pic
pic

سوال و جواب

اپنا سوال پوچھیں
عدالت خداوندی اور انسانوں کی آزمائش اور آسایش
تاریخ 17 December 2017 & ٹائم 02:03

عرصہ سے میرے ذہن میں ایک سوال کھٹک رہا ہے ، کہ خدا کیسے عادل ہے در حالیکہ ایک شخص کسی ایسے گھرانے میں بڑا ہوتا ہے جس کا باپ زنا کار ہے ، اور ایک شخص ایک بہت ہی اچھے گھرانے میں بڑا ہوتا ہے؟حقیقت یہ ہے کہ میرا ایک دوست ہے اسے روحی لحاظ سے بہت مایوسی ہوئی ہے ، وہ عشق میں ناکام ہوا ہے ،میرا دوست ایک بہت ہی اچھی اور مذہبی لڑکی ہے ، وہ ایک ایسے گھرانے میں پلی بڑھی ہے کہ اس کا باپ زناکار ہے ،اس کے بھائی نے بیوی کو طلاق دی ہے ، اس کی بہن کو اس کا شوہر مارتا رہتا ہے اور بہت تنگ کرتاہے ، اور خود اس سے بڑی ایک بہن ہے جس کی عمر 27 سال ہے اور ابھی تک شادی نہیں ہوئی ہے ، اس کے بہت سارے منگیتر ہے لیکن جب خاندان کے بارے میں تحقیقات کرتے ہیں تو اس کی باپ کے کرتوت کو دیکھ کر سب چلے جاتے ہیں ،میرا دوست جب ان سب چیزوں کو دیکھتی ہے تو کہتی ہے کہ خدا عادل نہیں ہے ،خدا نے ہمیں يوں ہی چھوڑ دیا ہے ،اسی طرح کی دوسری باتیں ،اس کی حالت بہت بری ہے ، اسے جتنا بھی بولیں کہ یہ سب خداکے امتحانات ہیں، قبول نہیں کرتی ، خلاصہ کلام یہ ہے کہ وہ خدا پر شک کرتی ہے ، بہت ہی غمگین ہے اور کہتی ہے کہ مجھے خدا سے کوئی امید نہیں ہے ، میرا مستقبل تاریک ہے ، میں بڑے بڑے گناہ کو انجام دے چکی ہوں اور وہ خدا سے ناامید ہونا ہے ،آپ کے خیال میں ، میں اس کی کیسے راہنمائی کروں؟میں اسے کیا بتاوں کہ خدا کی عدالت کیا ہے کہ اس کے لئے یہ پریشانیاں پیش آئی ہے؟اس کا یہ اعتقاد ہے کہ اس کے باپ کا نتیجہ ابھی ان کو مل رہا ہے ، وہ کہتی ہے کہ ہمیں اپنے باپ کےکاموں کے نتیجہ کو تحمل کرنا پڑ رہا ہے ،خدا بہت ہی بے عدالت ہے ۔۔۔۔۔ میں اسے کیسے سمجھاوں؟

جواب : کسی کاگناہکار ہونا اور اس گھر میں کسی بچہ کی پیدایش خداوند متعال کی عدالت سے کوئی ربطنہیں رکھتا ہے ، خداوند متعالی نے  اپنےتمام بندوں کو اچھے اور برے دونوں راستے کو دیکھا دیا ہے اور انسانوں کی راہنمائیکے لئے پیغمبروں کو بھیجا ہے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد انکے بر حق جانشینوں  اور زمان غیبت میںمراجع عظام اور علماء معصومین علیہم السلام کی پیروی کرتے ہوئے اچھے اور برے کو لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں ، اس کےعلاوہ خود خدا نے بھی انسان کے اندر عقل کو قرار دیا ہے کہ جس کی مدد سے انساناچھے اور برے کی خود تمیز کر سکتا ہے ، اور خداوند متعال نے بشر کی ہدایت کے لئےکوئی کمی نہیں چھوڑی ہے  ، اب اگر کوئیانسان ان تمام ہدایت اور سعادت کے راستوں کو چھوڑ دیں اور روشن اور مستقیم راستہسے بھٹک جائے اور انحراف اور گمراہی کی طرف چلا جائے ،تاریکی اور اپنی ہلاکت کیطرف چلا جائے تو ایسے گھرانہ میں کوئی بچہ پیدا ہوجائے تو یہ خدا کے عدالت سے کوئیربط نہیں رکھتا ہے ؟خداوند متعال نے ہدایت کے اسباب کو سب کے  اختیار میں قرار دیا ہے ، اب ایک انسان اس سےاستفادہ کرتا ہے اور خود کو اپنی فطرت کی راہ پر قرار دیتا ہے ، اور ایک نفرگمراہی پر چلا جاتا ہے ،ہر کوئی اپنی اختیار سے جسے خدا نے اسے قرار دیا ہے چلتاہے، ضمنا اس طرح کے گھرانوں میں جو بچہ پیدا ہوتا ہے وہ اپنی سرنوشت کو خود بدل سکتاہے اور پاکیزہ گی اور سعادت کی طرف آسکتاہے ۔

بہر حال اس بہنکے مشکل کے بارے میں آپ کو جو ہم بتا سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ :

دنیا میں صرف یہنہیں ہے جو مشکلات میں ہو ، بلکہ اس دنیا میں ہر کوئی اپنے حساب سے مشکل اورپریشانی میں مبتلاء ہیں ، ان پریشانیوں کی وجہ کیا ہے ؟ قرآن کریم کی آيات اور اہلبیت عصمت علیہم السلام کی روایات کے مطابق مومنین کے لئے جو پریشانیاں آتی ہے وہیا خود ان کے جہالت اور اس کام کے عواقب سے بے خبری کی وجہ سے ہے ، یا یہ خدا کاامتحان ہے ، یا اس کے معنوی درجات کو اوپر لے جانے کے لئے ہے ،ان میں سے ہر ایک کیمختصر تشریح یہ ہے :

الف:کبھی انسانکچھ خطا اور غلط کاموں کا مرتکب ہوتا ہے جس کے نتیجہ میں دنیا کی زندگی میں اسےپریشانیاں پیدا ہوتی ہے ، ہر گناہ کے اپنے خاص اثر اور  نتائج ہے ، کچھ گناہوں کی وجہ سے انسان فقیرہوتا ہے ، اسی طرح  دوسرے گناہوں کے اپنےاپنے خاص برے نتائج ہیں ، جیسا کہ امام علی علیہ السلام دعا کمیل میں فرماتا ہے :«اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِيَ الذُّنُوبَ الَّتِي تَهْتِكُالْعِصَمَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِيَ الذُّنُوبَ الَّتِي تُنْزِلُ النِّقَمَاللَّهُمَّ اغْفِرْ لِيَ الذُّنُوبَ الَّتِي تُغَيِّرُ النِّعَمِ اللَّهُمَّاغْفِرْ لِيَ الذُّنُوبَ الَّتِي تَحْبِسُ الدُّعَاءَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِيَالذُّنُوبَ الَّتِي تُنْزِلُ الْبَلَاءَ‏»؛خدایامیرے گناہوں کو بخش دے جو ناموس کو بٹہ لگادیتے ہیں۔ان گناہوں کو بخش دے جو نزولعذاب کا باعث ہوتے ہیں۔ ا ن گناہوں کو بخش دے جو نعمتوں کو متغیر کر دیا کرتےہیں۔ان گناہوں کو بخش دے جو دعاوٴں کو تیری بارگاہ تک پھنچنے سے روک دیتے ہیں ان گناہوںکو بخش دے جو امیدوں کو منقطع کر دیتے ہیں۔ان گناہوں کو بخش دے جو نزول بلاء کاسبب ہوتے ہیں۔اور یہ سب پریشانیاں بھی اس لئے ہے تا کہ اس کے گناہوں کا کیفر ہو ،چونکہ خداوند متعال اپنے مومن بندہ کو پسندکرتا ہے تو بعض گناہوں کے سلسلے میں اسےگرفتار کرتا ہے تا کہ اس کے گناہ کا سزا اسے اسی دنیا میں ملے ،اور آخرت میں  اس کا بوجھ کم ہو ، اور یہ خود خدا کا اپنےمومن بندہ کے لئے لطف اور رحمت ہے ، لیکن جو شخص مورد غضب قرار پاتا ہے وہ اکثر وبیشتر کسی مصیبت میں مبتلاء ہونے کے بجائے اس کی نعمت کو زیادہ کیا جاتا ہے تا کہآخرت میں اسے دردناک عذاب میں مبتلاء کرے ۔

ب۔  کچھ پریشانی کبھیخدا کی طرف سے امتحان اور آزمائش کے لئے ہے،خدا کے ثابت قوانین میں سے ایک یہ ہےکہ مومنین کو آزمائش میں ڈال دیتے ہیں ، جیسا کہ قرآن کریم کی بہت ساری آیات میںاس مسئلہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے ، نمونہ کے طور پر سورہ آل عمران کی آیت 186ملاحظہ فرمائيں:«لَتُبْلَوُنَّ في‏أَمْوالِكُمْ وَ أَنْفُسِكُمْ وَ لَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذينَ أُوتُوا الْكِتابَمِنْ قَبْلِكُمْ وَ مِنَ الَّذينَ أَشْرَكُوا أَذىً كَثيراً وَ إِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ ذلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ»؛"یقیناً تم اپنے اموال اور نفوس کے ذریعہ آزمائے جاؤگے اور جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی ہے اور جو مشرک ہو گئے ہیں سب کی طرف سے بہتاذیت ناک باتیں سنو گے – اب اگر تم صبر کرو گے اور تقویٰ اختیار کرو گے تو یہیامور میں استحکام کا سبب ہے"۔سورہ بقرہ آیت 155 میں فرماتا ہے:«و لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْ‏ءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوعِوَنَقْصٍ مِنَ الاَمْوالِ وَالأَْنْفُسِ وَ الثَّمَراتِ وَ بَشِّرِالصَّابِرِينَ»؛"اور ہم یقیناًتمہیں تھوڑے خوف تھوڑی بھوک اور اموال و نفوس اور ثمرات کی کمی سے آزمائیں گے اوراے پیغمبر آپ ان صبر کرنے والوں کو بشارت دے دیں"۔سورہ عنکبوت آیت 2 اور 3میںفرماتا ہے :«أحسب الناس أن يتركوا أن يقولوا آمنا وهم لا يفتنون»۔کیالوگوں نے یہ خیال کر رکھا ہےکہ و ہ صرف اتنا کہنے سے چھوڑ دے جائيں گے کہ ہم ایمانلائے اور یہ کہ وہ آزمائے نہیں جائیں گے ، اور بتحقیق ہم ان سے پہلوں کو بھیآزماچکے ہیں کیونکہ اللہ کو بہر حال یہ واضح کرنا ہے کہ کون سچے ہیں اور یہ بھیضرور واضح کرنا ہے کہ کون جھوٹے ہیں "۔پس یقینا خدا وند متعال مسلمانوں کوبھی آزمائے گا،اور اس وقت معلوم ہو گا کہ کون سچے ایماندار ہیں اور کون جھوٹاایمان کا دعویدار ہے ، البتہ خدا کے آزمائش کا کوئی خاص چارچوب نہیں ہے بلکہ ہرکسی کا اس کے روحی حالات کے مطابق آزمائش میں ڈالا جاتا ہے اور اس کا امتحان ہوتاہے ، لہذا ایک اور آیت میں فرماتا ہے :«وَنَبْلُوكُمْبِالشَّرِّ وَ الْخَيْرِ فِتْنَةً وَ إِلَيْنا تُرْجَعُونَ»(انبياء: 35)، اور ہمامتحان کے طور پر برائی اور بھلائی کے ذریعے تمہیں مبتلا کرتے ہیں اور تم پلٹ کرہماری ہی طرف آو گے"۔

خداکےامتحان اور آزمائش کی حکمت کیا ہے ؟ اگرچہ خداوند متعال تمام کاموں سے آگاہ ہے،لہذا بندوں سے جو امتحان لیا جاتا ہے وہ ان چیزوں کے بارے میں جہالت کو ختم کرنےکے لئے نہیں ہے ، لیکن خالص مومنوں کے شایستگی اور لیاقت کو ظاہر کرکے دوسروں کودیکھانے  اور ان کے اندورنی استعداد کوظاہر کرنے کے لئے ان کا امتحان لیا جاتا ہے ۔

مومنانسان کو خالص کرنا اور اس کے ایمان کا جوہرہ آشکار ہونا خدا کے امتحان اور آزمائشکے حکمتوں میں سے ایک ہے ۔جس طرح سنہار سونے کو آگ میں ڈال دیتا ہے تا کہ اس کےکچرے آگ میں ختم ہو جائے اور خالص سونا مل جائے ، خداوند متعال بھی مومن انسانوںکو غم و اندوہ اور گرفتاریوں میں ڈال کر اس کے ایمان کو خالص کرا لیتا ہے ، اسیطرح سچے مومن اور صرف  مومن ہونے کےدعویدار انسانوں کو الگ الگ کرنا بھی خدا کے امتحان اور آزمائش کی حکمتوں میں سےایک ہے ، جیسا کہ حضرت  علی                          فرماتے ہیں :«لَابُدَّ لِلنَّاسِ مِنْ أَنْ يُمَحَّصُوا وَ يُمَيَّزُوا وَ يُغَرْبَلُوا وَيُسْتَخْرَجُ فِي الْغِرْبَالِ خَلْق»؛، "لوگ خالص ہونا چاہئے اور ان کاامتحان ہونا چاہئے اور اچھے اور برے الگ ہونا چاہئے " لہذا مومنین ان کےایمان کے مرتبہ اور روحی حالت کے مطابق خدا کے سخت امتحانات واقع ہوتا ہے اور کوئییہ نہ سوچے کہ ایمان کا راستہ ہمیشہ سرسبز باغوں سے گزرتا ہے اور با ایمان افراداس طولانی سفر میں صرف پھولوں کے پتوں پر قدم رکھتے ہیں یہ فکر اور سوچ ایمان اوردین کی ماہیت سے بے خبری کی علامت ہے ، شاید یہی سوچ اور فکر تھی کہ مکہ میں بعضمسلمانوں کے افکار میں رخنہ ڈالا تھا کہ ہم کب تک خدا واحد پر ایمان رکھنے کے جرممیں ظلم و ستم میں پستے رہیں ؟خداوند متعال نے ان کے ذہنوں سے اس فکر کو ختم کرنےکے لئے ذیل کی ان آیات کو نازل فرمایا:«أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَ هُمْ لا يُفْتَنُونَوَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذينَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذينَصَدَقُوا وَ لَيَعْلَمَنَّ الْكاذِبينَ»(عنكبوت/2-3)؛ کیا لوگوں نے یہ خیال کررکھا ہےکہ و ہ صرف اتنا کہنے سے چھوڑ دے جائيں گے کہ ہم ایمان لائے اور یہ کہ وہآزمائے نہیں جائیں گے ، اور بتحقیق ہم ان سے پہلوں کو بھی آزماچکے ہیں کیونکہ اللہکو بہر حال یہ واضح کرنا ہے کہ کون سچے ہیں اور یہ بھی ضرور واضح کرنا ہے کہ کونجھوٹے ہیں "۔

گویایہی غلط افکار کہ ایمان لانے کے بعد پھر کوئی مشکل پیش نہیں آنی چاہئے ، مدینہ میںبھی مسلمانوں کے ذہنوں میں بھی پیدا ہوئے تھے کہ خداوند متعال نے ان کے اس غلط اورعقیدہ کو باطل قرار دینے کے لئے یوں فرمایا :«أَمْحَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا يَأْتِكُمْ مَثَلُ الَّذينَخَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ مَسَّتْهُمُ الْبَأْساءُ وَ الضَّرَّاءُ وَ زُلْزِلُواحَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَ الَّذينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتى‏ نَصْرُ اللَّهِ أَلاإِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَريب‏»(بقره:214)؛کیا تم خیال کرتے ہو کہ یونہی جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ ابھی تمہیں اس قسمکے حالات پیش نہیں آئے جو تم سے پہلوں کو پیش آئے تھے؟ انہیں سختیاں اور تکالیفپہنچیں اور وہ اس حد تک جھنجھوڑے گئے کہ (وقت کا) رسول اور اس کے مومن ساتھی پکاراٹھے کہ آخر اللہ کی نصرت کب آئے گی؟(انہیں بشارت دے دی گئی کہ) دیکھو اللہ کینصرت عنقریب آنے والی ہے۔

جنگ احد کے بعد جس میں مسلمانوں کے بہت سارے نقصانات ہوئے اور زخمی بھی ہوئےاور 70 بہت ہی اچھے جنگنجو اور فوج کے سپہ سالار شہید ہوئے (ایسے حالت میں ، یہبیان کرنے کے لئے کہ ایمان اور دینداری میں مشکلات ہے ) خداوند متعال نے اس آیتکریمہ کو نازل فرمایا :«أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّايَعْلَمِ اللَّهُ الَّذينَ جاهَدُوا مِنْكُمْ وَ يَعْلَمَ الصَّابِرينَ»(آلعمران:142)؛کیا تم (لوگ) یہ سمجھتے ہیں کہجنت میں یونہی چلے جاؤ گے حالانکہ ابھی اللہ نے یہ دیکھا ہی نہیںکہ تم میں سے جہادکرنے والے اور صبر کرنے والے کون ہیں؟بہر حال خدا کے آزمایش کا باب ایک مفصل بابہے اور اس کی حکمتیں بھی بہت زیادہ ہیں اور خدا ہر بندہ کو ایک خاص انداز سےآزمايش میں قرار دیتا ہے ، چنانچہ پیغمبران الہی سخت امتحان اور آزمایش میں واقعہوتے تھے ۔

ج- اجر کوزیادہ کرنا اور روحانی انعام:کبھی پریشانیاں اور امتحانات الہیاس لئے ہے کہ خداوند مومن انسانوں کو امتحان میں ڈال دیتا ہے تا کہ وہ ان پر صبرکرے اور اس کے روحانی درجات کو بلند کرے ، اس بارے میں عبد الرحمن سے ایک روایتنقل ہے جس میں فرماتے ہیں :«عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَجَّاجِ قَالَ ذُكِرَعِنْدَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ(ع) الْبَلَاءُ وَ مَا يَخُصُّ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّبِهِ الْمُؤْمِنَ فَقَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ص مَنْ أَشَدُّ النَّاسِ بَلَاءًفِي الدُّنْيَا فَقَالَ النَّبِيُّونَ ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ وَيُبْتَلَى الْمُؤْمِنُ بَعْدُ عَلَى قَدْرِ إِيمَانِهِ وَ حُسْنِ أَعْمَالِهِفَمَنْ صَحَّ إِيمَانُهُ وَ حَسُنَ عَمَلُهُ اشْتَدَّ بَلاؤُهُ وَ مَنْ سَخُفَإِيمَانُهُ وَ ضَعُفَ عَمَلُهُ قَلَّ بَلَاؤُهُ»؛ «، عبد الرحمن ابن حجاج کہتا ہے: میں امام صادق  علیہ السلام کی خدمت میںشرفیاب ہواتھا ان کے حضور میں سختیوں اور خدا کا مومن بندوں کے امتحان کرنے کی باتہوئی ، تو آپ علیہ السلام نے فرمایا : رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سےپوچھا گیا :دنیا میں کس کا امتحان زیادہ سخت ہے ؟ فرمایا:پیغمبروں کا ، ان کے بعدہر وہ جو ان کے جیسے ہیں (اوصیاء) اور ان کے بعد مومن  کا اس کے ایمان کے اندازہ سے اور کردار کے اچھےہونے کے لحاظ سے بلاوں میں گرفتار ہوتے ہیں ، پس جس کا بھی ایمان صحیح ہو اورکردار نیک ہو اسی اندازہ سے اس کا امتحان سخت ہوتا ہے اور جس کا ایمان ضعیف ہو اسکی گرفتاری اور امتحان کم ہو گا "ایک اور روایت میں ہے :«عَنْ أَبِي عَبْدِاللَّهِ ع قَالَ إِنَّمَا الْمُؤْمِنُ بِمَنْزِلَةِ كِفَّةِ الْمِيزَانِ كُلَّمَازِيدَ فِي إِيمَانِهِ زِيدَ فِي بَلَائِه»؛امامصادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں :مومن مومن ترازو کے دو پلڑوں کےمانندہے جتنا ایمان میں اضافہ ہو گا اتنا بلا و مصیبت میں بھی اضافہ ہو گا"امامصادق علیہ السلام نے فرمایا: خداوند متعال اپنے اچھے بندوں کو بلا اور مصیبت میںگرفتار کرتا ہے تا کہ اس طرح سے وہ بغیر کسی گناہ کے اجر اور ثواب عنایت فرمائے ،ایک اور حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یوں نقل ہے : «إِنَّ الرَّجُلَلَيَكُونُ لَهُ الدَّرَجَةُ عِنْدَ اللَّهِ لَا يَبْلُغُهَا بِعَمَلِهِ يُبْتَلَىبِبَلَاءٍ فِي جِسْمِهِ فَيَبْلُغُهَا بِذَلِكَ»؛انسانکے لئے خداوند متعال کے نزدیک درجہ اور مقام ہے کہ انسان اپنے عمل کے ذریعہ اسدرجہ تک فائز نہیں ہو سکتا ( اس کا عمل کم ہے) لہذا خداوند اس کے بدن کو مصائب اورامراض میں گرفتار کرتا ہے اور اس کے ذریعہ وہ اس مقام تک پہنچ جاتا ہے "اسیطرح کی ایک اور روایت امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں :«عَنْ أَبِي عَبْدِاللَّهِ(عليه السلا م) قَالَ إِنَّ فِيالْجَنَّةِ مَنْزِلَةً لَا يَبْلُغُهَا عَبْدٌ إِلَّا بِالِابْتِلَاءِ فِيجَسَدِهِ».

اب جو مطالب بیان ہوئے ان کے مطابق آپ خود خدا کے نزدیکاچھے اور باعزت شخصیات جیسے پیغمبران اور آئمہ اور سارے مومن بندوں کے بارے میںغور و فکر کریں؛ جو مشکلات اور پریشانیاں دنیا میں ان کے لئے پیش آئے ہیں اگر کسیاور کے لئے ہوتے تو ان کے لئے ان کو تحمل کرنا اور برداشت کرنا بہت ہی سخت تھا ،آئمہ علیہم السلام کی زندگی پر توجہ دیں کہ ان کے لئے کتنی پریشانیاں تھیں ، خصوصاکربلا کے واقعہ کی طرف توجہ دیں کتنے مصائب اس خاندان پر آئے ، لیکن ان تمام مصائبکے باوجود کربلا کے صبر کے قہرمان یعنی حضرت زینب سلام اللہ علیہا  نے نہ صرف کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ فرمایا:«ما رأيت إلا جميلا»؛« میں نے خدا سے اچھائی کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا ہے »حتی گیارہ محرم کو بھی تمام بھائيوں اور عزیزوں کے شہادت کے بعد بھی نمازتہجد کو ترک نہیں کیا ،اب آپ خود سوچیں کہ آپ کی پریشانیاں شاید امتحان الہی ہو ،یا اس میں کچھ دوسرے جہات ہوں، اور بعض روایات کے مطابق ، خداوند متعال کبھی اپنےبندہ کی اچھائی کو اسی میں دیکھتا ہے کہ وہ دنیا میں بلا و گرفتاری میں رہے  اس صورت میں اس کی حکمت کا تقاضا یہی ہے کہ اسےامتحان میں ڈال دیں ،ان سب کا نتیجہ یہ ہے کہ آپ اس بہن سے بتا دیں :مومن کبھی بھیخدا کی رحمت سے ناامید نہیں ہوتا ہے ، اور کبھی بھی زندگی کو اپنے لئے سخت نہیںدیکھتا ہے ، بلکہ خدا کی رضایت پر راضی ہوتا ہے ، دنیا ، امتحان کی جگہ ہے اور اسمیں پیش آنے والی پریشانیاں اور مشکلات مومن کے گناہوں کو بخشنے کا یا بلند درجاتتک فائز ہونے کا وسیلہ ہے ، اس بہن کو بھی ناامید نہیں ہونا چاہئے ،بے صبری کواپنے آپ سے دور کریں ، تمام کاموں کو خدا کے سپرد کرے اور خدا پر توکل کریں اورخدا کو محور قرار دیتے ہوئے اپنے مشکلات کو ختم کرنے کے لئے کوشش کریں ، زیادہ سےزیادہ دعا پڑھیں، قرآن کی تلاوت کرے ، واجبات کو بجا لائے اور محرمات کو ترک کرے ،دوسروں کو اذیت پہنچانے اور حرام مال کھانے سے اجتناب کرے ، ان شاء اللہ خداوند انکی مشکلات کو رفع کرے گا اور سب کو صحیح ہو جائے گا ۔

۸۸۶ قارئين کی تعداد: