pic
pic
  • ۲۱

    تیسرا مطلب

    اجمالی اورتفصیلی تحریف

    ہم نے پہلے بیان کیا ہے کہ تحریف کی دو قسمیں ہیں۔ تحریف یاتفصیلی ہے یا اجمالی ، ان دو قسموں میں سے جو مورد بحث ہے وہ تحریف تفصیلی ہے، یعنی کمی وبیشی جو معین طورپرواقع ہوجائے یہی موردبحث اورمحل اختلاف ہے۔ لیکن تحریف اجمالی یعنی اجمالی طور پر کوئی چیزکم یا زیادہ ہو، وہ ہماری بحث سے خارج ہے۔مثال کے طور پر قرائت کے بارے میں یا بسم اللہ کے بارے میں اختلاف ہے، کیا بسم اللہ الرحمن الرحیم قرآن کی آیات میں سے ایک آیت ہے یا نہیں؟جس کو ہم نے پہلے بھی تحریف اجمالی کے نام سے یاد کیاہے، ہماری بحث سے خارج ہے، کیونکہ وہ تحریف کہ جس میں جھگڑا ہے چاہے کمی کی صورت میں ہو یااضافہ کی، دونوں صورتوں میں معیاراورملاک یہ ہے کہ کلام الہی کی حقیقت بدلنے کا سبب نہ بنے جیسے قرائت کا اختلاف کہ جس میں شک اورشبہہ کی گنجائش نہیں ہے کہ ان قرآئتوں میں سے کوئی ایک قرائت یقیناً قرآن حقیقی کی قرائت ہے یا بسم اللہ الرحمن الرحیم کے بارے میں کوئی شک وشبہہ نہیں ہے کہ پیغمبراکرمۖ ہرسورہ کے آغاز میں تلاوت فرماتے تھے،لیکن مسلمانوں کا آپس میںاختلاف ہے کہ بسم اللہ قرآن اور سورہ کا جزء هے یا نہیں ۔ بعض مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ بسم اللہ اسی سورہ کا جزء اور حقیقی قرآن ہے جس سورے کے آغاز میں بسم اللہ ہو۔ لیکن دوسرے بعض مسلمانوں کا نظریہ ہے کہ بسم اللہ اس کا جزء نہیں ہے اس لئے کہ حقیقی قرآن نہیں ہے یہ دونوں گروہ میں سے ہر ایک اپنے نظریے کو واقع کے مطابق سمجھتاہے اوراپنی بات کو حقیقت اورواقع کے خلاف ہونے کا احتمال تک نہیں دیتا۔اوردونوں کا اجماع ہے کہ بسم اللہ کلام الہی میں یقیناً تھا اورکلام بشراس میں داخل نہیں ہوا ہے اور اختلاف قرّاء کے مسئلہ میں بھی یہی ہے۔

    لہذااسی بناپر جن موارد میں تحریف اجمالی ہوئی ہے اگر چہ حقیقی کلام اور حقیقی قرائت کی تشخیص ایک مشکل امرہے لیکن ہماری بحث سے خارج ہے۔ کیونکہ ہماری بحث ایسی تحریف کے بارے میں ہے کہ قرآن سے کسی چیز کو حذف کیا گیا ہے یا قرآن میں کسی چیز کا اضافہ کیا گیا ہے۔

    چوتھا مطلب

    تحریف کے قائل ہونے کے لئے خبرواحد کافی نہیں

    یعنی جس طرح قرآنی آیات کے اثبات کے لئے قطعی اورعلمی دلیل کی ضرورت ہے اور صرف خبر واحد کے ذریعہ کسی آیت قرآنی کو ثابت نہیں کرسکتے اسی طرح جو لوگ تحریف کے قائل ہیں انہیںچاہیے کہ تحریف کے اثبات پر بھی قطعی دلیل اورعلمی برہان پیش کریں یا دوسرے لفظوں میں یوں کہا جائے کہ جب ہم خبر واحداوراس جیسی دوسری ادلّہ ظنّیہ (یعنی وہ دلائل جو یقینی اور قطعی نہیں ہیں) کو اعتقادی مسائل ثابت کرنے میں کافی نہیں سمجھتے ہیں تو قرآن سے متعلق مسائل کو بھی خبر واحد سے ثابت نہیں کرسکتے۔ کیونکہ قرآن ہمارے مدارک میں سے اہم ترین مدرک ہے، اس کے کسی مسئلہ کی نفی یا اثبات کو خبرواحد کے ذریعہ ثابت کرنا بہت بڑی غلطی ہے۔

    لہذا مرحوم شیخ طوسی نے اپنی گرانبہا تفسیر ٫٫تبیان،،کے مقدمہ اورتمہید میں فرمایا کہ جتنی روایتیں تحریف پر دلالت کرتی ہیں وہ سب خبر واحد ہیں اور کیونکہ خبرواحد سے یقین اورعلم حاصل نہیں ہوتا لہذا مسئلہ تحریف میں بھی ایسی روایتیں کفایت نہیں کرتی ہیں۔ مرحوم شیخ طوسی کے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ مسئلہ تحریف ان مسائل میں سے ہے کہ جس کے اثبات اور نفی کے لئے یقین اورعلم ضروری ہے صرف کسی حدیث یا روایت کا پایاجانا کافی نہیں ہے۔

    پانچواں مطلب

    قرآن میں تحریف نہ ہونے پر علماء شیعہ کا نظریہ

    امامیہ مذہب کے عظیم علماء اورمحقیقن اس بات کے معتقد ہیں کہ قرآن مجید میں کوئی تحریف نہیں ہوئی ہے۔ یعنی ان کا عقیدہ یہ ہے کہ جو قرآن کریم آج ہمارے پاس موجود ہے یہ وہی قرآن ہے جسے پیغمبر اکرم ۖ کے قلب مطہر پر اتارا گیا تھا جس میں کسی قسم کی کمی بیشی واقع نہیں ہوئی ہے۔ یہاں ہم علمائے امامیہ میں سے ان حضرات کے نظریے جو مذہب تشیع کے ستون سمجھے جاتے ہیں اختصار کے ساتھ بیان کرتے ہیں کیونکہ انہیں حضرات کی کتابوں کو مذہب تشیع کے اعتقادی اورعلمی مسائل کا مدارشمار کیا جاتا ہے لیکن ان حضرات کے نظریے کو ذکر کرنے سے پہلے دو مطالب کی طرف قارئین کی توجہ کو مبذول کرانا ضروری ہے۔

    الف: علوم قرآن سے متعلق لکھی گئی کچھ کتابوں میں قرآن میں تحریف ہونے والے نظریہ کو شیعہ امامیہ کے علماء میں سے اخباری علما اور اہل سنت میں سے حشویہ کی طرف نسبت دی گئی ہے۔غورطلب بات یہ ہے کہ اخباری علماء کے بعض بزرگوں نے جیسے جناب حرعاملی (صاحب وسائل الشیعہ) قرآن کریم میںتحریف نہ ہونے کے قائل ہیں،اوراسی موضوع پر مستقل ایک کتابچہ تحریر فرمایا ہے۔لہذا کسی کا اخباری ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ تحریف کا قائل ہو جائے۔

    ب: اس میں شک نہیں کہ شیعہ امامیہ کے علماء قرآن میں تحریف یعنی کسی شی کا اضافہ نہ ہونے پر اجماع رکھتے ہیں،لیکن تحریف یعنی قرآن میں کمی واقع ہونے کا مسئلہ اختلافی ہے، اگرچہ اس میں بھی بعض علماء جیسے مرحوم مقدس بغدادی اپنی کتاب ٫٫شرح وافیہ،،[15]میں اورمرحوم شیخ کاشف الغطاء اپنی گرانبہا کتاب کشف الغطاء میں قرآن میں کمی واقع نہ ہونے پربھی تمام علماء امامیہ کا اتفاق واجماع ہونے کا دعوی کرتے ہیں ۔

    علماء امامیہ کے عظیم علماء کے نظریات اس بارے میں یوں ہیں:

    1. فضل ابن شاذان جوشیعہ امامیہ قرن سوم ہجری کے مصنفین میں سے ایک ہیں،وہ قرآن میں تحریف یعنی کمی واقع ہونے سے انکار کرتے ہیں اوراس نظریہ کے قائلین کو رد کرنے کے بعد ٫٫کتاب ایضاح،، میں ان روایات کو جو تحریف پر دلالت کرتی ہیں دوسرے مذاہب کی طرف نسبت دیتے ہیں۔

    ٢۔ جناب شیخ جعفر کے فرزند محمد بن علی ابن بابویہ قمی شیخ صدوق کے لقب سے معروف و مشہور ہیں اورجہاں تشیع میں چوتھی صدی کے عظیم اورنامورعالم ہیں، انہوں نے اپنے ٫٫رسالہ اعتقادات،،میں یوں تحریر فرمایا ہے:

    ٫٫قرآن کے بارے میں ہمارا(شیعہ امامیہ) عقیدہ یہ ہے کہ جو قرآن آج ہمارے پاس موجود ہے، ہوبہووہی قرآن ہے جو پیغمبر اکرمۖ پر نازل ہوا تھا،جس میں کوئی اضافہ یا کمی نہیں ہوئی ہے۔ لہذا جو لوگ قرآن میں کمی واقع ہونے والے نظریئے کو ہم سے منسوب کرتے ہیں جھوٹے ہیں۔،،

    جناب مرحوم شیخ صدوق علیہ الرحمہ جوعلم حدیث اورعلم تاریخ اور دیگر متعددعلوم میں ماہراورعظیم علمائے امامیہ میں سے ایک ہیں۔ وہ تحریف کے نظریئے کو امامیہ مذہب سے منسوب کرنے کو جھوٹ اور بہتان سے تعبیر کرتے ہیں۔

    ٣۔ جناب مرحوم ابن حسین موسوی نے جوسیدمرتضی علم الہدی کے لقب سے معروف ومشہور ہیں، اورشیعہ امامیہ کے عظیم مجتہدین اوراصولی علماء میں سے ایک ہیں طرابلسیات کے سوالات کے جواب میں فرماتے ہیں:

    ٫٫جس طرح دنیا میں شہروں کے وجود اورعظیم واقعات وحادثات کے رونما ہونے پر یقین وعلم حاصل ہے اسی طرح قرآن کی ہم تک بغیر کسی کمی یا بیشی کے پہنچنے پر بھی یقین وعلم حاصل ہے۔کیونکہ مسلمانوں نے مختلف عوامل اورانگیزوں کے ساتھ قرآن کریم کی حفاظت کی تھی یعنی قرآن کریم میں کسی قسم کی کمی یا بیشی واقع ہونے نہ دینے کے لئے بڑا اہتمام کیا تھا اور ان کی کوشش یہی رہی ہے کہ جو قرآن پیغمبر اسلامۖ کے دورمیںمخصوص نظم وضبط کے ساتھ ایک کتاب کی شکل میں جمع کیا گیا تھاوہی ہم تک پہنچا ہے جس پر واضح دلیل یہ ہے کہ پیغمبر اسلامۖ نے ایک جماعت کو قرآن کی حفاظت کے لئے مقررفرمایا تھا،اورایک جماعت جیسے عبداللہ ابن مسعود اورابی ابن کعب وغیرہ نے کئی دفعہ خود پیغمبر اسلامۖ کے حضور میں پورے قرآن کریم کی تلاوت کی تھی، جوحقیقت میں قرآن کی صحیح حفاظت ہونے یانہ ہونے کی تصدیق کرواناچاہتے تھے۔ لہذامرحوم سید مرتضی نے اپنی گفتگو اور بحث کے آخر میں فرمایا کہ جو لوگ امامیہ مذہب سے منسلک ہیں ان میں سے چند نفراورمذہب اہل سنت میں سے حشویہ اس نظریہ کی مخالف ہیں۔ لیکن ان کے نظریئے کا کوئی اعتبار نہیں کیونکہ انہوں نے اپنے نظریہ کو ثابت کرنے کے لئے کچھ ضعیف روایات بیان کی ہیں اور انہوں نے گمان کیا ہے کہ یہ روایات صحیح ہیں[16]۔

    ٤۔ مرحوم شیخ طوسی جو شیخ الطائفہ کے لقب سے مشہور ہیں اورابوجعفر محمد بن حسن کے نام سے موسوم ہیں اس بارے مین فرماتے ہیں :

    ٫٫قرآن کریم میں کمی وبیشی واقع ہونے کا تصور کرنا مناسب نہیں ہے کیونکہ قرآن کریم میں کسی چیز کے اضافہ نہ ہونے پر اجماع ہے جبکہ قرآن سے کسی چیز کے حذف یا کم ہونے کو سارے مسلمان غلط اورباطل سمجھتے ہیں اورامامیہ مذہب سے منسلک علماء کا صحیح نظریہ بھی یہی ہے۔ یہ وہ نظریہ ہے جس پر بہت ساری صحیح السند روایات موجود ہیں لهذا جو روایات اہل تشیع اوراہل سنت کے طریق سے نقل کی گئی ہوں،اوروہ آیات میں سے بعض کے حذف یا کم ہونے پر دلالت کرتی ہوں وہ خبرواحدہیں جن سے علم ویقین حاصل نہیں ہوتاہے لہذاان کو نظر اندازکرناچاہے[17]۔

    ٥۔ فضل ابن حسن طبرسی جن کی کنیت ابوعلی ہے اورعظیم مفسر قرآن، صاحب مجمع البیان ہیں، انہوں نے اپنی تفسیر کے مقدمہ میں یوں لکھاہے:

    ٫٫قرآن میں کسی آیت کے اضافہ ہونے کا عقیدہ غلط اورباطل ہونے پر امامیہ مذہب کا اجماع ہے اگر چہ کم اورحذف ہونے کے قائل علمائے امامیہ میںسے بعض اخباری علماء اورسنی مذہب میںحشویہ کی طرف نسبت دی گئی ہے لیکن اکثر علمائے امامیہ کے نزدیک یہ نظریہ صحیح نہیں ہے،،[18].

    ٦۔ مرحوم سید ابن طاوئوس نے فرمایا ہے:

    ٫٫مذہب امامیہ قرآن میں تحریف نہ ہونے کا قائل ہے[19]۔ ایک اورجگہ فرمایا کہ مجھے ان لوگوں پر تعجب ہے جو یہ عقیدہ رکھتے ہوئے کہ جو قرآن آج ہمارے پاس موجود ہے وہی قرآن ہے جو پیغمبر اکرمۖ پر نازل ہوا ہے اورپیغمبر اکرمۖ نے ہی اس کو جمع کرنے کا حکم دیا،اس کے باوجود آیات میں اہل مدینہ اورمکہ یا اہل کوفہ وبصرہ کے مابین اختلاف ہونے کو نقل کرکے آخر میں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم قرآن اورسورہ کا جزء نہیں ہے ،یہ بہت ہی تعجب کی بات ہے کہ ایک طرف سے قرآن میں کسی قسم کی کمی وبیشی نہ ہونے کے قائل ہیں کہ جس کی تائید دلیل عقلی اور نقلی بھی کرتی ہے اس کے با وجود بسم اللہ کو قرآن کی آیات میں سے ایک آیت اورسورہ کا جزء نہ ہونے کو قبول کرتے ہیں؟[20]

    ٧۔ جناب ملا محسن جو فیض کاشانی کے لقب سے مشہورہیں فرماتے ہیں:

    ٫٫جوروایات قرآن میں تحریف ہونے پردلالت کرتی ہیں وہ کتاب الہی کے مخالف ہیں لہذاان کو رد کرنا چاہیے یا اس کی توجیہ اورتفسیر اس طرح کرنی چاہیے جو کتاب الہی کے مخالف نہ ہو[21]۔

    ٨۔ جناب مرحوم محمد بہاء الدین عاملی جو شیخ بہائی کے لقب سے معروف ہیں یوں فرماتے ہیں:

    ٫٫صحیح اوردرست نظریہ یہ ہے کہ قرآن کریم ہرقسم کی کمی اور بیشی سے محفوظ ہے یعنی قرآن میں کسی قسم کی تحریف نہیں ہوئی ہے اورجوچیز لوگوں کے مابین مشہورہے وہ علمائے امامیہ کی نظرمیں صحیح نہیں ہے یعنی لوگوں کے درمیان مشہور ہے کہ کچھ آیات میں حضرت امیر الموئمنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا نام آیا تھا اس کو حذف کردیا گیا ہے مثال کے طورپر آیت ٫٫یاایھاالرسول بلغ،، کے بارے میں کہا گیا ہے کہ آیت یوں تھی ٫٫یا ایہا الرسول بلغ ما انزل الیک فی علی...." اس میں حضرت علی علیہ السلام کا نام تھا اسے حذف کیا گیا ہے۔ ایسا عقیدہ علمائے امامیہ کے نزدیک غلط ہے کیونکہ قرآن تحریف سے محفوظ ہے[22]،، .

    ٩۔ شیخ محمد ابن حسن حرعاملی جو ہماری کتب احادیث میں سے اہم کتاب وسائل الشیعہ کے مصنف ہیں ایک کتابچہ میں قرآن کریم میں تحر یف نہ ہونے کو ثابت کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

    ٫٫جو لوگ تاریخ اورائمہ معصومین علیہم السلام سے منقول روایات کی تحقیق کرتے ہیں انہیں یقین اورعلم حاصل ہوجاتا ہے کہ قرآن کریم ہم تک انتہائی تواتر کے ساتھ اور ہزاروں اصحاب سے نقل ہوتے ہوئے پہنچاہے۔ اوراسی سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کی پیغمبر ۖ کے دور میں ہی ایک کتاب کی شکل میں تدوین کرلی گئی تھی[23]،،

    ١٠۔ جناب شیخ جعفر کاشف الغطاء امامیہ مذہب کے ایسے مجتہدین میں سے ہیں جن کی مثال بہت کم ملتی ہے، اپنی گرانبہا کتاب ٫٫کشف الغطاء،،میںفرماتے ہیں:

    ٫٫قرآن کریم میں کسی چیز کے اضافہ نہ ہونے پرسارے مسلمانوں کا اجماع ہے اور یہ نظریہ ایسا ہے جو ہر مذہب اوردین کی ضرورت کا تقاضا ہونے کے ساتھ خود قرآن کی صراحت بھی موجود ہے اورعلماء کا اجماع بھی۔یعنی قرآن ہرزمانے میں کمی و بیشی سے محفوظ ہے لیکن ایک چھوٹے گروہ نے اس نظریئے کی مخالفت کی ہے جن کے قول کا کوئی اعتبار نہیں[24]۔

    ہم نے نمونہ کے طورپرشیعہ علمائے کرام چاہے اصولی علماء ہوں یا اخباری، کے نظریات ذکر کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان تمام سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ قرآن میں تحریف ہونے کا نظریہ غلط اور بے بنیاد ہے جس کا باطل ہونا بھی واضح ہے۔

    اوربہت ہی کم تعداد پر مشتمل ایک گروہ نے کچھ روایات کو جو ضعیف السند ہونے کے علاوہ خبرواحدبھی ہیں، کو اپنی کتابوں میںذکر کرکے تحریف قرآن کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے اوریہ نظریہ علمائے امامیہ کی نظر میں قابل اعتماد نہیں ہے،لہذا قرآن میں تحریف کا نظریہ علمائے امامیہ کی طرف کیسے منسوب کیا جاسکتا ہے؟کیا ایسی نسبت واضح بہتان اورجھوٹ نہیں ہے؟یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جس فرقے کے تمام مسائل اعتقادی اورتمام افکار وتصورات کا سرچشمہ قرآن کریم ہو لوگ ان کو قرآن کریم میں تحریف کا قائل قراردیں؟

    چھٹا مطلب

    قرآن کریم اور دوسری آسمانی کتب میں فرق

    آج کل کے اہم ترین سوالات میں سے یہ ہے کہ قرآن اوردیگر آسمانی کتابوں میں کیا فرق ہے؟۔ کیونکہ شیعہ امامیہ قرآن میں تحریف نہ ہونے کے قائل ہیں جبکہ دوسری تمام آسمانی کتابوں میں تحریف ہونے پر اجماع ہے۔ لہذا جو لوگ قرآن کی تحریف کے قائل ہیں انہیں میں سے بعض نے تحریف پراس طرح استدلال کیا ہے کہ گذشتہ ساری کتب آسمانی میںتحریف ہوئی ہے،قرآن بھی آسمانی کتابوں میں سے ایک ہے اس میں بھی تحریف واقع ہوئی ہے کیونکہ بہت ساری روایات جو سنی اورشیعہ دونوں کے یہاںمتواتر سمجھی جاتی ہیں وارد ہوئی ہیں جوحادثہ اورواقعہ سابقہ امتوں میں رونما ہواہے ایساحادثہ اس امت میں بھی رونما ہوگا چنانچہ پیغمبر اکرمۖ نے فرمایا:

    ٫٫ کل ما کان فی الامم السالفة فانّہ یکون فی ہذہ الامة مثلہ حذواالنعل بالنعل و القذّة بالقذّة[25]،،یعنی جو بھی حادثہ سابقہ امتوں میں رونما ہوا ہے ہوبہو اس امت میں بھی رونماہوگا ۔ اس روایت کی روسے ضروری ہے کہ قرآن میں بھی تحریف واقع ہوجائے۔

    لیکن ہم اس قسم کی روایات اورجو لوگ تحریف قرآن کی اشتباہ میں مبتلاء ہیں کا جواب بعد میں دینگے[26] مگر جو مطلب یہاں پیش کرنا ضروری ہے اورجس کی تلاش میں ہم ہیں وہ قرآن اوردیگر کتب آسمانی کے مابین فرق کی وضاحت کرنا ہے اس کے بار ے میں بعض محققین نے یوں کہا ہے:

    ٫٫سابقہ آسمانی کتب میں جوتحریف واقع ہوئی ہے اس سے مراد تحریف معنوی یا تفسیر بالرائے ہے کہ جس کے وقوع اورثبوت پرقرآن کریم صریحاً دلالت کرتا ہے۔ لیکن وہ تحریف جس سے کمی بیشی مراد لی جاتی ہے اس کا کتب سابقہ میں ہونے پر قرآن مجید میں کوئی اشارہ نہیں ملتا،اورعلماء کی عبارات اورروایات میں بھی کوئی قرینہ اورشاہد نہیںپایا جاتا[27]۔ بلکہ ایسی تحریف سے تورات یا انجیل اوردیگر کتب آسمانی کو ان کے علماء کے ہاں محفوظ ہونے کو قرآن صراحتاً بیان کرتا ہے، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:

    وَ لَوْ أَنَّهُمْ أَقامُوا التَّوْراةَ وَ الْإِنْجيلَ وَ ما أُنْزِلَ إِلَيْهِمْ مِنْ رَبِّهِمْ لَأَكَلُوا مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِم[28]،،

    اوراگروہ لوگ تورات اورانجیل اورجو صحیفے ان کے پاس ان کے پروردگار کی طرف سے نازل کیے گئے تہے ان کے احکام پر قائم رہتے توضروران کے پروردگار کی طرف سے ان پر اوپر سے رزق برس پڑتا اورپاوئں کے نیچے سے بھی ابل آتا۔

    بنیادی نکتہ یہ ہے کہ قرآن کریم اللہ کی طرف سے ابدی معجزہ بن کر آیا ہے اس لئے ضروری ہے ہر قسم کی تحریف اورکمی وبیشی اورتبدیلی وغیرہ سے محفوظ رہے، جبکہ دوسری آسمانی کتب اللہ کی طرف سے ابدی معجزہ کے طور پر نہیں آئی ہیں۔

    ساتواں مطلب

    قرآن کے مراحل اور درجات

    اہم نکات میں سے ایک یہ ہے کہ کس قرآن یا دوسرے لفظوں میں موجودہ قرآن کے کس مرحلے میں نزاع واختلاف ہے ؟جیسا کہ واضح ہے اورخود قرآن کریم سے بھی استفادہ ہوتا ہے کہ اس مقدس کتاب کے کئی ایک مراحل اوردرجات ہیں۔

    پہلامرحلہ: لوح محفوظ ہے،کہ اس مرحلہ میںواضح اورروشن ہے کہ قرآن قابل تحریف نہیں ہے اس مرحلہ میں کسی بشراورانسان کی رسائی ممکن نہیں بلکہ قرآن کریم اللہ کے ہاں ہرقسم کی آفت اورآسیب سے محفوظ ہے۔

    دوسرا مرحلہ: جبرئیل کے ذریعہ پیغمبر اکرمۖ پر نازل ہونا، اس مرحلہ میں بھی قرآن میں تحریف کا تصور نہیں کیا جاسکتا ، کیونکہ جبرئیل اللہ کے فرشتوں میں سے ایک مقرب فرشتہ ہےجوعصمت کا مالک ہے اورہرقسم کی خطا اوراشتباہ وغیرہ سے پاک وپاکیزہ ہے۔

    تیسرا مرحلہ: قرآن کریم کا پیغمبر اکرم ۖ کے ذریعہ سے لوگوں تک پہنچنایعنی جس قرآن کریم کو جبرئیل نے قلب مطہررسول اسلامۖ پر نازل کیا تھا پیغمبر اسلام ۖ نے بغیر کسی کمی وبیشی کے لوگوں تک پہنچایا۔ واضح ہے کہ اس مرحلہ میں بھی کوئی تحریف نہیں ہوئی ہے کیونکہ قرآن خود پیغمبر اسلام کے زمانے میں ایک کتاب کی شکل میں جمع کیاجا چکا تھا اوربہت سارے اصحاب کرام حافظ قرآن تھے اورانہوں نے ہی بعد والے لوگوں کے لئے سینہ بہ سینہ اسی قرآن کو تواتر کی شکل میں منتقل کیاہے۔

    چوتھا مرحلہ: جس قرآن کا تواتر کے ساتھ ہم تک پہنچنے کا دعوا کرتے ہیں یا دوسرے لفظوں میں جو قرآن آج ایک کتاب کی شکل میں مخطوط یا مطبوعہ موجود ہے وہ قرآن کے نام سے اللہ کی طرف سے نازل شدہ ایک حقیقت ہے اوربدیہی ہے کہ اس میں تحریف یعنی قرأت کی اختلاف وغیرہ کے بارے میں اختلاف رائے ہے ،نیز تحریف یعنی کمی وبیشی کا امکان اورتصوربھی اس مرحلہ میں ناممکن نہیں ہے۔ اورجس قرآن کے تحریف ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں اختلاف اورجھگڑا ہے وہ ایک حقیقت ہے جو نازل شدہ وحی اورکلام حق کی صورت میں ہم تک تواتر کے ساتھ پہنچا ہے جس کی حفاظت کے بارے میں خود اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا ہے:

    ٫٫وانّا لہ لحافظون،،اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں ۔ یہاں کلمہ٫٫لہ،،کی ضمیر ٫٫نازل ،، کی طرف لوٹتی ہے جو قرآن اورایک حقیقت ہونے کو بیان کرتی ہے۔جبکہ قرآنوں کا تصورتحریف کو بیان کرتا ہے اوراس میں شک نہیں کہ متعدد هونے کی صورت میں ان میں تحریف کا امکان ہے۔

    اس بیان کی روشنی میں بعض محدثین[29] نے کہا ہے کہ قرآن کی حفاظت سے مراد یہ ہے کہ اللہ اپنی کتاب کا محافظ ہے اس سے مراد نزول کا مرحلہ ہے جس طرح لوح محفوظ کے مرحلہ میں قرآن ہرآفت اورآسیب وتحریف سے محفوظ ہے اسی طرح اس مرحلہ (مرحلہ نزول)میں بھی اللہ اس کا محافظ ہے۔

    یہ ایک باطل توجیہ ہے کیونکہ اس توجیہ پر کوئی دلیل اورشاہد موجود نہیں ہے بلکہ قرآن معجزہ ہونے کے حوالے سے اس کی نفی کرتا ہے، چونکہ جس مرحلہ میں تحریف اورکمی وبیشی عقل کی رو سے ممکن نہیں ہے اس میں اللہ کی طرف سے قرآن کی حفاظت کرنا اعجازنہیں کہلاتا ہے۔



    آٹھواں مطلب

    عقل کی رو سے تحریف کا امکان

    اورعملی طور پرواقع نہ ہون

    آیہ شریفہ ٫٫حفظ،،سے بخوبی واضح ہوجاتا ہے کہ قرآن کریم میں تحریف عقلی اعتبار سے محال نہیں ہے لیکن اللہ نے ہی قرآن کو اس کے امکان اورتصور سے بچانے کا وعدہ فرمایا ہے کیونکہ اگرعقل کی روشنی میں تحریف بالکل محال اور ناممکن ہوتی تو اللہ کے محافظ ہونے کا تصور ہی غلط ہوجاتا۔ لہذا قرآن میں تحریف کا ہوناعقلا ممکن ہے لیکن اللہ تعالی نے اس امکان محض سے بچانے کا قطعی وعدہ کیا ہے اس لئے عملی طور پر قرآن کریم ہرقسم کی تحریف سے محفوظ ہے اور خداوند عالم نے قرآن میں تحریف کے وقوعی اورعملی امکان کو بھی رد کیا ہے۔

    نواں مطلب

    کیا قرآن میں تحریف نہ ہونے پرقرآن

    سے دلیل لانے سے دورلازم آتا ہے؟

    بہت سارے بزرگ علماء نے قرآن میں تحریف نہ ہونے پر آیات قرآن سے استدلال کیا ہے؛لیکن ہم یہاں جس چیز پر تحقیق کریں گے یہ ہے کہ کیا نظریہ تحریف کوغلط اور باطل قراردینے کے لئے آیات قرآن سے استدلال کرنے سے دور لازم نہیں آتا(جوعقلامحال ہے )بعض کا نظریہ ہے کہ تحریف کے نہ ہونے پرآیات سے استدلال کرنا٫٫دور،،ہے جس کے لئے انہوں نے دو قسم کا استدلال بیان کیا ہے:

    پہلی دلیل:کتاب میں تحریف کا نہ ہونا ان آیات کے حجت ہونے پرموقوف ہے جبکہ ان آیات کی حجیت تحریف نہ ہونے پرموقوف ہے اس بنا پر تحریف کا نہ ہونا خود تحریف نہ ہونے پر موقوف ہے جودور ہے۔

    دوسری دلیل :یہ ہے کہ نفی تحریف پرجن آیات سے استدلال کیا ہے ان کی حجیت قرآن میں تحریف نہ ہونے پر مبنی اورموقوف ہے جب کہ دوسری طرف سے نفی تحریف خود ان آیات کی حجیت پر موقوف ہے نتیجتاً آیات کریمہ کی حجیت خود آیات کی حجیت پرموقوف ہے ایسا ناممکن کام ہے کہ جس کو بحث علیت میں دور سے تعبیر کیا جاتاہے جو محال ہے۔اس شبہہ اوراعتراض کے کئی جوابات دئے گئے ہیں۔ہم ان کا جائزہ لیتے ہیں۔

    پہلا جواب

    مرحوم محقق خوئی رحمةاللہ علیہ نے اپنی گرانبہا کتاب البیان میں اس کا جواب یوں دیا ہے:

    ٫٫جو لوگ ائمہ معصومین علیہم السلام کی خلافت اورولایت کو قبول نہیں کرتے وہ اس شبہہ اوراعتراض کا جواب دینے سے عاجزہیں لیکن جو لوگ ان بزرگواروں کی خلافت اورولایت کے معتقد ہیں اوران حضرات کو قرآن کریم کے واقعی اورحقیقی مفسراورقرآن کے قرین سمجھتے ہیں وہ ایسے شبہہ کا جواب بہت ہی آسان طریقہ سے دے سکتے ہیں، کیونکہ ائمہ معصومین علیہم السلام نے موجودہ قرآن کی آیات سے استدلال کیا ہے اوراصحاب کرام نے جن آیات سے استدلال کیا تھا ان کی تائید اورتصدیق فرمائی ہے۔ پس اگر چہ قرآن کی تحریف ہوئی ہو پھر بھی اس کی حجیت باقی ہے کیونکہ جہاں کہیں ائمہ معصومین علیہم السلام نے آیات سے استدلال کیاہے ان کی حجیت ثابت اورواجب العمل ہے ،اوران سے ہم بھی تمسک کرسکتے ہیں۔

    لیکن یہ جواب اشکال سے خالی نہیں کیونکہ اول آپ کا یہ جواب ان کے لئے ہے جو اہل بیت عصمت علیہم السلام کے معتقد اورشیعہ امامیہ ہوں لیکن ایسے اعتراض کے لئے اس طرح کا جواب دینا صحیح نہیں ہے بلکہ ایسا جواب در کار ہے جو سب کے لئے قابل قبول اور مفید ہو۔

    دوسرایہ کہ: یہ جواب دینا درحقیقت شبہہ اوراشکال کو قبول کرنا ہے جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اس بنا پر تحریف کی نفی پر دلالت کرنے والی آیات سے ہم عدم تحریف کو ثابت نہیں کرسکتے بلکہ نفی تحریف پرہم نے آیات قرآنی اور معصومین علیہم السلام کی تائید کو ایک دوسرے کے ساتھ ضمیمہ کرکے استدلال کیا ہے اس طرح استدلال کرنا اورجواب دینا مدعا کے خلاف ہونے کے ساتھ حدیث ثقلین کے ظاہر کے بھی خلاف ہے جس سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ قرآن کریم ٫٫ثقل اکبر'' کی حیثیت سے کسی چیز کے ضمیمہ کئے بغیر خود ایک مستقل دلیل اورحجت ہے۔

    دوسرا جواب

    جولوگ قرآن میں تحریف کے دعویدار ہیں وہ تحریف کے دائرہ کو محدود سمجھتے ہیں یعنی تحریف صرف ان آیات میںواقع ہوئی ہے جن کی طرف کچھ روایات میں اشارہ کیا گیا ہے لیکن جن آیات سے تحریف نہ ہونے پر استدلال کیاجارہا ہے وہ ان تحریف شدہ آیات میں سے نہیں ہیں دوسرے الفاظ میں تحریف کے دعویداران آیات میں تحریف نہ ہونے پر اعتقاد رکھتے ہیں، لہذا ان سے استدلال کرنے سے دور لازم نہیں آتا۔

    یہ جواب بھی اشکال اوراعتراض سے خالی نہیں ہے کیونکہ تحریف کے بارے میں دو نظریئے پائے جاتے ہیں:

    پہلانظریہ: یہ ہے کچھ لوگوں کا عقیدہ ہے کہ بعض روایات کے مطابق چند معین موارد میں آیات کریمہ میں تحریف واقع ہوئی ہے اس نظریئے کے مطابق جواب درست ہے ۔

    دوسرانظریہ : یہ ہے کہ کچھ لوگ قرآن میں تحریف ہونے پرعلم اجمالی کے دعویدارہیں قطع نظراس کے روایات کی روشنی میں تحریف کے قائل ہوں اور علم اجمالی جس کا دائرہ وسیع ہے جن آیات سے عدم تحریف پر استدلال کیا گیا ہے وہ بھی اس میںشامل ہوسکتی ہیں ،لہذا اس نظریہ کی بنا پردوسراجواب صحیح نہیں ہے۔

    تیسراجواب

    بعض محققین اس اعتراض کا جواب یوں دیتے ہیں:

    ٫٫جن آیات سے قرآن میں تحریف نہ ہونے پراستدلال ہوا ہے ان میں تحریف نہ ہونے پر اجماع قائم ہے[30]۔،،

    مگریہ جواب بھی بحث طلب ہے کیونکہ جولوگ قرآن میں تحریف ہونے پرعلم اجمالی کے دعویدار ہیں اس میں وہ آیات بھی شامل ہیں کہ جن سے نفی تحریف اور عدم تحریف پراستدلال کرچکے ہیں یا دوسرے لفظوں میں یوں کہا جائے کہ وہ آیات اجماع کے اندرداخل نہیں ہوسکتیں ورنہ ان کے نظریے کی موجودگی میں اس کا لازمہ اس کا عدم ہے جو محال ہے۔

    چوتھا جواب

    ہمارے والد گرامی محقق فقیہ معظم (آیة اللہ العظمی فاضل لنکرانی دام ظلہ العالی) نے اس مشکل کو یوں حل فرمایا ہے[31] کہ جن آیات سے قرآن میں تحریف نہ ہونے پر استدلال کیا گیا ہے ان کے بارے میں یہ دیکھنا چاہئیے کہ ہم آیات سے کن کے مقابلے میں استدلال کررہے ہیں ،اگرہم آیات سے ان لوگوں کے مقابل میں استدلال کررہے ہیں جو قرآن میں تحریف کے قائل ہیں جس پرروایات دلالت کرنے کے دعویدار ہیں اس صورت میں آیات سے عدم تحریف استدلال کرنے کا لازمہ دورنہیں ہے کیونکہ ایسی آیات یقیناً تحریف کے موضوع سے خارج ہیں۔

    لیکن اگر ہم آیات سے ان لوگوں کے مقابلے میں استدلال کررہے ہیں جو قرآن میں تحریف کے قائل ہیں اوراس کی دلیل علم اجمالی سمجھتے ہیں تو اس کے دو مفروضے ہیں:

    پہلا مفروضہ: یہ ہے کہ تحریف کا قائل ظواہر کتاب کو حجت مانتا ہے چاهئے تحریف شدہ ہو ایسی صورت میںدورکا اشکال نہیں ہوسکتا کیونکہ آیات اپنی ظاہری حجیت پرباقی ہیں اورتحریف کی مذکورہ قسم ظاہری حجت کے لئے کوئی مانع نہیں اس کا نتیجہ یہ هے کہ آیات سے استدلال کرنے میں کوئی اعتراض نہیں۔

    دوسرامفروضہ: یہ ہے کہ تحریف کا قائل تحریف کو کتاب کی ظاہرحجیت کے لئے مانع جانتا ہے اس صورت میں یا علم اجمالی کے ذریعے کتاب میں تحریف کو واقع سمجھتا ہے یااجمالی یقین کا مسئلہ نہ ہو بلکہ تحریف کا احتمال پیدا ہوجائے تو پہلی صورت میں آیات سے استدلال نہیں کیا جاسکتا چاہے تحریف کے مفروضے میں حجیت پر باقی کیوں نہ ہو ۔ کیونکہ علم اصول میں یہ ثابت ہے کہ ایسے ظواہرجو شرعی نشانیوں کی وجہ سے ظنی ہیں وہ اس صورت میں معتبرہیں کہ اس کے خلاف یقین نہ ہو۔ اس بنا پر ایسے مفروضے کی صورت میں آیات شریفہ قابل استدلال نہیں رہتی دوسری صورت یعنی یقین کے بغیرصرف احتمال تحریف آیات کی حجیت کے لئے مانع نہیں ہوسکتی اورآیات کے ذریعے استدلال کرنا اشکال سے خالی ہے۔

    اس جواب میں بھی تحریف کے علم اجمالی کی صورت میں آیات سے استدلال کرنا کمزوری ہے۔

    پانچواں جواب

    جوکچھ نظرآتا ہے یہ ہے کہ جس طرح دیگرحوادث کچھ علل واسباب کانتیجہ ہوتے ہیں اسی طرح تحریف بھی بغیرعلت اورسبب کے نہیں ہوسکتی ہے۔ چونکہ تحریف قرآن کے اسباب و عوامل بہت زیادہ ہیں لہذا اگر ان آیات میں تحریف ہوتی کہ جن سے عدم تحریف پر استدلال کرتے ہیں تو اس طرح تحریف واقع ہونی چاہیئے کہ ان میں کمی اورنقص واقع ہوجائے کہ پھران سے عدم تحریف پر استدلال کرنا ساقط ہوجائے مثال کے طور پر آیت حفظ ٫٫وانالہ لحافظون،،کے جملے یا کم ازکم ٫٫لہ،،جو کہ قرآن میں تحریف نہ ہونے پرواضح دلیل ہے،کو حذف کردینا چاہیئے تھا جبکہ ایسے جملے اورالفاظ آیات میں موجود ہیں جس ہے ہمیںقرآن میں تحریف نہ ہونے کا یقین یا کم از کم اطمینان حاصل ہوتا ہے اورایسے موارد میں جہاںقرآن کی کسی اور آیت یا جملہ میں تحریف ہونے کا علم اجمالی ہو جیسے کہ ان آیات میں ہم عمومی یقین اس کے بر خلاف رکھتے ہیں جس کے نتیجے میں ایسے مواردعلم اجمالی کے دائرے سے خارج ہوتے ہیں۔

    [15] - آلاء الرحمن بلاغی ص ٢٦
    [16] - مجمع البیان ،ج١،ص٩١٥
    [17] - مقدمہ تفسیر تبیان
    [18] - مجمع البیان ١٥١
    [19] - سعد السعود ،ص١٤٤
    [20] - سعد السعود،ص١٩٣
    [21] - تفسیر صافی ،ج١ص٥١
    [22] - آلاء الرحمن ، ص٢٦
    [23] - اظہار الحق ،ج٢ص١٢٩
    [24] - کشف الغطاء ،ص٢٩٩
    [25] - بحاالانوار باب افتراق الامة بعد النبیۖ ، ج٨،ص٤۔
    [26] - البیان، ص٢٢١
    [27] - صیانة القرآن علی التحریف، ص٩٤
    [28] -مائده /66
    [29] - فصل الخطاب ، ص٣٦٠
    [30] - اکذوبہ تحریف القرآن ، ص٤۔
    [31] - مدخل التفسیر ،ص٢٠٢

۸,۴۵۳ قارئين کی تعداد: