pic
pic

سوال و جواب

اپنا سوال پوچھیں
سیدہ عورت کا غیر سید مرد سے شادی
تاریخ 17 December 2017 & ٹائم 02:02

کسی سیدہ خاتون کا غیر سید مرد سے شادی کا کیا حکم ہے ؟


شیعہ غیرسیدمردکاشیعہسیدہ لڑکی سے شادی کرنے میں شرعی لحاظ سے کوئی اشکال نہیں ہے اور اسلام کی نظر میںایسی کوئی بات نہیں ہے کہ سیدہ لڑکی کا غیر سید سے شادی جائز نہ ہو ۔

اس مسئلہ کی دلیلخود قرآن ہے ۔

اوراس کاواضحنمونہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کی پھوپھی زینب کا زید بن حارثہ سے شادی کرناہے کہ قرآن کریم میں یہ صریحاً ذکر ہوا ہے ۔

جیسا کہ سور احزاب میں فرماتا ہے :''« وَ ما كانَ لِمُؤْمِنٍ وَ لا مُؤْمِنَةٍ إِذا قَضَى اللَّهُ وَ رَسُولُهُأَمْراً أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ وَ مَنْ يَعْصِ اللَّهَوَ رَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلالًا مُبِيناً *  وَ إِذْ تَقُولُ للَّذِيأَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ وَ تُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَ تَخْشَىالنَّاسَ وَ اللَّهُ أَحَقُّ أَنْ تَخْشاهُ فَلَمَّا قَضىزَيْدٌ مِنْها وَطَراً زَوَّجْناكَها لِكَيْ لا يَكُونَ عَلَىالْمُؤْمِنِينَ حَرَجٌ فِي أَزْواجِ أَدْعِيائِهِمْ إِذا قَضَوْا مِنْهُنَّوَطَراً وَ كانَ أَمْرُ اللَّهِ مَفْعُولًا»)سوره احزاب آیت 36 تا 37)

اور کسی مومن مرداور مومنہ عورت کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ جب ا للہ اور اس کا رسول کسی معاملے میںفیصلہ کردیں تو انہیں اپنے معاملے کا اختیار حاصل رہے اور جس نے اللہ اور اس کےرسول کی نافرمانی کی وہ صریح گمراہی میں مبتلا ہوگیا ۔اور (اے رسول یاد کریں وہوقت ) جب آپ اس شخص سے جس پر اللہ نے اور آپ نے احسان کیا تھا ، کہہ رہے تھے :اپنیزوجہ کو نہ چھوڑو اور اللہ سے ڈرو اور وہ بات آپ نے اپنے دل میں چھپائے ہوئے تھےجسے اللہ ظاہر کرنا چاہتا ہے اور آپ لوگوں سے ڈر رہے تھے حالانکہ اللہ زیادہ حقدارہے کہ آپ اس سے ڈریں ، پھر جب زید نے اس (خاتون) سے اپنی حاجت پور ی کر لی تو ہمنے اس خاتون کا نکاح آپ سے کر دیا تا کہ مومنوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں(سے شادی کرنے ) کے بارے میں کوئی حرج نہ رہے جب کہ وہ ان سے اپنی حاجت پوری کرچکے ہوں اور اللہ کا حکم نافذ ہو کر ہی رہے گا ''۔

واقعہ یہ ہے کہ:بعثت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے جب حضرت خدیجہ نے پیغمبر اکرمصلی اللہ علیہ وآلہ سے شادی کی ، اس وقت خدیجہ نے ''زید '' نامی کسی غلام کو خریدااور بعد میں اسے پیغمبر اکرم (ص) کو ہدیہ کے طور پر دیا ،اور پیغمبر اکرم(ص) نےاسے آزاد فرمایا، اورجب اس کے قبیلہ والوں نے اس سے بائیکاٹ کیا تو آپ (ص) نے  اسے اپنا بیٹا بنایا کہ اصطلاح میں اسے تبنیکہا جاتا ہے ۔

اسلام کے ظہورہونے کے بعد ''زید '' ایک مخلص مسلمان ہوا ، اور اسلام میں اپنا مقام پیدا کیا،اور جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ جنگ ''موتہ'' میں لشکر اسلام کے کمانڈر بن گئےاور اسی جنگ میں شہید ہوئے ۔

جب پیغمبراکرم(ص) کی شادی کرنے کا ارادہ کیا تو اس وقت زینب بنت جحش کی منگنی کی ،زینب بنتجحش رسول خدا (ص) کی پھوپھی کی بیٹی تھی اور سیدہ تھی اور زید ایک آزاد ہونے والاغلام تھ کہ حضرت خدیجہ نے پیغمبر اکرم(ص) کو ہدیہ دیاتھا اور وہ سید نہیں تھا ،پیغمبر اکرم (ص)نے جب زینب کی منگنی کی تو وہ یہ سوچ کر خوشحال ہوئی تھی کہآپ(ص)اپنے لیے منگنی کررہے ہیں اس لیے خوشحال ہو کر راضی ہوئی ،لیکن جب بعد میں یہپتہ چلا کہ زیدکے لئے منگنی کی ہے تو سخت پریشان ہوئی اور منع کرنے لگی ، اور اسکا بھائی ''عبدا للہ '' بھی اس کے لئے راضی نہیں تھا اور سختی سے مخالفت کررہاتھا، اس وقت جن آیات کو ہم نے اوپر بیان کیا ہے ان میں سے ایک نازل ہوئی اور زینباورعبداللہ کو یہ خبر دار کیا کہ جب خدا اور اس کا رسول کی کام کو ضروری سمجھتےہیں تو کوئی اس کی مخالفت نہیں کر سکتا ،انہوں نے جب یہ بات سنی تو وہ بھی خدا کےحکم سے سامنے سر تسلیم خم ہوئے ( البتہ جیسا کہ معلوم ہے یہ شادی کوئی معمولی شادینہیں تھا بلکہ یہ زمان جاہلی کی ایک غلط رواج کو باطل قرار دینے کے لئے ایک مقدمہتھا ، کیونکہ زمانہ جاہلیت میں کوئی با شخصیت عورت کسی غلام سے شادی کرنے پررضامند نہیں ہوتی تھی،اگرچہ اس کا انسانی لحاظ سے بہت ہی قدر و قیمت والا ہی کیوںنہ ہو ۔

اگر سیدہ لڑکی کاکسی غیر سید سے شادی کرنے میں کوئی مختصر بھی مشکل ہوتا تو خدا اور اس کا رسول ا سکی تائید نہیں کرتے ، لیکن یہاں پر زینب نے جب اس سے منع کیا تو خداوند متعالی نےاسے خبردار کیا ۔

کہ یہ کسی بھیصورت میں یہ شادی واقع ہونا چاہئے تا کہ یہ غلط اور باطل رواج اور نسلی امتیازبندی ختم ہو جائے ۔

البتہ بعد میںزید اور زینب کے درمیان اختلافات ہوئے اورزینب کو طلاق ہوئی اس کے بعد زینب کیحوصلہ افزائی اورتبنی کے غلط رواج کو توڑنے کے لئے پیغمبر اکرم(ص) زینب سے شادی کرلی کہ دوسری آیت اس مطلب کی طرف اشارہ کر رہی ہے ۔

بہر حال یہ آیتکریمہ سید ہ کا غیر سید سے شادی کے جائز ہونے کا بہترین دلیل ہے ۔

اس کا ایک اورنمونہ ، عبد المطلب کی پوتی ضباعہ کا مقداد سے شادی کرنا ہے کہ روایات میں نقل ہواہے مخصوصاً اس روایت کے ذیل میں تصریح ہوا ہے کہ پیغمبر اکرم(ص) نے فرمایا:''میںنے یہ شادی کرایا ہے تا کہ لوگوں کے درمیان شادی وسیع پیمانہ پر واقع ہو جائے اورتمام قسم کے قید اور بند ختم ہو جائے ''۔

ہمارے زمانہ کےبہت سارے مراجع جیسے آیت اللہ خوئی اور آیت اللہ گلپائیگانی کہ خود ساداتبنی زہرا میں سے ہیں ، لیکن انہوں نے اپنی بیٹیوں کو غیر سادات کو دیئے ہیں ۔

لہذا سید ہ اورغیر سید میں شادی جائز نہ ہونے کا جو عقیدہ ہے دین میں بدعت ہے شاید دشمنان اہلبیت نے اس کو رواج دیا ہو گا تا کہ اس طرح سادات اور غیر سادات میں کوئی گهراتعلقات پیدا نہ ہو جائے ۔

۱,۶۲۵ قارئين کی تعداد:

مطلوبہ الفاظ: