pic
pic

اہل ذکر کی خصوصیات - درس 1

  • تاریخ 23 October 2017
اہم مطالب

ذکرخدا کے بھی کچھ اہل ہیں جنہوں نے اسے ساری دنیا کا بدل قراردیا ہے" ،جو بھی نماز پڑھتا ہے ، وہ صاحب ذکر ہے ، اور جو شخص بھی اذکار بیان کرتا ہے اس کابھی ذکر ہے ، حتی کہ اگر کوئی صبح سے رات تک مختلف اذکار رکھتا ہو ، یہ بھی خدا کے ذکر میں شامل ہے ، لیکن ابھی تک وہ اہل ذکر نہیں ہے ، اہل ذکر کی کچھ خصوصیات ہیں کہ امیر المومنین علیہ السلام نے یہاں پر بیان فرمایا ہے۔

اہل  ذکر  کی خصوصیات

امیر المومنین علیہ السلام نہج البلاغہ کی خطبہ نمبر 213 میںذکر کے بارے میں بہت عمدہ مطالب بیان فرماتے ہیں : وإِنَّ لِلذِّكْرِ لأَهْلًا أَخَذُوه مِنَ الدُّنْيَا بَدَلًا"بیشک ذکرخدا کےبھی کچھ اہل ہیں جنہوں نے اسے ساری دنیا کا بدل قراردیا ہے" ،جو بھی نماز پڑھتا ہے ، وہ صاحب ذکر ہے ، اور جو شخص بھی اذکاربیان کرتا ہے اس کابھی ذکر ہے ، حتی کہ اگر کوئی صبح سے رات تک مختلف اذکار رکھتاہو ، یہ بھی خدا کے ذکر میں شامل ہے ، لیکن ابھی تک وہ اہل ذکر نہیں ہے ، اہل ذکرکی کچھ خصوصیات ہیں کہ امیر المومنین علیہ السلام نے یہاں پر بیان فرمایا ہے ،فرماتا ہے :  اہل ذکر کی پہلی خصوصیت یہ ہےکہ ذکر کو دنیا کا بدل قراد دیئے ہیں ؛ یعنی دنیا کے پیچھے بدلے ، اس کا پورا ہم وغم یہ ہے ذکر کے میدان میں زیادہ سے زیادہ مصروف رہے ، یہ بولے کہ  ایسا کیا  کام کروںکہ  خدا کی یاد ہمارے دل میں بہت زیادہ گہرا ، زیادہ اور پھیلا ہوا ہو ؟کیا کروں کہ زیادہ سے زیادہ خدا کی یاد میں رہوں ، اور کیا کروں کہ ہم اپنے آپ کو خدا کے حضورمیں قراد دے سکوں ؟پہلے بھی بیان کر چکا ہو ں کہ افسوس کی بات ہے کہ ان چیزوں کےبارے میں ہماری فکر و سوچ نہیں ہوتی ہے ؛ بہت زیادہ اگر ہمت سے کام لیا تو کسیواجب کو انجام دیا اور کسی حرام کو ترک کر دیا ، عرض ہوا کہ انسان جب ظہر کے نزدیکہو جائے تو اپنا محاسبہ کر لیں کہ صبح جب نیند سے اٹھ گیا ہے اس وقت سے ابھی ظہرتک کس حد تک ذکر خدا کے وادی میں سیر کیا ہے ؟

آپ ملاحظہ کریںگے کہ یا کوئی چیز نہیں ہے یا بہت ہی ناچیز ہے ، ہمارا ہر دن ایسا ہی ہے ، ہمیںذکر کے بارے میں کوئی فکر ہی نہیں ہے ، اہل ذکر دنیا کو چھوڑ دیتے ہیں اور ذکر کودنیا کا بدل قرار دیتے ہیں ، وہ ہمیشہ اس سوچ میں ہوتے ہیں کہ کوئي ایسی فرصت مل جائےجس میں دنیوی اور ظاہری  مشغولیات نہ ہوں ،وہ خود ہو اور اس کا خدا. فَلَمْ تَشْغَلْهُمْ تِجَارَةٌ ولَا بَيْعٌ عَنْه،" اور اب انہیں تجارت یاخریدو فروخت اس ذکر سے غافل نہیں کرسکتی ہے " حتی کہ تجارت اور لین دین کے وقت بھی وہذکر میں مشغول ہوتے ہیں , یہاں پر آپ علیہ السلام نے اسے اکثر لوگوں کیطرف نسبت دی ہے ؛ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ حتی کہ علم کے موقع پر بھی ، جب ہم درسپڑھا رہے ہیں ،یا درس  سن رہے ہوتے ہیں ،یا مطالعہ کرتے ہیں ، اس وقت بھی خدا کے یاد میں رہے ، یہ چیزیں ہمیں خدا کی یادسے غافل نہ کرائے، اس بارے میں سوچنا چاہئے کہ انسان جب تجارت کے وقت خدا کی یادمیں نہیں ہوتا ہے تو کیا ہوتا ہے ؟جو شخص تجارت کے شرايط پر عمل نہیں کرتا ہو ، جسکے لئے معاملہ کا صحیح ہونے اور باطل ہونے میں کوئی فرق نہ ہو ؛ اور اسے معاملہ کےفائدہ اور سود میں کوئی فرق نہ ہو،اسے یہ کوئی بات نہ ہو کہ اپنے اس کام سے لوگوںپر ظلم ہو رہا ہے ؛ اگر کوئی لین دین کے وقت صرف اس بارے میں سوچتے ہو کہ اسے کچھ مال ہاتھ آجائے ، اس کی ثروت میں اضافہ ہو ، اس کا معنی یہ ہے کہ اس تجارت نے اسےخدا کے یاد سے دور کیا ہے ، علم میں بھی ایسا ہی ہے ، اگر کوئی علم میں بھی اس چیزکے پیچھے ہو کہ میں خود کچھ بات کر سکوں ، انصاف سے کام نہ لے ، کسی اور کیتحقیقات کو اپنے نام پر لکھوا دیں ، یا کسی نے کوئی اچھی بات کی ہے اور یہ شخصباطنا اسے قبول بھی کر لیتا ہے لیکن ظاہر میں اسے خراب کرنا چاہتا ہے ، یا اس سے بھیآگے بڑھ کر علم اور طلبہ ہونے کو مال کسب کرنے کا وسیلہ قرار دیں ، کہ علم کےذریعہ کمانے لگے ، کہ روایات میں اس کی کتنی مذمت ہوئي ہے ،دینی علوم کی خصوصیاتمیں سے ایک جو اسے دوسرےتمام علوم سے جدا کرتا ہے یہ ہے کہ انسان کو چاہئے کہ اسےرزق اور معیشت کا وسیلہ قرار نہ دے ، ہمارا یہ اعتقاد ہے اور اس بارے میں بہت ساریروایات بھی ہیں کہ خداو خود طالب علم کے رزق و روزی کا کفیل ہے ۔

یہ ایسی چيزیںہیں جو انسان کو ذکر سے دور کر دیتا ہے ، ان چیزوں کو دور رکھنے کےلئے بہت زیادہزحمت کرنے کی ضرورت ہے ، حتی کہ یہ جو میں ابھی آپ کے لئے بیان کر رہاہوں ، اس میںواقعا پہلا ہدف اور مقصد اپنے آپ کو ایک تذکر دینا اور خود کو متنبہ کرانا ہے ؛لیکن اسی تقریر کے دوران بھی میں خدا کے ذکر سے غافل ہو سکتا ہو ں ، شیطان اتنازیادہ قدرت رکھتا ہے اور وہ انسان کے اندر نفوذ پیدا کر سکتا ہے کہ جب وہ نماز کیبہترین اوصاف کو بیان کر رہا ہو اسی وقت اسے نماز سے غافل کرا دیتا ہے ، ذکر خداکے باے میں بہترین بیان کو امیر المومنین علیہ السلام سے ہم پڑھتے ہیں لیکن خود اسسے غافل ہیں ، پس اہل ذکر وہ لوگ ہیں جو ذکر کو دنیا کا بدل قرار دیتے ہیں اوردنیا کا کام کاج اسے اپنے میں مشغول رکھ کر خدا کے ذکر سے غافل نہیں کرتا ۔

يَقْطَعُونَ بِه أَيَّامَ الْحَيَاةِ ، " یہ اس کے سہارے زندگی کےدن کاٹتے ہیں "اور اپنی  پوری زندگی کو ہی اسی راستہ پر لگا دیتاہے ،کتنی لذت ہے اس بات میں کہ کوئی انسان یہ بولے میں 24 گھنٹے میں سے اتنا وقت خداکے ذکر میں گزارتا ہوں ، زندگی کو خدا کے ذکر کے ساتھ گزارتا ہے ؛یعنی ان کا زیادہتر کام ذکر خدا ہے ؛ ان کا ہم و غم اور تمام فکر ذکر ہے ؛ جب وہ سو جاتا ہے اور جبوہ اٹھ جاتا ہے ، ہمیشہ خدا کے ذکر میں ہوتے ہیں ، ويَهْتِفُونَ بِالزَّوَاجِرِ عَنْ مَحَارِمِ اللَّه فِي أَسْمَاعِ الْغَافِلِينَ" اور غافلوں کے کانوں میںمحرمات کے روکنے والی آوازیں داخل کر دیتے ہیں"جو لوگ محرمات الہی کا مرتکب ہوتے ہیں انپر چیختے ہیں ؛ یعنی اہل ذکر وہ لوگ ہیں کہ وہ حرام کام انجام پاتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے ، کہیں جب بیٹھے ہوں اور وہاں پر غیبت کرے، وہاں ایک  کونہ میں کوئی شخص  بیٹھا ذکر خدا میں مشغول ہے ؛ وہ اسی ذکر کے ذریعہ بتا دیتا ہے کہ میں آپ کے غیبتمیں شامل نہیں ہوتا ہوں ؛ کیونکہ میں اہل ذکر ہوں ؛ لیکن ایسے شخص کو یہ بتا دیناچاہئے کہ تم اہل ذکر نہیں ہو ، کیونکہ جو اہل ذکر ہے وہ یہ تحمل نہیں کرسکتا  کہ اس کے ساتھ میں کوئی حرام کام انجام پائے،حرام کوئی کام انجام پاتے ہوئے دیکھ کر وہ چیختا چلاتا ہے ، میں کچھ ایسے عظیمشخصیتوں کو جانتا ہوں ، کہ اگر کہیں پر کوئی ایسا کام انجام پائے جس میں حرام کاشبہہ پایا جاتا ہو ، تو وہ اس جگہ سے اٹھ کر چلا جاتا ہے ، برے اور نازیباالفاظ  کہ بعض فقہاء حتی کہ ان الفاظ کوزبان پر لانے  کے بارے میں حرام ہونے کافتوا دیے ہیں ؛ کہ افسوس کی بات ہے آج ہمارے معاشرے میں بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے، میں نے کچھ ایسے علماء کو بزرگان کو بھی دیکھا ہے کہ اگر کسی اجتماع میں ہوں اوروہ الفاظ کہ شاید نوے فیصد علماء اسے کے استعمال کوحرام نہیں جانتے ہیں ، لیکنچونکہ بعض اسے حرام ہونے کا شبہہ کرتے ہیں لہذا ایسے اجتماع سے نکل جاتے ہیں ۔

ويَأْمُرُونَ بِالْقِسْطِ ويَأْتَمِرُونَ بِه ويَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ" لوگوں کو نیکیوں کا حکمدیتے ہیں اور خود بھی اسی پر عمل کرتے ہیں"اہل ذکر عدالت کا حکم دیتا ہے ، اور وہخود بھی اسی پر عمل کرتے ہیں ، نہی از منکر کرتے ہیں اور وہ خود بھی منکر ات کوترک کرتے ہیں ، ويَتَنَاهَوْنَ عَنْه فَكَأَنَّمَا قَطَعُوا الدُّنْيَا إِلَى الآخِرَةِ وهُمْ فِيهَا" برائیوں سے روکتے ہیں اور خودبھی باز رہتےہیں ، گویا انہوں نےدنیا میں رہ کرآخرت تک کا فاصلہ طے کرلیا ہے "اہل ذکر ایسے لوگ ہیں کہ گویا دنیا سےگزر گئے ہیں اور آخرت کی طرف چلے گئے ہیں ؛ اور گویا ابھی آخرت میں زندگی گزار رہےہیں ، فَشَاهَدُوا مَا وَرَاءَ ذَلِكَ" اور پس پردۂ دنیا جو کچھہے سب دیکھ لیا ہے "دنیا کے بعدوالی چیزوں کو دیکھ رہا ہے ، فَكَأَنَّمَا اطَّلَعُوا غُيُوبَ أَهْلِ الْبَرْزَخِ فِي طُولِ الإِقَامَةِ فِيه" اور گویاکہ انہوں نے برزخ کے طویل و عریضزمانہ کے مخفی حالات پر اطلاع حاصل کرلی ہے "جو چیز اہل برزخ کے لئے پیش آتے ہیں جسےعام طور پر لوگ نہیں جانتے اہل ذکر ان کو دیکھ رہے ہوتے ہیں ، اور اہل برزخ کے عیوبسے آگاہ ہیں ،خدا کا ذکر انسان کو اس مقام تک لے آتا ہے ، البتہ ممکن ہے بعض لوگایسی چیزوں کا دعوا کرے لیکن جو شخص ایسے درجہ پر فائز ہوتے ہیں وہ ممکن ہی نہیںہے اپنے نزدیک ترین شخص کو بھی اس بارے میں کوئی چیز بیان کرے ؛ چونکہ وہ خودجانتا ہے اگر اس مرتبہ کو اظہار کرے تو اس سے چھین لیا جائے گا ، لیکن یہ ممکن ہےکہ انسان بعض شخصیات کے بارے میں گمان کرلے اور وہ خود اس بارے میں کچھ بیان نہکرے ، بہر حال ذکر خدا انسان کو اس درجہ تک اوپر لے جاتا ہے ۔

ہم خود اپنے بارے میں دیکھیں کہ ہم اہلذکر ہیں یا نہیں ہیں ؟ ہم نے دنیا کو پیچھے چھوڑا ہے اور ابھی ہم آخرت میں ہیں اوراہل برزخ اور ان کے عیوب کو ہم دیکھ رہے ہیں یا نہیں ؟ یا نہیں ؛ ہم ابھی بہتپیچھے ہیں ، ہمیں چاہئے کہ اپنی نمازوں اور عبادات میں خدا سے یہی تقاضا کرے کہخدا ہمیں اہل ذکر میں سے قرار دیں ، اس بارے میں اصرار کرنا چاہئے ، کیسے ہمدنیاوی کاموں میں دس مرتبہ ، سومرتبہ ، ہزار مرتبہ خدا سے تقاضا کرتے ہیں اور کبھیتھکتے نہیں ہیں ؛ یہاں پر بھی ایسا ہی ہونا چاہئے ، ابھی تک ہم نے خدا سے کتنیمرتبہ یہ دعا کی ہے کہ ہمیں اہل ذکر میں سے قرار دیں ؟ خدا سے کتنا اصرار اورالتماس کیا ہے ؟ اہل ذکر نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے اندرنقصان میں ہونے اور ضرر ہونے کا کتنا احساس کیا ہے ؟کیا ہم نےسمجھا بھی ہے کہ کتنے نقصان میں ہیں ؟ اہل برزخ کے عیوب کے بارے میں اطلاع پیداکرنا اہل ذکر کے آثار میں سے ایک ہے ، ایسا نہیں ہے کہ خود اس میں کوئی ذاتی اہمیتہو ایسا نہیں ہے ، بلکہ جب اہل ذکر ہو تو خودبخود یہ چیزیں بھی ہیں ، کہ اہل ذکرکی روحانی قدرت اس قدر وسیع ہو جاتی ہے کہ ان کی زندگی کا دائرہ صرف عالم دنیا سےمحدود نہیں ہوتا ،بلکہ دوسری عالم تک بھی پہنچ جاتا ہے ۔

 نہجالبلاغہ خطبہ 222 صفحہ 449

 

 


۸۷ قارئين کی تعداد:

آپ کی رائے

امنیتی کوڈ
مزید...
به توسعه ی کلیدواژه های دروس کمک کنید

اس درس کے لئے بنیادی لغات انتخاب کریں
اہم مطالب

ذکرخدا کے بھی کچھ اہل ہیں جنہوں نے اسے ساری دنیا کا بدل قراردیا ہے" ،جو بھی نماز پڑھتا ہے ، وہ صاحب ذکر ہے ، اور جو شخص بھی اذکار بیان کرتا ہے اس کابھی ذکر ہے ، حتی کہ اگر کوئی صبح سے رات تک مختلف اذکار رکھتا ہو ، یہ بھی خدا کے ذکر میں شامل ہے ، لیکن ابھی تک وہ اہل ذکر نہیں ہے ، اہل ذکر کی کچھ خصوصیات ہیں کہ امیر المومنین علیہ السلام نے یہاں پر بیان فرمایا ہے۔

جدید موضوعات