pic
pic

آثار موت کو دیکهنے اور دنیوی عذاب کے نازل بونے کے بعد توبہ قبول نہیں - درس 18

  • تاریخ 22 February 2018
اہم مطالب


بسم الله الرحمن الرحيم

الحمد لله رب العالمين و صلي الله علي سيدنا محمد و آله الطاهرين

قرآن کریم کی آیات کریمہ کے ظاہر کے مطابق اگر انسان مرتے وقت موت کے آثار جیسے ملک الموت آنے وغیرہ کو متوجہ ہوجائے اورسمجھ جائے کہ اب اس دنیا سے جانے والا ہے اس وقت توبہ کرے اگرچہ ابھی اس کی زبان کام کر رہی ہے اورعقل بھی کامل ہے سوچ سمجھ بھی رکھتا ہے تب بھی اس کا یہ توبہ قبول نہیں ہے کہ سوره مبارکہ نساء میں فرماتا ہے  «وَلَيْسَتْ التَّوْبَةُ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ حَتَّى إِذَا حَضَرَ أَحَدَهُمْ الْمَوْتُ قَالَ إِنِّي تُبْتُ الْآنَ اور ایسے لوگوں کی توبہ نہیں ہے جو برے کاموں کا ارتکاب کرتے رہے ہیں یہاں تک کہ ان میں سے کسی کی موت کا وقت آپہنچتا ہے تو وہ کہہ اٹھتا ہے : اب میں نے توبہ کی ''» اور اس سے ماقبل آیت میں فرماتا ہے «إِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللَّهِ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السُّوءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ يَتُوبُونَ مِنْ قَرِيبٍ اللہ کے ذمے صرف ان لوگوں کی توبہ ہے جو نادانی میں گناہ کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں ''» جہالت عناد اور جان بوجھ کر دشمنی کرنے کے مقابلہ میں ہے (یعنی جان بوجھ کر خدا کی مخالفت نہیں کی ہے ) «ثُمَّ يَتُوبُونَ مِنْ قَرِيبٍ»  بعد والی آیت کے قرینہ کے مطابق یعنی موت آنے سے پہلےاگر توبہ کرے تو ان کا توبہ قبول ہے ،اگر کوئی گناہکار انسان موت کے آثارمعلوم ہونے سے پہلے توبہ کرے تو اس کا توبہ قبول ہے لیکن جب موت کی نشانیاںظاہرہوجائے تو اس کے بعد اس کا توبہ کسی بھی صورت میں قبول نہیں ہے اور اس میں کوئی استثناء بھی نہیں ہے  «وَلَيْسَتْ التَّوْبَةُ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ حَتَّى إِذَا حَضَرَ أَحَدَهُمْ الْمَوْتُ» اب ان کے لئے توبہ کرنے کا امکان نہیں ہے ،یعنی ان کا توبہ قبول نہیں ہوگا ۔
جب موت حاضر ہوتی ہے تو کہتا ہے « قَالَ إِنِّي تُبْتُ الْآنَ» میں توبہ کروں گا لیکن ان کا توبہ قبول نہیں ہے ، آیت کا ظاہر یہ ہے کہ  «رب ارجعوني لعلي اعمل صالحاً»  کہنے کے علاوہ «إنّي تبت الآن»  بھی کہتا ہے  میں ابھی توبہ کرنا چاہتا ہوں ،اس وقت خدا اس کے جواب میں فرماتا ہے :''ولیست'' تمہارا یہ توبہ قبول نہیں ہے اورخدابھی اسے قبول نہیں کرتا ۔
«فَلَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا قَالُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَحْدَهُ» پھر جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو کہنے لگے : ہم خدائے واحد پر ایمان لاتے ہیں «وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ، فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَ» اور جسے ہم اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے تھے اس کا انکار کرتے ہیں ، لیکن ہمارا عذاب دیکھ لینے کے بعد ان کا ایمان ان کے لئے فائدہ مند نہیں رہا"[1]عرض ہوا کہ شیخ طوسی اعلی اللہ مقامہ الشریف نے تفسیر  تبیان میں فرمایا ہے :ان لوگوں نے جب خدا کے عذاب کو دیکھا تو بولے :اے خدا! ہم ایمان لے آئے جب عذاب کو دیکھتا ہے
تو ایمان لے آتا ہے ان کی یہ ایمان کسی کام کا نہیں ہے ! اس کی بعد فرماتا ہے : «سُنَّةَ اللَّهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ فِي عِبَادِهِ»  یعنی یہ الہی قانون میں سے ایک ہے کہ جب عذاب نازل ہو رہا ہو اس وقت توبہ اور استغفار کسی کام کا نہیں ہے ! یہ پچھلے امتوں میں بھی ایسا ہی تھا ۔
شیخ طوسی فرماتا ہے  «فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ أي عند رؤيتهم بعث الله و عذابه لأنّهم يسيرون عند ذلك ملجعين و فعل الملجع لا يستحق به الثواب» اس وقت یہ لوگ مجبور ہیں اورعذاب کو متحمل ہونے کے علاوہ ان کے پاس اور کوئی چارہ جوئی نہیں ہے اورجوانسان مجبورہواورمجبوری کی وجہ سے '' انی تبت الآن '' بولے اس کی اس توبہ کی کوئی قیمت نہیں ہے «لا يستحق به الثواب».۔
بعض بزرگوں نے کتاب معاد در قرآن[2] میں شیخ طوسی سے یہ نسبت دی ہے کہ شیخ طوسی نے اس آیہ کریمہ سے یہ استفادہ کیا ہے کہ مرتے وقت یا مرنے کے آثار کو دیکھنے کے بعد جو توبہ کرے وہ قبول نہیں ہے ، درحالیکہ ہم نے ابھی آپ کے سامنے شیخ طوسی کے الفاظ کو بیان کیا کہ انہوں نے مرنے کے وقت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا ہے ،یوں لکھا ہے  «عند رؤيتهم بعث الله وعذابه لأنّهم يسيرون عند ذلك ملجعين و فعل الملجع لا يستحق به الثواب» یعنی انہوں نے پہلے شیخ طوسی کے کلام کو مرنے کے وقت کے توبہ پرحمل کیا ہے اوراس کے بعد ان پراشکال کیا ہے کہ یہ آیہ کریمہ «فَلَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَ»  مرنے سے مربوط نہیں ہے بلکہ دنیوی عذاب کے بارے میں ہے ، پس جونسبت شیخ طوسی سے دی ہے وہ صحیح نهیں ہے شیخ طوسی کی بات یہ ہے کہ فرماتا ہے جب عذاب الہی آجاتی ہے تو وہ مجبورہوجاتاهے  اور اس وقت اس کا توبہ کسی بھی صورت میں قبول نہیں ہے ، اس کتاب معاد میں فرمایا ہے : موت کو دیکھنے اوردنیوی عذاب کو دیکھنے میں فرق ہے ،موت کو دیکھنے کے بعد توبہ کسی بھی صورت میں قبول نہیں ہے ، اوراس میں کوئی استثناء بھی نہیں ہے ،لیکن عذاب میں استثناء ہوسکتا ہے ، ممکن ہے کسی قوم میں خدا کے عذاب کے وقت  لوگ توبہ کرے اور اس توبہ کی وجہ سے وہ عذاب ٹل جائے ۔
شیخ طوسی کا یہ کلام مطلق ہے کہ عذاب کے وقت یہ لوگ مجبور ہو جاتے ہیں اور جب انسان مجبورہوکرتوبہ کرتاہے تو اس کا یہ توبہ قبول نہیں ہے ،انہوں نے اپنی اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کہ موت کے آثار کو دیکھنے کے بعد کرنے والے توبہ کے برخلاف دنیوی عذاب کے وقت جو توبہ کرتے ہیں وہ توبہ قبول ہے اورعذاب الہی ٹل سکتا ہے اپنی اس مطلب کے لئے اس آیہ کریمہ سے استدلال کیا ہے : «فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيمَانُهَا إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْىِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَى حِين»[3]کیا کوئی بستی ایسی ہے کہ (بروقت) ایمان لائی ہواوراس کا ایمان اس کے لیے سودمند ثابت ہوا ہو سوائے قوم یونس کے ؟ جب وہ ایمان لائے تو ہم نے دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب ان سے ٹال دیا اور ایک مدت تک انہیں (زندگی سے ) بہرہ مند رکھا
سورہ مبارکہ غافر کی آخری آیت جس میں فرماتا ہے سنّةً الله قد خلت في عباده اس کے مطابق خدا کا قانون یہ ہے کہ خدا جس وقت کسی قوم پرعذاب نازل کرناچاہتا ہے تو اس وقت وہ قوم اگر ایما ن لے آئے ،تو یہاں استثناء ہو سکتا ہے ،اور اس کے لئے بہترین شاہد حضرت یونس کا واقعہ ہے ۔
ہم یہاں ابھی یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ یہ بات کہاں تک صحیح ہے، اس بارے میں ایک نظریہ یہ ہے کہ دنیا وی عذاب بھی موت کی طرح ہے ، جس طرح موت کے وقت توبہ قبول نہیں ہے ،اسی طرح عذاب کے نازل ہوتے وقت بھی توبہ قبول نہیں ہے ، جس طرح موت کے وقت کسی کا بھی توبہ قبول نہیں ہے اسی طرح عذاب دنیوی کے وقت بھی کسی کا توبہ قبول نہیں ہو سکتا ۔
دوسرا نظریہ:شیخ طوسی فرماتا ہے دنیوی عذاب اورموت میں فرق ہے،موت کے وقت کسی کا توبہ قبول نہیں اوروہاں توبہ کسی فائدہ کانہیں ہے،لیکن دنیوی عذاب میں استثناء ممکن ہے اور اس کا شاہد وگواہ حضرت یونس(ع) کے قوم کا واقعہ ہے ۔
ہم یہاں اس مطلب کی وضاحت کے لئے خود آیہ کریمہ کے بارے میں کچھ گفتگو کرتے ہیں:
 «فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ آمَنَتْ»اس میں ''لولا'' نافیہ ہے یا تحذیزیہ؟ بعض نے بتایا ہے قرآن کریم میں جہاں بھی '' لو لا'' ذکر ہوا ہے وہ ''ہل لا '' تحزیزیہ کے معنی میں ہے مگر دو جگہوں پر کہ ان میں سے ایک مورد یہی آیہ کریمہ ہے ،اس آیہ کریمہ میں ''لولا'' "ہل لا" کے معنی میں نہیں ہے ،"ھل لا"تحزیزیہ سرزنش کر کے سوال کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے ! لیکن اس آیہ کریمہ میں بتایا ہے کہ لولا ''ما '' نافیہ کے معنی میں ہے «لو لا كانت قريةٌ» یعنی « ما كانت قريةٌ آمنت» کوئی بھی بستی ایمان نہیں لائے کہ یہ ایمان ان کے لئے سودمند ہو،ایک دفعہ ہم آیہ کریمہ کا اس طرح معنی کرتے ہیں  کہ خدا وند متعالی یہ خبر دے رہا ہے فرما رہا ہے کوئی بھی بستی والے نے ایمان نہیں لائے کہ ان کی ایمان ان کے لئے سودمند ہو،یعنی گذشتہ اقوام اوربستی والوں جن کو ہم نے عذاب میں مبتلاء کیاہے ،اگر وہ عذاب کے نازل ہوتے وقت ایمان لاتے ، تو ان کا یہ ایمان ان کے لئے سودمند نہیں تھا !
لیکن اگر ہم ''لولا'' کوتحزیزیہ قراردیں تو اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ خداوند متعالی سرزنش کرتے ہوئے سوال کررہا ہے «هل لا كانت قريةٌ من القري التي اهلكناها تابت عن الكفر وأخلصت في الإيمان» یعنی خداوند متعالی یہ فرمانا چاہتا ہے کہ کیوں گذشتہ اقوام نے ہمارے عذاب نازل ہونے سے پہلے ایمان نہیں لائے تاکہ وہ ایمان ان کے لئے سودمند ہو ؟ صرف ایک قوم نے ایمان لایا وہ حضرت یونس کا قوم ہے ۔
پس ''لولا'' نافیہ  ہونے کی صورت میں خدا وندمتعالی خبر دے رہا ہے کہ کیوں گذشتہ اقوام نے ایمان نہیں لایا ،ہمارے عذاب نازل ہونے سے پہلے کیوں ایمان نہیں لائے تا کہ یہ ایمان ان کے لئے سودمند ہو! اور اگر''لو لا'' کو تحزیزیہ قرار دیں تو معنی یہ ہو گا کہ خدافرما نا چاہتا ہے گذشتہ اقوام جن پر ہم نے عذاب نازل کیا تھا کیوں ہمارے عذاب نازل ہونے سے پہلے ایمان نہیں لائے تا کہ یہ ایمان ان کے لئے سودمند ثابت ہوجائے صرف ایک قوم نے ایمان لایا وہ حضرت یونس کا قوم ہے اور جب انہوں نے ایمان لایا تو ہم نے دنیا کی خواراور ذلیل کرنے والی عذاب کو ان سے ٹال لیا  «إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْىِ»
حضرت یونس(ع) کا واقعہ مختلف نقل ہوا ہے «روي أنّ يونس بعث إلي النينوا من أرض موصل» حضرت یونس عراق میں نینوا کی سرزمین پرمبعوث ہوا تھا فكذّبوه وہاں پر لوگوں نے آ پ کو جھٹلایا  «فذهب عنهم مغاضباً» جس کے بعد آپ ناراض ہوکروہاں سے چلے گئے  «فلما فقدوه» لوگوں نے جب دیکھا کہ حضرت یونس شہر سے نکل گیا ہے  «خافوا نزول العذاب»  توڈرگئے کہ کہیں خدا کا عذاب ان پر نازل نہ ہو جائے  «فلبس المسوح» مسموح ،مسح کی جمع ہے جس کا معنی ہے وہ لباس جوبکری کے بال سے بنایا جاتا ہے ،بعض جگہوں پر انسان اپنے نفس کوفرمانبرداربنانے کے لئے یہ لباس پہن لیتا ہے تا کہ ان کا بدن سختیوں کی عادت کرے «واجّوا اربعين ليلاً» چالیس راتوں تک گریہ وفغان کرتے رہے  «وكان يونس» حضرت یونس بھی شہر سے باہر نکل جانے سے پہلے ان سے بتا چکے تھے  «إنّ عجلكم أربعون ليله» تمہیں چالیس رات تک مہلت ہے «فقالوا إن رأينا أسباب الهلاك آمنّا بك» وہ لوگ حضرت یونس سے یہ کہتے تھے ہم اگر ہلاکت کے اسباب کو دیکھ لیا توآپ پرایمان لے آئیں گے «فلما مضت خمسٌ و ثلاثون ليلة» جب پنتیس(٣٥) رات گذر گئی  «ظهرفي السماء غيمٌ اسود شديد السواد»  آسمان پر ایک بہت ہی سیاہ بادل ظاہر ہو گیا  «فظهر منه دخانٌ شديد» اوراس بادل سے کالی دھواں نکل کرنیچے کی طرف آنے لگے«وحبط ذلك الدخان حتي وقع في المدينة‌وسوّد سطوحهم» جب لوگوں نے اسے دیکھا تو یقین کیا اب تو حضرت یونس کی بات واقع ہونے والی ہے  «فخرجوا إلي الصحراء اورصحراء کی طرف نکل گئے  «وفرقوا بين النساء و الصبيان» » بچوں کو ان کے ماں سے الگ کیے ،جب ماں اوربچہ کو ایک دوسرے سے جدا کرتے ہیں تو وہ دونوں آہ وفغان کرتے ہیں«وبين الدواب و اولاده» حیوانوں میں بھی ماں بچوں میں جدائی ڈالی  «فهنّ بعضها إلي بعض» ہرکوئی چیخ وپکار کر رہے تھے اور آوازاوپرتک جارہی تھی  «وكثرت التضرعات» سب تضرع وزاری کر رہے تھے «واظهر الإيمان والتوبة وتضرعواإلي الله تعالي »  بہت ہی خدا کے حضور میں متضرع ہوئے  «فرحمهم وكشف عنهم»  اس وقت خدا نے ان بخش دی  «وكان ذلك اليوم يوم عاشورا يوم الجمعة» وہ دن روزجمعہ اورعاشورکا دن تھا ۔ حضرت یونس(ع) کے واقعہ کے بارے میں یہ ایک روایت ہے ۔
ایک اورروایت یہ ہے  کہ ابن مسعود نقل کرتا ہے : «بلغ من توبتهم عن يردّ المظالم حتّي أن الرجل كان يقلع الحجر بعد عن وضع عليه بناء اساسه» یہ لوگ توبہ کرنے پرراضی ہوئے تھے اورزندگی کو گناہوں سے پاک کرنا چاهتے تهے حتی یہاں تک راضی ہوا تھا کہ وہ غصبی پتھرجودیوار کی بنیاد میں ہواسے بھی نکال کر گھر کو پاک وصاف کرے  «فيردّه إلي مالكه و قيل خرجوا إلي شيخ من بقية علماءهم»بعض نقل میں ہے کہ حضرت یونس نے دیکھا لوگ ان کی بات کو نہیں سن رہے ہیں تو اسی قوم میں ایک بزرگ شخص تھا اس کے پاس مشورت کرنے کے لئے آئے ، اس زاہد شخص نے کہا ؛آپ شہر سے باہرنکل کر ان کے لئے بد دعا کریں ،جب حضرت یونس شہر سے باہر نکل گے تو  «خرجوا إلي شيخٍ من بقية علماءهم»  لوگ علماء میں سے کسی ایک عالم  کے پاس آئے  «فقالوا قد نزل من العذاب» اس عالم سے عرض کیا :ہم پرعذاب نازل ہورہا ہے ہم کیا کریں ؟ «فما تري؟» انہوں نے کہا: «فقال لهم قولوا »  انہوں نے لوگوں کو یه دعا تعلیم دی: «يا حيّ حين لا حي و يا حيّ يا محيي الموتي و يا حيّ لا إله إلا أنت»  لوگوں نے اس ذکر اوردعا کواتنا دھرایا کہ خدا نے عذاب کو ان سے اٹھا لیا ،شاید اس ذکر اوردعا میں خدا کے اسماء اعظم میں سے کوئی اسم ہو گا جس کی وجہ سے خدا نے ان کی توبہ کو قبول فرمایا۔
فضل بن عباس کہتا ہے :ان لوگوں نے اس ذکر کو پڑھا تھا : «اللهم إنّ ذنوبنا قد عظمت و جلّت» خدایا ہماری گناہیں بہت بڑی ہیں  «وأنت أعظم منها» لیکن تو ہماری گناہوں سے بہت بڑا ہے  «إفعل بنا ما أنت أهله ولا تفعل بنا ما أنا أهله» ہمارے ساتھ وہ سلوک کرے جس کا تو اہل ہے نہ وہ سلوک جس کا ہم مستحق ہیں ۔
یہاں پریہ مطلب قابل ذکر ہے کہ کیا حضرت یونس کا واقعہ اس قانون سے استثناء ہے ،یعنی یوں بتایا جائے کہ جہاں پر بھی خدا کی طرف سے عذاب نازل ہوا ہو اگر عذاب کے نازل ہوتے وقت لوگ ایمان لے آئے ''فلم یک ینفعہم ایمانہم '' ان کا یہ ایمان کسی فائدہ کا نہیں ہے اور یہ توبہ ان کے لئے سودمند نہیں اورخدا نے ایسے توبہ کوقبول نہیں کیا ہے،مگر ایک مورد کو خدانے قبول کیا ہے وہ حضرت یونس کے قوم کا توبہ ہے.
حضرت یونس کا واقعہ جس طرح آیہ کریمہ "فلولاكانت قريةٌ آمنت فنفعها ايمانها" سے استثناء ہے اسی طرح اس آیہ کریمہ سے بھی استثناء ہے  «فلما رأوا بأسنا قالوا آمنا بالله وحده فكفرنا بما كنا به مشركين فلم يك ينفعهم ايمانهم لما رأوا بأسنا سنة الله التي قد خلت في عباده» دوسرے الفاظ میں ہم یوں بتائیں کہ یہاں پرخدا کا قانون استثناء پزیر ہے ۔
خود یہی آیہ کریمہ فرماتا ہے کہ یہ خدا کا قانون ہے اورخدا کا قانون قابل تغییروتبدل نہیں ہے ! لہذا آیہ کریمہ کا سیا ق یہ ہے کہ یہاں تخصیص صحیح نہیں ہے ، یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ خدا کا قانون ہے مگرایک مورد میں یہ قانون عملی نہیں ہے ، اگراس موردمیں تخصیص پایاتو اس کا مطلب ہے کہ یہ خدا کا قانون نہیں ہے ،کیونکہ خدا کا قانون دائمی اور ہمیشگی ہے ،جوعام ہے اورتخصیص کے قابل نہیں ہے ،پس آیا ت کا ظاہر یہ ہے کہ یہ حکم تخصیص کے قابل نہیں ہے ۔
دوسری بات یہ ہے کہ خود قرآن فرماتا ہے : «لا تبديل لسنة الله»‌  خدا کے قانون میں تبدیلی اورتغیر نہیں ہے ، یہاں اسی آیت میں فرماتا ہے : «سُنَّةَ اللَّهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ فِي عِبَادِهِ» یعنی خدا کا قانون یہ ہے کہ جب عذاب آجاتی ہے تووہاں توبہ سودمندنہیں ہے ، اگرایسا ہے توحضرت یونس کے اس واقعہ کے بارے میں ہم کیا بتائیں ،وہاں پرابھی عذاب نازل نہیں ہوا تھا ۔
جواب یہ ہے کہ حضرت یونس کے واقعہ میں عذاب کی مقدمات اورآثار نمایاں ہونا شروع ہوا تھا خود عذاب الہی نازل نہیں ہوا تھا ، کہ حضرت موسی اورفرعون کے واقعہ میں بھی ایسا تھا کہ عذاب کی مقدمات نازل ہوئی تھیں ،دریا نیل میں ایک تلاطم آیا تھا ، ایک عجیب اوربے نظیر طوفان آیا تھا ، وہاں پر بھی اگر اسی وقت توبہ کر لیتا تو کوئی مشکل نہیں تھا ، ہم یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ ؛دنیوی  عذاب نازل ہونے کا مسئلہ بھی موت کی طرح ہے ، اگر عذاب نازل ہوتے وقت توبہ کرنا چاہا تو وہ سودمند نہیں ہے ، اس میں کوئی استثناء بھی نہیں ہے ،حضرت یونس کے واقعہ میں یہ نہیں فرمایا ہے کہ عذاب نازل ہو رہے تھے لوگوں کی توبہ کی وجہ سے ہم نے اس عذا ب کو ٹال دیا ، ایسا نہیں فرمایا ہے بلکہ وہاں پرعذاب کی مقدمات ظاہر ہوئے تھے «لما آمنوا كشفنا عنهم»یعنی ''دفعنا'' نہ کہ رفعنا ، یعنی عذاب نازل ہو رہے تھے کہ توبہ کی وجہ سے ہم نے اس عذاب کو ٹال دیا ، نہیں ! ایسا نہیں ہے بلکہ کشف  دفع کے معنی میں ہے ''کشفنا عنہم العذاب'' یعنی ہم نے ان پرعذاب کو آنے نہیں دیا ،ایسا نہیں ہے کہ عذاب آرہا ہو او رہم نے اسے برطرف کیا ہو،ایسا نہیں ہے ۔
لہذا مرحوم شیخ طوسی کی بات صحیح ہے کہ اگر عذاب دنیوی کی بات ہو تو وہ بھی موت کی طرح ہے ،جس طرح موت کے وقت توبہ قبول نہیں ہے اسی طرح دنیوی عذاب کے وقت بھی توبہ قبول نہیں ہے اور اس عذاب میں بھی کوئی استثناء نہیں ہے لہذا ''الا قوم یونس '' میں ایک نکتہ یہ ہے کہ بعض مفسروں نے یہ احتمال دیا ہے کہ  «لم يكن فيما خلا عن يؤمن أهل قريةٍ بأجمعهم» گذشتہ اقوام میں انفرادی ایمان بھی لاتے تھے اوراجتماعی ایمان بھی،لیکن حضرت یونس کی قوم کی خصوصیت یہ تھی کہ ''آمنوا'' سب ایمان لے آئے ، البتہ مرحوم علامہ نے فرمایا ہے اس کا معنی یوں ہے  «لم يكن فيما خلا عن يؤمن أهل قريةٍ بأجمعهم حتي لا يشذ منهم أحدٌ إلا قوم يونس فهل كانت القراء كلّها كذلك» اس کے بعد علامہ فرماتا ہے ؛ یہ معنی اپنی جگہ پرصحیح ہے اورقابل قبول ہے  «إلا عن الآية بلفظها لا ينطبق عليه» لیکن آیہ کریمہ کے الفاظ اس پرمنطبق نہیں آسکتا کیوں؟چونکہ سب نے ایمان لایا،آیہ کریمہ کا ظاہریہ ہے کہ حضرت یونس کے قوم نے اجتماعی طورپرایمان لایا ہے ،کہ سب کے سب حتی کہ بچے اور خواتین بھی شہرسے باہرنکل کرصحراء کی طرف گئے ہیں اوربچوں اورماں کو ایک دوسرے سے الگ کیا ہے اورسب نے سخت قسم کے کپڑے پہن لیے، یہ صرف حضرت یونس کے قوم میں تھا ان سے پہلے کے اقوام میں ایسانہیں تھا ، اوریہاں بھی صحراء کی طرف نکل جانا عذاب کے نازل ہوتے وقت نہیں تھا ، بلکہ اس سے پہلے تھا ،لہذا اس واقعہ میں بھی یہی نقل ہوا تھا کہ حضرت یونس نے فرمایا ؛ چالیس (٤٠) دنوں کے بعد عذاب نازل ہو گا ، کہ پینسویں (٣٥) روزکے بعد عذاب آہستہ آہستہ کم ہوا اورنازل نہیں ہوئے ، لہذا یہی معلوم ہوتا ہے کہ دنیوی عذاب میں بھی کوئی استثناء نہیں ہے .
وصلي الله علي محمد و آله الطاهرين

 

 

[1] - غافر ١٠٢
[2] - معاد در قرآن :ج٤،ص٢١٠
[3] - یونس٩٨
۲,۷۴۶ قارئين کی تعداد:

آپ کی رائے

امنیتی کوڈ
مزید...
به توسعه ی کلیدواژه های دروس کمک کنید

اس درس کے لئے بنیادی لغات انتخاب کریں
اہم مطالب