pic
pic

نصحتیں اور قیمتی باتیں

اپنا سوال پوچھیں
خدا پر اطمینان حاصل ہونے کے شرائط
تاریخ 16 October 2019 و ٹائم 13:53

خدا پر اطمینان حاصل ہونے کے شرائط

تحف العقول میں  ایک روایت نقل ہے جسے مرحوم مجلسی نے بھی بحار الانوار جلد 88 ، ص261 پر  نقل کیا ہے ، کہ سفیان ثوری امام صادق علیہ  السلام کی خدمت میں آیا اور عرض کیا : مجھے کچھ نصیحت فرمائے تا کہ میں اس پر عمل  کروں ۔

حضرت نے بھی  پہلے  یہی فرمایا : اگر میں کوئی نصیحت کروں تو تم اس پر عمل کرو گے ؟اس میں ایک  جملہ  جس  کے بارے میں تاکید بھی کرتا ہو وہ  یہ  ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا :«ثق بالله ...» ،خدا پر اطمینان رکھو ، تا کہ مقام خدا کے عارف کے درجہ پر فائز ہو جائے ، یہ بہت ہی اہم مطلب ہے  اور بہت ہی مہم نصیحت ہے کہ انسان کو خدا پر اطمینان ہو۔

اگر کوئی واقعی  میں  خدا  پر  اطمینان حاصل کرنا چاہتا ہے ، تو اس کا پہلا شرط یہ ہے کہ ہمیشہ  اسی  کی طرف متوجہ رہے، جو شخص خدا سے غافل ہو وہ خدا پر اطمینان پیدا نہیں کر سکتا ، انسان کو ہمیشہ خدا کی طرف متوجہ رہنا چاہئے کہ «انا عبد و الله رب».، میں بندہ ہوں اور اللہ میرا رب ہے ۔

یہ بہت  ہی  مشکل  ہے کہ جو کچھ کام ہم انجام دیتے ہیں ان سب میں چاہئے وہ دنیوی اور مادی زندگی ہو یا علمی مسائل، یا سیر و سلوک ، یا اجتماعی زندگی خدا کی طرف متوجہ رہیں ۔

یہ پہلا قدم ہے کہ اگر انسان خدا پر اطمینان رکھنا چاہتا ہے تو خدا کی طرف متوجہ رہنا چاہئے ۔

متوجہ رہنے کا دوسرا قدم یہ ہے کہ کم از کم یہ جان لیں کہ خدا ہی انسان کے تمام کاموں کی  تدبیر اسی  کے ہاتھ میں ہے اور وہ کسی بھی حالت میں بندہ کو چھوڑ نہیں دیتا ، مثلا _نعوذ باللہ _ ایک چرواہا نہیں ہے اپنے غلام کو چھوڑ دیں اور بولیں : تم خود جہاں جانا چاہتے ہو چلے جاو، اور جو مرضی ہے کرلو ۔

کبھی ہم غلطی بھی کر لیتے ہیں«إِنَّا هَدَيْناهُ السَّبيلَ إِمَّا شاكِراً وَ إِمَّا كَفُورا»،اب اختیار خود انسان کے ہاتھ میں ہے چاہئے سیدھے راستہ پر چلے جاو یا غلط راستہ پر ۔

جو "دائم الفيض " ہے «يا من وسعت رحمته کل شيء»، وہ ہستی جس کی رحمت دنیا کی سب چیز کو احاطہ کی ہوئی ہے ، ایسا نہیں ہے کہ وہ انسان کو آزاد چھوڑ دیں ،ہمیں اس دنیا  میں  خلق کیا گیا ہے ، حتی کہ کتابوں کے نازل ہونے کے بعد اور رسولوں کے مبعوث ہونے کے بعد بھی ہمیں آزاد رہا نہیں  چھوڑا ہے اور "ولی اللہ " جو لوگوں پر  خدا  کی  حجت  ہے پھر بھی انسان کو آزاد رہا نہیں کیا ہے ۔

یہ مطلب ایک  خاص مطلب ہے کہ ہم اس کی طرف متوجہ نہیں رہتے ،ہمیں جان لینا چاہئے کہ وہ ہمیشہ ہمارے بارے میں متوجہ ہے ، اگر اس کا بندہ پیغمبر ہے ، ان کو بھی یہ  برداشت نہیں ہے کہ اس کی امت قیامت کے دن عذاب الہی میں گرفتار ہو جائے ، وہ بے انتہا شفیق اور مہربان ہے ۔

اس بارے میں ہمیں متوجہ رہنا چاہئے کہ خود اصل وجود ذات مقدس حق تعال کے بارے میں آگاہ  رہیں  اور اس بارے میں بھی کہ اس نے ہمیں رہا کیا ہوا نہیں ہے ۔

اگر یہ دو مرحلہ  ہمارے اندر زندہ ہو جائے ، واقعا ہم متوجہ رہیں اور جو بھی قدم اٹھاتے ہیں اور جو بھی ہاتھ ہلاتے ہیں ، جو بھی صغیرہ اور کبیرہ انجام دیتے ہیں ان سب کے بارے میں وہ  آگاہ ہے ، اور صرف دیکھتے رہنا نہیں ہے بلکہ اس سے بھی ایک مرحلہ اوپر ہے کہ وہ  یہ  نہیں چاہتا  کہ ہم غلط  راستہ  پر واقع ہو جائے ۔

یہ انسان کی  بدبختی ہے کہ خدا کے اتنے زیادہ توجہات کے باوجود وہ پھر بھی غلط راستہ پر چلا جاتا ہے اور خود کو خدا کے راستہ سے جدا کر لیتا ہے ، اس انسان میں کتنی  شقاوت  آجاتی ہے ، روایات ہیں کہ ہمارے بعض گناہوں کے اثرات یہ ہے کہ انسان دنیا اور آخرت میں متوجہ نہیں ہوتا ، اور خدا بھی انسان کی طرف توجہ نہیں کرتا ، یہ گناہ کا اثر وضعی ہے کہ خداوند اپنی نظر کو انسان سے پھیر لیتا ہے ۔

ہمیں جان لینا چاہئے کہ خدا یہ نہیں چاہتا ہے کہ جس وجود کو اس نے خلق کیا ہے وہ ضایع ہو جائے ، سارے اسرار اسی میں پوشیدہ ہے ، ایسا نہیں ہے کہ کسی باغبان کی طرح باغ میں دو پھول لگا لیں اور اس کے بعد بولے جو بھی ہو جائے ہونے دو ، نہیں ایسا نہیں ہے ، بلکہ وہ حکیم ہے ، اور وہ اپنے اس وجود کو ضایع ہونا نہیں چاہتا ، یہ ہم خود  ہیں  کہ  اپنے  ہاتھوں  سے اپنے آپ کو ضایع کر دیتے ہیں اور نابود کر لیتے ہیں ۔

اگر یہ  دو  مطلب  انسان کے اندر پایا جائے ، تو اسے اطمینان کا مقام حاصل ہو گا اور انسان خدا پر اطمینان پیدا  کرے گا ،وہی انسان کی حیثیت ، عزت اوردوسرے تمام کاموں کا متکفل ہے ، یہ ہے مرحلہ اطمینان خدا۔

البتہ ایسا  بھی  نہیں  ہے کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ جوڑ کر بیٹھ جائے اور بولے : وہی ہمارے تمام کاموں کا متکفل ہے ، ہمارے اندر تو کوئی چیز نہیں ہے ، ایسانہیں ہے بلکہ اسے چاہئے  کہ   شرائط کو مہیا کرے ۔

اس روایت  میں   امام صادق علیہ السلام نے جو فرما یا ہے وہ یہ ہے کہ :«ثق بالله»،خدا  پر  اطمینان  رکھا کرو ، «تکن عارفا»،عارف ہو جاوگے ، عارف یہ  نہیں  ہے کہ  انسان بولے : میں چلہ کاٹا ہوں ، کسی تاریک جگہ پر چالیس دن بیٹھ جائے ، دوست اور اہل و عیال اور اجتماع سے دور ہوجائے ، او ر اسے چلہ کاٹنا نام رکھے ، مکتب  اہلبیت  میں ایسی کوئی چیز ہے ہی نہیں ہے ۔


 

ماخذ : بحار الانوار، ج 88، ص 261

۶۱۲ قارئين کی تعداد: