pic
pic

امیر المومنین(علیہ السلام) کی سیرت فقراء کی مدد جوئی اور سماج سے فقر اور طبقاتی اختلاف کو دور کرنا ہے

  • تاریخ 28 November 2020
  • ٹائم 12:16
  • پرنٹ
خبر کا خلاصہ :
نیشنل سیمنار بعنوان" ثقافتی فقر کے علل و اسباب اور حضرت علی (علیہ السلام) کی سیرت میں فقر کا کلچر " سے حضرت آیت اللہ محمد جواد فاضل لنکرانی (دام عزہ) کا خطاب

بسم الله الرّحمن الرّحيم

الحمدلله رب العالمين و صلي الله علي سيدنا محمد و آله الطاهرين

 

عيد سعيد غدير جو کہ مسلمانوں کی بہت بڑی عید ہے ، اس مناسبت سے امام زمان ( عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف ، رہبر معظم انقلاب، مراجع عظام اور تمام مسلمانوں ، شیعیان جہان اور ولایت کے راہ  میں خدمت کرنے والوں اور اس عظیم سیمنار کے برگزار کرنے والے سب کی خدمت میں تبریک عرض کرتا ہوں، کرونا وائرس کی وجہ سے حاضر نہیں ہو سکا اس پر معذرت چاہتا ہوں ، ان شاء اللہ خداوند متعالی جلد از جلد  اس بلا کو تمام بشریت  خاص کر کے مسلمانوں اور شیعوں سے رفع و دفع فرمائے۔

حضرت علی (علیہ السلام) کا ہر قسم کی پلیدی سے پاک و منزہ ہونا

میں اپنی بات کو اس آيت کریمہ سے شروع کرتا ہوں «الَّذِينَ آمَنُوا وَ لَمْ يَلْبِسُوا إِيمانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَ هُمْ مُهْتَدُونَ» "جو لوگ ایمان لے آئے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم سے آلودہ نہیں کیا ان ہی کے لئے امن وسکون ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں"(سورہ انعام / 82) امن و امان ، امنیت و سکون اعتقادی  ، اجتماعی ، سیاسی ،اقتصادی ،فکری ،ظاہری اور باطنی سب خداوند متعالی نے ایسے افراد کے لئےقرار  دیا ہے

ایک روایت جو اس آیت کریمہ کے ذیل میں امام باقر (علیہ السلام) نقل ہے فرماتا ہے :«نزلت في اميرالمؤمنين(علیه السلام) لأنه لم يشرك بالله طرفة عين قط ولم یعبد اللات و العزی» یہ آيه کریمہ حضرت امیر المومنین (علیہ السلام) کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیونکہ علی بن ابی طالب (علیہ السلام) نے اپنی زندگی میں کبھی بھی ، غیر خدا کی اطاعت اور عبادت نہیں کی ۔

 ایک اہم مطلب یہ ہے کہ اس آیہ شریفہ کے مطابق ہم ایک ایسے عظیم شخصیت کے پیروکار ہیں کہ جس کے وجود میں ذرہ برابر ظلم ، شرک ، کفر اور نفاق شايبہ تک نہیں  آيا ہے ، یہ خصوصیت دوسرے مذاہب کے پیروکاروں میں نہیں پائی جاتی ہے ، یہ صرف ہم شیعیوں کے پیشواوں اور پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله وسلم) کے وصی میں پائی جاتی ہے ، خداوند متعالی نے امن اور امنیت کو ایسے افراد کے لئے قرار دیا ہے ، اس امنیت میں تمام اقسام کی امنیت شامل ہے ، اگر اس آیہ کریمہ کے ذیل میں کوئی روایت بھی نہ ہوتی پھر بھی واضح تھا کہ یہ امن مطلق  انسا ن کے تمام جہات سے صرف امیر المومنین اور ان کے اولاد طاہرین(علیهم السلام ) سے مخصوص ہے ۔

ہم اس آیت کریمہ سے یہ بات صحیح معنوں میں استفادہ کر سکتے ہیں کہ جو لوگ امنیت کے درپے ہیں ، ہمہ گیر امنیت  چاہئے وہ ظاہری امنیت ہو یا باطنی ، اجتماعی  ہو یا سیاسی  یا اقتصادی ۔۔۔۔۔۔امیر المومنین اور ان کے اولاد طاہرین (علیهم السلام) میں پائی جاتی ہے ۔

 اس مقدمہ  کو بیان کرنے کے بعد میں اس مطلب کو عرض کروں گا کہ دین اسلام  یعنی قرآن کریم اور وجود مبارک پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله وسلم) اور سنت نبوی اور امیر المومنین (علیه السلام ) اور تمام آئمہ ( علیهم السلام ) کے اہم خصوصیات یہ ہے کہ جس طرح اعتقادی پہلو پر تاکید کی جاتی ہے کہ انسان کو  موحد ہونا چاہئے اور خداوند متعالی کی عبادت پر اصرار کرتے ہیں ، اسی طرح معاشرہ کے کاموں پر توجہ دینے کی بھی تاکید ہے اس طرح کہ  لوگوں کے درمیان سے فقر ختم ہو جائے اور معاشرہ میں کوئی فقیر نہ رہے ۔

امیر المومنین (علیه اسلام ) کے کلمات میں جب ہم غور و فکر کرتے ہیں تو اس بارے میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ کام اور پیداوار بڑھانے پر زور دیا گیا ہے ، رہبر معظم بھی ان آخری چند سالوں میں یہی فرما رہے ہیں کہ ملکی مشکلات کا واحد حل پیداوار بڑھانا اور کام کرنا ہے ۔

کام کرنا اور کمائی  کرنا صرف  احتیاج  کی ضرورت پر نہیں ہے ۔

امیر المومنین (علیه السلام) فرماتے ہیں:«اوصيكم بالخشية من الله في السرّ و العلانية و العدل فی الرضا و الغضب»، میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ آشکار اور نہاں دونوں صورتوں میں خدا سے ڈرتے رہیں  ، خوشی اور غصہ دونوں حالات میں افراد کے ساتھ روابط میں تعادل کو برقرار رکھیں او ر اس سے تجاوز نہ کرے ، «و الاكتساب في الفقر و الغناء»، ضرروت اور فقر  اور بے نیازی اور مالداری دونوں حالات میں کام کرنے   اور محنت کرتے رہیں۔

مالدار انسانوں کے ذہن میں کبھی یہ بات آتی ہے کہ 60 سال زحمتیں اٹھائي ہے اور کام کیا ہے ، ابھی آخر عمر تک زندگی گزارنے کی مال و دولت خداوند متعالی نے ہمیں دے دی ہے ، اب پھر مجھے اور کام کرنے کی کیا ضرورت ہے ، امیر المومنین(علیہ السلام) کے نظر کے مطابق یہ غلط سوچ ہے ، بلکہ انسان ہر حالت میں حتی کہ اس آخری وقت میں بھی کام اور محنت کرنی چاہئے ۔

اور آپ (ع) سے یہ حدیث بھی ہے : «مَنْ كَسِلَ عَنْ أَمْرِ دُنْيَاهُ فَهُوَ عَنْ أَمْرِ آخِرَتِهِ أَكْسَلُ» جو شخص اپنی دنیاوی کاموں میں سست اور کاہل ہو، کام اور پیداوار بڑھانے کے سوچ میں نہ ہو ، ایسا شخص اپنی آخرت کے بارے میں اور زیادہ سست ہوں گے " یہ فرمان انسان کے  دنیا اور آخرت کے کاموں کی رابطہ کو بیان فرما  رہا ہے ، انسان کا کام کرنے  اور جائز طریقہ سے کمائی  کرنے میں  ہشاش بشاش ہونے اور نہ ہونے کا آخرت سے بلا واسطہ رابطہ ہے ، یہ امیر المومنین (علیہ السلام) کے دستورات میں سے ایک ہے جسے انہیں نے ہمیں فرمایا ہے ۔

ہمارے تمام حکومتی ذمہ داروں کو چاہئے کہ اس فرمان کو اپنا نصب العین قرار دیں ، ہمارے لئے یہ بہت بری بات ہے کہ حکومتیں آتی ہے اور چلی جاتی ہے لیکن جب ان کے اداروں میں کام کرنے والوں کی گزارش دی جاتی ہیں تو کہتے ہیں اوسط مفید کام کا وقت ایک گھنٹہ سے بھی کم ہے !کیوں ایسا ہے ؟ کیوں اس مشکل کو ختم کرنے کے لئے سوچتے نہیں ہے ؟

اسٹاک  ایکسچینچ تجارت کے مصادیق میں سے نہیں ہے

حضرت اميرالمؤمنين(علیه السلام)نے تجارت کرنے ، کام کرنے اور پیداوار بڑھانے کے بارے میں بہت تاکید فرمایا ہے ، تاجروں کو چاہئے کہ معاشرہ میں کام کرے ، سرمایہ داروں کو چاہئے کہ اپنے  اموال کو بازار میں لے آئے اور تجارت اور اپنے اور لوگوں کے لئے مفید اور صحیح کاموں میں لگائے ، اسلام میں اس بارے میں بہت ترغیب دلایا ہے فرماتے ہیں : «اتّجروا بارك الله لكم»، تجارت کریں خداوند متعالی تمیں برکت دے گا ۔

ہمیں یہ خبر ملی ہے کہ بہت سارے افراد اپنے دوسرے کاموں کو چھوڑ کر گھروں میں بیٹھ جاتے ہیں اور  انٹرنٹ پر اسٹاک ایکسچینچ کے پیچھے ہیں ، یہ تجارت نہیں ہے ، تجارت میں پیداوار میں اضافہ کے ساتھ لوگوں کی ضرورت کی چیزیں کو بازار میں لانا ہے ، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ شئرز کی قیمت کو اوپر نیچے کر کے خریدتے اور بھیجتے ہیں ۔

اميرالمؤمنين(علیه السلام) شہروں ، اور دیہاتوں کو آباد کرنے کی ترغیب فرمایا ہے ۔

مسیحی اور یہودی کچھ لوگوں کا ایک کنواں تھا ، اور جس وقت قرظۃ بن کعب انصاری امیر المومنین (علیہ السلام) کی طرف سے وہاں پر منصوب ہوا تھا ، اس کے حکم سے یا اس کے کام کرنے والوں نے اس کنويں کو بھر لیا ، جس کے بعد سے اس سے پانی آنا بند ہوا تھا ، امیر المومنین(علیہ السلام) نے قرظۃ  کو ایک خط لکھا کہ کیوں ایسا کیا ہے ؟ اگرچہ یہ یہودیوں یا نصاری  کا تھا لیکن اسے بند نہیں کرنا چاہئے تھا ، اس کے بعد فرمایا اسے دوبارہ بنایا جائے «فلعمري لأن يعمروا أحب إلينا من أن يخربوا»،ان کافروں اور اہل ذمہ افراد کے زمین آباد رہنا مجھے اس سے کہیں زیادہ  پسند ہے کہ ان کے کنویں خراب ہو جائے او ران کے زمین خشک ہو جائے جس کے بعد  ان لوگوں کو کسی دوسری جگہ نقل مکانی کرنا پڑے !

 بازار پر نظارت اور اشیاء کی قیمتوں پر کنٹرول کرناحاکم اسلامی کی ذمہ داریوں میں سےہے

امیر المومنین(علیه السلام) خود بنفس نفیس مسلمانوں کی بازار میں قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے نظارت فرماتے تھے ، امیر المومنین (علیه السلام ) خود بازار میں گھومتےتھے اور تاجروں اور دکانداروں سے خطاب فرماتے اور ان سے قیمتیں پوچھتے تھے ۔

اصبغ بن نباته نے آپ (علیہ السلام) سے عرض کیا کہ یہ آپ کے شان کے برخلاف ہے کہ ہر روز بازار جائے اور اشیاء کی قیمت پوچھیں اور یہ بتاتے رہے کہ قیمتوں کو اوپر نہ لے جائے ، مناسب قیمت رکھو " آپ اپنے بدلے کسی اور کو بازار بیھجا کرو تا کہ وہ ان کاموں کو انجام دیں ،آپ (علیہ السلام) نے فرمایا : تمہیں معلوم ہے جو باتیں تم مجھ سے بتا رہے ہو یہ میرے لئے نصیحت اور میری خیرخواہی اس میں نہیں ہے ! تم یہ سوچ رہے ہو کہ اپنی ان باتوں سے مجھے نصیحت کی ہے ، اور میری خیرخواہی کی ہے ، لیکن ایسا نہیں ہے ، آپ (ع) کے اس فرمان سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ حاکم اسلامی کی ذمہ داریوں میں سے ایک ، بازار میں قیمتوں کو کنٹرول کرنا ہے ۔

اموال عمومی کی تقسیم میں بھی امیر المومنین (علیہ السلام) خاص توجہ دیتے تھے کہ مسلمانوں کے بیت المال کو لوگوں کے درمیان برابر تقسیم ہو جائے ۔

ان مطالب کو اس لئے بیان کر رہا ہوں تاکہ لوگوں کو پتہ چل جائے کہ امیر المومنین(علیہ السلام) حکومت کی اس مختصر مدت میں ، لوگوں کی اقتصاد کے بارے میں کتنے توجہ رکھتے تھے ، اور لوگوں کے معیشت اور مالی حالات کے مراقب تھے تا کہ معاشرہ میں کوئی بھوکا  اور فقیر نہ ہو ، اور عمومی اموال کے غیر عادلانہ تقسیم نہ ہو ۔

جس وقت عمار یاسر اور ابو الہیثم بن تیہان بیت المال کے ذمہ دار تھے اس وقت آپ نے ان دونوں کے لئے ایک خط لکھا، جس میں فرمایا تھا :«العربي والقرشي والأنصاري والعجمي وكل من كان في الإسلام من قبائل العرب وأجناس العجم سواءٌ»؛ نہیں فرمایا مہاجر او عرب کو زیادہ  اور عجم کو کم دے دیں ، بلکہ فرمایا تمام افراد جو اسلام کے زیر پرچم ہیں وہ سب ملکی  عمومی امکانات سے برخورد دار ہونے میں برابر ہیں ۔

امیر المومنین (علیہ السلام) کی سیرت فقراء کی دیکھ بال اور طبقاتی اختلاف کو ختم کرنا ہے

البته  واضح ہے اقتصادی ترقی کے لئے جس کے پاس پیداوار بڑھانے کی زیادہ صلاحیت ہے اس پر زیادہ توجہ دینا چاہئے ، لیکن اس کام معنی یہ نہیں ہےجسے ہم آجکل دیکھ رہے ہیں کہ کچھ خاص افراد کو نوازتے ہیں جس سے ملکی معیشت کو نقصان پہنچتا ہے ۔

امام  خمینی (قدس سرہ) کے ایک بڑی آرزو یہی تھا کہ معاشرہ سے فقر ختم ہو جائے ، طبقاتی اختلاف نہ ہو، امکانات صرف امیروں کے لئے نہ ہو ، فرماتے تھے کہ عوام ہمارا ولی نعمت ہیں ، ملکی وسائل تمام لوگوں کے لئے برابر ہونا چاہئے  ، نظام اسلامی حقیقت میں یہی ہے، اگر ہم اس حقیقت کی طرف جائے تو ان شاء اللہ ایک مضبوط نظام بن سکے گا ۔

اس سیمنار کے برگزار کرنے والوں خاص کر کے نمایندہ معظم ولی فقیہ حضرت آیت اللہ دری نجف آبادی اور یونیورسٹی کے اساتید اور غدیر انٹرنیشنل مرکز کا شکریہ ادا کرتا ہوں

امید ہے کہ امیر المومنین (علیہ السلام) کی مدد سے یہ سیمنار معاشرہ سے فقر   اور طبقاتی اختلاف کو ختم کرنے میں ممد و معاون ثابت ہوگا ۔