pic
pic

مودت ذوی القربی دین کی بقاء کا ضامن

  • تاریخ 17 November 2018
  • ٹائم 23:01
  • پرنٹ
خبر کا خلاصہ :
حضرت آیت اللہ محمد جواد فاضل لنکرانی (دامت بركاته) نے امام حسن علیہ السلام کی روز شہادت کے سلسلے میں منعقد محفل مسالمہ سے خطاب فرمایا۔

بسم الله الرحمن الرحيم الحمدلله رب العالمين

 

امام حسن مجتبی علیہ السلام کی شہادت کے سلسلے میں امام زمان (عج) اور تمام مسلمانوں اور شیعیان اور آپ حضار محترم کی خدمت میں تسلیت عرض کرتا ہوں ، امید ہے کہ یہ اظہار دوستی  اور محبت ہماری رشد اور تکامل کا سبب بنے گا ۔

میں سب سے پہلے اپنی ذمہ داری سمجھتا ہوں کہ قم المقدس کے شعراء خصوصا علماء شعراء جو حوزہ علمیہ قم کے افتخارات میں سے ہیں شکریہ ادا کروں ، نیز وہ شعراء کرام جو صوبہ خراسان ، زنجان ، اصفہان اور دوسری جگہوں سے مرکز فقہی آئمہ اطہار علیہم السلام اور ہمارے برادر گرامی آقای برقعی کے ادبی گروپ کے دعوت کو قبول کرتے ہوئے تشریف لائے ہیں شکریہ اداء کرتا ہوں، میں یہاں تقریر کرنے نہیں آیا ہوں کیونکہ یہ پروگرام ہی شعر کا پروگرام ہے ہمارے محترم شعراء نے جو اشعار پیش کی ہیں ان سے ہم سب محظوظ ہوئے ہیں ۔

میں یہاں دو مطلب بیان کروں گا : پہلا مطلب یہ ہے کہ پوری زندگی میں سوری شوری کی اس آیت کریمہ کو مد نظر رکھیں کہ فرماتا ہے : «قُلْ لا أَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبى» خداوند متعالی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حکم فرماتا ہے کہ قیامت تک کے لئے اپنی امت سے بتا دو : میں تم سے کوئی چیز نہیں چاہتا ہوں صرف میرے قربی کی مودت چاہتا ہوں۔

یہاں پر ایک سوال ہے کہ کیوں خدا نے اجر رسالت کو مودت قربی قرار دیا ہے ؟ اور کیوں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ حکم ہوا کہ اسے لوگوں کے لئے بیان کرے ؟ اس سوال کا جواب ہمارے اندر اور زندگی میں ایک معنویت ایجاد کرتا ہے ۔

«في القربي» سے مراد حتی کہ اہل سنت کے بڑے بڑے علماء فخر رازی اور دوسروں نے بتائے ہیں حضرت فاطمہ زہرا ، امیر المومنین ، امام حسن ، امام حسین اور آئمہ معصومین علیہم السلام ہیں ، خداوند متعالی فرماتا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اجر رسالت ، اس کی اہلبیت سے مودت ہے ۔

سوال یہ ہے کہ یہ مودت کیا صرف اس لئے ہے کہ  آئمہ معصومین علیہم السلام کی عزت و احترام کر کے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اظہار محبت کرنا ہے یا اس میں کوئی اور بڑی حکمت پوشیدہ ہے ؟

ہم سب کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ دین کی بقاء کاضامن ، ذوی القربی سے مودت میں پوشیدہ ہے ، نہ صرف دین کی بقاء کا ضامن ہے بلکہ انسان کی تکامل اور بشر کی وحدت بھی اسی مودت میں پوشیدہ ہے ،یہ ایک مسلم بات ہے کہ اس نیلے آسمان کے نيچے کوئی بھی انسان ذوی القربی سے مودت کے بغیر خدا سے تقرب پیدا نہیں کر سکتا ،اور ایسا کسی بھی صورت میں ممکن نہیں ہے ۔

ہم اس کے پيچھے نہ رہےکہ امام حسین علیہ السلام پر عزاداری کرنے کی کیا دلیل ہے؟ اس سال کچھ بے وقوف لوگوں نے اس طرح کی باتیں شروع کی ہیں او ر اس طرح وہ لوگ عزاداری کی اہمیت کو کم کرنے کے درپے تھے ، شیعوں کا اہلبیت علیہم السلام سے محبت کرنے کی بنیاد یہی آیت کریمہ ہے ۔

اگر آج کی یہ رات آپ شعراء ، بزرگان ، علماء اور مرد و زن اگر اس جگہ پر جمع ہوئے ہیں ، اور کسی شاعر کا یہاں آکر امام حسن علیہ السلام کے سوگ میں کوئی نئی شعر پڑھنے کے منتظر ہیں تو یہ سب کیوں ہے؟یہ سب اس لئے ہے کہ اس مودت کو اپنے دلوں میں اور اپنی زندگی میں مستحکم کرے ۔

شیعہ اس بارے میں غفلت نہ کرے کہ غفلت نہیں کرے گا ، کہ ہماری زندگی میں عزاداری کی اہمیت کم نہ ہوجائے  کہ انشاء اللہ نہیں ہو گا ۔

ماں باپ اپنے بچوں کو یہ سمجھایا کرے اور جب اس دنیا سے جا رہے ہوں انہیں اہلبیت علیہم السلام کی مودت کی وصیت کرے ۔

بزرگ مراجع سے سیکھ لیں کہ جب وہ اس دنیا سے جا رہے تھے اس وقت کن چیزوں کے بارے میں وصیت کرتے تھے ؟ ان کی وصیت میں سب سے پہلے مودت ذوی القربی ہوتے ہیں، چونکہ دین کی بقاء کا ضامن یہی ہے ۔

اگر دنیا میں مودت اپنے واقعی معنی میں محقق ہو جائے ، بشر کے درمیان کوئی اختلاف پیدا نہیں ہو گا ، اور سارے انسان ایک ہی سمت کی طرف حرکت کریں گے ، اور یہ خداوند متعالی کی چاہت ہے کہ پیغمبر آخر الزمان کی امت سب ایک ہی سمت کی طرف چلے ، اور وہ سمت بھی مودت ذوی القربی ہے ۔

امیر المومنین علیہ السلام کی شہادت کے بعد امام حسن مجتبی علیہ السلام مسجد میں تشریف لے آئے اور اپنے خطبہ میں اس آیت کریمہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : «أَنَا مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ الَّذِينَ افْتَرَضَ اللهُ مَوَدَّتَهُمْ عَلَى كُلِّ مُسْلِم»، میں اس اہل بیت سے ہوں کہ  خداوند متعالی نے جن سے مودت کو تمام مسلمانوں پر واجب قرار دیا ہے ، یعنی اگر ہم امام حسن مجتبی علیہ السلام سے مودت کی ، تو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ  وسلم کے حق کو ادا کیا ہے اور خداوند متعالی سے تقرب پیدا کی ہیں ۔

دوسرا مطلب: اس تاریخی نقل کے بارے میں ہے کہ امیر المومنین علیہ السلام کی شہادت کے بعد جب معاویہ کوفہ آیا تو اس سے کہا گیا : «إِنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ مُرْتَفِعٌ فِي أَنْفُسِ النَّاس لوگوں کے دلوں میں حسن بن علی (ع) بہت بڑا مقام و منزلت ہے ، اسے ختم کر لینا چاہئے ، اس نے یہ کیسے ممکن ہے ؟ تو اس سے بولے : «فَلَوْ أَمَرْتَهُ أَنْ يَقُومَ دُونَ مَقَامِكَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَتُدْرِكَهُ الْحَدَاثَةُ وَ الْعِيُّ فَيَسْقُطَ مِنْ أَنْفُسِ النَّاسِ وَ أَعْيُنِهِمْ» تم منبر کے اوپر جاو اور حسن بن علی (ع) سے بتایا جائے کہ وہاں پر بیٹھے ، یہ ان (ع) کے لئے عار ہے اور ان کی ذلت کا سبب ہے اس طرح لوگوں کی نظروں سے بھی گر جائے گا ۔

معاویہ ایک بہت ہی چالاک انسان تھا ،لہذا اس نے پہلے تو اس کام سے منع کیا لیکن لوگوں نے اس سے کہا اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے ، لہذا اس نے امام حسن بن علی (ع) کو بلایا ، آپ(ع) معاویہ کے منبر کے ایک طرف کھڑے ہو گئے،«فَقَامَ مُعَاوِيَةُ فَخَطَبَ خُطْبَةً فَاحِشَة» اس کے بعد  معاویہ (علیہ اللعنۃ و العذاب)نے خطبہ دینا شروع کیا، اس نے اپنے خطبہ میں سب سے پہلی بات جو بتایا وہ علی بن ابی طالب امیر المومنین علیہ السلام کی اہانت تھی، اور امام حسن مجتبی علیہ السلام اس منبر کے ساتھ تشریف رکھتے تھے ۔

میں کبھی کبھار بتایا کرتا ہوں وہ زہر جو امام حسن مجتبی علیہ السلام کو پلايا گیا وہ اس اہانت کے مقابلہ میں کچھ نہیں ہے ۔

امام مجتبی علیہ السلام کوفہ کی مسجد میں ہوں اور لوگوں کے سامنے ، معاویہ امیر المومنین علیہ السلام کی لعن کرے ۔

وہاں پر امام حسن علیہ السلام نے کیا کیا ؟

«فَقَامَ إِلَيْهِ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ(ع) فَقَالَ لَهُ وَ هُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَيْلَكَ يَا ابْنَ آكِلَةِ الْأَكْبَادِ أَ وَ أَنْتَ تَسُبُّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ(ع) وَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللهِ(ص) مَنْ سَبَّ عَلِيّاً فَقَدْ سَبَّنِي وَ مَنْ سَبَّنِي فَقَدْ سَبَّ اللهَ وَ مَنْ سَبَّ اللهَ أَدْخَلَهُ اللهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِداً فِيهَا مُخَلَّداً وَ لَهُ عَذَابٌ مُقِيم»؛

افسوس ہو تم پر اے معاویہ! اے جگر خوار ہند کا بیٹا ، کیا تم میرے بابا پر لعن کرتے تھے ، اور انہیں ناسزا کرتے ہو؟ کیا تم نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ نہیں سنا ہے کہ فرمایا تھا : جس نے علی کی سب کی اس نے گویا میرا سب کیا ہے ، اور جو مجھے سب کرے ، اس نے خدا کا سب کیا ہے ، اور جو خدا کا سب کرے ،خداوند اسے جہنم کی آگ میں ڈال دے گا ۔

امام حسن مجتبی علیہ السلام نے اپنے اس استدلال کے ذریعہ سب لوگوں کے سامنے معاویہ کو جہنمی بنا دیا ۔

اس کے بعد آپ (ع) نے معاویہ کے خطبہ کو قطع کیا اور مسجد سے باہر تشریف لے گئے ، کہتے ہیں اس کے بعد امام کبھی بھی اس مسجد میں قدم نہیں رکھا ، یہ واقعہ امام حسن مجتبی علیہ السلام کی  ایک بڑی مظلومیت ہے ۔

میں آخر میں ایک بار پھر آپ تمام عزیزوں اور استاد مجاہدی کا جنہوں نے بہت اچھے اشعار پڑھے ہیں اور دوسرے تمام حضرات ، شعراء ، جناب آقای برقعی اور ان  کے دوستوں اور مختلف جگہوں سے تشریف لانے والے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

امید ہے آج کی یہ محفل اور یہ اشعار اور ان اشکوں پر امام حسن  مہر تائيد لگائے گا اور ہم سب ان کی شفاعت میں شامل فرمائے گا

 

والسلام عليكم و رحمة الله و بركاته