pic
pic

طہارت قلوب - درس 3

  • تاریخ 18 December 2017
اہم مطالب

اگر کلمہ "طہارت" مطلق ذکر ہو تو یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد گناہ سے پاکیزہ ہونا ہو ۔
لیکن خود اسی آیت میں فرماتا ہے :" طهارت لقلوبكم " یعنی شارع نے یہاں پر طہارت قلبی کا ارادہ کیا ہے ۔

بسم الله الرّحمن الرّحيم
الحمدلله رب العالمين وصلي الله علي سيدنا محمدوآله الطاهرين

طہارت قلوب

عرض ہوا کہ بعض علماء نے یہ فرمایا ہے کہ آیہ کریمہ «ذَلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ» :سے حجاب کا واجب ہونا بھی سمجھ آتا ہے اور اس جملہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہیہ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ) کے ازواج سے مخصوص نہیں ہے بلکہ یہحکم تمام خواتین کے لئے ہے ۔

کل ہم نے کتاب اسدا ء الرغاب کے مصنف کے نظریہ کو بیان کیا اور ان کے دلیل کا جواب بھیبیان کیا ، یہاں پر ہم اس جواب پر ایک اور جملہ کو اضافہ کریں گے کہ اس آیہ کریمہمیں طہارت کا متعلق بھی ذکر ہواہے ، یعنی آیہ کریمہ میں یہ ذکر ہوا ہے «أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ» یعنی شارع نے یہاں پر مطلق طہارت کو نہیں طلب کیا ہے بلکہیہاں پر شارع نے طہارت قلبی ارادہ کیا ہے ۔

قرآن کریم میں کلمہ "طہارت" بہت زیادہ استعمالہوا ہے ، جیسے: «فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا» یا «قيل المراد الطهارة من الذنوب و الاكثر آنها الطهارة من النجاساة»۔

طہارت اگر مطلق بغیر کسی کلمہ کے بیان ہو جائے تو یہاحتمال ہے کہ اس سے مراد گناہ سے پاکیزہ گی مراد ہو ۔

یا وہ آیہ شریفہ کہ فرماتا ہے : «وَلَكِنْ يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ» :یہ عبادات جسے خداوند متعالی نے قرار دیا ہےیہ اس لئے نہیں ہے کہ تمہارے زحمت کا سبب ہو بلکہ خدا چاہتا ہے تمہیں پاکیزہ کرےکہ ہر عبادت اپنی جگہ پر گناہ سے بچنے  کےلئے علت ہے ۔

اگر کلمہ "طہارت" مطلق ذکر ہو تو یہ احتمال ہےکہ اس سے مراد گناہ سے پاکیزہ ہونا مراد ہو ۔

لیکن خود اسی آیت میں فرماتا ہے :" طهارت لقلوبكم " یعنی شارع نے یہاں پر طہارت قلبی کا ارادہ کیا ہے ۔اگر ہم مرحوم امام خمینی(رہ) اور بعض دوسرے بزرگان کو مبناء کو قبول کریں تو یہحضرات فرماتے ہیں امور قلبی تکلیف کے دائرہ سے ہی خارج ہے ، امور قلبی ایسے امورہیں جن کا اختیار انسان  کے اختیار میںنہیں ہوتا اور یہ بنیادی طور پر متعلق تکلیف بھی قرار نہیں پاتا ہے ، شارع مقدسہمیں طہارت قلبی کے بارے میں مکلف نہیں کر سکتا ، کیونکہ قلبی امور انسان کےاختیار سے خارج ہے ، اگر ہم اس بات کو بتائیں تو نتیجہ یہ ہو گا کہ خداوند متعالیفرماتا ہے : «وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعاً فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ» : اگر تم نے پردہ کے پیچھے سے ان سے کوئی چیزطلب کیا تو خودبخود طہارت باطنی اور طہارت قلبی تمہارے لئے حاصل ہو گا ۔

لیکن یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے کہ تکلیف کا متعلق قرارپائے ، شارع یہ نہیں بتا سکتا کہ تمام خواتین اس طہارت قلبی اور باطنی کو حاصلکریں ، کیونکہ قلبی امور اور ،قلبی افعال انسان کے اختیار سے خارج ہے ۔

لیکن بعض دوسرے بزرگان جیسے ہمارے والد محترم (رضوان الله تعالى عليه) ہیں انہوں نے اصول فقہ میں جو اشکالات مرحوم امام پر کیاہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ ایمان بھی ایک امر قلبی ہے اگر ایمان امر قلبی ہو اورآپ یہ بتائيں کہ قلبی امور دائرہ تکلیف سے خارج ہے تو قرآن کریم میں جتنے "آمنوا" ذکر ہوا ہے وہ کس لئے ہے ؟ان کو توجیہ کرتے ہیں کہتے ہیں: چونکہ اس کےمقدمات انسان کے اختیار میں ہےاور وہ امور قلبی جن کے اسباب اور مقدمات انسان کےاختیار میں ہو ، انسان کو پتہ ہے کہ اگر فلان کام کرے تو یہ اس کی قلب کی تاریکیکا سبب ہے اور اگر فلان کام کو انجام دیں تو اسے نورانیت حاصل ہو گی ،چونکہ یہمقدمات انسان کے اختیار میں ہے لہذا یہ متعلق تکلیف واقع ہو سکتا ہے اور خدا اس کےبارے میں حکم کرسکتا ہے ۔

یہاں ہم پہلے قول کو قبول کریں یا دوسرے قول کو چونکہ یہاںپر متعلق کو معین کیا ہے  «ذَلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ» ۔اور حجاب کے بارے میں بعض آیات جن کو ہم بعدمیں بیان کریں گے ان میں" ذلك ازكى لكم" ذکر ہوا ہے " لقلوبكم"ذکر نہیں ہے ، اس سے یہ معنی واضح ہوتا ہے کہ اس آیہکریمہ میں خداوند یہ بیان کرنے کے درپے نہیں ہے کہ ہر وہ چیز جو طہارت قلبی کا سببہے اس حاصل کرنا انسان پر واجب ہے ، بلکہ یہاں پر یہ فرمانا چاہ رہا ہے کہ «من وراء الحجاب»۔ میں ایسا اثر ہے یعنی اگر پردہ کے پیچھے رہے تو یہ طہارتقلبی کا سبب ہے ۔

پس یہ کتاب اسداء الرغاب کے مولف کا پہلا دلیل تھا اور اسعلت یا حکمت سے عمومیت کو استفادہ کرنا چاہتا تھا ، لیکن آپ نے ملاحظہ فرمایا کہاس سے عمویت استفادہ نہیں ہوتا ہے ۔

دوسرا دلیل جسے انہوں نے بیان کیا ہے فرماتے ہیں ہمارے پاسکچھ روایات ہیں کہ ایک نابینا مرد پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ) کیخدمت میں شرفیاب ہوا ،اس وقت آپ کے ازواج بھی سب بیٹھے ہوئے تھے ، پیغمبر اکرم(ص)نے ان کو پردہ کے پیچھے چلے جانے  کافرمایا۔

یہ روایت وسائل الشيعه كتاب النكاح، ابواب مقدمات النكاح، باب 129میں ذکر ہے: «استأذن ابن ام مكتوم على النبى (ص) و عنده عائشة و حفصة"؛ عایشہ  اور حفصہ آپکے پاس بیٹھی ہوئیں  تھیں،ابن ام مکتوماندر آئے - فقال لهما قوما فادخلا البيت-؛ آپ (ص) نے ان دونوں سے فرمایا اندر چلے جاؤ - فقالتا انه اعمى فقال-؛ تو ان دونوں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ تو نابینا ہےکسی کو دیکھ نہیں سکتا- فقال ان لم يركما فانكما تريانه»؛فرمایا وہ تمہیں نہیں دیکھ سکتا لیکن تم تو اسے دیکھ سکتیہو ، اسی طرح کی ایک اور روایت ام سلمہ سے نقل ہے : «كنت عند رسول الله و عنده ميمونة-؛پیغمبر اکرم(ص) کی ازواج میں میں ایک ہے - فأقبل ابن أم مكتوم و ذلك بعد أن أمر بالحجاب فقال احتجبا-؛پیغمبر اکرم(ص) نے فرمایا تم اپنے لئے پردہ قرار دیا کرواور پردہ کے پیچھے چلی جاؤ - فقلنا يا رسول الله أليس اعمى لا يبصرنا؟ -  ہم نے عرض کیا یارسول اللہ یہ نابینا ہے یہ ہمیں نہیں دیکھ سکتا ،یہاں پر بھی پیغمبر اکرم(صلی اللہعلیہ و آلہ و سلم ) نے وہی جواب فرمایا کہ اگر وہ تمہیں نہیں دیکھ سکتا ہےلیکن تمتو اسے دیکھ سکتی ہو۔

کتاب اسداء الرغاب نے شاہد کے طور پر یہ ذکر کیا ہے کہ یہروایت جو ام سلمہ سے نقل ہے اس میں ہے کہ - بعد أن امر بالحجاب -؛خداوند متعالی نے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کو یہ حکم کرنے کے بعد کہ خواتین کو پردہ کے پیچھے ہونا چاہئے یا - بعد أن امر اللّه بالحجاب خدانے پردہ کا حکم فرمایا ہے ،فرماتا ہے ہم اس سے ایکقانون کلی نکال سکتے ہیں کہ یہ آیہ شریفہ : «وَإ ِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعاً فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ» ؛پردہ کے بارے میں ایک حکم عمومی کو بیان کررہا ہے ،اور یہ پردہ کے بارے میں جو حکم ہے وہ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کے ازواج سے مخصوص نہیں ہے ، بلکہ یہ تمام خواتین کے لئے ہے ،یہ دوسرا دلیل۔

جواب:ہم ان کے اس دلیل کا چند جواب ذکر کریں گے :

1۔ ابن ام مکتوم کی یہ روایت ، روایت مرسلہ ہے ، سند کےلحاظ سے ارسال ہے یعنی کچھ راوی حذف ہوا ہے اور ان کا نام ذکر نہیں ہے۔

2۔ روایت کے الفاظ مختلف ہیں ، کتاب وسائل الشیعہ  میں ام السلمہ سے نقل ہے کہ جس میں - بعد ان امر بالحجاب -ہے لیکن کتاب کافی میں جملہ- بعد ان امر بالحجاب - نہیں ہے ۔

لہذا معلوم نہیں ہے کہ یہ جملہ اس روایت میں ہے یا نہیں ہے، جب ہم کسی روایت کے بارے میں شک کریں اس کے بعد وہ قابل استدلال نہیں ہوتا اوراس روایت سے استدلال نہیں کیا جا سکتا ہے ۔

3۔ جملہ «بعد ان أمر بالحجاب» ام سلمہ کا کلام ہے اور ام سلمہ کا کلام ہمارے لئے کوئيحجت نہیں ہے ،اگر یہ جملہ معصوم علیہ السلام کے کلام میں ہوتے تو یہ ہمارے لئے حجتہوتے لیکن ام سلمہ کا کلام کوئی حجت شرعی نہیں ہے لہذا اس سے استدلال بھی نہیں کیاجا سکتا ۔

4۔بعض روائی کتابوں میں یہ جملہ ذکر ہے «بعد أن امرنا بالحجاب»۔ہمیں جب پردہ کا حکم ہوا ؛ یعنی اس سے یہی استفادہ ہوتاہے کہ پردہ کا جو حکم ہے وہ ہم ازواج سے پیغمبر سے مخصوص تھا ۔

کتاب اسداء الرغاب کے دوسرے دلیل کا یہ چار جواب ہے لہذاہم اس آیت سے عمومیت کو استفادہ نہیں کر سکتے ہیں ۔

یہاں پر ایک مطلب ہے کہ یہ آیہ شریفہ دلالت کرتی ہے کہپیغمبر اکرم(ص) پرحجاب واجب تھا ۔

اور ابن ام مکتوم کی روایت کو ہم اگر بالفرض قبول بھیکرلیں ، اور اس کی سند کی بھی قبول کر لیں ، لیکن پھر بھی یہ روایات انہیں ازواجپیغمبر سے مخصوص ہونے کے بارے میں ہے۔

البتہ ہم فقہی اعتبار سے بتا رہے ہیں لیکن اخلاقی اورتربیتی لحاظ سے مسئلہ یہ ہے کہ عورت کے لئے سب سے بہترین چیز یہ ہے کہ نہ کوئی مرداسے دیکھیں اور نہ وہ کسی مرد کو دیکھیں،لیکن فقہی لحاظ سے کیا ہم اس ابن ام مکتومکی روایت سے استفادہ کر سکتے ہیں یا نہیں کہ عورت پر اگرچہ مستحب ہو کہ کوئی مردآئے تو پردہ کے پیچھے سے اس سے بات کریں اور اسے نہ دیکھیں ! ظاہر تو یہ ہے کہ اگرہم یہ بتائے کہ آیہ کریمہ سے صرف پیغمبر اکرم(ص) کے ازواج پر پردہ واجب ہونااستفادہ ہوتا ہے اور ان دونوں روایات کے بارے میں بھی یہی بتائيں کہ یہ بھی پیغمبراکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ) کے ازواج کے بار ےمیں ہے ، یعنی یہ بتایا جائےکہ پیغمبر اکرم(ص) کے ازواج پر یہ حکم تھا کہ وہ کسی مرد کو نہ دیکھیں ، لیکن اسسے یہ استفادہ نہیں کر سکتا کہ یہ تمام خواتین اور مومنین کے خواتین کے بارے میںہے ، اور ان پر مستحب ہونے کو بھی ہم استفادہ نہیں کرسکتے ، ہم ان روایات سے اسملاک و معیار کو اخذ نہیں کر سکتے ۔

اب ان تمام باتوں کے علاوہ کیا ہم آیہ کریمہ «وَإ ِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعاً فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ» ۔ سے وجوب کو استفادہ کر سکتے ہیں ؟

کیا اس آیہ کریمہ کے نازل ہونے کے بعد پیغمبر اکرم (صلیاللہ علیہ و آلہ و سلم ) کے ازواج میں سے کسی نے بھی کہیں پر بھی کسی مرد کو نہیںدیکھا ! اور کسی مرد نے بھی ازواج پیغمبر (ص) کو نہیں دیکھا؟یا ایسا نہیں ہے ، اسآیہ کریمہ سے اس کام کا راجح ہونا استفادہ ہوتا ہے ،اس آیت میں «فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا»۔ سے ہم وجوب کو استفادہ نہیں کر سکتے ، ایک رجحان پایاجاتا ہے ، خداوند متعال فرماتا ہے کہ فَانْتَشِرُوا۔ اب اگر کوئي شخص کھانا کھانے کے بعد دس منٹ پیغمبر اکرم(صلیاللہ علیہ و آلہ و سلم ) کے گھر میں بیٹھ گیا ، تو ہم کیا بتا سکتے ہیں کہ اس نےواجب کو ترک کیا ہے ؟  «وَلَا مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِىَّ فَيَسْتَحْىِ مِنْكُمْ وَاللهُ لَا يَسْتَحْىِ مِنْ الْحَقِّ وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعاً فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ» ۔

میں یہ عرض کرنا چاہ رہا ہوں کہ یہ جملہ جو فرمایا ہے اسیطرح یہ جملہ «ذَلِكُمْ أَطْهَرُ» ان سب سے بہتر ہونا استفادہ ہوتا ہے یعنی بہتر یہ ہے جوچیز تمہارے قلب کی پاکیزہ گی کا سبب ہے اور جو چیز ازواج پیغمبراکرم(صلی اللہ علیہو آلہ و سلم ) کے قلوب کی پاکیزہ گی کا سبب ہے وہ پردہ کے پيچھے سے کسی چیز کادرخواست کرنا ہے ۔

ہم اس آیہ کریمہ جس میں «ذَلِكُمْ أَطْهَرُ» ذکر ہے اور اس سے ما قبل فرماتا ہے: «فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا» ہم اس آیہ کریمہ سے بطور واضح وجوب کو استفادہ نہیں کر سکتےہیں ، حتی کہ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ) کے ازواج کے لئے بھی ،اوراسے دوسرے خواتین کے بتانا تو بہت ہی مشکل ہے ۔

ان تمام  باتوں کےعلاوہ یہاں پر ایک اور بات یہ ہے کہ کیا ہم «وَإ ِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعاً فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ»سے وجوب استفادہ ہوتا ہے یا نہیں ؟یا اس سے لازم ہونااستفادہ ہوتا ہے یا نہیں ؟کیا «ذَلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ »خود ایک واضح قرینہ نہیں ہے جس سےیہ استفادہ ہوتا ہے  کہ یہ واجب نہیں ہے ! لیکن تمہارے قلب کیپاکیزہ گی کا سبب ہے ،یہ ایک مطلب ہے ،جو اس آیہ کریمہ کی شان نزول کے بارے میںذکر ہوا ہے جس کے بارے میں غور وحوض کرنے کی ضرورت ہے ، دوسرا مطلب یہ ہے کہکیا  اس آیہ کریمہ کے نازل ہونے کے بعد خودپیغمبر اکرم (ص) کے زمانہ (پنجم ہجری) سے لے کر آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ) کےآخر عمر تک کسی بھی مرد نے آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ) کے ازواج میں سے کسی کونہیں دیکھا اورآپ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ) کے ازواج میں سے بھی کسی نے کسی مردکو نہیں دیکھا!باقی مطالب کو انشاء اللہ کل عرض کروں گا ۔

 

وصلی الله علی محمد و آله الطاهرین

 

 

۱,۵۱۴ قارئين کی تعداد:

آپ کی رائے

امنیتی کوڈ
مزید...
به توسعه ی کلیدواژه های دروس کمک کنید

اس درس کے لئے بنیادی لغات انتخاب کریں
اہم مطالب

اگر کلمہ "طہارت" مطلق ذکر ہو تو یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد گناہ سے پاکیزہ ہونا ہو ۔
لیکن خود اسی آیت میں فرماتا ہے :" طهارت لقلوبكم " یعنی شارع نے یہاں پر طہارت قلبی کا ارادہ کیا ہے ۔

جدید موضوعات