pic
pic

سوال و جواب

اپنا سوال پوچھیں
شادی میں رکاوٹ جادو اور سحر کو ختم کرنا
تاریخ 16 October 2019 & ٹائم 13:06

میں ایک جوان لڑکی ہوں، چند سال پہلے معلوم ہوا کہ گویا ہمارے رشتہ داروں میں سے کسی نے ہمارے گھر والوں اور میرے لئے کوئی دعا پڑھ لی ہے کہ کوئی بھی میرے منگنی کے لئے نہ آئے اور اگر کوئی آبھی جائے اور شادی ہو جائے تو طلاق ہو کر ہم ایک دوسرے سے جدا ہو جائے ۔
اور ابھی تک اسی طرح ہی ہوا ہے کہ کوئی منگنی نہیں ہوئی ہے صرف دور دور سے باتیں ہوتی ہیں اور کوئی بھی اس بارے میں قطعی طور پر بات نہیں کرتے ہیں ، اسی طرح اس دعا کی وجہ سے شاید ہوا ہو ہماری زندگی میں کچھ مشکلات بھی پیدا ہوئے ہیں ۔
میں اپنی ماں اور بہت سارے دوسرے لوگوں کے بر خلاف دعا پڑھنے پر کوئی اعتقاد نہیں رکھتا ہوں ، میرا عقیدہ یہ ہے کہ جب تک خدا کوئی ارادہ نہ کرے کوئی بھی چیز واقع نہیں ہو سکتی ، ان سب کے باوجود آپ کے نظر میں ، میں کیا دعا کو باطل کرنے کے لئے کچھ اقدام کروں یا نہیں ؟

اگرچہ سحر اور جادو کچھ حد تک واقعیت رکھتا ہے لیکن ہر کام کو اور شادی کے اسباب مہیا نہ ہونے کو سحر اور دعا سے نسبت دینا صحیح نہیں ہے ، بلکہ ممکن ہے کچھ دوسرے اسباب جیسے خداوند متعالی کا امتحان اور آزمايش ہو ، یا خود انسان کے بعض رفتار ، کردار اور گفتار کی وجہ سے بھی ہو یا اس میں کچھ اور مصلحت اور حکمت پوشیدہ ہو۔

لیکن اس کے باوجود بھی اگر سحر اور جادو سے ڈرتی ہو تو زیادہ سے زیادہ قرآن کی تلاوت کریں ، خصوصا آیت الکرسی اور چہار قل یعنی :«قل هو الله أحد..»، « قل أعوذ برب الناس..»، « قل أعوذ برب الفلق..» و « قل یا أیها الکافرون » کو پڑھيں اور مفاتیح الجنان میں سحر اور جادو کے باطل  کرنے کےلئے نقل ہیں انہیں پڑھ لیں ۔

اورخدا آپ کے  شادی کے زمینہ فراہم  کرے اور مناسب منگیتر آجائے ، چند جمعہ نماز حضرت زہرا (سلام الله علیها ) کو اسی نیت سے پڑھ لیں اور زیادہ دعا کریں اور قرآن کی زیادہ تلاوت کیا کرے ، ان شاء اللہ شادی کا زمینہ فراہم ہو گا ۔

اسی طرح اس عمل کو بھی بجا لائیں کہ کسی بزرگ نے تعلیم فرمایا ہے ۔

نمازوں ، خصوصا نماز صبح کو اول وقت میں پڑھ لیا کریں ، نماز صبح کے بعد ہاتھوں کو سینہ پر رکھیں اور ستر مرتبہ «يا فتّاح» پڑھ لیں ، اس کے بعد 110 مرتبہ صلوات پڑھيں ، اور جب بھی فکری لحاظ سے مشکل پیش آئے «لا حول و لا قوّة الّا بالله» کو زیادہ پڑھا کریں ، اور اس کو چالیس دن تک انجام دیتے رہیں ، ان شاء آپ کا مشکل حل ہو جائے گا ۔

۹۹۹ قارئين کی تعداد:

نماز کیوں پڑھے؟
تاریخ 16 October 2019 & ٹائم 13:06

ہم کيوں نماز پڑھیں ؟ کیا خدا ہمارے عبادت کے نیازمند ہے ؟

یہ مسئلہ کہ ہم کیوں نماز پڑھیں؟ ، یہ کیا خود ہماری ضرورت ہے ، اور خداوند متعالی کو ہماری اس نماز کی کوئی ضرورت نہیں ہے ، لیکن ہمیں  نماز پڑھنے اور خداوند متعالی کی عبادت کرنے ضرورت  اس وجہ سے ہےتا کہ ہم  کمال کے درجہ پر پہنچ جائے ۔

لہذا خلاصہ کے طور پر ہم یہ بتا سکتے ہیں کہ : ہماری نماز پڑھنے کی چند دلائل ہیں :

الف: نماز پڑھنے کے بارے میں خدا کا حکم ہے ، اس نے حکم دیا ہے اوربندہ پر واجب ہے کہ بغیر کسی اشکال اور اعتراض کے خداوند متعالی کی حکم کا اطاعت کرے ۔

ب: ہر انسان اپنی زندگی میں کسی ایسی ہستی کا محتاج مند ہے جو مشکلات  کے وقت  اس کا پناہ گا ہو ، اور بشر کے لئے سب سے بہترین پناہ گاہ خداوند متعال پر اعتقاد اور اس پر ایمان رکھنا ہے ، لہذا مومن انسان خدا کے ساتھ اپنی زندگی میں ایک خاص قسم کی آرامش کا احساس کرتے ہیں جس سے غیر مومن انسان محروم ہیں ، وہی مہربان خدا جس نے  ہماری پوری زندگی میں بچپنے سے لے کر حتی کہ ماں کے پیٹ سے لے کر ، زندگی کے آخرین لحظات تک بے کراں نعمتوں  سے نوازا ہے ، اس نے ہمیں یہ اجازت دی ہے کہ خود سے بات کرے ، اور یہ بات کرنا اور مناجات ، ہماری ضروریات میں سے ہے ، ورنہ خود وہ تو ہر چیز اور ہر شخص سے بے نیاز ہے ، اور یہ خالق ہستی سے بات کرنا نماز کے وقت ہے ، کہ ہم اس کی ستايش کرتے ہیں اور اس سے یہ درخواست کرتے ہیں کہ ہماری مدد کرے اور صحیح راستہ کی طرف ہماری راہنمائی فرمائے ، اور اس کام کو عقل ہمارے اوپر واجب قرار دیتا ہے کیونکہ  عقل کہتا ہے نعمت دینے والے کا شکر ادا کرنا واجب اور لازم ہے، اسی وجہ سے ہم یہ کام انجام دیتے ہیں ، بہر حال نماز ، انسان کا خدا سے ارتباط کا رمز اور انسان کے کمال تک پہنچنے کا وسیلہ ہے ، اور یہ انسان پر واجب قرار دیا گیا ہے تا کہ اس طریقہ سے انسان زیادہ سے زیادہ کمال  کے درجہ تک  پہنچ جائے ۔

ج: نماز؛ خداوند متعال کا شکر یہ ادا کرنا ہے ، ان مختلف نعمتوں کے مقابلہ میں جو ہمیں عطا ہوئی ہے ، عقلی اور شرعی لحاظ سے ولی نعمت کا شکریہ ادا کرنا واجب ہے ۔

د: خلقت انسان کا ہدف ، آفرینش کے کمال تک پہنچنا ہے ، اور کمال تک پہنچنا اور مقام قرب خداوندی پر فائز ہونا اور عالم آخرت میں خداوند متعالی کے نعمتوں سے مستفید ہونے کا راستہ خدا سے ارتباط کرنا اور خداوند متعالی کی عبادت ہے ، اسی وجہ سے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ «و ما خلقتُ الجنّ و الإنس إلا ليعبدون»؛ اور میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے ۔

خدا سے ارتباط کا سب سے اہم وسیلہ اور سب سے اہم عبادت خداوندی، نماز ہے ، کہ نماز میں انسان مستقیم طور پر خدا سے بات کرتا ہے اور خدا سے گفتگو کرتا ہے ۔

ہ: پانچ وقت کی نماز يں ، گناہوں کا کفارہ ہے جو دو نمازوں کے درمیان انسان سے انجام پاتا ہے ، اگر کوئی قبولی اور صحت کے شرائط کو رعایت کرتے ہوئے پانچ وقت کی نماز ادا کرے اور لوگوں کے حقوق بھی ادا کرے ، خداوند متعال بھی نماز کی وجہ سے اس کے گناہوں کو بخش دیتا ہے ۔

امیر المومنین علیہ السلام  سے نقل ہوا ہے: «قَالَ(ع) سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ(ص) يَقُولُ إِنَّمَا مَنْزِلَةُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ لِأُمَّتِي كَنَهْرٍ جَارٍ عَلَى بَابِ أَحَدِكُمْ فَمَا ظَنُّ أَحَدِكُمْ لَوْ كَانَ فِي جَسَدِهِ دَرَنٌ ثُمَّ اغْتَسَلَ فِي ذَلِكَ النَّهْرِ خَمْسَ مَرَّاتٍ فِي الْيَوْمِ أَ كَانَ يَبْقَى فِي جَسَدِهِ دَرَنٌ فَكَذَلِكَ وَ اللَّهِ الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ...»؛

آپ ( ع) نے فرمایا میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا کہ آپ فرما رہے تھے : میری امت کے لئے پانچ وقت کی نمازیں  پانی کی جاری ایک نہر کی طرح ہے ، جو آپ میں سے کسی ایک کے دروازہ کے پاس ہو ، کیا یہ گمان ہو سکتا ہے کہ اگر بدن  گندھا ہو اور دن میں پانچ مرتبہ اس نہر سے نہا لیں ، کیا اس کے بعد بھی اس کے بدن پر کوئی گندگی رہ جائے گی ؟! (یقینا کچھ گندگی نہیں رہے گی ) اسی طرح ہے خدا کی قسم پانچ وقت کی نمازيں میری امت کے لئے ۔

یعنی پانچ وقت کی نمازیں میری امت کے گناہوں کو ختم کر لیتی ہے ۔

ایک اور روایت میں آیت کریمہ کی تفسیر میں امام صادق علیہ السلام سے نقل ہے کہ آپ (ع )نے فرمایا : «صَلَاةُ الْمُؤْمِنِ بِاللَّيْلِ تَذْهَبُ بِمَا عَمِلَ مِنْ ذَنْبٍ بِالنَّهَارِ»؛ رات کی نمازیں مومن کی دن کی  گناہوں کو ختم کر دیتی ہے ۔

نتیجہ یہ ہےکہ توبہ کے علاوہ ، صحیح وضو کے ساتھ پانچ وقت کی نمازیں بھی ، ان گناہوں کو جو حق الناس سے مربوط نہ ہو ختم کر دیتی ہیں ۔

ان دلائل کی بناء پر ہر انسان پر واجب ہےکہ خداوند متعال نے جو حکم دیا ہے اسی کے مطابق نماز پڑھے ، تا کہ کثافتوں سے نجات ملے اور قرب خداوند کا مقام اور کمال آفرینش الہی کے نزدیک ہو جائے ۔

 

 

۱,۳۸۳ قارئين کی تعداد:

باتھ روم سے پانی ٹپکنا
تاریخ 16 October 2019 & ٹائم 13:06

اگر ایک ایسے جگہ سے پانی ٹپکے جہاں سے ہمیشہ پانی ٹپکتا ہے ، لیکن اس کے ارد گرد نجس ہوجیسے باتھ روم وغیرہ، وہاں سے پانی ہمارے کپڑے پر ٹپکے ، تو اس کا کیا حکم ہے؟

اگر جس جگہ سے پانی ٹپک رہا ہے اس جگہ کے نجس ہونے کا یقین نہ ہو ، تو جو پانی ٹپکا ہے وہ پاکی کے حکم میں ہے ، لیکن اگر اس جگہ کے نجاست کے بارے میں یقین ہو ، تو جو پانی ٹپک رہا ہے  اور  وہ کپڑے یا بدن پر لگ جائے تو وہ نجس ہے۔

۲,۲۹۶ قارئين کی تعداد:

مطلوبہ الفاظ: باتھ روم کا پانی ٹپکنا
شراب پینا
تاریخ 16 October 2019 & ٹائم 13:06

کیا شراب پینے سے ، انسان مجنب ہوتا ہے اور اس پر غسل واجب ہے ؟

شراب پینے سے ، انسان مجنب نہیں ہوتا، اور اس پر غسل واجب نہیں ہے ، لیکن شراب نجس  اور اس کا پینا حرام ہے ، اگر کوئی انسان  شراب پی لے تو اسے چاہئے فورا توبہ کریں، اگر توبہ نہ کرے تو چالیس دن تک اس کی نمازیں قبول نہیں ہے ، لیکن پھر بھی اسے نماز یں پڑھنا چاہئے اور واجب  ہے ۔

۲,۴۸۱ قارئين کی تعداد:

نماز میں حضور قلب
تاریخ 16 October 2019 & ٹائم 13:06

سوال: کیا کریں کہ نماز میں حضور قلب پیدا کریں؟

جواب:حضور قلب کے چند درجات ہیں ،جس کا خلاصہ یہ ہے کہ نماز میں آپ متوجہ رہیں کہ آپ کس سے مخاطب ہے اور کس سے بات کر رہا ہے ،اور کس کے سامنے مناجات کے لئے کھڑا ہے ، ایک طرف خدا کی عظمت اور بزرگی کو اور دوسری طرف اپنے چھوٹے ہونے اور  کامل طور پر نیازمند ہونے اور کمزور ہونے کو درک کریں ، اگر اس حالت کے ساتھ نماز پڑھیں تو ضرور حالت خضوع و خشوع پیدا ہو گا۔

نماز میں خضوع و خشوع نہ ہونا انسان کی غفلت اور اہمیت نماز اور خدا کی عظمت سے بے توجہ ہونے کی وجہ سے ہے ۔

اس حالت کو ختم کرنے کے لئے ان چند چیزوں کی رعایت ضروری ہے :

1۔ خدا وند متعالی کی عظمت پر توجہ دین اور کبھی بھی جلدی جلدی میں نماز نہ پڑھیں اور حالت نماز میں خدا کی یاد میں رہے اور اس بارے میں سوچیں کہ کس کے مقابل میں کھڑا ہے ، اور کس سے بات کر رہا ہے اور خود کو خداوند عالم کے بزرگی اور عظمت کے مقابلہ میں بہت ہی چھوٹا تصور کریں۔

2۔جان لو کہ نماز دین کا ستون ہے اگر یہ قبول ہو جائے تو دوسرے تمام اعمال قبول ہے اور اگریہ قبول نہ ہو جائے تو دوسرے اعمال بھی قبول نہیں ہے ۔

3۔ گناہ سے پرہیز کریں۔

4۔ حرام لقمہ سے اجتناب کریں۔

5۔قرآن اور معتبر دعاوں کو زیادہ سے زیادہ پڑھیں۔

6۔جہاں تک ہو سکے نمازوں کو اول وقت میں مسجد میں جماعت کے ساتھ پڑھیں ،نماز کی مستحبات جیسے صفائی ، عطر لگانا، دھلے ہوئے کپڑے پہننا ،جانماز پچھا کر نماز پڑھنا اور ہر وہ چیز جس نماز کو اہمیت دینے کی نشانی میں سے ہے انہیں انجام دیں ، انشاء اللہ خداوند آپ کو توفیق عنایت فرمائے گا کہ نماز میں حضور قلب پیدا کرے۔

۳,۴۳۴ قارئين کی تعداد: