pic
pic

امام حسن مجتی (علیہ السلام) کی زندگانی کے اہم نکات میں سے ایک اصل حکومت اسلامی پر توجہ دینا ہے

  • تاریخ 23 September 2020
  • ٹائم 19:37
  • پرنٹ
خبر کا خلاصہ :
حضرت آیت الله فاضل لنکرانی(دامت برکاته) کا امام حسن مجتبی (ع) کی سیرت کے بارے میں گفتگو

بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله رب العالمین
و صلی الله علی سيدنا محمد و آله الطيبه الطاهرين المعصومين
و لعنة الله علی اعدائهم اجمعين من الآن الی قيام يوم الدين


امام حسن مجتبی(علیه السلام) کی ولادت باسعادت کے سلسلے میں امام زمان (عج) اور تمام مسلمانوں اور تمام شیعیان اور آپ کے  محبین  کی خدمت میں تبریک عرض کرتا ہوں، امید ہے کہ انشاء اللہ اس ولادت کی برکت سے ہم سب بہرمند ہوں گے ، ایک دو مطلب کو بیان کروں گا ، جو  امام حسن مجتبی (علیہ السلام) کے کلمات میں اصل مسئلہ حکومت کے بارے میں  بیان ہوا ہے۔

مسجد کوفہ میں معاویہ کے ہوتے ہوئے آپ (علیہ السلام) نے جو خطبہ دیا تھا اس میں آپ فرماتے ہیں : «اقسم بالله لو أن الناس بايعوا أبی حين فارقهم رسول الله(ص)لاعطتهم السماء قطرها و الارض برکتها»؛ خدا کی قسم اگر میرے جد بزرگوار رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے رحلت کے بعد اگر لوگ میر ے والد محترم امیر المومنین (ع) کی بیعت کر لیتے اور امیر المومنین (ع) کی حکومت کو قبول کر لیتے تو «لاعطتهم السماء قطرها»؛آسمان اپنی رحمت کو لوگوں کے لئے نازل کر لیتا اور زمین اپنی برکات کو باہر نکال لیتے ، یہ کنایہ ہے کہ آسمان اور زمین کی رحمت کے دروازے  انسانوں کے کھل جاتے ہیں ، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آسمان سے بارش زیادہ برسے گی اور زمین سے زیادہ سبزہ نکلے گا ، بلکہ یہ رحمت الہی کے لئے کنایہ ہے ، بشر کی ہدایت اور الہی عنایت کے دروازہ کھل جانا مراد ہے ، یعنی اگر حکومت اک صالح حکومت ہو تو ایسا ہی ہو گا کہ آسمان اور زمین بشر کی ہدایت کا وسیلہ بنے گا ، اور یہ انسان کی سعادت میں اثر انداز سبب ہو گا لہذا یہ بہت ہی مہم مطلب ہے ۔

یہاں پر اگر آپ(ع) کی کلمات کو اس لحاظ سے بھی دیکھیں تو اس میں بہت اہم مطلب نظر آتا ہے کہ حکومت صرف حکومت الہی ہونا چاہئےیعنی بشر پر حکومت خدا کی ہو اور ان افراد کی حکومت ہو جن کو خداوند متعالی نے یہ صلاحیت عطا کی ہے ، اور یہ دین اسلام کی اچھائیوں میں سے ایک ہے ، میں پہلے بھی اس مطلب کو کہیں پر بیان کر چکا ہوں ،اگرچہ اس بارے میں کچھ زیادہ تحقیق کرنے کی ضرورت ہے ، دین اسلام کی جامعیت کے پہلووں میں سے ایک یہ ہے کہ اسلام میں حکومت ہے ، لیکن ادیان گذشتہ میں ظاہرا حکومت نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے! ہمارے پیغمبر اکرم (ص) کی ختم نبوت کی خصوصیات  اور دین اسلام آخری دین ہونے کی امتیازات میں سے ایک یہی ہے کہ اس دین میں حکومت کے مسئلہ کو بھی واضح کر دیا گیا ہے ۔

انسان کو یہ حق نہیں ہے کہ کسی کو اپنے اوپر حاکم قرار دیں ، حق نہیں رکھنے کا معنی یہ ہے کہ اگر کوئي شخص اپنے اختیار سے اپنے اوپر اور اپنے مال و جان اور ناموس اور باقی چیزوں پر مسلط کرنا چاہئے ، تو وہ ایسا نہیں کر سکتا ، البتہ حکومت اسلامی کی تشکیل میں لوگ  کا بھی کردارضرور ہے  کہ امام خمینی (رضوان اللہ تعالی علیہ ) نے بیان کیا ہے اور اسے عملی جامہ بھی پہنایا ہے ، اور آج بھی ہمارے پاس یہی  روش ہے ، لیکن یہ بھی اس عنوان سے ہونا چاہئے کہ ہم اسلام کو حاکم قرار دینا چاہتے ہیں ۔

اگر اسلام حاکم نہ ہو آپ دیکھيں گے کہ جب مشکلات پیش آتے ہیں جیسا کہ اس کرونا میں پیش آیا کہ حقوق بشر کے بارے میں بہت زیادہ دعویدار بھی وحشت زدہ ہو کر رہ گئے ! لیکن ایران میں بھی یہ بیماری آئی ، لیکن لوگوں کے اندر اس دینی حس اور مذہبی اعتقادات پائي جاتی تھی لہذا کیسے ان بیماری سے مقابلہ کیا اور کامیاب رہے ، کیسے ایک دوسرے کی  مدد کیے انشاء اللہ آہستہ آہستہ یہ بیماری بھی ہمارے ملک سے ختم ہو جائے گی ۔

امام حسن مجتی (علیہ السلام) کے کلمات میں ایک اہم مطلب یہ ہے کہ آپ نے لوگوں سے فرمایا : جس وقت سے تم لوگوں نے میرے والد کی ولایت اور حکومت کو قبول نہیں کیا ، رحمت الہی کے دروازہ بند ہوگئے ، یہ بہت ہی اہم مطلب ہے ۔

رحمت الہی کا دروازہ یہ ہے کہ ایک ایسا حاکم آجائے جو خدا کو قبول ہو اس کی حکومت قائم ہو۔

عرض ہوا کہ یہ «لاعطتهم السماء قطرها و الارض برکتها» صرف مادی رحمت ، بارش اور زمین میں سبزے نکل آنا نہیں ہے ، بلکہ یہ کنایہ ہے ،یعنی زمین اور آسمان سب کے سب بشر کی ہدایت کے لئے تیار ہو جاتے ہیں ، امام حسن مجتی (علیہ السلام) ایک اور جگہ پر فرماتے ہیں : «يا عجباً من قوم لا حياء لهم و لا دين»،مجھے تعجب ہے اس قوم پر جن کے  پاس نہ حیاء اور غیرت ہے اور نہ دین ہے ، اس کے بعد اہل کوفہ سے فرماتے ہیں : «إنی اقدر عن اعبد الله عزوجل وحدی» میں اگر صرف اپنے آپ تک محدود رہنا چاہوں اور خدا کی عبادت کرتا رہوں تو صرف فردی کاموں کو انجام دے سکتا ہوں «وايم الله لئن سلمت الامر لمعاوية لا ترون فرحاً ابداً مع بنی امية» لیکن جان لو ، خدا کی قسم ! اگر میں حکومت کو معاویہ کا حوالہ کر دوں تو اس کے بعد تم کبھی بھی خوشی نہیں دیکھ سکو گے ، «و ليسومونکم سوء العذاب» معاویہ سخت سے سخت عذاب  میں تمہیں گرفتار کر لیں گے «ولو وجدت اعواناً ما سلمت له الامر»  میرے اگر اعوان اور انصار ہوتے تو کبھی بھی حکومت کو معاویہ کے حوالہ نہیں کرتا اور کبھی بھی اس کے ساتھ صلح نہیں کرتا ،‌«لأن الخلافة محرمةٌ علی بنی امية»؛کیونکہ خلافت بنی امیہ پر حرام ہے ۔

دینی لحاظ سے ہمارے ہاں ایک واجب خلافت ہے اورایک حرام خلافت ہے ، ہر وہ خلافت جو خداوند تبارک و تعالی پر ختم ہو جائے وہ واجب ہے ، وہ جائز ہے ، اور ہر وہ خلافت جو غیر خدا پر ختم ہو جائے وہ حرام ہے ۔

البتہ اس میں بھی  عوام کی حيثیت اپنی جگہ باقی ہے اور وہ بھی اسی دینی قوانین کے مطابق ہو گا ، بعض کلمات میں ہے کہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ) نے امیر المومین (علیہ السلام ) سے فرمایا : اے علی ! میر ےبعد اگر لوگ تمہارے پاس آجائے تو خلافت کو قبول کر لو ، اور اگر نہ آئے تو تم ان کی طرف نہ جاو، اسلام یہ نہیں کہتا ہے کہ کسی بھی صورت میں یہ حکومت قدرت و طاقت کے بل بوتے ہی لوگوں سے منوا لیں ، نہیں ! جب تک عوام  اس حکومت کو قبول نہ کرے  یہ حکومت واقع نہیں ہوتا ہے ۔

میں یہاں پر حکومت کی مقبولیت اور مشروعیت کے بارے میں گفتگو کرنا نہیں چاہتا ہوں ، لیکن یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ امام حسن مجتی (علیہ السلام ) کی زندگی میں ایک اہم مطلب اصل حکومت اسلامی کی طرف توجہ دینا ہے ، کوئی یہ گمان نہ کرے کہ اسلام میں کہاں پر حکومت ہے ، اسلام میں حکومت ہے ، اور یہ ہونا بھی چاہئے وہ غیبت کبری کے دور میں اگرچہ ایک کمزور شکل میں ہی کیوں نہ ہو ، اتنے اہم مسئلہ کے بارے میں اسلام یہ نہیں بتا سکتا ہے کہ اسے کنارے پر لگا کر رکھیں ، یہ نظریہ کہ زمان غیبت میں کوئی اسلامی حکومت نہیں ہونی چاہئے اور بعض افراد نے کچھ روایات سے اس مطلب کو نکالنا چاہا ہے کہ درحقیقت یہ روایات اس معنی پر کچھ دلالت ہی نہیں کرتی ہیں ، درحقیقت یہ نظریہ روح دین کے برخلاف ہے ، ہماری حقیقت دین سے مناسبت ہی نہیں رکھتا ہے ، ہمارے آئمہ اطہار(علیہم السلام) کی جتنی مخالفت ہوئی ، ان کو شہید کیا گیا یہ سب کے سب اسی حکومت کی وجہ سے تھے، اس وقت کے حکام یہ دیکھتے تھے کہ اگر ان کو مختصر فرصت مل گئی تو لوگ سب کے سب ان کی طرف آئیں گے اور اپنے تمام کاموں اور حکومت کے ان کے اختیار میں دے دیں گے ،  سارا جھگڑا اسی وجہ سے تھے ، اب ہم یہ بتائیں کہ جب سے غیبت کبری شروع ہوا ہے یہ ذمہ داری ختم ہو گئی ہے اور لوگ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائے  کہ بعد میں امام زمان(عج) جب ظہور کریں گے تو حکومت تشکیل دیں گے ، نہیں یہ غلط بات ہے ، جس وقت بھی فقیہ جامع الشرائط ہو اور شرائط بھی مہیا ہو ، جیسا کہ ہمارے اس انقلا ب اسلامی الحمد للہ تھا کہ ایسے لوگ ، ایسی ملت کا تاریخ اسلام میں پہلے ایسا نظر نہیں آتا ہے ، واقعی میں ہی ایسا تھا ۔

دیکھیں امام حسن (علیہ السلام) اپنے زمانہ کے لوگوں کے بارے میں کیا فرماتا ہے ؟

فرماتا ہے : «اللهم فانزل عليهم اللهم انی قد دعوت و انذرت و امرت و نهيت»، خدایا تو گواہ رہنا ، میں نے ان کو حکومت اسلامی کی تشکیل کی دعوت دی ، صحیح اور جائز حکومت کے بارے میں انذار کیا ، امر بہ معروف اور نہی از منکر کیا ، لیکن یہ لوگ غافل رہے اور اپنے امام کی مدد کو نہیں آئے ،  و عن نصرته قاعدين" ، و عن طاعته مقصرين، و لاعدائه ناصرين یعنی نه صرف میری مدد کو نہیں آئے بلکہ میری دشمنوں کی مدد کو گیا «اللهم فانزل عليهم رجزک و

بأسک و عذابک، الذی لا يرد عن القوم الظالمين».آپ(ع) نے ان کی نفرین کی ۔

 ولایت معنویہ  کی وہ حقیقت جو خداوند متعالی کی طرف سے امامت کے عنوان سے ملے ہیں ، کسی کی جرائت نہیں ہے کہ اسے ان سے چھین لے ،اسے تو خدا نے انہیں عطا کیا ہے ، لیکن جو چيز سبب بنے اور جن سے ان کو محروم رکھا گیا وہ حکومت اسلامی کی تشکیل دینا ہے ، اور یہ لوگوں کی دینی کمزوری کی وجہ سے ہے ، اس وقت کے بہت سارے لوگوں نے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو  دیکھا تھا ، آپ(ص) کے زمانہ میں تھے ، لیکن دینی اعتبار سے کمزور تھے ، اور یہی کمزوری سبب بنا کہ امام حسن (علیہ السلام) صلح کرنے پر مجبور ہوئے ۔

صلح کا مسئلہ خود اپنی جگہ ایک مفصل بحث ہے اس میں تحقیق کرنے کی ضرورت ہے ، تاریخ اسلام میں اس باب کو جاننا ہر ایک پر فرض ہے ، کیوں امام حسن (علیہ السلام) نے صلح کی ؟ اس کے اسباب اور علل کیا تھے؟ یہ سب خود حضرت (ع) کے کلمات میں موجود ہے ، امام حسن مجتی ( علیہ السلام) کیسے مظلوم ہوئے ، یہی اصحاب پیغمبر اکرم(ص) جنہوں نے دیکھا ہوا تھا کہ آپ(ص) امام مجتبی (ع) سے کیسے محبت کرتے ہیں ، دیکھا ہوا تھا کہ امیر المومنین (علیہ السلام) کتنے محبت کرتے ہیں ، ان سب کے باوجود کتنے نازیبا الفاظ آپ (ع) کے لئے استعمال کيے ،کہ ہم انہیں نقل بھی نہیں کر سکتے ، آپ(ع) فرماتے تھے جو تم بتا رہے ہو میں ایسا نہیں ہوں ، میں معز المومنین  ہوں ، سامنے آجاو تا کہ تمہیں بیان کر لوں اور بیان کر لیتے تھے ۔

بہر حال ملت ایران نے اس اسلامی حکومت کو قبول کر کے اس حکومت کو تشکیل دینے میں جو کردار ادا کیا ہے یہ ان کے افتخارات میں سے ہے اور تاريخ میں یہ ہمیشہ کے لئے ثبت رہے گا ،جس طرح امام حسن مجتبی (علیہ السلام ) کے زمانہ میں لوگوں  کی بدبختی اور عار و ننگ یہ تھا کہ یہ لوگ سبب ہوئے امام عالی مقام کو معاویہ کے حوالہ کرے ، اور یہ آسمان اور زمین کے برکات کے دروازہ بند ہو جائے ۔

خداوند متعالی سے امید ہے کہ انشاء اللہ یہ حکومت اسلامی ہمیشہ کے لئے استمرار پیدا کرے ، اور ابھی تک  اقتصادی ، ثقافتی ، معاشرتی اور سیاسی لحاظ سے مشکلات کھڑی کرتے رہے اور آرام اور سکون سے اسلام کی خدمت کرنے نہیں دیا گیا ، دشمنان نہیں چاہتے ہیں کہ ایسی حکومت قائم رہے ، دشمنوں کا ایران کے ساتھ اصلی اور بنیادی دشمنی اسی حکومت اسلامی پر ہے ، ایٹمی اور میزرائل صرف بہانہ ہے ، دشمنی کی بنیاد یہی حکومت اسلامی ہے ، یہ لوگ جانتے ہیں اگر اسلامی حکومت تشکیل پائے تو ظالمین کی حکومت کے راستہ میں مشکلات پیدا ہوں گے ۔

امید ہے کہ یہ حکومت استمرار پیدا کرے گا اور امام حسن مجتبی (علیہ السلام) کے دعا سے ملت ایران اسلام ، احکام اسلام اور معارف اسلامی سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہوں گے انشا ء اللہ ۔

۲۰۳ قارئين کی تعداد: