتے ہیں ، کتنے اس میں زحمت کرنے کی ضرورت ہے ، آپ جب" لا تشرب " کا معنی کرنا چاہتا ہے ، تو دیکھنا چاہئے کہ کیسے اس کا معنی کرے ، ہم اس معنی کو خدا سے نسبت دینا چاہتے ہیں ، یہ بتانا چاہتے ہیں کہ خدا نے ایسا فرمایا ہے ، یہ کوئی کم چیز نہیں ہے ، بہت ہی اہم مسئلہ ہے ۔

ہم اس راستہ پر چل رہے ہیں تو سب چیزوں سے قطع نظر ان کمالات کو اپنے اندر پیدا کرنا چاہئے ،کبھی ہم یہ کہتے ہیں ہم درس پڑھتے ہیں تا کہ مجتہد ہو جائے اور مجتہد ہوتے ہیں تا کہ فتوا دے دیں ، بالفرض ہم  نے فتوا بھی دے دیا ، ایک  کھرب   انسان ہمارے  مقلد بھی ہو گئے ، اس کے بعد کیا ؟؟؟ حقیقت میں یہ انسان کے لئے کمال نہیں ہے ، کہ یہ بتا یا جائے کہ انسان اس درجہ تک پہنچ گیا ہے کہ اس کے مقلد ہے ۔

ایک وقت میں نے اپنے والد گرامی سےایک بات بتایا تھا ، انہوں نے اپنے باتوں میں مجھ سے فرمایا : تم یہ نہ سوچو کہ کہیں پر اگر میرا مقلد بن جائے تو میں خوش ہوتا ہوں ، میں خوش نہیں ہوتا ہوں ، انکی ذمہ داری میرے گردن پر آنے کی وجہ سے میں یقیناً پریشان ہوتا ہوں ، وہ لوگ جتنےاعمال انجام دیں گے ان سب کے بارے میں قیامت کے دن مجھ سے سوال ہوگا اور مجھے  ان سب  کا  جوابدہ ہونا چاہئے ، حقیقتا بھی ایسا ہی ہے ، یہ ایسی چیز نہیں ہے کہ انسان ان  سے  دل لگائے ۔

جی ہاں ! اگر انسان واقعی طور پر اس  یقین  اور نورانیت کو اپنے اندر احساس کرے ، اس کے آثار بھی ایسے ہی ہوں گے ، اوریقین کے آثار میں سے ایک توکل اور خدا کے سامنے سرتسلیم خم ہونا ہے ، ہم نے اپنےبزرگوں میں اس تسلیم کو بہت سارے واقعات میں دیکھ لی ہیں ۔

انسان کا علم کسی زمانہ میں اپنے  اوج  کو  پہنچتا ہے ، اور اس کے بعد سب چیزوں کو اس سے لے لیتا ہے ،«ومن نعمره ننكسه»، انسان جب عمر کے آخر کو پہنچ جائے تو شایدوہ  حروف تہجی بھی  بھول جائے ،یہ سب ختم ہونے والی چیزیں ہیں ،لیکن یہ نفسانی ملکات کہ انہیں میں سے ایک بلکہ سب سے بہترین یقین ہے ، ہم  کوشش  کریں کہ اسے اپنے اندر ایجاد کرے ، امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں :«سلالله اليقين»، فرماتے ہیں : یقین کو خدا سے طلب کرو :«سل الله اليقين و خير ما دام في القلب اليقين»،انسان کےدل میں سب سے بہترین چیز جو باقی رہتی ہے وہ یقین ہے ، خدا ہم سب کو یہ نصیب فرمائے ۔

۹۶ قارئين کی تعداد:

خدا پر اطمینان حاصل ہونے کے شرائط
تاریخ 17 December 2017 و ٹائم 02:03

خدا پر اطمینان حاصل ہونے کے شرائط

تحف العقول میں ایک روایت نقل ہے جسے مرحوم مجلسی نے بھی بحار الانوار جلد 88 ، ص261 پر  نقل کیا ہے ، کہ سفیان ثوری امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں آیا اور عرض کیا : مجھے کچھ نصیحت فرمائے تا کہ میں اس پر عمل کروں ۔

حضرت نے بھی پہلے  یہی فرمایا : اگر میں کوئی نصیحت کروں تو تم اس پر عمل کرو گے ؟اس میں ایک جملہ  جس  کے بارے میں تاکید بھی کرتا ہو وہ یہ  ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا :«ثقبالله ...» ،خدا پر اطمینان رکھو ، تا کہ مقام خداکے عارف کے درجہ پر فائز ہو جائے ، یہ بہت ہی اہم مطلب ہے  اور بہت ہی مہم نصیحت ہے کہ انسان کو خدا پراطمینان ہو۔

اگر کوئی واقعی میں  خدا  پر  اطمینان حاصل کرنا چاہتا ہے ، تو اس کا پہلا شرط یہ ہے کہ ہمیشہ  اسی  کیطرف متوجہ رہے، جو شخص خدا سے غافل ہو وہ خدا پر اطمینان پیدا نہیں کر سکتا ،انسان کو ہمیشہ خدا کی طرف متوجہ رہنا چاہئے کہ «اناعبد و الله رب».،میں بندہ ہوں اور اللہ میرا رب ہے ۔

یہ بہت  ہی  مشکل ہے کہ جو کچھ کام ہم انجام دیتے ہیں ان سب میں چاہئے وہ دنیوی اور مادی زندگی ہویا علمی مسائل، یا سیر و سلوک ، یا اجتماعی زندگی خدا کی طرف متوجہ رہیں ۔

یہ پہلا قدم ہےکہ اگر انسان خدا پر اطمینان رکھنا چاہتا ہے تو خدا کی طرف متوجہ رہنا چاہئے ۔

متوجہ رہنے کادوسرا قدم یہ ہے کہ کم از کم یہ جان لیں کہ خدا ہی انسان کے تمام کاموں کی تدبیر اسی  کے ہاتھ میں ہے اور وہ کسی بھی حالت میں بندہ کو چھوڑ نہیں دیتا ، مثلا_نعوذ باللہ _ ایک چرواہا نہیں ہے اپنے غلام کو چھوڑ دیں اور بولیں : تم خود جہاںجانا چاہتے ہو چلے جاو، اور جو مرضی ہے کرلو ۔

کبھی ہم غلطی بھی کر لیتے ہیں«إِنَّا هَدَيْناهُ السَّبيلَ إِمَّاشاكِراً وَ إِمَّا كَفُورا»،اباختیار خود انسان کے ہاتھ میں ہے چاہئے سیدھے راستہ پر چلے جاو یا غلط راستہ پر ۔

جو "دائم الفيض " ہے «يا من وسعت رحمته کل شيء»، وہ ہستی جس کی رحمت دنیا کی سب چیز کواحاطہ کی ہوئی ہے ، ایسا نہیں ہے کہ وہ انسان کو آزاد چھوڑ دیں ،ہمیں اس دنیا  میں خلق کیا گیا ہے ، حتی کہ کتابوں کے نازل ہونے کے بعد اور رسولوں کے مبعوث ہونے کےبعد بھی ہمیں آزاد رہا نہیں  چھوڑا ہے اور "ولی اللہ " جو لوگوں پر  خدا  کی حجت  ہے پھر بھی انسان کو آزاد رہا نہیں کیا ہے ۔

یہ مطلب ایک  خاصمطلب ہے کہ ہم اس کی طرف متوجہ نہیں رہتے ،ہمیں جان لینا چاہئے کہ وہ ہمیشہ ہمارےبارے میں متوجہ ہے ، اگر اس کا بندہ پیغمبر ہے ، ان کو بھی یہ  برداشت نہیں ہے کہ اس کی امت قیامت کے دن عذابالہی میں گرفتار ہو جائے ، وہ بے انتہا شفیق اور مہربان ہے ۔

اس بارے میںہمیں متوجہ رہنا چاہئے کہ خود اصل وجود ذات مقدس حق تعال کے بارے میں آگاہ  رہیں اور اس بارے میں بھی کہ اس نے ہمیں رہا کیا ہوا نہیں ہے ۔

اگر یہ دو مرحلہ ہمارے اندر زندہ ہو جائے ، واقعا ہم متوجہ رہیں اور جو بھی قدم اٹھاتے ہیں اور جوبھی ہاتھ ہلاتے ہیں ، جو بھی صغیرہ اور کبیرہ انجام دیتے ہیں ان سب کے بارے میں وہ آگاہ ہے ، اور صرف دیکھتے رہنا نہیں ہے بلکہ اس سے بھی ایک مرحلہ اوپر ہے کہ وہ  یہ نہیں چاہتا  کہ ہم غلط  راستہ  پر واقع ہو جائے ۔

یہ انسان کی بدبختی ہے کہ خدا کے اتنے زیادہ توجہات کے باوجود وہ پھر بھی غلط راستہ پر چلاجاتا ہے اور خود کو خدا کے راستہ سے جدا کر لیتا ہے ، اس انسان میں کتنی  شقاوت آجاتی ہے ، روایات ہیں کہ ہمارے بعض گناہوں کے اثرات یہ ہے کہ انسان دنیا اور آخرتمیں متوجہ نہیں ہوتا ، اور خدا بھی انسان کی طرف توجہ نہیں کرتا ، یہ گناہ کا اثروضعی ہے کہ خداوند اپنی نظر کو انسان سے پھیر لیتا ہے ۔

ہمیں جان لیناچاہئے کہ خدا یہ نہیں چاہتا ہے کہ جس وجود کو اس نے خلق کیا ہے وہ ضایع ہو جائے ،سارے اسرار اسی میں پوشیدہ ہے ، ایسا نہیں ہے کہ کسی باغبان کی طرح باغ میں دوپھول لگا لیں اور اس کے بعد بولے جو بھی ہو جائے ہونے دو ، نہیں ایسا نہیں ہے ،بلکہ وہ حکیم ہے ، اور وہ اپنے اس وجود کو ضایع ہونا نہیں چاہتا ، یہ ہم خود  ہیں کہ  اپنے  ہاتھوں  سے اپنے آپ کو ضایع کر دیتے ہیں اور نابود کر لیتے ہیں ۔

اگر یہ  دو  مطلب انسان کے اندر پایا جائے ، تو اسے اطمینان کا مقام حاصل ہو گا اور انسان خدا پراطمینان پیدا  کرے گا ،وہی انسان کی حیثیت، عزت اوردوسرے تمام کاموں کا متکفل ہے ، یہ ہے مرحلہ اطمینان خدا۔

البتہ ایسا  بھی نہیں  ہے کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ جوڑ کر بیٹھ جائے اور بولے : وہی ہمارے تمام کاموںکا متکفل ہے ، ہمارے اندر تو کوئی چیز نہیں ہے ، ایسانہیں ہے بلکہ اسے چاہئے  کہ  شرائط کو مہیا کرے ۔

اس روایت  میں  امام صادق علیہ السلام نے جو فرما یا ہے وہ یہ ہے کہ :«ثقبالله»،خدا  پر  اطمینان رکھا کرو ، «تکن عارفا»،عارف ہو جاوگے ، عارف یہ  نہیں  ہے کہ انسان بولے : میں چلہ کاٹا ہوں ، کسی تاریک جگہ پر چالیس دن بیٹھ جائے ، دوست اوراہل و عیال اور اجتماع سے دور ہوجائے ، او ر اسے چلہ کاٹنا نام رکھے ، مکتب  اہلبیت میں ایسی کوئی چیز ہے ہی نہیں ہے ۔


 

ماخذ : بحار الانوار، ج 88، ص 261

۱۰۱ قارئين کی تعداد:

امام صادق علیہ السلام کی نظر میں علماء کی قدر و منزلت
تاریخ 17 December 2017 و ٹائم 02:03

امامصادق علیہ السلام کی نظر میں علماء کی قدر و منزلت

یہ ایام  رئیس مذہب امام صادق  علیہ السلام کی شہادت کے ایام ہیں ، ایک ایسی مبارک ہستی کہ یہ تمام حوزات علمیہ اور وہ تمام علوم جن پر شیعہ آج فخر و مباہات کرتے ہیں انہی  امام علیہ السلام کی پربرکت  حیات سے ہے ، آپ دیکھیں کہ ہمارے پاساس مبارک ہستی سے کتنی روایات موجود ہیں ، کتنے اصحاب ، اشخاص اور بزرگوں نے آپ علیہ السلام سے تمام فقہی مسائل میں روایات کو ہمارے لئے بیان کيے ہیں ۔

میں یہاں پر دو مطلب کے بارے میں کچھعرایض پیش کرنا چاہتا ہوں ؛ ایک مطلب یہ ہے کہ حافظان دین کی تکریم اور احترام کےبارے میں امام صادق علیہ السلام کی سیرت کیا تھی، اس بارے میں ہمیں توجہ دینے کیضرورت ہے ۔

جو لوگ امام صادق علیہ السلام کی نظرمیں دین کے حافظ تھے آپ کے نزدیک ان کی کیا حیثیت تھی ، یہ مطلب ہم طلاب علوم دینی  کے لئے بہت اہم ہے کیونکہ ہم سب کا  دعوا ہے کہ ہم دین کی حفاظت  کے راستہ میں آئے ہیں اور اس راستہ  میں  اپنیزندگی گزار رہے ہیں ،اس بارے میں توجہ کرنے سے خود ہمیں بھی اپنے کام کی قدر وقیمت کا اندازہ ہوتا ہے اور دوسروں کے لئے بھی ان کی ذمہ داری مشخص ہو جاتی ہے ،جب ایک انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ حافظان دین کی امام صادق علیہ السلام کے نزدیک اتنی  زیادہ اہمیت ہے ، تو اس کے بعد علماء اور مراجع کو بھی ایک عام آدمی نہیں  سمجھیں گے  ، اور ان کی اعتبار اور قدر و منزلت کو دوسرےلوگوں کے برابر قرار نہیں  دیں گے  ، اس بارے میں ،میں چند روایات کو نقل کرتا ہوں؛

فضل بن عبد الملک کہتا ہے : «سمعت ابا عبداللهعليه السلام يقول أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ أَحْيَاءً وَ أَمْوَاتاً أَرْبَعَةٌبُرَيْدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْعِجْلِيُّ وَ زُرَارَةُ وَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍوَ الْأَحْوَلُ وَ هُمْ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ أَحْيَاءً وَ أَمْوَات»، میرے نزدیکمحبوترین لوگ چاہئے وہ زندہ ہو یا دنیا سے چلے گئے ہوں ، چار نفر ہیں : بُريد،زراره، محمد بن مسلم و احوَل.

جمیل بن دراج کی روایت میں فرماتا ہے: «بَشِّرِ الْمُخْبِتِينَ بِالْجَنَّةِ بُرَيْدُ بْنُ مُعَاوِيَةَالْعِجْلِيُّ وَ أَبُو بَصِيرٍ لَيْثُ بْنُ الْبَخْتَرِيِّ الْمُرَادِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ وَ زُرَارَةُ أَرْبَعَةٌ نُجَبَاءُ أُمَنَاءُ اللَّهِعَلَى حَلَالِهِ وَ حَرَامِهِ لَوْ لَا هَؤُلَاءِ انْقَطَعَتْ آثَارُالنُّبُوَّةِوَانْدَرَسَتْ»؛امام صادق علیہ السلام نجبای اربعہ ( چارنجیب افراد) کا نام لیتے ہیں اور فرماتے ہیں ؛ اگر یہ چار نہ ہوتے تو آثار نبوت  ختم ہو جاتے ، یہ چار نفر ،بریدبن معاویہ عجلی ،محمد بن مسلم ، زرارہ  ابا بصیر  اور لیث بن بختری مرادی ہیں ۔

داود بن صرحان امام صادق علیہ السلامسے نقل کرتا ہے : «إنّه قال إنّ أصحاب أبيه كانوا زيناً أحياءاً و اموات»؛ امام صادق علیہ السلام فرماتا ہے : میرے پدربزرگوار امام باقر علیہ السلام کے اصحاب دین اور لوگوں کی  زینت ہیں ، زندہ ہوں یا دنیا سے چلے گئے ہوں ، یہ تاکید اس چیز کی طرف اشارہ ہےکہ ان افراد کی اہمیت صرف ان کی حیات پر منحصر نہیں ہے بلکہ جب دنیا سے چلے جائےتب بھی ان کی اہمیت باقی ہے ، اس کے بعد آپ (ع) ان چار افراد کے نام لیتے ہیں :زراره، محمد بن مسلم، ابو بصير و بريد. ، اس کے بعد فرماتا ہے: «هولاء القوامونبالقسط، هولاء القوالون بالصدق»؛ یہ لوگ عدالت برپا کرنے والے ہیں ، یعنی یہاشارہ ہے اس قائمین قسط کی طرف جو قرآن کریم میں ذکر ہے : هؤلاء السابقون السابقون اولئك المقربوناينها السابقون السابقون"؛ اب کوئی شخص پیغمبر اکرم صلی اللہعلیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں تھا ، لیکن آپ کے راستہ پر صحیح طرح نہیں چلا ہے ،لیکن پھر بھی یہ بتایا جائے کہ چونکہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےزمانہ میں تھا تو یہ خود بخود عنوان السابقون السابقون میں داخل ہوتا ہے ؛ ایسا نہیں ہے !السابقونالسابقون وہ لوگ ہیں جو دین کی حفاظت کرنے ،دین کو بیان کرنے اور دین کو قوت پہنچانے میں دوسروں سے سبقت لے لیں ، یہاں پرزمان کے لحاظ سے پہلے ہونا مراد نہیں ہے ، کہ یہ بتایا جائے چونکہ ایک شخص زمان کےاعتبار سے دوسرے سے مقدم ہے ، تو یہ اسی اعتبار سے مقدم ہوگا ، ایسا نہیں ہے ۔

ایک اور روایت جو پہلے کی روایات کینسبت کچھ مفصل ہے ، اس میں جمیل بن دراج کہتا ہے : میں ایک دن امام صادق علیہالسلام کی خدمت میں شرفیاب ہوا تو ایک شخص وہاں سے نکل کر جا رہا تھا ، حضرت (ع)نے مجھ سے فرمایا :«لقيت الرجل الخارج من عندي» ؛جو شخص یہاں سے نکل کر جا رہا تھا کیا تم نے اس کو دیکھا ؟«فقلت بلي»؛ عرض کیا : جی ہاں! «هو رجلٌ من اصحابنا من أهل الكوفه»؛ پہلے جمیل نے کہایہ شخص ہمارے افراد میں سے ہے اور اہل کوفہ ہے ، امام علیہ السلام نے فرمایا : «لاقدّس الله روحه و لا قدّس مثله»؛خدا  اس کی روح کی تزکیہ نہ کرے ! یہ یا نفرین ہے ،یا یہ بھی وہ دعا ہے جو ہم عام طور پر کرتے ہیں : قدسالله نفسه، حضرت فرماتا ہے : یہ دعا اس شخص کےلئے نہ ہو ، یہ نفرین سے ایک درجہ کم ہے !یا یہ نفرین ہی ہے کہ ممکن ہے ایسا ہی ہو، یا یہ بتایا جائے کہ حضرت اس کو نفرین کرنا نہیں چاہتا تھا بلکہ  نفرین سے ایک درجہ کم کو بیان فرمایا ہے ، یعنییہ دعا جو اولیاء خدا کے لئے ہے ، ایسے افراد کے لئے نہ ہو !«إنّه ذكر اقوام»؛اس کے بعد حضرت اسشخص کو نفرین کرنے کی علت کو بیان فرماتا ہے ۔

فرماتے ہیں اس کی علت یہ ہے کہ اس شخصنے میرے سامنے ان افراد کو برا بھلا کہنا شروع کیا جو میرے والد بزرگوار کے امیناور مورد اطمینان تھے ، اور میرے والد گرامی ان پر اعتماد کرتے تھے «ذكر اقوام» یعنیان کی عیب جوئی کی «كان أبي ائتمنهم علي حلال الله وحرامه»  ان افراد کی برائی کی جو میرے والد کے ہاں خداکے حلال اور حرام پر امین تھے«و كانوا عيبة علمه»  یہ لوگ میرے باپ کے علم کے مخزن تھے «و كذلك اليوم هم مستودع سرّي»آج بھی میں اپنیاسرار کو ان کے پاس امانت رکھتا ہوں ، دین کے تمام اسرار کو میں ان تک منتقل کرتاہوں «اصحاب أبي حقّاً إذا أراد الله لأهل الأرض سوءاً صرف بهم عنهمالسوء»یہ ایسے لوگ ہیں کہ اگر خداوند متعال روئے زمین کے تمام لوگوں پر عذاب نازلکرنا چاہئے تو انہیں چار نفر کی برکت سے عذاب کو ان سے ٹال دے گا «هم نجوم شيعتياحياءاً و اموات» یہ میرے شیعوں کے ستارے ہیں زندہ ہو  یا اس دنیا سے چلے جائے«يحيون ذكر أبي»یہ لوگ میرے والداور اجداد کے ذکر کوزندہ رکھنے والے ہیں «بهم يكشف الله كلّ بدعةٍ»لوگوں کے لئے جو بھی بدعت پیش آتی ہے وہان لوگوں کے ذریعہ واضح ہوجاتی ہے ، یہ لوگ کاشف بدعت ہیں«ينفون عن هذا الدين إنتحال المبطلين وتعوّل الغالين» یہ لوگ ان لوگوں کو اس دین سے جدا کرتےہیں جو حقیقتا متدین نہیں ہیں لیکن اپنے آپ کو اس دین سے منسوب کرتے ہیں اور بغیرکسی ملاک اور معیار کے اس دین سے اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں ،ان سب کو یہ لوگ اس دین سے جدا کرتے ہیں ۔

حدیث  کے باقی حصوں کو بیان کرنے سے پہلے یہاں پر ایک مطلب کو بیان کروں ؛ اگر واقعا کسی زمانہ میں  زرارہ ،محمد بن مسلم اور برید وغیرہ میں یہ خصوصیات تھیں جسے امام صادق علیہالسلام بیان فرما رہے ہیں ، اور چونکہ کسی شخص نے ان کی برائی کی تھی تو امام علیہ السلام اس شخص کو نفرین کرتا ہے ، ہمارے زمانہ میں کون  لوگ حافظان دین ہیں ؟ ہمارے زمانہ میں کونسےمراکز اور کون لوگ دین کی حفاظت کو اپنے ذمہ لیے ہوئے ہیں ؟ علماء ، حوزات علمیہ ،بزرگان اور مراجع عظام، دین کے حافظان ہیں ، اور یہ «لاقدّس الله مثله ولاقدّس الله روحه»وہی نفرین ہےجسے اس زمانہ میں امام صادق علیہ السلام نے کیا ہے ، یہ ہمارے زمانہ میں بھی انلوگوں کو شامل ہوتا ہے جو مراجع عظام کی نسبت بے اعتنائی کرتے ہیں اور ہمیشہ یہکوشش کرتے ہیں کہ جو کچھ یہ حضرات بیان کرے ان کے خلاف کچھ بولے، آج خدا کے حلالاور حرام کے امین کون ہیں ؟ ہمارے مراجع حجاب اور پردہ کے بارے میں اتنے  زیادہ فریاد کرتے ہیں اور اس بارے میں پریشانی کا اظہار کرتے ہیں ، لیکن اس کے بالکل مقابلہ  میں مختلف قسم کے بیانات ، مجلات اور دوسری چیزیں نشر ہوتے ہوئے نظر آتےہیں ۔

امام علیہالسلام اس روایت میں آگے فرماتے ہیں :«ثم بكي»بہت ہی عجیب ہے ،کسی شخص نے جب زرارہ کیبرائی کی ، محمد بن مسلم اور برید کی برائی کی تو  امام صادق علیہ السلام  اتنے زیادہ ناراض ہوتے ہیں اور اس کے مقابلہ میں آتے ہیں اور بعد میں گریہ بھی کرتا ہےکہ کیوں ایسا ہوا ہے ؟

روایت  میں فرماتا ہے :«عليهم صلوات الله و رحمته أحياءاً و اموات»یہ لوگ زندہ ہو یا اس دنیا سے چلے جائے خدا کی صلوات اوررحمت ان پر ہو ، یہ ہمارے کام کی اہمیت کو ہمارے لئے بیان کرتا ہے ، یہ عظیم دورسجو حوزات علمیہ میں موجود ہیں یہ سب اس لئے ہے کہ ہم چاہتے ہیں حلال اور حرام کوجان جائے !اس سے بڑھ کر کوئی افتخار نہیں ہے کہ انسان کا وجود خدا کے حلال اورحرام کا امین قرار پائے ، خدا کے حلال اور حرام کا حافظ قرار پائے ، اگر کسی جگہدیکھ لیا ہے حلال ہے تو بیان کرے حلال ہے اور اگر دیکھ لیا حرام ہے تو اس کامقابلہ کرے! اور اس کو بیان کرنے میں کوئی ڈر اور خوف محسوس نہ کرے ،بنیادی طور پرحلال اور حرام کے امین کی خصوصیات ہی یہی ہے کہ ان میں کوئی خوف اور ڈر نہیں ہوتا ، اگر کوئی کسی خوف اور ڈر کی وجہ سےکسی چیز کے حرام کو بیان نہ کرے سکے کہ کہیں اس سے مقابلہ نہ کرے ، کہیں اس کی جوعزت و احترام ہے وہ ختم نہ ہو جائے ، تو اس کے بعد یہ امین نہیں ہے ! حلال اورحرام میں خدا کے امین  وہ لوگ ہیں جو اگرکوئی چیز واقعا حلال ہے تو بیان کرے یہ حلال ہے اور اگر کوئی چیز حرام ہے توبیانکرے یہ حرام ہے اور اس کو بیان کرنے میں کسی سے نہ ڈرے۔

اسی منصوردوانیقی کے بارے میں نقل ہے کہ  ایک دن اسنے امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا : «لملا تغشانا كما يغشانا ساير الناس»،جس طرح دوسرے سارے لوگ ہمارے پیچھے آتے ہیں ، ہارے پاس آتے ہیں اور ہمارے ساتھبیٹھ جاتے ہیں ،کیوں آپ لوگ نہیں آتے ؟آپ نے جواب میں فرمایا :«ليس لنا ما نخافك مناجله» ،بہت اچھا جوابہے ، فرمایا : ہمارے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کی وجہ سے تم سے ڈر لگے ، یعنیہمیں کوئی خوف اور ڈر نہیں ہے کہ اس خوف کی وجہ سے تمہارے پاس آجائیں تا کہ محفوظرہے «و لا عندك من أمر الأخرة ما نرجوك له» اور آخرت کے لحاظ سے تمہارے پاس کوئي ایسی مہمچیز  نہیں ہے کہ ہم اس کی امید سے تمہارےپاس آجائيں تا کہ یہ بولے کہ تمہارے پاس آنے سے خدا کے پاس ہمارے لئے ثواب ملے گا، اگر تمہارے پاس آجائے تو خدا سے تقرب حاصل ہو گا ، ہماری آخرت کے لئے فائدہ مندہو ، کوئي ایسی چیز بھی تمہارے پاس نہیں ہے«و لا أنت في نعمةٍ فنهنّيك عليه» ایسا بھی نہیں ہے کہ تمہارے پاس ایسی نعمت  ہو کہ ہم آکر تمہیں اس کی مبارک بادی پیش کرے ،اور یہ عمومی نعمتیں تو سب کے پاس ہے ، اب اگر لوگو کے اموال کو تم نے لے کر کھایاہے اور ناحق طور پر ان کو خرچ کیا ہے تو یہ تمہارے لئے عذاب ہے «و لا تراها نقمةٌفنعزيك»اور تم پرکوئی مصیبت بھی نہیں آئی ہے کہ میںتسلیت کے لئے تمہارے پاس آجاؤں ، ملاحظہ فرمائيں کہ امام علیہ السلام کیسے جواب دےرہا ہے ، یہ ان لوگوں کی خصوصیات میں سے ہے جو خدا وند تبارک و تعالی میں محو ہوتےہیں ، یہ حضرات یہ نہیں دیکھتے کہ ان کے پاس جانا ان کے لئے دنیوی کوئی فائدہ ہےیانہیں ہے ؟

بلکہ یہ دیکھتےہیں کہ کیا ان کے پاس جانا ان کے آخرت کے لئے فائدہ ہے یا نہیں ، ہمارا ملاک اورمعیار بھی یہی ہونا چاہئے ،لوگوں کے ساتھ ہمارے ارتباط میں ملاک اور معیار اوربنیاد یہی چیز ہونی چاہئے ،اگر کسی سے ارتباط قائم کرنا چاہئیں تو دیکھیں واقعاعلمی لحاظ سے ان کے پاس کچھ معلومات ہیں جن سے ہم استفادہ کر سکيں  یا نہیں ہے ؟ تقوا کے لحاظ سے اس کےساتھ ہونے کاکچھ فائدہ ہے یا نہیں ؟ حوزات علمیہ میں ایک چیز جو پہلے تھی لیکن اب نہ صرف وہختم ہو چکا ہے بلکہ ایک بری چیزی اس کے جگہ پر آیا ہے !پہلے حوزات میں یہ دیکھاجاتا تھا کہ کس نے اپنی عمر کو تہذیب  نفس میںگزارا ہے ، اپنی عمر کو خدا کے لئے درس دینے میں گزارا ہے ، خدا کے لئے زحمتاٹھایا ہے ، اس کے تلاش میں رہتے تھے اور اس سے معنوی طور پر بہرہ مند ہوتے تھے ،لیکن اب یہ چیز نہیں ہے !آپ خود بتائيں  اسوقت  حوزہ میں  ہم میں سے کتنے ایسے ہیں جو کسی ایسے شخص کے پيچھےگئے ہوں جو مہذب ہو اور جس نے اپنی عمر کو تہذیب میں گزارا ہو ، یا کسی ایسے شخصکے پاس گئے ہوں  جو ہمیں ایسے افراد کینشاندہی کرے !لیکن اس کے مقابلہ میں کچھ بے بنیاد خواب ، جعلی کرامات ، اور جعلیچیزوں کے پیچھے چلے جاتے ہیں ، واقعا ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ ہم لوگوں سے جوارتباط قائم کرتے ہیں یہ ارتباط کس محور پر ہونا چاہئے ؟ کسی ذمہ دار شخصیت سےرابطہ رکھنا چاہتے ہیں ، کیا یہ رابطہ خدا کے لئے ہے ؟ کیا یہ انقلاب کی خدمت کےلئے ہے ؟ یا نہیں اس رابطہ میں بھی ہمارے دنیوی مقاصد ہوتے ہیں ، بلکہ ہم چند دنبعد کسی  عہدہ پر فائز ہونا چاہتے ہیں ،کہیں ہم بھی ایسے مسائل کے پیچھے تو نہیں ہیں ؟!!

یہ امام صادق علیہالسلام کا دین کے حافظوں کی نسبت عملی سیرت ہے اور ان افراد کے ساتھ بھی  آپ علیہالسلام کی سیرت ہے جو دین کے کام نہیں آتے جیسے منصور دوانیقی، ملاحظہ فرمایا کہامام علیہ السلام نے کس طرح اس سے برتاؤ کیا ، کیسا جواب دیا ، یہ ایک مطلب ہے ۔

دوسرا مطلب :ایک جامع وصیت ہے کہ امام صادق علیہ السلام نے اپنے فرزند گرامی امام کاظم علیہالسلام کے لئے کیا ہے کہ آپ اس میں فرماتے ہیں : «يابنيّ إقبل وصيّتي واحفظ مقالتي فإنّك إن حفظتها تعيش سعيدا و تموت حميدا، يا بنيّمن رضي بما قسّم له استغني، من مدّ عينه إلي ما في يد غيره مات فقير۔۔۔۔۔۔۔» اے میرے بیٹا ! میری وصیت کو سن لیں اور اس پرعمل کریں ، اگر تم نے اسے سن لیا اور عمل کیا تو سعادتمند زندگی گزاروگے اور سبتعریف کرتے ہوئے اس دنیا سے چلے جاو گے ، اے بیٹا!جو شخص اس  رزق و روزی پر راضی ہوا جو اسے نصیب ہوئی ہے وہبے نیاز ہوا ، لیکن جس نے اپنی آنکھ کو دوسروں کی ہاتھوں کی طرف کر لیا وہ فقیر مرے گا ۔۔۔۔۔۔

۱۰۵ قارئين کی تعداد:

امام صادق علیہ السلام کی فضیلت
تاریخ 17 December 2017 و ٹائم 02:03

امامصادق  علیہ السلام کی  فضیلت

امام صادق  علیہ السلام ہمارے مذہب کے رئیس ہیں ، اور ہمیںاس پر فخر ہے کہ اس مذہب کا عنوان ، مذہب جعفری ہے ، حقیقت یہ ہے کہ  ہم اپنے ائمہ اطہار علیہم السلام کے بارے میںجتنا شناخت رکھنی چاہئے اتنی شناخت پیدا نہیں کی ہے ۔

ان بزرگوں کی خدا کے ہاں جو مراتب اوردرجات ہیں ان کو ہم نے نہیں پہچانا ہے ، اور کبھی بعض افراد سے کچھ ایسی باتیں سننے میں آتی ہے اور  کچھ نظریات سامنے آتی ہے کہ انسان کو بہت  دکھ  پہنچتا  ہے ، یہ لوگ  ان بزرگوں کو عام انسانوں کی حد تک تنزل کر دیتےہیں ، آپ ہمارے فقہ میں دیکھیں کہ امام صادق علیہ السلام سے کتنی روایات موجود ہیں؟اول فقہ ( کتاب طہارت) سے لے کر آخر یعنی کتاب دیات تک امام صادق  علیہ السلام سے روایت موجود ہے ؛ اور وہ بھی نہصرف ایک دو حدیث بلکہ بہت ساری روایات موجود ہیں ، صرف باب حج میں آپ ملاحظہفرمائيں ، زرارہ امام صادق علیہ السلام سے عرض کرتا ہے میں چالیس سال سے آپ سے حجکے احکام کے بارے میں سوال کر رہاہوں لیکن ابھی تک ختم نہیں ہوا ہے ؛ خانہ کعبہ کےکچھ محدود اعمال ہیں ، تو اس کے بارے میں اتنے سارے احکام ، اور اس کے لئے کیوں اتنےطویل زمان درکار ہو؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا: تم کیا چاہتے ہو ؟ یہ گھر آدم کیخلقت سے دو ہزار سال پہلے محل طواف تھا ، اور تم چالیس سال میں اس کے احکام کوجاننا او ر سمجھنا چاہتے ہو ؟!یہ فروعی مسائل کے بارے میں ہے ، اعتقادی مسائل میںتوحید سے لے کر معاد تک آپ ملاحظہ کریں امام صادق علیہ السلام سے کتنی روایاتموجود ہیں ، انسان جب تصور کرتا ہے کہ اتنی ساری معلومات ایک عام آدمی سے ممکننہیں ہے ، جب تک مبداء وحی سے متصل نہ ہو اور خداوند متعالی کا علم اس کے ساتھ نہہو ان تمام موارد میں جواب دینا ممکن نہیں ہے ، اگر ایک مجتہد سے بھی کسی فقہیمسئلہ کے بارے میں سوال کرے جس نے اپنی پوری عمر فقہ میں گزاری ہو ، وہ بھی عامطور پر یہی کہتا ہے کہ میں دوبارہ دیکھ کر بتاتا ہوں اور کتاب کی طرف مراجعہ کرنےکے بعد ہی وہ اظہار نظر کرتا ہے ۔



ماخذ :

۹۷ قارئين کی تعداد: