pic
pic

ماہ مبارک رمضان میں خودسازی کی طرف توجہ

  • تاریخ 22 October 2017
  • ٹائم 13:27
  • پرنٹ
خبر کا خلاصہ :
ماہ مبارک رمضان کی فرصت سے خوب استفادہ کرنے اور اس ماہ میں تزکیہ و تہذیب نفس کی طرف توجہ دینے کے بارے میں حضرت آيت الله فاضل لنکراني(دامت برکاته)کے بیانات

بسم الله الرّحمن الرّحيم

ماہ مبارک رمضان شروع ہو رہا ہے اس بارے میں میں اپنے آپ سےاور آپ تمام سے جس مطلب کی یاد  دہانی  کرنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ ہمیں ہمیشہ اس سوچناچاہئے کہ شاید یہ ماہ رمضان میری عمر کی آخری ماہ رمضان ہو ، اگر انسان یہ نہ سوچےتو وہ تزکیہ کے مراحل کو طے نہیں کرسکتا ،ہماری ہمیشہ کی دعا یہی ہونی چاہئے کہ اسماہ مبارک رمضان کو ہماری عمر کے آخری ماہ رمضان قرار نہ دیں ۔

اگر ہم یہی سوچیں کہ یہ میری عمر کی آخری بار ہے جس میں خدا نےمجھے اپنی مہمانی میں دعوت دی ہے ، اور اس کے بعد نفسانی رذايل اور اجتماعی اورمالی مشکلات سے نجات کا کوئی اور راستہ نہیں ہے اب سب راستے بند ہو چکے ہیں ، نجاتکا واحد راستہ ماہ رمضان اور شب قدر ہے ، اگر ہم اس پر یقین کر ليں تو ایک خاص لذتکے ساتھ خدا کے دسترخوان پر بیٹھیں گے اور ایک خاص لذت کے ساتھ روزہ رکھیں گے ۔

اگر کوئی ماہ مبارک رمضان کے آنے پر سستیکا احساس کرے ، تو اسے جان لینا چاہئے کہ اس کے ساتھ کوئی نہ کوئی مشکل ہے ، جس کےلئے کوئی مشکل نہیں وہ تو ماہ رمضان کے استقبال کے لئے جاتا ہے اور رمضان کے آنےسے خوشحال ہوتا ہے ، اگر ہم اپنے  اندرایسی خوشی کا احساس نہیں کرتے ہیں تو اسے ایجاد کرنی چاہئے ، ہم سب کو متوجہ ہوناچاہئے کہ خداوند متعالی ہمیشہ اپنے بندوں پر لطف کرتا ہے لیکن ماہ رمضان میں کچھخاص قسم کے الطاف ہیں ، اگرچہ خود میرا عقیدہ تو یہ ہے کہ خدا ہمیشہ اپنے بندوں پرخاص لطف اور عنایت کرتا ہے ، اگرچہ  انسان  ان گناہوں ، غفلت اور بے حسی کی وجہ سے اس خصوصیعنایت کا قابل نہیں ہے ماہ رمضان میں خداوند متعالی فرماتا ہے میں رحمت کے تمامدروازوں کو کھول لیتا ہوں۔

یہ جو کہا جاتا ہے کہ ماہ رمضان میں جہنمکے تمام دروازے بند کر دیتے ہیں اور بہشت کے تمام دروازے کھول دیتا ہے ، اس کامطلبیہ ہے کہ خداوند ان تمام عنایتوں جن کا انسان تصور کرتا ہے اسے انسان کے لئے عنایتکرتا ہے لیکن ہم سب اس سے بے خبر ہیں ، خدا سے تقرب پیدا کرنے کا دوازہ ہمیشہ کےلئے کھلا ہے اور ایک بے نہایت دروازہ ہے ، ہمیں توجہ کرنا چاہئے اور ہمیشہ غور وفکر کرنا چاہئے ، اپنے آپ پر خاموشی کی حالت پیدا کرے کہ یہ خاموشی حقایق نظر آنےکا راستہ ہے ۔

جو شخص دنیوی کاموں کے بارے میں ایکگھنٹہ بات کرتا ہے اس میں یہ قابلیت نہیں ہے کہ وہ حقایق کو دیکھ سکیں ، آئیں ہماپنے نفس  کو ریاضت کا عادی بنائيں !انبیہودہ باتوں کو نہ بولا کریں ، مثلا فلان شخص کل کہاں تھا اور آج کہاں ہے اور اسیطرح کی دوسری چيزیں ؟!ہم اپنے ذہن اور نفس کو کرامت انسانی کا محل قرار دیں ، اچھےاخلاق دنیا اور آخرت میں نجات کا سبب ہوتا ہے لہذا ہمیں  ہمیشہ خدا سے مدد طلب کرنی چاہئے ۔

تا کہ ہم اس ماہ مبارک میں زیادہ سےزیادہ قرآن کریم سے آشنا ہو جائے ، ماہ رمضان کی حقیقت ، حقیقت قرآن ہے ، ایساہونا چاہئے کہ ماہ مبارک رمضان کے بعد انسان اپنے اندر پاکی اور طہارت کا احساس کرے، مثلا ماہ رمضان سے پہلے دوسروں کی غیبت اور مذاق اڑانے  کا عادی تھا اور یہ چیزیں اسے پسند تھا لیکن اسماہ کے بعد اب یہ چیزیں اسے ناپسند ہونا چاہئے  ، ماہ رمضان کے بعد انسان اپنی کمزوری کو جانلیں اور اس کا یقین پہلے سے زیادہ ہو جائے ، یقین کرے کہ خداوند متعالی قادر مطلقہے ، ساری چیزیں اسی کے ہاتھ میں ہے وہ قادر مطلق ہے اور میں سراسر محتاجمند ہوں ،ان چيزوں کے بارے میں انسان یقین پیدا کرے ان شاء اللہ




۲۰۱ قارئين کی تعداد: