pic
pic

مؤمن ،کفاراور فسا ق کی نزع روح کی کیفت - درس 23

  • تاریخ 20 August 2017
اہم مطالب

ہماری گفتگومؤمن اورغیرمؤمن،کفاراورفساق کی نزع روح سے متعلق سورہ مبارکہ قیامت میں موجود آیات میں ہے: «كَلاَّإِذَا بَلَغَتْ التَّرَاقِي،وَقِيلَ مَنْ رَاقٍ، وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِرَاقُ، وَالْتَفَّتْ السَّاقُ بِالسَّاقِ، إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمَسَاقُ۔

بسم اللہ الرحمنالرحیم

الحمدللہ ربالعالمین وصلی اللہ علی سیدنامحمد وآلہ الطاہرین

ہماری بحث وگفتگومؤمن اورغیرمؤمن،کفاراورفساق کی نزع روح (جان کشی)سے  متعلق سورہ مبارکہقیامت میں موجود آیات تک پہنچی: «كَلاَّإِذَا بَلَغَتْ التَّرَاقِي،وَقِيلَ مَنْ رَاقٍ، وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِرَاقُ، وَالْتَفَّتْ السَّاقُ بِالسَّاقِ، إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمَسَاقُ»اس حصہ کا جہاں تک ممکن تھا ہم نے تفصیل کے ساتھ بیان کیااوربعد والی آیات کو بھی گذشتہ جلسہ میں ذکر کیا : «افَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلَّى، وَلَكِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّى، ثُمَّ ذَهَبَ إِلَى أَهْلِهِ يَتَمَطَّى، أَوْلَى لَكَ فَأَوْلَى، ثُمَّ أَوْلَى لَكَ فَأَوْلَى»عرض هوا کہ ''«أَوْلَى لَكَ فَأَوْلَى، ثُمَّ أَوْلَى لَكَ فَأَوْلَى» '' کے بارے میں بہتسے احتمالات ہیں ،اس طرح معنی کروں کہ أَوْلَى لَكَ ، یعنی النار أَوْلَى لَكَ کہ جہاں اللہتبارک وتعالی چاربارتاکید کرتا ہے کہ آگ تمہارے لیے اولی ہے اور تم آگ کے لیے سزاوارہو ۔ جب ہم نے یہ معنی کیا تو ہم نے اولی کے لیے سزاوار اور افعل تفصیل کا معنیکیا،نتیجہ یہ ہے کہ ایک ایساآدمی قیامت کے روز شفاعت سے بہر مند نہ ہوگا ، نہ اللہتبارک وتعالی اس کی شفاعت کرے گااورنہ دوسروں کی شفاعت ا سے نصیب ہوگی ،یعنی یہاحتمالات جو ہم نے آیت کے متعلق بیان کیا،اگرافعل تفصیل ہوتو اس کا مطلب یه هے که اللہسبحانہ تعالی فرماتاہے ''النار اولی لک ثماولی لک فاولی''چارمرتبہ فرماتاہےجہنم کی آگ تمہارے لیے سزاوارہے ۔جس شخص کے بارے میں اللہ تعالی فرمائے آگ تمہارےلیے شایستہ اورسزاوار ہے ، پھراس کے عذاب میں کوئی کمی اور شفاعت  ہونے کی کوئی امید نہیں ہے۔

بعض آیات میں ہےکہ کچھ لوگ مستحق جهنم ہیں ،ممکن ہے کہ ان لوگوں کے لیے عذاب میں کوئی رعایت ملجائے ،لیکن ایسی تعبیر ان تمام راہوں کو بند کر دیتی ہے،پھریہ شخص سوائے آگ کے کسیاور چیز کے سزاوار و لائق نہیں ،اگر چہ بعض احتمالات کے مطابق یہ نتیجہ بھی دیتاہے ۔ مرحوم علامہ نے فرمایا ہم ''اولی لک فاولی ثماولی لک فاولی '' کو اس انسان پر"طبع"(دل پر مهر لگانا) قرار دیں ،یعنی اللہ تعالیٰ ان کے قلوب پر مہرلگا دیتا ہے اس کے بعد ان پر ایمان اور تقویٰ کا دروازہ بند ہوجاتا ہے ،اس معنی کانتیجہ جوہم نے آخری معنی کے طورپرمرحوم علامہ سے نقل کیا تها اورانھوں نے بھی یہیمعنی قبول کیا ہے یہ بنتا ہے کہ پھر یہ شخص دنیا میں توبہ کرنے میں کامیاب نہیںہوتا !اور بہت عجیب ہے ،جو شخصاللہ کو جھٹلا تا ہے اوراس سے سر پیچی  کرتاہے اور اللہ کے دستورات وآئین سے منہموڑتاہے اور اس تکذیب پرخود نمائی کرتا ہے اور غرورو مستی میں اللہ اور اللہ کےاحکامات کا انکار کرتاہے،یہ اس بناپر ہے کہ ہم ''اولی لک فاولی '' کی تعبیر سےاستفادہ کرنا چاہتے ہیں ، کہ یہ انسان نہ دنیا میں توبہ کرنے میں کامیاب ہوتا ہےاورنہ آخرت میں اس کے عذاب میں کوئی کمی ہوگی ۔الناراولی لک؛مشہورنے اولی کو افعلتفضیل لیا ہے،یا ہم اسے کلمۂ طبع کے عنوان سے قراردیں کہ اللہ نے ان کے دلوںپرمہرلگا دی ہے ، اور اب یہ لوگ اب اللہ تبارک وتعالی کی رحمت ، کرم اورفضل وعنایتسے محروم ہیں ۔

اگرہم دوسرےاحتمالاتکو بیان کریں،پس ان دو احتمالات کے مطابق یہ شخص نہ دنیا میں توبہ کرنے میں کامیابہوگاہے اورنہ آخرت میں اس کے لیے کوئی کمی یا رعایت ملے گی ،یعنی اللہ کوجھٹلانےیا اللہ کے احکام کو جھٹلانے کااثرایسا ھوتاہے۔اب اگر ہم یہ بتائں کہ یہاں اولیوہی ویل ہے ، یعنی وای ہوتم پر! وہی احتمال جو ہمنے بعض اُدباء سے نقل کیا کہ اولی لک یعنی ویل لک ،اللہ تعالی چار مرتبہ فرماتا ہےویل لک ،یا ہم نے کہا اُولی کے معنی بُعد(دور) کے ہیں ،اولی لکیعنی دنیا اورآخرت کے نیکیوں اورخوبیوں سے تم دورہو،یادوسرے احتمالات جن میں سے اکثرکیطرف ہم نے کل اشارہ کیا،ان سے وه نتیجہ جو ہم نے لیا استفادہ نہیں ہوتا ۔لہٰذاہماری نظر میں اولی لک وہی کلمہ ٔ طبع ہے' جس کا مرحوم علامہ نے احتمال دیا یهی بہت اچھانتیجہ ہے ۔

«أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَنْ يُتْرَكَ سُدىً»:''کیا انسان نے یہخیال کرتاہے کہ ہم اسے مہمل ( بیکار، فالتو)ٹھیرائیں گے اورمہمل وبیکار چھوڑاگیاہے ،روز قیامت اور حسابنہ ہوگا ؟کیا ہم نے اسے یوں ہی خلق اور دنیا میں چھوڑدیاہے ؟ اللہ تعالیٰ فرماتاہے: «أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِنْ مَنِىٍّ يُمْنَى» کیا جب ہم نے اسے پیدا کیا منی کا ایک نطفہ تھا وہ منی جویُمنی ، یعنی یُمنی علی الرحم عورت کے رحم میں ڈالاجاتا ہے : «ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّى» نطفہ کے بعدعلقہ ہوتاہے ،اورعلقہ کے بعد اس کی ظاہریشکل خلق ہوتاہے،اس کے ظاہر کو ہموار کرتاہے اس کے جسم کے اعضاء کو برابراورمتناسبقرار دیتاہے  «فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنثَى» ''منہ یعنی اسانسان سے یا اس منی سے ،اللہ تعالیٰ نے مرد اورعورت بنا یاہے«أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍعَلَى أَنْ يُحْيِىَ الْمَوْتَى»اگرچہ یہ حصہ معادسے مربوط ہے لیکن ہماری بحث کے اس حصہکوئی ربط نہیں رکھتا ،ہماری بحث سکرات موت اوران حالات کے بارے میں ہے جو انسان کےلیے موت کے وقت پیش آتے ہیں ۔ لیکن آخر میں فر ماتاہے : «أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ» وہ اللہ جس نے انسان کو ایک پانی سے خلق کیا من منییمنی سے ،جب چاہے اسے اس دنیا سے بھی لے جائے گا'' اذا بلغت التراقی وقیل من راق ''کون ہے جو اسے نجات دے یا کون ہے جو اسے اُوپر لے جائے ۔

یہ انسان جب دنیامیں آناہوتا ہے اسے خلق کرنے کے لیے مختصرسا پانی کےعلاوہ کسی اور چیز کی ضرورتنہیں ہوتی «من منيٍ يمني»جب رحم میں ٹھیرتا ہے ، علقہ بن جاتاہے ۔«فخلق فسوي»  بعد میں اس سے ہممذکر ومؤنث نکالتے ہیں ،آخر میں بھی جب دنیا سے جا نے کا وقت آتاہے تواس کے اردگرد کےلوگوں میں سے کسی میں یہ طاقت نہیں کہ اس موت کو خود سے دور کریں ،یعنی یہانسان ابتدا ء سے اختتام تک مکمل طورپر ضعیف ہے ،اس کا تمام وجود اور انسان کاوجودی مراحل ابتداً اورختماً ضعف وکمزوری کے ساتھ ساتھ ہے ۔ اب ایک ایسا ضعیفموجود کو «أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍعَلَى أَنْ يُحْيِىَ الْمَوْتَى» کیا اللہ تعالیٰ موتی (مردہ)کودوبارہ زندہ نہیںکرسکتا ؟ یہ جو اب مر گیا ہے وہ  بھیبلاآخر ایک ٥٠ ۔ ٦٠ سالہ جسم تھا جودفن ہوگیا اور اب تو کچھ ہے ،پہلے تو کچھ بھی نہیںتھا اور ایک مختصر سا پانی تھا ۔ روایت میں ہے براء بن عازب نقل کرتا ہے ''لمانزلت ھذہ الآیہ ۔ قال رسول اللہ (ص) سبحانک اللہموبلی ''یہ تلاوت ِقرآن کے آدابمیں سے ہے ، اس قسم کی آیات جہاں اللہ تعالی فرماتاہے کیامیں ان کو دوبارہ زندہکرنے پر قادر نہیں ہوں ؟ میں نے تو اسے  ناچیزوحقیر سے پیدا کیا ہے ،جب کچھنہیں تھا میں نے اسے خلق کیا ،کیا میں دوبارہ اس موتی کو زندہ کرنے پر قادر نہیںہوں ؟جب آنحضرت (ص) اس آیت پر پہنچتے اوراس کی تلاوت فرماتے تو آ پ فرمایا کرتےتھے: ''سبحانک اللہم '' اللہ تعالیٰ کی ذات اس سے پاک ومنزہ ہے کہ اس سے عاجزہویعنیاے اللہ تم اس کام پرقادرہو ۔ سورہ مبارکہ ٔقیامت کی یہ چندآخری آیات جو انسان کےاس دنیا سے چلے جانے کے کچھ حالات کےبارے میں ہے، ہم نے یہاں ان کی کچھ تشریح کردی ہے ۔

وہ آیات جن پرہمیں توجہ وغور کرنا چاہیے ، سورہ واقعہ کی یہ آیات بھی ہیں:«فَلَوْلَاإِذَا بَلَغَتْ الْحُلْقُومَ، وَأَنْتُمْ حِينَئِذٍ تَنظُرُونَ، وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْكُمْ وَلَكِنْ لَا تُبْصِرُونَ، فَلَوْلَا إِنْ كُنتُمْ غَيْرَ مَدِينِينَ، تَرْجِعُونَهَا إِنْ كُنتُمْ صَادِقِينَ»

ان آیات میں بھیانسان کے اس دنیا سے چلے جانے کی حالات کو بیان کیا ہے یہ بھی بیان کر رہی ہے کہ وہکس عالم کا مشاہدہ کرتا ہے اور کس قسم کی مخلوقات کو دیکھتا ہے اورجو لوگ اس محتضر( جس سے جان نکل رہی ہے) کے پاس بیثھے ہیں انہیں کچھ نظر نہیں آتا !وہ شوروغوغا جو حالت موت میں اس شخص کے اندر پیدا ہو تا اوروہ خود دیکھتا ہے ،لیکن جو اس شخص کے ارد گرد ہیں اسےنہیں دیکھ پاتے ، اللہ تعالیان تمام باتوں کو ان آیات میں بیان کیاہے۔

اگرچہ قرآن کریم اولسے آخر تک اعجاز ہے،لیکن اعجاز ِقرآن کے پہلوؤں میںسے ایک یہی خصوصیات ہیں ۔پیغمبراسلام (ص) جومطالب بیان کرتے ہیں وہ ایک طرف ، کبھی گذشتہ لوگوں کیداستان سناتے ہیں تو ممکن ہے کہ ہم کہیں کسی شخص نے اس کا کچھ حصہ سناہوگا،اس کاکوئی نکتہ سنا ہو،گرچہ یہ داستانیں جو قرآن بیان کرتاہے ، گہرائی اور جامعیت کی اسسطح پرکہیں بھی بیان نہیں ہوا ہے اور ان اعجازی نکات کے ساتھ جو ان میں موجود ہیں۔ لیکن یہ مسئلہ کہ انسان موت کے وقت کیا چیزیں دیکھتا ہے ،وہی آیات جو ہم نے اسسے پہلے پڑھا ''یضربون وجوہہم وادبارہم '' یہ وہ چیزیں ہیںجن کا بیان نبی ۖ کے وحی سے ارتباط کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

ان آیات میںفرماتاہے:«فَلَوْلَاإِذَابَلَغَتْ الْحُلْقُومَ» یہ لولا تحزیزیہہے ، کیوں کہ جب جان گلے تک پہنچتی ہے اورانسان کی سانس گلے تک پہنچتی ہے : «وَأَنْتُمْ حِينَئِذٍ تَنظُرُونَ» یہاں دو احتمال ہے ایک یہ ہے کہ محتضرانسان کے ارد گرد کےلوگوں سےخطاب ہے ، حالتِ احتضار(جان کنی) شخص کے متعلقین سے فرماتاہے تم لوگ صرف دیکھ رہے ہو ، یعنیدیکھنے کے علاوہ کرہی کیا سکتے ہو،یا ظاہرکو دیکھنے کے علاوہ باطن کو نہیں سمجھسکتے کہ کیاخبرہے؟لہٰذا یہ ایک احتمال ہے کہ یہ ''انتم''ان اہل وعیال سےخطاب ہے جوموت کی حالت میں واقع انسان کے اردگرد جمع ہیں۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ ''انتم ''خودمحتضر(مرنےوالے) سے خطاب ہے ،یعنی جب سانس گلے تک پہنچتی ہے اورتم صرف دیکھ رہے ہو اورکوئی کامنہیں کرسکتے،جسم سے اس روح وجان کو نکلنے کو نہیں روک سکتے ،تمہارے پاس کوئی طاقتنہیں،صرف دیکھ سکتے ہو ،یعنی دیکھ رہے ہوکہ ملک الموت روح کوتمہاری جسم سے نکالرہا ، سوائے دیکھنے کے تمہارے پاس کوئی طاقت نہیں ہے۔اس سے پہلے ہم نے امیرالمؤمنین(ع)کا خطبہ پڑھا جوحقیقتاً عجیب خطبہ ہے کہ حضرت نے فرمایا نزع روح ( جان کنی ) کے لیے پہلےاعضاء وجوارح سست ہوجاتے ہیں،پھرزبان کام کرنا چھوڑدیتی ہے،اورآخری مرحلہ میں آنکھکام نہیں کرتی،یہاں ہم یہ کہہ سکتے کہ یہ آیت اس مطلب کی طرف اشارہ کررہی ہے،یعنیجب تک یہ سانس گلے تک نہیں پہنچی ہے آپ دیکھ رہے ہو،یہ بھی دوسرا احتمال ۔

اب ان میں سےکونسا احتمال صحیح ہے؟بعد والی آیت کہتی ہے : «وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْكُمْ»ہم تم لوگوں سے جو اس مرنے والے کے اردگرد بیھٹے ہوزیادہ نزدیکہیں،یعنی اللہ تعالیٰ یااللہ کے فرشتے؟ وہ ملائکہ جواس کا م پرمامورہیں،قریب ہیں۔اسکا معنی صرف اطلاع اورخبردینانہیں بلکہ یعنی تم لوگ کچھ بھی نہیں ہواور ہم سب کچھہیں،تم کوئی بھی کام نہیں کرسکتے اوراس مرنے والے کے لیے کوئی کام اورمددتم سے نہیںہوگا! ''نحن اقرب''یعنی ہم علم ،احاطہ ،قدرت اور کچھ کرنے کے حوالے سے زیادہقریب ہیں ۔ ہم جو کا م کرنا چاہیں کرسکتے ہیں۔ لہٰذا یہ ''ونحن اقرب الیہ منکم '' اس بات کا قرینہ ہے کہ انتم حینئذٍتنظرون میں موجود انتمخود محتضر کی طرف نہ لوٹے بلکہ محتضر کے اطراف میں کھڑے لوگوں کی طرف لوٹے ۔

پھرفرماتا ہے: «فَلَوْلَا إِنْ كُنتُمْ غَيْرَ مَدِينِينَ، تَرْجِعُونَهَا إِنْ كُنتُمْ صَادِقِينَ» مدین کے معنی جزا اور پاداش دینے کے ہیں،اللہتعالیٰ فرماتاہے «فَلَوْلَا إِنْ كُنتُمْ غَيْرَ مَدِينِينَ »اگرتم لوگوں کوکوئی اجر وپاداش دینے کا ارادہ نہ ہو ،یعنیاگر روزِجزااور قیامت ہی نہ ہو ،ترجعو نہا ،یہ سانس جو جسم سے نکل رہاہے اسے واپسجسم میںلوٹائیں ''ان کنتم صادقین '' اگر تم سچ بو لتے ہو۔ سوال یہ ہے کہ ان کے آپس میں کیا ربطہے ؟ فلو لا ان کنتم غیر مدینین ''پہلے والا لولا ''فلولا اذابلغت الحلقوم '' گذشتہ آیات کے لیے فرع قراردی گئیں ہیں کہ قیامت،بعث اورقرآنکو جھٹلا یا ،بعد میں اللہ تعالیٰ فر ماتاہے تم لوگ کیوں قیامت کو جھٹلانے کےپیچھے لگے ہو ؟ اگر تم سچے ہو اس حالت موت میں واقع شخص کی سانس کواس کے جسم میںلوٹاؤ،بالآخراگرکوئی قیامت نہیں آئے گی ،موت کو بھی اللہ سے کوئی ربط نہیں ہوناچاہیے اورانسان کے بس میں یہ ہونا چاہیے کہ اس میں مداخلت کرے اور اسے رو کے ،جبکہوہ یہ کام نہیں کرسکتا ۔

پھرمرحوم علامہرضوان اللہ علیہ نے ''انتم حینئذتنظرون'' کومحتضر کے پاس جمع لوگوں کی طرف اشارہ قراردیا ہے اوران سےخطاب قرار دیا ہے،لیکن اب بحث یہ ہے کہ فلولا ان کنتم غیر مدینین '' اگر تمہیں کوئی جزا ہی نہ دیا جائے گا تو "ترجعونہ '' تم اس سانس کولوٹادو، ان دومیں کیا ربط ہے  فلو لا ان کنتم غیر مدینیناگریہ ‎ثابت ہو جائے کہ کوئی جزا نہیں ہے اورکوئی پاداش بھی عوض میں نہ ہو،اگرقیامتاور روز بعث یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ نہیں ہونگے ترجعو نہا ان کنتم صادقینمحتضر کا یہ سانس خود اسی کی طرف لو ٹا دو اگر تم لوگ صادق وسچے ہو!ظاہراً یہ ہے کہ آدمی ان دونوں کو آپس میں جمع نہیںکرسکتا،اگرجزانہیں دیاجائے توتم لوگ واپس لوٹائیں ۔اگرہم چاہیں کہ اس آیت ِشریفہسے کوئی مفہوم لینا چاہیں، یہ ہوگا کہ ترجعونہا ان کنتم صادقین،فلولااذا بلغتالحلقوم ''یہ سانس گلے تکپہنچ چکی ہے اوراگرتم سچ بولتے ہو تو اسے لوٹائیں ،لیکن اس سے قبل فر ماتا ہے : فلو لا ان کنتم غیر مدینین ۔

اگرہم علی الظاہریہ کہیں کہ یہ آیت گذشتہ آیت سے مربوط ہے ،مشکل پید ا ہو گی فلولا ان کنتمغیرمدینین ترجعونہ ۔ یہ کیا ربط وتعلق رکھتا ہے ؟لہٰذا بعض نے مدینین کا مملوکینمعنی کیا ہے ،کہا ہے مدینین یعنی مملو کین ۔اگرتم لوگ کسی کے بھی مملوک نہیں ہواور تم ہی خود مالک اورقادر ہو (ترجعو نہا) توان کولوٹادو۔ یہ بہت اچھا معنی ہےلیکن احتمال یہ ہے کہ مدین کے معنی جزا و پاداش کے ہیں ۔ اگرتمہیں روز قیامت کسیقسم کی کوئی جزاوپاداش نہیں دیا جائے گا تو تم ان کو لوٹاؤ اگر تم لوگ سچے ہو ۔

بعض بزرگ علماءنے اسی مدین کو جزا کے معنی میں لیا ہے اور لولا کو بھی تقد یر میں لیا ہے ؛ فلولا ان کنتم غیر مدینین ۔ فلولا ترجعونہا ایک اور لولا کو لے کر آئے ہیں جس کے بعدترجعونہا اورغیرمدینین کے درمیان تعلق ختم ہوجاتاہے،لولاترجعونہا ،لولا ان کنتمغیر مدینین ،ان کنتم صادقین ،اگر ہم غیر مدینین کو غیرمملو کین معنی کریں تو آیت کاصحیح معنی ہوجاتا ہے۔

وصلی اللہ علیمحمد و آلہ الطاہرین

۳,۳۳۶ قارئين کی تعداد:

آپ کی رائے

امنیتی کوڈ
مزید...
به توسعه ی کلیدواژه های دروس کمک کنید

اس درس کے لئے بنیادی لغات انتخاب کریں
اہم مطالب

ہماری گفتگومؤمن اورغیرمؤمن،کفاراورفساق کی نزع روح سے متعلق سورہ مبارکہ قیامت میں موجود آیات میں ہے: «كَلاَّإِذَا بَلَغَتْ التَّرَاقِي،وَقِيلَ مَنْ رَاقٍ، وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِرَاقُ، وَالْتَفَّتْ السَّاقُ بِالسَّاقِ، إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمَسَاقُ۔

جدید موضوعات