pic
pic
  • ۴۷

    دسواں مطلب

    تحریف کے بارے میں دو دعوے

    گذشتہ مطالب سے بخوبی روشن ہوا کہ تحریف کے بارے میں دودعوے پائے جاتے ہیں:

    پہلا: کچھ لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ تحریف کا دائرہ محدود ہے یعنی تحریف صرف ان آیات میں ہوئی ہے کہ جن آیات کے بارے میں روایات وارد نہیں ہوئی ہیں وہ ہرقسم کی تحریف ، تبدیلی اورکمی بیشی سے محفوظ ہیں ۔ جس کوثابت کرنے کے لئے انہوں نے ظواہر کتاب سے استدلال کیا ہے عام طورپریہ دعوی وہ لوگ کرتے ہیں جوتحریف قرآن میں ان روایات کو سند کے طور پر پیش کرتے ہیں جو بعض حدیث کی کتب میں موجود ہیں۔

    دوسرا:کچھ لوگ قرآن میں اجمالی طورپرتحریف واقع ہونے کے معتقد ہیں دوسرے الفاظ میں یہ لوگ قرآن میں تحریف ہونے پرعلم اجمالی کے دعویدار ہیں ۔جو لوگ اس نظریئے کے قائل ہیں انہوں نے تحریف کے سلسلے میں دلیل اورسند کے طور پر دلیل اعتبار اوراس کی مثالیں پیش کی ہیں [32]۔

    گیارہواں مطلب

    تحریف نہ ہونے پر عقلی اورعقلائی دلیل کا تجزیہ

    بعض صاحب نظرافراد کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ تحریف کے بطلان پرانہوے نے عقلی دلیل اورسیرت عقلاء سے تمسک کیا ہے، مرحوم سید ابن طاوؤس نے کتاب سعد السعود میں صراحت کی ہے کہ قرآن میں تحریف نہ ہونے پر دلیل عقلی ہے جبکہ دوسرے بعض محققین اس مسئلہ پرسیرت عقلاء[33] سے استدلال کرتے ہیں۔

    دلیل عقلی کی وضاحت

    عقلی دلیل کو بیان کرنے کے دو صورتیں ہیں :

    پہلا بیان :جناب مرحوم خوئی[34] کی عبارات میں عقلی دلیل کوایک غیرمستقل دلیل کے طور پرذکرکیا گیا ہے۔ اس کا خلاصہ ہم یہاں نقل کرتے ہیں ۔ تحریف کا احتمال تین صورتوں سے خالی نہیں۔ کسی پہلی صورت وچوتھی صورت کا تصور عقل کی رو سے محال اور ناممکن ہے۔

    پہلی صورت: قرآن کی تحریف حضرت عثمان کے دورخلافت سے پہلے جناب ابوبکراورجناب عمرکے دور میں ان کے ہاتھوں ہوئی ہو،یہ صورت یقیناً باطل ہے کیونکہ یہ صورت تین احتمالات میں سے کسی ایک سے خالی نہیں:

    پہلا احتمال : تحریف جو ہوئی ہے وہ لاشعوری تھی یعنی حضرت پیغمبر اکرم کی رحلت کے بعد جناب ابوبکر اورجناب عمرنے قرآن کی جمع آوری کا کام شروع کیا ،لیکن پورے قرآن پر احاطہ نہ ہونے کی وجہ سے پورے قرآن کریم کے دستیاب نہ ہونے کی بناپر کچھ آیات یا جملے رہ گئے ہیں جس کا نتیجہ تحریف قرآن کی صورت میں نکلا۔

    دوسرااحتمال: قرآن میں تحریف اورتبدیلی ان کی طرف سے جان بوجھ کرواقع ہوئی ہے اوروہ بھی ایسی آیات میں جوان کی حکومت اور خلافت کے لئے کوئی ٹکراؤ یا ضرر پہنچانے کا باعث نہیں تھیں۔

    تیسرا احتمال: تحریف عمدا اورجان بوجھ کرواقع کی گئی ہے اوروہ بھی ان آیات میں جوان کی حکومت اورخلافت کے ساتھ ٹکراتی تھیں۔ چنانچہ تحریف کے قائلین میں سے بعض اسی احتمال پر بھروسہ کرتے ہیں۔

    لیکن یہ تینوں احتمالات غلط اورباطل ہیں کیونکہ ان تینوں میں سے پہلا احتمال دو صورتوں سے باطل ہے۔

    ١۔ یہ بات مسلمانوں کے یہاں مسلم اوربدیہی ہے کہ پیغمبر اکرمۖ نے رحلت سے پہلے قرآن کی حفاظت اس قرائت اورترتیل قرآن کے ساتھ تلاوت کرنے کا مخصوص اہتمام فرمایا تھا اورصحابہ کرام نے بھی اس مسئلہ کو بہت زیادہ اہتمام کے ساتھ انجام دیا لہذا یقینی ہے کہ قرآن کریم ان دونوں کے دور میں ہر قسم کے نقص اورزیادتی سے محفوظ تھا۔اگرچہ قرآن کی جمع آوری دونوں کے دورمیں ہوئی تھی یا جمع آوری کے بغیر متفرق شکل میں مکمل طور پرموجود تھا یا لوگوں کے سینوں یا کاغذوں پر کسی قسم کی کمی وبیشی کے بغیرموجود تھا ۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اس زمانہ میں عرب جاہلیت کے اشعارکو یاد اورحفظ کرنے کو اتنی اہمیت دیں لیکن پیغمبر اکرمۖ اور قرآن کے معتقد ہونے کے با وجود اس کی حفاظت نہ کریں ! ۔

    ٢۔ حدیث ثقلین سے بھی اس احتمال کا غلط اورباطل ہونا واضح ہے کیونکہ اس حدیث کا مضمون یہ ہے کہ پیغمبر اکرم ۖ نے لوگوں کو اپنے زمانے میں ہی کتاب الہی سے تمسک کرنے کا حکم دیا ہے اگرفرض کریں کہ چند آیات ان سے ضائع ہوگئی ہوں تو اس کتاب مدوّن اور آیات کے مجموعہ سے تمسک ممکن نہیں رہتا۔

    دوسرا احتمال بھی غلط اورباطل ہے کیونکہ جہاں تحریف عمدی ہو تو وہ بغیرسبب اورانگیزہ کے نہیں ہوسکتی ، اگر تحریف ان آیات میں جان بوجھ کرکی گئی ہوجن سے جناب ابوبکر اورعمر کی حکومت اورخلافت کے لئے کوئی ضرر نہیں پہنچتا تھا تو ایسی آیات میں تحریف کرنے کا سبب کیا ہے ؟لہذا یہ احتمال بھی صحیح نہیں ہے۔ نیز تیسرااحتمال بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ اگر اس طرح تحریف ہوتی تو دوسرے لوگ جو ابوبکر اورعمرکی حکومت اورخلافت کے مخالف ہیں جن میں سر فہرست حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام اورحضرت صدیقہ زہرا سلام اللہ علیہا اوردیگربارہ افراد جوانصار ومہاجرین کے تھے اس مسئلہ کو ابوبکراورعمر کی خامیوں اوران پر ہونے والے اعتراضات میں ذکر کرتے، ان کے خلاف کے گئے احتجاجات میں اس کا تذکرہ ہوتا جبکہ ان کے کلمات اوراحتجاجات میں ایسا نظر نہیں آتا ،لہذااس بحث کا نتیجہ یہ ہے کہ حضرات ابوبکر اورعمرکے دورخلافت میں تحریف ہونے کا قائل ہونا مردوداورباطل ہے۔

    دوسری صورت : حضرت عثمان کے دورخلافت میں تحریف ہوئی ہے ، یہ نظریہ گذشتہ نظریے کی نسبت بہت زیادہ ضعیف اورکمزور ہے کیونکہ :

    ١۔ آپ کے دورمیں اسلام کی نشراشاعت اس قدر ہوئی تھی کہ کسی کو قرآن کی کسی آیت کو مٹانایا کسی آیت کا اضافہ کرنا ممکن نہیں تھا ۔

    ٢۔ اگرآپ کے دور میں تحریف ان آیات میں ہوئی ہوجو اہل بیت عصمت وطہارت علیہم السلام کی ولایت اورخلافت سے مربوط نہیں ہیں توان میں تحریف آیات میں بھی ان کے زمانے میں تحریف نہ ہونے کا یقین ہے، کیونکہ اگر قرآن کی کوئی آیت صریحا حضرت امیرالمئومنین علی علیہ السلام کی خلافت اورولایت ثابت کرنے کے لئے ہوتی تووہ آیت لوگوں میں شائع ہوتی اورحضرت عثمان تک خلافت نہیں پہنچتی ۔

    ٣۔ اگرحضرت عثمان قرآن میں تحریف کرتے تو آپ کے مخالفین کے لئے یہ مسئلہ ان کے خلاف قیام کرنے کا بہترین بہانہ اورعذرتھا جبکہ ان کی طرف سے کوئی ایسی چیز احتجاج کی شکل میں نظر نہیں آتی۔

    ٤۔ اگرتحریف حضرت عثمان کے دورخلافت میں آپ کے ہاتھوں ہوئی ہوتی توحضرت امیرالمئومنین علیہ السلام کوحضرت عثمان کے بعد مسلمانوں کاخلیفہ اور حاکم ہونے کی حیثیت سے قرآن کو اسی طرح ترتیب دیناچاہیے تھاجس طرح پیغمبراکرمۖ پرنازل ہوا تھاجبکہ ایسی کوئی بات تاریخ میں نہیں ملتی ،پس یہ صورت بھی باطل اورغلط ہے۔

    تیسری صورت : قرآن میں تحریف حضرت عثمان کے دورخلافت کے بعد بنی امیہ کے خلفاء یا ان کے ایجنٹوں کے ہاتھوں ہوئی ہے ۔ یہ ایسی صورت ہے جس کا سابقہ صورتوں کی طرح کسی محقق یا مورخ نے دعوی نہیں کیا ہے۔اورچوتھی صورت بھی عقلا ممکن نہیں ہے۔ لہذا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قرآن میں تحریف ہونے کا نظریہ سرے سے ہی غلط اورباطل ہے،چونکہ عقلی اعتبار سے کوئی چوتھی صورت موجود نہیں لہذا ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ عقلی اورتاریخی اعتبار سے تحریف قرآن کا مسئلہ باطل اورمردو ہے ۔ یہاں یہ بھی یاد رہے کہ یہ دلیل صرف عقلی حکم سے ثابت نہیں بلکہ تاریخی تجزیہ بھی ساتھ ہے۔

    دلیل عقلی کا دوسرا بیان

    اس بیان کی وضاحت کے لئے دو مقدموں کی ضرورت ہے :

    پہلا مقدمہ: شریعت اسلام ادیان الہی میں سے کامل ترین دین ہے اور لوگوں کے لئے قیامت تک رہنے والا آئین ہے۔

    دوسرا مقدمہ: ایسے دین اورآئین کے لئے ضروری ہے کہ کوئی ایسی دائمی سند اوردستورالعمل بھی اس کے ساتھ ہو، تا کہ لوگ اس کے مطابق عمل کرسکیں۔

    جب ان دومقدموں کو ایک دوسرے سے ملائیں تو نتیجہ نکلتا ہے کہ شارع کو چاہیئے کہ اپنی کتاب کو ہرقسم کی تحریف اورکمی بیشی سے محفوظ رکھے۔ لہذا عقل کی روسے شارع (اللہ)پرلازم ہے کہ قرآن کوتحریف جیسی ظلمت سے محفوظ رکھے۔

    یہ دلیل عقلی بھی شک سے خالی نہیں ہے کیونکہ عقل قضیہ شرطیہ کے طور پرحکم دیتی ہے کہ قرآن تمام عالم انسانیت کے لئے قیامت تک ان کی زندگی کے تمام مراحل میں رہنمائی اورہدایت کے لئے ہے تو تحریف سے محفوظ ہونا چاہیئے لیکن یہ مقدارمحل بحث کے لئے مفید نہیں ہے کیونکہ ہمارامحل بحث تحریف کا واقع ہونا یا نہ ہونا ہے اورعقل اس مسئلے میں مستقل طور پر دخالت نہیں کرسکتی۔

    سیرت اور بناء عقلاء :

    بعض علماء نے قرآن کریم میں تحریف نہ ہونے پر عقلاء اوران کی سیرت سے استدلال کیا ہے اور اس کی وضاحت یوں کرتے ہیں :

    ٫٫ہرکتاب میں لکھی ہوئی بات اورکلام میں تبدیلی اورتحریف عادت اورفطرت کے خلاف ہے، پس ایسی تبدیلی جبری اورمعمولی سے ہٹ کرہے۔ لہذاعقلاء کی سیرت یہ ہے کہ ایسی تحریف اورتغییر کی پرواہ نہیں کرتے ۔اس نظریئے کی بنا پر قرآن کا تحریف سے محفوظ رہنا ایک امرطبیعی ہے جبکہ تحریف کا احتمال خلاف طبیعت ہے۔ لہذا یہی اصل اورقانون اوّلیہ کا تقاضا ہے جو بدیہی ہے اورسب کے پاس مسلم ہے[35]۔

    لیکن یہ دلیل ان کتابوں کے بارے میں مفید ہے جن میں تحریف ہونے کے مختلف انگیزے اوراغراض نہ پائے جاتے ہوں قرآن جیسی کتاب میں کفاراورملحدین کی طرف سے تحریف کے مختلف انگیزے پائے جاتے ہیں اس میں تحریف نہ ہونا اس دلیل میں شامل نہیں ہیں۔

    بارہواں مطلب

    تحریف کے نہ ہونے پر واضح ترین آیت شریفہ

    محققین کے ایک گروہ نے دعوی کیا ہے کہ قرآن میں تحریف نہ ہونے پردلالت کرنے والی آیات میں سے واضح ترین آیت یہ ہے:

    ٫٫وَإِنَّهُ لَكِتابٌ عَزيزٌلا يَأْتيهِ الْباطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ لا مِنْ خَلْفِهِ تَنْزيلٌ مِنْ حَكيمٍ حَميدٍ،،[36]

    ٫٫اوریہ قرآن تو یقینیاًایک عالی مرتبہ کتاب ہے جس میں سامنے یا پیچھے کسی بھی طرف سے باطل نہیں آسکتا ہے کہ یہ خوبیوں والے حکیم کی طرف سے نازل کی ہوئی کتاب ہے،،۔

    بعض مفسرین نے دعواکیا ہے کہ اس آیت شریفہ کے عدم تحریف پرواضح ترین دلیل ہونے پرسارے مفسرین کا اجماع ہے[37]۔

    لہذا اس آیت شریفہ سے نفی تحریف پرکئی طریقوں سے استدلال کیا گیا ہے:

    پہلا طریقہ : یہ بات واضح ہے کہ اللہ نے اپنی کتاب کی صفت کو لفظ عزت سے متصف کیا ہے ،عزت کا تصورلغت کے حوالے سے وہاں صحیح ہے جہاں ہر قسم کی تبدیلی اورکمی بیشی سے تحفظ حاصل ہو[38].

    دوسرا طریقہ :اس آیت شریفہ میں ایک طرف سے طبیعت اورباطل کی نفی ہو رہی ہے اور قاعدے کے مطابق ایسے موارد میں عموم کا فائدہ دیتی ہے دوسرے الفاظ میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ آیت شریفہ قرآن سے ہرقسم کے باطل کو نفی کرتی ہے اور ہروہ چیزجوخراب یا فاسد ہویا کچھ حصہ اس سے ضائع ہوا ہو اس کو عربی زبان میں باطل کہا جاتاہے ، پس مسلم اوربدیہی ہے کہ کلمہ تحریف ،باطل کے مصادیق میں سے واضح ترین مصداق ہے ۔

    تیسرا طریقہ : اس آیت میں اللہ نے '' یاتیہ الباطل'' یعنی ہر قسم کے باطل کی گنجائش قرآن میں ہیں ہے ، کی علت کو اس طرح ذکر کیا ہے کہ کیونکہ یہ کتاب ایسی ہستی کی طرف سے نازل ہوئی ہے جوحکیم اورحمید ہے اوریہ جملہ واضح کرتا ہے کہ ایسی کتاب جوکسی حکیم وحمید کی طرف سے آئی ہے اس میں کسی قسم کی تحریف اورتبدیلی کا آنا حکمت کی صفت کے ساتھ نامناسب ہے ،مرحوم حاجی نوری[39] نے فرمایا :

    ''اگرچہ قرآن میں کسی قسم کی تبدیلی یا تغیر کا قائل ہونا باطل کے مصادیق میں سے ایک مصداق ہے لیکن یہاں آیت شریفہ میں ہرباطل مراد نہیں ہے بلکہ ایک خاص باطل مرادہے جوقرآن میں ظاہری طور پرکچھ احکام اوراخبار میں تناقض کی وجہ سے حاصل ہوجائے اللہ اس کی نفی کرنا چاہتا ہے ''۔

    بعض محققین نے جناب محدث نوری کو یوں جواب دیا ہے :

    ''آیت شریفہ میں صرف احکام اوراخبار میں تناقض کی نفی مراد لینا لفظ عزت کے ساتھ مناسب نہیں ہے[40] دوسرے لفظوں میں یوں کہا جائے کہ اس صفت کے ذکر کرنے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ کتاب ہر قسم کے باطل سے دور اور محفوظ ہے ۔

    اس جواب کی وضاحت اورتکمیل کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ اس آیت شریفہ کا ظاہری معنی جو ہرخاص وعام کے ذہن میں آجاتا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ نے اس کتاب کو کسی قید اورمحدودیت کے بغیربطورمطلق'' کتاب عزیز'' فرمایا ہے ،جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آیت شریفہ میں کلمہ باطل سے صرف تناقض احکام اوراخبار کا ارادہ کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ اگر کتاب الہی صرف تناقض احکام کے حوالہ سے عزیزاور باطل سے مصون ہو تو لفظ''عزیز'' کو کسی محدودیت کے بغیر کتاب کی صفت قرار دینا خلاف ظاہر ہے ۔

    اشکالات

    لیکن آیت شریفہ پر کیے گئے اعتراضات میں سے اہم ترین اعتراض یہ ہے کہ آیت کے ذکر شدہ معنی اس تفسیر کے مخالف ہیں جو شیعہ اورسنی کے مفسرین میں سے عظیم ترین مفسرین نے کی ہیں ، یعنی اس آیت کی کسی بھی مفسرنے اس طرح تفسیر نہیں کی ہے کہ جس سے نفی تحریف کا احتمال دے سکیں ،مثال کے طورپر مرحوم شیخ طوسی نے تفسیرتبیان میں آیت شریفہ کی تفسیرمیں پانچ احتمال دیے ہیں :

    الف :لا یأتیہ الباطل سے مراد قرآن میں کسی قسم کے شبہہ اورتناقض کی گنجائش نہیں ہے بلکہ قرآن خالص حق ہے۔

    ب: قتادہ اورسّدی نے فرمایاہے: اس آیت شریفہ میں اللہ تبارک وتعالی کا مقصد یہ ہے کہ شیطان قرآن سے حق بات کو مٹانے اورکسی باطل کے اضافہ کرنے پرقادرنہیں ہے۔

    ج: قرآن سے پہلے اوراس کے بعد اسے باطل کرنے والی کسی چیز کا نہ ہونا مراد ہے۔

    د:حسن نے فرمایا: اس آیت سے قرآن کی ابتداء اورآخر میں کسی باطل کی گنجائش نہ ہونا مراد ہے۔

    ہ:قرآن نے گذشتہ اور آیندہ کے حوالے سے جو خبریں دی ہیں اس میں باطل کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

    جناب سیدمرتضی فرماتے ہیں: اس آیت کے بارے میں بہترین تفسیر جو کی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ کوئی کلام یا کوئی کتاب قرآن کی مانند اورمشابہ نہیں ہوسکتی ہے، قرآن وہ واحد کتاب ہے جواپنے بعد کی کتب سے مشابہت نہیں رکھتی اسی طرح اپنے سے پہلے والی کتب سے متصل بھی نہیں یعنی قرآن کریم ہرحوالے سے بے مثال اورمستقل کلام ہے، کسی بھی کلام کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو فصاحت وبلاغت کے اعتبار سے بہتر اوربرتر ہے ۔ اس شبہے کا جواب یوں دیا جاسکتا ہے۔

    پہلا جواب: مذکورہ تفاسیر اورمعانی میں سے کچھ جیسے جناب قتادہ اورسدّی سے نقل کیا گیا ہے،آیت کے ذریعہ قرآن سے تحریف کی نفی کرنے میں مناسب ہے۔

    دوسرا جواب : اگر کسی بھی مفسرنے آیت میں کوئی ایسے معنی کی طرف اشارہ نہ بھی کیا ہوجونفی تحریف کے اثبات کے لئے مناسب ہو،پھربھی آیت کے ذریعہ نفی تحریف پراستدلال کرنا صحیح ہے کیونکہ کسی آیت اورکلام کی تفسیر کرنے کے اصول وضوابط میں سے ایک یہ ہے کہ کلام اورآیت کے ظاہری معنی کو مدنظر رکھیں اورآیت کا ظاہری معنی کسی شک کے بغیرہمارے مطلب پر دلالت کرتا ہے اگرہم غورکریں تو معلوم ہوجاتا ہے کہ مفسرین نے مذکورہ معانی پر کوئی معتبر دلیل ذکر نہیں کی تھی لہذا ان کا ہرنظریہ اورتفسیر قابل قبول نہیں ہے لیکن اس وقت جب ان کی تفسیر پرمعصوم سے منقول کوئی روایت ہو۔

    تیسرا جواب : وہ روایات جو لفظ باطل کی وضاحت اورتفسیر میں آئی ہیں وہ آیت شریفہ کواسی میں منحصر کرنے کے درپے نہیں بلکہ آیت کریمہ کے مصادیق کو بیان کرتی ہیں۔

    تیرھواں مطلب

    کیا تحریف کے قائل ہونے سے ظواہرکتاب

    کا حجیت سے ساقط ہونا لازم آتا ہے؟

    کیا تحریف کے قائل ہونے کے بعد ہم کتاب کے ظواہرسے استدلال نہیں کرسکتے ہیں؟ یہ سوال اس وقت صحیح ہے اگر تحریف کا دعوی کرنے والاعلم اجمالی کی روسے تحریف کا قائل ہو ۔

    بعضوں نے کہا ہے کہ٫٫ایسے مفروضے کی صورت میں جس کسی آیت کی تحریف کا احتمال ہواسے اہم عقلائی اصل سے وابستگی اختیار کرنی چاہیے جو٫٫عدم قرینہ،، ہے اورظاہراً آیت سے استدلال کیا جائے دوسرے الفاظ میں تحریف شدہ کتاب کی حجیت کے لئے ہمیں معصومین علیہم السلام کی تایید کی ضرورت نہیں بلکہ ہم اس عقلائی اصل کی روشنی میں ان کے ظواہر سے استدلال کرسکتے ہیں ،،۔

    یہ بیان اورجواب اس صورت میں صحیح ہے اگرعقلاء کسی کلام میں قرینہ متصلہ یعنی متکلم کے کلام کے ساتھ کوئی قرینہ ہونے کا احتمال دیں پھر اصل عدم قرینہ سے تمسک اوراستدلال کرنے کو صحیح سمجھیں جبکہ عقلائی تحقیق کے مطابق جہاں کہیں کسی کلام میںمخاطب اورسامع کوئی قرینہ منفصلہ ٫٫یعنی متکلم کے کلام سے الگ کوئی قرینہ ،،ہونے کا احتمال دے وہاں قرینہ کی نفی کے لئے عقلاء عدم قرینہ سے تمسک کرنا صحیح سمجھتے ہیں لیکن اگرکسی کلام میں قرینہ متصلہ ہونے کا احتمال ہووہاں اصل عدم قرینہ سے استدلال کرکے اس احتمال کی نفی کرنا صحیح نہیں ہے اورمسئلہ تحریف پرعلم اجمالی کے بعد احتمال کیا ہے کہ شاید کوئی قرینہ ہے جو تحریف کے نتیجہ میںحذف کیا گیا ہے۔

    لہذاتحریف کے بارے میں علم اجمالی کے مفروضے کی صورت میں ظواہر کتاب سے تمسک کے لئے حضرات معصومین علیہم السلام کی تایید کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں آتا اوریہ مطلب حدیث ثقلین کے ظاہر کے خلاف ہے۔

    چودھواں مطلب

    تحریف نہ ہونے پر حدیث ثقلین کی دلالت

    تحریف کی نفی پردلالت کرنے والی روایات میں سے اہم ترین روایت حدیث ثقلین ہے جو متواتر ہے، یعنی اصحاب رسولۖ سے نقل کیا ہے ۔ جیسے حضرات علی ابن ابی طالب علیہ السلام ،ابوذر،عبداللہ بن عباس،جناب عبداللہ بن عمر،جناب حذیفہ ، جناب ابو ایوب انصاری[41] اوراہل سنت کے علماء میں سے دوسوعظیم علماء نے اپنی کتابوں میں تحریر کیا ہے۔ اس حدیث کا متن اس کی اسناد میں سے ایک متن کے مطابق یوں ہے:

    پیغمبر اکرم ۖ نے فر ما یا :

    ٫٫انّی تارک فیکم الثقلین کتاب اللہ وعترتی وفیہ الھدی والنورفتمسکوا بکتاب اللہ و خذوا بہ واھل بیتی ، اذکرکم اللہ فی اھل بیتی (ثلاث مرّات)[42] .

    بتحقیق میں تمہارے در میان دو گراں بہا چیزیں چھوڑے جارہا ہوں، ایک اللہ کی کتاب اوردوسری میری عترت (اہلبیت) ہے،اسی میں ہدایت اورنورہے۔ پس تم اللہ کی کتاب اورمیرے اہلبیت سے تمسک رکھو ، میرے اہلبیت کے بارے میں اللہ کی یاد دلاتا ہوں،، (یہ جملہ تین دفعہ فرمایا).

    اس حدیث سے قرآن کریم میں تحریف نہ ہونے پردوطریقوں سے استدلال کیا جاسکتا ہے۔

    پہلا طریقہ

    پہلا طریقہ چھ نکات پرمشتمل ہے:

    الف: یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ ہم قیامت تک کتاب سے تمسک رکھ سکتے ہیں۔

    ب: اس کتاب میں تحریف ہونے کا لازمہ یہ نہیں ہے کہ ہم اس سے تمسک نہیں رکھ سکتے ۔

    ج: قرآن سے تمسک رکھنے کا مطلب اس کے تمام پہلوئوں سے تمسک رکھنا ہے جن کا ذکر قرآن نے کیا ہے اورتمسک کے خصوصی معنی جیسے کہ ٫٫آیات احکام ،، نہیں ہیں ۔ دوسرے الفاظ میں قرآن صرف واجبات ومحرمات بیان کرنے کے لئے نہیں آیا ہے بلکہ قرآن اس لئے آیا ہے کہ انسان کو ظلمت کی تاریکی سے نکال کر ہدایت اورنور کی طرف لے جائے۔

    د: تحریف کا مقصد یعنی حقائق کو چھپانا اورکتاب کے بعض انوارپرپردہ ڈالنا ہو توایسی تحریف پرمشتمل کتاب انسان کے تمام پہلوؤں سے نوراورہادی نہیں بن سکتی۔ جبکہ قرآن کریم کا ہدف یہ ہے کہ لوگوں کو ہرظلمت اورتاریکی سے نکال کرہدایت اورنورکی طرف لے جائے تا کہ انسان مادی ومعنوی امورمیں انسان کامل کے مرحلہ پرفائزہوجائے۔ یہ مقصد اورہدف ایسی ہی کتاب کے ساتھ تمسک سے حاصل ہوتا ہے۔

    ہ: قرآن کریم سے استدلال اورتمسک رکھنا برخلاف تمسک عترت اسی صورت میں ممکن ہے کہ ہم قرآن تک پہنچیں وہ بھی وہی قرآن جو لوگوں کے پاس موجودہے نہ وہ قرآن جواہل بیت عصمت وطہارت علیہم السلام کے پاس محفوظ ہے،دوسرے انسانوں کی رسائی سے دور ہے۔

    حدیث شریف سے ظاہر ہوتا ہے کہ کتاب سے تمسک رکھنا صرف یہ نہیں کہ تمسک ممکن ہے بلکہ واجب ہے اورانشاء کے مقام پرجملہ خبریہ حکم تکلیفی کا حامل ہے علم اصول کے مباحث میں یہ واضح ہے کہ تکلیف شرعی میں لازم ہے کہ مکلفین کی قدرت میں ہو۔ اس لئے اگر قرآن تحریف کا شکار ہو چکا ہے تو اس سے تمسک نہیں رکھ سکتے۔

    دوسرا طریقہ

    اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دو گراں بہاچیزوں میں سے ہرایک دوسری دلیل کے ساتھ مستقل دلیل اورحجت ہے یعنی کتاب الہی عترت اوراہلبیت سے قطع نظر مستقل طور پر واجب العمل اورحجت ہے،نیزعترت بھی کتاب سے قطع نظر مستقل دلیل اورحجت ہے۔البتہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہرایک اکیلا مطلوب کے حصول اور گمراہی وظلمت سے نجات کے لئے کافی ہو، یعنی قرآن اہلبیت کے بغیر یا اہل بیت قرآن کے بغیر ہماری نجات کا ذریعہ بنیں ، بلکہ گمراہی اورظلمت سے نکال کر ہدایت اورنورکی طرف لے جانے میں دونوں کی ضرورت ہے۔ لہذا اگر قرآن کی تحریف ہوئی ہو تواس کے ظواہرواجب العمل اورحجت ہونے سے ساقط ہوجاتے، اورجولوگ تحریف کے معتقد ہیں ان کے لئے کتاب کی طرف رجوع کرنے میں تصدیق معصومین اورتائید کی ضرورت ہے۔جو حدیث ثقلین کے ظاہری معنی کے مخالف ہے۔کیونکہ حدیث ثقلین کے ظاہری معنی یہ ہیں کہ کتاب وعترت میں سے ہر ایک مستقل یعنی ایک دوسرے سے ضمیمہ کیے بغیرواجب العمل اورحجت ہیں۔لہذا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جوچیزثقل اکبرہواس کی حجیت اس چیزپرموقوف ہوجوثقل اصغر ہے۔ پس ان دو طریقوں سے درج ذیل نتائج روشن ہو جاتے ہیں:

    ١۔قرآن سے تمسک اوراستدلال کرنا نہ صرف ممکن ہے بلکہ اس سے تمسک کرنا ضروری ہے۔

    ٢۔ قرآن کو ایک مستقل دلیل اورحجت کی حیثیت سے بیان کیا گیا ہے لہذا بدیہی ہے اگر کوئی تحریف کا قائل ہوتواس کا یہ نظریہ مذکورہ مطلب سے میل نہیں کھاتا۔

    پندرھواں مطلب

    تلاوت کا مٹ جانااورباطل قرارپان

    سنی علماء کی عبارات میں "نسخ تلاوت" او"انساء" کی دواصطلاحیں نظر آتی ہیں اورجوازنسخ تلاوت کو بطوراجمال ذکر کرکے اس پرانہوں[43] نے عقلی اورنقلی دلیل ہونے کا دعوی کیا ہے۔اس کی طرف اشارہ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم غور کریں کہ کیا یہ دواصطلاحات اورلفظ تحریف دوالگ الگ چیزیں ہیں یاان دو اصطلاحوںکے قائل ہونے کا لازمہ تحریف ہے؟ احادیث اورروایات کی کتابوں میں کچھ ایسی احادیث پائی جاتی ہیں جس کی توجیہ کے نتیجہ میں اہل تسنن کے بزرگ علماء نے ان میں نسخ تلاوت کوقراردیا ہے، انہیں روایات میں سے ایک وہ ہے جو مسئلہ رجم سے مربوط ہے۔ چنانچہ ابن عباس نے عمرسے روایت کی ہے کہ عمر نے کہا : پیغمبراکرمۖ پرنازل شدہ آیات میں سے ایک آیت رجم ہے ٫٫الشیخ و الشیخہ اذا زنیا فارجموھما،،اگرکوئی عمررسیدہ مرداورعورت آپس میں زنا کریں توان کو سنگسارکریں اورپیغمبر اکرمۖ نے اپنے دورمیں اس پرعمل کیا ہے، ان کے بعد ہم بھی اس پر عمل کرتے رہیں ہیں[44]۔

    زیدثابت فرماتے ہیں :میں نے پیغمبر اکرمۖ سے سنا که٫٫اگر کوئی شادی شدہ مرد یا عورت زنا کرے تو ان کوسنگسار کرنا چاہیئے ۔ اس بحث میں غور کی بات یہ ہے کہ زید بن ثابت نے نہیں کہا پیغمبر کایہ کلام وحی اورآیات قرآنی میں سے ایک ہے لیکن عمر نے خیال کیا کہ یہ وحی منزل اورآیات قرآنی میں سے ایک ہے۔ جبکہ عمرنے پیغمبر اکرمۖ سے پوچھا کیا اس کو کتاب میں لکھوں ،تو پیغمبر اکرمۖ نے کوئی جواب نہیں دیا[45]۔

    اہل تسنن بھی ان کی اتباع کرتے ہوئے خیال کرنے لگے کہ پیغمبر اکرمۖ کایہ کلام اورحکم قرآن کی ایک آیت تھی لیکن اس کی تلاوت اورقرائت نسخ اورختم ہوچکی ہے، اگر چہ اس کا حکم اب بھی باقی ہے۔

    اس نظریہ پر کئی اہم اعتراضات ہوئے ہیں جو یوں ہیں:

    ١۔ پہلا اعتراض یہ ہے کہ نسخ جس طرح کا ہو وہ ناسخ کے بغیر نہیں ہوسکتا، لیکن یہاں کوئی ناسخ نظر نہیں آتا۔

    ٢۔ دوسرا اعتراض یہ ہے کہ بحث نسخ میں یہ ثابت ہے کہ نسخ صرف احکام شرعی کے حدود میں واقع ہواہے لیکن تلاوت کا عنوان شرعی احکام سے مربوط نہیں اگر چہ اس اعتراض کا جواب اہل سنت کے علماء میں سے بعض نے اس طرح دیا ہے[46]کہ تلاوت قرآن سے اس کا وجود خارجی مراد نہیں ہے بلکہ تلاوت قرآن کا جواز مراد ہے جو احکام شرعیہ سے ایک ہے۔

    ٣۔ تیسرا اعتراض یہ کہ اس جیسے نسخ کا کیا فائدہ ؟یعنی یوں کہا جائے کہ آیت کی تلاوت نسخ ہوچکی ہے لیکن اس کا اصل حکم باقی رہے جو اس آیت کا مدلول ہے.

    ٤۔ چوتھا اعتراض ، اہم ترین ہے جسے مرحوم محقق خوئی نے کہا ہے۔ انہوں نے فرمایا: اگر نسخ تلاوت کی یہ صورت حضور اکرمۖ کے زمانے میں آپ کے حکم سے واقع ہوئی ہے چاہے اس کا لازمہ تحریف نہ بھی ہو،لیکن ایسی روایتیں جواس مطلب پر دلالت کرتی ہیں یا اس نظریے پر محمول ہوخبر واحد کی حیثیت سے ہیں اس لئے اعتماد کے لئے کافی نہیں اس پر اضافہ یہ کہنا کہ اس قسم کا نسخ پیغمبر اکرمۖ کے زمانے کے بعد واقع ہوا ہے اور اگر اس قسم کا نسخ حضور اکرمۖ کے زمانے کے بعد علماء اورحکمرانوں کے ذریعہ واقع ہوا ہے تویہ قول عین تحریف کو قبول کرنا ہے[47]۔ لیکن جو کچھ مسئلہ رجم کے متعلق بیان ہوا ہے اس کا بطلان بہت واضح ہے کیونکہ پیغمبر اکرمۖ نے قرآن کی آیات کوتحریرکرنے میں بڑی باریکی کے ساتھ نگرانی فرمائی تھی اور بڑے اہتمام کے ساتھ کاتبوں کو اس امرپرمامورفرمایا تھا اس صورت میں کہ آیت رجم اگر آیات قرآن میں سے ہوتی تو آپ نے اسے قرآن میں لکھنے کا حکم کیوں نہیں دیا اورعمر کے سوال کا جواب کیوں نہیں دیا۔

    لہذا نسخ تلاوت ایک ایسا مطلب ہے جس کا باطل ہونا بدیہی طورپرواضح ہے یہاں تک بعض اہل سنت[48] کے معاصرین نے کہا ہے کہ عقلاً تو ایسا ہونا جائز ہے مگر اللہ کی کتاب میں ایسا کوئی نسخ واقع نہیں ہوا ہے۔ ابن حزم اندلسی نے پہلے نسخ تلاوت کو قبول کرنے کے بعد اپنے کلام کے آخر میں ایسی توجیہ کی جیسے نسخ تلاوت وحی الہی سے مربوط ہی نہیں ہے۔

    سولہواں مطلب

    شیعہ امامیہ تحریف قرآن کے قائل نہیں ہوسکتے

    شیعہ امامیہ نہ صرف تحریف قرآن کے معتقد نہیں ہیں بلکہ اصولاً ایسے عقیدے اورنظریے کے قائل ہو ہی نہیں سکتے۔ کیونکہ شیعہ امامیہ کے اصول اور اعتقادی مسائل کو تشکیل دینے والی اہم ترین دلیلوں میں سے ایک آیت تطہیر ہے:

    ٫٫انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرّجس اھل البیت ویطھر کم تطھیرا[49]،،

    ٫٫بس اللہ کا ارادہ یہ ہے اے اہل بیت کہ تم سے ہربرائی کو دور کھے ، اوراس طرح پاک وپاکیزہ رکھنے کا حق ہے،،۔

    اعتقادی مسائل سے مربوط کتابوں میں ثابت کیا گیا ہے کہ یہ آیت شریفہ اہل البیت علیہم السلام کی عصمت پر واضح ترین دلیل ہے اوروہ بھی ایسی عصمت جو مسلمانوں کے پیشوااورخلیفہ وقت کے منصب پر فائزہونے کے لئے ضروری ہے، یعنی اس عصمت کو بیان کرنے والی آیات میں سے واضح اورروشن آیت ، آیت تطہیر ہے۔ لہذا جو لوگ قرآن میں تحریف کے قائل ہیں وہ اس آیت سے عصمت پراستدلال نہیں کرسکتے ، یعنی جب ہم قرآن کو ایک منظّم کتاب سمجھیں کہ جس کا آغاز سورہ مبارکہ حمد اوراختتام سورہ النّاس ہے، جس کی تدوین اورجمع آوری خود پیغمبر اکرمۖ کے زمانہ میں مکمل ہوئی تھی آنحضرت کے بعد کسی کی کمی بیشی نہیں ہوئی اور اس کی ہر آیت کو اپنی مخصوص مناسبت کے ساتھ اس طرح رکھا گیا ہے اگر کوئی ایک آیت کو اس کی مخصوص جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرے تو اس کا الہی مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ کیونکہ اس آیت کو اس مخصوص جگہ میں ترتیب دینے کا ہدف اورمقصد یہ ہے کہ اللہ پیغمبر اکرم ۖ کی ازواج کی ذمے داریوں کو بیان کرتے وقت اہلبیت عصمت کی چند خاص ذمے داریوں کو بیان کرے اگر اس جیسی آیات میں تحریف کا احتمال دیا جائے تو شیعہ امامیہ کے اعتقادات کے لئے کوئی پناہ باقی نہیں رہے گی[50]۔

    ستراھواں مطلب

    تحریف کی روایات کا اجمالی جائزہ

    تحریف کے قائلین کے پاس اہم ترین دلیل وہ روایات ہیں جوسنی اورشیعہ کتابوںمیں ذکر ہوئی ہیں، ان روایات کی تعداد بعض محققین نے ایک ہزار ایک سو بائیس (١١٢٢)بتائی ہے، بعض بزرگ علماء نے ان روایات کے تواتراجمالی کو قبول کر لیا ہے اگر چہ مذکورہ روایات میں سے اکثر کی سند ضعیف ہے لیکن اس کثرت سے وارد ہوئی ہیں کہ جن میںسے بعض کا معصوم علیہ السلام سے صادر ہونے پر ہمیں یقین حاصل ہوجاتا ہے ۔ لہذا ان تمام کے جھوٹ ہونے کا احتمال نہیں ہے اس لئے جو لوگ تحریف کے قائل ہیں وہ ان روایات سے تحریف قرآن پر استدلال کرتے ہیں ۔

    لیکن ہمارے علماء میں سے بعض نے ان روایات پردواعتراضات کرکے جواب دیا ہے۔

    پہلا طریقہ: جن کتابوں میں ان روایات کو جمع کیا ہے وہ معتبر نہیں ہیں۔

    دوسراطریقہ :ان روایات کے مضمون قابل اعتراض ہیں ان دونوں جہتوں کی وضاحت اورتفصیل کی ضرورت ہے۔

    پہلی جہت کی وضاحت

    ان روایات میں سے اکثر روایات کے سلسلہ سند میں٫٫احمد بن محمد سیّاری ،،ہے جن کے بارے میں علم رجال کے ماہرین کی تعبیر میں ٫٫فاسد المذھب،،اور٫٫ضعیف الحدیث،، اورنجاشی[51] نے اس کوغالی ہونے سے متہم کیا ہے ۔جبکہ ابن غضائری نے اس کو گمراہ اورہلاک کرنے والا قرار دیا ہے[52]۔ اس سلسلہ سند میں کہا گیا ہے کہ وہ ضعیف ہے اور ان کی کتابیں غلطیوں سے بھری ہوئی ہیں اورابن غضائری نے اس کو کذاب ،غالی اورجعلی حدیثیں گھڑنے والا قرار دیا ہے[53] اسی طرح سلسلہ سند میں تیسرا شخص ٫٫علی ابن احمد کوفی،،ہے ،اس کوعلم رجال کے محققین اورمولفین نے ضعیف اورفاسد الرّوایة یہاں تک کہ غالی اورگمراہ ہونے سے تعبیر کیا ہے[54]۔

    لہذا ان وجوہات کی بنا پر جولوگ ان روایات کے قائل ہیں وہ قابل اعتماد افراد نہیں ہیں۔ پس ان روایات پراعتماد نہیں کیا جاسکتا ہے۔ نیز جن کتابوں میں ان روایات کو جمع کیا گیا ہے وہ معتبر کتابیں نہیں ہیں۔

    الف : مثال کے طورپربعض روایات سعد بن عبداللہ اشعری سے منسوب کتاب سے لی گئی ہیں ،اوراس کتاب کی جناب نعمانی اورسید مرتضی کی طرف نسبت دی گئی ہے لہذا اس کتاب کا مولف ومصنف معلوم نہیں، نیزعلم رجال میں سے کسی نے اس کو معتبر شمار نہیں کیا ہے۔

    ب: اسی طرح بعض روایات کو سلیم بن قیس ہلالی کی کتاب سے نقل کیا گیا ہے جن کے بارے میں مرحوم شیخ مفید نے فرمایا:٫٫ ان کی کتاب میں سے کوئی بات ایسی نہیں ہے کہ جسے موثق قراردیاجاسکے اوراس پرعمل کرنا بہت سارے موارد میں جائزنہیں ہے اوراس کتاب کے اندرغلطیوں اورفریب کے مواد بھرے ہوئے ہیں پس جو لوگ پرہیزگار ومتدین ہیں وہ اس پرعمل کرنے سے اجتناب کریں،،[55].

    ج: تیسری کتاب ، کتاب التنزیل والتحریف یا کتاب قرائت ہے کہ جس کا مولف احمد بن محمد سیّاری ہے اورپہلے بیان ہوا کہ علم رجال کے ماہرین نے اس شخص کو ضعیف قرار دیا ہے۔

    د: ان روایات میں سے بعض کو تفسیر ابی الجارود سے نقل کیاگیا ہے اور یہ ایسا شخص ہے جو امام جعفر صادق علیہ السلام کی طرف سے لعنت کا مستحق ہوا ہے، اس کے علاوہ اس تفسیر کے سلسلہ سند میں ٫٫ کثیر بن عیاش،، ہے جو خود ضعیف ہے۔

    ہ: ان کتابوں میں سے ایک علی ابن ابراہیم قمی کی تفسیر ہے ۔کہ ایک ایسی کتاب ہے جسے انہوں نے اپنے شاگرد ابوالفضل العباس بن محمد علوی کو املاء لکھوایا تھا اور اسی طرح تفسیر ابی الجارود کے ساتھ مخلوط ہے۔

    و: ان روایات کے مدارک میں سے ایک مدرک کتاب استغاثہ ہے جو٫٫علی ابن احمد الکوفی،، کی ہے ،ابن غضائری نے ٫٫علی ابن احمدالکوفی،، کو کذاب ، جھوٹا اورغالی ہونے سے متہم کیا ہے ۔

    ز: ان روایات میں سے بعض کو ٫٫احتجاج طبرسی،، سے نقل کیا گیا ہے اس کتاب میں موجوداکثرروایتیں مرسلہ ہیں اورایک کتاب روائی کے عنوان سے ہے۔ اس سے استدلال نہیں کیا جاسکتا ۔

    ح: ان روایات میں سے اکثر کافی میں موجود ہیں، لیکن صرف کسی کتاب میں کسی روایت کے ہونے کا معنی یہ نہیں ہے کہ اس کی صحت اورجوازعمل ثابت ہوجائے لہذا بعض علماء نے فرمایا:١٦١٩٩،احادیث اصول کافی میں موجود ہیں لیکن ان میں سے صرف ١٥١٧٢احادیث صحیح السند ،١٤٤احادیث کو حسنہ ،٢١٢٨،احادیث معتبر اور٣٠٢،احادیث کو قوی قراردیا ہے جبکہ٧٤٨٠، احادیث کو ضعیف قرار دیا ہے روایات کا صرف اصول کافی میں ہونا دلیل نہیں ہے کہ ان تمام پرعمل بھی جائز ہو[56]۔

    دوسری جہت کی وضاحت

    یہ روایات دلالت کے اعتبار سے ایک نہیں ہیں، بلکہ کئی دستوں پرتقسیم ہوتی ہیں ۔

    پہلادستہ:بعض روایات،تحریف معنوی سے مربوط ہیں جوکہ محل نزاع سے خارج ہیں۔

    دوسرا دستہ: بعض روایات اس طرح کی ہیں کہ وہ قرآن کی قرائت مختلف ہونے پر دلالت کرتی ہیں، جو ہماری بحث سے خارج ہیں۔

    تیسرا دستہ: بعض روایات کسی آیت کریمہ کی تفسیر میں وارد ہوئی ہیں جس سے بعض محققین نے یہ خیال کیاہے کہ جوروایت تفسیرکے عنوان سے واقع هوا هے در حقیقت وه قرآن کی آیت هی تھی، جیسے وہ روایت جومرحوم کلینی نے اپنی سند کے ساتھ موسی بن جعفر علیہما السلام سے نقل کیا هے:٫٫اولئک الذین یعلم اللہ ما فی قلوبھم فاعرض عنھم وعظھم ومثل لھم فی انفسھم قولا بلیغا،،۔

    انّہ علیہ السلام تلاھذہ الایةالی قولہ: ٫٫فاعرض عنھم ،، و أضاف : ٫٫فقد سبقت علیھم کلمة الشفاء و سبق لھم العذاب،، ۔ وتلا بقیة الایة[57] یعنی امام علیہ السلام نے آیت ٫٫فاعرض عنھم،،تک کی تلاوت فرمائی، پھر آپ نے اضافہ کیا ، شفااورعذاب کی بات کو پہلے ذکر کیا گیا تھا،پھرآیت کے دوسرے جملے کی تلاوت فرمائی ۔جس سے بعض محققین جیسے محدث نوری وغیرہ نے فرمایا کہ اس حدیث کی ظاہری ہم آہنگی اورسیاق یہ بتاتا ہے کہ یہ آیت کی تفسیر نہیں ہے بلکہ موجودہ آیت پرایک اضافہ جملہ ہے جو آیت کا حصہ تھا[58] کی تفسیر ہے۔

    لیکن مرحوم مجلسی اوردیگرمفسرین نے صاف صاف بتایا ہے کہ یہ آیت کی تفسیر ہے ۔

    چوتھا دستہ :کچه روایات اس طرح کی ہیں کہ وہ دلالت کرتی ہیں کہ کچھ آیات میں حضرت علی علیہ السلام اوردیگر ائمہ معصومین علیہم السلام کے اسماء مبارک تھے لیکن اس کا جواب یہ ہے کہ ایسی روایات کی توضیح اورتاویل کرتی ہیں نہ یہ کہ حضرت علی اور دیگر ائمہ کے اسماء مبارکہ آیت کا جزء اورحصہ ہونے پر دلالت کریں۔

    پانچواں دستہ: یہ وہ روایات ہیں جو قرآن کریم میں قریش کے لوگوں میں سے چند کے نام موجود ہونے پردلالت کرتی ہیں۔ تحریف کرنے والوں نے اس کو ہٹایا اور صرف ابولہب کا نام باقی رکھا ہے۔

    لیکن ان روایات پردواعتراض ہیں۔

    پہلا اعتراض: یہ ہے کہ ایسا مطلب بیان کرنے والی روایات خود آپس میں تناقض اور تضاد رکھتی ہیں کیونکہ چند روایات میں سات لوگوں کے نام حذف ہونے کا ذکر ہے اورچند میں ستر لوگوں کے نام مٹانے کا ذکر ہے۔

    دوسرا اعتراض: یہ ہے کہ اگرغورسے دیکھیں تومعلوم ہوتا ہے کہ ایسی روایات کے مضامین ہی ان کے جھوٹ ہونے پربہترین دلیل ہیں،کیا وجہ ہوسکتی ہے کہ قریش کے دوسرے ناموں کو حذف کرکے صرف ابی لہب کے نام کو باقی رکھیں؟

    چھٹا دستہ: کچه روایات اس طرح کی ہیں کہ جودلالت کرتی ہیں کہ پیغمبر اکرمۖ کی رحلت کے بعد الفاظ میں تبدیلی لائی گئی ہے یا کچھ الفاظ جابجا کیا گیا ہے، یعنی ایسی احادیث قرآن میں تحریف ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔

    اس کا جواب یہ ہے کہ احادیث اجماع کے خلاف ہیں کیونکہ سارے مسلمانوں کا اجماع ہے کہ قرآن میں ایک لفظ بھی زیادہ یا کم نہیں ہوا ہے۔

    ساتواں دستہ: جواحادیث حضرت حجت امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی شان میں وارد ہوئی ہیں وہ روایات حضرت حجت کے ظہورکے بعد وہ قرآن جو حضرت علی علیہ السلام سے منسوب ہے آپ کے پاس محفوظ ہے، لوگوں کو اس پر عمل کرنے پر مجبور کریں گے پردلالت کرتی ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اگرچہ ایسی روایات حضرت علی علیہ السلام کے مصحف اورموجوہ مصحف میں فرق ہونے پر دلالت کرتی ہیں لیکن حقیقت میں متن قرآن میں اختلاف ہونے کو بیان نہیں کرتیں بلکہ وه نظم وضبط اوربعض آیات کی تفسیروتوضیح میں اختلاف ہونے پر لالت کرتی ہیں۔

    آٹھواں دستہ: بعض احادیث قرآن میں کمی ہونے پر دلالت کرتی ہیں، ایسی روایات اوراحادیث کی خود تین قسمیں ہیں:

    1۔ بعض روایات اوراحادیث دلالت کرتی ہیں کہ قرآنی آیات کی تعداد موجودہ تعداد سے کئی گنا زیادہ تھی ۔

    ٢۔ کچھ روایات بیان کرتی ہیں کہ بعض سوروں کی آیات کی تعداد واقعی تعداد سے کم ہے۔

    3۔ بعض احادیث بیان کرتی ہیں کہ کوئی ایک لفظ کسی آیت سے یا کوئی ایک آیت قرآن سے کم ہوئی ہے۔

    اس کے کئی جوابات ہیں:

    جواب اول: یہ روایات قرآن کریم کے مخالف ہیں لہذا ان سے دستبردار ہونا چاہئے ۔

    دوسرا جواب :ان روایات کے درمیان خود آپس میں متعارض روایات بہت زیادہ ہیں جوخود ان کے مضمون کو رد کرتا ہے ۔

    تیسرا جواب : اگر بالفرض ان روایات کے درمیان کوئی صحیح السند روایت موجود بھی ہوتووہ خبرواحد ہے ،اور قانون کے مطابق ایسے موارد میں خبر واحد پرعمل نہیں کرسکتا ۔

    چوتہاجواب: ان احادیث میں سے کچھ احادیث ائمہ معصومین علیہم السلام کے اسماء مبارکہ کے حذف اورمٹادینے پردلالت کرتی ہیں اورچنانچہ پہلے بھی بیان ہواوہ آیت کے جزء ہونے کو بیان نہیں کرتی ہیں انہیں تاویل وتفسیرپرمحمول کرنا چاہیئے یا مصداق آیہ پر محمول کیا جائے۔

    والحمد لله رب العالمین

    [32] - اس دلیل کی وضاحت کے لئے مراجعہ کریں ،مدخل التفسیر ،ص٢٩٢
    [33] - گفتار آسان در نفی تحریف
    [34] - البیان صفحہ ٢١٥
    [35] - گفتار آسان در نفی تحریف قرآن ص١٢
    [36] - فصلت / ٤١،٤٢
    [37] - صیانة القرآن عن التحریف ص٣٣
    [38] - البیان :ص٢١١
    [39] - فصل الخطاب :ص٣٦١
    [40] - البیان:ص١،٢
    [41] - آلا ء الرحمن ص ٤٤
    [42] - سنن دارمی ج٢ ص ٤٣١
    [43] - الاحکام فی اصول الاحکام جزء سوم ص١٥٤
    [44] - مسند احمد ابن حنبل ٤٧١
    [45] - محلی ابن حزم ج١ص ٢٣٥
    [46] - الاحکام آمدی ١٥٥٣
    [47] - البیان ص٢٠٦
    [48] - فتح المنان فی نسخ القرآن ص٢٢٤
    [49] - احزاب/ ٣٣
    [50] - مزید توضیح کے لیے رجوع کریں کتاب ٫٫ اہل البیت یا چہرہ ہای درخشان،،
    [51] - رجال نجاشی ص٥٨
    [52] - قاموس الرجال ج١ص٤٠٣
    [53] - خلاصہ الرجال ص٢٦٦
    [54] - دراسات فی الحدیث والمحدثین ص١٩٨
    [55] - تصحیح الاعتقاد ص٧٢
    [56] - دراسات الحدیث و المحدثین ص١٣٧
    [57] - روضہ کافی ١٨٤٨
    [58] - فصل الخطاب ص ٢٧٥

۸,۴۵۴ قارئين کی تعداد: