pic
pic

آیہ حجاب - درس 4

  • تاریخ 17 December 2017
اہم مطالب

یہ آیہ کریمہ آیات حجاب میں شامل ہی نہیں ہے ، اور اگر بعض فقہی کتابوں میں بعض علماء نے اپنی کتابوں میں آیات حجاب کے ذیل میں اس آیت کریمہ کو بھی بیان کیا ہے لیکن میرے نظر میں یہ صحیح نہیں ہے .

بسم الله الرّحمن الرّحيم
الحمدلله رب العالمين و صلي الله علي سيدنا محمد و آله الطاهرين

آیہ حجاب

عرض  ہوا  کہ یہ آیہ شریفہ قدیم کتابوں میں آیہ حجاب سےمشہور ہے ، جو چیز ابتدائي طور پر انسان کے ذہن میں آتی ہے اور آیہ کریمہ کے ماقبل اور ما بعد کے قرائن سے جو استفادہ ہوتاہے وہ یہ ہے کہ آیہ کریمہ پیغمبر اکرمصلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کے ازواج سےمربوط ہے ، ہم اس آیہ کریمہ سے واجب ہونے کو استفادہ کریں یا مستحب ہونے کو ،دونوںصورتوں میں یہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کے ازواج سے متعلق ہے ، پیغمبر اکرم‌صلیاللہ علیہ و آلہ و سلم  کی شان ومقام کی عظمت کی خاطر خداوندمتعال نے ایک حکم فرمایا ہے۔

قاعدہ اشتراک در تکلیف[1]سےعام ہونا استفادہ کرنا

یہاں پر ممکن ہے کوئی احکام میں اشتراک کے قاعدہ کو بیانکریں ،جیسا کہ حجاب کے بارے میں لکھی گئی ان کتابوں اور لٹیچر کا مطالعہ کرتے ہیںتو یہی لکھا ہوا نظر آتا ہے کہ اگرچہ یہ آیہ کریمہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کے ازواج کے بارے میں ہے لیکن  "احکاممیں اشتراک "کی قانون سے استفادہ ہوتا ہے کہ یہ تمام خواتین کے بارے  میں بھی ہے ، دوسرے الفاظ میں اسداء الرغاب کےمصنف وغیرہ نے اس حکم کی عمومیت کو ثابت کرنے کے لئے آیہ کریمہ کی ذیل سے استفادہکیا ہے «ذَلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ» کہ ہم نے ان کے بیان کا تفصیلی جواب عرض کیا ، اب اگر کوئیاس عمومیت  کے لئے احکام میں اشتراک کےقاعدہ سے استدلال کریں  اور یہ بتائيں کہاحکامات میں اصل اولی تمام لوگوں کے درمیان مشترک ہونا ہے مگر ان موارد میں جہاںپر اختصاصی ہونے کے بارے میں کوئی قرینہ ہو ، بہت ساری روایات ہیں کہ کوئي شخصجاتاہے اور امام علیہ السلام سے سوال کرتا ہے کہ میں نے ا س طرح نماز پڑھا ہے کیادوبارہ پڑھ لوں؟

فرماتا ہے : دوبارہ پڑھ لو، واضح ہے کہ یہ اس سوال کرنےوالے سے مخصوص نہیں ہے ،اور احکام میں اشتراک ایک مسلم قانون ہے بلکہ یہ فقہ کیضروریات میں سے ایک ہے بلکہ اس سے بھی بالاتر یہ ضروریات دین میں سے ہے ، احکاممعین افراد سے مختص نہیں ہوتے  مگر جہاں پرکوئی دلیل ہو جس سے یہ ثابت ہو کہ یہ حکم کسی خاص شخص سے معین ہے یعنی احکام میںاصل اولی اشتراک ہے مگر کسی دلیل سے استثناء ہوا ہو ،اب اگر یہاں پر کوئي یہ بتائےکہ ہم قبول کرتے ہیں کہ یہ آیہ کریمہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کےازواج سے مخصوص ہے لیکن ہم احکام میں تمام انسان مشترک ہونے کے قانون کے مطابق یہبتائيں گے کہ اس میں تمام مومنین کے ازواج شامل ہیں ۔

جواب: سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ یہاں پس اس آیہ کریمہ سےپہلے اور بعد میں کچھ ایسے قرائن موجود ہیں جن سے ایسی ظہور پیدا ہوتی ہے کہ یہآیہ مخصوص ہے ،اس سے ما قبل آیات یہ ہیں : «يَا نِسَاءَ النَّبِىِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِنْ النِّسَاءِ  -وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى» یہ قرینہ ہےاور بعد کی آیات کہ جن میں بیان فرمایا ہے کہآپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کےرحلت کے بعد کوئي ان کے ساتھ نکاح نہ کرے ، جن سےیہ معلوم ہوتا ہے کہ خداوند متعالی یہاں پر کچھ اختصاصی احکام کو بیان فرما رہا ہے، لہذا قاعدہ اشتراک کو ہم بھی قبول کرتے ہیں لیکن یہاں پر اختصاص کے لئے ہمارےپاس قرینہ ہے ۔

دوسرا جواب یہ ہے کہ کلی طور پر قانون اشتراک وہاں پر ہےکہ ایک حکم پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانہ میں مسلمان ہونے کےعنوان سے کچھ افراد کے لئے ثابت ہو ، ایسے موارد میں اس حکم میں تمام مومنین ومومنات شامل ہیں.

 ابھیہمیں شک ہے کہ کیا اس حکم میں ہم بھی شامل ہیں یا نہیں ؟ قانون اشتراک کے مطابق اسمیں سب شامل ہے ، لیکن قانون اشتراک کا مورد وہاں پر ہے کہ جس وقت وہ حکم صادر ہورہا ہے اس میں یقینی طور پر اسی وقت کے تمام مخاطبین شامل ہوں ، لیکن کیا غائبین  بھی اس میں شامل ہیں یا نہیں اس میں شک ہو تووہاں پر قانون اشتراک کو جاری کر سکتا ہے ۔

لیکن یہاں پر پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کےگھر والوں کے لئے ایک خصوصی حکم ہے : «فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا»   کیا ہم یہاں پر «فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا» کو سب جگہوں کے لئے بتائیں؟ کہ یہ بتایا جائے کہ جیسے ہیکھانا کھا لیا مستحب ہےیا ضروری ہے کہ وہاں سے چلے جائے ، جیسا کہ بعض افراد اسیآیہ کریمہ سے استدلال کرتے ہوئے یہی بتاتے ہیں ، لیکن ہم سب جگہوں پر ہم اس آیت سےاستدلال نہیں کر سکتے ، بلکہ یہ حکم صرف پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کے گھر سے متعلق اور اسی اجتماع کے بارے تھا ۔

آیات حجاب میں سے نہیں ہے ۔

اس مطلب کے بارے میں غور کریں کہ جس مطلب کو آج ہم بیانکریں گے اس سے ہم اس نتیجہ تک پہنچنا چاہتے ہیں یہ آیہ کریمہ آیات حجاب میں شاملہی نہیں ہے ، اور اگر بعض فقہی کتابوں میں بعض علماء نے اسے اپنے کتابوں میں آیاتحجاب میں اسے بیان کیا ہے تو میرے نظر میں یہ صحیح نہیں ہے ، بعض بزرگان جیسےمرحوم صاحب جواہر (ر ) اس آیہ کریمہ کی اطلاق سے استناد کرتے ہوئے یہ بیان کرناچاہ رہے ہیں کہ اس آیہ کریمہ کے اطلاق سے جو حکم حاصل ہوتا ہے اس سے حتی کہ چہرہاور ہتھلی کو بھی چھپانا واجب ہے ، اس حد تک اس آیہ کریمہ کی اطلاق میں توسعہ دیاہے !جی نہیں یہ آیہ کریمہ حجاب سے کوئی مربوط نہیں ہے ، ٹھیک ہے اس آیہ کریمہ میںلفظ " حجاب" ذکر ہوا ہے لیکن اس سے مراد فقہ میں مورد بحث حجاب  نہیں ہے ، فقہی اصطلاح میں حجاب خواتین کا پردہکرنا ہے کہ خواتین کو کس حد تک پردہ کرنا چاہئے اور مرد کو کس حد تک پردہ کرناچاہئے ، لیکن یہاں اس آیہ کریمہ میں حجاب کے مقابلہ میں لقاء ہے ، یہاں پر حجاب کا نقیض لقا ء ہے ۔

عرب جاہلیت میں یہ رواج تھا کہ لوگ ایسے ہی بغیر کسی اطلاعکے دوسروں کے گھر میں چلے جاتے تھے ایک دوسرے کے کمروں میں چلے جاتے تھے ، اور جبدیکھتے تھے کہ کسی کے گھر میں دسترخوان بچھا ہوا ہے تو آکر اس دسترخوان پر اس گھرکے اہل و عیال کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے ، جاہلیت میں یہ رواج عام تھا ،لیکن جب پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) مبعوث ہوئے ، تو اس وقت بھی یہعرب کے جاہلی لوگ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے گھر میں بھی اسی رواجکے مطابق آنے لگے ، سر نیچے کر کے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے گھرمیں آتے تھے اور دعوت کيے بغیر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے گھر میں آتے تھے ،اس وقت یہ آیہ کریمہ نازل ہوئی: «لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِىِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ» ۔یہ آیہ کریمہ پہلے سے ہی پیغمبر اکرم صلیاللہ علیہ و آلہ و سلم  کے گھر کے بارے میںہے ، خدا وند متعالی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے گھر کی عظمت کوبیان کرنا چاہتا ہے ، یہ لوگ پہلے بغیر کسی دعوت کے اور اجازت لئے بغیر آتے تھے ،اس وقت یہ آیہ کریمہ نازل ہوئی کہ جب تک تمہیں دعوت نہ دی جائے اور اجازت نہ دیجائے اس گھرمیں آنے کا حق نہیں ہے ، اور جب دعوت کرے تو چلے جاؤ  اور جب کھانا کھا چکے ہو تو جلدی سے چلے جاؤ،یہ «فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا»  پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے گھرکے بارے میں ہے ۔ ہم خود آیہ کریمہ کے مطابق یہ بات نہیں کر سکتے کہ یہ آیہ کریمہایک حکم کلی کو بیان کر رہا ہے کہ جہاں بھی دعوت ہو تو مستحب ہے کہ کھانا کھانے کےفورا بعد وہاں سے چلا جائے ،یا اس کام کو کرنا واجب ہے ، ہم استدلالی قوانین کےمطابق آیہ کریمہ سے ایسا حکم استخراج نہیں کر سکتے ، اس وقت جاہلیت کا رسم و رواجہی یہ تھا کہ اگر کسی کے گھرسے کوئی چیز ضرورت ہوتی تو اطلاع دئیے بغیر چلے جاتےتھے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ازواج کے گھروں میں بھی اسی طرحچلے جاتے تھے اور جس چیز کی ضرورت ہوتی تھی اسے اٹھا لیتے تھے ، یا کمرہ کے اندرجا کر ان سے مانگ لیتے تھے اس وقت یہ آیت کریمہ نازل ہوئی : «وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعاً فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ» اگر گھر کے اندر سے کوئي چیز اٹھانی ہو تو پردہ کے پیچھےسے مانگ لیا  کرو، سر نیچے کر کے پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ازواج کے کمروں میں چلے نہ جاؤ ، بلکہ پردہ کےپیچھے سے وہ چیز طلب کرو، ملاحظہ فرمائيں کہ آیت کریمہ میں عورت کے پردہ کے بارےمیں کچھ بیان ہی نہیں کیا ہے کہ عورت پردہ کے پیچھے چادر پہنی ہوئی ہو یا نہ ہو ۔

ہم نے اگرچہ پچھلے درس میں یہ بیان کیا تھا کہ «لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ» سے شاید یہ استفادہ ہوتا ہے کہ اس حکم میں مرد اور عورتدونوں شامل ہیں لیکن یہ بھی خارج از امکان نہیں ہے کہ ہم  بتا دیں کہ آیہ کریمہ صرف مردوں کے بارے میں حکمبیان کر رہا ہے کہ تم لوگوں کو  اگر کوئیچیز طلب کرنا ہے تو پردہ کے پیچھے سے طلب کرو ، نہ یہ کہ خواتین پر واجب ہو کہپردہ کے پيچھے چلے جائے ،اگرچہ آیہ کریمہ کے ذیل میں فرماتا ہے : «ذَلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ» : لیکن جو چیز اس آیت شریفہ میں واضح ہے وہیہ ہے کہ  آیت کریمہ میں پہلے تو خطابمردوں سے ہے ، لہذا جو چیز یہاں پر عرض کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ابھی ہم جب یہبیان کرنا چاہتے ہیں کہ کیا عورت پر پردہ واجب ہے یا نہیں ؟ اور کس حد تک  پردہ واجب ہے ؟ اس آیہ کریمہ کو ہم آیات حجابمیں قرار نہیں دے سکتے ، یہ آیہ کریمہ جاہلیت کے ایک باطل رسم وہ بھی پیغمبر اکرمصلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے گھر کے بارے میں تھا اسے بیان کر رہا ہے ، شاید خودان کے گھروں میں یہ چیز ضروری نہیں تھی ، جناب آقای حبیبی نے مرحوم آقای معرفت کی کتاب " التمهید"کو لے آئے میں نے اسے ملاحظہ کیا کہ انہوں نے بھی صراحتا بیان کیا ہے کہ سورہمبارکہ احزاب ،سورہ نور سے پہلے نازل ہوئی ہے ، اگرچہ قرآن کریم میں بیان کے لحاظسے سورہ نور،سورہ احزاب سے پہلے ہے ،لیکن زمان اور تاریخ نزول کے لحاظ سے سورہاحزاب کو انہوں نے سورہ 90 قرار دیا ہے اور دوسروں نے 88 یا 89 یا 90 بتائے ہیں ،اس وقت سورہ نور کی یہ آیت کریمہ «قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ» :نازل نہیں ہوئی تھی ، حجاب کے بارے میں سبسے پہلا حکم یہ تھا کہ جب تم لوگ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے گھرمیں کھانے پر جائے تو سیدھا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ازواج کےکمروں کے اندر چلے نہ جاؤ « فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ» :اگر ہم خالی الذہن اس آیہ کریمہ کی طرف مراجعہ کریں توآیہ کریمہ کا ظہور واضح طور پر یہ ہے کہ یہ مردوں کے لئے حکم کو بیان کر رہا ہے ،خواتین کے بارے میں نہیں ہے اگرچہ یہ اثر خواتین کے لئے بھی ہے ۔

تاریخی شواہد

طلاب محترم اس بارے میں کچھ مقدار تاریخ کی طرف بھی مراجعہفرمائيں ، ملاحظہ فرمائیں کہ ہمارے پاس کوئی ایسی دلیل نہیں ہے کہ پیغمبر اکرم صلیاللہ علیہ و آلہ و سلم کے گھر کے علاوہ دوسرے   مومنین کے خواتین جب آیہ کریمہ « وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ »  نازل  ہوئی ہو تو گھر سے باہر نہیں نکلی ہو ، اور حضرت زہرا سلام اللہ علیہا  جب فدک کے واقعہ میں مسجد میں تشریف لے جا کرابابکر کے پاس احتجاج کیا تو وہاں پر کیا حضرت زہرا سلام اللہ علیہا  اور ابابکر کے درمیان کوئی پردہ لگانے کا حکمدیا ؟ البتہ یہ ذکر ہوا ہے کہ ابو بکر نے احترام کے طور پر بتایا تھا کہ  ایک پردہ لگایا جائے ، لیکن حضرت سلام اللہعلیہا  چند دفعہ گئی ہیں صرف ایک دفعہ نہیں ، یا جب حضرت زینب سلام اللہ علیہا  نے مجلس یزید میں خطبہ  دیا تو کیا  پردہ کے پیچھے سے خطبہ دیا ؟اور کیا خود پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانہ میں جب خواتین آکر آپ سے سوالات کرتيتھیں تو  پردہ کے پیچھے سے کرتی تھیں ؟ اگرہم یہ بتانا چاہیں کہ یہ آیہ کریمہ ساری خواتین کے لئے حجاب کے واجب ہونے کو بیانکر رہی ہے تو کیا  پیغمبر اکرم صلی اللہعلیہ و آلہ و سلم کے زمانہ   میں اس پر عملہوا ہے ، ہمارے پاس بہت ساری روایات ہیں جن میں بیان ہوا ہے  خواتین آکر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوالات کرتی تھیں اور کہیں بھی یہ نہیں لکھا ہے کہ وہ پردہ کے پیچھے سےسوال کرتی ہو ،اور اس کے بعد آئمہ اطہار علیہم السلام کے زمانہ میں بھی ایسا نہیںتھا ،جب ہم تاریخ کی طرف مراجعہ کرتے ہیں تو یہی نظر آتا ہے کہ جب سے آیہ کریمہ « وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ »  نازلہوئي اس کے بعد سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ازواج گھر سے باہرنہیں نکلی تھیں ۔

لیکن ان کے علاوہ تاریخ میں کہاں لکھا ہوا ہے کہ جب بھیمومنین کے بیویاں کہیں چلی جاتی  اور کسیدوسرے مرد سے کوئی بات کرنا چاہتی تھی تو پردہ کے پیچھے سے کرتی تھی ، بلکہ اس کابرعکس تاریخ میں ثبت ہے ۔

پس ہم یہ نہیں بتا سکتے کہ یہ آيت کریمہ حجاب پر دلالتکرتی ہے ،«فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ»  یہحکم مردوں کے لئے ہے یہ لوگ اگر اجازت لیے بغیر ازواج پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کے کمروں میں چلے جاتے تھے توایک حرام کام انجام دیتے تھے ، یہاں پر ایکمطلب ہے کہ آیہ 55 میں ہے «لَا جُنَاحَ عَلَيْهِنَّ فِي آبَائِهِنَّ»  جب  آیہ53 نازل ہوئی تو بعض لوگوں نے بتایا کہ اب تو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بیویوں کے باپ ، بھائی ، بہنیں کسی کو بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کےازواج کے کمروں میں جا نے یا وہاں سے کوئی چیز اٹھانے کا حق نہیں ہے ! اس وقت یہآیت کریمہ نازل ہوئی «لَا جُنَاحَ عَلَيْهِنَّ فِي آبَائِهِنَّ وَلَا أَبْنَائِهِنَّ وَلَا إِخْوَانِهِنَّ وَلَا أَبْنَاءِ إِخْوَانِهِنَّ وَلَا أَبْنَاءِ أَخَوَاتِهِنَّ وَلَا نِسَائِهِنَّ وَلَا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ» ؛ تقریبا 9 قسم کے افراد کو اس حکم سےاستثناء کیا ہے کہ ان کے لئے کوئی منع نہیں ہے ان پر کوئي اشکال نہیں ہے ،پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ازواج کے باپ ، ان کے بیٹے، ان کے بھائی ،بھائی کے بیٹے اور بہن کے بیٹے کے لئے کوئي اشکال نہیں ہے یہ لوگ آسکتے ہیں ۔

«نِسَائِهِنَّ» سے کیا مراد ہے ؟

« نِسَائِهِنَّ»؛کے بارے میں شیعہ اور سنی تفاسیر میں دو قسم کی تفسیرہوئی ہے ، تفسیر مجمع البیان میں « نِسَائِهِنَّ »؛ کے لئے دو احتمال دیا ہے ایک احتمال وہ روایت ہے جو ابنعباس سے نقل ہے ، اس وقت یہود و نصاری کے خواتین آتی تھیں اور پیغمبر اکرم صلیاللہ علیہ و آلہ و سلم کے ازواج کی خصوصیات کو دیکھ لیتی تھیں ، جا کریہ اپنےشوہروں کو بیان کرتی تھیں لہذا یہ «نسائهن »؛

یعنی مومنین کے ازواج۔

دوسرا احتمال یہ ہے کہ « نِسَائِهِنَّ »سے مراد تمام خواتین ہیں فرق نہیں وہ مومن خواتین ہوں یاغیر مومن خواتین ،آلوسی نے بھی اپنی کتاب روح المعانی میں بھی دو قول کو ذکر کیاہے پہلا قول وہی ابن عباس کا قول ہے کہ اس سے مراد مومنین کی بیویاں ہیں ، اوردوسرا قول یہ ہے کہ « نِسَائِهِنَّ»؛ سے مراد رشتہ دار خواتین ہیں جیسے ماں ، بہن ، بہن کیبیٹی ، گھر میں کام کرنے والی خواتین ،یہ دو احتمال بیان ہوا ہے پہلا احتمال وہیہے جو ابن عباس کے روایت کے مطابق ہے ، اور دوسرا احتمال مفسرین کا قول ہے ، « نِسَائِهِنَّ » اس میں کوئي شک نہیں ہے کہ اس میں تمام خواتین شامل نہیںہیں ، مجمع البیان میں دوسرے قول کو جو بیان کیا ہے کہ اس میں تمام خواتین شاملہیں مومن ہوں یا کافر، کہ  کافروں کےبیویاں تو « نِسَائِهِنَّ »؛ نہیں ہے، لہذا ممکن ہے کہ یہاں پر وہی مراد ہو جسے آلوسینے دوسرے احتمال میں بیان کیا ہے ، ہمارے درمیان بھی یہ محاورہ موجود ہے کہتے ہیںہمارے خواتین ، یعنی ہمارے رشتہ دار خواتین ، «نِسَائِهِنَّ »اسی میں ظہور رکھتا ہے ،اب یہاں پر ممکن ہے کوئی یہ بتائیںکہ  «و لَا جُنَاحَ عَلَيْهِنَّ»  یہقرینہ ہے کہ اس سے پہلے جو حکم بیان ہوا ہے وہ ایک لازمی حکم ہے ؛ ملاحظہ فرمائيںہم نے کل کے درس میں یہ کہاتھا  «ذَلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ» ؛یہ قرینہ ہے کہ یہ حکم ایک لازمی حکم نہیںہے ، کیا «لَا جُنَاحَ عَلَيْهِنَّ» قرینہ ہو سکتا ہے یہ بیان کرنے کے لئے کہ اس سے مراد ایکلازمی حکم ہے ؟کہ ہم اس کو قرینہ قرار دیں ۔

قرینہ اور ذی القرینہکے بارے میں ایک مطلب یہاں بیان کرتا ہوں کہ ایک کلام میں عام طور پر ذیل کوصدرروایت کے لئے  قرینہ قرار دیا جاتا ہے ،اگرشارع نے کسی حکم کے بارے میں امر کیا ہے «فَاسْأَلُوهُنَّ»  اس کے بعد ذیل میں ایک عنوان کو بیان کیا ہے جو مستحب ہونے کے بارے میںظہور پیدا کرتا ہے ، یہاں پر ذیل قرینہ ہے صدر کے لئے ،جملہ کا صدر ذیل کے لئےقرینہ نہیں ہو سکتا ، یہاں پر ہم اس مطلب کو دوسرے الفاظ میں  بیان کر سکتے ہیں کہ قرینہ وہ ہے جو ذی القرینہسے زیادہ اظہر ہو ،یعنی جو بھی زیادہ واضح ہو وہ قرینہ ہے فرق نہیں وہ جملہ کےابتداء میں ہو یا آخر میں ، کلی طور پر وہ چیز قرینہ ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے جوذی القرینہ سے زیادہ واضح ہو ، تا کہ اس اظہر کے ساتھ اس ظاہر میں دخل اندازی کر سکے، یہاں پر « لَا جُنَاحَ عَلَيْهِنَّ»  استثناء کر رہا ہے ، یعنی اس گروہ پر کوئي اشکالنہیں ہے ، یہ  اس حکم کے واجب ہونے پر بہتہی واضح قرینہ ہے ، اور یہ بالکل صحیح بات ہے یعنی اس کا قرینہ ہونا «ذَلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ»  کے قرینہ ہونے سے زیادہ واضح ہے ، شارع مقدس اگر «ذَلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ»  کوبیان نہیں فرماتے تو اس کلام میں کوئی عیبنہیں ہوتا ، یہاں پر صیغہ امر ہے «فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءحِجَابٍ" یہ وجوب میں ظہور رکھتا ہے اگر یہ« لَا جُنَاحَ عَلَيْهِنَّ » نہ ہوتا اور صرف جملہ « ذَلِكُمْ أَطْهَرُ» ہوتا تو ہم یہ کہہ سکتے تھے کہ یہ قرینہ ہے اس کے واجب نہہونے کے لئے ، بہتر ہے کہ پردہ کے پیچھے سے ان چیزوں کو طلب کریں لیکن « لَا جُنَاحَ عَلَيْهِنَّ » اس حکم کے واجب ہونے کو بیان کرنے کے لئےبہت ہی اچھا قرینہ ہے ۔

دوسرا مطلب: کیا ہم یہبتا سکتے ہیں کہ آیہ 55 سے یہ استفادہ ہوتا ہے کہ یہ حکم صرف ازواج پیغمبر کے لئےہے چونکہ یہاں پر «لَا جُنَاحَ عَلَى آبَائِهِنَّ» نہیں بتایا گیا ہے بلکہ  «لَا جُنَاحَ عَلَيْهِنَّ،» بیان ہوا ہے، یہاں پر اسی بات کو دہرائے جسے اول میں بیانکیا تھا کہ خداوند متعالی نے یہاں پر خواتین کوحکم کیا ہے کہ پردہ کے پیچھے سےرہیں اور مردوں کو بھی یہ حکم کیا ہے کہ اگر کوئي چیز طلب کرنا ہے تو پردہ کےپیچھے سے  طلب کریں ،آج کے درس کے ابتداءمیں بتایا تھا کہ «فَاسْأَلُوهُنَّ» سے واضح ہوتا ہے کہ یہ حکم مردوں کے لئے ہے ، خواتین توکمروں کے اندر ہے انہیں کیا پتا کہ کوئی مرد کمرہ میں آنا چاہتا ہے یا نہیں !مردوںکو چاہئے کہ پردہ کے پیچھے سے ان سے کوئي چیز طلب کرے ، تو اب یہاں پر ہماری باتیہ ہے کہ کیا اس «لَا جُنَاحَ عَلَيْهِنَّ» قرینہ ہوسکتا ہے اس کے لئے کہ جی نہیں یہ حکم پہلی نظر میںاور ذاتا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ازواج کے لئے ہے ، لیکن ہمارا نظر یہ ہے کہ یہ استفادہ نہیں ہوتا «لَا جُنَاحَ عَلَيْهِنَّ»  یعنیاس حکم میں جسے ہم نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ازواج کے لئے بیانکیا ہے اس سے یہ استثناء ہوتا ہے ،اور ہم ایسا نہیں بول سکتے کہ یہ حکم خواتین کے لئےہے لیکن اس حکم سے ان کے باپ  ، بھائي ،بیٹے یہ سب استثناء ہیں ، لیکن خود حکم خواتین کے لئے ہے  «لَا جُنَاحَ عَلَيْهِنَّ» یعنی یہ حکم جسے ہم نے تم مردوں کے لئے پیغمبر اکرم صلیاللہ علیہ و آلہ و سلم کے ازواج کے بارے میں بیان کیا ہے ، لہذا یہاں پر حکم اولیمردوں کے لئے ہے لیکن اس کے بعد مردوں کے گروہ میں سے کچھ لوگوں کو استثناء کیا ہےیعنی ہم نے تم مردوں کو جو بتایا ہے کہ سر نیچے کر کے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کے ازواج کے کمروں میں چلے نہ جاؤ لیکن ان کے باپ جاسکتے ہیں ، ان کےبھائی جا سکتا ہے ۔۔۔۔ لھذا ہم جملہ « لَا جُنَاحَ عَلَيْهِنَّ »  یہمعنی استفادہ نہیں کر سکتا ۔

پس اس آیت کریمہ کا نتیجہ یہ ہے کہ آیت کریمہ پیغمبر اکرمصلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ازواج سے مخصوص ہے ، اور حجاب اصطلاحی سے مربوط نہیںہے ، بلکہ اسے کلی طور پر کوئی ربط ہی نہیں رکھتا ، اگرچہ یہ دلالت کرتی ہے لیکنہم اس سے عمومیت کو استفادہ نہیں کرسکتے ہیں ۔

وصلی الله علی محمد و آله الطاهرین

 

 



[1] -یہ ایک اصولی قواعد میں سے ہے جس کا مطلب ہے کہ خدا کےاحکامات میں سارے انسان برابر ہیں اور سب ان احکام میں مشترک ہیں

۱,۴۵۹ قارئين کی تعداد:

آپ کی رائے

امنیتی کوڈ
مزید...
به توسعه ی کلیدواژه های دروس کمک کنید

اس درس کے لئے بنیادی لغات انتخاب کریں
اہم مطالب

یہ آیہ کریمہ آیات حجاب میں شامل ہی نہیں ہے ، اور اگر بعض فقہی کتابوں میں بعض علماء نے اپنی کتابوں میں آیات حجاب کے ذیل میں اس آیت کریمہ کو بھی بیان کیا ہے لیکن میرے نظر میں یہ صحیح نہیں ہے .

جدید موضوعات