pic
pic
  • ۱

    حریم قرآن کا دفاع

    مولف :حجة الاسلام والمسلمین الحاج آقای شیخ جوادفاضل لنکرانیدام عزہ

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    عرض ناشر

    تحریف قرآن ایک ایسا موضوع ہے جسے قرآن کریم پر ایمان رکھنے ولا کوئی شخص قبول نہیں کر سکتا کیونکہ قرآن کریم اس کی اجازت نہیں دیتا، تحریف یعنی کمی و بیشی تو بہت دور کی بات ہے اس میں کسی شک کی گنجائش بھی نہیں ، خدا کا وعدہ ہے :'' إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحافِظُون‏'' ہم نے ہی قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں[1].

    نیز قرآن کریم میں کسی باطل کے داخل ہونے کی بھی سختی سے تردید کی کہ کسی باطل کا اس میں داخل ہونا ناممکن ہے '' لا يَأْتيهِ الْباطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ لا مِنْ خَلْفِه‏'' باطل نہ ا س کے سامنے سے آسکتا ہے اور نہ پیچھے سے ، یہ حکمت والے اور لائق ستائش کی نازل کردہ ہے[2].

    خداوندعالم نے قرآن مجید میں تحریف کے تصور کو چاہے خود رسول اکرم ۖ سے ہی کیوں نہ ہو نفی کر کے سزا کا اظہار فرمایا ہے ''وَ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنا بَعْضَ الْأَقاويلِ ،لَأَخَذْنا مِنْهُ بِالْيَمينِ،ثُمَّ لَقَطَعْنا مِنْهُ الْوَتينَ،فَما مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ عَنْهُ حاجِزينَ ،وَ إِنَّهُ لَتَذْكِرَةٌ لِلْمُتَّقين‏''اور اگر اس (نبی) نے کوئی تھوڑی بات بھی گھڑ کر ہماری طرف منسوب کی ہوتی تو ہم اسے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے پھر اس کی شہ رگ کاٹ دیتے ، پھر تم میں سے کوئی مجھے اس سے روکنے والا نہ ہوتا ، اور پرہیز گاروں کے لیے یقینا یہ ایک نصیحت ہے[3].

    حضوراکرم کا یہ واضح فرمان ہے کہ اگر تم تک کوئی بات میری حدیث کی حیثیت سے پہنچے تو اس کا قرآن سے موازنہ کرو، اگر قرآن کے موافق ہے تو اسے قبول کرو ورنہ رد کرو، لہذا قرآن کی عدم تحریف پر گواہی کی وجہ سے تمام اخبار اور احادیث کو رد کیا جائے گا ، چاہئے کتنی ہی صحیح کتب میں تحریر کیوں نہ ہو۔

    یہ کتاب جو آپ کے ہاتھوںمیں ہے اسی موضوع پر حضرت حجة الاسلام و المسلمین آقای الحاج جواد فاضل لنکرانی دام عزہ کی ایک بلیغ او رجامع تحقیق ہے جس میں آپ نے معقولات ومنقولات کی روشنی میں ثابت کیا ہے کہ تحریف قرآن ایک امر ناشدنی ہے ۔

    خداوند عالم سے دعا ہے کہ آپ کی اس کوشش کو شرف قبولیت بخشے

    ادارہ

    حرف آغاز

    عظیم پروردگار کا شکر گزار ہوں اوروہی حمد و ثنا کا مستحق ہے جس نے ہم پر احسان کیا اور ایک عظیم امانت کو اٹھانے کے لائق سمجھا ،وہی امانت جو اللہ کی طرف سے آخری اور ابدی معجزہ ہے ، وہ معجزہ جو ایک وسیع دسترخوان کی مانند تمام عالم کی حقائق سے بھرا ہوا ہے اورہمیشہ کے لئے بھیجا گیا ، یعنی قرآن کریم کی شکل میں کریم مطلق کی طرف سے نازل کیا گیا ہے تا کہ انسانوں کی سعادت کاذریعہ بنے ، ایک ایسا بیکراں سمندر ہے جس کی چھوٹی بڑی تمام امواج بہت ہی عمیق اور عظیم اسرار پر مشتمل ہیں ، وہی بہترین ہدایت اور سعادت کا راستہ ہے ،کتاب جو ہمیشہ پوری بشریت اور ہر معاشرے کے لئے زمان و مکان میں چراغ ہدایت ہے اور قیامت تک گمراہی اور ضلالت کی تاریکیوں میں مبتلاء افراد کی راہنمائی کرتی رہے گی ، یہ کتاب ہر زمانے میں نور اور ہر مرحلے میں بہترین راہنما ہے ، ہر خشک و تر کا ذکر اس میں موجود ہے ، اس میں انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں اور کائنات کی ہر شیٔ کا کھلا بیان ہے ، یہ وہ کتا ب ہے جس کی ہر وقت اور ہمیشہ کسی بھی قسم کی تبدیلی سے حفاظت کرنے کا خود اللہ تبارک و تعالی نے وعدہ فرمایا ہے اور ایسا وعدہ کہ جس سے تخلف کرنا محال ہے ، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے (ان وعد اللہ حق )۔

    اس مختصر کتابچہ میں جو مطالب بیان کئے گئے ہیں ، وہ قرآن میں تحریف نہ ہونے سے مربوط ہیں جسے علوم قرآن کے مباحث میں بنیادی اور اہم مسئلہ سمجھا جاتا ہے ، اوریہ مسئلہ تمام محققین ،مفسرین اور اس کتاب کے بارے میں غور و خوض کرنے والوں کی نظر میں بہت اہمیت حاصل ہے ،اس لیے اس کے تمام پہلوؤں پر گفتگو اور وضاحت ضروری ہے ۔

    اس مسئلہ کے بارے میں باریکی کے ساتھ غور کیا جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ تحریف قرآن کا مسئلہ اسلامی فرقوں میں سے کسی کی طرف نسبت دینا بجائے خود ایک نمایاں تحریف ہے ، خصوصاً کسی ایسے مذہب کی طرف جس کے اعتقادات کی بنیاد عدم تحریف پر ہو ، تحریف کی تہمت دینا سراسر جھوٹ اور بہتان ہے ، عنقریب ان اہم مطالب کی توضیح اور تشریح کے دوران ہم اس مسئلے کے مختلف پہلوؤں پر تحقیق کر کے یہ ثابت کریں گے کہ شیعہ امامیہ نہ صرف تحریف قرآن کے معتقد نہیں ہیں بلکہ اپنے عقیدے کی بنیاد پر وہ تحریف کے قائل ہو ہی نہیں سکتے ،کیونکہ اگر وہ تحریف کے قائل ہو جائیں تو ان کے اعتقادات کی بنیاد ڈھ جائے گی ۔

    آئیے اس عظیم اجتماع[4]میں جہاں بڑے بڑے دانشور،علماء اور مذہبی شخصیات موجود ہیں ہم ایک ''عالمی اعلان'' شائع کریں ، تمام مذاہب ،طبقات ،ملل ،اقوام اور ادیان کو یہ بتائیں کہ قرآن کریم حضور اکرم ۖ پر نزول کے زمانے سے لے کر آج تک کسی بھی قسم کی تحریف سے محفوظ رہا ہے اور قیامت تک کوئی بھی اس میں تحریف نہیں کر سکتا ، ایسا نہیں ہے کہ ہم اس مسئلہ کو ایک قضیہ خارجیہ کے طور پر پیش کر کے کہیں کہ اب تک قرآن کی تحریف نہیں ہوئی ہے بلکہ ہم اس مسئلہ کو ایک ''قضیہ حقیقیہ'' کے طور پر بیان کریں، یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کی قطعی سنت قرآن کے بارے میں یہ ہے کہ اس میں تحریف ہونا محال ہے ، کوئی شخص یا گروہ آیات الہی میں سے کسی ایک آیت میں بھی تحریف کرنے پر قادر نہیں ہے ، یہ ایک ایسی مقدس کتاب اور ابدی معجزہ ہے جو خود ہر زمان و مکان میں تحریف سے محفوظ ہونے کی مدّعی ہے اور ا س کی مانند لانے کو چیلنج کیا ہے ، اس مختصر کتابچہ میں مسئلہ تحریف کے تمام پہلوؤں پر تفصیلی بحث کرنے کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ اگر کوئی اس مسئلہ کے بارے میں تفصیلی بحث کرنا چاہئے تو کئی جلدوں پر مشتمل ایک کتاب بن جائے گی ،۔

    ہم اس کے اہم نکات میں سے چند ایک کا جائزہ لینا چاہتے ہیں جو مختصراً بیان ہوئے ہیں تا کہ اس بحث کے چند نمایاں پہلوؤں کو واضح کیا جاسکے ۔

    پہلا مطلب

    لفظ تحریف کی تحقیق

    تحریف باب ''تفعیل'' کا مصدر ہے جو لفظ ''حرف'' سے مشتق ہے جس کے لغوی معنی کسی چیز کے کنارہ اور طرف کے ہیں یا کسی چیز کے کنارے اور طرف سے کچھ حصہ کے ضائع کرنے یا ہونے کو کہا جاتا ہے لہذا تحریف کے معنی کسی چیزمیں تبدیلی لانے اور اس کے اطراف اورگوشہ سے کچھ کم یا ضائع کرنے کو کہتے ہیں خداوند عالم قرآن مجید میں فرماتا ہے :

    " وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ عَلى‏ حَرْفٍ"[5]

    یعنی لوگوں میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو کنارے ہو کر خدا کی عبادت کرتے ہیں ،یہ وہ لوگ ہیں جن کو اپنے دین پر یقین نہیں ، ایسے لوگ ان افراد کی مانند ہیں جو جنگ کے دوران کسی کنارے کھڑے ہو کر لشکروں کے مابین ہونے والی جنگ دیکھ رہے ہوں ، اگر اپنی طرف کامیابی نظر آئے تو مال غنیمت کی خاطر جا کر شامل ہوتے ہیں ورنہ راہ فرار اختیار کرتے ہیں[6].

    پس تحریف لغت کے اعتبار سے ہر چیز کی تبدیلی اور جابجا ہونے کو کہا جاتا ہے ، لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ تحریف سے ہمیشہ تحریف لفظی سمجھ میں آتا ہے لیکن قرآن کریم میں ایک قرینہ کے موجود ہونے کی بنا پر تحریف کا ایک ثانوی ظہور یعنی تحریف معنوی کا مفہوم بھی نظر آتا ہے ، جیسا کہ یہودی علماء کی مذمت میں ارشاد ہوا :

    " يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَواضِعِهِ"[7]

    یعنی تورات میں کلام حق کو اس کے محل و معانی اور مقاصد الہی سے تبدیل کرتے ہیں اور کلام حق کو اس کے ظاہری معانی پر محمول نہیں کرتے ۔

    اس آیت کریمہ میں لفظ '' عن مواضعہ'' تحریف معنوی ہونے پر واضح قرینہ اور دلیل ہے لہذا راغب اصفہانی نے صرف تحریف نہیں بلکہ تحریف الکلام کے بارے میں یوں لکھا ہے :

    تحریف الکلام ؛ان تجعلہ علی حرف من الاحتمال یمکن حملہ علی الوجہین[8] یعنی کلام میں اس طرح تبدیلی لانا کہ جس سے اس کلام میں دو احتمال ہو سکتے ہوں ،یہاں واضح ہے کہ راغب کا مقصد تحریف سے اس کے لغوی معنی کی وضاحت کرنا نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد تحریف معنوی کا سمجھانا ہے جس کا ذکر آیت شریفہ میں ہوا ہے ۔

    فخر الدین رازی نے ا س آیت کریمہ کی تفسیر اور وضاحت میں کئی احتمالات پیش کئے ہیں ان میں سے بعض تحریف لفظی کے ساتھ مناسبت رکھتے ھیں۔ لیکن آخرکسی آیت کی تفسیر میں تحریف معنوی کو صحیح قول قراردیاہے اوریوں کہتا ہے:

    ان المراد بالتحریف القاء الشبہ الباطلة والتُأویلات الفاسدةوصرف اللفظ عن معناہ الحق الی معنی باطل بوجوہ الحیل اللفظیة کما یفعلہ اھل البدعة،،[9] بے شک تحریف سے مراد باطل شبہات اورفاسد تاویلات کے ذریعے لفظ کو ان کے حقیقی معنوں سے بدل کر مختلف لفظی حیلوں کے ذریعےباطل معنی کی طرف لے جانا ہے جیسا کہ اہل بدعت کرتے رہتے ہیں۔

    دوسرامطلب

    تحریف کی قسمیں اور ان کے استعمال کے موارد

    ہمارے بزرگ علمائے کرام کی عبارات میں ،جیسے محقق خوئی نے دعوی کیا ہے کہ لفظ تحریفچھ معانی میں بطور ٫٫مشترک لفظی ،، استعمال ہوا ہے ۔ان میں سے بعض معانی قرآن میں پائے جاتے ہیں جن پر سارے مسلمانوں کا اجماع اوراتفاق ہے جبکہ بعض موجود تو ہیں، مگر ان کے بارے میں اجماع واقع نہیں ہوا۔ اور بعض کے بارے میں اختلاف ہے۔ ہم یہاں، مرحوم خوئی نے تحریف کے اصطلاحی معانی کے بارے میں جو مطالب بیان کئے ہیں اس کا ذکر کرکے تبصرہ کرتے ہوئے اپنا نظریہ بھی بیان کریں گے انہوں نے فرمایا:

    ٫٫تحریف کالفظ کئی معانی میں استعمال ہوا ہے ان میں سے پہلے معنی کسی چیزکو اس کے معانی اورمحل سے منتقل کرکے تبدیل کرنا ہے۔ اس آیہ شریفہ میں اسی کی طرف اشارہ ہے:

    مِنَ الَّذينَ هادُوا يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَواضِعِه‏،،[10]

    یہودیوں میں سے کچه لوگ ایسے بھی ہیں جو کلام کو اس کے محل سے بدل ڈالتے ہیں اس قسم کی تحریف کو تفسیر بالرائے یا تحریف معنوی کہا جاتاہے۔ اس قسم کی تحریف قرآن مجید میں واقع ہونے پرتمام مسلمانوں کااجماع ہے کیونکہ کچھ مفسرینِ قرآن نے آیات کی اس طرح کی تفسیر کی ہے جو قرآن کے الفاظ کے حقیقی اور واقعی معنی نہیں ہیں بلکہ انہوں نے اپنی خواہشات کے مطابق آیات میں تحریف کی ہے اوراہل بیت علیہم السلام سے منقول روایات میں اس کی مذمت ہوئی ہے چنانچہ امام محمد باقرعلیہ السلام نے ایک خط میں سعدالخیر سے فرمایا:

    وَكَانَ مِنْ نَبْذِهِمُ الْكِتَابَ أَنْ أَقَامُوا حُرُوفَهُ وَحَرَّفُوا حُدُودَهُ، فَهُمْ يَرْوُونَهُ وَلَا يَرْعَوْنَهُ،[11] اوران میں سے بعض کتاب (قرآن ) کی عبارات اور حروف کے پابند ہیں جبکہ اس کے حدود میں تحریف کرتے ہیں، ایسے لوگ اس کتاب کے راوی ہیں لیکن محافظ نہیں ۔

    تحریف کے دوسرے معنی

    تحریف کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ کوئی حرف یا حرکت اجمالی طور پر کم زیادہ ہوئی ہو لیکن خود قرآن محفوظ ہو۔ اس طرح کی تحریف بھی قرآن کریم میں ثابت ہے جسے ہم اس کی اپنی جگہ ثابت کرچکے ہیں کہ قرآن کریم کی موجودہ قرائتوں میںسے کوئی بھی متواتر نہیں[12] لہذا ان تمام میں سے صرف ایک قرآن واقعی کے مطابق ہے اور دوسری قرآنوں میں سے بعض میں اضافه یا بعض میں کمی ہے۔

    تحریف کے تیسرے معنی

    قرآن کریم میں ایک لفظ یا اس سے زیادہ کو کم یا زیاده کرنا، حالانکہ خود قرآن کریم محفوظ ہے ۔ان معنوں میں تحریف صدراسلام اوراصحاب کرام کے زمانے میں یقیناًواقع ہوئی ہے لیکن اس کی شدت سے مخالفت ہوئی ہے اس کی دلیل اجماع مسلمین ہے۔ یعنی جناب عثمان کے دورمیںمصاحف میں سے کچھ صحیفوں کوجمع کرکے آگ لگادی گئی اورانہوں نے اپنے کارندوں کو حکم دیاکہ میرے قرآن کے علاوہ دوسرے تمام نسخوں کو جلادو،اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ حضرت عثمان کا نسخہ دوسرے نسخوں سے الگ تھا اورمحققین وعلماء کی ایک جماعت جس میں سے ایک ابی داود سجستانی ہے انہوں نے اس وقت کے نسخوں کے جن موارد میں اختلاف تھا ان کو جمع کیا ہے یعنی حضرت عثمان نے جن نسخوں کو آگ لگانے کا حکم دیاتھا ان میں اجمالی طور پر تحریف ہوئی تھی لیکن آپ نے جس قرآن کو جمع کرکے رائج کیا وہ یہی قرآن کریم ہے جو آج تک کسی تحریف کے بغیر ہم تک پہنچاہے۔ لہذا حضرت عثمان کے دور حکومت سے پہلے جو نسخے معاشرے میں رائج تھے ان میں سے بعض میں ایسی تحریف واقع ہونے کوقبول کرنا چاہیے لیکن جو قرآن دورحاضر میں ہمارے پاس موجودہے وہ عثمانی نسخہ کے مطابق ہے جس میں کوئی کمی یا بیشی نہیں ہے۔

    چوتھے معنی

    تحریف کا چوتھامعنی یہ ہے کہ قرآن میں ایک آیت کا اضافہ یا ایک آیت کی کمی ہوجائے ،اگرچہ نازل شدہ قرآن کریم محفوظ اورسالم ہے لیکن ایسی تحریف سوائے بسم اللہ الرحمن الرحیم کے کسی دوسری آیت میں نہیں ہوئی ہے۔ یعنی مسلمانوں کا اجماع ہے کہ پیغمبر اسلامۖ(سورہ توبہ کے علاوہ )ہرسورہ کی تلاوت سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم کی تلاوت فرماتے تھے۔ لیکن اس بارے میں اہل سنت کے نظریے میں اختلاف ہے کہ بسم اللہ قرآن میں شامل ہے یا نہیں؟ بعض قائل ہیں کہ شامل ہیں بعض کهتے هیں که شامل نهیں ہے لیمن شیعه امامیه کے تمام علماء قائل ہیں کہ بسم اللہ آیات قرآنی میں سے ایک آیت ہے اوران کا اجماع ہے کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم سورہ توبہ کے علاوہ ہر سورہ کاجزہے۔

    پانچویں معنی

    جوقرآن کریم آج مسلمانوں کے ہاتھوں میں موجودہے اس کی کچھ آیات پیغمبراکرم صلی الله علیه و آله وسلم پر نازل شدہ قرآن کریم میںنہیں تھیں آج اضافی ہیں ۔ ایسی تحریف کے مسلمانوں میں سے صرف دو گروہ قائل ہوئے ہیں:

    الف:عجاردہ،وہ لوگ جوعبدالکریم عجرد(جو خوارج کے بزرگوں میں سے ایک ہے) کی پیروی کرنے والے ہیں، جن کا عقیدہ یہ ہے کہ سورہ مبارکہ یوسف قرآن کریم کا جزء نہیں ہے۔

    ب: ابن مسعود کی طرف نسبت دی گئی ہے کہ وہ سورہ مبارکہ ٫٫قل اعوذ برب الناس،، اور٫٫قل اعوذ برب الفلق،،(معوذتین) کو قرآن کا جزء نہیں سمجھتے ہیں ۔اور ان دو گروہ کے علاوہ دوسرے تمام مسلمانوں کا اجماع اور اتفاق ہے کہ ایسی تحریف قرآن میں نہیں ہوئی ہے اورایسی تحریف کا نظریہ رکھنے والوں کاعقیدہ غلط اور باطل ہونا بھی ایک امر لازمی ہے۔

    چٹھے معنی

    یعنی جوقرآن ہمارے در میان موجود ہے اس میں پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله وسلم پرنازل شدہ قرآن کی چند آیات موجود نہیں ہیں۔قرآن میں ایسی تحریف کے ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں اختلاف ہے ۔

    نتیجہ

    نتیجہ یہ نکلا کہ ان چھ (6) معنوں میں سے پہلے چار معنوں میں قطعی طور پرتحریف واقع ہوئی ہے پانچویں معنی میں اجماع واقع نہیں ہوا ہے اور چھٹے معنی پرعلماء کو اختلاف ہے۔

    اس عظیم محقق[13] کے بیان پردو اعتراضات ہوسکتے ہیں:

    پہلا اعتراض

    ہماری تحقیق کا نتیجہ یہ ہے کہ مذکورہ تمام معانی اس عنوان میں نہیں ہیں کہ لفظ تحریف اس میں استعمال ہو جس کی وجہ سے مشترک لفظی کہلائے بلکہ تحریف کے صرف ایک معنی ہیں جو معانی مذکورہ میں سے پہلے معنی ہیں۔ تحریف یعنی ٫٫نقل الشیء عن مواضعہ،، کسی چیز کو اس کے محل سے ہٹادینا،لیکن دوسرے سارے معانی اس کے مصادیق ہیں یا دوسرے لفظوں میں یوں کہا جائے کہ مذکورہ تمام معانی میں نقل الشیء عن موضعہ کے معنی پائے جاتے ہیں۔ لیکن کبھی نقل معنی میں جس کو تحریف معنوی کہتے ہیں اور کبھی نقل ، لفظ میں جس کو تحریف لفظی کہتے ہیں اورخود اس کی دو قسمیں ہیں١۔یا تو نقل لفظ تفصیلی ہے ٢ ۔ یا اجمالی۔ یا دسرے لفظوں میں یوں کہا جائے کہ کمی وبیشی معین طورپرہوتی ہے یا بطور اجمال واقع ہوتی ہے ۔ لہذااس مختصر تحقیق کی بناپر یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس عظیم محقق کے کلام میں جو معانی تحریف کے لئے ذکر ہوئے ہیں وہ اس کے مصادیق ہیں، یعنی لفظ تحریف مشترک معنوی ہے ایسا نہیں ہے کہ تحریف معانی کے لئے مختلف موضوع لہ ہوں اورتحریف ٫٫مشترک لفظی،، کے طور پر ان میں استعمال ہو۔

    دوسرا اعتراض

    اس تقسیم کا لازمی نتیجہ یہ ہے کے تمام اقسام میں باطل کا عنوان موجود نہ ہو اگران اقسام میں سے کوئی اس عنوان میں داخل ہو جائے تو اس آیہ شریفہ ٫٫ولا یأتیہ الباطل من بین یدیہ،، کے خلاف ہے کیونکہاس آیت شریفہ کی ظاہری دلالت یہ ہے کہ قرآن شریف میں کسی قسم کے باطل کے آنے کی کوئی گنجائش نہیں ،لہذا جن موارد میں فرمایا ہے کہ بناء براجماع مسلمین ،تحریف واقع ہوئی ہے ان موارد میں تحریف کا عنوان صدق روک دیتا ہے اگرچہ یہ مطلب تحریف معنوی میں مشکل نظر آتا ہے.

    لفظ تحریف کے معانی کی وضاحت اورتحقیق کے بعدہم اس کی اقسام بیان کریں گے جیسا کہ اہل فن اورعلماء کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ تحریف کی چھ قسمیں ہیں ۔

    ١۔ تحریف لفظی، یعنی الفاظ اورجملوں میں کمی اور زیادتی یا تبدیلی کرنا ۔

    ٢۔ تحریف معنوی،کسی کلام یا جملے کی اس طرح تفسیر کرنا کہ وہ اس پر دلالت نہ کرے اس کو تحریف معنوی یا تفسیر بالرائے کہتے ہیں ، روایات میںشدت کے ساتھ اس کی مذمت کی گئی ہے۔ چنانچہ پیغمبر اکرم ۖنے فرمایا: من فسر القرآن برأیہ فلیتبوء مقعدہ من النّار،،[14] جو شخص قرآن کی تفسیر اپنی رائے کی بنا پر کرے تو اس نے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنایا۔

    ٣۔ تحریف موضعی ،یعنی کسی ایک آیت یا سورہ کو نزول کی ترتیب کے خلاف مرتب کرنے کو تحریف موضعی کہتے ہیں۔ایسی تحریف آیات میں بہت نادر ہے کیونکہ تمام آیات کو نزول کی ترتیب سے مرتب اور جمع کیا گیا ہے ، لیکن سورتوں کی نسبت یہ کہہ سکتے ہیں کہ ساری سورتیں نزول کی ترتیب کے خلاف پیغمبر اکرم ۖ کے حکم کے مطابق ترتیب دی گئی ہیں ۔

    ٤۔ قرأت میں تحریف ، کسی لفظ کو جمہورمسلمین کی قرأت کے خلاف ،پڑھنے کو قرأت کی تحریف کہا جاتا ہے۔ جیسے اکثر قرّاء انے اجتہاد اور نظریہ کی بنا پر قرائت کرتے ہیں جو جمہورمسلمین کی قرا ئت کے خلاف ہے۔

    ٥۔ لہجے کی تحریف ،اقوام و قبائل کے درمیان لہجے کا اختلاف بھی سبب بنتا ہے کہ تلاوت ہرقبیلہ کے یہاں مخصوص لہجے کے ساتھ ہوتی ہے اس کو لہجے کی تحریف کہتے ہیں۔

    6. تحریف تبدیلی،کسی ایک لفظ کو دوسرے لفظ میں تبدیل کرنا،چاہے دونوں ہم معنی ہوں یانہ ہوں،ابن مسعود نے ایسی تحریف کوہم معنی(مترادف)الفاظ میں جائز سمجھا ہے۔ چنانچہ فر مایا ہے:لفظ٫٫علیم،،کی جگہ ٫٫حکیم،، رکھا جا سکتا ہے ۔

    [1]حجر/ ٩
    [2]حم سجدہ/٤٢
    [3]حاقہ/٤٤
    [4] - اس مقالہ کو سب سے پہلے ایک علمی کانفرنس میں پیش کیا گیا تھا ،(اس عظیم اجتماع ) سے مراد یہی کانفرنس ہے .
    [5] -حج /11
    [6] - کشاف :ج٢،ص١٢٦
    [7] -نساء /46
    [8] - مفردات ص١١٢
    [9] - تفسیر کبیرج ١٠ص ١١٧ طبع قدیم
    [10] - البیان ص٢١٥
    [11] - الكافي (ط - دار الحديث)؛ ج‌15، ص: 141
    [12] - کافی ج٨ص53والوافی فی آخرالصلوة
    [13] -جناب مرحوم خوئی
    [14] - عوالی اللئالی ج٤ ص١٠٤

۸,۸۷۹ قارئين کی تعداد: